Wednesday, 1 September 2021

پیام فرقان - 11



🎯دارالعلوم دیوبند زندہ تھا، زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا، ان شاء اللہ!


✍️بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


ہندوستان کی آزادی میں دارالعلوم دیوبند نے ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ سیکڑوں فارغین دیوبند نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ آزادی کی جد وجہد میں لگا دیا۔ دارالعلوم دیوبند کے بانیین، فارغین اور شاگردان شیخ الہند کی ایک طویل فہرست ہے جو ہندوستان کو انگریزوں کے چنگل سے نکالنے کے لیے آزادی کی جدو جہد میں لگے رہے، طرح طرح کی مصیبتیں اٹھائیں، جلاوطنی کی زندگی بسر کی، مگر ظالم و جابر انگریز کی غلامی اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کو پسند نہیں کیا۔ ایسے ایسے مجاہدین نے دارالعلوم دیوبند کی کوکھ سے جنم لیا جنھوں نے حریت ہند کے لیے اپنی رگ جاں کے آخری قطرہ تک کو نچوڑ دیا؛ لیکن ان کے پائے ثبات میں کبھی لغزش تک نہ آئی۔ ان محبین وطن نے وطن دوستی کا ثبوت دیا، ملک کی آزادی کے لیے اپنی جد و جہد شروع کی اور انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے کیلئے ہر طرح کے مصائب برداشت کئے، ہمیشہ برطانوی سامراج کے نشانے پر رہے لیکن اس ملک کو آزادی کی سانس دلا کر ہی دم لیا۔ مگر آج افسوس اس بات پر ہے جس دارالعلوم دیوبند نے ہندوستان کی آزادی و تعمیر میں اپنے جیالوں کا خون پانی کی طرح بہایا، جس کے جیالے جیل کی سلاخوں کے پیچھے رات و دن گزارے اور جس کے سپوتوں نے مادر وطن کو آزاد کراکر ہی دم لیا، آج اس کی قربانیوں کو فراموش کرکے اس کے فرزندوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ اس دارالعلوم دیوبند پر پابندی لگانے اور اسے بند کروانے کی بات کی جارہی ہے۔ لیکن ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ دارالعلوم دیوبند کو بند کروانے کیلئے برطانوی سامراج سے لیکر آج تک ہزاروں نے کوشش کی اور کوشش کرتے کرتے مر گئے لیکن اسکے برعکس دارالعلوم دیوبند آج بھی زندہ ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک زندہ رہے گا۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا:

دیوبند کا تاریخ کے اندر ہر کردار نرالا ہے

رب کی قسم اسلاف کا میرے ہر شہکار نرالا ہے

اس لشکر کے جانبازوں سے ہر باطل گھبرایا ہے

ظلم و ستم کے دور کے اندر حق کا دیپ جلایا ہے

دیوبند نے اسلام کا پرچم دنیا پر لہرایا ہے



فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

یکم؍ ستمبر 2021ء بروز بدھ

نلور، آندھراپردیش بعد نماز مغرب


+918495087865

mdfurqan7865@gmail.com


#PayameFurqan #پیام_فرقان

#ShortArticle #MTIH #TIMS #Deoband #DarulUloom #DarulUloomDeoband

Tuesday, 31 August 2021

پیام فرقان - 10



🎯ائمہ مساجد کی عظمت اور جاہل ذمہ دارانِ مساجد!


✍️بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


اسلام میں امامت کا درجہ اور منصب بہت اہم باعزت وعظمت والا ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہیکہ آج کل اگر مساجد کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہیکہ اکثر مساجد میں ائمہ کرام کی ناقدری ایک عام وبا کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ بالخصوص ذمہ داران مساجد کے پاس تو امام و مؤذن کی کوئی قدر ہی نظر نہیں آتی، یہاں تک کہ بعض دفعہ امام و مؤذن پر ارکان کمیٹی کا ظلم و ستم ناقابل بیان ہوتا ہے۔ ہر دوسری مسجد میں مظلوم امام پر ظالم کمیٹیوں کا ظلم عروج پر ہے۔ اسکی ایک بنیادی وجہ یہ ہیکہ مسجد کی کمیٹی کا انتخاب شریعت کے اصولوں پر نہیں ہوتا۔ دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کے مفتیان کرام فرماتے ہیں کہ ”مسجد کمیٹی کے لیے ایسے افراد کا انتخاب ہونا چاہیے جو دیانت دار اور دین دار ہوں، فسق وفجور کی چیزوں مثلاً ترکِ نماز، فلم بینی اور ڈاڑھی منڈوانے سے بچتے ہوں نیز ان کے اندر انتظامی امور کو سمجھنے اور انہیں انجام دینے کی صلاحیت بھی ہو، انتخاب مذکورہ بالا اوصاف کے حامل لوگوں کا ہی ہونا چاہیے، خائن، فسق وفجور میں مبتلا بے نمازی یا ریش تراشیدہ کو امور مسجد کے ذمے داری سونپنا جائز نہیں ہے“ ( فتاویٰ دارالعلوم : 154220)۔ معلوم ہوا کہ مسجد کمیٹی کے انتخاب کے بھی کچھ اصول ہیں لیکن آج کل مسجد کمیٹی کا انتخاب شریعت کے ان اصولوں کے برخلاف ہوتا ہے اور مساجد کے ذمہ داران میں اکثر لوگ فسق و فجور میں مبتلا، بے نمازی، فلم بینی اور ڈاڑھی منڈھے ہی شامل رہتے ہیں۔ اب جسے شریعت کی شین اور مسجد کی میم کا بھی علم نہ ہو وہ امام و مؤذن کی قدر کیا جانے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ایک طرف ہم ایک شخص کو اپنا امام یعنی سردار بھی تسلیم کررہے ہیں تو وہیں دوسری طرف اس کی ناقدری بھی کررہے ہیں، جو شرعاً و اخلاقاً کسی بھی طرح درست نہیں ہے اور سراسر غلط اور عذاب کا باعث ہے۔  حضرت مفتی عبد الرحیم صاحب لاجپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”فی زمانہ یہ ذمہ داری متولیانِ مسجد اور محلہ و بستی کے بااثر لوگوں کی ہے، ان کو اس اہم مسئلہ پر توجہ دینا بہت ضروری ہے، ائمہ مساجد کے ساتھ اعزاز و احترام کا معاملہ کریں، ان کو اپنا مذہبی پیشوا اور سردار سمجھیں، ان کو دیگر ملازمین اور نوکروں کی طرح سمجھنا منصبِ امامت کی سخت توہین ہے، یہ بہت ہی اہم دینی منصب ہے، پیشہ ور ملازمتوں کی طرح کوئی ملازمت نہیں ہے، جانبین سے اس عظیم منصب کے احترام، وقار، عزت، عظمت کی حفاظت ضروری ہے ۔“ (فتاویٰ رحیمیہ ۹/ ۲۹۳جدید)۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ مسجد کمیٹی کے انتخاب میں شریعت کے اصولوں کی پابندی کریں اور مساجد پر سے احمقوں اور جاہلوں کی اجارہ داری ختم کرانے کی کوشش کریں۔ کیونکہ امام و مؤذن کا عزت و احترام کرنا ہر ایک مسلمان بالخصوص ذمہ داران مساجد پر لازم ہے۔



فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

30؍ اگست 2021ء بروز پیر

+918495087865

mdfurqan7865@gmail.com


#PayameFurqan #پیام_فرقان

#ShortArticle #MTIH #TIMS #Islam #Imam #Mauzin

Sunday, 29 August 2021

پیام فرقان - 09



🎯غلبہ اسلام پوری دنیا پر آکر رہیگا!


✍️بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


امریکہ دنیا میں اپنی اقدار نافذ کرنا چاہتا ہے اور اسلام امریکہ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہی وجہ ہیکہ پوری دنیا میں مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے جبکہ ہر جگہ مسلمان خود ظلم اور دہشت گردی کے شکار ہیں۔ دنیا بھر میں مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے اور اُنہیں ہی دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے کیونکہ مغرب کو خطرہ دہشت گردی سے نہیں بلکہ اسلام، اس کی دعوت اور اس کے حسن سے ہے۔ امریکہ اسلام کے حسن کے دنیا پر آشکارا ہوجانے کے ڈر سے اس کے خلاف شور مچا رہا ہے۔ کفر کی تمام طاقتیں مسلمانوں پر حملہ آور ہیں اور عالم اسلام کے خلاف فوجی، سیاسی، اقتصادی اورثقافتی جنگ جاری ہے اور اسلام کی اقدار اور تہذیب تباہ کردینا چاہتے ہیں۔ لیکن انہیں نہیں معلوم کہ وہ دن دور نہیں جب پوری دُنیا میں ایک بار پھر اسلام کا پرچم لہرائے گا اور دین اسلام غالب آکر رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے سورہ توبہ میں واضح الفاظ میں فرما دیا کہ يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ کہ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنے مونہوں سے بجھا دیں، اور اللہ اپنی روشنی کو پورا کیے بغیر نہیں رہے گا اور اگرچہ کافر ناپسند ہی کریں۔ اور آگے فرمایا هُوَ الَّـذِىٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَـهٝ بِالْـهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٝ عَلَى الـدِّيْنِ كُلِّـهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُـوْنَ کہ اس (اللہ) اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اور اگرچہ مشرک ناپسند کریں۔ تو معلوم ہوا کہ دین اسلام دنیا میں غالب ہونے کے لئے آیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت یعنی قرآن پاک اور دین حق یعنی اسلام دے کر بھیجا ہے تاکہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کردے۔

اس دنیا کے آفاق پر، رحمت کا بادل چھائے گا

اور پاک سے پاکیزہ تر، پورا عالم ہوجائے گا

پھر کفر کا ،الحاد کا، سکہ نہ چلنے پائے گا

پیغمبرِ اسلام کا، پرچم یہاں لہرائے گا

اسلام غالب آئے گا، اسلام غالب آئے گا



فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

28؍ اگست 2021ء بروز سنیچر

+918495087865

mdfurqan7865@gmail.com


#PayameFurqan #پیام_فرقان

#ShortArticle #MTIH #TIMS #Islam #Muslim

Saturday, 28 August 2021

پیام فرقان - 08




🎯دشمنانِ عمر ؓ کا منھ بند کرنے کیلئے یہ ایک اعزاز خداوندی ہی کافی ہے!


✍️بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


امیر المومنین، خلیفۃ المسلمین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یکم محرم الحرام سن 24 ھ کو جام شہادت نوش فرمائی۔ اور روضۂ نبوی میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ یہ مشیت خداوندی ہی ہے کہ اسلامی سال کی ابتداء ہی شہادت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ہوتی ہے اور پھر مرقد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سرہانے تا قیامت استراحت کیلئے دو گز جگہ بھی عطا ہوگئی۔ قیامت تک جو بھی مسلمان روضۂ اقدس میں سلامی کیلئے حاضر خدمت ہوگا وہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر سلام بھیجے بغیر آگے نہ بڑھ سکے گا۔ دشمنان صحابہ بالخصوص دشمنانِ عمر ؓ کا منہ بند کرنے کیلئے یہ ایک اعزاز خداوندی ہی کافی ہے۔


فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

28؍ اگست 2021ء بروز سنیچر

+918495087865

mdfurqan7865@gmail.com


#PayameFurqan #پیام_فرقان

#ShortArticle #MTIH #TIMS #UmarFarooq

Wednesday, 25 August 2021

پیام فرقان 07




🎯شہداء کربلا کا پیغام!


✍️بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


نواسۂ رسول، جگر گوشۂ بتول حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے جس پامردی اور صبر سے کربلا کے میدان میں مصائب و مشکلات کو برداشت کیا وہ حریت، جرأت اور صبر و استقلال کی لازوال داستان ہے۔ باطل کی قوتوں کے سامنے سرنگوں نہ ہو کر آپ نے حق و انصاف کے اصولوں کی بالادستی، حریت فکر اور خدا کی حاکمیت کا پرچم بلند کرکے اسلامی روایات کی لاج رکھ لی۔ اور انھیں ریگزارِ عجم میں دفن ہونے سے بچا لیا۔ حضرت حسینؓ کا یہ ایثار اور قربانی تاریخ اسلام کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے، جو رہروان منزل شوق و محبت اور حریت پسندوں کیلئے ایک اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ نواسۂ رسول حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب، سیرت و کردار اور کارناموں سے تاریخ اسلام کے ہزاروں صفحات روشن ہیں۔ سانحہ کربلا سے ایک اہم پیغام یہ بھی ملتا ہیکہ ”حق کیلئے سر کٹ تو سکتا ہے لیکن باطل کے سامنے سر جکھ نہیں سکتا۔“

مولانا محمد علی جوہر ؒ نے کیا خوب کہا:

قتل حسین اصل میں مرگِ یزید تھا

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد


فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

25؍ اگست 2021ء بروز چہارشنبہ

+918495087865

mdfurqan7865@gmail.com


#PayameFurqan #پیام_فرقان

#ShortArticle #Karbala #Husain #MTIH #TIMS