Thursday, 17 November 2022

عقیدہ ختم نبوتؐ دین اسلام کا لازمی اور بنیادی تقاضا ہے!

 ”عقیدہ ختم نبوتؐ دین اسلام کا لازمی اور بنیادی تقاضا ہے!“



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مولانا ابو طالب رحمانی کا خطاب!


 بنگلور، 14؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی آٹھویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن خطیب بے باک حضرت مولانا ابو طالب رحمانی صاحب مدظلہ نے فرمایا دین اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کا سلسلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم فرما دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی طرح کا کوئی نبی، کوئی رسول نہ آیا ہے، نہ آ سکتا ہے اور نہ آئے گا، اس عقیدے سے انکار کرنے والا یا اس میں ذرا برابر شک اور تردّد کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ کیونکہ نبوت آپؐ پر ختم ہو گئی ہے اور آپؐ کی نبوت کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی، حتیٰ کہ جب قرب قیامت حضرت عیٰسی علیہ السلام نازل ہوں گے تو وہ بھی بحیثیت امتی نازل ہوں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی شریعت پر عمل پیرا ہونگے۔ مولانا نے فرمایا کہ عقیدۂ ختم نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے، اس پر ایمان لانا اسی طرح ضروری ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کریم ﷺ کی رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے، حضور ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا، کیونکہ یہ عقیدہ کئی آیات مبارکہ اور سینکڑوں احادیث شریفہ سے ثابت ہے۔ مولانا رحمانی نے فرمایا کہ امت کا سب سے پہلا اجماع بھی اسی پر منعقد ہوا، یہی وجہ ہے کہ ختم نبوت کا مسئلہ اسلامی تاریخ کے کسی دور میں مشکوک اور مشتبہ نہیں رہا اور نہ ہی کبھی اس پر بحث کی ضرورت سمجھی گئی بلکہ ہر دور میں متفقہ طور پر اس پر ایمان لانا ضروری سمجھا گیا۔ مولانا نے فرمایا کہ عقیدۂ ختم نبوت کی نزاکت وحساسیت کا اندازہ امامِ اعظم ابو حنیفہ ؒکے اس قولِ مبارک سے بھی ہوتا ہے، جس میں کسی کا خود دعویٰ نبوت کرنا تو بہت دور کی بات ہے، کسی دوسرے شخص کا نبی کریمﷺ کے بعد مدعی نبوت سے اپنے دعویٰ کے متعلق دلیل طلب کرنا بھی کفر ہے، چنانچہ حضرت امام اعظم ؒفرماتے ہیں کہ ”جو شخص حضورﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرے وہ تو کافر ہے ہی اور جو اس سے دلیل طلب کرے وہ بھی کافر ہے کیونکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے“۔ مولانا رحمانی نے فرمایا کہ دور حاضر میں خاص طور ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت سے امت مسلمہ کو واقف کروانا بہت ضروری ہے کیونکہ قادیانیت جیسے فتنے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کررہی ہیں، وہ لوگ مسلمانوں کے درمیان بڑے زور سے کہتے ہیں کہ وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی اور رسول مانتے ہیں جسے سن کر عام مسلمان انکے جال میں پھنس جاتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہیکہ یہ لوگ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی تو مانتے ہیں لیکن آخری نبی نہیں مانتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ ملعون مرزا غلام احمد قادیانی کو آخری نبی مانتے ہیں۔ جس کی بنیاد پر قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مولانا رحمانی نے فرمایا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کی اساس اور اہم ترین بنیادی عقیدہ ہے۔ دین اسلام کی پوری عمارت اس عقیدے پر کھڑی ہے۔ کیونکہ اس میں شکوک و شبہات کا ذرا سا بھی رخنہ پیدا ہو جائے تو مسلمان نہ صرف اپنی متاع ایمان کھو بیٹھتا ہے بلکہ وہ دائرہ اسلام بھی خارج ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ضرورت ہیکہ ہم اپنی اور اپنی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کریں، عقیدۂ ختم نبوتؐ کی اہمیت و فضیلت کو انکی رگ رگ میں بسا دیں اور فتنہ مدعیان نبوت و منکرین ختم نبوت سے امت مسلمہ کو آگاہ کریں تاکہ دوسرے لوگ ان فتنوں سے واقف رہیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کرسکیں۔ مولانا نے فرمایا تحفظ ختم نبوت ایک بڑا حساس مسئلہ ہے، اس موضوع پر کام کرنا اور اس کے دفاع کرنا اور ختم نبوت کی حفاظت کرنا یہ ایمانی فریضہ ہے کیونکہ یہی عقیدہ امت مسلمہ کو وحدت کی ایک لڑی میں پروتا ہے اور اسی منصب ختم نبوت کی برکت سے قرآن مجید آخری آسمانی کتاب، امت محمدیہؐ آخری امت اور دین اسلام آخری دین ہے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا ابو طالب رحمانی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں  سے نوازا۔


#Press_Release #News #khatmenabuwat #ProphetMuhammad #FinalityOfProphethood #LastMessenger #MTIH #TIMS

Wednesday, 16 November 2022

”فتنوں کے اس دور میں ایمان بالخصوص عقیدۂ ختم نبوتؐ کی حفاظت ہر ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے!“

 ”فتنوں کے اس دور میں ایمان بالخصوص عقیدۂ ختم نبوتؐ کی حفاظت ہر ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے!“



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مولانا احمد ومیض ندوی کا خطاب!


 بنگلور، 10؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی چھٹی نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم حیدرآباد کے استاذ حدیث پیر طریقت حضرت مولانا سید احمد ومیض صاحب ندوی نقشبندی مدظلہ نے فرمایا کہ یہ دور فتنوں کا دور ہے، ہر سمت سے مختلف فتنوں کی یلغار ہے، انٹرنیٹ و سوشل میڈیا کے ذریعے الحاد اور لادینیت کی شورشیں عروج پر ہیں۔ انہیں حالات کی پیشگوئی خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی کہ ”فتنے ایسے گریں گے جیسے بارش کے قطرے گرتے ہیں“۔ اور فرمایا تھا کہ ”فتنے رات کے اندھیرے کی طرح پھیل جائیں گے اور اس دور میں انسان صبح کافر اور شام کو مومن ہوگا یا صبح مومن اور شام کو کافر ہوگا“۔ لہٰذااگر ہم آج کے حالات پر طائرانہ نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہیکہ دور فِتن کی علامات جو احادیث میں بیان کی گئی ہیں وہ اب ظاہر ہوتی جارہی ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ آج ہر گھر تک بآسانی رسائی حاصل کرسکتے ہیں، اور یہ ایک ایسا مؤثر ذریعہ ہے جس سے پوری قوم کے افکار ونظریات متزلزل کئے جاسکتے ہیں، ان میں ایک بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ افسوس کہ اس جدید ٹیکنالوجی پر باطل طاقتوں کا قبضہ ہے اور وہ اسکے ذریعے سے فتنوں کو بہت جلد پوری دنیا میں پھیلانے میں کامیاب ہوتے جارہے ہیں۔مولانا نے فرمایا کہ بعض فتنے علاقائی ہوتے ہیں اور بعض عالمی ہوتے ہیں، انہیں میں سے ایک فتنۂ قادیانیت کا فتنہ ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اسلام کو یہودیت اور عیسائیت سے اتنا نقصان نہیں ہے جتنا کہ قادیانیت سے نقصان ہے کیونکہ یہ لوگ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح مسلمانوں کو اسلام کا نام لیکر انکے عقائد پر حملہ کرکے انہیں گمراہ کرتے ہیں۔ اورہمارے لوگ ان منافقین کا ظاہر دیکھ کر ان پر بھروسہ کرلیتے ہیں۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ قادیانی خاص طور دیہاتوں اور گاؤں کے غریب طبقے کے لوگوں کو مالی اور دیگر ذرائع سے امداد کرکے اپنی طرف مائل کرتے ہیں اور بعد میں انکے درمیان اپنے عقائد کو نظریات کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کرنا امت کے ہر ایک فرد کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”خاتم النبیین“ بنا کر بھیجا اور آپؐ پر نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم کردیا گیا، آپؐ کو وہ کتاب اور شریعت عطاء کی گئی جس کے بعد قیامت تک کسی نئی کتاب اور نئی شریعت کی ضرورت نہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت کا اعلان درحقیقت اس اُمت پر ایک احسان عظیم ہے، کیونکہ اگر آپؐ پر نبوت ختم نہیں ہوتی تو یہ امت بھی پچھلی امتوں کی طرح آزمائش میں مبتلا ہوجاتی۔ مولانا نے فرمایا کہ پچھلے زمانوں میں جب نئے نبی دنیا میں تشریف لاتے تو پچھلے نبی پر ایمان لانے والے نئے نبی پر ایمان لانے سے منع کردیا کرتے تھے، جس کے بعد ان پر عذاب مسلط کردیا جاتا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہؐ پر کرم فرمایا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”خاتم النبیین“ بنا دیا اور آپ پر نبوت کا سلسلہ ختم فرما دیا، اس طرح سے امت ایک بڑی آزمائش سے محفوظ ہوگئی۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ ختم نبوت اعزاز ہے، ختم نبوت اللہ کا انعام ہے، ختم نبوت کا ثبوت قرآن و حدیث سے ملتا ہے، لہٰذا خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی کے ساتھ آخری نبی ماننے والا ہی مسلمان ہے اور اسی پر امت کا اجماع ہے ہیکہ آپﷺ آخری نبی ہیں اور آپؐ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ مولانا نقشبندی نے فرمایا کہ بحیثیت مسلمان ہر ایک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہر طریقہ سے ہم مدعیان نبوت و منکرین ختم نبوت کے فتنوں بالخصوص اس فتنہ قادیانیت کا تعاقب کریں، اور اس فتنہ کے تعاقب، سد باب اور سرکوبی کے لئے ہر ممکنہ کوشش کریں۔ انہوں نے فرمایا کہ اس کیلئے قصبات، گاؤں، دیہات کا دورہ کریں اور وہاں مساجد و مدارس اسلامیہ کا قیام کریں، نیز شہری مسلمانوں کی ذمہ داری ہیکہ وہ پسماندہ علاقوں میں مالی امداد اور ضروری سامان مہیا کرائیں، نیز معاشی اعتبار سے ان کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں تاکہ قادیانی قرض اور مالی وغیرہ کی امداد کے بہانے ان بھولے بھالے مسلمانوں کو اپنے جال میں نہ پھنسالے۔ اسی کے ساتھ ضرورت ہیکہ ہمارے نوجوان اور طلبہ کرام بالخصوص جدید تعلیم حاصل کررہے طلبہ کرام کیلئے ترتیبی کیمپ لگائیں کیونکہ امت مسلمہ کے بیشتر نوجوان ایمانیات بالخصوص عقیدہ ختم نبوت کی بنیادی اور اہم باتوں سے ناواقف ہیں۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ اہل علم پر واجب ہے کہ وہ قادیانیت کا تعاقب کرکے اس کی بیخ کَنی کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھیں اور عوام الناس کو ان کی ارتدادی سرگرمیوں سے بچانے کی پوری کوشش کریں۔ انہوں نے فرمایا کہ مرکز تحفظ اسلام ہند کے ذمہ داران قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے اس فتنوں کے دور میں سب سے سنگین مدعیان نبوت و منکرین ختم نبوت کے فتنوں کے رد اور عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کیلئے یہ ”پندرہ روزہ عظیم الشان تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ منعقد کیا۔اللہ تعالیٰ اسے شرف قبولیت عطا فرمائے۔قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر دارالعلوم حیدرآباد کے استاذ حدیث شیخ طریقت حضرت مولانا سید احمد ومیض صاحب ندوی نقشبندی مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں  سے نوازا۔


#Press_Release #News #khatmenabuwat #ProphetMuhammad #FinalityOfProphethood #LastMessenger #MTIH #TIMS

Tuesday, 15 November 2022

رام نگر سیلاب متاثرین کیلئے جمعیۃ علماء کرناٹک کی مثالی خدمات!

 رام نگر سیلاب متاثرین کیلئے جمعیۃ علماء کرناٹک کی مثالی خدمات! 



متاثرین کی راحت رسانی اور باز آباد کاری کیلئے جمعیۃ علماء کرناٹک کی مختلف مراحل میں بڑی امداد!


بنگلور، 15؍ نومبر (پریس ریلیز): گزشتہ دنوں ریاست کرناٹک کے ضلع رام نگر کے سینکڑوں افراد موسلا دھار بارش اور سیلاب کی زد میں آگئے، جس کی وجہ سے وہاں نظام زندگی تتر بتر ہوگئی تھی، روز مرہ کماکر زندگی بسر کرنے والے چھوٹے موٹے کام و کاج کرنے والے اور مزدور بہت زیادہ متاثر ہوئے، جنکا سب کچھ سیلاب میں بہہ گیا۔ جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر امیر الہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب مدظلہ کے حکم پر جمعیۃ علماء کرناٹک کی جانب سے ضلع رام نگر میں موسلا دھار بارش اور سیلاب متاثرین کی راحت رسانی اور باز آباد کاری کا عمل بلا تفریق مذہب بڑے پیمانے پر مسلسل جاری تھا۔ اسی ضمن میں گزشتہ روز جمعیۃ علماء کرناٹک کے ریاستی وفد نے چوتھے مرحلے میں مزید 12؍ متاثرہ افراد کو نئے گھر میں منتقل ہونے کیلئے 25-25؍ ہزار روپیہ کی رقم کی چیک دی۔ اور حسب وعدہ جن متاثرہ افراد کو پہلے مرحلے میں اڈوانس کیلئے رقم دی گئی تھی انہیں جمعیۃ علماء کرناٹک کی جانب سے ایک ماہ کے کرایہ کی رقم بھی ادا کی گئی۔ جس پر سیلاب متاثرین نے جمعیۃ علماء کرناٹک کا شکریہ ادا کیا اور خوب دعاؤں سے نوازا۔ واضح رہے کہ ریاستی وفد کی ابتدائی سروے رپورٹ کے فوری بعد جمعیۃ علماء ہند کے قومی جنرل سکریٹری حضرت مولانا مفتی سید معصوم ثاقب صاحب قاسمی مدظلہ کی زیر نگرانی پہلے مرحلے میں جمعیۃ علماء کرناٹک نے سینکڑوں متاثرین کے درمیان ضروریات زندگی کا سامان تقسیم کیا، اور اسی کے ساتھ 23؍ متاثرہ افراد جنکا گھر اور پورا ساز و سامان سیلاب کی زد میں آگیا تھا، انہیں 25؍ ہزار روپیہ کی رقم کی چیک دی گئی تھی تاکہ وہ کسی نئے گھر میں منتقل ہوسکیں۔ پھر دوسرے مرحلے میں جمعیۃ علماء کرناٹک نے اس موسلا دھار بارش اور سیلاب سے متاثرہ ایسے 350؍ افراد کے درمیان گھریلو ساز و سامان تقسیم کیا، جنکا اس قیامت خیز سیلاب میں سب کچھ تباہ ہوگیا تھا۔ تیسرے مرحلے میں 10؍ تباہ کن مکانات کی مرمت کا کام مکمل کراکر ان کے مالکان کے حوالے کیا گیا نیز مزید 100؍ افراد کے درمیان گھریلو ساز و سامان تقسیم کیا گیا۔ اب چوتھے مرحلے میں پھر جمعیۃ علماء کرناٹک نے ان متاثرین کیلئے بڑا تعاون پیش کیا ہے۔ قابل ذکر جمعیۃ علماء کرناٹک روز اول سے رام نگر سیلاب متاثرین کی راحت رسانی اور باز آباد کاری کیلئے مسلسل سرگرم رہی، سروے سے لیکر گھریلو سامان کی تقسیم اور تعمیرات نو سے لیکر نئے گھروں کے انتظامات تک جمعیۃ علماء کرناٹک کے کارکنان نے دن رات محنتیں کیں، مشقتیں اٹھائیں، اور اپنی ترجیحات میں سیلاب متاثرین کی آباد کاری اور بحالی کے کاموں کو اولیت دی۔ کیونکہ خدمت خلق نہ صرف قرب خداوندی کا ذریعہ ہے بلکہ ایمان کا ایک اہم ترین شعبہ ہے اور مفلوک الحال اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنا ہی مومن کی علامت ہے۔یہی وجہ ہیکہ خدمت خلق جمعیۃ علماء ہند کے اہم مقاصد میں سے ہے۔ مخلوق خدا کی خدمت کرنا، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہو، جمعیۃ علماء کا فریضہ ہے۔ جس پر جمعیۃ علماء کے کارکنان سختی سے عمل پیرا ہیں۔واضح رہے کہ سیلاب متاثرہ علاقہ رام نگر میں امداد کی تقسیم کے موقع پر جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر مولانا عبد الرحیم رشیدی، جنرل سکریٹری محب اللہ خان امین، جمعیۃ علماء بنگلور کے صدر مولانا محمد صلاح الدین قاسمی، جمعیۃ علماء کرناٹک کے اراکین حسین احمد خان عرف سردار، مولانا عبد الرزاق اور محمد فرقان وغیرہ خصوصی طورپرشریک تھے۔



#Press_Release #News #RamnagarFlood #FloodRelief #JamiatUlama #Jamiat #ArshadMadni #Flood

Friday, 11 November 2022

Hazrat Tipu Sultan Shaheed RH Ke Mukhalifeen Ko Mooh Tood Jawab!

 🎯حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کے مخالفین کو منھ توڑ جواب!


🎙️قائد الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی صاحب رحمہ اللہ



https://youtu.be/Z9F6HeHJM94


🎯Hazrat Tipu Sultan Shaheed RH Ke Mukhalifeen Ko Mooh Tood Jawab!


🎙️Qaidul Ahrar Hazrat Maulana Habib Ur Rahman Sani Ludhianvi Saheb RH


#TipuSultan #TipuSultanIndiasHero #SultanTipu #Ahrar #Ludhianvi #MTIH #TIMS

Thursday, 10 November 2022

”مہدویت و مسیحیت کا جھوٹا دعویدار شکیل بن حنیف اور اسکے متبعین شکیلی اپنے باطل عقائد کی بنا پر دائرہ اسلام سے خارج ہیں“

 ”مہدویت و مسیحیت کا جھوٹا دعویدار شکیل بن حنیف اور اسکے متبعین شکیلی اپنے باطل عقائد کی بنا پر دائرہ اسلام سے خارج ہیں“



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مفتی اسعد قاسم سنبھلی کا خطاب!


بنگلور، 10؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی پانچوں نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ شاہ ولی اللہؒ مرادآباد کے مہتمم فاتح شکیلیت حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ عقیدۂ ختم نبوت اسلام کا وہ بنیادی عقیدہ ہے جس پر حضرات صحابہ کرامؓ کا سب سے پہلا اجماع ہوا۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب کسی بدبخت نے نبوت کا دعویٰ کیا تو اصحاب رسولؐ نے انہیں مرتد اور خارج از اسلام قرار دیکر اسکے خلاف جنگ کئے۔ مولانا نے فرمایا کہ حضورﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں ہی متعدد مرتبہ اس بات کی وضاحت فرمادی تھی کہ ”میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد قیامت تک کو نبی نہیں آئے گا“، اسی کے ساتھ آپؐ نے نبوت کے جھوٹے دعویداروں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ ”میری امت میں تیس (30) اشخاص کذاب ہوں گے، ان میں سے ہر ایک کذاب کو گمان ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا“۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ آپؐ کی حیات طیبہ میں ہی مسلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا تھا جس کے خلاف صحابہ کرام ؓنے جنگ کیا اور اسکا قلع قمع کیا، اسکے بعد وقتاً فوقتاً دنیا کے مختلف گوشوں میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے جو نبوت کا دعویٰ کرتے رہے، لیکن ختم نبوت کا موضوع اتنا واضح ہیکہ کسی کو براہ راست نبوت کا دعویٰ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی بلکہ جس کسی نے بھی دعویٰ کیا اسنے عیسٰی اور مہدی کا سہارا لیکر کیا یا تاویل کے ساتھ دعویٰ کیا۔ مولانا سنبھلی نے فرمایا کہ نبی کریمؐ نے قرب قیامت حضرت عیسٰی اور مہدی علیہ السلام کی آمد کی بشارت دی ہے۔ لہٰذا اسلام کی تاریخ اور مدعی نبوت کے فتنوں پر اگر روشنی ڈالیں تو معلوم ہوتا ہیکہ جس کسی نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا ہے، اس نے پہلے مہدویت اور مسیحیت کا سہارا لیکر کیا ہے۔ ماضی قریب کا سب سے بڑا جھوٹا مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کا بھی یہی حال ہیکہ اس نے بھی پہلے مہدی، مسیح، ابراھیم، نوح اور بعد میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ اس وقت ایسے ہی جھوٹے مدعیان نبوت اور منکر ختم نبوت کے فتنوں نے امت کو گھیرا ہوا ہے، ہر آئے دن طرح طرح کے لوگ اٹھ کر کبھی مہدی، کبھی مسیح تو کبھی نبوت کا دعویٰ کرکے امت کے ایمان کو لوٹ رہے ہیں اور انہیں گمراہ کررہے ہیں۔ مفتی اسعد قاسم سنبھلی نے فرمایا کہ انہیں فتنوں میں سے ایک فتنہ شکیل بن حنیف کا ہے، جو اس وقت ملک میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ مفتی صاحب نے فتنہ شکیلیت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ شکیل بن حنیف کی پیدائش دربھنگہ بہار میں ہوئی، وہ ملازمت کی تلاش میں دہلی آیا اور وہیں پر تبلیغی جماعت سے وابستہ ہوا، لیکن ذہنی بگاڑ اور عہدہ کی ہوس کی وجہ سے اس نے بعض بھولے بھالے جماعت کے ساتھیوں کو اپنا ہمنوا بنانا شروع کیا اور پہلے مہدی پھر مہدی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس نے دہلی کے مختلف محلوں میں اپنی مہدویت ومسیحیت کی تبلیغ کی، لیکن ہر جگہ سے اسے کچھ دنوں کے بعد ہٹنا پڑا۔ مولانا نے فرمایا کہ شکیل بن حنیف کا فتنہ امت کا بڑا بدترین فتنہ ہے، اسکی وجہ ہیکہ یہ شخص انتہائی سازشی اور خطرناک شخص ہے، جو ایسے سادہ لوح جدید تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں جو دین سے بلکل دور ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ شکیلی اپنی پوری سرگرمی کے ساتھ خفیہ انداز میں تحریک چلاتے ہیں اور ہمارے علاقہ میں ہی ہمارے نوجوانوں پر محنت کرتے ہیں اور ہم کو اس بات کی خبر تک نہیں ہوتی، اور جب ایک بڑی تعداد گمراہ ہوجاتی ہے تو اس کے بعد یہ اسکی تشہیر کرتے ہیں۔مولانا نے فرمایا کہ ہماری ناواقفی یا بے خبری کی یہ صورت حال تشویش ناک ہے۔ مولانا سنبھلی نے تفصیل سے حضرت عیسٰی اور مہدی علیہ السلام کے متعلق احادیث میں وارد تفصیلات کو بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ مہدویت و مسیحیت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے شکیل بن حنیف پر سچے مہدی کی کوئی علامت منطبق نہیں ہوتی۔ اس کے تمام دعوے جھوٹے اور بے بنیاد ہیں اور وہ محض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نہ وہ سچے مہدی کی طرح خاندان نبوت سے تعلق رکھتا ہے، نہ وہ مدینہ سے ہے، نہ اس کے ہاتھ پر عراق کے ابدال نے بیعت کی ہے، نہ اس نے قسطنطنیہ فتح کیا ہے، اور نہ ہی وہ شکل وصورت میں حدیث میں وارد علامتوں کا حامل ہے۔ بہر حال شکیل بن حنیف اور اس کے متبعین راہ راست سے منحرف ہیں اور اسلامی مسلمہ عقائد کے منکر ہیں جن کے اقرار کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔ مفتی صاحب نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ مہدی اور مسیح سے متعلق جو احادیث صحیحہ متواترہ ہیں ان احادیث کو اپنے اوپر چسپاں کرنے والا شکیل بن حنیف اور اسکے حواری جو شکیل کو مہدی یا مسیح مانتے ہیں وہ سب دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ ضرورت اس بات کی ہیکہ امت مسلمہ کو یکجا ہوکر ان فتنوں کا تعاقب کرنا چاہئے، لوگوں کو قادیانی اور شکیلوں کے مکر و فریب سے اور عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت سے واقف کروانا چاہئے۔ انہوں نے فرمایا کہ اس سلسلے میں جلسے جلوس سے زیادہ زمینی سطح کی محنت درکار ہے، خاص طور پر عوام الناس کو زیادہ علمی بحث میں ڈالنے کی ضرورت نہیں بلکہ انکے سامنے صرف حضرت عیسٰی و مہدی علیہ السلام کا تعارف پیش کردیا جائے، ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت بیان کردیا جائے اور شکیل بن حنیف کی خباثت کو بیان کردیا جائے تو کافی ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ مرکز تحفظ اسلام ہند کے ذمہ داران قابل مبارکباد ہیکہ انہوں نے یہ پندرہ روزہ ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“  منعقد کیا، ختم نبوتؐ کی حفاظت کیلئے کوششیں کرنا کوئی معمولی خدمت نہیں ہے، کیونکہ عقیدہ ختم نبوتؐ کا تحفظ ہر مسلمان کی ذمہ داری، اس کے ایمان کا تقاضہ اور آخرت میں شفاعت رسول ﷺ کا بہترین ذریعہ ہے۔ قابل ذکر ہیکہ یہ پندرہ روزہ ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی پانچوں نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مرکز کے رکن شوریٰ حافظ محمد عمران کی نعتیہ کلام سے ہوا۔ اس موقع پرفاتح شکیلیت حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے حضرت والا اور تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب کی دعا سے کانفرنس کی یہ نشست اختتام پذیر ہوئی۔


#Press_Release #News #khatmenabuwat #ProphetMuhammad #FinalityOfProphethood #LastMessenger #Mehdi #ImamMedhi #Isa #FitnaShakeeliyat #ShakeelBinHaneef #MTIH #TIMS