Tuesday, 12 October 2021

عصر حاضر کے چیلنجز کا مقابلہ سیرت النبیؐ کے ذریعے ہی ممکن ہے: محمد فرقان

 


عصر حاضر کے چیلنجز کا مقابلہ سیرت النبیؐ کے ذریعے ہی ممکن ہے: محمد فرقان

مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام دس روزہ سیرت النبیؐ کانفرنس، برداران اسلام سے شرکت کی اپیل!


بنگلور، 12؍ اکتوبر (پریس ریلیز): آج سے چودہ سو سال قبل کے انسانی معاشرہ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہیکہ اس وقت انسانی بدبختی اپنی انتہاکو پہنچ چکی تھی، ساری انسانیت نہ صرف مسائل میں گھری ہوئی تھی بلکہ اپنی خود کشی کا سامان فراہم کرچکی تھی۔ دورِ جاہلیت میں وہ کون سا مسئلہ تھا جو انسانیت کے لئے ناسور نہ بنا تھا، انسانی زندگی کا وہ کون سا پہلو تھا جس سے انسانیت رسوا نہ ہوئی ہو۔ ایسے تاریک اور انسانیت سوزماحول میں امام الانبیاء خاتم النبیین محسن انسانیت حضرت محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی اور مختصر عرصہ میں آپؐ نے وہ عظیم انقلاب پرپا کیا کہ تاریخ انسانی اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ حیات انسانی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس کے لئے محمد عربیﷺ کی پاکیزہ سیرت نمونہ نہ ہو۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج انسانیت ایک بار پھر دورِ جاہلیت کی طرف لوٹ رہی ہے، جسے جاہلیت جدیدہ کہا جاسکتا ہے، اب جاہلی اطوار نیالبادہ اوڑھ کر سامنے آرہے ہیں، دورِ جاہلیت کا وہ کونسا بگاڑ ہے جس کی ترقی یافتہ شکل موجودہ معاشرہ میں نہ پائی جاتی ہو۔آج پھر انسانیت مسائل کے دلدل میں پھنس چکی ہے، نت نئے فتنے جنم لے رہے ہیں، فتنوں کا نہ تھمنے والا سیلاب امڈتا چلا آرہا ہے، جس طرف دیکھئے اختلاف ہی اختلاف ہے، ہر آدمی ایک دوسرے سے مختلف و منحرف نظر آرہا ہے، خود غرضی عام ہورہی ہے، اخلاق و پاک دامنی کا فقدان ہے، شرافت و امانت ناپید ہورہی ہے، امن وآشتی اور سکون و عافیت مفقود ہوتی چلی جارہی ہے۔ کون سی ایسی برائی ہے جس کا تصور کیا جائے اور وہ معاشرے میں موجود نہیں، زنا اور شراب نوشی عام ہے، سود اور سودی کاروبار ہر گھر میں پہنچ چکا ہے، جوا اور سٹہ بازی کی نئی نئی شکلیں اختیار کی جارہی ہیں، دخترکشی بلکہ نسل کشی ایک فیشن بن گئی ہے، ہر طرف ظلم و ستم کی گرم بازاری ہے، آئے دن فسادات اور قتل و غارت گری ہورہی ہے۔ سارے اسباب و وسائل ہونے کے باوجود آج لوگوں کی زندگی سے چین و سکوں ختم ہوچکی ہے۔دور حاضر دور جاہلیت کی طرف تیزی سے رواں دواں ہے؛ بلکہ بعض لحاظ سے اس سے بھی آگے جاچکا ہے۔ ان جملہ خرابیوں کو دور کرنے اور ان پر قابو یافتہ ہونے کی سارے عالم میں کوششیں کی جارہی ہیں؛ لیکن کوئی کوشش کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی۔ اب انسانیت کے لئے ایک ہی نسخہ کارگر ثابت ہوسکتا ہے، اور وہ نسخہ سیرت النبیؐ ہے۔جی ہاں! آپؐ کی سیرت سے عملی استفادہ ہمیں مسائل کے دلدل سے نجات دلا سکتا ہے، آپؐ کی سیرت میں قیامت تک آنے والی انسانیت کے دکھ درد کا علاج پنہاں ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی سیرت کے ایک ایک پہلو کو محفوظ رکھنے کا اہتمام فرمایا ہے۔ لہٰذا عصر حاضر کے چیلنجز کا مقابلہ بھی سیرت النبیﷺ کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور سیرت النبی ؐکے پیغام کو عام کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے فرمایا کہ اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند ”عظیم الشان آن لائن دس روزہ سیرت النبیؐ کانفرنس“ منعقد کرنے جارہی ہے۔ جو روزانہ رات 9؍ بجے مرکز کے آفیشیل یوٹیوب چینل اور فیس بک پیج تحفظ اسلام میڈیا سروس پر براہ راست نشر کیا جائے گا۔جس سے اکابرین دارالعلوم دیوبند، مظاہر العلوم سہارنپور، دارالعلوم ندوۃ العلماء،جمعیۃ علماء ہند،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و سرپرستاں مرکز تحفظ اسلام ہند کے علاوہ ملک کے مختلف اکابر علماء کرام خطاب فرمائیں گے۔ محمد فرقان نے تمام برادران اسلام سے اپیل کی کہ وہ اس اہم اور عظیم الشان سیرت النبیؐ کانفرنس میں شرکت فرماکر اکابرین کے خطابات سے مستفید ہوں اور سیرت کے پیغام کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی کوشش کریں!

Friday, 8 October 2021

غلام حسن قیصر مجلس احرار اسلام ہند کے کارگزار صدر مقرر





 غلام حسن قیصر مجلس احرار اسلام ہند کے کارگزار صدر مقرر

احرار عزم اور استقامت کے ساتھ شیر اسلام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی کے نقش قدم پر چلیں گے 


لدھیانہ 8 اکتوبر (پریس ریلیز): برصغیر میں تحریک تحفظ ختم نبوتؐ کی علمبرداد جماعت مجلس احرار اسلام ہند کے قومی صدر و پنجاب کے شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی مرحوم کے گزشتہ دنوں انتقال کے بعد آج جماعت کی مجلس عاملہ کی جانب سے احرار کی وابستہ اور مرحوم صدر احرار کے قریبی رفقاء میں سے لدھیانہ کے معروف شاعر احرار جناب غلام حسن قیصر کو مجلس احرار اسلا م ہند کا کارگزار صدر مقرر کردیا۔ 72 سالہ جناب غلام حسن قیصر گزشتہ پچاس سال سے مرحوم قائد احرار مفتی محمد احمد رحمانی لدھانوی ؒ اور شیر اسلام حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی مرحوم کے ساتھ رہے ہیں۔ مجلس احرار اسلام کے سکریٹری شاہنواز خان نے بتایاکہ جناب قیصر اس عہدے پر مقرر کر دئے گئے ہیں تاکہ جماعت کی سرگرمیاں بدستور چلتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماہ دسمبر میں ہر سال یوم احرار کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں اس مرتبہ یوم احرار پر ہی مجلس احرار اسلام ہند کی مرکزیہ کا اجلاس ہوگا اور اس میں نئے صدر کا انتخاب کیا جائیگا۔اس موقعہ پر نئے مقرر کئے گئے احرار کے کارگزار صدر جناب غلام حسن قیصر نے کہا کہ احرار کا اولین مقصد تاج ختم نبوتؐ کی حفاظت ہے نیز احرار باطل قوتوں کے خلاف ہمیشہ اپنی مکمل طاقت کے ساتھ ٹکراتے رہے ہیں اور انشاء اللہ یہ سلسلہ جاری رہیگا۔جناب قیصر نے کہا ہم اپنے مرحوم امیر شیر اسلام حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی ؒ کے نقش قدم پر عزم ہمت اور حوصلہ کے ساتھ چلتے رہیں گے۔ 


فوٹو کیپشن۔مجلس احرار اسلام ہند کے کارگزار صدر جناب غلام حسن قیصر کا اعزاز کرتے ہوئے مجلس احرار اسلام ہند کے جنرل سکریٹری و شاہی امام پنجاب مولانا محمدعثمان لدھیانوی، محمدمستقیم احرار، مولانا عبد المنان قاسمی، مولانا مفتی محمد عارف قاسمی۔

Thursday, 7 October 2021

پیام فرقان - 14

 { پیام فرقان - 14 }



🎯حالات سے گھبرانے کی ضرورت نہیں!


✍️بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


تاریخ عروج وزوال شاہد ہے کہ قوموں کی زندگیوں میں ایسے سخت حالات آتے ہیں، جہاں انھیں اپنا وجود بھی خطرے میں نظر آنے لگتا ہے۔ بالخصوص مسلمان، جو روئے زمین پر خالق کائنات کی مرضیات کے نمائندے اور اس کے احکام تشریعیہ کے پابند ہیں، جب وہ اپنی منصبی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتے اور بے اعتدالیوں کے شکار ہوکر جادئہ حق سے ہٹنے لگتے ہیں تو ان کے ارد گرد حالات کا گھیرا تنگ کردیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی بے راہ روی کو چھوڑ کر مرضیِ حق کے تابیع ہوجائیں۔ لہٰذا مسلمانوں کو حالات سے گھبرانے یا مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بس اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی طرف توجہ دیں کیونکہ اسلامی تاریخ میں موجودہ حالات سے بھی بد ترین حالات کا مسلمانوں کو سامنا کرنا پڑا ہے اور دشمنان اسلام، دین اسلام یا مسلمانوں کو دنیا سے ختم کرنے کی اپنی سازشوں اور بھر پور کوششوں میں ناکام ہوئے ہیں، دشمنوں کو ناکام کرنے کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صبر کے ساتھ ثابت قدم رہیں، اللہ کی طرف رجوع کریں، نمازوں کے ذریعہ اللہ سے مدد طلب کریں، اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں اور اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ ان شاء اللہ کامیابی آپکے قدم چومے گی۔


فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

07؍ اکتوبر 2021ء بروز چہارشنبہ

منہاج نگر، بنگلور بعد نماز عصر 

+918495087865

mdfurqan7865@gmail.com


#PayameFurqan #پیام_فرقان

#ShortArticle #MTIH #TIMS #Islam #Muslim

Wednesday, 6 October 2021

پیام فرقان - 13

 { پیام فرقان - 13 }



🎯اتحادِ امت وقت کی اہم ضرورت!


✍️بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


اس وقت مسلمان پوری دنیا بالخصوص وطن عزیز ملک بھارت میں جن حالات سے گزر رہے ہیں وہ قابل تشویشناک ہے۔ دشمن طاقتیں جانتی ہیں کہ مسلمانوں کی کامیابی کا راز ان کے اتحاد و اتفاق اور ان کی اجتماعیت میں پوشیدہ ہے اس لئے وہ پوری قوت اس پر صرف کر رہی ہیں کہ یہ قوم متحد نہ ہوسکے افسوس کہ ہم میں سے بہت سے لوگ دشمنوں کو کامیاب ہونے کا موقع دے رہے ہیں اور مسلمانون میں اختلاف و انتشار کا سبب بن رہے ہیں۔ ہمیں اس بات کو ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ ہماری کامیابی کے لئے سب سے اہم اور بنیادی چیز ایمان و یقین اور عزم و حوصلہ کی مضبوطی کے بعد اتحاد و اتفاق اور اجتماعیت ہے، اس کے بغیر ہم اس ملک میں کبھی حوصلہ اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتے اور نہ ہی اپنی حیثیت عرفی قائم رکھ سکتے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہ آپسی انتشار و افتراق اور تقسیم و تفریق اس قوم میں ہے جس کا نقطۂ اتحاد لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہﷺ ہے، جس کا مرکزِ اتحاد کعبۃ اللہ ہے۔ آج مسلمانوں کے سارے مسائل کا حل ان کی اجتماعیت اور اتحاد میں چھپی ہے۔ موجودہ حالات میں خواہ وہ کسی بھی ملک کے ہوں، ہماری اجتماعیت وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے، اس سلسلے میں یہ امید یا مطالبہ تو زیادہ ہی سادگی کے مرادف ہوگا کہ ہم اپنے تمام تر اختلافات بھلاکر ایک ہوجائیں اور اپنی اپنی صفوں میں اتحاد کو قائم کریں۔ خدا کی قسم اگر ہم سب مسلمان متحد ہو جائیں تو کسی بھیڑئیے کی مجال نہیں ہے کہ وہ ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکے۔ 

علامہ اقبال رحمہ اللہ نے کیا خوب کہا:

منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک

ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک

حرم پاک بھی ایک اللہ بھی قرآن بھی ایک

کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک


فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

06؍ اکتوبر 2021ء بروز چہارشنبہ

منہاج نگر، بنگلور رات 9 بجے

+918495087865

mdfurqan7865@gmail.com


#PayameFurqan #پیام_فرقان

#ShortArticle #MTIH #TIMS #Itihad #Islam #Muslim

Thursday, 30 September 2021

دین سے دوری اورعقائد سے ناواقفیت فتنۂ ارتداد کی بنیادی وجہ ہے!

 


دین سے دوری اورعقائد سے ناواقفیت فتنۂ ارتداد کی بنیادی وجہ ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے اصلاح معاشرہ کانفرنس سے مفتی افتخار احمد قاسمی اور مفتی اسعد قاسم سنبھلی کا خطاب!


بنگلور، 30؍ ستمبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد آن لائن سہ روزہ اصلاح معاشرہ کانفرنس بعنوان ”مسلم لڑکیاں ارتداد کے دہانوں پر: اسباب اور حل“ کی تیسری اور آخری نشست سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے لیکن ان تمام نعمتوں میں قرآن و حدیث کی روشنی میں سب سے بڑی نعمت ایمان کی نعمت ہے۔ اگر ایمان کی نعمت نہ ہو تو دنیا میں گرچہ ظاہری فائدہ ہو بھی جائے تو موت کے بعد کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور ہمیشہ ہمیش کیلئے جہنم کو اپنا ٹھکانہ بنانا ہوگا۔ لیکن اسکی دوسری جانب اگر ایمان کی نعمت ہو تو اگر کچھ گناہوں کی وجہ سے جہنم میں چلا بھی جائے تو ایمان کی دولت کی وجہ سے ایک نہ ایک دن وہ جنت کا حقدار ہوگا۔ مولانا نے فرمایا کہ یہی وجہ ہیکہ اصحاب رسول نے بڑی سی بڑی قربانیاں دیں لیکن اپنے ایمان کا کبھی سودا نہیں کیا۔ کیونکہ ایمان جان سے بھی زیادہ قیمتی چیز ہے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ ایمان پر موت کامیابی کی علامت ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ دور حاضر میں ہمارے معاشرے میں ایمان کی قدر و قیمت کم ہوتی جارہی ہے۔ والدین اور سرپرستان کی بے دین دیکھ کر نئی نسلوں میں بے دین پیدا ہورہی ہے اور وہ دین سے ایسے غافل ہورہے ہیں کہ ارتداد کا راستہ اپنا رہے ہیں۔مولانا نے فرمایا کہ ضرورت ہیکہ ایمان کی قدر و قیمت کو ہمیں معاشرہ کے ہر ایک فرد کو گھول کر پلا دینا چاہیے۔حالات کتنے بھی ناساز کیوں نہ ہو لیکن دور نبوی کے حالات سے زیادہ خراب نہیں ہیں، ان حالات کا کیسے مقابلہ کرنا ہے اسکی ہمیں دین و شریعت نے مکمل رہنمائی کی ہے۔ مولانا نے فرمایا دین سے دوری اور غفلت فتنۂ ارتداد کی بنیادی وجہ ہے۔ اور ہمارے گھروں کا اگر معائنہ کریں تو معلوم ہوتا ہیکہ ہماری نسلوں کو ایمان سے دور کرنے والی چیزیں مثلاً ٹی وی، انٹرنیٹ وغیرہ ہمارے اطراف زیادہ ہیں اور ایمان کی حفاظت کرنے والی چیزیں کم ہیں لہٰذا ہمیں اپنے بچوں کی دینی تعلیم کو مضبوط کرنے اور گھر کے ماحول کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ مولانا قاسمی نے دوٹوک فرمایا کہ ہمیں چاہیے کہ اپنی نسلوں کی ایسی تربیت کریں کہ انکے اندر ایمان پر مر مٹنا کا جذبہ پیدا ہوجائے تاکہ وہ کسی بھی حالت میں ایمان کا سودا نہ کریں۔ مولانا نے فرمایا کہ مخلوط تعلیمی نظام ارتداد کے اسباب کی سب سے اہم کڑی ہے۔ لہٰذا ہمیں اس سے خاص احتیاط کرنی کی فکر کرنی چاہیے۔ مفتی افتخار احمد قاسمی نے فرمایا کہ لوگوں کی ایمان کی فکر کرنا پہلے والدین اور پھر علماء کرام اور ملی تنظیموں کی ذمہ داری ہے لہٰذا اگر وہ اپنی اپنی مکمل ذمہ داری نبھائیں تو ان شاء اللہ ہر ایک کا ایمان محفوظ رہے گا۔ قابل مبارک باد ہیں مرکز تحفظ اسلام ہند کے اراکین کہ انہوں نے اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے یہ کانفرنس منعقد کی۔


کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ شاہ ولی اللہؒ، مرادآباد کے مہتمم حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب نے فرمایا کہ ارتداد دنیا کی ایسی عظیم اور خطرناک قسم کی آفت ہے کہ دنیا میں اس سے بڑا حادثہ کوئی نہیں ہوسکتا۔ اگر آسمان پھٹ جائے، زمین دھس جائے تو بھی وہ حادثہ کم ہے لیکن ارتداد اس سے بڑا حادثہ ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ رسول اللہؐ کی وفات کے بعد بعض قبائل اسلام سے پھر کر مرتد ہوگئے تھے، خلیفہ اول سید نا ابوبکر صدیق ؓ کو جب اس کی اطلاع ملی تو آپ ؓ نے ان کے خلاف جہاد کیا اور ارتداد کے ذریعہ دشمنان اسلام کے جو کچھ منصوبے تھے ان سب پر پانی پھر دیا، اور وہ اپنی موت آپ مرگئے اور اسلام کے خلاف ساری سازشیں ناکام ہوگئیں۔مولانا سنبھلی نے فرمایا کہ ارتداد کی سب سے پہلی وجہ یہ ہیکہ ظالم حکمران کا ہم پر مسلط ہونا اور اپنی طاقت کا ناجائز فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو مرتد کرنے کی کوشش کرنا۔اسکی دوسری وجہ مخلوط تعلیمی نظام ہے اور دور حاضر میں نئی تعلیمی پالیسی جو نافذ ہوئی ہے دشمنان اسلام نے ایسی سازش رچی ہیکہ اس نئی تعلیمی پالیسی کے چلتے بچے اپنی پڑھائی مکمل کرنے تک خود بہ خود مرتد ہوجائیں گے۔ مولانا نے فرمایا کہ ارتداد کی تیسری وجہ حد سے زیادہ اتحاد بھی ہے، اس ملک میں بین المذاہب  اتحاد کی یقیناً ضرورت ہے لیکن وہ بھی شریعت کے حدود میں ہو ورنہ ایک بڑی تعداد اتحاد کے چلتے غیروں کے کفر و شرک کی تقارب میں بھی حصہ لینے لگتی ہے اور بعد میں مرتد ہوجاتی ہے۔چوتھی وجہ یہ مسلمانوں کی معاشی تنگی ہے۔ کیونکہ اغیار مسلمانوں کی غربت وجہالت سے فائدہ اٹھا کر ان کی مدد کو پہونچتے ہیں اور پھر اس مدد کے نام پر ان کے دین وایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ مولانا سنبھلی نے فرمایا کہ ہمیں ان تمام اسباب پر غور کرنا چاہیے اور اس اعتبار سے اسکا حل تلاش کرنا چاہیے۔ مولانا نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے اپیل کرتے ہوئے فرمایا کہ بورڈ ارتداد کے سلسلے میں ایک الگ شعبہ ملکی سطح پر بنائے اور ہر صوبوں، اضلاع اور گاؤں میں اسکی ذیلی کمیٹیاں ہو جو اپنے علاقوں کا معائنہ کرے اور کوئی واقعہ درپیش ہوتو وہاں فوری طور پر پہنچ کر مناسب اقدامات کرے۔ اسی کے ساتھ مکاتب کے نظام کو مضبوط کیا جائے اور ہر گاؤں گاؤں میں عقائد کی تعلیم بالخصوص عقیدۂ توحید و رسالت پر زور دیا جائے اور مسلمانوں اور ان کے بچوں کے دلوں میں کفر و شرک کی نفرت بٹھا دی جائے۔مفتی اسعد صاحب نے فرمایا کہ چونکہ مرد حضرات کو علماء کرام کے مواعظ حسنہ سے استفادہ کا زیادہ موقع ملتا ہے لیکن مستورات کو کم ملتا ہے، جس وجہ سے ارتداد کا فتنہ عورتوں میں زیادہ پایا جارہا ہے لہٰذا ہمیں خواتین کے ہفتہ واری اور ماہانہ اجتماع منعقد کرنے کا نظام بنانا چاہئے اور مساجد والوں کو چاہیے کہ وہ جمعہ بیان کو مسجد تک محدود نہ کریں بلکہ اپنے محلہ کے ہر ایک گھر میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پہنچانے کی کوشش کریں۔ مولانا نے فرمایا کہ باطل ایک سیلاب کی طرح آتا ہے لہٰذا ہم اگر تھوڑی سی کوشش کریں تو اللہ کی مدد و نصرت شامل حال ہوگی اور یہ باطل پر حق غالب آئے گا۔


قابل ذکر ہیکہ یہ اصلاح معاشرہ کانفرنس مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمدفرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مفتی محمد مصعب قاسمی کی نعتیہ کلام سے ہوا، جبکہ مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی بطور خاص شریک تھے۔ کانفرنس سے خطاب کرنے والے دنوں اکابر علماء کرام نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا اور اس کانفرنس کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام مقررین و سامعین اور مہمانان خصوصی کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب کی دعا سے یہ سہ روزہ اصلاح معاشرہ کانفرنس اختتام پذیر ہوا۔