Friday, 8 October 2021

غلام حسن قیصر مجلس احرار اسلام ہند کے کارگزار صدر مقرر





 غلام حسن قیصر مجلس احرار اسلام ہند کے کارگزار صدر مقرر

احرار عزم اور استقامت کے ساتھ شیر اسلام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی کے نقش قدم پر چلیں گے 


لدھیانہ 8 اکتوبر (پریس ریلیز): برصغیر میں تحریک تحفظ ختم نبوتؐ کی علمبرداد جماعت مجلس احرار اسلام ہند کے قومی صدر و پنجاب کے شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی مرحوم کے گزشتہ دنوں انتقال کے بعد آج جماعت کی مجلس عاملہ کی جانب سے احرار کی وابستہ اور مرحوم صدر احرار کے قریبی رفقاء میں سے لدھیانہ کے معروف شاعر احرار جناب غلام حسن قیصر کو مجلس احرار اسلا م ہند کا کارگزار صدر مقرر کردیا۔ 72 سالہ جناب غلام حسن قیصر گزشتہ پچاس سال سے مرحوم قائد احرار مفتی محمد احمد رحمانی لدھانوی ؒ اور شیر اسلام حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی مرحوم کے ساتھ رہے ہیں۔ مجلس احرار اسلام کے سکریٹری شاہنواز خان نے بتایاکہ جناب قیصر اس عہدے پر مقرر کر دئے گئے ہیں تاکہ جماعت کی سرگرمیاں بدستور چلتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماہ دسمبر میں ہر سال یوم احرار کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں اس مرتبہ یوم احرار پر ہی مجلس احرار اسلام ہند کی مرکزیہ کا اجلاس ہوگا اور اس میں نئے صدر کا انتخاب کیا جائیگا۔اس موقعہ پر نئے مقرر کئے گئے احرار کے کارگزار صدر جناب غلام حسن قیصر نے کہا کہ احرار کا اولین مقصد تاج ختم نبوتؐ کی حفاظت ہے نیز احرار باطل قوتوں کے خلاف ہمیشہ اپنی مکمل طاقت کے ساتھ ٹکراتے رہے ہیں اور انشاء اللہ یہ سلسلہ جاری رہیگا۔جناب قیصر نے کہا ہم اپنے مرحوم امیر شیر اسلام حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی ؒ کے نقش قدم پر عزم ہمت اور حوصلہ کے ساتھ چلتے رہیں گے۔ 


فوٹو کیپشن۔مجلس احرار اسلام ہند کے کارگزار صدر جناب غلام حسن قیصر کا اعزاز کرتے ہوئے مجلس احرار اسلام ہند کے جنرل سکریٹری و شاہی امام پنجاب مولانا محمدعثمان لدھیانوی، محمدمستقیم احرار، مولانا عبد المنان قاسمی، مولانا مفتی محمد عارف قاسمی۔

Thursday, 7 October 2021

پیام فرقان - 14

 { پیام فرقان - 14 }



🎯حالات سے گھبرانے کی ضرورت نہیں!


✍️بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


تاریخ عروج وزوال شاہد ہے کہ قوموں کی زندگیوں میں ایسے سخت حالات آتے ہیں، جہاں انھیں اپنا وجود بھی خطرے میں نظر آنے لگتا ہے۔ بالخصوص مسلمان، جو روئے زمین پر خالق کائنات کی مرضیات کے نمائندے اور اس کے احکام تشریعیہ کے پابند ہیں، جب وہ اپنی منصبی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتے اور بے اعتدالیوں کے شکار ہوکر جادئہ حق سے ہٹنے لگتے ہیں تو ان کے ارد گرد حالات کا گھیرا تنگ کردیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی بے راہ روی کو چھوڑ کر مرضیِ حق کے تابیع ہوجائیں۔ لہٰذا مسلمانوں کو حالات سے گھبرانے یا مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بس اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی طرف توجہ دیں کیونکہ اسلامی تاریخ میں موجودہ حالات سے بھی بد ترین حالات کا مسلمانوں کو سامنا کرنا پڑا ہے اور دشمنان اسلام، دین اسلام یا مسلمانوں کو دنیا سے ختم کرنے کی اپنی سازشوں اور بھر پور کوششوں میں ناکام ہوئے ہیں، دشمنوں کو ناکام کرنے کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صبر کے ساتھ ثابت قدم رہیں، اللہ کی طرف رجوع کریں، نمازوں کے ذریعہ اللہ سے مدد طلب کریں، اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں اور اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ ان شاء اللہ کامیابی آپکے قدم چومے گی۔


فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

07؍ اکتوبر 2021ء بروز چہارشنبہ

منہاج نگر، بنگلور بعد نماز عصر 

+918495087865

mdfurqan7865@gmail.com


#PayameFurqan #پیام_فرقان

#ShortArticle #MTIH #TIMS #Islam #Muslim

Wednesday, 6 October 2021

پیام فرقان - 13

 { پیام فرقان - 13 }



🎯اتحادِ امت وقت کی اہم ضرورت!


✍️بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


اس وقت مسلمان پوری دنیا بالخصوص وطن عزیز ملک بھارت میں جن حالات سے گزر رہے ہیں وہ قابل تشویشناک ہے۔ دشمن طاقتیں جانتی ہیں کہ مسلمانوں کی کامیابی کا راز ان کے اتحاد و اتفاق اور ان کی اجتماعیت میں پوشیدہ ہے اس لئے وہ پوری قوت اس پر صرف کر رہی ہیں کہ یہ قوم متحد نہ ہوسکے افسوس کہ ہم میں سے بہت سے لوگ دشمنوں کو کامیاب ہونے کا موقع دے رہے ہیں اور مسلمانون میں اختلاف و انتشار کا سبب بن رہے ہیں۔ ہمیں اس بات کو ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ ہماری کامیابی کے لئے سب سے اہم اور بنیادی چیز ایمان و یقین اور عزم و حوصلہ کی مضبوطی کے بعد اتحاد و اتفاق اور اجتماعیت ہے، اس کے بغیر ہم اس ملک میں کبھی حوصلہ اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتے اور نہ ہی اپنی حیثیت عرفی قائم رکھ سکتے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہ آپسی انتشار و افتراق اور تقسیم و تفریق اس قوم میں ہے جس کا نقطۂ اتحاد لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہﷺ ہے، جس کا مرکزِ اتحاد کعبۃ اللہ ہے۔ آج مسلمانوں کے سارے مسائل کا حل ان کی اجتماعیت اور اتحاد میں چھپی ہے۔ موجودہ حالات میں خواہ وہ کسی بھی ملک کے ہوں، ہماری اجتماعیت وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے، اس سلسلے میں یہ امید یا مطالبہ تو زیادہ ہی سادگی کے مرادف ہوگا کہ ہم اپنے تمام تر اختلافات بھلاکر ایک ہوجائیں اور اپنی اپنی صفوں میں اتحاد کو قائم کریں۔ خدا کی قسم اگر ہم سب مسلمان متحد ہو جائیں تو کسی بھیڑئیے کی مجال نہیں ہے کہ وہ ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکے۔ 

علامہ اقبال رحمہ اللہ نے کیا خوب کہا:

منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک

ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک

حرم پاک بھی ایک اللہ بھی قرآن بھی ایک

کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک


فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

06؍ اکتوبر 2021ء بروز چہارشنبہ

منہاج نگر، بنگلور رات 9 بجے

+918495087865

mdfurqan7865@gmail.com


#PayameFurqan #پیام_فرقان

#ShortArticle #MTIH #TIMS #Itihad #Islam #Muslim

Thursday, 30 September 2021

دین سے دوری اورعقائد سے ناواقفیت فتنۂ ارتداد کی بنیادی وجہ ہے!

 


دین سے دوری اورعقائد سے ناواقفیت فتنۂ ارتداد کی بنیادی وجہ ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے اصلاح معاشرہ کانفرنس سے مفتی افتخار احمد قاسمی اور مفتی اسعد قاسم سنبھلی کا خطاب!


بنگلور، 30؍ ستمبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد آن لائن سہ روزہ اصلاح معاشرہ کانفرنس بعنوان ”مسلم لڑکیاں ارتداد کے دہانوں پر: اسباب اور حل“ کی تیسری اور آخری نشست سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے لیکن ان تمام نعمتوں میں قرآن و حدیث کی روشنی میں سب سے بڑی نعمت ایمان کی نعمت ہے۔ اگر ایمان کی نعمت نہ ہو تو دنیا میں گرچہ ظاہری فائدہ ہو بھی جائے تو موت کے بعد کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور ہمیشہ ہمیش کیلئے جہنم کو اپنا ٹھکانہ بنانا ہوگا۔ لیکن اسکی دوسری جانب اگر ایمان کی نعمت ہو تو اگر کچھ گناہوں کی وجہ سے جہنم میں چلا بھی جائے تو ایمان کی دولت کی وجہ سے ایک نہ ایک دن وہ جنت کا حقدار ہوگا۔ مولانا نے فرمایا کہ یہی وجہ ہیکہ اصحاب رسول نے بڑی سی بڑی قربانیاں دیں لیکن اپنے ایمان کا کبھی سودا نہیں کیا۔ کیونکہ ایمان جان سے بھی زیادہ قیمتی چیز ہے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ ایمان پر موت کامیابی کی علامت ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ دور حاضر میں ہمارے معاشرے میں ایمان کی قدر و قیمت کم ہوتی جارہی ہے۔ والدین اور سرپرستان کی بے دین دیکھ کر نئی نسلوں میں بے دین پیدا ہورہی ہے اور وہ دین سے ایسے غافل ہورہے ہیں کہ ارتداد کا راستہ اپنا رہے ہیں۔مولانا نے فرمایا کہ ضرورت ہیکہ ایمان کی قدر و قیمت کو ہمیں معاشرہ کے ہر ایک فرد کو گھول کر پلا دینا چاہیے۔حالات کتنے بھی ناساز کیوں نہ ہو لیکن دور نبوی کے حالات سے زیادہ خراب نہیں ہیں، ان حالات کا کیسے مقابلہ کرنا ہے اسکی ہمیں دین و شریعت نے مکمل رہنمائی کی ہے۔ مولانا نے فرمایا دین سے دوری اور غفلت فتنۂ ارتداد کی بنیادی وجہ ہے۔ اور ہمارے گھروں کا اگر معائنہ کریں تو معلوم ہوتا ہیکہ ہماری نسلوں کو ایمان سے دور کرنے والی چیزیں مثلاً ٹی وی، انٹرنیٹ وغیرہ ہمارے اطراف زیادہ ہیں اور ایمان کی حفاظت کرنے والی چیزیں کم ہیں لہٰذا ہمیں اپنے بچوں کی دینی تعلیم کو مضبوط کرنے اور گھر کے ماحول کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ مولانا قاسمی نے دوٹوک فرمایا کہ ہمیں چاہیے کہ اپنی نسلوں کی ایسی تربیت کریں کہ انکے اندر ایمان پر مر مٹنا کا جذبہ پیدا ہوجائے تاکہ وہ کسی بھی حالت میں ایمان کا سودا نہ کریں۔ مولانا نے فرمایا کہ مخلوط تعلیمی نظام ارتداد کے اسباب کی سب سے اہم کڑی ہے۔ لہٰذا ہمیں اس سے خاص احتیاط کرنی کی فکر کرنی چاہیے۔ مفتی افتخار احمد قاسمی نے فرمایا کہ لوگوں کی ایمان کی فکر کرنا پہلے والدین اور پھر علماء کرام اور ملی تنظیموں کی ذمہ داری ہے لہٰذا اگر وہ اپنی اپنی مکمل ذمہ داری نبھائیں تو ان شاء اللہ ہر ایک کا ایمان محفوظ رہے گا۔ قابل مبارک باد ہیں مرکز تحفظ اسلام ہند کے اراکین کہ انہوں نے اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے یہ کانفرنس منعقد کی۔


کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ شاہ ولی اللہؒ، مرادآباد کے مہتمم حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب نے فرمایا کہ ارتداد دنیا کی ایسی عظیم اور خطرناک قسم کی آفت ہے کہ دنیا میں اس سے بڑا حادثہ کوئی نہیں ہوسکتا۔ اگر آسمان پھٹ جائے، زمین دھس جائے تو بھی وہ حادثہ کم ہے لیکن ارتداد اس سے بڑا حادثہ ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ رسول اللہؐ کی وفات کے بعد بعض قبائل اسلام سے پھر کر مرتد ہوگئے تھے، خلیفہ اول سید نا ابوبکر صدیق ؓ کو جب اس کی اطلاع ملی تو آپ ؓ نے ان کے خلاف جہاد کیا اور ارتداد کے ذریعہ دشمنان اسلام کے جو کچھ منصوبے تھے ان سب پر پانی پھر دیا، اور وہ اپنی موت آپ مرگئے اور اسلام کے خلاف ساری سازشیں ناکام ہوگئیں۔مولانا سنبھلی نے فرمایا کہ ارتداد کی سب سے پہلی وجہ یہ ہیکہ ظالم حکمران کا ہم پر مسلط ہونا اور اپنی طاقت کا ناجائز فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو مرتد کرنے کی کوشش کرنا۔اسکی دوسری وجہ مخلوط تعلیمی نظام ہے اور دور حاضر میں نئی تعلیمی پالیسی جو نافذ ہوئی ہے دشمنان اسلام نے ایسی سازش رچی ہیکہ اس نئی تعلیمی پالیسی کے چلتے بچے اپنی پڑھائی مکمل کرنے تک خود بہ خود مرتد ہوجائیں گے۔ مولانا نے فرمایا کہ ارتداد کی تیسری وجہ حد سے زیادہ اتحاد بھی ہے، اس ملک میں بین المذاہب  اتحاد کی یقیناً ضرورت ہے لیکن وہ بھی شریعت کے حدود میں ہو ورنہ ایک بڑی تعداد اتحاد کے چلتے غیروں کے کفر و شرک کی تقارب میں بھی حصہ لینے لگتی ہے اور بعد میں مرتد ہوجاتی ہے۔چوتھی وجہ یہ مسلمانوں کی معاشی تنگی ہے۔ کیونکہ اغیار مسلمانوں کی غربت وجہالت سے فائدہ اٹھا کر ان کی مدد کو پہونچتے ہیں اور پھر اس مدد کے نام پر ان کے دین وایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ مولانا سنبھلی نے فرمایا کہ ہمیں ان تمام اسباب پر غور کرنا چاہیے اور اس اعتبار سے اسکا حل تلاش کرنا چاہیے۔ مولانا نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے اپیل کرتے ہوئے فرمایا کہ بورڈ ارتداد کے سلسلے میں ایک الگ شعبہ ملکی سطح پر بنائے اور ہر صوبوں، اضلاع اور گاؤں میں اسکی ذیلی کمیٹیاں ہو جو اپنے علاقوں کا معائنہ کرے اور کوئی واقعہ درپیش ہوتو وہاں فوری طور پر پہنچ کر مناسب اقدامات کرے۔ اسی کے ساتھ مکاتب کے نظام کو مضبوط کیا جائے اور ہر گاؤں گاؤں میں عقائد کی تعلیم بالخصوص عقیدۂ توحید و رسالت پر زور دیا جائے اور مسلمانوں اور ان کے بچوں کے دلوں میں کفر و شرک کی نفرت بٹھا دی جائے۔مفتی اسعد صاحب نے فرمایا کہ چونکہ مرد حضرات کو علماء کرام کے مواعظ حسنہ سے استفادہ کا زیادہ موقع ملتا ہے لیکن مستورات کو کم ملتا ہے، جس وجہ سے ارتداد کا فتنہ عورتوں میں زیادہ پایا جارہا ہے لہٰذا ہمیں خواتین کے ہفتہ واری اور ماہانہ اجتماع منعقد کرنے کا نظام بنانا چاہئے اور مساجد والوں کو چاہیے کہ وہ جمعہ بیان کو مسجد تک محدود نہ کریں بلکہ اپنے محلہ کے ہر ایک گھر میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پہنچانے کی کوشش کریں۔ مولانا نے فرمایا کہ باطل ایک سیلاب کی طرح آتا ہے لہٰذا ہم اگر تھوڑی سی کوشش کریں تو اللہ کی مدد و نصرت شامل حال ہوگی اور یہ باطل پر حق غالب آئے گا۔


قابل ذکر ہیکہ یہ اصلاح معاشرہ کانفرنس مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمدفرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مفتی محمد مصعب قاسمی کی نعتیہ کلام سے ہوا، جبکہ مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی بطور خاص شریک تھے۔ کانفرنس سے خطاب کرنے والے دنوں اکابر علماء کرام نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا اور اس کانفرنس کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام مقررین و سامعین اور مہمانان خصوصی کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب کی دعا سے یہ سہ روزہ اصلاح معاشرہ کانفرنس اختتام پذیر ہوا۔

Monday, 20 September 2021

لدھیانہ میں مجلس احرار اسلام ہند کے زیر اہتمام تعزیتی اجلاس کا انعقاد، پنجاب اور ملک کی دیگر ریاستوں سے ہزاروں علماء کرام شامل ہوئے!

 




لدھیانہ میں مجلس احرار اسلام ہند کے زیر اہتمام تعزیتی اجلاس کا انعقاد، پنجاب اور ملک کی دیگر ریاستوں سے ہزاروں علماء کرام شامل ہوئے!

شیر اسلام شاہی امام پنجاب مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانویؒ پنجاب ہی نہیں ملک بھر کے مظلوموں کی آواز تھے: مولانا سجاد نعمانی کا بیان



  لدھیانہ 20 ستمبر (پریس ریلیز): بر صغیر کے شعلہ بیان اور بے خوف عالم دین مجلس احرار اسلام ہند کے امیر و شاہی امام پنجاب مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانویؒ کے وصال کے بعد آج یہاں تاریخی جامع مسجد لدھیانہ کے سامنے مجلس احرار اسلام ہندکی جانب سے تعزیتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔اجلاس کی صدارت حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی صاحب نے فرمائی، جبکہ بوڑیا یمنانگر سے پیر جی حافظ حسین احمد صاحب قادری خصوصی طور پر موجود تھے۔ تعزیتی اجلاس میں پنجاب کی تمام مساجد کے امام صاحبان اور ذمہ داران موجود تھے نیز دیگر ریاستوں سے بڑی تعداد میں علماء کرام شامل ہوئے۔ نظامت کے فرائض مولانا محمد طیب صاحب طاہرپور رائے پور اور شری سوشیل کمار پراشر نے ادا کئے۔ اجلاس کی ابتداء قاری محمد محترم کی جانب سے قرآن پاک کی تلاوت سے کی گئی جس کے بعد شان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں قاری محمد مستقیم کریمی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ اس تعزیتی اجلاس میں تمام مذاہب اور سیاسی و سماجی جامعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے جن میں گردوارہ دکھ نورن صاحب کے پردھان پرتپال سنگھ، چیئرمین عتیق الرحمن لدھیانوی،کیبنٹ منسٹر بھارت بھوشن آشو وزیر اعلیٰ پنجاب کیپٹن امریندر سنگھ کی جانب سے تعزیتی پیغام لیکر آئے۔ نیز پنجاب وددھان سبھا میں عام آدمی پارٹی کے اپوزیشن لیڈرہرپال سنگھ چیمااکالی دل باد کے سینئر لیڈر سابق کیبنٹ منسٹر ہیرا سنگھ گابڑیا، چرچ نارتھ انڈیاسے اگسٹن داس،شری گیان استھل مندر کے پردھان جگدیش بجاج، تخت شری کیس گڑھ صاحب کے سابق جتھیدار گیانی کیول سنگھ، چیئرمین امرجیت سنگھ ٹکہ، اطہر لدھیانوی سابق سکریٹری حج کمیٹی دہلی، بالمیکی سمودائے سے نند کشور، مفتی صدام حسین لدھیانوی، قاری الطاف الرحمن لدھیانوی، مجاہد طارق لدھیانوی سمیت متعدد معززین شامل تھے۔اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڑ کے رکن و ملک کے ممتاز عالم دین حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے کہا کہ مجلس احرار کے امیر و شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانویؒ صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ ملک بھر کے مظلوموں کی آواز تھے،یہ شیر ہمیشہ اس وقت گرجتا تھا جب ظلم کے سامنے مظلوم کے حق میں آواز اٹھانے والے خاموش نظر آتے تھے۔ مولانا سجاد نعمانی نے کہا کہ آج مولانا حبیب الرحمن ثانیؒ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں لیکن انکی جرأت اور استقامت و حق گوئی مجلس احرار اسلام ہند اور انکے جانشین مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی کی شکل میں موجود ہے اور ہم دعا کرتے ہیں کہ یہ احباب احرار کی عظیم روایات کو ہر دور میں اندہ رکھیں گے۔ تعزیتی اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے پیر جی حافظ حسین احمدصاحب بوڑیا نے کہا کہ مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانویؒ نے اپنے دادا رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی اول مرحوم کے ہم نام ہونے کا حق ادا کردیا۔ آپ میں وہی جرأت اور بیباکی تھی جو علمائے لدھیانہ کی شان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عظیم خاندان نے ہر دور میں ملک و قوم کی خدمت کی ہے اور تحریک تحفظ ختم نبوتؐ کے لئے شیر اسلام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی کی خدمات آب زر سے لکھی جانے والی ہیں کہ آپ کا نام سن کر منکرین پر آج بھی لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ پیر جی نے کہا کہ پنجاب و ہریانہ سمیت ملک بھر کے مسلمان آپکے جانشین مولانا محمد عثمان حمانی لدھیانوی کے ساتھ ہیں۔پنجاب کے اپوزیشن لیڈر ہرپال سنگھ چیمہ نے کہا کہ تمام مذاہب کے لوگ مرحوم شاہی امام صاحب سے اس لئے محبت کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے کبھی کسی سے کوئی بھید بھاو نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی عوام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی کو ہمیشہ احترام اور فخر کے ساتھ یاد کرتی رہیگی۔اکالی دل کے نمائدے و سابق جتھیدار ہیرا سنگھ گابڑیا نے کہا کہ مرحوم شاہی امام پنجاب مولانا حبیب الرحمن مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی خدمات میں بھی پیش پیش تھے، لاک ڈاؤن میں جو مثالی خدمات شاہی امام صاحبؒ کی قیادت میں جامع مسجد سے کی گئیں اس کی نظیر نہیں ملتی،اس موقعہ پر آپکے بچپن کے دوست اور مشہور اکالی لیڈر سردار پرتپال سنگھ نے کہا کہ شاہی امام پنجاب مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی حقیقت میں شیر تھے، آپ نے ہمیشہ دہشت گردی کی مخالفت کی اگر کھی پاکستان کی طرف سے کوئی بات ہوئی تو سیدھا اسکے خلاف بیان دیا اور جب کبھی ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف کوئی بڑے سے بڑا فرقعہ پرست بولا تو اسکے بھی دانت کھٹے کر دئے، انہوں نے کہا کہ ڈرنا اور خاموش ہو جانا پنجاب کے شاہی امام مرحوم مولانا کو آتا ہی نہیں تھا انہوں کہ ہم سب اپنے بھتیجے نئے شاہی امام پنجاب مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر خطاب کرتے ہوئے جانشین امیر احرار شاہی امام پنجاب مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی نے اپنے مختصر اور ولالہ انگیز خطاب میں کہا کہ ہم سب انشاء اللہ خون کے آخری قطرہ تک تحریک تحفظ ختم نبوتؐ جاری رکھیں گے انہوں نے کہا کہ تمام دوست اور دشمن یقین رکھیں کے وہ مجھے اپنے ساتھ اور سامنے ہر حالت میں قائم و دائم پائیں گے ہم اللہ کی طاقت کے ساتھ پرچم حق کو بلند کرتے رہیں گے۔ اجلاس کے اختتام پر مجلس احرار اسلام ہند کے سرپرست اورمعروف عالم دین پیر جی حافظ حسین احمد صاحب قادری بوڑیانے دعاء کروائی۔ قابل ذکر ہے کہ اجلاس میں متعدد علماء کرام نے خطاب کیا اور تمام وقت مجمع سے اللہ اکبر و ختم نبوتؐ کی فلک شگاف صدائیں بلند ہوتی رہیں، بعد نما ظہر شروع ہوا یہ اجلاس نماز عصر کے وقت اختتام پزیر ہوا، اجلاس میں لدھیانہ پولیس اور پرشاسن کی طرف سے اعلیٰ انتظامات کئے گئے تھے۔

فوٹو کیپشن۔لدھیانہ میں شیر اسلام شاہی امام پنجاب مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی کے تعزیتی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی، انکے ساتھ پیر جی حافظ حسین احمد صاحب، شاہی امام پنجاب مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی، سردار پرتپال سنگھ و دیگر معززین۔۔۔۔(آزاد)