Wednesday, 13 January 2021

عقائد اسلام اور اسکی اہمیت!



 { پیام فرقان - 02 } 


🎯عقائد اسلام اور اسکی اہمیت!


✍️بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


عقیدہ مضبوط بندھی ہوئی گرہ کو کہتے ہیں، دین کی وہ اصولی اور ضروری باتیں جن کا جاننا اور دل سے ان پر یقین کرنا مسلمان کیلئے ضروری ہے- اسلام میں عقیدہ کو اولیت حاصل ہے- صحیح عقیدے کے بعد ہی اعمال کی ابتداء ہوتی ہے- صحیح عقیدہ ہی وہ بنیاد ہے جس پر دین قائم ہوتا ہے، اور اس کی درستگی پر ہی اعمال کی صحت کا دارومدار ہے- حیات انسانی میں عقیدہ کی جو اہمیت ہے، اس کی مثال عمارت کی بنیاد کی ہے- اگر اسکی بنیاد صحیح اور مضبوط ہوگی تو عمارت بھی صحیح اور مضبوط ہوگی اور اگر بنیاد ہی کھوکھلی، کمزور اور غلط ہوگی تو عمارت بھی کمزور اور غلط ہوگی اور ایک نہ ایک دن اسکے بھیانک نتائج لاحق ہونگے- بس کسی کا عقیدہ درست ہو اور کثرت عبادت نہ بھی ہو تو ایک نہ ایک دن جنت ضرور ملے گی اور اگر عقیدہ ہی غلط اور باطل ہو تو اسکا ٹھکانی ہمیشہ ہمیش کیلئے جہنم ہوگا- معلوم ہوا کہ عقائد اصل ہیں اور اعمال فرع ہیں اور صحیح عقائد ہی مدار نجات ہیں- لیکن افسوس کہ عقائد کی جتنی اہمیت ہے اتنے ہی ہم عقائد کے معاملے میں غافل اور اسکی محنت سے دور ہیں- یہی وجہ ہیکہ آج جگہ جگہ فتنوں کی کثرت ہورہی ہے اور نئے نئے ارتدادی فتنے جنم لے رہے ہیں- لہٰذا ہمیں عقائد اسلام پر اس طرح کی پختگی حاصل کرنی چاہیے کہ اس کے خلاف سوچنے یا عمل کرنے کی ہمارے اندر ہمت نہ ہو، اس کے خلاف سننا یا دیکھنا ہم سے برداشت نہ ہو، ہم اپنے عقائد پر اس طرح مضبوط ہوجائیں کہ پوری دنیا بھی اگر ہمارے پیچھے لگ جائے تب بھی ہم اپنے عقائد پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے عقائد کی حفاظت فرمائے- آمین


فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

13 جنوری 2021ء بروز بدھ

+918495087865

mdfurqan7865@gmail.com



Tuesday, 12 January 2021

واٹساپ پرائیویسی بمقابلہ آخرت پرائیویسی! ✍️ بندہ محمّد فرقان عفی عنہ (ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)



 واٹساپ پرائیویسی بمقابلہ آخرت پرائیویسی!

✍️ بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


سوشل میڈیا کا مشہور و معروف میسنجنگ ایپ واٹس ایپ نے نئے سال میں اپنی سروس اور پرائیویسی پالیسی میں تبدیلیاں متعارف کرواتے ہوئے صارفین کو نوٹیفکیشنز بھیجی ہیں۔ اور نئی پالیسی کو قبول نہ کرنے کی صورت میں صارف اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ تک رسائی کھوبیٹھے گا اور اسے اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنا پڑے گا۔ صارفین کو نئی پالیسی قبول کرنے کے لیے آٹھ فروری تک کا وقت بھی دیا ہے۔ نئی پالیسی کے مطابق واٹس ایپ صارفین کا ڈیٹا نہ صرف استعمال کرے گا بلکہ اسے تھرڈ پارٹی بالخصوص فیس بک کے ساتھ شیئر بھی کرے گا۔ واٹس ایپ کی نئی پالیسی کے مطابق وہ صارف کا نام، موبائل نمبر، تصویر، سٹیٹس، فون ماڈل، آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ ساتھ ڈیوائس کی انفارمیشن، آئی پی ایڈریس، موبائل نیٹ ورک اور لوکیشن بھی واٹس ایپ اور اس سے منسلک دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو مہیا کرے گا۔ اس کے ساتھ واٹس ایپ ٹرانزیکشن اور پیمنٹ کے نئے فیچر کی انفارمیشن بھی شئیر کرے گا۔ نئی پرائیویسی پالیسی میں واضح طور پہ کہا گیا ہے کہ انتظامیہ صارفین کا ڈیٹا سٹور کرنے کے لیے فیس بک کا عالمی انفرا سٹرکچر اور اس کے ڈیٹا سنٹرز استعمال کر رہی ہیں۔ ان میں امریکہ میں موجود ڈیٹا سنٹر بھی شامل ہے۔


صارفین کی جانب سے واٹس ایپ پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی پر خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے اور ان میں ڈر و خوف کا ماحول پایا جارہا ہے۔واٹساپ صارفین کی ایک بڑی تعداد واٹساپ کو الوداع کہ چکی ہے اور ایک بڑی تعداد الوداع کہنے کی تیاری میں ہے۔ صارفین اپنی پرائیویسی بچانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور واٹس ایپ کا متبادل تلاش کرتے ہوئے دیگر میسیجنگ ایپ کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔ پرائیویسی کے خطرات مسلمانوں کیلئے زیادہ معنیٰ رکھتی ہیں کیونکہ یہود و نصاریٰ کے رگوں کے اندر دوڑنے والے خون کے ایک ایک قطرے میں اسلام دشمنی شامل ہے۔ اور حالیہ دنوں میں اپنی پرائیویسی کو لیکر مسلمان بھی فکرمند نظر آرہے ہیں۔ لیکن کیا ہم مسلمانوں کو واقعی اپنی پرائیویسی کی فکر ہے؟ کیا واقعی پرائیویسی ہمارے لئے کوئی معنیٰ رکھتی ہے؟ کیا ہم واقعی اپنا ڈیٹا محفوظ رکھنا چاہتے ہیں؟ یقیناً ہم پرائیویسی کو لیکر فکر مند نظر آرہے ہیں۔ لیکن کیا ہمیں معلوم نہیں کہ ایک ایسا دن بھی آنے والا ہے جب ہماری زندگی کی پرائیویسی کا نام و نشان ختم کردیا جائے گا اور ہماری زندگی کا مکمل ڈیٹا سب کے سامنے کھول کر رکھا جائے گا اور شئیر کیا جائے گا!


جی ہاں! آپ نے صحیح پڑھا کہ عنقریب ایک ایسا ہولناک دن آنے والا ہے جب آپکا مکمل ڈیٹا نوع انسانی کے سامنے رکھا جائے۔ جس دن جن و انس، چرند و پرند سب حیرت کے عالم میں ادھر ادھر بھاگتے ہونگے اور ایک بھیانک آواز سے سب کے جگر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر روئی کی طرح اڑنے لگیں گے، آسمان پھٹ جائے گا، ستارے جھڑ جائیں گے، پورا عالم فنا ہوجائے گا اور اللہ کی ذات کے علاوہ کوئی چیز باقی نہیں رہے گی۔ ہاں ہم اسی ہولناک دن کی بات کررہے ہیں جس دن سنگین حادثات پیش آئیں گے، ہر طرف شر پھیلا ہوگا اور مصیبت چھائی ہوگی، مردے قبروں سے اٹھیں گے اور میدان محشر میں آئیں گے، جہاں اللہ کی عدالت لگی ہوئی ہوگی، بڑے بڑے شیر دل اور بہادر لوگوں کے دل بھی زور زور سے دھڑکنے لگیں گے اور ان کی آنکھیں فرط خوف سے جھکی ہوں گی، اوپر آنکھ اٹھاکر دیکھنے کی انہیں ہمت نہیں ہوگی، لیکن ہر ایک کو بار گاہ الٰہی میں پیش ہونا ہوگا، رب کے سامنے آکر ہم کلام ہونا پڑے گا، درمیان میں کوئی ترجمان بھی نہیں ہوگا، زندگی کا مکمل ڈیٹا یعنی دنیا میں کیے ہوئے سب اعمال سامنے ہوں گے، ان کے بارے میں جواب دہی ہوگی، انسان کا ہر عمل اللہ کے علم، لوح محفوظ اور کرامً کاتبین کے رجسٹر میں محفوظ ہوگا۔ یہی وہ قیامت کا دن ہوگا جس دن پرائیویسی کا کوئی تصور نہ ہوگا، جہاں آپکے والدین، بیوی بچے، رشتہ دار اور پوری نوع انسانی کے سامنے آپکی زندگی کا مکمل ڈیٹا رکھا جائے گا اور حساب و کتاب ہوگا، ایک ترازو میں آپ کے اعمال تولے جائیں گے اور اعمال کے اعتبار سے نیک لوگوں کو جنت کا عیش اور بد لوگوں کو جہنم کا عذاب نصیب ہوگا۔ ایسے ہولناک دن میں اپنی پرائیویسی کو محفوظ رکھنے کے بارے میں کیا ہم نے کبھی سوچا ہے؟ جبکہ روز محشر ایک ایسی پالیسی ہے جسکو صدیوں سے بیان کیا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو قرآن میں واضح الفاظ میں میدان محشر کی ہولناکی اور حساب و کتاب کا تذکرہ کیا ہے۔ قرآن کے سورۃ الانفطار میں فرمایا ”اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ“ کہ جب آسمان پھٹ جائے۔”وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ“ اور جب ستارے جھڑ جائیں۔ ”وَاِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ“اور جب سمندر ابل پڑیں۔”وَاِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْ“ اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں۔”عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ“ تب ہر شخص جان لے گا کہ کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑ آیا۔ (سورۃ الانفطار، آیت 1 یا 5)۔ ایک اور جگہ سورۃ الجاثیۃ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ”قُلِ اللّٰہُ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یَجْمَعُکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لَا رَیْبَ فِیْہِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ“ کہ کہہ دو اللہ ہی تمہیں زندہ کرتا ہے پھر تمہیں مارتا ہے پھر وہی تم سب کو قیامت میں جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے۔(سورۃ الجاثیۃ، آیت 26)۔ اور فرمایا ”وَوَتَرٰی کُلَّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃً ۚ کُلُّ اُمَّۃٍ تُدْعٰٓی اِلٰی كِتَابِـهَاۖ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ“ اور آپ ہر ایک جماعت کو گھٹنے ٹیکے ہوئے دیکھیں گے، ہر ایک جماعت اپنے نامۂ اعمال کی طرف بلائی جائے گی، (کہا جائے گا) آج تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔(سورۃ الجاثیۃ، آیت 28)۔ اور فرمایا ”ہٰذَا کِتَابُنَا یَنْطِقُ عَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ“ یہ ہمارا دفتر تم پر سچ سچ بول رہا ہے، کیونکہ جو کچھ تم کیا کرتے تھے اسے ہم لکھ لیا کرتے تھے۔ (سورۃ الجاثیۃ، آیت 29)۔ ایسی متعدد آیات و احادیث میں قیامت کی ہولناکی اور آخرت کا واضح طور پر تذکرہ کیا گیا ہے۔ اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہیکہ اس دنیائے فانی میں انسان کو آخرت کی تیاری کیلئے ہی بھیجا گیا ہے اور اس بات کو بار بار یاد دلوانے کیلئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقریباً سوا لاکھ پیغمبروں کو اپنے بندوں کے درمیان بھیجا۔ لیکن افسوس کی بات ہیکہ آج ہم قیامت کے ہولناک دن کو بھول چکے ہیں۔ ہم واٹساپ اور اسکی نئی پالیسی کے بارے میں تو فکر مند ہیں لیکن ہم نے میدان محشراور اسکے حساب و کتاب کی پالیسی کو بھلا دیا، ہمیں یہ بات تو خوب ستارہی ہے کہ واٹساپ ہمارا ڈیٹا فیس بک اور دیگر کمپنیوں کے سامنے رکھے گا لیکن ہائے افسوس کہ ہمیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ میدان محشر میں ہم لوگوں کی زندگی کا مکمل ڈیٹا ہمارے آباؤ اجداد اور نسلوں کے سامنے رکھا جائے گا، ہم اپنی پرائیویسی کی فکر کرتے ہوئے واٹساپ کا متبادل تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن کیا ہم نے میدان محشر میں اپنی پرائیویسی کو محفوظ رکھنے کیلئے بنا حساب و کتاب جنت میں داخل ہونے کے متبادل طریقہ کو کبھی تلاش کیا؟ جبکہ یہ بات متعدد حدیثوں سے ثابت ہیکہ بعض خوش نصیب اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اس روز ہر حزن و غم سے محفوظ ہوں گے، ان کے دل مطمئن ہوں گے، ان کی طبیعتوں میں کسی قسم کا اضطراب نہ ہوگا اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے، انھیں بتائیں گے یہی وہ تمہارا دن ہے، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا اور وہ لوگ بنا حساب و کتاب جنت میں داخل ہوجائیں۔لیکن افسوس کہ ہم دنیاوی زندگی کو پرتعیش اور کامیاب بنانے میں اس قدر مشغول ہیں کہ اپنی آخرت کو ہی بھول گئے۔ حالانکہ دنیا کی زندگی تو چند دن کی ہے اور اسی زندگی میں ہم آخرت کیلئے اچھے اعمال کرکے جنت میں اپنے لئے ہمیشہ کی زندگی کو کامیاب بناسکتے ہیں۔ اسی کو کسی نے کہا تھا:

دنیا کی عشرت یاد رہی محشر کا منظر بھول گئے

جی ایسا لگایا جینے میں مرنے کو مسلماں بھول گئے


قرآن مجید کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ آخرت لازمی ہے اور آنے والی ہے۔ دنیوی زندگی محدود ہے اور اخروی زندگی لا محدود ہے۔ ہرانسان کو دنیا کی زندگی میں کیے ہوئے اعمال کا بدلہ آخرت میں ملنے والا ہے۔ دنیا دار العمل ہے اور آخرت دار الجزاء ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگیاں فکر آخرت سے کبھی خالی نہیں رہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی آخرت کی فکر میں گزاری اور اپنی امت کو بھی یہی تعلیم دی کہ آخرت کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں اور اسکی تیاری کریں۔ صحابہ کرام اور صلحاء عظام کی زندگیوں پر بھی فکر آخرت غالب رہتی تھی۔ اللہ کی عظمت، اس کا جلال، آخرت کی فکر اور یوم الحساب کی ہولناکی کا تصور ان کے دل و دماغ پر چھا گیا تھا۔ وہ قرآن کریم پڑھتے یا سنتے تو سسکیاں لینے لگتے۔ وہ قبریں دیکھتے تو اتنا روتے کہ داڑھی آنسوؤں سے تر ہوجاتی۔ وہ میدان جنگ میں حیدر کرار تھے لیکن تنہائیوں میں خدا کے خوف اور آخرت کی فکر سے اس طرح کانپتے، تلملاتے اور بے چین ہوتے جیسے انہیں کچھ ہوگیا ہو۔ وہ صداقت وامانت میں صدیق ہوتے لیکن چڑیوں کوچہچہاتے دیکھتے تو کہہ اُٹھتے کاش میں بھی چڑیا ہوتا کہ آخرت کے حساب کتاب سے بچ جاتا۔ ہائے افسوس کہ آج ہم نے نہ صرف اپنے اسلاف کی تعلیم کو بھلا دیا ہے بلکہ اپنے مقصد زندگی اور اپنی منزل کو ہی بھلا بیٹھے ہیں۔ہماری منزل اللہ کی رضا، اس کی خوشنودی، جنت کا حصول ہے۔ ایک مومن کا اصل گھر آخرت ہے، یہ دنیا اس گھر کی تیاری کی جگہ ہے۔ لہٰذا اس کو اس کی تیاری کرتے رہنا چاہیے۔ ہمہ وقت، ہر لحظہ، ہر آن اس کی فکر کرنی چاہیے۔ اس عارضی گھر دنیا کو اپنا وطن نہ سمجھے، سفر کے دوران سو نہ جائے، اس میں مگن نہ ہوجائے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو منزل پر پہنچنا دشوار ہوجائے گا۔ اور ایک مومن کا اللہ سے ایک معاہدہ ہوا ہے اور وہ جان ومال کے بدلے جنت کا معاہدہ ہے۔ اللہ نے فرمایا: ”إِنَّ اللَّہَ اشْتَرَیٰ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنفُسَہُمْ وَأَمْوَالَہُم بِأَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَ“بے شک اللہ نے مسلمانوں سے ان کی جان اور ان کا مال اس قیمت پر خرید لیے ہیں کہ ان کے لیے جنت ہے۔(سورۃ التوبہ: 111)۔ جنت بہت قیمتی چیز ہے یہ تبھی ملے گی، جب زبان کے اعلان کے ساتھ عمل سے ثابت کیاجائے۔ اپنی جان ومال، اپنی تمام صلاحیتوں، قوتوں، لیاقتوں اور ہنرمندیوں کے ساتھ اس کے حصول کے لیے لگا جائے۔ ہرطرف سے کٹ کر اللہ کی رضا کے لیے یکسو ہوجائیں۔ جس دن ہم اسے عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوگئے تو یاد رکھیں دنیا و آخرت کی کامیابیاں ہمارے قدم چومیں گی اور ہماری آخرت کی پرائیویسی محفوظ رہے گی۔ اور ایسے حالات میں جب قرب قیامت کی نشانیاں ظاہر ہونی شروع ہوچکی ہیں تو آخرت کی تیاری میں غفلت آگے پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔لہٰذا اب وقت ہیکہ ہم خواب غفلت سے جاگیں اور آخرت کی تیاری کریں کیونکہ قیامت اب قریب ہے۔

کوئی تیری غفلت کی ہے انتہا بھی

جنون چھوڑ کر اب ہوش میں آبھی

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے


فقط و السلام

بندہ محمد فرقان عفی عنہ*

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

٢٧؍ جمادی الاول ١٤٤٢ھ

مطابق 12؍ جنوری 2021ء


+91 8495087865

mdfurqan7865@gmail.com

_________________

*ابن مولانا محمد ریاض الدین مظاہری

متعلم جامعہ ابو ہریرہ ؓ اکیڈمی

ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند

صدر مجلس احرار اسلام بنگلور

رکن عاملہ جمعیۃ علماء ساؤتھ بنگلور


#پیغام_فرقان #آخرت #قیامت #واٹساپ

عقیدہ ایمان کا دوسرا نام ہے، عقیدۂ توحید اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے!



 عقیدہ ایمان کا دوسرا نام ہے، عقیدۂ توحید اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے!

آن لائن تحفظ عقائد اسلام کانفرنس سے مولانا محمد الیاس کا خطاب!


ٍ بنگلور، 12/ جنوری (ایم ٹی آئی ہچ): مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن تحفظ عقائد اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس تحفظ ختم نبوت ہانگ کانگ کے رکن حضرت مولانا محمد الیاس صاحب نے فرمایا کہ عقیدہ کا لغوی معنی گرہ کے ہیں اور اصطلاحی (اسلامی) معنی ایمان کے ہیں یعنی عقیدہ کا دوسرا نام ایمان ہے۔ عقیدہ اس بات کو کہتے ہیں جس بات کو ماننا اور جاننا ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔ اعمال کیلئے عقیدہ ایسا ہے جیسے انسان کے جسم کیلئے روح، معلوم ہوا کہ اعمال کی روح اور جان صحیح عقیدہ ہے۔ اسکی اہمیت فقط اس بات سے لگائی جاسکتی ہیکہ امام اعظم ابو حنیفہؒ نے اعمال کی فقہ لکھنے سے پہلے”فقہ الاکبر“ کے نام سے عقائد کی فقہ لکھی تاکہ امت کے عقائد کی حفاظت ہو سکے۔ مولانا الیاس صاحب نے فرمایا کہ مولانا ادریس کاندھلویؒ فرماتے ہیں کہ ضروریات دین کی ہر بات کو ماننا ایمان ہے اور ضروریات دین میں سے کسی بات کا انکار کرنا کفر ہے۔ انہوں نے کتاب ”عقائد الاسلام“کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جسکے عقیدے صحیح ہوں گے اس کے حق میں دوزخ کا دائمی عذاب مفقود ہے۔ مولانا الیاس نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ اسلام کی بنیاد میں اگر ایک عقیدہ بھی خراب ہو گیا تو اسلام کی تمام عمارت خراب ہو گئی۔ اور عقیدہ و ایمان ایک ایسا نور ہے کہ یہ جس دل میں آئیگا تو پورا آئیگا ورنہ ذرا بھی نہیں آئیگا۔ حضرت نے فرمایا یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک آدمی 90/ فیصد مسلمان ہو اور 10/ فیصد کافر ہو یا 90/ فیصد کافر ہو اور 10/ فیصد مسلمان ہو۔ لہٰذا عقائد اسلام کی اہمیت و عظمت کو جاننا اور سمجھنا بہت ضروری ہے۔


آن لائن تحفظ عقائد اسلام کانفرنس کی دوسری نشست میں عقیدۂ توحید پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا محمد الیاس نے فرمایا کہ عقیدۂ توحید اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ مولانا الیاس نے کتاب ”عقائد الاسلام“ کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدیم ذات اور صفات کے ساتھ خود بخود موجود اور موصوف ہے اور اسکے سوا تمام اشیاء اسی کی ایجاد سے موجود ہوئی ہیں، خدا تعالیٰ کو خدا اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ وہ خود بخود ہے اس کی ہستی خود اسی سے ہے اور اسکی ذات و صفات کے سوا تمام عالم اور اسکی تمام اشیاء حادث اور نو پیدا ہیں عدم سے وجود میں آئی ہیں۔ اسی لیے جہان کی کوئی شے ایک حال پر قائم نہیں تغیر اور تبدل کی آماجگاہ اور فنا اور زوال کی جولا نگاہ بنی ہوئی ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ عالم خود بخود موجود نہیں ہوا۔ بلکہ اسکا وجود اور ہستی کسی اور ذات کا عطیہ ہے۔ پس وہ ذات بابرکات جو تمام اشیاء کے وجود اور ہستی کا مالک ہے اسی کو ہم اللہ اور خدا اور مالک الملک کہتے ہیں، اور اصل مالک یعنی مالک حقیقی بھی وہی ہے۔ جسکے قبضۂ قدرت میں تمام کائنات کا وجود ہو۔ مولانا نے فرمایا کہ خوب سمجھ لو کہ حقیقی مالک وہی ہے جو وجود کا مالک ہے اور جو وجود کا مالک نہیں وہ حقیقی مالک نہیں۔ مولانا الیاس نے فرمایا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء آفرینش عالم سے اس وقت تک تمام دنیا کے ہر حصے اور خطے میں تقریباً سب کے سب خدا تعالیٰ کے قائل رہے اور دنیا کے تمام مذاہب و ادیان سب اس پر متفق ہیں کہ خدائے برحق موجود ہے، اسی نے اپنی قدرت اور ارادے سے اس عالم کو پیدا کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ مادہ پرستوں کا گروہ جن کا دوسرا نام منکرین مذہب ہے وہ نہایت بے باکی کے ساتھ خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں۔ اور یہ کہتا ہے کہ خدا کا کوئی واقعی وجود نہیں۔ خدا محض ایک موہوم اور فرضی شے ہے۔ حالانکہ یہ بات سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ قابل ذکر ہے کہ مولانا محمد الیاس صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اطلاعات کے مطابق مرکز تحفظ اسلام ہند کی فخریہ پیشکش چالیس روزہ ”سلسلہ عقائد اسلام“ اپنے اختتام کی طرف گامزن ہے۔ بتایا جارہا ہیکہ اسی سلسلے کی سب سے اہم کڑی آن لائن تحفظ عقائد اسلام کانفرنس سے عنقریب مولانا احمد ومیض صاحب ندوی نقشبندی اور مفتی شعیب اللہ خان صاحب مفتاحی مدظلہم وغیرہ بھی خطاب کرنے والے ہیں۔

Friday, 8 January 2021

مسیح و مہدی سے متعلق پیشین گوئیاں!

 


مسیح و مہدی سے متعلق پیشین گوئیاں! 


 از قلم : حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب مدظلہ


رسول اللہ کے ذریعہ دین و شریعت کی جو تعلیمات ہم تک پہنچی ہیں ، وہ اسلام کا سب سے آخری اور سب سے مکمل ایڈیشن ہے ، جس کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا اور جس کی انتہاء حضور ختمی مرتبت جناب محمد رسول اللہ اپر ہوئی ، اسی کو قرآن مجید نے ’ اکمال دین ‘ یعنی دین کو مکمل کرنے اور ’ اتمام نعمت ‘ یعنی نعمت وحی کو پوری کردینے سے تعبیر کیا ہے ، (المائدۃ : ۳) آپ سے پہلے ہر عہد میں نبی آیا کرتے تھے اور وہ اُمت کی نہ صرف دینی رہنمائی کرتے تھے ؛ بلکہ بعض اوقات ان کی سیاسی قیادت بھی فرمایا کرتے تھے ، جیسے حضرت داؤد علیہ السلام ، حضرت سلیمان علیہ السلام ، حضرت یوسف علیہ السلام اور خود رسول اللہ ا ، نبوت کا مقام مخلوق میں سب سے اعلیٰ ترین مقام ہے ، یہاں تک کہ اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ انبیاء کو فرشتوں پر بھی فضیلت حاصل ہے ؛ لیکن نبوت کا تعلق کسب و محنت ، جدوجہد اور مجاہدات سے نہیں تھا ؛ بلکہ یہ اللہ کی طرف سے انتخاب ہوا کرتا تھا ، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اجتباء اور اصطفاء کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے ، (الانعام : ۸۷ ، آل عمران : ۳۳) جس کے معنی چُن لینے اور منتخب کرلینے کے ہیں ۔


لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اب اُمت کو ہادی و نمونہ اور مصلح کی ضرورت نہیں رہی ، یہ ضرورت باقی ہے اور قیامت تک باقی رہے گی اور آپ انے اس بات کی بھی صراحت فرمادی کہ اس اُمت میں مصلحین کا تسلسل رہے گا : ’’ لا تزال طائفۃ من أمتی یقاتلون علی الحق ظاہرین إلی یوم القیامۃ‘‘ ( مسلم ، عن جابر بن عبد اللہ ، کتاب الایمان ، حدیث نمبر : ۲۴۷) لیکن اُمت کے یہ مصلحین مجاہدات کے ذریعہ اپنے فریضے کو انجام دیں گے اور جدوجہد کے ذریعہ اس مقام پر پہنچیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اُمت کو نفع پہنچائیں ، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا منتخب عہدہ نہیں ہوگا کہ جس کا دعویٰ کیا جاسکے ، وہ شخص یہ کہہ سکے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور کیا گیا ہوں اور تم لوگوں کو ہماری اطاعت و اتباع کرنی ہے ، ان مصلحین میں سب سے اعلیٰ درجہ خلفائے راشدین کا تھا اور خلافت راشدہ کا دور حدیث کی صراحت کے مطابق آپ اکے بعد تیس سال کا تھا ، جو حضرت حسن بن علی ؓکی وفات پر مکمل ہوتا ہے ، (سنن الترمذی ، باب ماجاء فی الخلافۃ ، حدیث نمبر : ۲۲۲، العرف الشذی : ۲؍۴۲۰) ان کے بعد امراء و سلاطین آئے ، جن میں اچھے بھی تھے اور بُرے بھی ، جن میں خادمین دین و شریعت بھی تھے اور ہادمین دین و شریعت بھی ، عادل بھی تھے اور ظالم بھی ؛ چنانچہ خلافت راشدہ کے بعد دینی اور سیاسی اقتدار آہستہ آہستہ تقسیم ہوگیا ، بادشاہوں نے حکومت سنبھالی اور اُمت کے مصلحین ، علماء ربانیین اور داعیان دین نے تعلیم و تربیت ، ترزکیہ و احسان ، دعوت و تبلیغ ، احکام شریعت کا اجتہاد و استنباط ، اسلامی علوم کی نشر واشاعت ، اسلام کے خلاف اُٹھنے والے ارتداد و انحراف کے فتنوں کا مقابلہ ، یہ سارے اہم فرائض انجام دیئے اور ان ہی کے ذریعہ دین کی امانت ہم تک پہنچی ہے ، یہ دراصل وہ کام ہے جس کو رسول اللہ ا نے تجدید دین قرار دیا ہے ، یعنی دین کی بنیادوں کو بار بار تازہ کرنا ، مخالفانہ تحریکوں سے اس کی حفاظت کرنا اور دین و شریعت کو ہر طرح کی آمیزش اور ملاوٹ سے بچائے رکھنا ، رسول اللہ انے فرمایا کہ ہر صدی میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے ، (سنن ابی داؤد ، کتاب الملاحم ، حدیث نمبر : ۴۲۹۱) کیوںکہ جب رسول اللہ اپر نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا اور آپ اکے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ، تو اب اُمت میں ایسے مجددین و مصلحین کا تسلسل ضروری ہے ۔


کار ِتجدید و اصلاح کے لئے مستقبل میں صرف دو ایسی شخصیتوں کی آمد ہونے والی ہے ، جن کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اور وہ انتہائی نازک حالات میں اسلام کی سربلندی ، اعداء اسلام کی سرکوبی اور غیر معمولی حالات میں اُمت کی رہنمائی اور قیادت کے لئے دنیا میں تشریف لائیں گے ، جن کا اصل ہدف یہودیوں اور نصرانیوں کی طرف سے مسلمانوں پر ہونے والی یلغار کا مقابلہ کرنا ہوگا ؛ چنانچہ رسول اللہ انے ارشاد فرمایا کہ وہ اُمت ہلاک نہیں ہوگی ، جس کی ابتدا مجھ سے ہوئی ہے ، جس کی انتہاء میں حضرت عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے اور درمیان میں امام مہدی آئیں گے : ’’لن تھلک أمۃ أنا فی أولھا وعیسیٰ بن مریم فی آخرھا والمپدی فی وسطھا‘‘ ۔ (کنز العمال ، خروج المہدی ، حدیث نمبر : ۳۸۶۷۲)


رسول اللہ اپر سلسلۂ نبوت کے مکمل ہوجانے کا ایک بڑا فائدہ اس اُمت کو جمعیت اور اور یکسوئی کی شکل میں حاصل ہوا ہے ، یعنی اب کسی نبی کا انتظار باقی نہیں رہا ، اگر نبوت کا سلسلہ جاری رہتا تو ہمیشہ لوگوں کو اگلے نبی کا انتظار ہوتا ، یہ یقینا انتہائی مصیبت اور آزمائش کی بات ہوتی ، پھر جب کوئی نیا نبی آتا تو کچھ ایمان لاتے اور کچھ لوگ انکار کرتے ، جیساکہ گذشتہ انبیاء کے ساتھ ہوتا رہا ، اس کی وجہ سے ہمیشہ اُمت اختلاف و انتشار ، بے اطمینانی اور امتحان و آزمائش سے گذرتی رہتی ، رسول اللہ اپر سلسلۂ نبوت کی تکمیل نے اس راستہ کو ہمیشہ کے لئے بند کردیا ؛ اسی لئے مسلمانوں میں فکر و نظر کے ہزار اختلاف کے باوجود رسول اللہ اکی ذات گرامی نقطۂ اتفاق بنی رہی ، یہ وحدت اُمت کی ایسی اساس ہے جو دوسری قوموں کو حاصل نہیں ۔


جن دو غیر معمولی شخصیتوں کی آمد اور ظہور کا آپ انے ذکر فرمایا ہے ، آپ نے ان کی علامتوں کو بھی بہت زیادہ واضح فرمادیا ہے ؛ کیوںکہ آپ کو اندازہ رہا ہوگا کہ جو بدبخت آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے گا ، مسلمان کسی تامل وتردد کے بغیر اس کو رد کردیں گے ؛ لیکن یہ اندیشہ تھا کہ کوئی بہروپیا اپنے آپ کو مسیح یا مہدی قرار دے ، اور آپ کی پیشین گوئیوں کو اپنے لئے بہانہ بنائے ؛ اس لئے آپ نے ان دونوں شخصیتوں کی اتنی وضاحت کے ساتھ نشاندھی فرمادی ، جتنی عام طورپر ایک پیغمبر اپنے بعد آنے والے پیغمبر کی بھی نہیں کیا کرتا تھا ، قرآن مجید کا خود بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے بعد رسول اللہ اکی آمد کی بشارت دی تھی اور کہا تھا کہ آنے والے نبی کا نام ’ احمد ‘ ہوگا ؛ لیکن آپ کے والدین کے کیا نام ہوں گے ، آپ کا خاندان کیا ہوگا ، کہاں آپ کی ولادت کہاں ہوگی ، کہاں آپ کی وفات ہوگی ، کتنے سال دنیا میں آپ کا قیام رہے گا ؟ اس کی صراحت اس پیشین گوئی میں نہیں ہے ؛ لیکن مسیح و مہدی کے بارے میں رسول اللہ اکے ارشادات میں ہمیں ان تمام باتوں کی صراحت ملتی ہے ۔


حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خاندان کے ذکر کی ضرورت تو اس لئے نہیں تھی کہ قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ، آپ کی والدہ حضرت مریم ، آپ کے معجزات ، آپ کی دعوتی جدوجہد ، یہودیوں کے ساتھ آپ کے سلوک اور پھر آپ کے آسمان پر اُٹھائے جانے کا ذکر وضاحت و صراحت کے ساتھ موجود ہے اور رسول اللہ اکی حدیثیں اس کو مزید واضح کرتی ہیں ، اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا یہ حصہ باقی رہ گیا تھا کہ جب وہ جو قیامت کے قریب آسمان سے اُتریں گے — جس کے قائل مسلمان بھی ہیں اور عیسائی بھی — تو ان کی اُترنے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ چنانچہ احادیث میں تفصیل موجود ہے کہ آپ کا نزول دمشق میں ہوگا ، آپ سفید مینارہ پر اُتریں گے ، آپ کو ایک بادل نے اُٹھا رکھا ہوگا ، آپ کے جسم پر دو چادریں ہوں گی ، آپ دجال جو ایک یہودی فریب کار ہوگا ، کو قتل فرمائیں گے ، تشریف آوری کے اکیس سال بعد حضرت شعیب علیہ السلام کے قبیلہ میں آپ کا نکاح ہوگا ، آپ ہی کے عہد میں یاجوج ماجوج کا اسلامی سلطنت پر حملہ ہوگا ، اور وہ پورے مشرق وسطی کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیں گے ، اپنی تشریف آوری کے بعد چالیس سال تک دنیا میں قیام فرمائیں گے ، آپ کی وفات مدینہ منورہ میں ہوگی اور رسول ا کے روضۂ اطہر میں آپ کی تدفین ہوگی ، یہ بات بڑی اہم ہے کہ قرآن مجید میں کتنے ہی انبیاء کا ذکر آیا ہے ؛ لیکن ان کے نام کے ساتھ ان کی ولدیت کا ذکر نہیں کیا گیا ، مثلاً اسماعیل بن ابراہیم ، یعقوب بن اسحاق یا یوسف بن یعقوب نہیں فرمایا گیا ، یہی صورت حال احادیث کی ہے ؛ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر قرآن و حدیث میں زیادہ تر عیسیٰ بن مریم کے نام سے ہے ، اور یہ ان حدیثوں میں بھی ہے جن میں قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کی پیشین گوئی کی گئی ہے ، یہ اس بات کی صراحت ہے کہ جو مسیح پہلے دنیا سے اُٹھائے جاچکے ہیں ، وہی حضرت مریم کے بیٹے مسیح پھر آسمان سے اُتارے جائیں گے ، یہ مراد نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جیسا یا آپ کی صفات کا حامل شخص موجودہ لوگوں میں ظاہر ہوگا ، یہ علامتیں اتنی واضح ہیں کہ کوئی حقیقت پسند شخص اس کی جھوٹی تاویل نہیں کرسکتا ، اس کی تاویل وہی شخص کرسکتا ہے ، جو دن کو رات کہنے سے بھی نہ شرماتا ہو۔


حضرت مسیح کا دوبارہ آسمان سے نازل ہونا ایک ایسا واقعہ ہے جس پر ڈھیر ساری حدیثیں موجود ہیں اور نقل حدیث کی جو سب سے اعلیٰ صورت ہوتی ہے جس کو ’ تواتر ‘ کہتے ہیں ، اس سے اس کا ثبوت ہے ، ہندوستان کے ایک بڑے محدث علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ نے ’’ التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ کے نام سے ان ساری روایتوں کو جمع فرمایا ہے ، قرآن و حدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اُمت محمدیہ کی تائید و تقویت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک خصوصی مقام حاصل ہے ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام من جانب اللہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ، اس بات نے بچپن ہی میں آپ کی دُور دُور تک شہرت پہنچائی ، پھر آپ کے ہاتھوں پر ایسے حیرت انگیز معجزے ظاہر ہوئے ، جس سے شہر شہر قریہ قریہ آپ کا چرچا ہونے لگا ، پھر جب آپ شہرت و تعارف کی بلند چوٹی پر پہنچ گئے تو آپ کی زبان مبارک سے رسول اللہ ا کی نبوت کی بشارت سنائی گئی ؛ تاکہ یہ پیغام دُور دُور تک پہنچے ؛ کیوںکہ جب کسی شخص سے حیرت انگیز باتیں ظاہر ہوتی ہیں تو اس کی ہر بات کان لگاکر سنی جاتی ہے ؛ اسی لئے جب رسول اللہ انبی بنائے گئے تو نہ صرف یہودیوں کے اور عیسائیوں میں بلکہ عربوں میں بھی یہ چرچا تھا کہ کوئی نبی ظاہر ہونے والا ہے ، یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے اوپر اُٹھالئے گئے ، اب پھر جب آپ قیامت کے قریب اُتارے جائیں گے تو اس کا مقصد بھی اُمت محمدیہ کی تقویت اور اسلام کو غلبہ عطا کرنا ہوگا ، یہاں تک کہ آپ خود نماز کی امامت کرنے کے بجائے امام مہدی کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے اور مسلمانوں کی خواہش کے باوجود امامت کے لئے تیار نہ ہوں گے ۔


دوسری شخصیت جن کی آپ انے خوشخبری دی ہے ، امام مہدی کی ہے ، امام مہدی نہ نبی ہوں گے، نہ ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے احکام کا نزول ہوگا ، نہ اللہ کی طرف سے ان سے کہا جائے گا کہ میں نے تم کو مہدی بنایا ہے ، یہ نبی کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشا ہوا کوئی ایسا عہدہ نہیں ہوگا ، جس پر ایمان لانے کی دعوت دی جائے ، یا ان کی مہدویت کو کلمہ کا جزء بنالیا جائے ؛ بلکہ ان کی حیثیت ایک خلیفۂ راشد کی ہوگی ، ان کا سب سے اہم کارنامہ اللہ کے راستہ میں جہاد اور عدل و انصاف کا قیام ہوگا ، وہ اس اُمت کے آخری مجدد اور خلیفۂ راشد ہوں گے ، نہ وہ مہدویت کا دعویٰ کریں گے اور نہ لوگوں کو اپنے آپ پر ایمان لانے کے لئے کہیں گے ؛ بلکہ وہ صلحاء اُمت میں سے ایک عظیم شخصیت ہوں گے ، لوگ ان کے ہاتھوں پر اطاعت اور جہاد کی بیعت کریں گے ، جیساکہ خلفائے راشدین کے ہاتھوں پر صحابہ نے کی تھی ، یہ لوگ انھیں ان علامتوں سے پہچانیں گے ، جو رسول اللہ نے بتائی ہیں اور اصرار کرکے ان کے ہاتھوں پر بیعت کریں گے ۔


چوںکہ امام مہدی اُمت ہی کے ایک فرد ہوں گے اور عام انسانوں ہی کی طرح ان کی پیدائش ہوگی ؛ اس لئے اس بات کا اندیشہ تھا کہ کچھ طالع آزما ، جھوٹے ، دھوکہ باز اور فریبی قسم کے لوگ اپنے آپ کو امام مہدی قرار دینے لگیں اور اس کو جاہ و مال کی سوداگری کا ذریعہ بنائیں ، غالباً اسی مصلحت کی خاطر آپ انے زیادہ تفصیل سے امام مہدی کے بارے میں بتایا کہ ان کا نام محمد ہوگا ، ان کے والد کا نام عبد اللہ ہوگا ، وہ حضرت فاطمہ ؓکے بڑے صاحبزادے حضرت حسن بن علی ؓکی نسل سے ہوں گے ، مدینہ منورہ میں ولادت ہوگی ، مکہ مکرمہ میں رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان لوگ آپ کے ہاتھوں پر بیعت کریں گے ، آپ کے ظہور سے پہلے دریائے فرات ( عراق ) میں ایک سونے کا پہاڑ ظاہر ہوگا ، جس کے لئے ایک خونریز جنگ ہوگی ، ان کے خلاف شام کی طرف سے سفیان نام کا ایک ظالم حکمراں مکہ پر حملہ آور ہوگا اور بری طرح شکست کھائے گا ، امام مہدی عیسائیوں کو شکست دیں گے ، ان کا قیام دمشق کی جامع مسجد میں ہوگا ، جب ان کی شناخت ہوجائے گی تو اس کے چھ سال بعد دجال کا خروج ہوگا ، آپ کی مدد کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اُتارے جائیں گے اور یہودیوں کو فیصلہ کن شکست دیں گے ، امام مہدی اپنے ہاتھوں پر بیعت کے بعد سات سے نو سال تک زندہ رہیں گے ۔


یہ تو امام مہدی کے بارے میں وہ باتیں ہیں ، جو دو اور دوچار کی طرح واضح ہیں ، یہاں تک کہ حدیث میں بعض ایسی شخصیتوں کے نام بھی ظاہر کئے گئے ہیں ، جو آپ کی مدد میں پیش پیش ہوں گے ، ان کے علاوہ امام مہدی کے اوصاف بھی واضح طورپر احادیث میں ذکر کئے گئے ہیں ، ان صراحتوں کا مقصد یہی سمجھ میں آتا ہے کہ کوئی شخص اس اُمت کا استحصال نہ کرسکے اور جھوٹی حیلہ بازیوں کے ذریعہ مہدی ہونے کا دعویٰ کرکے اُمت میں انتشار کا سبب نہ بن سکے ، افسوس کہ ایسی وضاحت کے باوجود ان پیشین گوئیوں کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے مختلف گمراہ فکر لوگ مسیح اورمہدی ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں ،اور اُمت کو انحراف و انتشار میں مبتلا کرچکے ہیں ، انھوںنے احادیث کو ایسا معنی پہنانے کی کوشش کی ہے کہ الفاظ کی ایسی بازیگری کے ذریعہ تو سفید کو سیاہ اور انسان کو گدھا بھی ثابت کیا جاسکتا ہے ، اور چوںکہ حدیث میں دو شخصیتوں کا ذکر آیا ہے : حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی ، ان دونوں کو جمع کرنا مشکل تھا ، یا شاید ان مدعیوں کو خود ایک عہدہ لے کر دوسرے کو کوئی عہدہ دینا گوارہ نہیں تھا ؛ اس لئے انھوںنے کہنا شروع کردیا کہ میں ہی مہدی بھی ہوں اور مسیح بھی ، اس تحریف اور بے جا تاویل کی سب سے بڑی مثال مرزا غلام احمد قادیانی ہے ، جس نے عیسائی قوتوں کے شہ پر پیغمبر اسلام اکی ختم نبوت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ۔


اسی طرح کی ایک مثال ابھی کچھ عرصہ پہلے شکیل نام کے ایک شخص کی شکل میں ظاہر ہوئی ہے ، جس کے والد کا نام حنیف ہے ، جو بہار کے شہر دربھنگہ کا رہنے والا ہے ، جس نے دہلی سے اپنی انحرافی کوششوں کا آغاز کیا ، اپنے مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ، احادیث نبوی کی نہایت نامعقول و بے بنیاد تاویلیں کیں ، جو زیادہ تر قادیانی لٹریچر سے ماخوذ ہیں اور اسی طرح کی تاویلات ہیں، جو ایران میں ’ باب ‘ اور ’ بہاء ‘ کے ماننے والے مرتدین نے کی تھی ، اب اس نے مہاراشٹر کے شہر اورنگ آباد کو اپنا مرکز بنایا ہے اور ملک کے مختلف حصوں خاص کر جنوبی ہند کے علاقوں میں لوگوں کی دین سے ناواقفیت کا فائدہ اُٹھاکر اس فتنہ کو پھیلانے کی کوشش کررہا ہے ، یہ دعویٰ اس قدر نامعقول ، گمراہانہ اور نادرست ہے کہ اہل علم کے لئے اس پر قلم اُٹھانے کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ؛ لیکن اصل خوف مسلمانوں کی ناواقفیت و جہالت سے ہے اور اس بات سے ہے کہ اسلام دشمن طاقتوں کے غلبہ کی وجہ سے مسلمان اس وقت سخت نااُمیدی کی حالت میں ہیں ، ان کے حوصلے ٹوٹے ہوئے ہیں ، ان کی ہمتیں شکستہ ہیں اوروہ کسی مرد ِغیب کے انتظار میں ہیں ، جو اس بھنور سے اُمت کی کشتی کو نکال لے جائے ، اس لئے وہ ایسے جھوٹے دعوے کرنے والوں کے گرد آسانی سے جمع ہوجاتے ہیں اور مصیبت کی اس گھڑی میں سراب کو آب اور پیتل کو سونا سمجھنے لگتے ہیں ، اس طرح کے بعض اور واقعات بھی کہیں کہیں پیش آرہے ہیں اور بعض لوگ مسیح و مہدی کے انتظار میں اس درجہ بے قرار ہیں کہ وہ کسی بھی مصنوعی نجات دہندہ کا دامن تھامنے کے لئے تیار ہیں ، مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی ایسے ہی حالات میں نبوت کا دعویٰ کیاتھا ، جب کہ انگریزوں کا غلبہ تھا اور مسلمان سخت مایوسی کی حالت میں تھے ۔


اس لئے علماء کو چاہئے کہ اچھی طرح اس مسئلہ کی حقیقت کو سمجھائیں اور مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ وہ اس بات کو سمجھ لیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اُتارا جانا ایک بنیادی عقیدہ ہے ، متواتر حدیثوں سے ثابت ہے اور اس کا انکار آخری درجہ کی گمراہی اور حدیث کا انکار ہے ، نیز مہدی کوئی ایسا منصب نہیں جس پر نبی کی طرح ایمان لایا جاتا ہو ، جو نبی کی طرح معصوم ہو اور جس پر اللہ کی طرف سے احکام اُتارے جاتے ہوں ، ایسا نہ ہوکہ وہ کسی ایسے شخص کی چرب زبانی کا شکار ہوجائیں جو دشمنانِ اسلام کے آلۂ کار ہوں اور جن کو اس اُمت میں انتشار پیدا کرنے کے لئے اُٹھایا گیا ہو ۔

وباﷲ التوفیق وھو المستعان ۔


پیشکش : سلسلہ عقائد اسلام، شعبۂ تحفظ اسلام میڈیا سروس، مرکز تحفظ اسلام ہند

حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آیات قرآنی!

 


حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آیات قرآنی!


از قلم : حضرت مولانا مفتی عبد الواحد قریشی صاحب مدظلہ


اہل السنۃ والجماعۃ کے بہت سارے عقائدہیں ۔جیسے توحید،رسالت،معاد وغیرہ، انہی عقائد میں سے ایک عقیدہ'' حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم'' ہے۔اس عقیدہ کا مختصر تعارف یہ ہے کہ نبی علیہ السلام دنیا میں تشریف فرماہونے کے بعد جب موت کا ذائقہ چکھتے ہیں تو اس کے بعد قبر مبارک میں نبی علیہ السلام کو زندگی عطاء کی جاتی ہے ۔یہ زندگی روح اور جسم عنصری کے تعلق کے ساتھ ہوتی ہے۔ اور اسی کی وجہ سے قبر مبارک پر پڑھے جانے والے صلوۃ وسلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس سنتے ہیں ۔یہ عقیدہ امت مسلمہ میں اجماعی رہا ہے۔ احناف،شوافع،مالکیہ اور حنابلہ جو اہل السنۃ والجماعۃ ہیں ،ان میں سے کوئی بھی اس عقیدے کا منکر نہیں اور یہ عقیدہ ان کو قرآن وحدیث واجماع سے ملا ہے۔اس دور میں اہل حق علماء دیوبند کا بھی یہی عقیدہ ہے اور یہ عقیدہ انہیں توارث سے ملا ہے۔


یہ عقیدہ قرآن مجید ،تفاسیر،احادیث ،شروح احادیث،کتب عقائد وکلام اور رسائل صوفیاء کرام میں ملتا ہے۔تمام کا احصاء تو اس مختصر مضمون میں نہیں ہوسکتااس لیے صرف قرآن مجید کی تفاسیر پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔


وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ


(البقرۃ:154)


کی تفسیر میں علامہ ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :


فلیس الشہید باولٰی من النبی وان نبی اللہ حی یرزق فی قبرہ کماورد فی الحدیث


(احکام القرآن تھانوی ج1ص92)


یعنی شہید نبی سے تو بہتر نہیں اور بالیقین اللہ کے نبی قبر میں زندہ ہیں اور ان کو رزق دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں آیاہے۔ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَنْ تَنْكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَدًا


(الاحزاب :53)


کی تفسیر میں علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:


قلت وجاز ان يكون ذلك لاجل ان النبي صلى اللّه عليه وسلم حىّ فى قبره ولذلك لم يورث ولم يتئم أزواجه عن أبى هريرة قال قال رسول اللّه صلى اللّه عليہ وسلم من صلى علىّ عند قبرى سمعته ومن صلّى علىّ نائيا أبلغته رواه البيهقي فى شعب الايمان.


(تفسیر مظہری ج7ص408)


یعنی میں [مفسر علام رحمہ اللہ]کہتا ہوں کہ ازواج مطہرات سے نکاح حرام ہونے کی یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر شریف میں زندہ ہیں۔اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مال کا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بیوہ نہیں ہوتیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آدمی میری قبر کے نزدیک مجھ پر درود عرض کرے گا میں اسے بنفس نفیس سنوں گااور جو دور سے پڑھے گا تو وہ مجھے پہنچایا جائیگا۔اس حدیث کو امام بیہقی رحمہ اللہ نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔


اسی طرح اسی آیت کی تفسیر کے تحت حضرت اقدس مولانامفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ازواج مطہرات سے نکاح حرام ہے۔ (اس کی دو جہیں ہیں۔ از ناقل)وہ بنص قرآن مومنوں کی مائیں ہیں ……اور دوسری وجہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات کے بعد اپنی قبر شریف میں زندہ ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ ایسا ہے جیسے کوئی زندہ شوہر گھر سے غائب ہو۔


(تفسیر معارف القرآن ج7ص203)


وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ


(آل عمران :169)


اس کی تفسیر میں سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : انبیاء علیہم السلام کی ارواح کا ان کے ابدان مقدسہ کے ساتھ قائم رہنا اور قبر پر جاکر سلام کرنے والے کے سلام کو سننا اور اس کا جواب دینا(ثابت)ہے۔


(تفسیر کشف الرحمن ج1ص114)


یاد رہے کہ اس تفسیر پر مولانا سیدحسین احمد مدنی رحمہ اللہ،شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ،مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ ،حضرت مولانا مفتی مہدی حسن شاہجہانپوری رحمہ اللہ کی تقاریظ ثبت ہیں اور یہ مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ کی نگرانی میں طبع ہوئی۔


يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا


(الاحزاب :45)


اس آیت کی تفسیر میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانامفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تمام انبیاء کرام علیہم السلام خصوصا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے گزرنے کے بعد بھی اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔


(معارف القرآن ج7ص177)


مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ


)الاحزاب:40)


اس آیت کی تفسیر میں علامہ آلوسی رحمہ اللہ ،علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کا یہ قول بلا نکیر نقل فرماتے ہیں: فحصل من مجموع ھذاالکلام النقول والاحادیث ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم حی بجسدہ وروحہ


(روح المعانی ج22ص36)


یعنی اس تمام کلام سے یہ بات حاصل ہوئی کہ نقول واحادیث کے مطابق نبی علیہ السلام اپنے جسد اور روح کے ساتھ زندہ ہیں۔پھر آگے مزید لکھتے ہیں:


والمرئی اماروحہ علیہ الصلاۃ والسلام التی ہی اکمل الارواح تجردا وتقدسابان تکون قد تطورت وظہرت بصورۃ مرئیۃ بتلک الرویۃ مع بقاء تعلقہا بجسدہ الشریف الحی فی القبر السامی المنیف


(ایضاًج22ص37)


جس کا خلاصہ یہ ہے کہ نظر آنے والی یا تو روح مقدس ہوگی جو کہ تمام روحوں سے مقدس ہے۔لیکن اس کاتعلق قبر شریف میں جسد مبارک سے ہوگا جو کہ زندہ ہے۔مزید ارقام فرماتے ہیں:


وقد الف البیہقی جزء فی حیاتہم فی قبورھم واوردہ فیہ عدۃ اخبار


( ایضاًج22ص 38)


یعنی امام بیہقی رحمہ اللہ نے انبیاء کرام علیہم السلام کے اپنی قبور میں زندہ ہونے پر ایک رسالہ لکھا ہے اور اس میں بہت سی احادیث ذکر کی ہیں۔مزید لکھتے ہیں :


ثم ان کانت تلک الحیوۃ فی القبر وان کانت یترتب علیہا بعض مایترتب علی الحیوۃ فی الدنیا المعروفۃ لنا من الصلاۃ والاذان والاقامۃ ورد السلام المسموع۔


( ایضاًج22ص 38)


جس کا حاصل یہ ہے کہ قبر کی اس زندگی پر دنیا والے کچھ احکام لگتے ہیں جیسے نماز، اذان ،اقامت اور سنے ہوئے سلام کا جواب دینا۔


فَضَرَبْنَا عَلَى آذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَدًا


(الکہف :11)


کی تفسیر میں امام رازی رحمہ اللہ نے کرامت کی بحث چھیڑ دی اور اسی میں یہ بھی درج کیا:


اما ابوبکرفمن کراماتہ انہ لما حملت جنازتہ الی باب قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم ونودی: السلام علیک یارسول اللہ ھذا ابوبکر بالباب فاذا الباب قد انفتح واذا بہاتف یہتف من القبر :''ادخلوا الحبیب الی الحبیب''


(مفاتیح الغیب المعروف تفسیر کبیر ج7ص433)


یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کرامات میں سے یہ ہے کہ جب ان کا جنازہ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر اٹھاکر لایا گیا اور "السلام علیک یارسول اللہ" عرض کرکے کہاگیا کہ یہ ابوبکر دروازے پر حاضر ہیں تو دروازہ کھل گیا اور قبر مبارک سے آوازدینے والے کی آواز آئی کہ دوست کو دوست کے پاس داخل کردو۔


وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ،


(النساء :64)


اس آیت کی تفسیر میں امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :


عن علی رضی اللہ عنہ قال قدم علینا اعرابی بعد مادفنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بثلاثۃ ایام فرمی بنفسہ علی قبر رسول ،وحثا علی راسہ من ترابہ فقال قلت یارسول اللہ: فسمعنا قولک ووعیت عن اللہ فوعیناعنک وکان فیہا انزل اللہ علیک وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ الخ وقد ظلمت نفسی وجئتک تستغفرلی، فنودی من القبر انہ قد غفر لک


(الجامع الاحکام القرآن ج5ص255)


یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دفن کرنے کے 3دن بعد ایک دیہاتی آیا اور قبر پر گر کر سر پر مٹی ڈال کر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ،ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی سے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محفوظ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر "وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ الخ" نازل ہوئی اور یقیناً میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے استغفار کریں تو قبر مبارک سے آواز آئی کہ تیری بخشش کردی گئی۔


مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ اسی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیوی حیات کے زمانہ میں ہوسکتی تھی ،اسی طرح آج بھی روضہ اقدس پر حاضری اسی حکم میں ہے…… اس کے بعد حضرت نے درج بالا واقعہ بحوالہ تفسیر بحر محیط ذکر فرمایا ہے۔


(معارف القرآن ج2ص459،460)


اسی طرح اسی آیت کے تحت علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے علامہ عتبی رحمہ اللہ کا واقعہ درج کیا ہے کہ ایک شخص نے آکر قبر مبارک پر استشفاع کیا توخواب میں علامہ عتبی رحمہ اللہ کو نبی علیہ السلام کی زیارت ہوئی کہ اس شخص کو بشارت دے دو کہ اللہ تعالی نے اس کی مغفرت فرمادی۔


(تفسیر ابن کثیر ج2ص315)


وَاسْئَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا


(الزخرف:45)


کے تحت حضرت مولانا علامہ سید انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ لکھتے ہیں :


یستدل بہ علی حیوۃ الانبیاء


(مشکلات القرآن ص234)


یعنی اس سے حیات الانبیاء پر دلیل پکڑی گئی ہے۔


وَلَا أَنْ تَنْكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَدًا


)الاحزاب:53)


کی تفسیر میں مفسر قرآن حضرت مولانا علامہ شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس مسئلہ کی نہایت بحث حضرت مولانامحمد قاسم نانوتوی قدس سرہ کی کتاب آب حیات میں ہے۔انتہی کلامہ اور آب حیات کس مسئلہ پر لکھی گئی اہل مطالعہ پر یہ مخفی نہیں۔


پیشکش : سلسلہ عقائد اسلام، شعبۂ تحفظ اسلام میڈیا سروس، مرکز تحفظ اسلام ہند