Tuesday, 26 January 2021

دارالعلوم دیوبند اور جمعیۃ علماء ہند کا ملک کی جنگ آزادی میں تاریخی کردار!


 

دارالعلوم دیوبند اور جمعیۃ علماء ہند کا ملک کی جنگ آزادی میں تاریخی کردار!

جدوجہد آزادی 1803ء سے 1947ء تک : ایک جائزہ!



از قلم : جانشین شیخ الاسلام حضرت مولانا مولانا سید ارشد مدنی مدظلہ

(صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند و صدر جمعیۃ علماء ہند) 


جدوجہد آزادی ہی نہیں ملک کی کوئی بھی تاریخہندوستان کے علمائے کرام کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی، خواہ وہ ملی یا قومی قیادت و سیادت ہو یا آزادیٔ وطن کے لئے میدان جنگ میں کود پڑنا، کسی تحریک کی قیادت ہو یا پھر کسی مصیبت اور پریشانی کے وقت میں لوگوں کی مدد و غمگساری، ہر میدان میں علماء نے اہم کارنامے انجام دئے ہیں اور حکومتِ وقت کے سامنے سینہ سپر ہوکر حق اور سچ بات رکھی ہے،ایک بڑی تاریخی سچائی یہ ہے کہ ہندوستان کی آزاد ی کی تحریک علماء اور مسلمانوں نے شروع کی تھی اور یہاں کے عوام کو غلامی کا احساس اس وقت کرایا جب اس بارے میں کوئی سوچ بھی نہیںرہا تھا، ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف سب سے پہلے عَلمِ بغاوت علماء نے ہی بلند کیا تھا اور جنگ آزادی کا صوربھی انہوں نے ہی پھونکا تھا۔ ہندوستان کے بے شمار لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کی پہلی آزادی کی لڑائی 1857ء میں لڑی گئی تھی، لیکن یہ بات اپنی تاریخ اور اپنے بزرگوں کی قربانیوں سے ناواقفیت پر مبنی ہے ۔ آزادی کی تاریخ 1857ء سے نہیں بلکہ 1799ء میںاس وقت شروع ہوئی جب سلطان ٹیپو شہیدؒ نے سرنگاپٹم میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا، جس وقت ان کے خون میں لتھڑی ہوئی لاش پر انگریز فوجی نے کھڑے ہوکر یہ بات کہی تھی کہ ’’آج سے ہندوستان ہمارا ہے‘‘ اس کے بعدہی انگریزیہ کہنے کی ہمت پیدا کر پائے کہ ’’اب کوئی طاقت ہمارا مقابلہ کرنے والی، ہمارے پنجے میں پنجہ ڈالنے والی نہیں ہے‘‘ اور پھر انہوںنے عملی طورپرچھوٹے چھوٹے نوابوں اور راجاؤں کو شکست دیکر ان کو سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کردیا۔ ٹیپو سلطانؒ کی شہادت اور انگریزوں کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کے بعدعلمائے کرام نے غلامی کی آہٹ کو محسوس کرلیا تھا اور اس کے بعد سے ہی جہادِ آزادی کاآغاز ہوا، جب انگریز نے 1803میں دہلی کے اندر یہ اعلان کیا کہ ’’خلق خدا کی، ملک بادشاہ کا‘‘ لیکن آج سے حکم ہمارا ہے، اس دن اس ملک کے سب سے بڑے عالم دین اور خدارسیدہ بزرگ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے بڑے بیٹے حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ نے دلّی میں یہ فتوی دیا کہ ’’آج ہمارا ملک غلام ہوگیا اور اس ملک کو آزاد کرانے کے لئے جہاد کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے‘‘ یہ جراء تمندانہ اعلان ایسے وقت میںکیا گیا کہ اس عالم دین کے علاوہ ہندوستان کے اندر کوئی ایسا نہیں تھا جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے مقابلہ میں اپنی زبان سے آزادیٔ وطن کے لیے جہادکا اعلان کرسکتا تھا۔اس فتویٰ کی پاداش میں ان کو بڑی بڑی تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں، انھیں زہر دے دیا گیا، ان کی جائداد کو قرق کرلیا گیا، ان کی آنکھوں کی بینائی اس زہر سے جاتی رہی، ان کو دلّی شہر سے در بدر کردیا گیا،وہ ان تمام سخت ترین حالات میں بھی انھوں نے اپنی موت سے پہلے دو روحانی شاگردپیدا کردیئے، ایک حضرت سیّد احمد شہید رائے بریلویؒ اور دوسرے شاہ اسماعیل شہیدؒ، ان لوگوں نے پورے ملک کے دورے کئے اور مسلمانوں سے جہاد کی بیعت اور اس کا عہد لیا کہ وہ ہمارے ساتھ ملک کی آزادی کے لیے اپنی جان قربان کردیں گے۔ اس کے بعد بالاکوٹ کے میدان میں ہزاروں مسلمان ان دونوں صاحبان کے ساتھ سب سے پہلی آزادیٔ وطن کی جنگ میں شہید ہوئے ،یہ سب سے پہلا آزادیٔ وطن کے لئے جہاد تھا جو دوسرے جہاد آزادی (1857) کا مقدمہ تھا،جو لوگ وہاں اس وقت ناکامی کے بعد واپس ہوئے ان لوگوں نے واپس آکر پھر اِکائیوں کو جمع کیا اور افراد کو تیار کیا،اورچھبیس سال کی محنت کے بعد1857میں دوبارہ آزادیٔ وطن کے لئے جہاد شروع ہوا جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوئے لیکن مسلمان زیادہ تھے اور ہندو کم تھے۔


آزادیٔ وطن کے لئے یہ دوسرا جہادبھی ناکام ہوا، اس جہاد کی پاداش میں علماء کو گرفتار بھی کیا گیا اور کچھ علماء نے اپنے آپ کو نظر بند کرلیا، جب یہ علماء تین چار سال کے بعد جیل سے باہر نکلے اور عام معافی کا اعلان ہوا تو انھوں نے بڑی عجیب و غریب چیز دیکھی کہ وہ یتیم جن کے باپ جامِ شہادت نوش کرگئے، انگریز کی دشمنی کی وجہ سے ان کے یتیم بچے سڑکوں پر ہیں، ان کے سرپر کوئی ہاتھ رکھنے والا نہیں ہے، ان حالات کا فائدہ اٹھاکر انگریزوں نے فکری محاذ پربھی اپنی لڑائی تیز کردی، چنانچہ کرسچن اسکول، عیسائی پوپ اور چرچ کے لوگ باہر نکل کر ان یتیموں کا ہاتھ پکڑتے اور کہتے کہ ہمارے ساتھ چلو ہم تم کو کھانا،رہائش اور تعلیم مفت دیں گے،مقصد ذہنی اعتبار سے ان کو انگریز بنانا تھا۔ یہ وہ بچے تھے جن کے آباء واجداد نے انگریز دشمنی میں جہاد آزادی میں جامِ شہادت نوش کیا لیکن اب انہیں کی اولاد انگریزوں کے ہاتھ میں تھی اور وہ ان کو فکری اعتبار سے


ان کو انگریز بنانا تھا۔ یہ وہ بچے تھے جن کے آباء واجداد نے انگریز دشمنی میں جہاد آزادی میں جامِ شہادت نوش کیا لیکن اب انہیں کی اولاد انگریزوں کے ہاتھ میں تھی اور وہ ان کو فکری اعتبار سے اپنا غلام بنانا چاہتے تھے، ان حالات کو دیکھ کر علماء کرام سرجوڑ کر بیٹھے اور فیصلہ لیا کہ دو جہادوں میں مجاہدین شہید کر دئے گئے اب ہمیں آزادیٔ وطن کے لئے ایسی فیکٹری کی ضرورت ہے جہاں اپنے ملک ہندوستان کو آزاد کرانے کے لئے اور غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لئے مجاہدین تیار کئے جائیں، چنانچہ مکمل سات سال کے بعد 1866ء میں انھوں نے دارالعلوم دیوبند کی بنیادرکھی اور بالکل وہی نعرہ دیا کہ ہم بچوں کومفت کھانااور رہائش کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم سے آراستہ کریں گے اوران بچوں کو ان کے آباء اجداد کی طرح جہادِ آزادی کے لئے مجاہد بنائیں گے، لیکن یہ تو فقیر اور بوریا نشین تھے ،توان لوگوں نے مفت طعام وقیام کے ساتھ مفت تعلیم کابھی پلان کیسے تیار کیا؟ یہ قابل حیرت بات تھی کہ ان لوگوں نے مدرسہ بنایا اور قوم کو پیغام دیا کہ ’’اگر غلامی کی لعنت کی زنجیر توڑ کر آزاد ہونا ہے تو اس مدرسہ کو زندہ رکھیں‘‘ پھر لوگوں نے دل کھول کر اس کی مدد کی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چند برسوں کے اندر بخارا، سمرقند، تاشقند، اور ہندوستان کے شہر شہر سے لڑکے جمع ہونا شروع ہوگئے جن کو مفت تعلیم دی جاتی تھی ، انھوں نے قوم کو یہ بتلایا کہ اگر یہ مدرسہ زندہ ہے تو آپ زندہ ہیں، اور آپ کی اولاد زندہ ہے، آپ کے گھر میںاسلام کی روشنی زندہ ہے، اور آپ آزاد ہیں۔ جنگ آزادی، اسلام کی آبیاری،وطن کی حفاظت، اسلام دشمن طاقتوں سے لوہا لینے کیلئے ایک تحریک کی شکل میں مجاہدین آزادی کو پیدا کرنے کے لئے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد ڈالی گئی اور پھردارالعلوم دیوبند نے ایسے سپوتوں کو پیدا کیا جنھوں نے اس ملک کے اندر آزادیٔ وطن کی آگ جلائی، اگر پوچھا جائے کہ ان میںسب سے پہلے سپوت اور دارالعلوم دیوبند کا سب سے مایۂ ناز سرمایہ کون ہے؟ تو جواب ـ’’ حضرت شیخ الہندؒ ‘‘ ہوگا، جو دیوبند کے رہنے والے مولانا محمود حسن صاحب ہیں، پستہ قد، دُبلا پتلا آدمی لیکن اس شخص کے دل کے اندر کیسی آزادیٔ وطن کی آگ تھی جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا، صوبہ جات

متحدہ کا انگریز گورنر مسٹن کہتاتھا:

’’اگر شیخ الہند کو جلاکر راکھ کردیا جائے تو ان کی راکھ کے اندر سے بھی انگریز دشمنی کی بو آئے گی‘‘۔

انھوں نے ’’ریشمی رومال‘‘ کی تحریک چلاکر انگریزوں کو حیران کردیا اور ان کو آخر تک معلوم نہیںہوا یہ تحریک کون چلارہے ہیں، انگریز حضرت مولانا عبیدا للہ سندھیؒ اور دوسرے علماء کو اس تحریک کا سربراہ سمجھتے رہے لیکن شیخ الہندؒ کا دماغ تھا جو انگریزوں کی سمجھ سے بالاتر تھا اور انہوں نے سینکڑوں ایسے جیالے اور جید علماء پیدا کئے کہ جنہوں نے انگریزی حکومت کی ناک میں دم کردیا تھا، شیخ الہندؒ کے ساتھ مالٹا میں اسیر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ بھی تھے جو شیخ الہندؒ کے خاص شاگر اور خاص خادم کا درجہ رکھتے تھے، انہوں نے شیخ الہندؒ کی خاطر جیل جانا ضروری سمجھا اور شیخ الہندؒ کی خدمت کے لئے جیل کی صعوبتوں کو کاٹا۔

شیخ الہندؒ آگے چل کر دارالعلوم کے سب بڑے استاذ بنے ، ساتھ ہی انھوں نے آزادیٔ ہند کے لئے اپنے شاگردوں کی ایک ٹیم اور جماعت تیار کرکے باضابطہ تحریک ِ آزادی شروع کی، تاریخ میں یہ تحریک ’’ تحریک ریشمی رومال‘‘ کے نام سے مشہور ہے، شیخ الہندؒ نے اس تحریک میں رنگ و روغن بھرنے کے لئے حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کو کابل بھیجا، دوسری طرف شیخ الہندؒ خلافت ِ اسلامیہ سے تعاون حاصل کرنے کے لئے حجاز مقدس تشریف لے گئے، شیخ الہندؒ کی یہ تحریک اگر کامیاب ہوگئی ہوتی تو ہندوستان کب کا آزاد ہوگیا ہوتا لیکن قدرت ابھی اور قربانیاں چاہتی تھی، شریف ِ مکہ کی غداری کی وجہ سے ریشمی خطوط (ریشمی رومال تحریک کے خطوط)پکڑے گئے اور حجاز مقدس ہی سے آپ کو گرفتار کرلیا گیا، گرفتاری کے بعد آپ کو مالٹا بھیج دیا گیا، شیخ الہندؒ جب مالٹا سے رہا ہوکر آئے تو عا م منظر نامہ بدل چکا تھا،س لئے انھوں نے ہندوستان کی آزادی کے لئے دوسرا طریقہ اختیار کیا اور جمعیۃ علماء ہند کو مشورہ دیا کہ وہ انڈین نیشنل کانگریس کا ساتھ دے اور تشدد کو چھوڑ کر عدم تشدد کا نعر ہ لگائے، شیخ الہندؒ کی وفات کے بعد ان کے شاگرد خاص رفیق مالٹا حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور شیخ الہندؒ کے شاگرد حضرت مفتی کفایت اللہ صاحبؒ وغیرہ نے ان کے نقش قدم پر چل کر تحریک ِ آزادی کو آگے بڑھایا۔

یہ ایک سوال ہے کہ جمعیۃ علماء ہند کی ضرورت کیوں پڑی اور شیخ الہندؒ نے اس کو کانگریس کے ساتھ مل کر کام کرنے کا مشورہ کیوں دیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جدوجہد آزادی میں کوئی ایسی مشترکہ تحریک نہیں تھی، جس کے بینر تلے مسلک و مذہب


آزادیٔ ملک کی خاطر جیل کی صعوبتیں


حضرت شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے آزادی کے حوالے سے اپنے استاذ کی کڑھن اور بے چینی کو جذ ب کرلیا تھا، چنانچہ انھوں نے حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ ، حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے سینہ اور دل کے اندر استعماری قوتوں کے خلاف جو آگ سمائی ہوئی تھی اس کو اور تیز تر کردیا اور جہاد آزادی کے لئے سینہ سپر ہوگئے، اُستاذِ محترم کے دنیا سے چلے جانے کے بعد حضرت مدنیؒ مکمل طور پر ملک کو آزادی دلانے میں لگ گئے، اپنے اُستاذ کی فکر کو آگے بڑھانا حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کا ایسا کارنامہ رہا جس کی نظیر ملنی مشکل ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ آپ نے اپنی 80؍سالہ زندگی میں کم وبیش 9؍سال انگریز کی جیل میں گذارے ہیں، یعنی یوں سمجھئے کہ ہر آٹھ دن کے اندر آپ کا ایک دن جیل میں گذرا ہے، اور اس کے اندر قید تنہائی بھی ہوئی، صعوبتیں اور مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ہے، حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ کس جیل میں آپ کو سب سے زیادہ تکلیف ہوئی؟ تو فرمایا کہ سابرمتی جیل گجرات کے اندر قید بڑی بامشقت تھی۔


سیکولر دستور بنوانے میں جمعیۃ علماء ہند کا کردار


ان کی قیادت میں جیسے جیسے ملک کی آزادی قریب آتی گئی، یہ لوگ انڈین نیشنل کانگریس کے بنیادی لوگوں مثلاً موتی لال نہرو، جواہر لال نہرو اور مہاتما گاندھی سے برابر عہد لیتے چلتے ہیں کہ ملک کی آزادی کے بعد ملک کا دستور سیکولر دستور بنے گا اور کانگریس بھی وعدہ کرتی ہے کہ مسلمانوں کی مسجدیں، مسلمانوں کے مدرسے، مسلمانوں کے امام باڑے، مسلمانوں کے قبرستان، مسلمانوں کی زبان، مسلمانوں کا کلچر، مسلمانوں کی تہذیب سب چیزیں محفوظ رہیںگی، اور ملک کا دستور سیکولر دستور بنے گا، ان لوگوں کا تیقن اور دانش مندی دیکھئے کہ یہ سمجھتے تھے کہ ملک کی اکثریت ہندو ہے، اور آج سے نہیں ہے، آٹھ سو سال اس ملک پر مسلمانوں نے حکومت کی ہے، اکثریت تو ہندو ہی کی تھی، وہ بدل تو نہیں گئی تھی؛ لیکن دستور ہندوستان کا سیکولر ہونا چاہئے، اللہ نے ان کو عجیب وغریب عقل ودانش سے نوازا تھا، اتفاق کی بات ہے کہ ملک آزاد ہوا، اور تقسیم ہوگیا اسلام کے نام پر ایک دوسرا ملک بن گیا، اس ملک کے بن جانے کے بعد قدرتی طور پر یہ مسئلہ اُٹھنا تھا کہ جب اسلام کے نام پر مسلمانوں نے اپنا ایک حصہ لے لیا ہے، تو اس ملک کو ہندو اسٹیٹ بننا چاہئے، چنانچہ ہندؤوں کے قد آور لوگ جو برابر آزادی میں شریک تھے، اُنہوں نے ہی یہ آواز اُٹھائی کہ اب ملک کا دستور سیکولر اسٹیٹ نہ بن کرکے ایک ہندو اسٹیٹ ہونا چاہئے، جمعیۃ کے اکابرین اس رائے کے خلاف کھڑے ہوگئے، کہ جو ہم سے وعدے کئے تھے، اُن وعدوں کو پورا کرو، کیوںکہ اگر ملک تقسیم ہوا ہے تو تم نے دستخط کئے ہیں، ہم نے نہیں۔اس لئے اس ملک کا دستور سیکولر بنے گا۔جمعیۃ علماء ہند کا مطالبہ اتنا مظبوط تھا کہ اس مطالبہ کے سامنے سرتسلیم خم کرنا پڑا اور ملک کا دستور سیکولر دستور بنا۔

کیا یہی جمہوریت ہے......؟



 کیا یہی جمہوریت ہے......؟ 


عبدالرحمن الخبیر قاسمی بستوی

ترجمان:تنظیم ابنائے ثاقب

ورکن شوریٰ مرکز تحفظ اسلام ہند


محترم قارئین کرام! 

انگریزوں کے خلاف ہندوستان کی جنگ آزادی تقریباً دو سو برس تک جاری رہی، اس دوران متعدد تحریکوں نے جنم لیا، ایک تحریک ختم ہوئی کہ دوسرے نے اس کی جگہ لے لی، یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ ۱۵/اگست ۱۹۴۷ء نصف شب کو وطن عزیز آزادی کی نعمت سے بہرہ ور ہوا۔

یہ نعمت ہمیں یونہی نہیں ملی بلکہ اس کے حصول کےلئے ہمارے بزرگوں نے اپنا لہو بہایا، اور یہ لہو ایک دو دن نہیں مہینے دو مہینے نہیں بلکہ وہ صدیوں تک بہتا رہا ۱۷۵۷ء میں سراج الدولہ نے اپنے لہو سے حصول آزادی کا جو چراغ روشن کیا تھا وہ ملک بھر میں برسوں گردش کرتا رہا کبھی یہ چراغ ٹیپو سلطان شہید رحمۃ االلہ علیہ کے ہاتھ میں اور کبھی اسے مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ کے ہاتھوں نے تھاما، کبھی اس میں حضرت شیخ الہند اور ان کے شاگردوں نے خون سے روشنی دی ان بزرگوں کی قیادت میں ہزاروں لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا گولیاں کھائیں، پھانسیوں پر لٹکے کتنے ہی لوگوں نے زندگی کے ماہ وسال قیدو بند کی صورتوں میں گزارے، جلا وطن ہوئے، اس داستانِ آزادی کا ہر حرف اور لفظ ہمارے بزرگوں کے خونِ شہادت سے رنگین ہیں۔ 

آزادی ملنے کے بعد یہ سوال ہوا کہ اب اس ملک کو کس رخ پر چلنا ہے مطلق العنانیت جبر واستبداء کی طرف یا انصاف اور مساوات کی طرف، تو اس وقت کے سیاسی لیڈروں اور حکومتی نمائندوں نے اتفاقِ رائے کے ساتھ طئے کیا کہ اب شہنشاہیت اور مطلق العنانیت کا دور ختم ہوچکا ہے، آزادی کی صبح ہوچکی ہے، یہ ملک اب جبراً استبداء کی تیرگی کے بجائے جمہوریت کی روشنی میں سفر کرے گا، اس طرح ۲۶/جنوری ۱۹۵۰ء کو ایک اور نعمت ملی اور وہ ہے اس ملک میں جمہوریت کی نعمت ۔ 

قارئین کرام! 

یہ دو دن ۱۵/اگست اور ۲۶/جنوری ہمارے لئے بڑی اہمیت کےحامل ہیں لیکن آج افسوس کہ جمہوریت صرف نام کی باقی رہ گئی ہے، آج ملک کو آزاد ہوئے ۷۲/سال اور جمہوری نظام قائم ہوئے ۷۰/سال ہوگئے، لیکن اگر ماضی کی طرف بڑھ کر دیکھا جائے تو آزادی اور جمہوریت محض سراب معلوم ہوتی ہے، جو دور سے دیکھنے میں بڑی خوبصورت و دلکش اور دلفریب ہے، مگر قریب جاکر دیکھا جائے تو سیاہ چمکتی ریت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، کیا واقعی ہمارے اسلاف اور بزرگوں نے اسی آزادی و جمہوریت کےلئے اپنی بیش قمیت جانیں قربان کی تھیں، اور کیا ہمارے دستور ساز رہنما ایک ایسا ملک بنانا چاہتے تھے جہاں طبقاتی کشمکش ہو، جہاں پسماندگی غربت وافلاس اور جہالت ہو، جہاں رنگ ونسل پر تفریق پر مبنی سیاست کا بول بالا ہو، جہاں اقتدار کےلئے تمام اخلاقیات اٹھاکر رکھ دی جاتی ہوں، جہاں قانون تو ہو مگر کمزوروں کےلئے جہاں طاقت اور قانون سے بالا تر ہوں، جہاں تنگ نظری عصبیت اور فرقہ واریت ہو، جہاں بے گناہوں اور بے قصوروں کو ناکردہ گناہوں کی سزا دی جاتی ہو، اور جیل کی سلاخیں برداشت کرنی پڑتی ہوں، اور مجرم کھلے بندوں گھومتے پھرتے ہوں، جہاں سیدھے سادے اور بے قصور لوگوں کو دہشت گرد قرار دئیے جاتے ہوں، اور اقلیتوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہوں، اور ان کے خلاف ہندوستان چھوڑو کے نعرے لگ رہے ہوں، جہاں کسانوں کے خلاف بل پاس کر کے کسانوں پر ظلم و زیادتی کا شکار بنایا جا رہا ہو،جہاں یونیفارم سول کوڈ جیسے بل پاس کرکے مسلمانوں کی شریعت میں مداخلت کی جارہی ہو، اگر یہ جمہوریت ہے تو شاید ہی کسی مذہب سماج کو ایسی جمہوریت کی ضرورت ہو؟

اللہ سے دعا ہیکہ انھیں صحیح سمجھ عطا فرمائے اور ملک میں صحیح معنی میں جمہوری نظام چلے۔ آمین ثم آمین

Tuesday, 19 January 2021

ارتدادی فتنوں سے بچاؤ کیلئے عقائد اسلام کی حفاظت وقت کی اہم ترین ضرورت!


 

ارتدادی فتنوں سے بچاؤ کیلئے عقائد اسلام کی حفاظت وقت کی اہم ترین ضرورت!

آن لائن تحفظ عقائد اسلام کانفرنس کی اختتامی نشست سے مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی کا خطاب!


بنگلور، 19؍ جنوری (ایم ٹی آئی ہچ): مرکز تحفظ اسلام ہند کی فخریہ پیشکش چالیس روزہ”سلسلہ عقائد اسلام“ کے زیر اہتمام منعقد آن لائن تحفظ عقائد اسلام کانفرنس کی اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ اسلامیہ مسیح العلوم، بنگلور کے بانی و مہتمم، فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی محمد شعیب اللہ خان صاحب مفتاحی مدظلہ نے فرمایا کہ عقیدہ و ایمان وہ چیز ہے جس کے اوپر انسان کی نجات کا دار و مدار ہے۔ اور اعمال کا نمبر عقیدہ کے بعد آتا ہے۔ ایک آدمی کا عقیدہ صحیح نہ ہو اور دین و شریعت کے بتائے ہوئے قانون کے مطابق نہ ہو تو ایسا آدمی روزہ بھی رکھے، نماز بھی پڑھے، زکوٰۃ بھی دے، حج بھی کرے لیکن اسکا کوئی اعتبار نہیں ہوا کرتا کیونکہ اعمال کا اعتبار ایمان اور صحیح عقیدہ پر ہے۔ اس لیے اسکی بڑی ضرورت ہے کہ مسلمان اس بات پر توجہ دیں کہ انکا ایمان صحیح ہو اور انکا عقیدہ اسلامی عقیدہ کے مطابق ہو، اس لیے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایمان کو بھی لیکر آئے جیسے اعمال کو لیکر آئے اور آپ نے لوگوں کو واضح طور پر بتا دیا کہ ایمان کیا ہوتا ہے؟ ایمان کیسا ہوتا ہے؟ ایمان کے لوازمات کیا ہیں؟ ایمان کے تقاضے کیا ہیں؟ کچھ چیزیں قرآن پاک نے بتائی اور کچھ چیزیں محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسکی تشریح میں اور اسکی وضاحت میں ارشاد فرمائیں۔ مفتی صاحب نے درد بھرے انداز میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ آج عقیدہ میں بڑی کمزوریاں پائی جاتی ہیں، اور نہ صرف یہ کہ کمزوریاں بلکہ کئی طبقات ایسے ہیں جنکے اندر عقیدہ کی خرابیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ایک ہے کمزوری کا ہونا اور ایک ہے خرابی کا ہونا، کمزوری اگرچہ نہیں ہونا چاہیے لیکن ایک حدتک قابل برداشت ہوتی ہے لیکن عقیدہ ہی خراب ہوجائے تو ساری چیزیں بیکار ہیں۔


مولانا نے فرمایا کہ اللہ کے بارے میں، اللہ کے رسولوں کے بارے میں، تقدیر کے بارے میں، صحابہ کے بارے میں، اہل اللہ کے بارے میں کیا عقیدہ رکھنا چاہیے یہ اسلام نے واضح طور پر ہمیں بتایا ہے لیکن اس کے باوجود بعض لوگ غلطیاں کرتے ہیں اور اپنے اندر عقیدہ کی خرابی پیدا کر لیتے ہیں یہاں تک کہ انکا عقیدہ اسلامی عقیدہ سے ہٹا ہوا ہوتا ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ اہل سنت و الجماعت جن میں اصحاب رسولؓ، تابعین، تبع تابعین اور ہر دور کے اہل حق کا طبقہ شامل ہے، انہوں نے ہم کو بتایا کہ کس کے بارے میں کیا عقیدہ رکھنا چاہیے، اس لیے کہ اگر عقیدہ خراب ہو گیا تو آدمی اہل سنت و الجماعت سے نکل جاتا ہے۔ مولانا مفتاحی نے فرمایا کہ ایک یہ ہے کہ آدمی ایمان نہ لائے، ایمان نہ لایا تو کافر ہو گیا اور اسکا اسلام سے کوئی رشتہ اور کوئی تعلق نہیں لیکن ایک آدمی ایمان تو رکھتا ہے، لیکن اسکے عقیدہ میں کچھ خرابیاں پیدا ہو گئی، اسکی وجہ سے وہ اہل سنت کے عقیدہ سے ہٹ جاتا ہے۔ اس لیے بڑی ضرورت ہے کہ اہل سنت کے عقیدہ کے مطابق اپنے عقیدوں کی اصلاح کی جائے، اپنے عقیدوں کو بنایا اور سوارا جائے۔


مفتی شعیب اللہ خان صاحب مفتاحی نے فرمایا کہ حدیث میں آقا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا بنی اسرائیل 72؍ فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت 73؍ فرقوں میں بٹ جائے گی ان میں سے 72؍ فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک فرقہ نجات پائے گا، حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا کہ یا رسول اللہؐ وہ ناجی فرقہ کونسا ہے؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا ”ما انا علیہ و اصحابی“ جو ان عقیدوں پر قائم ہو، جو اس ڈگر پر قائم ہو، اُس روش پر قائم ہو جس پر میں ہوں اور میرے صحابہ ہیں وہ فرقہ جنتی ہوگا۔ اور یہی عقیدہ اہل سنت و الجماعت کا ہے، جس کی طرف اللہ کے نبیؐ نے اشارہ کیا۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ آج ضرورت ہیکہ ہمیں اپنے اور دوسروں کے خصوصاً ہماری نئی نسلوں کے عقیدوں کو درست کرنے کی فکر کرنی چاہیے کیونکہ عقیدوں کی خرابی ہی وہ وجہ ہیکہ آج ہماری نئی نسلیں ارتدادی فتنوں کا شکار ہوتی جارہی ہیں۔ لہٰذا ارتدادی فتنوں سے بچاؤ کیلئے عقائد اسلام کی حفاظت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ قابل ذکر ہیکہ مفتی محمد شعیب اللہ خان صاحب مفتاحی مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا اور اس منفرد چالیس روزہ سلسلہ عقائد اسلام پر مبارکبادی پیش کی۔ علاوہ ازیں مفتی صاحب کی ہی دعا سے یہ سلسلہ اور کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچی۔

Sunday, 17 January 2021

پیام فرقان - 03

 


{ پیام فرقان - 03 }

🎯عقیدہ ہر عمل کی قبولیت کی اولین شرط ہے!


✍️ بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


عقیدہ ہر عمل کی قبولیت کی اولین شرط ہے، اگر عقیدہ درست ہو گا تو عمل قبول ہوگا اور اگر عقیدہ غلط ہوگا تو عمل قبول نہیں ہوگا۔ اسلامی عقیدے کی تعلیم وتفہیم اور اس کی طرف دعوت دینا ہر دور کا اہم فریضہ ہے۔ کیونکہ اعمال کی قبولیت عقیدے کی صحت پر موقوف ہے۔ اور دنیا وآخرت کی خوش نصیبی اسے مضبوطی سے تھامنے پر منحصر ہے اور اس عقیدے کے جمال وکمال میں نقص یا خلل ڈالنے والے تمام قسم کے امور سے بچنے پر موقوف ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے اور دوسروں کے عقیدوں کو درست کرنے کی فکر کرنی چاہیے تاکہ ہمیں دونوں جہاں کی خوشیاں اور کامیابیاں میسر ہو!


فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

17 جنوری 2021ء بروز اتوار

+918495087865

mdfurqan7865@gmail.com


Thursday, 14 January 2021

انسان کی نجات صحیح عقیدہ و ایمان پر منحصر ہے؛ توحید، رسالت اور آخرت اسلام کی بنیادی عقائد ہیں

 


انسان کی نجات صحیح عقیدہ و ایمان پر منحصر ہے؛ توحید، رسالت اور آخرت اسلام کی بنیادی عقائد ہیں!

آن لائن تحفظ عقائد اسلام کانفرنس سے مولانا محمد الیاس کا خطاب!


بنگلور، 14؍ جنوری (ایم ٹی آئی ہچ): مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن تحفظ عقائد اسلام کانفرنس کی تیسری اور چوتھی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مجلس تحفظ ختم نبوت ہانگ کانگ کے امیر مولانا محمد الیاس صاحب نے فرمایا کہ عقیدہ و ایمان کا نور تین ستونوں پر جگمگاتا ہے جسکو علماء کی اصطلاح میں ”الایمان بثلاثیات“ کہا جاتا ہے یعنی ایمان کے تین نہایت ہی اہم مسئلے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ پورے قرآن پاک میں الم کی الف سے لیکر والناس کی سین تک جگہ جگہ ان تین چیزوں کو بیان کیا گیا ہے۔ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی مجلسوں میں مختلف لوگوں کے سامنے مختلف مقامات پر بیان کیا ہے، پہلا توحید، دوسرا رسالت، تیسرا آخرت، یہ تینوں عنوانات ہیں اور انکو یاد رکھنا بہت ضروری ہے، یہی وہ عنوانات ہیں جس پر انسان کی نجات ٹھہری ہوئی ہے۔


مولانا محمد الیاس نے عقیدۂ توحید پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ مولانا ادریس کاندھلویؒ نے اپنی کتاب”عقائد الاسلام“ میں اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے متعلق 33؍ عقیدے لکھے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہیکہ اللہ جل شانہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اس لیے کہ شرکت عیب ہے اور اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے۔ نیز شریک کی ضرورت جب ہوتی ہے کہ جب وہ کافی اور مستقل نہ ہو اور یہ نقص ہے جو الوہیت کے منافی ہے، اور جب وہ خود کافی اور مستقل ہوگا تو شریک کا وجود عبث اور بیکار ہوگا اور وہ خدا نہیں ہو سکتا۔پس شریک ثابت کرنے سے دو شریکوں میں سے کسی ایک شریک کا ناقص اور عیب دار ہونا لازم آتا ہے جو الوہیت کے منافی ہے۔ غرض یہ کہ شرکت کا ثابت کرنا شرکت کی نفی کو مستلزم ہے، پس ثابت ہوا کہ اللہ کا شریک محال ہے اور جب یہ ثابت ہو گیا کہ خدا کا کوئی شریک نہیں تو اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ خدا کے لیے نہ کوئی بیٹا ہو سکتا ہے اور نہ بیٹی، اس لیے کہ اولاد باپ کی ہم جنس اور ہم نوع ہوتی ہے۔ مولانا الیاس صاحب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ذات کے اعتبار سے بھی اکیلا ہے اور صفات کے اعتبار سے بھی اکیلا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی پاک ذات میں بھی کوئی شریک نہیں اور اس پاک ذات کی صفات میں بھی کوئی شریک نہیں۔ اسی کو عقیدۂ توحید کہا جاتا ہے۔ مولانا الیاس صاحب نے اہل سنت و الجماعت کے عقیدۂ توحید پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جو ہمیشہ ہمیش سے ہے اور ہمیشہ رہیگی نہ جسکی ابتدا ہے نہ انتہا، اور یہ شان صرف اور صرف اللہ کی ہے اللہ کے سوا یہ کسی کی شان نہیں۔ مولانا نے فرمایا جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات قدیم ہے ازلی و ابدی ہے ٹھیک اسی طرح اللہ کی صفات بھی قدیم ہیں، ازلی و ابدی ہیں۔ اور اہل سنت کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ اللہ کی ذات ایک ہے اور اسکی صفتیں بہت ساری ہیں تو یہ صفات نہ عین ذات ہیں، نہ غیر ذات ہیں، بلکہ یہ سب لوازم ذات ہیں۔


مولانامحمد الیاس صاحب نے مولانا نورالحسن بخاریؒ کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا پہلا مقصد ہی عقیدۂ توحید کی خدمت ہے۔ مولانا الیاس نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ علماء اہل سنت و الجماعت کے نزدیک عقیدہ توحید اللہ تعالیٰ کو صرف ماننے اور صرف اللہ اللہ کرنے کا نام نہیں بلکہ عقیدۂ توحید یہ ہے کہ فقط اسی ایک اللہ کی عبادت ہو اور مشکل کشاء بھی اسی ایک کو سمجھا جائے پھر حاجت روا بھی فقط اسی پاک ذات کو مانا جائے۔ قابل ذکر ہیکہ مولانا محمد الیاس صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اطلاعات کے مطابق مرکز تحفظ اسلام ہند کی فخریہ پیشکش چالیس روزہ ”سلسلہ عقائد اسلام“ اور آن لائن تحفظ عقائد اسلام کانفرنس کا اختتامی پروگرام 15؍ جنوری 2021ء کو منعقد ہے اور فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی محمد شعیب اللہ خان صاحب مفتاحی مدظلہ کے خطاب و دعا سے اس سلسلے اور کانفرنس کا اختتام ہوگا۔