Monday, 15 August 2022

Markaz Tahaffuz-e-Islam Hind wishes a very Happy #IndependenceDay to one and all.

 Markaz Tahaffuz-e-Islam Hind wishes a very Happy #IndependenceDay to one and all.



May Allah Ta'ala help us to protect this great blessing of freedom -  Ameen!


https://twitter.com/tahaffuze_islam/status/1558966835126579200?t=mX7onktbI7vCnfg-ItZ_vw&s=19


#IndiaAt75 #HarGharTiranga #HappyIndependenceDay #AzadiKaAmritMahotsav #स्वतंत्रतादिवस #स्वातंत्र्यदिन

‏تمام اہل وطن کو مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے یوم آزادی کی پر خلوص مبارک باد!

 ‏تمام اہل وطن کو مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے یوم آزادی کی پر خلوص مبارک باد!



اللہ تعالیٰ ہمیں آزادی کے اس عظیم نعمت کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے- آمین


https://twitter.com/tahaffuze_islam/status/1558966246841860096?t=skZWu3c8_Md0U1eC0wRr5w&s=19


‎#IndiaAt75 ‎#IndependenceDay ‎#HarGharTiranga ‎#HappyIndependenceDay ‎#AzadiKaAmritMahotsav #स्वतंत्रतादिवस #स्वातंत्र्यदिन

Saturday, 13 August 2022

تمام صحابہ کرامؓ عادل و صادق ہیں، کسی صحابی کی شان میں گستاخی گمراہی کے مانند ہے!

 تمام صحابہ کرامؓ عادل و صادق ہیں، کسی صحابی کی شان میں گستاخی گمراہی کے مانند ہے!



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”عظمت صحابہؓ کانفرنس“ سے مولانا بلال حسنی ندوی کا خطاب! 


 بنگلور، 13؍ اگست (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے ہفت روزہ عظیم الشان آن لائن ”عظمت صحابہؓ کانفرنس“ کی چھٹی نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ناظر عام حضرت مولانا سید بلال حسنی ندوی صاحب مدظلہ نے فرمایا صحابہ کرام اور اہل بیت رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی عظمت سے کون انکار کرسکتا ہے۔ یہ وہی پاک باز ہستیاں ہیں جن کی وساطت سے دین ہم تک پہنچا۔ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد صحابہ کرامؓ کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے، یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرامؓ کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت، جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے اور بہت سی قرآنی آیات و احادیث مبارکہ اس پر شاہد ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ صحابہ کرامؓ سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جو ان کی فضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے، بصورت دیگر ایمان ناقص ہے۔ لیکن افسوس کہ اس پر فتن دور میں بعض بدبخت لوگ ان کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوکر اللہ تعالیٰ کے غیظ وغضب کو دعوت دیتے ہیں۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ اہل سنت و الجماعت کا بنیادی عقیدہ ہیکہ ایک طرف حضرات صحابہؓ کی محبت و عظمت ہو اور دوسری طرف اہل بیتؓ کی محبت و عظمت ہو، اگر یہ دنوں پہلو اعتدال کے ساتھ چلتے رہیں گے تو ہمارے عقیدے کا توازن برقرار رہے گا اور اگر کہیں بھی اس میں بے اعتدالی پیدا ہوگئی تو گمراہی کا خدشہ ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اگر اہل بیتؓ سے محبت غلو کے حد تک ہوئی اور اسکے نتیجے میں دیگر حضرات صحابہؓ کے تعلق سے بدگمانی پیدا ہوئی تو یہ گمراہی کا راستہ ہے اور اگر کسی کے دل میں اہل بیتؓ کے سلسلے میں بدگمانی پیدا ہوگئی تو یہ بھی گمراہی کا راستہ ہے،لہٰذا ہمیں اعتدال کا راستہ اختیار کرناچایئے۔ مولانا نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک تمام صحابہ کرامؓ کی عزت واحترام اور ان سے محبت رکھنا جزوِ ایمان ہے، ان میں سے کسی کی شان میں ادنیٰ گستاخی بھی سخت محرومی کا سبب ہے، البتہ ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت حاصل ہے۔ مولانا حسنی نے فرمایا کہ قرآن مجید کے متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے حضرات صحابہ کرامؓ و اہل بیتؓ کی فضیلت بیان فرمائی ہے اور تمام سے راضی ہونے اور جتنی ہونے کی خوشخبری سنائی ہے۔ نیز قرآن مجید کے علاوہ احادیث مبارکہ میں بھی صحابہؓ و اہل بیتؓ کے بکثرت فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے صحابہؓ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، میرے صحابہؓ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ میرے بعد انھیں ’نشانہ‘ مت بنالینا، کیوں کہ جو شخص ان سے محبت کرے گا، وہ میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا، جو ان سے بغض رکھے گا، وہ درحقیقت مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا۔ جس نے انھیں تکلیف پہنچائی، اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی، اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی اور جس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی تو اللہ تعالیٰ جلد ہی اسے اپنی گرفت میں لے لے گا۔ مولانا نے فرمایا کہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ صحابہ کرامؓ اور اہل بیتؓ سے محبت وعقیدت کے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت نہیں ہوسکتی اور صحابہ کرامؓ کی پیروی کیے بغیر آنحضورؐ کی پیروی کا تصور محال ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم حضرات صحابہؓ و اہل بیتؓ کے تعلق سے اعتدال کا راستہ اختیار کریں، جس سے کسی پر زیادتی نہ ہو، کیونکہ اگر اہل بیتؓ کا حق مارنے والا ناصبی ہوتا ہے اور دیگر صحابہؓ کا حق مارنے والا رافضی ہوتا ہے۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ صحابہ کرامؓ کے درمیان جو اختلافات اور جنگیں ہوئیں وہ درحقیقت معصومانہ اور محض اللہ کی رضا کیلئے تھیں، اس میں کسی کا ذاتی مفاد شامل نہیں تھا۔ لہٰذا مشاجرات صحابہؓ پر انگلیاں اٹھانا، جس سے کسی بھی صحابی کی توہین و تنقیص کا پہلو نکلتا ہو تو قطعاً جائز نہیں۔ جس طرح حضرت علیؓ و حضرات حسنین ؓکی توہین وتنقیص اور ان کی گستاخی و بے ادبی کے مرتکب لوگوں کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، اسی طرح حضرت معاویہؓ اور انکے ساتھی صحابہؓ کی توہین وتنقیص اور بے ادبی وگستاخی کرنے والوں کا بھی دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ مشاجرات صحابہؓ میں دونوں فریقین کی رائے اور عمل کی موافقت میں لاتعداد صحابہ کرامؓ تھے اور امت مسلمہ کے اجماع کی رو سے سارے صحابہؓ عادل اور محفوظ تھے۔ لہٰذا تاریخی روایتوں کو بنیاد بنا کر کسی ایک کو مشاجرات کی بابت مجرم قرار دینا شرعاً ناجائز بلکہ اپنے ایمان وعمل کا ضیاع ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ نصیب فرمائے اور ایسے اعمال وکردار سے محفوظ رکھے جو ہمارے ایمان وعمل کے ضیاع کا باعث بنتے ہوں، نیز تمام صحابہ کرامؓ و اہل بیتؓ ؓسے سچی محبت کرنے اور انکے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا سید بلال حسنی ندوی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کے خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔


#Press_Release #News #AzmateSahaba #Sahaba #MTIH #TIMS

Wednesday, 10 August 2022

صحابہ کرامؓ امت کے محسن ہیں، جنہوں نے دین و اسلام کی بقا اور اشاعت کیلئے سب کچھ قربان کردیا!

 صحابہ کرامؓ امت کے محسن ہیں، جنہوں نے دین و اسلام کی بقا اور اشاعت کیلئے سب کچھ قربان کردیا! 



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”عظمت صحابہؓ کانفرنس“سے مفتی سبیل احمد قاسمی کا خطاب! 


بنگلور، 10؍ اگست (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے ہفت روزہ عظیم الشان آن لائن ”عظمت صحابہؓ کانفرنس“ کی پانچویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ مظاہر العلوم سہارنپور کے رکن شوریٰ اور جمعیۃ علماء تمل ناڈو کے صدر حضرت مولانا مفتی سبیل احمد قاسمی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ صحابہ کرامؓ ان مقدس اور پاکبار ہستیوں کو کہا جاتا ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی اشاعت و ترویج کے لیے منتخب فرمایا، یہ حضرات آپ ؐپر ایمان لائے اور تادمِ مرگ اسی پر برقرار رہے، یہ ایسے حضرات ہیں جو آپؐ کی درسگاہِ نبوت سے فیضیاب ہوئے، اور آپؐ کے ہاتھوں انکی تعلیم وتربیت ہوئی، اور نبوت ورسالت کے صاف و شفاف چشمہ سے سیراب ہوئے۔ مولانا نے فرمایا کہ صحابہ کرامؓ کا گروہ ایک مقدس اور پاکیزہ گروہ ہے، جس طرح حضور اکرمؐ کی ذات گرامی تمام کمالات و صفات کی جامع اور انسانیت کی معراج ہے۔ اسی طرح آپؐ کے صحابہ کرامؓ سیرت و کردار کے اعتبار سے اتنے اعلیٰ وارفع مرتبے کے حامل ہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد ان سے بہتر کسی انسان پر آفتاب طلوع نہیں ہوا، یہ وہ نفوس قدسی تھے جنہوں نے افضل الشبرﷺ کے جمال آراء سے اپنی بصیرت و بصارت کو روشن کیا اور نبی کریمؐ پر صدق دل سے ایمان لائے۔ مولانا فرمایا کہ شرف ایمان کے حصول کے ان مقدس ہستیوں نے رسول اللہؐ سے تربیتی حاصل کی اور پھر زہد و تقویٰ، امانت و دیانت، صدق و عدالت، صبر و استقامت، ایثار و مروت، خدمت خلق کے ایسے عجیب و غریب نمونے صفحۂ تاریخ پر ثبت کئے کہ انکی تابانی سے آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ یہ سب کے سب جنتی ہیں، سب مخلص مومن ہیں، تمام معاملات بالخصوص دین و شریعت کو امت تک پہنچانے میں قابل اعتبار و قابل اعتماد ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی اور وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ سے راضی ہیں، دنیا میں اللہ نے ان کے جنتی ہونے کی بشارت قرآن کریم میں ذکر فرما دی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس دین کو حضورختمی مرتبت ؐپر مکمل فرمایا اس کی تاریخ اصحابِ رسولؐ سے شروع ہوتی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ صحابہ کرامؓ کا طبقہ وہ عظیم طبقہ ہے جو دین کی نشر و اشاعت اور دعوت تبلیغ میں ہر اول دستہ کی مانند ہے، صحابہ کرامؓ نے آپؐ کی تعلیمات کو دنیا کی ہر چیز حتیٰ کہ اپنی آل اولاد اور اپنی جان و مال سے زیادہ عزیز رکھتے تھے، آپؐ کے پیغام کو اپنی جانیں قربان کرکے دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلانے والے صحابہ کرامؓ ہی ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ انہوں نے بڑی قربانیوں اور جدوجہد سے دین حاصل کرکے ہم لوگوں تک نہ صرف پہنچایا بلکہ اسکا حق بھی ادا کردیا اور یہی وہ مقدس جماعت ہے جنہوں نے دین اسلام کی بقا اور اس کی اشاعت کیلئے سب کچھ قربان کردیا اور ایسی قربانی پیش کی جسکی نظیر قیامت تک نہی مل سکتی۔ مولانا نے فرمایا کہ صحابہ کرامؓ ایک ایسی مقدس جماعت ہے جو رسول اللہ اور عام اُمت کے درمیان اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ایک واسطہ ہے۔ اس واسطہ کے بغیر نہ اُمت کو نہ قرآن کریم ہاتھ آسکتا ہے اور نہ دین و شریعت ہاتھ آسکتا ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا کہ جو شخص اقتداء کرنا چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ اصحابِ رسول اللہؐ کی اقتداء کرے، کیونکہ یہ حضرات ساری اُمت سے زیادہ اپنے قلوب کے اعتبار سے پاک، اور علم کے اعتبار سے گہرے اور تکلف وبناوٹ سے دور اور عادات کے اعتبار سے معتدل، اور حالات کے اعتبار سے بہتر ہیں۔ یہ وہ قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کی صحبت اور دین کی اقامت کے لیے پسند فرمایا ہے۔ لہٰذا ان کی قدر پہچانو اور اُن کے آثار کا اتباع کرو، کیونکہ یہی لوگ مستقیم طریق پر ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ اہل سنت والجماعت کا اس پر اجماع ہے کہ ہر شخص پر واجب ہے کہ وہ تمام صحابہؓ  کو پاک صاف سمجھے، ان کے لیے عدالت ثابت کرے، ان پر اعتراضات کرنے سے بچے، اور ان کی مدح وتوصیف کرے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابِ عزیز کی متعدد آیات میں ان کی مدح وثنا کی ہے۔ اس لئے ان کی عدالت پر یقین اور پاکیزگی کا اعتقاد رکھنا اور اس بات پر ایمان رکھنا ضروری ہوتا کہ وہ نبیؐ کے بعد ساری اُمت کے افضل ترین افراد ہیں، اس لیے ان کے تمام حالات اسی کے مقتضی تھے، انہوں نے ہجرت کی، جہاد کیا، دین کی نصرت میں اپنی جان ومال کو قربان کیا، اپنے باپ بیٹوں کی قربانی پیش کی، اور دین کے معاملے میں باہمی خیرخواہی اور ایمان ویقین کا اعلیٰ مرتبہ حاصل کیا۔ لہٰذا صحابہ کرامؓ سے محبت، انکا ادب و احترام کرنا اور ان پر کسی بھی طرح کا طعن و تشنیع کرنے سے بچنا ہر ایک مسلمان کیلئے ضروری ہے۔اور انکی نقش قدم پر چلنے پر ہی دنوں جہاں میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ضرورت اس امر کی ہے ہم صحابہؓ کی سیرت کا مطالعہ کریں، نئی نسل کو انکی حیات طیبہ سے واقف کرائیں اور ان کی سیرت پر عمل پیرا ہوں ان کی تعلیمات اور ان کے پیغام کو عام کرنے کی کوشش کریں، اس سے دونوں جہاں میں کامیابی و سرخروئی سے ہمکنار ہوں گے اور لوگ اسلام کے قریب ہوں گے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا مفتی سبیل احمد قاسمی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔

Tuesday, 9 August 2022

حضرات صحابہ کرامؓ ”معیار حق“ ہیں، جو اسلام کے عالمگیر اور آفاقی پیغام کے داعی اور علمبردار تھے!

حضرات صحابہ کرامؓ ”معیار حق“ ہیں، جو اسلام کے عالمگیر اور آفاقی پیغام کے داعی اور علمبردار تھے! 



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان”عظمت صحابہؓ کانفرنس“سے مفتی شفیق احمد قاسمی کا خطاب! 


بنگلور، 09؍ اگست (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے ہفت روزہ عظیم الشان آن لائن ”عظمت صحابہؓ کانفرنس“ کی چوتھی نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ حضرت مولانا مفتی محمد شفیق احمد صاحب قاسمی مدظلہ نے فرمایا کہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت وعقیدت اہل سنت والجماعت کے نزدیک اصول ایمان میں سے ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے بعد انسانوں میں جس جماعت کو اللہ رب تعالیٰ کے یہاں سب سے زیادہ قرب حاصل ہے، وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ صحابہ کرام ؓ کی مقدس وبابرکت جماعت ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ حضرات صحابہ کرامؓ اس پوری کائنات میں وہ خوش قسمت جماعت ہیں، جن کی تعلیم و تربیت اورتصفیہ و تزکیہ کے لیے سرورِ کائنات محمد رسول اللہﷺ کو معلم، مربی اور استاذ مقرر کیا گیا، ان حضرات نے براہ ِراست صاحبِ وحی ؐسے دین کو سمجھا، دین پر عمل کیا اور اپنے بعد آنے والی نسل تک دین کو مِن و عَن پہنچایا۔ مولانا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہؓ کے ایمان کو معیار قرار دیا۔ مولانا نے فرمایا کہ صحابہؓ کے مستند و معیار حق ہونے پر اس سے بڑی کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ اللہ پاک نے انہیں دنیا ہی میں اپنی رضا کا پروانہ عطا فرمادیا اور جنت و مغفرت کی بشارت سنادی۔ انہوں نے فرمایا کہ حضراتِ صحابہؓ کے ایمان کو معیارِ حق قرار دیتے ہوئے نہ صرف لوگوں کو اس کا نمونہ پیش کرنے کی دعوت دی گئی، بلکہ ان حضرات کے بارے میں لب کشائی کرنے والوں پر نفاق و سفاہت کی دائمی مہر ثبت کردی گئی۔ چنانچہ حضرت صحابہ کرامؓ کی محبت عین رسول اللہؐ کی محبت اور ان سے بغض عین رسول اللہؐ سے بغض کے مانند ہے۔ لہٰذا ان پر زبانِ تشنیع دراز کرنے کا حق اُمت کے کسی فرد کو حاصل نہیں۔ مولانا نے حضرات صحابہ کرامؓ کے جذبہئ دعوت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ صحابہ کرامؓ اسلام کے عالمگیر اور آفاقی پیغام کے داعی اور علمبردار تھے اورعالمی اسلامی برادری کے اولین قائد تھے۔ دعوت ان کی زندگیوں کا مشن تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ قرآن مجید کی تعلیمات، رسول اللہؐ کے ارشادات اور اسوۂ رسولؐ کی رہنمائی کا نتیجہ تھا کہ صحابہ کرامؓ گہرا شعور رکھتے تھے کہ ایمان لانے کے بعد ان کی ذمہ داری اپنی ذات اور اہل وعیال تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ اسلام سے محروم بھٹکی ہوئی انسانیت تک اسلام کی دعوت پیش کرنا اور انہیں جہنم کی آگ سے بچانا ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ مولانا نے فرمایاکہ صحابہ کرامؓ نے تجارت، مختلف ہنر و صنعت، پیشوں اور ملازمتوں کو اختیار فرمایا تھا لیکن اپنی داعیانہ حیثیت اور فریضۂ دعوت کی ادائیگی سے وہ کبھی غافل نہیں رہے۔ ان کے دماغوں میں ہمیشہ یہی دھن سوار رہتی تھی کہ خدا کے بندوں کو اللہ کی خالص اور کامل بندگی کی راہ پر کیسے لے آئیں۔ مولانا نے فرمایا کہ ان کی دعوتی جدوجہد میں جہاں انسانوں کو اللہ کی بندگی کے دائرے میں لانا اور جھوٹی وخودساختہ بندگیوں سے نجات دلانا شامل تھا وہیں اسلام کے نظام کو قائم کرنا بھی تھا۔ مولانا نے فرمایا کہ صحابہ کرامؓ کے اندر فریضۂ دعوت کی ادائیگی اور بندوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کا بے پناہ جذبہ پایا جاتا تھا۔ انھوں نے دعوت اور جہاد کے راستے پر چل کر بہت بڑی بڑی قربانیاں دیں جن کا ہم آج تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ان کی بے مثال قربانیوں اور عظیم دعوتی کوششوں کے نتیجے میں توحید اور دین اسلام کے نور سے کفر، شرک اور الحاد کی گھٹا ٹوپ ظلمتیں مٹ گئیں۔ مولانا نے فرمایا کہ انہیں نفوس قدسیہ کی محنت اور قربانیاں ہیں کہ آج ہم تک یہ دین پہنچا ہے- مفتی صاحب نے فرمایا کہ تمام صحابہ کرامؓ کا اسوہ امت مسلمہ کیلئے مشعل راہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اور دین اسلام قیامت تک باقی رہنی ہے۔ لہٰذا سیرت طیبہ ؐاور اسوہ صحابہ کرامؓ پر عمل کر کے ہی امت مسلمہ غلبہ حاصل کرسکتی ہے اور دونوں جہاں میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ حضرت مفتی محمد شفیق احمد قاسمی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا اور عظیم الشان ”عظمت صحابہؓ کانفرنس“ منعقد کرنے پر مبارکبادی پیش کی۔


#Press_Release #News #AzmateSahaba #Sahaba #MTIH #TIMS