Thursday, 16 September 2021

قائد الاحرار مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانویؒ کی وفات ملت اسلامیہ کیلئے عظیم خسارہ اور ایک عہد کا خاتمہ ہے!







قائد الاحرار مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانویؒ کی وفات ملت اسلامیہ کیلئے عظیم خسارہ اور ایک عہد کا خاتمہ ہے!

قائد الاحرار کے انتقال پر مرکز تحفظ اسلام ہند کی تعزیتی و دعائیہ نشست!

حضرت قائد الاحرار ہمارے لئے ایک مشفق باپ کی طرح تھے : محمد فرقان


بنگلور، 15؍ ستمبر (پریس ریلیز): عالم اسلام کی مایہ ناز شخصیت، مسلمانانِ ہند کی قدآور اور عظیم رہنما، مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اعلیٰ، مجلس احرار اسلام ہند کے قومی صدر، پنجاب کے شاہی امام، تحریک تحفظ ختم نبوت کے سپہ سالار، ہزاروں تحریکوں، تنظیموں اور اداروں کے سرپرست، لاکھوں مریدین کے کامل شیخ طریقت، صاحب السیف، مجاہد ختم نبوت، شیر اسلام، قائد الاحرار حضرت اقدس مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ مورخہ 02؍ صفر المکرم 1443ھ مطابق 10؍ ستمبر 2021ء شبِ جمعہ اس دارفانی سے دارالبقاء کی طرف کوچ کرگئے۔ انکے انتقال کی خبر پھیلتے ہی عالم اسلام بالخصوص مسلمانانِ ہند پر غم و افسوس کا بادل چھا گیا۔ ہنگامی طور پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے اراکین نے تدفین کی دوسری رات ایک آن لائن زوم پر دعائیہ نشست منعقد کی۔ جس میں مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست حضرت مولانا محمد ریاض الدین مظاہری، بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان، آرگنائزر حافظ محمد حیات خان، اراکین حافظ محمد عمران، حافظ نور اللہ، عمیر الدین، عمران خان، انعامدار خضر علی وغیرہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر حضرت قائد الاحرار کے ایصال ثواب کیلئے مرکز کے اراکین نے ایک قرآن مجید کی تلاوت کی۔ مرکز کے سرپرست مولانا محمد ریاض الدین مظاہری نے حضرت کی مغفرت اور بلند درجات کیلئے دعا کروائی بعد ازاں جانشین قائد الاحرار حضرت مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی صاحب کے نام ایک تعزیتی مکتوب میں مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے فرمایا کہ حضرت کے وصال کی خبر یقیناً ناقابل تحمل ہے، جو بندہ کیلئے بالخصوص اور پوری ملت اسلامیہ کیلئے بالعموم سوہان روح ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت کے چلے جانے سے عموماً پوری ملت اسلامیہ بالخصوص بندۂ ناچیز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ کیونکہ جب سے ہوش سنبھالا ہے حضرت سے گہرا تعلق رہا اور ہر مسئلے میں حضرت کی رہنمائی حاصل رہی۔ وہ ہمارے قائد و سرپرست ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے پیر و مرشد بھی تھے۔ بلکہ حضرت بندۂ ناچیز کو ایک مشفق والد کی طرح چاہتے تھے اور ہمیشہ شفقت پیدری سے نوازتے تھے، یہی وجہ تھی کہ وہ ناچیز کو کبھی نام سے یاد نہیں کرتے تھے بلکہ ہمیشہ بیٹا کہ کر ہی یاد فرمایا کرتے۔ محمد فرقان نے فرمایا کہ قلم تو جملہ پسماندگان و متعلقین سے تعزیت کیلئے اٹھایا تھا لیکن آج بندہ غموں سے اتنا نڈھال ہیکہ خود کو تعزیت کا محتاج سمجھتا ہے۔ لیکن نوشۂ تقدیر کو کیا کرسکتے ہیں۔ مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے فرمایا کہ حضرت علیہ الرحمہ کی ذات گرامی اور کارنامے کسی سے مخفی نہیں۔ حضرت ایک باصلاحیت اور بے باک و نڈر عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شریف النفس، خوش اخلاق، متواضع، حلیم و بردبار اور متقی و پرہیزگار شخص بھی تھے۔ انکا شمار ان بزرگ ترین ہستیوں میں ہوتا ہے جنکے دینی، علمی و سماجی خدمات سے تاریخ کے بے شمار باب روشن ہیں۔  انکی شخصیت ہمہ جہت تھی۔ انکی پوری زندگی دین و اسلام بالخصوص تاج ختم نبوت کی حفاظت کی خدمت سے عبارت تھی۔ انکی ذات عالیہ پوری ملت اسلامیہ بالخصوص مسلمانانِ ہند کیلئے قدرت کا عظیم عطیہ تھی۔ جو ہر محاذ پر ملت اسلامیہ ہندیہ کی رہنمائی فرمایا کرتے تھے۔ استقلال، استقامت، عزم بالجزم، اعتدال و توازن اور ملت کے مسائل کیلئے شب و روز متفکر اور رسرگرداں رہنا حضرت قائد الاحرار علیہ الرحمہ کی خاص صفت تھی۔ انکی بے باکی اور حق گوئی ہر خاص و عام میں مشہور تھی۔ وہ ایثار و قربانی اور صبر و استقامت کے پیکر مجسم تھے۔ جنہیں نہ تو کسی بڑے سے بڑے نفع کا لالچ اور نہ ہی کسی بڑے سے بڑے نقصان کا خوف اپنے موقف برحق سے ہٹا سکتا تھا۔ انکی ایک آواز پر جہاں ملت اسلامیہ کا ایک بڑا طبقہ لبیک کہتا تھا وہیں دشمن پر انکا رعب اس طرح تھا کہ دشمن ڈر بھاگتا ہے۔ وہ قادیانیوں اور فرقہ پرست طاقتوں کے سامنے شیشہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے رہتے۔ حضرت علیہ الرحمہ نے اپنے خاندان کی روشن روایات اور مشن کو بہت خوبصورتی کے ساتھ آگے بڑھایا اور ہر محاذ پر مسلمانانِ ہند کی مثالی قیادت فرمائی۔ مجلس احرار اسلام ہند کا از سر نو احیا، قادیانیوں اور دیگر شرپسندوں کی جانب سے کئی ایک حملوں کے باوجود تحریک تحفظ ختم نبوت سے مضبوط وابستگی، باطل طاقتوں اور حکومت وقت کے آگے احقاق حق و ابطال باطل کے فریضے کی انجام دہی، پنجاب میں مساجد کی بازیابی اور آبادکاری اور دینی تعلیم کا فروغ جیسے کئی ایک لائق رشک انکے حیات کے پہلو ہیں۔ بالخصوص مجلس احرار اسلام ہند کے پلیٹ فارم سے حضرت نے تحفظ ختم نبوت کی جو تحریک چلائی وہ ناقابل فراموش ہے۔ وہ یقیناً علماء لدھیانہ کے سچے وارث اور امین اور تحریک تحفظ ختم نبوت کے سپہ سالار اور مجاہد تھے۔ محمد فرقان نے کہا کہ آج جہاں ہم سب اپنے سرپرست و قائد سے محروم ہوگئے وہیں مرکز تحفظ اسلام ہند بھی اپنے سرپرست اعلیٰ سے محروم ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ جب مرکز تحفظ اسلام ہند کی بنیاد رکھی تو حضرت نے بڑے قیمتی مشوروں سے نوازا اور اسکی سرپرست بھی قبول فرمائی اور تاحیات اسکی سرپرستی فرماتے رہے، بلکہ مختلف پروگرامات اور کانفرنسوں کی حضرت نے باقاعدہ سرپرستی و صدارت فرمائی۔  انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عجیب منشاء ہیکہ حضرت کے زندگی کا آخری خطاب بھی مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد تحفظ القدس کانفرنس کے افتتاحی نشست کی صدارتی خطاب کے طور پر ہوا۔ جس کے بعد انکے علم کے مطابق حضرت نے کسی کانفرنس یا اجلاس سے خطاب نہیں کیا ہے۔ حضرت علیہ الرحمہ کے انتقال سے مرکز تحفظ اسلام ہند کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ مرکز کے بانی محمد فرقان نے فرمایا کہ انتقال سے قبل جب حضرت بغرض علاج چنئی منتقل ہوئے تو وہ حضرت سے مسلسل رابطے میں رہے۔ انتقال سے بس چار پانچ دن قبل ہی حضرت سے انکی بات ہوئی تھی لیکن کسے معلوم تھا کہ وہ انکی آخری بات ہورہی ہے اور چند لمحے بعد وہ سب کو داغ مفارقت دیکر اس جہاں فانی سے کوچ کر جائیں گے۔ محمد فرقان نے فرمایا کہ آج ہم سب بلکہ پوری ملت اسلامیہ غم میں ڈوبی ہوئی ہے۔ لیکن موت برحق ہے، ہر ایک کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ حضرت کی جدائی سے ہم سب صدمے میں برابر کے شریک ہیں۔ یہ بڑی آزمائش کی گھڑی ہے لیکن ہمیں صبر کا دامن تھام کر اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی ہونا ہوگا۔ حضرت کا اس طرح سے اچانک پردہ فرما جانے سے یقیناً ملت اسلامیہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، بلکہ تحریک تحفظ ختم نبوت کے میدان میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔ انکا انتقال ایک عظیم خسارہ ہے بلکہ ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اس رنج و ملال کے موقع پر ہر ایک تعزیت کا مستحق ہے۔ لہٰذا وہ خصوصاً حضرت کے جانشین مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی کے، حضرت کے چھوٹے فرزند مجاہد طارق لدھیانوی، حضرت کی صاحبزادی، حضرت کی اہلیہ ماجدہ، حضرت کے دونوں بھائی عبید الرحمن لدھیانوی اور عتیق الرحمن لدھیانوی سمیت جملہ پسماندگان کے، اور حضرت کے تمام محبین، متعلقین، مریدین و تلامذہ اور تمام احراریوں کے اور عموماً پوری ملت اسلامیہ کے غم و افسوس میں برابر شریک ہیں اور اپنی جانب سے اور تمام اراکین مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے تعزیت مسنون پیش کرتے ہیں۔ اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت والا کی مغفرت فرماتے ہوئے انکی خدمات کو شرف قبولیت بخشے اور انکے نہ رہنے سے جو کمی ہوئی ہے اسکی تلافی فرمائے، اسکا نعم البدل عطاء فرمائے۔ نیز مرحوم کو جوار رحمت اور اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ہم سب کو انکے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Thursday, 2 September 2021

پیام فرقان - 12



🎯سوشل میڈیا اصلاح امت کا بہترین ہتھیار ہے!


✍️بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انبیاء کو معبوث فرمایا اور اپنا پیغام انسانوں تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ انبیاء علیہم السلام نے اس ذمہ داری کو ادا کیا اور اس کی ادائیگی کے لیے وہ تمام وسائل اختیار کیے جو اس زمانے میں موجود تھے۔ آج ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے۔ عصر حاضر میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے کوئی شخص بھی انکار نہیں کرسکتا۔ دنیا بھر میں سماجی، سیاسی اور معاشی تبدیلیوں کے تناظر میں سوشل میڈیا کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ بات سیکنڈوں میں بڑی تعداد اور بہت دور تک پہنچ جاتی ہے۔ زندگی کے ہر شعبہ پر سوشل میڈیا کے اثرات کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا افراد اور اداروں کو ایک دوسرے سے مربوط ہونے، خیالات کا تبادلہ کرنے، اپنے پیغامات کی ترسیل اور انٹرنیٹ پر موجود دیگر بہت سی چیزوں کو ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ آج ذرائع ابلاغ میں سوشل میڈیا کا استعمال سب سے زیادہ ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کا استعمال بے حیائی و بد اخلاقی کو پھیلانے، ناچ گانوں، گندی فلموں کے ذریعہ نئی نسل کو با مقصد زندگی سے غافل کرنے، مغربی تہذیب کو فروغ دینے، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے، اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑانے کیلئے کیا جارہا ہے۔ ایسے حالات میں امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس میدان میں آگے آئیں اور میڈیا کو اسلام کے صاف شفاف پیغام کو پہنچانے کا ذریعہ بنائیں۔ نئی نسل کو درست رخ دینے کے لیے اس کا استعمال کیا جائے۔ سوشل میڈیا کے مختلف شعبوں کے ذریعے امت کی اصلاح کی کوششیں کریں کیونکہ عصر حاضر میں سوشل میڈیا اصلاح امت کا بہترین ہتھیار ہے!


فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

02؍ ستمبر 2021ء بروز جمعرات

برہما پور، اڑیسہ صبح 9 بجے


+918495087865

mdfurqan7865@gmail.com


#PayameFurqan #پیام_فرقان

#ShortArticle #MTIH #TIMS #SocialMedia #Islam #Muslim

Wednesday, 1 September 2021

پیام فرقان - 11



🎯دارالعلوم دیوبند زندہ تھا، زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا، ان شاء اللہ!


✍️بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


ہندوستان کی آزادی میں دارالعلوم دیوبند نے ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ سیکڑوں فارغین دیوبند نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ آزادی کی جد وجہد میں لگا دیا۔ دارالعلوم دیوبند کے بانیین، فارغین اور شاگردان شیخ الہند کی ایک طویل فہرست ہے جو ہندوستان کو انگریزوں کے چنگل سے نکالنے کے لیے آزادی کی جدو جہد میں لگے رہے، طرح طرح کی مصیبتیں اٹھائیں، جلاوطنی کی زندگی بسر کی، مگر ظالم و جابر انگریز کی غلامی اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کو پسند نہیں کیا۔ ایسے ایسے مجاہدین نے دارالعلوم دیوبند کی کوکھ سے جنم لیا جنھوں نے حریت ہند کے لیے اپنی رگ جاں کے آخری قطرہ تک کو نچوڑ دیا؛ لیکن ان کے پائے ثبات میں کبھی لغزش تک نہ آئی۔ ان محبین وطن نے وطن دوستی کا ثبوت دیا، ملک کی آزادی کے لیے اپنی جد و جہد شروع کی اور انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے کیلئے ہر طرح کے مصائب برداشت کئے، ہمیشہ برطانوی سامراج کے نشانے پر رہے لیکن اس ملک کو آزادی کی سانس دلا کر ہی دم لیا۔ مگر آج افسوس اس بات پر ہے جس دارالعلوم دیوبند نے ہندوستان کی آزادی و تعمیر میں اپنے جیالوں کا خون پانی کی طرح بہایا، جس کے جیالے جیل کی سلاخوں کے پیچھے رات و دن گزارے اور جس کے سپوتوں نے مادر وطن کو آزاد کراکر ہی دم لیا، آج اس کی قربانیوں کو فراموش کرکے اس کے فرزندوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ اس دارالعلوم دیوبند پر پابندی لگانے اور اسے بند کروانے کی بات کی جارہی ہے۔ لیکن ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ دارالعلوم دیوبند کو بند کروانے کیلئے برطانوی سامراج سے لیکر آج تک ہزاروں نے کوشش کی اور کوشش کرتے کرتے مر گئے لیکن اسکے برعکس دارالعلوم دیوبند آج بھی زندہ ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک زندہ رہے گا۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا:

دیوبند کا تاریخ کے اندر ہر کردار نرالا ہے

رب کی قسم اسلاف کا میرے ہر شہکار نرالا ہے

اس لشکر کے جانبازوں سے ہر باطل گھبرایا ہے

ظلم و ستم کے دور کے اندر حق کا دیپ جلایا ہے

دیوبند نے اسلام کا پرچم دنیا پر لہرایا ہے



فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

یکم؍ ستمبر 2021ء بروز بدھ

نلور، آندھراپردیش بعد نماز مغرب


+918495087865

mdfurqan7865@gmail.com


#PayameFurqan #پیام_فرقان

#ShortArticle #MTIH #TIMS #Deoband #DarulUloom #DarulUloomDeoband

Tuesday, 31 August 2021

پیام فرقان - 10



🎯ائمہ مساجد کی عظمت اور جاہل ذمہ دارانِ مساجد!


✍️بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


اسلام میں امامت کا درجہ اور منصب بہت اہم باعزت وعظمت والا ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہیکہ آج کل اگر مساجد کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہیکہ اکثر مساجد میں ائمہ کرام کی ناقدری ایک عام وبا کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ بالخصوص ذمہ داران مساجد کے پاس تو امام و مؤذن کی کوئی قدر ہی نظر نہیں آتی، یہاں تک کہ بعض دفعہ امام و مؤذن پر ارکان کمیٹی کا ظلم و ستم ناقابل بیان ہوتا ہے۔ ہر دوسری مسجد میں مظلوم امام پر ظالم کمیٹیوں کا ظلم عروج پر ہے۔ اسکی ایک بنیادی وجہ یہ ہیکہ مسجد کی کمیٹی کا انتخاب شریعت کے اصولوں پر نہیں ہوتا۔ دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کے مفتیان کرام فرماتے ہیں کہ ”مسجد کمیٹی کے لیے ایسے افراد کا انتخاب ہونا چاہیے جو دیانت دار اور دین دار ہوں، فسق وفجور کی چیزوں مثلاً ترکِ نماز، فلم بینی اور ڈاڑھی منڈوانے سے بچتے ہوں نیز ان کے اندر انتظامی امور کو سمجھنے اور انہیں انجام دینے کی صلاحیت بھی ہو، انتخاب مذکورہ بالا اوصاف کے حامل لوگوں کا ہی ہونا چاہیے، خائن، فسق وفجور میں مبتلا بے نمازی یا ریش تراشیدہ کو امور مسجد کے ذمے داری سونپنا جائز نہیں ہے“ ( فتاویٰ دارالعلوم : 154220)۔ معلوم ہوا کہ مسجد کمیٹی کے انتخاب کے بھی کچھ اصول ہیں لیکن آج کل مسجد کمیٹی کا انتخاب شریعت کے ان اصولوں کے برخلاف ہوتا ہے اور مساجد کے ذمہ داران میں اکثر لوگ فسق و فجور میں مبتلا، بے نمازی، فلم بینی اور ڈاڑھی منڈھے ہی شامل رہتے ہیں۔ اب جسے شریعت کی شین اور مسجد کی میم کا بھی علم نہ ہو وہ امام و مؤذن کی قدر کیا جانے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ایک طرف ہم ایک شخص کو اپنا امام یعنی سردار بھی تسلیم کررہے ہیں تو وہیں دوسری طرف اس کی ناقدری بھی کررہے ہیں، جو شرعاً و اخلاقاً کسی بھی طرح درست نہیں ہے اور سراسر غلط اور عذاب کا باعث ہے۔  حضرت مفتی عبد الرحیم صاحب لاجپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”فی زمانہ یہ ذمہ داری متولیانِ مسجد اور محلہ و بستی کے بااثر لوگوں کی ہے، ان کو اس اہم مسئلہ پر توجہ دینا بہت ضروری ہے، ائمہ مساجد کے ساتھ اعزاز و احترام کا معاملہ کریں، ان کو اپنا مذہبی پیشوا اور سردار سمجھیں، ان کو دیگر ملازمین اور نوکروں کی طرح سمجھنا منصبِ امامت کی سخت توہین ہے، یہ بہت ہی اہم دینی منصب ہے، پیشہ ور ملازمتوں کی طرح کوئی ملازمت نہیں ہے، جانبین سے اس عظیم منصب کے احترام، وقار، عزت، عظمت کی حفاظت ضروری ہے ۔“ (فتاویٰ رحیمیہ ۹/ ۲۹۳جدید)۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ مسجد کمیٹی کے انتخاب میں شریعت کے اصولوں کی پابندی کریں اور مساجد پر سے احمقوں اور جاہلوں کی اجارہ داری ختم کرانے کی کوشش کریں۔ کیونکہ امام و مؤذن کا عزت و احترام کرنا ہر ایک مسلمان بالخصوص ذمہ داران مساجد پر لازم ہے۔



فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

30؍ اگست 2021ء بروز پیر

+918495087865

mdfurqan7865@gmail.com


#PayameFurqan #پیام_فرقان

#ShortArticle #MTIH #TIMS #Islam #Imam #Mauzin

Sunday, 29 August 2021

پیام فرقان - 09



🎯غلبہ اسلام پوری دنیا پر آکر رہیگا!


✍️بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


امریکہ دنیا میں اپنی اقدار نافذ کرنا چاہتا ہے اور اسلام امریکہ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہی وجہ ہیکہ پوری دنیا میں مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے جبکہ ہر جگہ مسلمان خود ظلم اور دہشت گردی کے شکار ہیں۔ دنیا بھر میں مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے اور اُنہیں ہی دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے کیونکہ مغرب کو خطرہ دہشت گردی سے نہیں بلکہ اسلام، اس کی دعوت اور اس کے حسن سے ہے۔ امریکہ اسلام کے حسن کے دنیا پر آشکارا ہوجانے کے ڈر سے اس کے خلاف شور مچا رہا ہے۔ کفر کی تمام طاقتیں مسلمانوں پر حملہ آور ہیں اور عالم اسلام کے خلاف فوجی، سیاسی، اقتصادی اورثقافتی جنگ جاری ہے اور اسلام کی اقدار اور تہذیب تباہ کردینا چاہتے ہیں۔ لیکن انہیں نہیں معلوم کہ وہ دن دور نہیں جب پوری دُنیا میں ایک بار پھر اسلام کا پرچم لہرائے گا اور دین اسلام غالب آکر رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے سورہ توبہ میں واضح الفاظ میں فرما دیا کہ يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ کہ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنے مونہوں سے بجھا دیں، اور اللہ اپنی روشنی کو پورا کیے بغیر نہیں رہے گا اور اگرچہ کافر ناپسند ہی کریں۔ اور آگے فرمایا هُوَ الَّـذِىٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَـهٝ بِالْـهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٝ عَلَى الـدِّيْنِ كُلِّـهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُـوْنَ کہ اس (اللہ) اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اور اگرچہ مشرک ناپسند کریں۔ تو معلوم ہوا کہ دین اسلام دنیا میں غالب ہونے کے لئے آیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت یعنی قرآن پاک اور دین حق یعنی اسلام دے کر بھیجا ہے تاکہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کردے۔

اس دنیا کے آفاق پر، رحمت کا بادل چھائے گا

اور پاک سے پاکیزہ تر، پورا عالم ہوجائے گا

پھر کفر کا ،الحاد کا، سکہ نہ چلنے پائے گا

پیغمبرِ اسلام کا، پرچم یہاں لہرائے گا

اسلام غالب آئے گا، اسلام غالب آئے گا



فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

28؍ اگست 2021ء بروز سنیچر

+918495087865

mdfurqan7865@gmail.com


#PayameFurqan #پیام_فرقان

#ShortArticle #MTIH #TIMS #Islam #Muslim