Monday, 21 November 2022

تعزیتی پیغام بروفات حسرت آیات مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ!

 ⭕️تعزیتی پیغام بروفات حسرت آیات مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ!





✍بندہ محمد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


⭕️Condolence Message On Death Of Mufti-e-Azam Pakistan Hazrat Moulana Mufti Mohammed Rafi Usmani Saheb RH! 


✍ Mohammed Furqan 

(Founder & Director Markaz Tahaffuz-e-Islam Hind)


#Taziyat #RafiUsmani #Usmani #TaqiUsmani #Letter_Head

”جھوٹے مہدویت و مسیحیت کے دعویداروں سے امت مسلمہ ہوشیار رہیں اور انکے بہکاوے میں نہ آئیں“

 ”جھوٹے مہدویت و مسیحیت کے دعویداروں سے امت مسلمہ ہوشیار رہیں اور انکے بہکاوے میں نہ آئیں“



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مفتی محمد حذیفہ قاسمی کا خطاب!


بنگلور، 19؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی ساتویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء مہاراشٹرا کے ناظم حضرت مولانا مفتی سید محمد حذیفہ صاحب قاسمی مدظلہ نے فرمایا کہ ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کے بنیادی عقیدوں میں سے ہے، جس طرح حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی اور رسول ماننا ضروری ہے اسی طرح نبی کو آخری نبی بھی ماننا ضروری ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ہر دور میں کچھ بدبختوں نے ختم نبوت و رسالت پر ڈاکہ ڈالیں کی پر زور کوششیں کیں لیکن سب کے سب جھوٹے ثابت ہوئے۔ انہوں نے فرمایا کہ دعویٰ نبوت کے ساتھ ساتھ کچھ لوگ اپنی سستی شہرت اور مال کی لالچ میں باطل کے اہلکار بن کر مہدی اور مسیح ہونے کے بھی جھوٹے دعویٰ کرتے ہیں۔ جبکہ امام مہدی کا ظہور اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے نزول کے سلسلے میں متعدد احادیث میں ان کی آمد سے پہلے کے حالات و واقعات، ان کی ولادت، ظہور و نزول اور شخصی اوصاف کو واضح طور پر بیان فرما دیا گیا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں قربِ قیامت حضرت مہدی کا ظہور ہوگا۔ امام مہدی حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی نسل سے ہوں گے اور نجیب الطرفین سید ہوں گے۔ مدینہ منورہ میں ان کی پیدائش وتربیت ہوگی، ان کا نام نامی ”محمد“ اور والد صاحب کا نام ”عبداللہ“ ہوگا، وہ شکل وشباہت اور اخلاق وشمائل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں گے، وہ نبی نہیں ہوں گے، نہ ان پر وحی نازل ہوگی نہ وہ نبوت کا دعویٰ کریں گے، مکہ مکرمہ میں ان کی بیعت خلافت ہوگی اور بیت المقدس ان کی ہجرت گاہ ہوگا، بیعتِ خلافت کے وقت ان کی عمر چالیس برس کی ہوگی، ان کی خلافت کے ساتویں سال دجال نکلے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک ہوگا، حضرت مہدی کے دوسال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معیت میں گزریں گے اور 49؍ برس میں ان کا وصال ہوگا۔ مولانا نے فرمایا کہ روایات میں حضرت مہدی کے زمانے میں ہی حضرت عیسٰی علیہ السلام کا نزول ہوگا اور یہ حضرت مہدی سے الگ شخصیت ہوگی۔ انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی مینارے پر نازل ہوں گے، عین اس وقت جب کہ نماز فجر کی اقامت ہوچکی ہوگی۔ آپ علیہ السلام اپنی دونوں ہتھیلیاں فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے ہوں گے، ان کی تشریف آوری پر امام مہدی (جو مصلے پر جاچکے ہوں گے) پیچھے ہٹ جائیں گے اور ان سے امامت کی درخواست کریں گے۔ مگر وہ یہ کہہ کر انکار فرما دیں گے کہ یہ اعزاز اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے رکھا ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوکر صلیب کو توڑدیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ موقوف کردیں گے اور تمام لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں گے، پس اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں اسلام کے سوا تمام ملتوں کو ہلاک کردیں گے اور انہیں کے ہاتھوں سے مسیح دجال کو ہلاک کردیں گے۔ روئے زمین پر امن وامان کا دور دورہ ہوگا، شیر اونٹوں کے ساتھ، چیتے گائے بیلوں کے ساتھ اور بھیڑ بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے، روایات کے مطابق حضرت عیسٰی علیہ السلام امام مہدی کے ساتھ مل کر دنیا پر اسلام کی حکومت قائم کریں گے، قبیلہ ازد کی ایک خاتون سے شادی کریں گے، کم و بیش 45؍ سال دنیا میں رہنے کے بعد ان کی وفات ہوگی اور وہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے روضے میں مدفون ہوں گے جہاں ایک قبر کی جگہ آج بھی خالی موجود ہے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ مذکورہ تفصیلات سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہیکہ حضرت مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں الگ الگ شخصیتیں ہیں، اور حضرت مہدی دنیا میں پہلی مرتبہ تشریف لائیں گے، جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوسری مرتبہ تشریف لائیں گے۔ مولانا نے فرمایا کہ متعدد احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی سے متعلق یہ ساری تفصیلات وضاحت کے ساتھ مروی ہیں جن کی روشنی میں امت مسلمہ کے لئے حقیقی عیسیٰ علیہ السلام اور حقیقی امام مہدی کو پہچان کر چھوٹے مدعیان کی شناخت کرنا آسان ہے۔ لیکن اس کے باوجود طالع آزماؤں نے ہر دور میں جناب رسول اللہﷺ کی اس پیشین گوئی سے غلط فائدہ اٹھانے اور مہدی و مسیح ہونے کے دعوے کے ساتھ اپنا کاروبار چمکانے اور سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسلامی تاریخ میں سینکڑوں افراد گزرے ہیں جنہوں نے مختلف ادوار میں مہدی و مسیح ہونے کا دعویٰ کیا اور عجیب و غریب باتیں کر کے اپنے گرد لوگوں کا ہجوم اکٹھا کر لیا۔ انہیں جھوٹے دعویداروں میں ہمارے ملک کا مرزا غلام احمد قادیانی اور شکیل بن حنیف بھی شامل ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بیک وقت مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور دونوں کو ایک شخصیت قرار دے کر ان کے بارے میں جناب نبی اکرمؐ کی فرمودہ علامات کو خود پر فٹ کرنے کے لیے ایسی ایسی تاویلیں کیں کہ عقل سر پیٹ کر رہ گئی، لیکن اسکا جھوٹ دنیا پر ظاہر ہوگیا۔ اس کے باوجود مرزا قادیانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بہار سے تعلق رکھنے والا شکیل بن حنیف نامی ایک شخص نے اپنے بارے میں یہ دعویٰ کیا کہ وہ مسیح اور مہدی ہے، اور اس کے ماننے والے ان احادیث صحیحہ متواترہ کو جو کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت مہدی کے بارے میں مروی ہیں اس شخص (شکیل بن حنیف)پر چسپاں کرکے لوگوں میں اس بات کی تبلیغ کرتے ہیں کہ وہ شخص مسیح موعود اور مہدی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اس شخص کا مسیح موعود ہونے کا دعوی تو ایسا جھوٹا ہے کہ کسی صورت اس پر مسیح موعود کی علامتیں منطبق نہیں ہوتی ہیں، احادیث صحیحہ میں مسیح موعود کے بارے میں آیا ہے کہ وہ عیسی ابن مریم ہیں جو بغیر والد کے محض قدرت خداوندی سے پیدا ہوئے،جنہیں دشمنوں کی شازشوں سے بچاکر بحفاظت آسمان پر اٹھالیا گیا، اور پھر وہ قرب قیامت میں آسمان سے اتریں گے۔ مولانا نے فرمایا کہ بغیر کسی غور وفکر کے ایک عام انسان بھی یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ جس طرح شکیل بن حنیف سے پہلے مسیح ہونے کے دعویدار مرزا غلام احمد قادیانی میں مہدی و مسیح موعود کی علامتوں میں سے ایک بھی نہیں پائی گئی تو وہ مردور اور جھوٹا قراردیا گیا، اسی طرح اس جھوٹے شکیل بن حنیف میں بھی ان علامتوں میں سے کوئی علامت نہیں پائی جاتی کہ وہ ابن مریم نہیں بلکہ ابن حنیف ہے، وہ نہ آسمان پر کبھی اٹھایا گیا اور نہ ہی دنیا کہ کسی علاقہ میں آسمان سے اترا ہے، بلکہ عام انسانوں کی طرح پیدا ہوا ہے، نہ ہی اس کا حلیہ مسیح موعود کے جیسا ہے اور نہ اسے دجال اور دجالی جماعت سے مقابلہ کرنے کا موقع ملا ہے، نہ اس نے خنزیر کو قتل کیا اور نہ ہی عیسائیت کا خاتمہ کیا ہے، اور ارض فلسطین کو تو اس نے آج تک دیکھا نہیں ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ مرزا قادیانی کی طرح شکیل بن حنیف کی شخصیت کو بھی احادیث کے آئینے میں دیکھا جائے تو وہ کسی لحاظ سے بھی امام مہدی یا حضرت عیسٰی علیہ السلام کے معیار پر پورا نہیں اُترتے، سو دیگر دعاوی کی طرح ان کا دعویٰ مہدویت و مسیحیت بھی مبنی برکذب و افترا اور جہالت و گمراہی ہے، بلکہ اس کی شخصی اوصاف کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہیکہ یہ تو ایک اچھا انسان کہلانے کے لائق نہیں چہ جائیکہ مہدی، مسیح یا نبی وغیرہ۔ مولانا حذیفہ قاسمی نے فرمایا کہ احادیث میں قرب قیامت بہت زیادہ فتنوں کے ظاہر ہونے کی خبر دی گئی اور فرمایا گیا ہیکہ بہت سے دجال اور جھوٹے لوگ پیدا ہوں گے، جو اپنے گمراہ اور باطل عقائد کو دھوکہ دہی وجعل سازی کے ذریعہ سچ اور صحیح ثابت کرنے کی کوشش کریں گے، چنانچہ مسلم معاشرہ میں وقفہ وقفہ سے نبی، مہدی اور مسیح ہونے کے جھوٹے دعویدار پیدا ہوتے رہے ہیں، اس وقت مختلف علاقوں میں یہ فتنے رونما ہورہے ہیں، باطل طاقتوں کی مدد سے یہ لوگ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ اسلئے عام مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس طرح کے نئے نئے دعوے کرنے والوں اور اسلاف ومتقدمین کے نہج سے ہٹ کر قرآن وسنت کی تشریح وتاویل کرنے والوں سے دور رہیں اور ان کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ ایسے حالات میں مرکز تحفظ اسلام ہند ذمہ داران نے عامۃ المسلمین کو ان اہم عقائد سے واقف کروانے اور اسکی حفاظت کرنے کے سلسلے میں یہ”پندرہ روزہ عظیم الشان تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ منعقد کرکے بڑی خدمت انجام دی ہے، اللہ تعالیٰ انکی کوششوں کو قبول فرمائے۔ قابل ذکر ہیکہ یہ پندرہ روزہ ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی ساتوں نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مرکز کے رکن شوریٰ حافظ محمد عمران کی نعتیہ کلام سے ہوا۔ اس موقع پر حضرت مولانا مفتی محمد حذیفہ قاسمی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے حضرت والا اور تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس حضرت مفتی محمد حذیفہ قاسمی صاحب کی دعا سے کانفرنس کی یہ نشست اختتام پذیر ہوئی۔


#Press_Release #News #khatmenabuwat #ProphetMuhammad #FinalityOfProphethood #LastMessenger #MTIH #TIMS

Friday, 18 November 2022

”نوجوان نسل کو ختم نبوت کی اہمیت سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے!“

 ”نوجوان نسل کو ختم نبوت کی اہمیت سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے!“



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مولانا محمد مقصود عمران رشادی کا خطاب!


بنگلور، 17؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی نویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامع مسجد سٹی بنگلور کے امام و خطیب حضرت مولانا ڈاکٹر محمد مقصود عمران صاحب رشادی مدظلہ نے فرمایا کہ تمام مسلمانوں کا یہ متفق علیہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سب سے آخری نبی رسول ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ ؐ کو اس جہاں میں بھیج کر بعثت انبیاء کا سلسلہ ختم فرما دیا ہے۔ اب آپ ؐ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ نبی کریم ؐ کی ختم نبوت کا ذکر قرآن مجید کی متعدد آیات میں نہایت ہی جامع انداز میں صراحت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ”محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور آخری نبی ہیں“۔ اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خاتم النبین کہہ کر یہ اعلان فرما دیا ہے کہ آپؐہی آخری نبی ہیں اور اب قیامت تک کسی کو نہ منصب نبوت پر فائز کیا جائے گا اور نہ ہی منصب رسالت پر۔ مولانا نے فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک، جھوٹے دجالوں کا خروج ہے۔ یہ ایسے لوگ ہوں گے جو جھوٹی نبوت کا دعویٰ کریں گے اور اپنے جھوٹ سے لوگوں کے درمیان فتنے کو ہوا دیں گے۔ ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ ان کی تعداد تیس ہوگی۔ آپؐ نے فرمایا کہ ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تیس جھوٹے دجال نکل جائیں (وہ سب کے سب) ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرتا ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔“ مولانا نے فرمایا کہ ختم نبوت کے دشمن اس طاق میں بیٹھے ہیں کہ وہ کس طرح اسلامی شعائر اور ہمارے عقائد پر حملہ آور ہو سکے، مسیلمہ کذاب سے لیکر مرزا قادیانی تک ہر زمانے میں نبوت پر ڈاکہ زنی کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن الحمدللہ ختم نبوت کے محافظوں نے ختم نبوت کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے جھوٹے مدعیان نبوت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا اور آج تک اسی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ اسلام مخالف طاقتیں آج نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوششیں کرتے ہیں، وہ فروعی اختلافات کو بنیاد بنا کر نوجوانوں کو گمراہ کر کے عقیدۂ ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خاص طور پر قادیانی اور اس کے متبعین اس قطعی اور اجماعی مسئلہ میں خلاف و شقاق کا دروازہ کھولنے کی پر زور کوشش کررہے ہیں اور عوام کی جہالت اور مغربی تعلیم سے متاثر اور دینی تعلیم سے بیگانہ افراد کی ناواقفیت سے نا جائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس مسئلہ میں طرح طرح کے اوہام وشکوک ان کے دلوں میں پیدا کرکے انکو گمراہ کرنے کی دن رات سازشیں کررہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ ان حالات میں فتنوں بالخصوص جھوٹے مدعیان نبوت و منکرین ختم نبوت کے فتنوں سے آگاہی حاصل کرنا اور امت کو اُن سے خبردار کرنا دینی تقاضوں اور فرائض میں سے ہے اور معاشرہ میں کسی بھی حوالہ سے پیدا ہونے والی خرابیوں کی نشاندہی کر کے مسلمانوں کو اُن سے بچانے کی کوشش کرنا بھی ہماری دینی ذمہ داریوں میں سے ہے۔ مولانا رشادی نے فرمایا کہ ضرورت اس بات کی ہیکہ پوری امت مسلمہ بالخصوص نوجوان نسل کو ختم نبوت کی اہمیت و افادیت سے آگاہ کیا جانا چاہیے، ان کے دلوں میں حضور نبی کریم ﷺ کی محبت، عشق رسول اور بالخصوص عقیدۂ ختم نبوت کو واضح کرنا چاہئے۔ آج اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاہنے والے ایک ہوکر ختم نبوت کے حصار کو مضبوط کریں کیونکہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، اگر یہ عقیدہ محفوظ ہے تو آپ کا دین محفوظ ہے اگر یہ عقیدہ محفوظ نہیں تو آپ کا دین بھی محفوظ نہیں۔ قابل ذکر ہیکہ یہ پندرہ روزہ ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی نویں نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مرکز کے رکن شوریٰ حافظ محمد عمران کی نعتیہ کلام سے ہوا۔ اس موقع پر حضرت مولانا محمد مقصود عمران رشادی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے حضرت والا اور تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس حضرت مولانا محمد مقصود عمران رشادی صاحب کی دعا سے کانفرنس کی یہ نشست اختتام پذیر ہوئی۔


#Press_Release #News #khatmenabuwat #ProphetMuhammad #FinalityOfProphethood #LastMessenger #MTIH #TIMS

Thursday, 17 November 2022

اسلام کے تین بنیادی عقائد!

 اسلام کے تین بنیادی عقائد!



✍️ بندہ محمد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


عقیدہ مضبوط بندھی ہوئی گرہ کو کہتے ہیں، دین کی وہ اصولی اور ضروری باتیں جن کا جاننا اور دل سے ان پر یقین رکھنا مسلمان کیلئے ضروری ہے۔اسلام میں عقیدہ کو اولیت حاصل ہے۔ صحیح عقیدے کے بعد ہی اعمال کی ابتداء ہوتی ہے۔ صحیح عقیدہ ہی وہ بنیاد ہے جس پر دین قائم ہوتا ہے، اور اس کی درستگی پر ہی اعمال کی صحت کا دارومدار ہے۔ حیات انسانی میں عقیدہ کی جو اہمیت ہے، اس کی مثال عمارت کی بنیاد کی ہے۔ اگر اسکی بنیاد صحیح اور مضبوط ہوگی تو عمارت بھی صحیح اور مضبوط ہوگی اور اگر بنیاد ہی کھوکھلی، کمزور اور غلط ہوگی تو عمارت بھی کمزور اور غلط ہوگی اور ایک نہ ایک دن اسکے بھیانک نتائج لاحق ہونگے۔ بس کسی کا عقیدہ درست ہو اور کثرت عبادت نہ بھی ہو تو ایک نہ ایک دن جنت ضرور ملے گی اور اگر عقیدہ ہی غلط اور باطل ہو تو اسکا ٹھکانہ ہمیشہ ہمیش کیلئے جہنم ہوگا۔ تو معلوم ہوا کہ عقیدہ ہر عمل کی قبولیت کی اولین شرط ہے، اگر عقیدہ درست ہوگا تو عمل قبول ہوگا اور اگر عقیدہ غلط ہوگا تو عمل قبول نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقیدہ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


اسلام کے تین بنیادی عقائد:

اللہ تبارک و تعالیٰ نے دین اسلام کا دارومدار عقائد پر رکھا ہے اور اسلام کے تین بنیادی عقائد ہیں۔ ان تینوں عقیدوں پر ایمان لانا ضروری ہی نہیں بلکہ لازمی ہے۔ اگر کوئی شخص ان تین بنیادی عقائد میں سے کسی دو پر ایمان لاکر کسی ایک پر ایمان نہیں لاتا یا اس پر شک و شبہ کرتا ہے تو ایسا شخص گمراہ اور دائرہ اسلام سے خارج ہے، کیونکہ مسلمان ہونے کیلئے ان تینوں عقیدوں پر بلا کسی شک و شبہ کے ایمان لانا ضروری ہے۔قرآن و حدیث میں اللہ تبارک تعالیٰ اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جن تین بنیادی عقیدوں کا کثرت کے ساتھ تذکرہ کیا ہے وہ یہ ہیں؛ پہلا عقیدۂ توحید، دوسرا عقیدۂ رسالت اور تیسرا عقیدۂ آخرت ہے۔ لہٰذا مسلمان ہونے کیلئے بنیادی طور پر ان تین عقائد پر ایمان لانا بہت ضروری ہے۔ بقیہ ان عقائد پر بھی ایمان لانا ضروری ہے جو ایمان مفصل میں بیان کی گئی ہیں۔


عقیدۂ توحید اور اسکی اہمیت:

اسلام کے بنیادی عقائد میں سب سے پہلا عقیدہ عقیدۂ توحید ہے۔ عقیدۂ توحید کا مطلب یہ ہیکہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی ذات و صفات اور جُملہ اوصاف و کمالات میں یکتا و بے مثال ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ وحدہ لاشریک ہے۔ ہر شئی کا مالک اور رب ہے۔ کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔ صرف وہی با اختیار ہے۔ ساری عبادتوں کے لائق وہی پاکیزہ ذات ہے۔ اس کے علاوہ تمام معبود باطل ہیں۔ وہ ہر کمال والی صفت سے متصف ہے اور تمام عیوب ونقائص سے پاک ہے۔ حتیٰ کہ اس کی نہ اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا ہوا ہے۔ عقیدۂ توحید اسلام کی اساس اور بنیاد ہے۔ عقیدۂ توحید تمام عقائد کی جڑ اور اصل الاصول ہے اور اعمالِ صالحہ دین کی فرع ہیں۔ ہر مسلمان کو اس بات سے بخوبی آگاہ ہونا چاہیے کہ مومن اور مشرک کے درمیان حد فاصل کلمۂ توحید ”لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللہ“ ہے۔ شریعت اسلامیہ اسی کلمۂ توحید کی تشریح اور تفسیر ہے۔ عقیدہ توحید کی اہمیت کا اندازہ فقط اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جتنے بھی انبیاء کو مبعوث کیا سب کے سب انبیاء حتیٰ کہ خاتم النبیین حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بنیادی مقصد اور بنیادی دعوت عقیدۂ توحید ہی تھا۔ قرآن مجید کے سورۃ اعراف میں ہیکہ تمام انبیاء کرام اسی دعوت توحید کو لے کر آئے اور اپنی قوم سے یوں مخاطب ہوئے کہ: ”یَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہُ“ کہ ”اے میری قوم! اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔“ (سورۃ الاعراف، 59)۔ ایک حدیث میں ہیکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی سب سے پہلے مشرکین مکہ کو یہی دعوت توحید دیتے ہوئے فرمایا کہ ”یَا أیُّہَا النَّاسُ قُوْلُوْا لاَ الٰہَ الاّ اللّٰہُ تُفْلِحُوْا“ کہ ”اے لوگو! لاالٰہ الا اللہ کہو کامیاب رہوگے۔“ (مسند احمد)۔ توحید کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے توحید یعنی اپنی عبادت کی خاطر اس پوری کائنات کو بنایا اور اسی توحید کی طرف بلانے کے لیے انبیاء ورسل مبعوث فرمائے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں اپنے بندوں سے سب سے پہلے اسی توحید کا اقرار لیا کہ: ”اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ“ کہ ”کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟“ تو بنی آدم نے جواب دیا: ”قَالُوْا بَلٰی،شَہِدْنَا“ کہ ”کیوں نہیں آپ ہمارے رب ہیں۔“ (سورۃ الاعراف، 172)۔ عقیدہ توحید کی تعلیم و تفہیم کے لیے حضرات انبیاء و خاتم النبیینﷺ، اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین و تبع تابعین، ائمہ عظام و سلف صالحین، بزرگانِ دین و دیوبندی اکابرین نے بے شمار قربانیاں دیں ہیں کیونکہ عقیدہ توحید صرف آخرت کی کامیابی اور کامرانیوں کی ہی ضمانت نہیں، بلکہ دنیا کی فلاح، سعادت و سیادت، غلبہ و حکمرانی اور استحکام معیشت کا علمبردار بھی ہے۔ امت مسلمہ کے عروج اور زوال کی یہی اساس ہے۔ لہٰذا عقیدۂ توحید پر ایمان دونوں جہاں کی کامیابی ہے اور اسکی حفاظت و دعوت امت مسلمہ پر فرض عین ہے!


عقیدۂ رسالت اور اسکی اہمیت:

عقیدۂ رسالت دین اسلام کا دوسرا بنیادی عقیدہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر دور میں اپنی مخلوق کی ہدایت اور رہنمائی کیلئے اپنے برگزیدہ بندوں نبیوں اور رسولوں کو ان کے درمیان بھیجا، جو اللہ تعالیٰ کا پیغام لیکر امت تک پہنچاتے تھے۔یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوکر امام الانبیاء، خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر ختم ہوا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات اقدس تک تمام انبیا و رسل کی نبوت اور رسالت کو برحق ماننے کو عقیدۂ رسالت کہتے ہیں۔ قرآن مجید کی متعدد آیات میں جہاں عقیدۂ توحید کا ذکر ہے وہیں عقیدۂ رسالت کا بھی واضح طور پر ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْ اَنْزَلْنَا“ کہ ”پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر وہ جو اتارا ہم نے۔“ (سورۃتغابن، 8)۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ رسالت کی حکمت وجود باری تعالیٰ کی شہادت اور سفر حیات میں اس کے احکامات کی اطاعت ہے۔ رسول کی اطاعت ایک مستند ذریعہ ہے جس سے ہم کو اللہ کے احکام و فرامین پہنچتے ہیں۔ اللہ کے نبی پر ایمان اور اسکی اطاعت ہم پر فرض ہے اور اسکی شہادت کے بغیر ایمان نا مکمل ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہیکہ ”قُلْ یَآ اَیُّہَا النَّاسُ کہہ دو اے لوگو! اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَاِ  میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں، الَّذِیْ لَہ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ جس کی حکومت آسمانوں اور زمین میں ہے،  لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ  اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے، فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول اُمّی نبی پر الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَکَلِمَاتِہٖ وَاتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ جو کہ اللہ پر اور اس کے سب کلاموں پر یقین رکھتا ہے اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ۔“ (سورۃ الاعراف، 158)۔ لہٰذا ہمیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ عقیدۂ توحید اور عقیدۂ رسالت ایمان کا اہم حصہ ہیں، جسکی شہادت و اطاعت پر ہی ہماری نجات کا دارومدار ہے۔ بعض گمراہ لوگ تمام انبیاء و رسل پر تو ایمان لاتے ہیں لیکن خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں لہٰذا یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہیکہ جب تک کوئی شخص تمام انبیاء و رسل پر ایمان نہ لائے اور ساتھ میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو خاتم الانبیاء نہ مانے وہ صاحب ایمان نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا دروازہ ہمیشہ ہمیش کیلئے بند کردیا ہے۔ ترمذی شریف کی روایت ہیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ ”اِنَّ الرِّسَالَۃَ وَالنُّبُوَّۃَ قَدْ انْقَطعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ وَلَا نَبِیَ“ کہ ”اب نبوت اور رسالت کا انقطاع عمل میں آچکا ہے، لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔“ لہٰذا ایک مسلمان کو تمام انبیاء و رسل پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا اقرار کرنا لازمی ہے، ورنہ اس کے بغیر آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔


عقیدۂ آخرت اور اسکی اہمیت:

عقیدۂ آخرت، عقیدۂ توحید و رسالت کے بعد اسلام کا تیسرا بنیادی اور اہم عقیدہ ہے۔ آخرت سے مراد یہ ہے کہ یہ دنیا ایک دن فنا ہوجائے گی اور مرنے کے بعد ایک دن ہرجاندار کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اور ان کے اعمال کے مطابق ان کا فیصلہ کیا جائے گا، نیک لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جنت میں اور گناہگاروں کو اپنے عدل سے جہنم میں داخل فرمائے گا، اس بات پر کسی شک و شبہ کے بغیر یقین رکھنے کو عقیدۂ آخرت کہتے ہیں۔ جس طرح دیگر عقائد کے منکرین ہوتے ہیں اسی طرح اس دنیائے فانی میں عقیدۂ آخرت کے منکرین بھی پائے جاتے ہیں، جبکہ انکی دلیلیں بے بنیاد اور سرار غلط ہیں۔ قرآن مجید کی بے شمار آیات اور آپﷺ سے بے شمار احادیث عقیدہ آخرت کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہیکہ ”قُلِ اللّٰہُ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یَجْمَعُکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لَا رَیْبَ فِیْہِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ“ کہ ”کہہ دو اللہ ہی تمہیں زندہ کرتا ہے پھر تمہیں مارتا ہے پھر وہی تم سب کو قیامت میں جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے۔“ (سورۃ الجاثیہ،26)۔ اس آیت مبارکہ سے واضح ہوگیا کہ عقیدہ آخرت صحیح اور حق ہے، اسی لیے آخرت پر یقین کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔ عقیدۂ آخرت انسان کو اس تصور کے ساتھ زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے کہ کل قیامت کے دن ہمیں اللہ کے حضور تن تنہا حاضر ہونا ہوگا اور اپنے اعمال کا حساب و کتاب دینا ہوگا، وہاں کوئی رشتہ داری یا آل اولاد کام آنے والی نہیں، بس اپنے اعمال صالحہ کام آئیں گے۔ عقیدۂ آخرت کی وجہ سے جواب دہی کا احساس انسان کو نیکی و تقویٰ کی راہ پر گامزن کرتا ہے، اس کے افکار و نظریات کو ایمان کے رنگ میں رنگ دیتا ہے، اس کا ایمان اسے اخلاق حسنہ اور اعمال صالحہ کی بلندیوں پر پہونچا دیتا ہے۔ الغرض آخرت پر ایمان لانا نہ صرف ضروری ہے بلکہ لازم ہے، کیونکہ اسکے بغیر انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔


بنیادی عقائد پر ایمان ضروری ہے:

دین اسلام کے ان تین بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان لانا نہ صرف ضروری ہے بلکہ لازمی ہے، اسکے بغیر اسلام کا کوئی تصور نہیں اور آدمی اس پر ایمان لائے بغیر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ان تین بنیادی عقائد کے ساتھ ساتھ ہمیں ان عقائد پر بھی ایمان لانا ضروری ہے جو ایمان مفصل میں درج ہیں۔ایمان مفصل میں سات اجزاء بیان کی گئی ہیں ”اٰمَنْتُ بِاِ وَمَلَاءِکَتِہ وَ کُتُبِہ وَ رُسُلِہ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَالْقَدْرِ خَیْرِہ وَ شَرِّہ مِنَ اِ تَعَالٰی وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ“ کہ ”ایمان لایا اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور قیامت کے دن پر اور اس پر کہ اچھی بری تقدیر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور موت کے بعد اٹھائے جانے پر!“۔ (صحیح مسلم)۔


خلاصۂ کلام:

خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی عقیدے کی تعلیم وتفہیم اور اس کی طرف دعوت دینا ہر دور کا اہم فریضہ ہے۔ کیونکہ اعمال کی قبولیت عقیدے کی صحت پر موقوف ہے۔ اور دنیا وآخرت کی خوش نصیبی اسے مضبوطی سے تھامنے پر منحصر ہے اور اس عقیدے کے جمال وکمال میں نقص یا خلل ڈالنے والے تمام قسم کے امور سے بچنے پر موقوف ہے۔ لیکن افسوس کہ عقائد کی جتنی اہمیت ہے اتنے ہی ہم عقائد کے معاملے میں غافل اور اسکی محنت سے دور ہیں۔ یہی وجہ ہیکہ آج جگہ جگہ فتنوں کی کثرت ہورہی ہے اور نئے نئے ارتدادی فتنے جنم لے رہے ہیں۔لہٰذا ہمیں عقائد اسلام پر اس طرح کی پختگی حاصل کرنی چاہیے کہ اس کے خلاف سوچنے یا عمل کرنے کی ہمارے اندر ہمت نہ ہو، اس کے خلاف سننا یا دیکھنا ہم سے برداشت نہ ہو، ہم اپنے عقائد پر اس طرح مضبوط ہوجائیں کہ پوری دنیا بھی اگر ہمارے پیچھے لگ جائے تب بھی ہم اپنے عقائد پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہیں۔ کیونکہ عقائد اصل ہیں اور اعمال فرع ہیں اور صحیح عقائد ہی مدار نجات ہیں۔ لہٰذا ہمیں اپنے اور دوسروں کے عقیدوں کو درست کرنے کی فکر کرنی چاہیے تاکہ ہمیں دونوں جہاں کی خوشیاں اور کامیابیاں میسر ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے دین و ایمان اور عقائد کی حفاظت فرمائے اور صحیح عقیدہ اپنانے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین یا رب العالمین


فقط و السلام

بندہ محمد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

٢١؍ ربیع الثانی ١٤٤٤ھ

17؍ نومبر 2022ء، بروز جمعرات


+91 8495087865

mdfurqan7865@gmail.com



#PaighameFurqan 

#پیغام_فرقان 

#Mazmoon #Article #AqaideIslam #AqidahIslam #IslamicBeleifs

عقیدہ ختم نبوتؐ دین اسلام کا لازمی اور بنیادی تقاضا ہے!

 ”عقیدہ ختم نبوتؐ دین اسلام کا لازمی اور بنیادی تقاضا ہے!“



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مولانا ابو طالب رحمانی کا خطاب!


 بنگلور، 14؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی آٹھویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن خطیب بے باک حضرت مولانا ابو طالب رحمانی صاحب مدظلہ نے فرمایا دین اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کا سلسلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم فرما دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی طرح کا کوئی نبی، کوئی رسول نہ آیا ہے، نہ آ سکتا ہے اور نہ آئے گا، اس عقیدے سے انکار کرنے والا یا اس میں ذرا برابر شک اور تردّد کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ کیونکہ نبوت آپؐ پر ختم ہو گئی ہے اور آپؐ کی نبوت کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی، حتیٰ کہ جب قرب قیامت حضرت عیٰسی علیہ السلام نازل ہوں گے تو وہ بھی بحیثیت امتی نازل ہوں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی شریعت پر عمل پیرا ہونگے۔ مولانا نے فرمایا کہ عقیدۂ ختم نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے، اس پر ایمان لانا اسی طرح ضروری ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کریم ﷺ کی رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے، حضور ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا، کیونکہ یہ عقیدہ کئی آیات مبارکہ اور سینکڑوں احادیث شریفہ سے ثابت ہے۔ مولانا رحمانی نے فرمایا کہ امت کا سب سے پہلا اجماع بھی اسی پر منعقد ہوا، یہی وجہ ہے کہ ختم نبوت کا مسئلہ اسلامی تاریخ کے کسی دور میں مشکوک اور مشتبہ نہیں رہا اور نہ ہی کبھی اس پر بحث کی ضرورت سمجھی گئی بلکہ ہر دور میں متفقہ طور پر اس پر ایمان لانا ضروری سمجھا گیا۔ مولانا نے فرمایا کہ عقیدۂ ختم نبوت کی نزاکت وحساسیت کا اندازہ امامِ اعظم ابو حنیفہ ؒکے اس قولِ مبارک سے بھی ہوتا ہے، جس میں کسی کا خود دعویٰ نبوت کرنا تو بہت دور کی بات ہے، کسی دوسرے شخص کا نبی کریمﷺ کے بعد مدعی نبوت سے اپنے دعویٰ کے متعلق دلیل طلب کرنا بھی کفر ہے، چنانچہ حضرت امام اعظم ؒفرماتے ہیں کہ ”جو شخص حضورﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرے وہ تو کافر ہے ہی اور جو اس سے دلیل طلب کرے وہ بھی کافر ہے کیونکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے“۔ مولانا رحمانی نے فرمایا کہ دور حاضر میں خاص طور ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت سے امت مسلمہ کو واقف کروانا بہت ضروری ہے کیونکہ قادیانیت جیسے فتنے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کررہی ہیں، وہ لوگ مسلمانوں کے درمیان بڑے زور سے کہتے ہیں کہ وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی اور رسول مانتے ہیں جسے سن کر عام مسلمان انکے جال میں پھنس جاتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہیکہ یہ لوگ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی تو مانتے ہیں لیکن آخری نبی نہیں مانتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ ملعون مرزا غلام احمد قادیانی کو آخری نبی مانتے ہیں۔ جس کی بنیاد پر قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مولانا رحمانی نے فرمایا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کی اساس اور اہم ترین بنیادی عقیدہ ہے۔ دین اسلام کی پوری عمارت اس عقیدے پر کھڑی ہے۔ کیونکہ اس میں شکوک و شبہات کا ذرا سا بھی رخنہ پیدا ہو جائے تو مسلمان نہ صرف اپنی متاع ایمان کھو بیٹھتا ہے بلکہ وہ دائرہ اسلام بھی خارج ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ضرورت ہیکہ ہم اپنی اور اپنی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کریں، عقیدۂ ختم نبوتؐ کی اہمیت و فضیلت کو انکی رگ رگ میں بسا دیں اور فتنہ مدعیان نبوت و منکرین ختم نبوت سے امت مسلمہ کو آگاہ کریں تاکہ دوسرے لوگ ان فتنوں سے واقف رہیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کرسکیں۔ مولانا نے فرمایا تحفظ ختم نبوت ایک بڑا حساس مسئلہ ہے، اس موضوع پر کام کرنا اور اس کے دفاع کرنا اور ختم نبوت کی حفاظت کرنا یہ ایمانی فریضہ ہے کیونکہ یہی عقیدہ امت مسلمہ کو وحدت کی ایک لڑی میں پروتا ہے اور اسی منصب ختم نبوت کی برکت سے قرآن مجید آخری آسمانی کتاب، امت محمدیہؐ آخری امت اور دین اسلام آخری دین ہے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا ابو طالب رحمانی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں  سے نوازا۔


#Press_Release #News #khatmenabuwat #ProphetMuhammad #FinalityOfProphethood #LastMessenger #MTIH #TIMS