Saturday, 2 July 2022

نبی کریمﷺ کی شان اقدس میں گستاخی ناقابل معافی جرم اور ناقابل برداشت ہے!

 نبی کریمﷺ کی شان اقدس میں گستاخی ناقابل معافی جرم اور ناقابل برداشت ہے!



مرکز تحفظ اسلام ہند کے ”تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس“ سے مفتی اسعد قاسم سنبھلی کا ولولہ انگیز خطاب!


  بنگلور، 02؍ جولائی (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ہفت روزہ ”تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس“ کی چھٹی نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ شاہ ولی اللہؒ، مرادآباد کے مہتمم حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب نے فرمایا کہ پیغمبر اسلام دنیا میں اللہ کے سفیر ہوتے ہیں اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اللہ تعالیٰ کے آخری سفیر ہیں۔ آپؐ کا مقام و مرتبہ اللہ نے بہت بلند رکھا ہے، اور یہی وجہ ہیکہ حضورؐ کا مقام و مرتبہ جتنا عظیم ہے انکی شان میں گستاخی بھی اتنا ہی بڑا جرم ہے اور شریعت نے بھی کسی کو یہ اجازت نہیں دی کہ کوئی بھی شخص آپؐ کی شان اقدس میں ذرہ برابر بھی گستاخی کرے۔ مولانا نے فرمایا کہ حضورؐ کی محبت جان ایمان عین ایمان ہے۔ ان کی تعظیم تمام جہان پر فرض ہے اور ان کی توہین و بے ادبی کفر ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ حضورؐ کی محبت ہماری زندگی کا ماحصل اور ہمارے ایمان کا حصہ ہے، کوئی مسلمان اس وقت تک مسلمان ہو ہی نہیں سکتا، جب تک اس کے دل میں دنیا کی ساری چیز، حتیٰ کہ جان ومال والدین اور اولاد سے آقا ؐ محبوب نہ ہوں، اور حضورؐ کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ حضور اقدس ؐکی ناموس کی حفاظت کی جائے۔ انہوں نے فرمایا کہ اسلامی ممالک میں توہین رسالتؐ کی سزا قتل ہے لیکن ایک غیر اسلامی جمہوری ملک میں اس سزا کو نافذ کرنا مشکل ہے، لیکن ہم بحیثیت ہندوستانی شہری، ہندوستانی آئین میں دئے گئے حق کا استعمال کریں۔ ایسے شخص کے خلاف اپنی نفرت کا کھلے عام اظہار کریں، ایسے شخص کے خلاف انفرادی اور اجتماعی طور پر ایف آئی آر درج کرائیں، آئین نے جو سزا مقرر کی ہے، اس کو دلوانے کی پوری جد و جہد کریں۔ مولانا سنبھلی نے فرمایا کہ آج کے دور میں دنیا کی حکومتیں احتجاج کی زبان بہت جلد سمجھتی ہیں، اگر حکومت ایکشن نہیں لے رہی ہے، تو ہم پر امن احتجاج کرکے اور ریلیاں نکال کر حکومت پر دباؤ بنائیں، تاکہ حکومت ایکشن لینے پر مجبور ہو اور قومی امن کو خطرہ میں ڈالنے والے ایسے شخص کو عبرتناک سزا دے اور آئندہ کے لیے ایسے لوگوں کی زبان پر تالا لگ جائے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ آج تک مسلمان پر امن احتجاج کرتا آیا ہے لیکن افسوس کہ ملک کی موجودہ ظالم حکومت پر امن احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کررہی ہے، انکے گھروں پر بلڈوزر چلا رہی ہے، ان پر گولیاں برسا رہی ہے لیکن جس ملعون گستاخ رسول کی وجہ سے ملک کا امن و امان خراب ہوا اور کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی، اسکو گرفتار کرنے کے بجائے اسے سیکورٹی دی جارہی ہے، جو قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اسکے علاوہ دوسری طرف ہماری صفوں کے ہی بعض ناداں حکومت پر دباؤ بنانے کے بجائے مسلمانوں سے ہی امن برقرار رکھنے اور گستاخ رسول کو معاف کرنے کی اپیلیں کررہے ہیں۔ ان لوگوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ پوری دنیا میں مسلمانوں سے زیادہ کوئی امن پسند نہیں ہے۔ اور گستاخ رسول کو کس صورت میں معاف کیا جاسکتا ہے؟ جبکہ وہ اپنے بیان پر قائم بھی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ جب ایک شخص اپنی شان میں تھوڑی سی گستاخی برداشت نہیں کرسکتا تو ایک مسلمان نبیؐ کی شان اقدس میں گستاخی کیسے برداشت کرے گا؟ اور یہ بات یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ؐکی محبت، ان کے دشمنوں سے دشمنی کئے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی اور گستاخ رسول پر خوش اخلاق کا نہیں بلکہ غیظ و غضب کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور گستاخ رسول پہ جس کا خون نہ کھولے وہ مسلمان ہو ہی نہیں سکتا۔ مولانا نے فرمایا کہ دشمن چاہتا ہیکہ مسلمانوں کے دلوں سے نبیؐ کی عقیدت و محبت اور انکی ناموس پر مر مٹنے کا جذبہ ختم ہوجائے لیکن یہ کبھی ممکن نہیں کیونکہ ایک مسلمان کے نزدیک حضورؐ کی ذات تمام چیزوں سے افضل ہے اور ہزاروں جانیں انکی ناموس کیلئے قربان ہیں۔ مولانا نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ امت مسلمہ یہ بات جان لیں کہ اگر ہم اپنے احتجاج کے حق سے بھی دستبردار ہوگئے تو آئندہ ہمارا دین، ہماری شریعت، ہمارے آقا ؐ کی ناموس تک محفوظ نہ رہے گی اور مستقل میں ہمارا وجود ہی ختم ہوجائے گا۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر تحفظ ناموسِ رسالتﷺ کے متعلق بیداری پیدا کریں، شمع رسالت کے پروانے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کی زندگی کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں۔ گستاخوں کے لئے اپنے دل میں کوئی نرم گوشہ نہ رکھیں اور اپنی آخری سانس اور قیامت کی صبح تک نبی ؐ کی عظمت اور ناموس کی حفاظت کرتے رہیں۔ قابل ذکر ہیکہ یہ ہفت روزہ ”تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس“ کی چھٹی نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مرکز کے رکن شوریٰ حافظ محمد عمران کی نعتیہ کلام سے ہوا، جبکہ مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی نے استقبالیہ پیش فرمایا اور مرکز کے رکن شوریٰ مولانا سید ایوب مظہر قاسمی خصوصی طور پر شریک رہے۔ اس موقع پر حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے حضرت والا اور تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب کی دعا سے یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوا۔


#Press_Release #News #NamooseRisalat #ProphetMuhammad #Gustakherasool #MTIH #TIMS #ArrestNupurSharma

Friday, 1 July 2022

نبی کریم ؐاور حضرت عائشہؓ کے نکاح پر انگلیاں اٹھانے والوں کو تاریخ کا مطالعہ کرنا چائیے!

 نبی کریم ؐاور حضرت عائشہؓ کے نکاح پر انگلیاں اٹھانے والوں کو تاریخ کا مطالعہ کرنا چائیے!


مرکز تحفظ اسلام ہند کے ”تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس“ سے مولانا ثمیر الدین قاسمی کا خطاب!


بنگلور، یکم؍ جولائی (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ہفت روزہ ”تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس“ کی پانچوں نشست سے خطاب کرتے ہوئے شارح ہدایہ، ماہر فلکیات حضرت مولانا ثمیر الدین قاسمی صاحب (مانچسٹر، انگلینڈ) نے فرمایا کہ ام المؤمنین حضرت سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہما ان پاکباز اور ستودہ صفات خواتین میں سے ہیں، جنہوں نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض صحبت سے مالا مال ہوکر علم وفضل اور معرفت ودانش مندی کے وہ گہر لٹائے ہیں جس کی ہم سری دنیا کی کوئی خاتون نہیں کر سکتی۔ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح آپؐ کا نبوت و رسالت کے لیے انتخاب فرمایا تھا،اسی طرح آپؐ کی زوجیت ومصاحبت کے لیے بھی اعلیٰ صفات کی حامل ازواج مطہرات کو منتخب فرما لیا تھا؛جن میں گوناگوں خصوصیات کی وجہ سے حضرت عائشہؓ کو ایک خاص مقام اور امتیاز حاصل ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ آپؐ نے اللہ کے حکم سے ام المؤمنین حضرت عائشہؓ سے نکاح فرمایا، جب کہ انکی عمر مبارک 6؍ سال تھی، مگر اسی وقت رخصتی نہیں کی گئی، جب حضرت عائشہؓ کی عمر 9؍ سال کی ہوئی تب آپکی رخصتی ہوئی۔ مولانا نے فرمایا کہ حضرت عائشہؓ کا نکاح نبی اکرم ؐکے ساتھ کم سنی میں ہوئی، اس بات کو لیکر دشمنانِ اسلام حضرت محمد رسول اللہ ؐکی شان اقدس میں گستاخی کرتے نظر آتے ہیں اور آپ ؐ کے مبارک تقدس کو پامال کرنے کی ناپاک کوشش کرتے ہیں۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ نکاح ایک معاشرتی عمل اور ضرورت ہے، اس لیے نکاح میں ہر جگہ کے معاشرے، وہاں کی تہذیب اور عرف وعادت کو بڑا دخل ہوتا ہے، اس تناظر میں ہمیں نظر آتاہے کہ حضرت عائشہؓ جس معاشرے کا حصہ ہیں، اس میں کم سنی میں نکاح قطعاً معیوب نہیں بلکہ متعارف اور رائج ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ کفار مکہ جو آپؐ کے پیغام کو جھٹلایا کرتے، اور ہر طریقے سے آپؐ کو بدنام کرنے اور آپکو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے اور وہ ہر اس موقع کی تاک میں رہتے تھے کہ جس سے وہ آپؐ کی شخصیت پر وار کر سکیں، لیکن ان کفار مکہ نے بھی کبھی یہ نہیں سوچا کہ حضرت عائشہؓ سے آپؐ کے نکاح کو لیکر اعتراض کریں یا طعنہ دیں، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اسوقت انکے سماج میں یہ عام سی بات تھی اور انکے نزدیک وہ کوئی ایسی عیب کی بات نہیں تھی کہ جس کو بنیاد بنا کر وہ آپؐ کو طعنہ دیتے۔ مولانا نے فرمایا کہ جو لوگ اس نکاح پر اعتراض کرتے ہیں وہ یا تو جہالت کی بنیاد پر یا سیاسی مفاد کی خاطر کرتے ہیں۔ کیونکہ کم عمری میں لڑکی کا نکاح اور بیوی وشوہر کے درمیان عمر کا فرق طرفین کی باہمی رضامندی، معاشی رواج، موسم، صحت اور بلوغ سے متعلق ہے، مشرق ومغرب کے اکثر سماج میں کم عمر لڑکیوں کا نکاح ہوتا رہا ہے، مختلف مذہبی کتابوں میں نہ صرف اس کی اجازت دی گئی ہے بلکہ اس کی ترغیب دی گئی ہے، اور خاص کر ہندو سماج میں اس کا رواج زیادہ رہا ہے، اور مذہب کی مقدس شخصیتوں نے اس عمر میں نکاح کیا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ آپؐ کا حضرت عائشہؓ سے کم سنی میں نکاح سے متعدد دینی تعلیمی اور تربیتی مصلحتیں وابستہ تھیں اور علم نبوت کا ایک اہم حصہ ان کے ذریعے امت تک پہنچ سکا۔ آپؐ نے اس ایک نکاح کے علاوہ سارے نکاح بیوہ یا طلاق یافتہ خواتین سے کیا، اور حضرت عائشہؓ سے یہ نکاح بھی دو بیوہ خاتون سے نکاح کرنے کے بعد کیا۔ اور جس مصلحت کی خاطر اللہ نے اس نکاح کا اشارہ دیا تھا وہ مصلحت تاریخ اسلام کا سنہرا باب ہے کہ آج دینی مسائل کا ایک چوتھائی حصہ حضرت عائشہؓ کی روایت ہی سے موجود ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ آپؐنے اپنی حیات طیبہ میں جتنے بھی نکاح فرمائے وہ مردوں والے شوق کی شادیاں نہیں تھیں، بلکہ وہ حکم الٰہی اور حکمت خداوندی کی بنیاد پر تھیں۔ لہٰذا اس پر اعتراضات کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنی دشمنی، نفرت اور تعصب کا چشمہ نکال کر اسکے پیچھے پوشیدہ حکمتوں کو دیکھیں اور سمجھیں۔ قابل ذکر ہیکہ یہ ہفت روزہ ”تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس“ کی چوتھی نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مرکز کے رکن شوریٰ حافظ محمد عمران کی نعتیہ کلام سے ہوا۔ کانفرنس میں مرکز کے اراکین مولانا محمد طاہر قاسمی اور حارث پٹیل خصوصی طور پر شریک تھے۔ اس موقع پر حضرت مولانا ثمیر الدین قاسمی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے حضرت والا اور تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس حضرت مولانا ثمیر الدین قاسمی صاحب کی دعا سے یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوا۔


#Press_Release #News #NamooseRisalat #ProphetMuhammad #Gustakherasool #MTIH #TIMS #ArrestNupurSharma #HazratAyesha

Wednesday, 29 June 2022

نبی اکرمﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی!

 نبی اکرمﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی!



مرکز تحفظ اسلام ہند کے ”تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس“ سے مولانا محمد مقصود عمران رشادی کا ولولہ انگیز خطاب!


بنگلور، 28؍ جون (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ہفت روزہ ”تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس“ کی چوتھی نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامع مسجد سٹی بنگلور کے امام و خطیب حضرت مولانا ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی صاحب نے فرمایا کہ پیارے نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے شمار فضائل و خصائل کے جامع ہیں، حضور پاکؐ کی ذات مقدسہ ایسی بے مثال ہے کہ آپؐ سے بڑھ کر دنیا میں کسی کامل انسان کا نمونہ موجود نہیں اور نہ آئندہ قیامت تک ہو سکتا ہے۔ کیونکہ پیارے آقا ؐکی شخصیت ایسی شخصیت ہے جس کے قصیدے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ ”اے محبوب ہم نے آپ کے لئے آپ کے ذکر کو بلند فرما دیا۔“ مولانا نے فرمایا کہ جس کے ذکر کو اللہ تعالیٰ بلند فرما دے تو اس کے ذکر کو جو ختم کرنے کا سوچے یا سازش کرے وہ خود ختم ہو جائے گا۔ مولانا رشادی نے فرمایا کہ یہ گستاخان رسول نوپور شرما اور نوین جندل نے حضورؐ کی شان میں اور آپکی ازواج مطہراتؓ کی شان میں جو گستاخیاں کیں ہیں، اگر اس طرح سے ہزاروں گستاخ بھی حضورؐ کی شان میں گستاخی کریں تب بھی میرے آقاؐ کی عظمت اور مقام و مرتبہ میں کچھ فرق نہ ہوگا۔ کیونکہ نبی رحمتﷺ کا مقام مرتبہ اس قدر اعلیٰ وارفع ہے کہ اس تک کسی اور انسان کی رسائی نہیں۔ خالق کائنات نے جن کو رفعت وعظمت بخشی ہو مخلوق میں سے کون ہے جو اس میں کوئی کمی کرسکے؟ مولانا نے فرمایا کہ نبیؐ کی شان میں گستاخی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا، اور وقت پڑنے پر ہمیں چاہیے کہ اپنے احتجاجی مظاہرہ سے لیکر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کیلئے بھی تیار رہیں کیونکہ نبیؐ کی ناموس ہماری جانوں سے زیادہ عزیز ہے۔ لیکن یہ سارے کام ہوش میں رہتے ہوئے اپنے بڑوں کے مشوروں سے کریں، کیونکہ دشمن چاہتا ہیکہ ہم جذبات میں آکر کوئی غلطی کر بیٹھیں اور اس پر ہماری گرفت ہو، ہم جیل چلے جائیں اور گستاخ باہر آرام سے گھومتا رہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اہانت رسولؐ کے واقعات پر اپنے جذبات و غصہ کا اظہار کرنا ضروری و لازمی ہے، کیونکہ یہ ہمارا دینی و مذہبی فریضہ ہے۔ لیکن قانونی دائرہ میں رہتے ہوئے اپنے احتجاج کو درج کرائیں، اور ملک کے ہر ایک گوشے سے گستاخان رسولؐ کے خلاف ایف آئی آر درج کروائیں تاکہ گستاخ اپنے کیفرکردار تک پہنچے۔انہوں نے فرمایا کہ احتجاجی و قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ ضرورت اس بات کی بھی ہیکہ ہم حضور اقدسؐ کی شان، انکی عظمت، انکے اخلاق، انکا عدل و انصاف، جیسے اعلیٰ اوصاف کو غیر مسلموں کے سامنے پیش کریں۔ نیز جن چیزوں پر دشمنانِ اسلام پروپیگنڈہ و اعتراضات کرتے ہیں انکا دلائل کے ساتھ منھ توڑ جواب بھی دیں۔ مولانا نے فرمایا کہ جو لوگ نبیؐ کی شان اقدس میں وقتاً فوقتاً گستاخی کرتے ہیں، امہات المؤمنین کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں وہ اپنی دشمنی کا چشمہ نکال کر نبیؐ کی سیرت کو پڑھیں کیونکہ ہمارے نبیؐ پورے عالم کیلئے رحمت العالمین بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ اور جس دن آپ انکی سیرت کا مطالعہ کریں گے ہمیں یقین ہیکہ آپ بھی حضورﷺ کے عاشق بن جائیں گے۔قابل ذکر ہیکہ یہ ہفت روزہ ”تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس“ کی چوتھی نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مرکز کے رکن شوریٰ حافظ محمد عمران کی نعتیہ کلام سے ہوا۔ کانفرنس میں مرکز کے اراکین حافظ یعقوب شمشیر اور عمران خان خصوصی طور پر شریک تھے۔ اس موقع پر حضرت مولانا محمد مقصود عمران رشادی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے حضرت والا اور تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس حضرت مولانا محمد مقصود عمران رشادی صاحب کی دعا سے یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوا۔


#Press_Release #News #NamooseRisalat #ProphetMuhammad #Gustakherasool #MTIH #TIMS #ArrestNupurSharma

Tuesday, 28 June 2022

ناموس رسالتؐ کی حفاظت حب رسولؐ کا تقاضا ہے، شان رسالتؐ میں گستاخی ناقابل برداشت ہے!

 ناموس رسالتؐ کی حفاظت حب رسولؐ کا تقاضا ہے، شان رسالتؐ میں گستاخی ناقابل برداشت ہے!



مرکز تحفظ اسلام ہند کے ”تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس“ سے مفتی افتخار احمد قاسمی کا ولولہ انگیز خطاب!


 بنگلور، 28؍ جون (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ہفت روزہ ”تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس“ کی تیسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب نے فرمایا کہ رسول اکرمﷺ کی اہانت، آپؐ کے خلاف الزام تراشی اور ریشہ دوانی، ناموس رسالتؐ پر حملہ اوف ان کی شان میں گستاخی کرنا، کوئی نیا معاملہ نہیں ہے بلکہ عہد رسالت مآبؐ اور مابعد کا زمانہ، حتیٰ کہ کوئی دور اہانت وایذا رسانی کی کریہہ داستانوں سے خالی نہیں۔ لیکن ان عوامل پر عہد رسالت مآب ؐمیں جس طرح کا ردعمل ظاہر کیا گیا وہی ہمارے لیے بھی اسوہ ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ بعض شرپسند عناصر اپنی جہالت اور سستی شہرت کے خاطر حضورؐ کی شان اقدس میں گستاخی کرنا اپنا پیشہ بنا لیا ہے، جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور انتہائی تکلیف پہنچتی ہے، ایسے موقع پر اسکا علاج اور مداوا کرنا بھی ضروری ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ حضور پاک ؐ کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ حضور اقدس ؐکی ناموس کی حفاظت کی جائے۔ انہوں نے فرمایا کہ جو لوگ ناموسِ رسالت ؐکا پاس نہیں رکھتے، اور نبی کریم ؐکی بے ادبی و گستاخی کرتے ہیں، قرآن پاک نے ان کیلئے دنیا و آخرت میں لعنت اور درد ناک عذاب کی وعید سنائی ہے۔ اور جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینا چاہتا ہے انہیں یہ گھناؤنے کام کرنے کی ڈھیل دیتا ہے تاکہ کل وہ سزا کے حق دار بنیں۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نبیؐ کا مقام و مرتبہ اتنا بلند کیا ہیکہ کوئی بھی گستاخ اسے کم نہیں کرسکتا۔مفتی صاحب نے فرمایا کہ مسلمان کے دل میں حضور ؐ کی محبت دنیا کی ہر چیز سے زیادہ ہے۔ اور نبی ؐسے جسکو جتنا تعلق ہوگا اسکو اہانت رسولؐ پر اتنا ہی زیادہ تکلیف ہوگی، یہ ہمارے ایمان اور حب رسولؐ کی دلیل ہے۔ کیونکہ ایک مسلمان عاشق رسولؐ سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن نبیؐ کی شان اقدس میں ذرہ برابر بھی گستاخی ہرگز برداشت نہیں کرسکتا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ یقیناً اہانت رسولؐ کے واقعات سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے، لیکن ہماری ذمہ داری ہیکہ ایسے مواقع پر اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے اپنے اکابرین کی زیر سرپرستی قانونی دائرہ میں رہتے ہوئے اپنا ردعمل کا اظہار کریں۔ مولانا نے فرمایا کہ احتجاج اور جلوس کے علاوہ ہمیں یہ بھی چاہئے کہ ہم نبیؐ کی شان اقدس، انکی سیرت، انکی رحم دلی، انسانیت نوازی، عدل و انصاف جیسے اعلیٰ اوصاف سے دنیا کو روشناس کرائیں۔ نہ صرف اپنی تقریر و تحریر سے بلکہ اپنے کردار سے عملی طور پر نمونہ پیش کریں۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ ملک کی فرقہ پرست طاقتیں اپنی سازشوں کو کامیاب بنانے کیلئے دن رات محنتیں کررہی ہیں، ہمیں چاہیے کہ ان سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے اکابرین کی زیر سرپرستی گستاخان رسول کے خلاف اپنا احتجاج درج کروائیں اور ملک کی حکومت سے بھی ہمارا مطالبہ ہیکہ ملک کے امن و امان کو باقی رکھنے کیلئے ایسا قانون پاس کیا جائے جس کی وجہ سے کوئی بھی شخص کسی بھی مذہبی پیشواؤں کی شان میں ذرہ برابر بھی گستاخی کرنے کی ناپاک جسارت نہ کر سکے۔ قابل ذکر ہیکہ یہ ہفت روزہ ”تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس“ کی تیسری نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مرکز کے رکن شوریٰ حافظ محمد عمران کی نعتیہ کلام سے ہوا۔ کانفرنس میں مرکز کے اراکین مولانا محمد طاہر قاسمی، سید توصیف، شبیر احمد، عمیر الدین اور حافظ نور اللہ خصوصی طور پر شریک تھے۔ اس موقع پر حضرت مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے حضرت والا اور تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس حضرت مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب کی دعا سے یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوا۔



#Press_Release #News #NamooseRisalat #ProphetMuhammad #Gustakherasool #MTIH #TIMS #ArrestNupurSharma

Sunday, 26 June 2022

مسلمان نبی کریمؐ کی شان اقدس میں ذرہ برابر بھی گستاخی ہرگز برداشت نہیں کرسکتا!

 مسلمان نبی کریمؐ کی شان اقدس میں ذرہ برابر بھی گستاخی ہرگز برداشت نہیں کرسکتا!



مرکز تحفظ اسلام ہند کے ”تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس“ سے مولانا عبد العلیم فاروقی کا ولولہ انگیز خطاب!


بنگلور، 17؍ جون (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ہفت روزہ ”تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس“ کی دوسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور دارالعلوم دیوبند و ندوۃ العلماء لکھنؤ کے رکن شوریٰ جانشین امام اہل سنت حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دنیائے فانی میں بے شمار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور آخیر میں آقائے دوعالم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو خاتم النبیین بنا کر بھیجا۔ اور اللہ تعالیٰ کے بعد اس پوری کائنات میں سب سے بڑا مقام اگر کسی کا ہے تو وہ رسول اللہﷺ کا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ایک مسلمان اپنی جان سے زیادہ، اپنی اولاد، والدین اور دیگر اہل خانہ سے زیادہ آقائے دوعالمؐ سے محبت کرتا ہے اور انکی ذات پر ہر چیز اور ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے تیار رہتا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ہر دور میں اہل ایمان نے آپؐ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپؐ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولؐ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ مولانا فاروقی نے فرمایا کہ ہر ایک مسلمان پر آپؐ کی ناموس کی حفاظت فرض ہے۔ اور جس ذات سے جتنی محبت ہوتی ہے اس کی عزت وناموس اس کے لیے اتنی ہی اہم ہوتی ہے، جو سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے اس کے ناموس کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہتا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ رسول اللہؐ کی ذات چوں کہ اہل ایمان کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے اس لیے محبت کے تقاضے کے عین مطابق حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور سلف صالحین نے محبت رسولؐ اور اس کے تقاضوں پر عمل پیرا ہوکر سرفروشی اور جاں سپاری اور فدائیت کے ایسے انمٹ نقوش قائم کیے ہیں جو قیامت تک کے لیے مشعل راہ ہیں۔ مسلم امۃ کے بچے بھی اپنے رسولؐ کے لیے جان نثاری کے جذبات سے لبریز تھے اور آج بھی ہیں۔ مولانا عبد العلیم فاروقی نے فرمایا کہ تاریخ شاہد ہیکہ حضورؐ کی ناموس کی حفاظت کے خاطر مسلمانوں نے ہر طرح کی قربانیاں پیش کی ہیں۔ کیونکہ حضورؐ کی ناموس مسلمانوں کیلئے سب سے زیادہ عزیز ہے اور مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن حضورﷺ کی شان اقدس میں ذرہ برابر بھی گستاخی ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔ مولانا نے فرمایا کہ حضورؐ تمام مخلوق کیلئے باعث رحمت ہیں۔اور دنیا کے مختلف مذاہب کے مذہبی رہنماء بھی آپؐ کا احترام کرتے ہیں۔لیکن بعض فرقہ پرست عناصر حضورؐ کی شان میں گستاخی کرکے ملک کے امن و امان اور آپسی بھائی چارہ کو خراب کرنے کوشش کررہے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی ذاتی مفادات کے خاطر پوری دنیا میں ہمارے ملک کا نام بدنام کررہے ہیں اور ملک کے حالات بھی خراب کررہے ہیں۔ لہٰذا ایسے گستاخان رسولؐ کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ قابل ذکر ہیکہ یہ ہفت روزہ ”تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس“ کی دوسری نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مرکز کے رکن شوریٰ حافظ محمد عمران کی نعتیہ کلام سے ہوا۔ کانفرنس میں مرکز کے اراکین شوریٰ مولانا ابو الحسن علی فاروقی اور مولانا محمد طاہر قاسمی خصوصی طور پر شریک تھے۔ اس موقع پر حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے حضرت والا اور تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی صاحب کی دعا سے یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوا۔


#Press_Release #News #NamooseRisalat #ProphetMuhammad #Gustakherasool #MTIH #TIMS