Monday, 19 October 2020

سیلاب متاثرین کیلئے بلاتفریق مذہب و ملت امداد کرنے مرکز تحفظ اسلام ہند کی اپیل!

 


حیدرآباد سیلاب متاثرین کیلئے بلاتفریق مذہب و ملت امداد کرنے مرکز تحفظ اسلام ہند کی اپیل!

سیلاب متاثرین کی امداد کے ساتھ ساتھ رجوع الی اللہ بھی ضروری: مولانا محمد رضوان حسامی


بنگلور، 19/ اکتوبر (ایم ٹی آئی ہچ): گزشتہ چند دنوں سے حیدرآباد میں موسلا دھار بارش کی وجہ سے شہر کے متعدد علاقوں میں سیلاب کی سی صورت حال ہے۔ جس کی وجہ سے کافی جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ جس پر مرکز تحفظ اسلام ہند نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اس موقع پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد رضوان حسامی و کاشفی مدظلہ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا کہ خشکی و تری میں جو فساد برپا ہوتا ہے، جو تغیر و تبدل ہوتا ہے، یہ انسانوں کے ہاتھوں کی کمائی ہے یعنی انسان کے اعمال بد کا نتیجہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی مقامات پر بارش اور پانی کا ذکر کیا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ بعض چیزیں ایسی ہیں جنکا علم سوائے اللہ کے کسی کو نہیں ان میں سے ایک بارش بھی ہے، اور بارش کب ہوگی؟ کہاں ہوگی؟ کتنی ہوگی اور کیسے ہوگی؟ اسکا علم بھی اللہ ہی کو ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ چاہے تو بارش ہوگی اور اللہ نہ چاہے گا تو نہیں ہوگی۔ مولانا نے فرمایا کہ اگر کہیں بارش سرے سے ہی نہ ہو تو یہ قحط سالی اور پریشانی کا باعث ہے اور اگر کسی جگہ حد سے زیادہ بارش ہو جائے تو یہ بھی پریشانیوں، تکلیفوں، اور مصیبتوں کا باعث ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ بارش کا جو معیار ہے اس سے کم بھی تکلیف کا باعث اور اس معیار سے زیادہ بھی پریشانی کا باعث ہے۔ مولانا رضوان نے فرمایا کہ حیدر آباد میں چند دنوں سے بہت ہی خطرناک طریقہ کی بارش ہورہی ہے، جسکی وجہ سے بہت کچھ جانی و مالی نقصان ہوا، بہت سارے لوگ بے گھر ہوگئے، بہت سارے لوگ بے آسرا و بے سہارا ہوگئے اور بہت سارے لوگ بیمار اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔جب یہ واقعات پیش آئے تو بعض تنظیموں والے اور بعض ادارے والے آگے بڑھے اور اپنی استطاعت کے مطابق انکا تعاون کیا اور کررہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ مرکز تحفظ اسلام ہند عموماً پوری دنیا کے انسانوں و مسلمانوں اور خصوصاً ہندوستان کے انسانوں اور مسلمانوں سے اپیل کرتا ہے کہ حیدرآباد میں حالیہ سیلاب کی وجہ سے جو لوگ پریشان ہیں بلا تفریق مذہب و ملت، بلا رنگ و نسل مالی اعتبار سے اور دیگر ضروری اشیاء کے ذریعے دل کھول کر انکا تعاون کریں، انکی امداد کریں تاکہ سیلاب متاثرین کی زندگیوں میں دوبارہ خوشحالی واپس آئے۔ مولانا رضوان کاشفی حسامی نے فرمایا کہ امداد کے ساتھ ساتھ حیدرآباد کے ان حالیہ واقعات سے ہمیں عبرت حاصل کرنا چاہیے، اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے ہوئے اللہ کے دربار میں رجوع ہو کر اپنے گناہوں سے معافی مانگنا چاہیے۔

Hyderabad Flood Se Mutalliq Ek Ahem Paigham | Moulana Rizwan Husami DB (Nazim-e-Ala Markaz Tahaffuz-e-Islam Hind)


VIDEO : https://youtu.be/N3pslqJglpw


🎯 حیدرآباد سیلاب سے متعلق ایک اہم پیغام | مولانا محمد رضوان حسامی (ناظم اعلیٰ مرکز تحفظ اسلام ہند)


🎯Hyderabad Flood Se Mutalliq Ek Ahem Paigham | Moulana Rizwan Husami DB (Nazim-e-Ala Markaz Tahaffuz-e-Islam Hind)


🎯हैदराबाद सैलाब से मुतालिक एक अहम पैग़ाम | मौलाना रिज़वान हुसामि (नाजिमे आला मर्कज़ तहफ्फुज-ए-इस्लाम हिंद)


Presented By:

Tahaffuz-e-Islam Media Service

(Bangalore, Karnataka, India)



Saturday, 17 October 2020

Urdu Newspapers | 16 Oct 2020

 Urdu Newspapers | 16 Oct 2020


⭕️Moulana Syed Talha Qasmi Naqshbandi Sb DB Speech In Online Azmat-e-Sahaba Conference By Markaz Tahaffuz-e-Islam Hind











Hathras Ke Rapists Ko Phansi Do! 🔊Qaidul Ahrar Moulana Habib Ur Rahman Sani Ludhianvi DB Ka Mutalba

 



✊🏻ہاتھرس کے بلتکاریوں کو پھانسی دو!
📢شاہی امام پنجاب، قائد الاحرار مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی مدظلہ کا مطالبہ!

✊🏻Hathras Ke Rapists Ko Phansi Do!
🔊Qaidul Ahrar Moulana Habib Ur Rahman Sani Ludhianvi DB Ka Mutalba!

👀Zaroor Daikhain Aur Share Karain!

Presented By:
Tahaffuz-e-Islam Media Service
(Bangalore, Karnataka, India)

Thursday, 15 October 2020

حضرات صحابہ کرامؓ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا لعنتی ہے!



 حضرات صحابہ کرامؓ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا لعنتی ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت صحابہ کانفرنس کی اختتامی نشست سے مولانا سیدطلحہ قاسمی نقشبندی کا خطاب!


بنگلور، 15/ اکتوبر (ایم ٹی آئی ہچ): مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت صحابہؓ کانفرنس کی تیسویں و آخری نشست سے خطاب کرتے ہوئے شیخ طریقت مولانا سید طلحہ قاسمی نقشبندی مدظلہ نے فرمایا کہ حضرات صحابہ کرامؓ کو اللہ کے رسولؐ کی نسبت حاصل ہے، وہ اصحاب محمدؐ ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے ارشاد فرمایا کہ رسول اللہؐ کے یہ صحابہ ایسی منتخب جماعت ہیں جنکا انتخاب خود اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کا ساتھی بنانے اور آپکے دین کو ساری دنیا میں پھیلانے کے لیے کیا ہے۔اور پھر فرمایا کہ ساری دنیا کے انسانوں میں سب سے زیادہ پاک دل اور نیک دل والے حضرات صحابہؓ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو سب سے گہرا علم عطاء کیا تھا اور دوسرے تمام انسانوں کے مقابلے میں انکی زندگیاں ہر قسم کی بناوٹ سے خالی ہیں، انکا جو ظاہر ہے وہی باطن ہے، انکا جو باطن ہے وہی ظاہر ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرات صحابہؓ کو اللہ کے نبیؐ کے ساتھ بہت سارے معاملات اور صفات میں شریک بنایا ہے، اپنے نبیؐ کے ساتھ ایسی معیت کاملہ اور معیت تامہ نصیب فرمائی تھی کہ صحابہؓ کو الگ کرکے حضورؐ کی نبوت، سیرت، اور شخصیت کو نہیں سمجھا جاسکتا، اور حضورؐ کو الگ کرکے صحابہؓ کے کمالات و صفات کو نہیں سمجھا جاسکتا۔ مولانا طلحہ قاسمی نے قرآن پاک کی ایک آیت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرات صحابہؓ وہ ہیں جنکو محمد رسول اللہؐ سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ حضرات صحابہ کرامؓ حضورؐ کی محنت کا نتیجہ ہیں۔ مولانا نے بہت ساری مثالیں دیتے ہوئے دو ٹوک فرمایا کہ جو لوگ حضرات صحابہؓ کو لعن طعن کرتے ہیں، حضرات صحابہؓ کو ملامتوں کا نشانہ بناتے ہیں، اور نعوذبااللہ جو لوگ اپنی صریح گفتگو سے یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ ادھر حضورؐ کی آنکھیں بند ہوئیں اور ادھر حضرات صحابہ کرامؓ دنیا کی لالچ میں حضورؐ کا طریقہ چھوڑ کر کے نامعلوم کیا سے کیا ہوگئے، تو وہ محمدؐ کو دنیا کا سب سے ناکام انسان کہہ رہے ہیں۔ مولانا طلحہ نقشبندی نے فرمایا کہ نبی کریمؐ قیامت تک کے لیے نبی و رسول ہیں تو آپکا ہر کام قیامت تک پہنچے گا، اب جو لوگ صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نعوذبااللہ صحابہ کرامؓ اقتدار کے نشے میں آپس میں لڑ پڑے اور ایسے ویسے ہوگئے تو یہ لوگ حضورؐ کو ناکام کہہ رہے ہیں کہ انکا پہلا طبقہ ہی محفوظ نہیں رہا تو انکا دین کہاں محفوظ ہے۔ اور آپ ؐخاتم النبیین کیسے ہو سکتے ہیں؟ مولانا نقشبندی نے فرمایا کہ ہمارا ایمان ہے کہ صحابہ کرامؓ کو اللہ کے نبیؐ نے ایمان کے جس اعلیٰ معیار پر چھوڑا اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت صحابہ کرامؓ نے اپنے ایمان کی حفاظت فرمائی، صحابہ کرامؓ نے رسول اکرمؐ کے ساتھ وفاداری کا حق ادا کیا۔ اور اگر کسی مسئلے میں صحابہؓ کے درمیان اختلاف ہوا تو ان میں سے ہر ایک کامل مخلص تھا، اور اخلاص کے ساتھ انہوں نے اپنی رائے قائم کی اور ایمانداری کے ساتھ اس پر رہے۔ اس سے زیادہ ہم صحابہؓ کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ہمیں حضرات صحابہؓ سے حسن ظن رکھنا چاہیے، حضرات صحابہ کرامؓ کو جو مقام ملا ہے، جو نسبت ملی ہے وہ حضورؐ کی صحبت با برکت کی وجہ سے ملا ہے، لہٰذا ساری دنیا کے اولیاء ملکر بھی کسی صحابی کے مقام کو نہیں پہنچ سکتے۔ مولانا نے حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے دوٹوک فرمایا کہ حضرات صحابہؓ کی شان میں گستاخی کرنے والا لعنتی ہے، اس کے شر پر اللہ و رسولؐ کی، ایمان والوں کی اور فرشتوں کی لعنت ہے۔ اور جو لوگ صحابہؓ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں انکا اہل بیت سے کوئی تعلق نہیں، انکا تعلق روافض اور نواصب سے ہے۔ قابل ذکر ہے کہ مولانا سید طلحہ قاسمی نقشبندی مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خراج تحسین پیش کیااور بہت ساری دعاؤں سے نوازا۔ ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری آن لائن عظمت صحابہ کانفرنس مولانا کی پُر سوز دعاء پر اختتام پذیر ہوا۔