Monday, 6 December 2021

بابری مسجد محض عبادت گاہ نہیں بلکہ ہمارا وجود ہے، ہماری پہچان ہے، وطن ہمارے رشتے کا بندھن ہے!

 بابری مسجد محض عبادت گاہ نہیں بلکہ ہمارا وجود ہے، ہماری پہچان ہے، وطن ہمارے رشتے کا بندھن ہے! 



✍️ مولانا سید ایوب مظہر قاسمی

(رکن شوریٰ مرکز تحفظ اسلام ہند)


 

میرے پیارو! ہمارا ملک ہندوستان ایک دو نہیں ہزاروں لاکھوں مسجدوں سے سجا ہے، جن میں ہم مسلمان صوم و صلوٰۃ اور تعلیم و تبلیغ جیسے فرائض انجام دے رہے ہیں- لیکن بابری مسجد محض ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ وہ مسلمانوں کی شان ہے، پہچان ہے، ہند میں ہمارے وجود اور قدیم ہونے کا ثبوت ہے، بھارت سے ہمارے رشتے کا اعلان ہے- بابری مسجد ہماری روشن تاریخ ہے، کوئی بھی قوم اپنی تاریخ سے جدا ہوکر اپنا وجود ثابت نہیں کرسکتی- بابری مسجد کے بنا وجود ہماری پہچان ہند میں ادھوری ہے، آج کی ظالم حکومت اور اس کے کارندے برسوں سے مسلمانوں کی تاریخ مٹانے نسخ مسخ کرنے کی انتھک و منظم کوشش کررہے ہیں، شہر گلی کوچوں چوراہوں سڑک بازاروں سے مسلم نام بدلے حضرت ٹیپو سلطان شہید رحمۃ اللہ علیہ کی روشن تاریخ کو بدلنے کی ناپاک کوشش کی جگہ جگہ مسلمانوں اور ان کی جائیداد کو نقصان پہونچایا مسجدوں سے اذان اور سڑک بازار کے کناروں بلا خلل نماز پڑھنے پر پابندی اور ان جیسی ہزار ناپاک و گھناؤنی سازش کئے اور کررہے ہیں، اذان و مسجد شعائرِ اسلام میں سے ہیں جس کی حفاظت ہر مسلمان کیلئے اپنی جان سے بڑھ کر ہے، حکمت کے نام پر ان حادثوں کو بھولنا یا ان جان بننا بزدلی ہے جو ایمان کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتا- بابری مسجد کی شہادت تو ایک المناک و کربناک حادثہ تھا ہی پر 9 نومبر 2019 کو عدالتِ عظمیٰ سپریم کورٹ کا بابری مسجد کے تعلق سے لیا گیا غیر منصفانہ فیصلہ دوبارہ ظالمانہ شہادت اور مسلمانوں کی تاریخ پر حملہ کرنے جیسا ہے، ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے جس سے نہ درد کم ہوگا نہ غصہ، ہمارے جذبات اس انسانیت شرمسار فیصلے کے بعد پہلے سے زیادہ گرم ہیں- ہم ملک کی عدالت کا احترام کرتے ہیں ملک کے امن و سالمیت کا لحاظ کرتے ہیں پر ہمارا دکھ یا ہماری ایمانی حرارت قومی جذبہ ابھی سرد نہیں ہوا مسجدیں ہیں بہت پر انصاف چاہیے ہمیں سب یاد ہم بھولے کچھ نہیں ہم ہندوستانی مسلمان ہیں ہمارے قلب و جگر ایمان اور حب الوطنی سے لبریز ہیں اور بابری مسجد ہمارے ایمان کا حصہ حب الوطنی کی مثال اور تاریخ کا ثبوت ہے، جس کی یاد نسل در نسل چلے گی، ہم انتظار میں ہیں، ہوگا ضرور ہوگا ایک دن انصاف ہوگا انصاف ملے گا-

میرے عزیزو! اپنی نسل اصل تک اس کی تاریخ کو اجاگر کرو، اپنے جذبات کو گرماؤ، تاریخ وہ جڑ ہے جس کٹ کر کوئی قوم زیادہ دن جی نہیں سکتی وہ اپنا وجود اپنا سب کھوبیٹھے گی- دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ یوں ہمیں سزا نہ دے ہمیں انصاف دے ملک کے سازگار کرے شرپسندوں کو ہدایت دے-


سید ایوب مظہر شیموگہ

9686251595


جاری کردہ :مرکز تحفظ اسلام ہند

Thursday, 25 November 2021

Taleem-e-Nafsiyaat

 Book: Taleem-e-Nafsiyaat





Author : Mufti Masoom Saqib Qasmi Saheb DB


Sunday, 14 November 2021

مرکز تحفظ اسلام ہند کی”سلطان ٹیپو ٹیوٹر مہم“ کامیابی سے ہمکنار!

 





مرکز تحفظ اسلام ہند کی”سلطان ٹیپو ٹیوٹر مہم“ کامیابی سے ہمکنار!

حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کی مخالفت فرقہ پرستوں کا محض سیاسی ایجنڈا ہے: محمد فرقان


بنگلور، 13؍ نومبر (پریس ریلیز): شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ انگریزوں کے خلاف ہندوستان کی جنگ آزادی کے اولین مجاہد ہیں جنہوں نے انگریزوں کی بالادستی کو ماننے سے انکار کیا اور ان کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ وہ ایک عادل اور رعایا پرور حکمران تھے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا- انہوں نے فرمایا کہ ہندوستان کی تاریخ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک ٹیپو سلطان شہید ؒ جیسے عظیم محب وطن، بہادر اور بے لوث ملک وملت سے محبت کرنے والے قائد وجنرل کا ذکر نہ کیا جائے۔ اور یہ ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے کہ اس ملک کی آزادی کے لیے پہلے میدان میں اترنے والوں میں ٹیپو سلطان شہیدؒ کا نام آگے ہے، اور رعایا کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے میں اور غیر مسلموں کے ساتھ حقوق وانصاف کا سلوک کرنے میں بھی ٹیپو سلطان ؒ اپنی سنہری تاریخ رکھتے ہیں۔ محمد فرقان نے فرمایا کہ آج کی تاریخ میں حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒکو محض ووٹوں اور اقتدار کے لیے متعصب قرار دیا جاتا ہے۔ جو لوگ اُن کی مخالفت کرتے ہیں وہ بھی جانتے ہیں کہ ٹیپو سلطانؒ عدل و انصاف اور مذہبی رواداری کے علمبردار تھے۔ وہ حقیقت کا اظہار اس لیے نہیں کریں گے کیونکہ وہ سیاسی فائدے گنوا دیں گے۔ اپنے سیاسی مفاد کے خاطر فرقہ پرست طاقتیں حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کے خلاف غلط پروپگنڈہ کرتے ہوئے لوگوں کو گمراہ کرتی ہیں۔ لہٰذا ایسے وقت میں ضرورت ہیکہ ہم زیادہ سے زیادہ حضرت کی اصل سیرت کو عام کریں اور فرقہ پرستوں کے بے بنیاد الزامات کا منھ توڑ جواب دیں۔ مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے فرمایا کہ اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند نے 10؍ نومبر 2021ء کی شام چھ بجے سے ”سلطان ٹیپو ٹیوٹر مہم“ چلائی۔ جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے اور گرانقدر ٹیوٹس کئے۔ خصوصاً حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی، مفتی یاسر ندیم الواجدی، مفتی حنیف احرار قاسمی، محمد یاسین ملک، رضا خان، سید الیاس ابراہیم، یاسر مولوی، محمد ابوذر، ندیم شاکر، ڈاکٹر ثقلین، رضیہ مسعود، رافعہ سلطان، نرگس بانو، ثفوان خان، عبد الستار، مولانا شمس تبریز قاسمی، مولانا سمیع اللہ خان، مفتی شمس الہدی قاسمی، سید عبید الرحمن، عرفان ترکی سمیت مختلف حضرات بالخصوص جملہ اراکین مرکز تحفظ اسلام ہند نے اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، انکے علاوہ بھی مختلف شخصیات اور اداروں نے اس مہم میں تعاون کیا اور گرانقدر ٹیوٹس کئے۔ نیز حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی اور حضرت مفتی افتخار احمد قاسمی وغیرہ نے بھی اپنا مختصر پیغام دیا جس سے مہم کو تقویّت ملی۔اس موقع پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے فرمایا کہ مختصر کوششوں کے ساتھ ہنگامی طور پر چلائی گئی یہ مہم میں الحمد للہ 12؍ ہزار سے زائد ٹیوٹس ہوئے جس کی ریچنگ 5 لاکھ 15 ہزار افراد تک ہے۔ محمد فرقان نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی ایسے اہم مواقع پر برادران اسلام کی جانب سے مکمل تعاون رہے گا۔ قابل ذکر ہیکہ اس ٹیوٹر مہم کے ذریعے حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کی جہاں سیرت عام ہوئی وہیں فرقہ پرستوں کو دلائل کی بنیاد پر منھ توڑ جواب بھی دیا گیا۔

Tuesday, 9 November 2021

شیر میسورحضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ تحریک آزادی، عدل و انصاف اور مذہبی رواداری کے علمبردار تھے!








 شیر میسورحضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ تحریک آزادی، عدل و انصاف اور مذہبی رواداری کے علمبردار تھے! 

مرکز تحفظ اسلام ہند کے ”سلطان ٹیپوؒ ٹیوٹر مہم“ میں حصہ لینے کی مفتی افتخار احمد قاسمی نے کی اپیل!


 بنگلور، 09؍ نومبر (پریس ریلیز): اگر ارضِ ہند پر کسی نے انگریزوں کو دن میں تارے دکھائے تو اس عظیم شخصیت کا نام ہے شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ ہے۔ جنہوں نے مادر وطن کی حفاظت اور دشمنوں کے ناپاک وجود سے اس سرزمین کو پاک کرنے کے لیے اپنی جان تک قربان کردیا۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب (مہتمم جامعہ اسلامیہ تعلیم القرآن بنگلور) نے کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کا شمار ان عظیم شخصیات میں ہوتا نے جنہوں نے آزادی ہند کی پہلی شمع جلائی اور لوگوں کے دلوں میں اپنے ملک کی حفاظت اور اس کیلئے اپنی جان کو قربان کرنے کا جذبہ پیدا کیا۔ آپکی حکومت اور زندگی دونوں قابل رشک ہے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒنے ملک میں رہنے والوں پر حکومت نہیں کی بلکہ انکے دلوں پر حکومت کی ہے۔ عدل و انصاف، رواداری، حقوق کی ادائیگی میں یکسانیت اور لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی وجہ سے انکے دلوں میں اپنی جگہ بنائی تھی۔مولانا نے فرمایا کہ ہندوستان کی تاریخ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک ٹیپو سلطان شہید ؒ جیسے عظیم محب ِوطن،بہادر اور بے لوث ملک وملت سے محبت کرنے والے قائد وجنرل کا ذکر نہ کیا جائے۔ مولانا نے فرمایا کہ ملک کی تاریخ میں حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کا نام روشن الفاظ میں لکھا گیا ہے۔آپکی تاریخ روشن درخشاں اور ستارے کی طرح چمک رہی ہے۔ لیکن افسوس کہ موجودہ زمانے میں کچھ لوگ آسمان پر تھوکنے اور سورج کو چراغ دکھانے کی ناکام کوششیں کررہے ہیں اور حضرت ٹیپو سلطان شہید َکی پاک و صاف اور شفاف زندگی پر انگلیاں اٹھانے کی جرأت کررہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو انکی اوقات بتانے کیلئے اور حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کی سچی تاریخ اور آپکی سیرت سے لوگوں کو واقف کروانے کیلئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام ”سلطان ٹیپوؒ“ کے نام سے 10؍ نومبر2021ء بروز چہارشنبہ شام 6:00 بجے سے ٹیوٹر پر ایک مہم چلائی جارہی ہے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ جیسی شخصیت پر چلائی جانے والی مہم کا حصہ بننا یقیناً ہمارے لئے سعادت کی بات ہے، جس پر ہمیں فخر محسوس کرنا چاہیے۔ مفتی افتخار احمد قاسمی نے تمام اہل وطن بالخصوص برادران اسلام سے اپیل کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اس”سلطان ٹیپوؒ ٹیوٹر مہم“ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور حضرت کی سیرت کو عام کریں۔ قابل ذکر ہیکہ ٹیوٹر مہم کا ہیش ٹیگ وقت سے قبل مرکز تحفظ اسلام ہند کے آفیشیل سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے عام کیا جائے گا اور مرکز کے آفیشیل ٹیوٹر ہینڈل سے ٹیوٹ بھی کیا جائے۔ مندرجہ ذیل لنک کے ذریعے مرکز کے آفیشیل ٹیوٹر ہینڈل کو فالوو کرسکتے:

https://twitter.com/tahaffuze_islam

Saturday, 6 November 2021

شیر میسورحضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ اولین مجاہد آزادی اور مذہبی رواداری کے علمبردار تھے!



 شیر میسورحضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ اولین مجاہد آزادی اور مذہبی رواداری کے علمبردار تھے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام ”سلطان ٹیپوؒ ٹیوٹر مہم“کا اعلان، اہل وطن سے شرکت کی اپیل! 


ٍٍ بنگلور، 06؍ نومبر (پریس ریلیز): شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان شہید رحمۃ اللہ علیہ برصغیر کے وہ اولین مجاہد آزادی اور شہید آزادی ہیں، جنہوں نے آزادی کی پہلی شمع جلائی اور حریت فکر، آزادی وطن اور دین اسلام کی فوقیت و فضیلت کے لیے اپنی جان نچھاور کردی تھی۔ حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ نے حق و باطل کے درمیان واضح فرق و امتیاز قائم کیا اور پرچم آزادی کو ہمیشہ کے لیے بلند کیا تھا اور اسی پرچم کو بلند کرتے کرتے جام شہادت نوش فرمالی۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ ایک نرم دل، عدل پرور، مساوات، مذہبی رواداری کے علمبردار اور مذہبی تعصب سے پاک بادشاہ تھے۔ وہ ایک ایماندار اور روشن خیال حکمراں تھے، جنہوں نے اپنے دورِ حکومت میں نہ صرف بین المذاہب رواداری کو باقی رکھا بلکہ اس کی جڑوں کو مستحکم کرتے ہوئے ہندوؤں کو اپنی فوج اور انتظامیہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز بھی کیا۔ اسکے علاوہ حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ نے اپنے دور حکومت میں جہاں مختلف مسجدیں بھی تعمیر کیں وہیں اپنے ہندو رعایا کو مندر قائم کرنے کیلئے اجازت دیں اور سہولیات فراہم کیں۔ محمد فرقان نے فرمایا کہ لیکن افسوس کہ ادھر چند سالوں سے کچھ فرقہ پرست عناصر حضرت کی شخصیت کو مجروح کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ان پر بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہیں۔ جس سے عموماً اہل وطن بالخصوص نوجوان نسل میں شک و شبہات پیدا ہونے کا خطرہ لاحق ہوتا جارہا ہے۔ اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کی اصل سیرت کو عام کرنے اور فرقہ پرست طاقتوں کو منھ توڑ جواب دینے کیلئے مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے”سلطان ٹیپوؒ“کے نام سے ٹیوٹر مہم چلائی جارہی ہے۔ ٹرینڈ کیلئے 10؍ نومبر 2021ء بروز بدھ شام 6:00 بجے کا وقت طے کیا گیا ہے۔وقت سے پہلے ان شاء اللہ مرکز تحفظ اسلام ہند کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ہیش ٹیگ کا اعلان کیا جائے گا اور مرکز کے آفیشل ٹیوٹر ہینڈل سے ٹیوٹ بھی کیا جائے گا۔ مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام اہل وطن بالخصوص برادران اسلام سے اپیل کی کہ وہ اس ”سلطان ٹیپوؒ ٹیوٹر ٹرینڈ“ میں بھرپور حصہ لیں اور حضرت کی سیرت کو عام کریں۔ مندرجہ ذیل لنک کے ذریعے مرکز کے آفیشیل ٹیوٹر ہینڈل کو فالوو کرسکتے:

https://twitter.com/tahaffuze_islam