Thursday, 17 November 2022

اسلام کے تین بنیادی عقائد!

 اسلام کے تین بنیادی عقائد!



✍️ بندہ محمد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


عقیدہ مضبوط بندھی ہوئی گرہ کو کہتے ہیں، دین کی وہ اصولی اور ضروری باتیں جن کا جاننا اور دل سے ان پر یقین رکھنا مسلمان کیلئے ضروری ہے۔اسلام میں عقیدہ کو اولیت حاصل ہے۔ صحیح عقیدے کے بعد ہی اعمال کی ابتداء ہوتی ہے۔ صحیح عقیدہ ہی وہ بنیاد ہے جس پر دین قائم ہوتا ہے، اور اس کی درستگی پر ہی اعمال کی صحت کا دارومدار ہے۔ حیات انسانی میں عقیدہ کی جو اہمیت ہے، اس کی مثال عمارت کی بنیاد کی ہے۔ اگر اسکی بنیاد صحیح اور مضبوط ہوگی تو عمارت بھی صحیح اور مضبوط ہوگی اور اگر بنیاد ہی کھوکھلی، کمزور اور غلط ہوگی تو عمارت بھی کمزور اور غلط ہوگی اور ایک نہ ایک دن اسکے بھیانک نتائج لاحق ہونگے۔ بس کسی کا عقیدہ درست ہو اور کثرت عبادت نہ بھی ہو تو ایک نہ ایک دن جنت ضرور ملے گی اور اگر عقیدہ ہی غلط اور باطل ہو تو اسکا ٹھکانہ ہمیشہ ہمیش کیلئے جہنم ہوگا۔ تو معلوم ہوا کہ عقیدہ ہر عمل کی قبولیت کی اولین شرط ہے، اگر عقیدہ درست ہوگا تو عمل قبول ہوگا اور اگر عقیدہ غلط ہوگا تو عمل قبول نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقیدہ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


اسلام کے تین بنیادی عقائد:

اللہ تبارک و تعالیٰ نے دین اسلام کا دارومدار عقائد پر رکھا ہے اور اسلام کے تین بنیادی عقائد ہیں۔ ان تینوں عقیدوں پر ایمان لانا ضروری ہی نہیں بلکہ لازمی ہے۔ اگر کوئی شخص ان تین بنیادی عقائد میں سے کسی دو پر ایمان لاکر کسی ایک پر ایمان نہیں لاتا یا اس پر شک و شبہ کرتا ہے تو ایسا شخص گمراہ اور دائرہ اسلام سے خارج ہے، کیونکہ مسلمان ہونے کیلئے ان تینوں عقیدوں پر بلا کسی شک و شبہ کے ایمان لانا ضروری ہے۔قرآن و حدیث میں اللہ تبارک تعالیٰ اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جن تین بنیادی عقیدوں کا کثرت کے ساتھ تذکرہ کیا ہے وہ یہ ہیں؛ پہلا عقیدۂ توحید، دوسرا عقیدۂ رسالت اور تیسرا عقیدۂ آخرت ہے۔ لہٰذا مسلمان ہونے کیلئے بنیادی طور پر ان تین عقائد پر ایمان لانا بہت ضروری ہے۔ بقیہ ان عقائد پر بھی ایمان لانا ضروری ہے جو ایمان مفصل میں بیان کی گئی ہیں۔


عقیدۂ توحید اور اسکی اہمیت:

اسلام کے بنیادی عقائد میں سب سے پہلا عقیدہ عقیدۂ توحید ہے۔ عقیدۂ توحید کا مطلب یہ ہیکہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی ذات و صفات اور جُملہ اوصاف و کمالات میں یکتا و بے مثال ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ وحدہ لاشریک ہے۔ ہر شئی کا مالک اور رب ہے۔ کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔ صرف وہی با اختیار ہے۔ ساری عبادتوں کے لائق وہی پاکیزہ ذات ہے۔ اس کے علاوہ تمام معبود باطل ہیں۔ وہ ہر کمال والی صفت سے متصف ہے اور تمام عیوب ونقائص سے پاک ہے۔ حتیٰ کہ اس کی نہ اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا ہوا ہے۔ عقیدۂ توحید اسلام کی اساس اور بنیاد ہے۔ عقیدۂ توحید تمام عقائد کی جڑ اور اصل الاصول ہے اور اعمالِ صالحہ دین کی فرع ہیں۔ ہر مسلمان کو اس بات سے بخوبی آگاہ ہونا چاہیے کہ مومن اور مشرک کے درمیان حد فاصل کلمۂ توحید ”لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللہ“ ہے۔ شریعت اسلامیہ اسی کلمۂ توحید کی تشریح اور تفسیر ہے۔ عقیدہ توحید کی اہمیت کا اندازہ فقط اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جتنے بھی انبیاء کو مبعوث کیا سب کے سب انبیاء حتیٰ کہ خاتم النبیین حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بنیادی مقصد اور بنیادی دعوت عقیدۂ توحید ہی تھا۔ قرآن مجید کے سورۃ اعراف میں ہیکہ تمام انبیاء کرام اسی دعوت توحید کو لے کر آئے اور اپنی قوم سے یوں مخاطب ہوئے کہ: ”یَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہُ“ کہ ”اے میری قوم! اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔“ (سورۃ الاعراف، 59)۔ ایک حدیث میں ہیکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی سب سے پہلے مشرکین مکہ کو یہی دعوت توحید دیتے ہوئے فرمایا کہ ”یَا أیُّہَا النَّاسُ قُوْلُوْا لاَ الٰہَ الاّ اللّٰہُ تُفْلِحُوْا“ کہ ”اے لوگو! لاالٰہ الا اللہ کہو کامیاب رہوگے۔“ (مسند احمد)۔ توحید کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے توحید یعنی اپنی عبادت کی خاطر اس پوری کائنات کو بنایا اور اسی توحید کی طرف بلانے کے لیے انبیاء ورسل مبعوث فرمائے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں اپنے بندوں سے سب سے پہلے اسی توحید کا اقرار لیا کہ: ”اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ“ کہ ”کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟“ تو بنی آدم نے جواب دیا: ”قَالُوْا بَلٰی،شَہِدْنَا“ کہ ”کیوں نہیں آپ ہمارے رب ہیں۔“ (سورۃ الاعراف، 172)۔ عقیدہ توحید کی تعلیم و تفہیم کے لیے حضرات انبیاء و خاتم النبیینﷺ، اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین و تبع تابعین، ائمہ عظام و سلف صالحین، بزرگانِ دین و دیوبندی اکابرین نے بے شمار قربانیاں دیں ہیں کیونکہ عقیدہ توحید صرف آخرت کی کامیابی اور کامرانیوں کی ہی ضمانت نہیں، بلکہ دنیا کی فلاح، سعادت و سیادت، غلبہ و حکمرانی اور استحکام معیشت کا علمبردار بھی ہے۔ امت مسلمہ کے عروج اور زوال کی یہی اساس ہے۔ لہٰذا عقیدۂ توحید پر ایمان دونوں جہاں کی کامیابی ہے اور اسکی حفاظت و دعوت امت مسلمہ پر فرض عین ہے!


عقیدۂ رسالت اور اسکی اہمیت:

عقیدۂ رسالت دین اسلام کا دوسرا بنیادی عقیدہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر دور میں اپنی مخلوق کی ہدایت اور رہنمائی کیلئے اپنے برگزیدہ بندوں نبیوں اور رسولوں کو ان کے درمیان بھیجا، جو اللہ تعالیٰ کا پیغام لیکر امت تک پہنچاتے تھے۔یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوکر امام الانبیاء، خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر ختم ہوا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات اقدس تک تمام انبیا و رسل کی نبوت اور رسالت کو برحق ماننے کو عقیدۂ رسالت کہتے ہیں۔ قرآن مجید کی متعدد آیات میں جہاں عقیدۂ توحید کا ذکر ہے وہیں عقیدۂ رسالت کا بھی واضح طور پر ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْ اَنْزَلْنَا“ کہ ”پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر وہ جو اتارا ہم نے۔“ (سورۃتغابن، 8)۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ رسالت کی حکمت وجود باری تعالیٰ کی شہادت اور سفر حیات میں اس کے احکامات کی اطاعت ہے۔ رسول کی اطاعت ایک مستند ذریعہ ہے جس سے ہم کو اللہ کے احکام و فرامین پہنچتے ہیں۔ اللہ کے نبی پر ایمان اور اسکی اطاعت ہم پر فرض ہے اور اسکی شہادت کے بغیر ایمان نا مکمل ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہیکہ ”قُلْ یَآ اَیُّہَا النَّاسُ کہہ دو اے لوگو! اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَاِ  میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں، الَّذِیْ لَہ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ جس کی حکومت آسمانوں اور زمین میں ہے،  لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ  اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے، فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول اُمّی نبی پر الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَکَلِمَاتِہٖ وَاتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ جو کہ اللہ پر اور اس کے سب کلاموں پر یقین رکھتا ہے اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ۔“ (سورۃ الاعراف، 158)۔ لہٰذا ہمیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ عقیدۂ توحید اور عقیدۂ رسالت ایمان کا اہم حصہ ہیں، جسکی شہادت و اطاعت پر ہی ہماری نجات کا دارومدار ہے۔ بعض گمراہ لوگ تمام انبیاء و رسل پر تو ایمان لاتے ہیں لیکن خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں لہٰذا یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہیکہ جب تک کوئی شخص تمام انبیاء و رسل پر ایمان نہ لائے اور ساتھ میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو خاتم الانبیاء نہ مانے وہ صاحب ایمان نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا دروازہ ہمیشہ ہمیش کیلئے بند کردیا ہے۔ ترمذی شریف کی روایت ہیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ ”اِنَّ الرِّسَالَۃَ وَالنُّبُوَّۃَ قَدْ انْقَطعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ وَلَا نَبِیَ“ کہ ”اب نبوت اور رسالت کا انقطاع عمل میں آچکا ہے، لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔“ لہٰذا ایک مسلمان کو تمام انبیاء و رسل پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا اقرار کرنا لازمی ہے، ورنہ اس کے بغیر آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔


عقیدۂ آخرت اور اسکی اہمیت:

عقیدۂ آخرت، عقیدۂ توحید و رسالت کے بعد اسلام کا تیسرا بنیادی اور اہم عقیدہ ہے۔ آخرت سے مراد یہ ہے کہ یہ دنیا ایک دن فنا ہوجائے گی اور مرنے کے بعد ایک دن ہرجاندار کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اور ان کے اعمال کے مطابق ان کا فیصلہ کیا جائے گا، نیک لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جنت میں اور گناہگاروں کو اپنے عدل سے جہنم میں داخل فرمائے گا، اس بات پر کسی شک و شبہ کے بغیر یقین رکھنے کو عقیدۂ آخرت کہتے ہیں۔ جس طرح دیگر عقائد کے منکرین ہوتے ہیں اسی طرح اس دنیائے فانی میں عقیدۂ آخرت کے منکرین بھی پائے جاتے ہیں، جبکہ انکی دلیلیں بے بنیاد اور سرار غلط ہیں۔ قرآن مجید کی بے شمار آیات اور آپﷺ سے بے شمار احادیث عقیدہ آخرت کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہیکہ ”قُلِ اللّٰہُ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یَجْمَعُکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لَا رَیْبَ فِیْہِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ“ کہ ”کہہ دو اللہ ہی تمہیں زندہ کرتا ہے پھر تمہیں مارتا ہے پھر وہی تم سب کو قیامت میں جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے۔“ (سورۃ الجاثیہ،26)۔ اس آیت مبارکہ سے واضح ہوگیا کہ عقیدہ آخرت صحیح اور حق ہے، اسی لیے آخرت پر یقین کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔ عقیدۂ آخرت انسان کو اس تصور کے ساتھ زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے کہ کل قیامت کے دن ہمیں اللہ کے حضور تن تنہا حاضر ہونا ہوگا اور اپنے اعمال کا حساب و کتاب دینا ہوگا، وہاں کوئی رشتہ داری یا آل اولاد کام آنے والی نہیں، بس اپنے اعمال صالحہ کام آئیں گے۔ عقیدۂ آخرت کی وجہ سے جواب دہی کا احساس انسان کو نیکی و تقویٰ کی راہ پر گامزن کرتا ہے، اس کے افکار و نظریات کو ایمان کے رنگ میں رنگ دیتا ہے، اس کا ایمان اسے اخلاق حسنہ اور اعمال صالحہ کی بلندیوں پر پہونچا دیتا ہے۔ الغرض آخرت پر ایمان لانا نہ صرف ضروری ہے بلکہ لازم ہے، کیونکہ اسکے بغیر انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔


بنیادی عقائد پر ایمان ضروری ہے:

دین اسلام کے ان تین بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان لانا نہ صرف ضروری ہے بلکہ لازمی ہے، اسکے بغیر اسلام کا کوئی تصور نہیں اور آدمی اس پر ایمان لائے بغیر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ان تین بنیادی عقائد کے ساتھ ساتھ ہمیں ان عقائد پر بھی ایمان لانا ضروری ہے جو ایمان مفصل میں درج ہیں۔ایمان مفصل میں سات اجزاء بیان کی گئی ہیں ”اٰمَنْتُ بِاِ وَمَلَاءِکَتِہ وَ کُتُبِہ وَ رُسُلِہ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَالْقَدْرِ خَیْرِہ وَ شَرِّہ مِنَ اِ تَعَالٰی وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ“ کہ ”ایمان لایا اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور قیامت کے دن پر اور اس پر کہ اچھی بری تقدیر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور موت کے بعد اٹھائے جانے پر!“۔ (صحیح مسلم)۔


خلاصۂ کلام:

خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی عقیدے کی تعلیم وتفہیم اور اس کی طرف دعوت دینا ہر دور کا اہم فریضہ ہے۔ کیونکہ اعمال کی قبولیت عقیدے کی صحت پر موقوف ہے۔ اور دنیا وآخرت کی خوش نصیبی اسے مضبوطی سے تھامنے پر منحصر ہے اور اس عقیدے کے جمال وکمال میں نقص یا خلل ڈالنے والے تمام قسم کے امور سے بچنے پر موقوف ہے۔ لیکن افسوس کہ عقائد کی جتنی اہمیت ہے اتنے ہی ہم عقائد کے معاملے میں غافل اور اسکی محنت سے دور ہیں۔ یہی وجہ ہیکہ آج جگہ جگہ فتنوں کی کثرت ہورہی ہے اور نئے نئے ارتدادی فتنے جنم لے رہے ہیں۔لہٰذا ہمیں عقائد اسلام پر اس طرح کی پختگی حاصل کرنی چاہیے کہ اس کے خلاف سوچنے یا عمل کرنے کی ہمارے اندر ہمت نہ ہو، اس کے خلاف سننا یا دیکھنا ہم سے برداشت نہ ہو، ہم اپنے عقائد پر اس طرح مضبوط ہوجائیں کہ پوری دنیا بھی اگر ہمارے پیچھے لگ جائے تب بھی ہم اپنے عقائد پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہیں۔ کیونکہ عقائد اصل ہیں اور اعمال فرع ہیں اور صحیح عقائد ہی مدار نجات ہیں۔ لہٰذا ہمیں اپنے اور دوسروں کے عقیدوں کو درست کرنے کی فکر کرنی چاہیے تاکہ ہمیں دونوں جہاں کی خوشیاں اور کامیابیاں میسر ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے دین و ایمان اور عقائد کی حفاظت فرمائے اور صحیح عقیدہ اپنانے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین یا رب العالمین


فقط و السلام

بندہ محمد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

٢١؍ ربیع الثانی ١٤٤٤ھ

17؍ نومبر 2022ء، بروز جمعرات


+91 8495087865

mdfurqan7865@gmail.com



#PaighameFurqan 

#پیغام_فرقان 

#Mazmoon #Article #AqaideIslam #AqidahIslam #IslamicBeleifs

عقیدہ ختم نبوتؐ دین اسلام کا لازمی اور بنیادی تقاضا ہے!

 ”عقیدہ ختم نبوتؐ دین اسلام کا لازمی اور بنیادی تقاضا ہے!“



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مولانا ابو طالب رحمانی کا خطاب!


 بنگلور، 14؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی آٹھویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن خطیب بے باک حضرت مولانا ابو طالب رحمانی صاحب مدظلہ نے فرمایا دین اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کا سلسلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم فرما دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی طرح کا کوئی نبی، کوئی رسول نہ آیا ہے، نہ آ سکتا ہے اور نہ آئے گا، اس عقیدے سے انکار کرنے والا یا اس میں ذرا برابر شک اور تردّد کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ کیونکہ نبوت آپؐ پر ختم ہو گئی ہے اور آپؐ کی نبوت کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی، حتیٰ کہ جب قرب قیامت حضرت عیٰسی علیہ السلام نازل ہوں گے تو وہ بھی بحیثیت امتی نازل ہوں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی شریعت پر عمل پیرا ہونگے۔ مولانا نے فرمایا کہ عقیدۂ ختم نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے، اس پر ایمان لانا اسی طرح ضروری ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کریم ﷺ کی رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے، حضور ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا، کیونکہ یہ عقیدہ کئی آیات مبارکہ اور سینکڑوں احادیث شریفہ سے ثابت ہے۔ مولانا رحمانی نے فرمایا کہ امت کا سب سے پہلا اجماع بھی اسی پر منعقد ہوا، یہی وجہ ہے کہ ختم نبوت کا مسئلہ اسلامی تاریخ کے کسی دور میں مشکوک اور مشتبہ نہیں رہا اور نہ ہی کبھی اس پر بحث کی ضرورت سمجھی گئی بلکہ ہر دور میں متفقہ طور پر اس پر ایمان لانا ضروری سمجھا گیا۔ مولانا نے فرمایا کہ عقیدۂ ختم نبوت کی نزاکت وحساسیت کا اندازہ امامِ اعظم ابو حنیفہ ؒکے اس قولِ مبارک سے بھی ہوتا ہے، جس میں کسی کا خود دعویٰ نبوت کرنا تو بہت دور کی بات ہے، کسی دوسرے شخص کا نبی کریمﷺ کے بعد مدعی نبوت سے اپنے دعویٰ کے متعلق دلیل طلب کرنا بھی کفر ہے، چنانچہ حضرت امام اعظم ؒفرماتے ہیں کہ ”جو شخص حضورﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرے وہ تو کافر ہے ہی اور جو اس سے دلیل طلب کرے وہ بھی کافر ہے کیونکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے“۔ مولانا رحمانی نے فرمایا کہ دور حاضر میں خاص طور ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت سے امت مسلمہ کو واقف کروانا بہت ضروری ہے کیونکہ قادیانیت جیسے فتنے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کررہی ہیں، وہ لوگ مسلمانوں کے درمیان بڑے زور سے کہتے ہیں کہ وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی اور رسول مانتے ہیں جسے سن کر عام مسلمان انکے جال میں پھنس جاتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہیکہ یہ لوگ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی تو مانتے ہیں لیکن آخری نبی نہیں مانتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ ملعون مرزا غلام احمد قادیانی کو آخری نبی مانتے ہیں۔ جس کی بنیاد پر قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مولانا رحمانی نے فرمایا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کی اساس اور اہم ترین بنیادی عقیدہ ہے۔ دین اسلام کی پوری عمارت اس عقیدے پر کھڑی ہے۔ کیونکہ اس میں شکوک و شبہات کا ذرا سا بھی رخنہ پیدا ہو جائے تو مسلمان نہ صرف اپنی متاع ایمان کھو بیٹھتا ہے بلکہ وہ دائرہ اسلام بھی خارج ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ضرورت ہیکہ ہم اپنی اور اپنی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کریں، عقیدۂ ختم نبوتؐ کی اہمیت و فضیلت کو انکی رگ رگ میں بسا دیں اور فتنہ مدعیان نبوت و منکرین ختم نبوت سے امت مسلمہ کو آگاہ کریں تاکہ دوسرے لوگ ان فتنوں سے واقف رہیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کرسکیں۔ مولانا نے فرمایا تحفظ ختم نبوت ایک بڑا حساس مسئلہ ہے، اس موضوع پر کام کرنا اور اس کے دفاع کرنا اور ختم نبوت کی حفاظت کرنا یہ ایمانی فریضہ ہے کیونکہ یہی عقیدہ امت مسلمہ کو وحدت کی ایک لڑی میں پروتا ہے اور اسی منصب ختم نبوت کی برکت سے قرآن مجید آخری آسمانی کتاب، امت محمدیہؐ آخری امت اور دین اسلام آخری دین ہے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا ابو طالب رحمانی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں  سے نوازا۔


#Press_Release #News #khatmenabuwat #ProphetMuhammad #FinalityOfProphethood #LastMessenger #MTIH #TIMS

Wednesday, 16 November 2022

”فتنوں کے اس دور میں ایمان بالخصوص عقیدۂ ختم نبوتؐ کی حفاظت ہر ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے!“

 ”فتنوں کے اس دور میں ایمان بالخصوص عقیدۂ ختم نبوتؐ کی حفاظت ہر ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے!“



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مولانا احمد ومیض ندوی کا خطاب!


 بنگلور، 10؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی چھٹی نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم حیدرآباد کے استاذ حدیث پیر طریقت حضرت مولانا سید احمد ومیض صاحب ندوی نقشبندی مدظلہ نے فرمایا کہ یہ دور فتنوں کا دور ہے، ہر سمت سے مختلف فتنوں کی یلغار ہے، انٹرنیٹ و سوشل میڈیا کے ذریعے الحاد اور لادینیت کی شورشیں عروج پر ہیں۔ انہیں حالات کی پیشگوئی خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی کہ ”فتنے ایسے گریں گے جیسے بارش کے قطرے گرتے ہیں“۔ اور فرمایا تھا کہ ”فتنے رات کے اندھیرے کی طرح پھیل جائیں گے اور اس دور میں انسان صبح کافر اور شام کو مومن ہوگا یا صبح مومن اور شام کو کافر ہوگا“۔ لہٰذااگر ہم آج کے حالات پر طائرانہ نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہیکہ دور فِتن کی علامات جو احادیث میں بیان کی گئی ہیں وہ اب ظاہر ہوتی جارہی ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ آج ہر گھر تک بآسانی رسائی حاصل کرسکتے ہیں، اور یہ ایک ایسا مؤثر ذریعہ ہے جس سے پوری قوم کے افکار ونظریات متزلزل کئے جاسکتے ہیں، ان میں ایک بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ افسوس کہ اس جدید ٹیکنالوجی پر باطل طاقتوں کا قبضہ ہے اور وہ اسکے ذریعے سے فتنوں کو بہت جلد پوری دنیا میں پھیلانے میں کامیاب ہوتے جارہے ہیں۔مولانا نے فرمایا کہ بعض فتنے علاقائی ہوتے ہیں اور بعض عالمی ہوتے ہیں، انہیں میں سے ایک فتنۂ قادیانیت کا فتنہ ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اسلام کو یہودیت اور عیسائیت سے اتنا نقصان نہیں ہے جتنا کہ قادیانیت سے نقصان ہے کیونکہ یہ لوگ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح مسلمانوں کو اسلام کا نام لیکر انکے عقائد پر حملہ کرکے انہیں گمراہ کرتے ہیں۔ اورہمارے لوگ ان منافقین کا ظاہر دیکھ کر ان پر بھروسہ کرلیتے ہیں۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ قادیانی خاص طور دیہاتوں اور گاؤں کے غریب طبقے کے لوگوں کو مالی اور دیگر ذرائع سے امداد کرکے اپنی طرف مائل کرتے ہیں اور بعد میں انکے درمیان اپنے عقائد کو نظریات کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کرنا امت کے ہر ایک فرد کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”خاتم النبیین“ بنا کر بھیجا اور آپؐ پر نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم کردیا گیا، آپؐ کو وہ کتاب اور شریعت عطاء کی گئی جس کے بعد قیامت تک کسی نئی کتاب اور نئی شریعت کی ضرورت نہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت کا اعلان درحقیقت اس اُمت پر ایک احسان عظیم ہے، کیونکہ اگر آپؐ پر نبوت ختم نہیں ہوتی تو یہ امت بھی پچھلی امتوں کی طرح آزمائش میں مبتلا ہوجاتی۔ مولانا نے فرمایا کہ پچھلے زمانوں میں جب نئے نبی دنیا میں تشریف لاتے تو پچھلے نبی پر ایمان لانے والے نئے نبی پر ایمان لانے سے منع کردیا کرتے تھے، جس کے بعد ان پر عذاب مسلط کردیا جاتا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہؐ پر کرم فرمایا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”خاتم النبیین“ بنا دیا اور آپ پر نبوت کا سلسلہ ختم فرما دیا، اس طرح سے امت ایک بڑی آزمائش سے محفوظ ہوگئی۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ ختم نبوت اعزاز ہے، ختم نبوت اللہ کا انعام ہے، ختم نبوت کا ثبوت قرآن و حدیث سے ملتا ہے، لہٰذا خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی کے ساتھ آخری نبی ماننے والا ہی مسلمان ہے اور اسی پر امت کا اجماع ہے ہیکہ آپﷺ آخری نبی ہیں اور آپؐ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ مولانا نقشبندی نے فرمایا کہ بحیثیت مسلمان ہر ایک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہر طریقہ سے ہم مدعیان نبوت و منکرین ختم نبوت کے فتنوں بالخصوص اس فتنہ قادیانیت کا تعاقب کریں، اور اس فتنہ کے تعاقب، سد باب اور سرکوبی کے لئے ہر ممکنہ کوشش کریں۔ انہوں نے فرمایا کہ اس کیلئے قصبات، گاؤں، دیہات کا دورہ کریں اور وہاں مساجد و مدارس اسلامیہ کا قیام کریں، نیز شہری مسلمانوں کی ذمہ داری ہیکہ وہ پسماندہ علاقوں میں مالی امداد اور ضروری سامان مہیا کرائیں، نیز معاشی اعتبار سے ان کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں تاکہ قادیانی قرض اور مالی وغیرہ کی امداد کے بہانے ان بھولے بھالے مسلمانوں کو اپنے جال میں نہ پھنسالے۔ اسی کے ساتھ ضرورت ہیکہ ہمارے نوجوان اور طلبہ کرام بالخصوص جدید تعلیم حاصل کررہے طلبہ کرام کیلئے ترتیبی کیمپ لگائیں کیونکہ امت مسلمہ کے بیشتر نوجوان ایمانیات بالخصوص عقیدہ ختم نبوت کی بنیادی اور اہم باتوں سے ناواقف ہیں۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ اہل علم پر واجب ہے کہ وہ قادیانیت کا تعاقب کرکے اس کی بیخ کَنی کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھیں اور عوام الناس کو ان کی ارتدادی سرگرمیوں سے بچانے کی پوری کوشش کریں۔ انہوں نے فرمایا کہ مرکز تحفظ اسلام ہند کے ذمہ داران قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے اس فتنوں کے دور میں سب سے سنگین مدعیان نبوت و منکرین ختم نبوت کے فتنوں کے رد اور عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کیلئے یہ ”پندرہ روزہ عظیم الشان تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ منعقد کیا۔اللہ تعالیٰ اسے شرف قبولیت عطا فرمائے۔قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر دارالعلوم حیدرآباد کے استاذ حدیث شیخ طریقت حضرت مولانا سید احمد ومیض صاحب ندوی نقشبندی مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں  سے نوازا۔


#Press_Release #News #khatmenabuwat #ProphetMuhammad #FinalityOfProphethood #LastMessenger #MTIH #TIMS

Tuesday, 15 November 2022

رام نگر سیلاب متاثرین کیلئے جمعیۃ علماء کرناٹک کی مثالی خدمات!

 رام نگر سیلاب متاثرین کیلئے جمعیۃ علماء کرناٹک کی مثالی خدمات! 



متاثرین کی راحت رسانی اور باز آباد کاری کیلئے جمعیۃ علماء کرناٹک کی مختلف مراحل میں بڑی امداد!


بنگلور، 15؍ نومبر (پریس ریلیز): گزشتہ دنوں ریاست کرناٹک کے ضلع رام نگر کے سینکڑوں افراد موسلا دھار بارش اور سیلاب کی زد میں آگئے، جس کی وجہ سے وہاں نظام زندگی تتر بتر ہوگئی تھی، روز مرہ کماکر زندگی بسر کرنے والے چھوٹے موٹے کام و کاج کرنے والے اور مزدور بہت زیادہ متاثر ہوئے، جنکا سب کچھ سیلاب میں بہہ گیا۔ جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر امیر الہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب مدظلہ کے حکم پر جمعیۃ علماء کرناٹک کی جانب سے ضلع رام نگر میں موسلا دھار بارش اور سیلاب متاثرین کی راحت رسانی اور باز آباد کاری کا عمل بلا تفریق مذہب بڑے پیمانے پر مسلسل جاری تھا۔ اسی ضمن میں گزشتہ روز جمعیۃ علماء کرناٹک کے ریاستی وفد نے چوتھے مرحلے میں مزید 12؍ متاثرہ افراد کو نئے گھر میں منتقل ہونے کیلئے 25-25؍ ہزار روپیہ کی رقم کی چیک دی۔ اور حسب وعدہ جن متاثرہ افراد کو پہلے مرحلے میں اڈوانس کیلئے رقم دی گئی تھی انہیں جمعیۃ علماء کرناٹک کی جانب سے ایک ماہ کے کرایہ کی رقم بھی ادا کی گئی۔ جس پر سیلاب متاثرین نے جمعیۃ علماء کرناٹک کا شکریہ ادا کیا اور خوب دعاؤں سے نوازا۔ واضح رہے کہ ریاستی وفد کی ابتدائی سروے رپورٹ کے فوری بعد جمعیۃ علماء ہند کے قومی جنرل سکریٹری حضرت مولانا مفتی سید معصوم ثاقب صاحب قاسمی مدظلہ کی زیر نگرانی پہلے مرحلے میں جمعیۃ علماء کرناٹک نے سینکڑوں متاثرین کے درمیان ضروریات زندگی کا سامان تقسیم کیا، اور اسی کے ساتھ 23؍ متاثرہ افراد جنکا گھر اور پورا ساز و سامان سیلاب کی زد میں آگیا تھا، انہیں 25؍ ہزار روپیہ کی رقم کی چیک دی گئی تھی تاکہ وہ کسی نئے گھر میں منتقل ہوسکیں۔ پھر دوسرے مرحلے میں جمعیۃ علماء کرناٹک نے اس موسلا دھار بارش اور سیلاب سے متاثرہ ایسے 350؍ افراد کے درمیان گھریلو ساز و سامان تقسیم کیا، جنکا اس قیامت خیز سیلاب میں سب کچھ تباہ ہوگیا تھا۔ تیسرے مرحلے میں 10؍ تباہ کن مکانات کی مرمت کا کام مکمل کراکر ان کے مالکان کے حوالے کیا گیا نیز مزید 100؍ افراد کے درمیان گھریلو ساز و سامان تقسیم کیا گیا۔ اب چوتھے مرحلے میں پھر جمعیۃ علماء کرناٹک نے ان متاثرین کیلئے بڑا تعاون پیش کیا ہے۔ قابل ذکر جمعیۃ علماء کرناٹک روز اول سے رام نگر سیلاب متاثرین کی راحت رسانی اور باز آباد کاری کیلئے مسلسل سرگرم رہی، سروے سے لیکر گھریلو سامان کی تقسیم اور تعمیرات نو سے لیکر نئے گھروں کے انتظامات تک جمعیۃ علماء کرناٹک کے کارکنان نے دن رات محنتیں کیں، مشقتیں اٹھائیں، اور اپنی ترجیحات میں سیلاب متاثرین کی آباد کاری اور بحالی کے کاموں کو اولیت دی۔ کیونکہ خدمت خلق نہ صرف قرب خداوندی کا ذریعہ ہے بلکہ ایمان کا ایک اہم ترین شعبہ ہے اور مفلوک الحال اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنا ہی مومن کی علامت ہے۔یہی وجہ ہیکہ خدمت خلق جمعیۃ علماء ہند کے اہم مقاصد میں سے ہے۔ مخلوق خدا کی خدمت کرنا، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہو، جمعیۃ علماء کا فریضہ ہے۔ جس پر جمعیۃ علماء کے کارکنان سختی سے عمل پیرا ہیں۔واضح رہے کہ سیلاب متاثرہ علاقہ رام نگر میں امداد کی تقسیم کے موقع پر جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر مولانا عبد الرحیم رشیدی، جنرل سکریٹری محب اللہ خان امین، جمعیۃ علماء بنگلور کے صدر مولانا محمد صلاح الدین قاسمی، جمعیۃ علماء کرناٹک کے اراکین حسین احمد خان عرف سردار، مولانا عبد الرزاق اور محمد فرقان وغیرہ خصوصی طورپرشریک تھے۔



#Press_Release #News #RamnagarFlood #FloodRelief #JamiatUlama #Jamiat #ArshadMadni #Flood

Friday, 11 November 2022

Hazrat Tipu Sultan Shaheed RH Ke Mukhalifeen Ko Mooh Tood Jawab!

 🎯حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کے مخالفین کو منھ توڑ جواب!


🎙️قائد الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی صاحب رحمہ اللہ



https://youtu.be/Z9F6HeHJM94


🎯Hazrat Tipu Sultan Shaheed RH Ke Mukhalifeen Ko Mooh Tood Jawab!


🎙️Qaidul Ahrar Hazrat Maulana Habib Ur Rahman Sani Ludhianvi Saheb RH


#TipuSultan #TipuSultanIndiasHero #SultanTipu #Ahrar #Ludhianvi #MTIH #TIMS