Friday, 11 November 2022

Hazrat Tipu Sultan Shaheed RH Ke Mukhalifeen Ko Mooh Tood Jawab!

 🎯حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کے مخالفین کو منھ توڑ جواب!


🎙️قائد الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی صاحب رحمہ اللہ



https://youtu.be/Z9F6HeHJM94


🎯Hazrat Tipu Sultan Shaheed RH Ke Mukhalifeen Ko Mooh Tood Jawab!


🎙️Qaidul Ahrar Hazrat Maulana Habib Ur Rahman Sani Ludhianvi Saheb RH


#TipuSultan #TipuSultanIndiasHero #SultanTipu #Ahrar #Ludhianvi #MTIH #TIMS

Thursday, 10 November 2022

”مہدویت و مسیحیت کا جھوٹا دعویدار شکیل بن حنیف اور اسکے متبعین شکیلی اپنے باطل عقائد کی بنا پر دائرہ اسلام سے خارج ہیں“

 ”مہدویت و مسیحیت کا جھوٹا دعویدار شکیل بن حنیف اور اسکے متبعین شکیلی اپنے باطل عقائد کی بنا پر دائرہ اسلام سے خارج ہیں“



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مفتی اسعد قاسم سنبھلی کا خطاب!


بنگلور، 10؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی پانچوں نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ شاہ ولی اللہؒ مرادآباد کے مہتمم فاتح شکیلیت حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ عقیدۂ ختم نبوت اسلام کا وہ بنیادی عقیدہ ہے جس پر حضرات صحابہ کرامؓ کا سب سے پہلا اجماع ہوا۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب کسی بدبخت نے نبوت کا دعویٰ کیا تو اصحاب رسولؐ نے انہیں مرتد اور خارج از اسلام قرار دیکر اسکے خلاف جنگ کئے۔ مولانا نے فرمایا کہ حضورﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں ہی متعدد مرتبہ اس بات کی وضاحت فرمادی تھی کہ ”میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد قیامت تک کو نبی نہیں آئے گا“، اسی کے ساتھ آپؐ نے نبوت کے جھوٹے دعویداروں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ ”میری امت میں تیس (30) اشخاص کذاب ہوں گے، ان میں سے ہر ایک کذاب کو گمان ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا“۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ آپؐ کی حیات طیبہ میں ہی مسلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا تھا جس کے خلاف صحابہ کرام ؓنے جنگ کیا اور اسکا قلع قمع کیا، اسکے بعد وقتاً فوقتاً دنیا کے مختلف گوشوں میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے جو نبوت کا دعویٰ کرتے رہے، لیکن ختم نبوت کا موضوع اتنا واضح ہیکہ کسی کو براہ راست نبوت کا دعویٰ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی بلکہ جس کسی نے بھی دعویٰ کیا اسنے عیسٰی اور مہدی کا سہارا لیکر کیا یا تاویل کے ساتھ دعویٰ کیا۔ مولانا سنبھلی نے فرمایا کہ نبی کریمؐ نے قرب قیامت حضرت عیسٰی اور مہدی علیہ السلام کی آمد کی بشارت دی ہے۔ لہٰذا اسلام کی تاریخ اور مدعی نبوت کے فتنوں پر اگر روشنی ڈالیں تو معلوم ہوتا ہیکہ جس کسی نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا ہے، اس نے پہلے مہدویت اور مسیحیت کا سہارا لیکر کیا ہے۔ ماضی قریب کا سب سے بڑا جھوٹا مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کا بھی یہی حال ہیکہ اس نے بھی پہلے مہدی، مسیح، ابراھیم، نوح اور بعد میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ اس وقت ایسے ہی جھوٹے مدعیان نبوت اور منکر ختم نبوت کے فتنوں نے امت کو گھیرا ہوا ہے، ہر آئے دن طرح طرح کے لوگ اٹھ کر کبھی مہدی، کبھی مسیح تو کبھی نبوت کا دعویٰ کرکے امت کے ایمان کو لوٹ رہے ہیں اور انہیں گمراہ کررہے ہیں۔ مفتی اسعد قاسم سنبھلی نے فرمایا کہ انہیں فتنوں میں سے ایک فتنہ شکیل بن حنیف کا ہے، جو اس وقت ملک میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ مفتی صاحب نے فتنہ شکیلیت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ شکیل بن حنیف کی پیدائش دربھنگہ بہار میں ہوئی، وہ ملازمت کی تلاش میں دہلی آیا اور وہیں پر تبلیغی جماعت سے وابستہ ہوا، لیکن ذہنی بگاڑ اور عہدہ کی ہوس کی وجہ سے اس نے بعض بھولے بھالے جماعت کے ساتھیوں کو اپنا ہمنوا بنانا شروع کیا اور پہلے مہدی پھر مہدی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس نے دہلی کے مختلف محلوں میں اپنی مہدویت ومسیحیت کی تبلیغ کی، لیکن ہر جگہ سے اسے کچھ دنوں کے بعد ہٹنا پڑا۔ مولانا نے فرمایا کہ شکیل بن حنیف کا فتنہ امت کا بڑا بدترین فتنہ ہے، اسکی وجہ ہیکہ یہ شخص انتہائی سازشی اور خطرناک شخص ہے، جو ایسے سادہ لوح جدید تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں جو دین سے بلکل دور ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ شکیلی اپنی پوری سرگرمی کے ساتھ خفیہ انداز میں تحریک چلاتے ہیں اور ہمارے علاقہ میں ہی ہمارے نوجوانوں پر محنت کرتے ہیں اور ہم کو اس بات کی خبر تک نہیں ہوتی، اور جب ایک بڑی تعداد گمراہ ہوجاتی ہے تو اس کے بعد یہ اسکی تشہیر کرتے ہیں۔مولانا نے فرمایا کہ ہماری ناواقفی یا بے خبری کی یہ صورت حال تشویش ناک ہے۔ مولانا سنبھلی نے تفصیل سے حضرت عیسٰی اور مہدی علیہ السلام کے متعلق احادیث میں وارد تفصیلات کو بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ مہدویت و مسیحیت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے شکیل بن حنیف پر سچے مہدی کی کوئی علامت منطبق نہیں ہوتی۔ اس کے تمام دعوے جھوٹے اور بے بنیاد ہیں اور وہ محض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نہ وہ سچے مہدی کی طرح خاندان نبوت سے تعلق رکھتا ہے، نہ وہ مدینہ سے ہے، نہ اس کے ہاتھ پر عراق کے ابدال نے بیعت کی ہے، نہ اس نے قسطنطنیہ فتح کیا ہے، اور نہ ہی وہ شکل وصورت میں حدیث میں وارد علامتوں کا حامل ہے۔ بہر حال شکیل بن حنیف اور اس کے متبعین راہ راست سے منحرف ہیں اور اسلامی مسلمہ عقائد کے منکر ہیں جن کے اقرار کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔ مفتی صاحب نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ مہدی اور مسیح سے متعلق جو احادیث صحیحہ متواترہ ہیں ان احادیث کو اپنے اوپر چسپاں کرنے والا شکیل بن حنیف اور اسکے حواری جو شکیل کو مہدی یا مسیح مانتے ہیں وہ سب دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ ضرورت اس بات کی ہیکہ امت مسلمہ کو یکجا ہوکر ان فتنوں کا تعاقب کرنا چاہئے، لوگوں کو قادیانی اور شکیلوں کے مکر و فریب سے اور عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت سے واقف کروانا چاہئے۔ انہوں نے فرمایا کہ اس سلسلے میں جلسے جلوس سے زیادہ زمینی سطح کی محنت درکار ہے، خاص طور پر عوام الناس کو زیادہ علمی بحث میں ڈالنے کی ضرورت نہیں بلکہ انکے سامنے صرف حضرت عیسٰی و مہدی علیہ السلام کا تعارف پیش کردیا جائے، ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت بیان کردیا جائے اور شکیل بن حنیف کی خباثت کو بیان کردیا جائے تو کافی ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ مرکز تحفظ اسلام ہند کے ذمہ داران قابل مبارکباد ہیکہ انہوں نے یہ پندرہ روزہ ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“  منعقد کیا، ختم نبوتؐ کی حفاظت کیلئے کوششیں کرنا کوئی معمولی خدمت نہیں ہے، کیونکہ عقیدہ ختم نبوتؐ کا تحفظ ہر مسلمان کی ذمہ داری، اس کے ایمان کا تقاضہ اور آخرت میں شفاعت رسول ﷺ کا بہترین ذریعہ ہے۔ قابل ذکر ہیکہ یہ پندرہ روزہ ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی پانچوں نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مرکز کے رکن شوریٰ حافظ محمد عمران کی نعتیہ کلام سے ہوا۔ اس موقع پرفاتح شکیلیت حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے حضرت والا اور تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب کی دعا سے کانفرنس کی یہ نشست اختتام پذیر ہوئی۔


#Press_Release #News #khatmenabuwat #ProphetMuhammad #FinalityOfProphethood #LastMessenger #Mehdi #ImamMedhi #Isa #FitnaShakeeliyat #ShakeelBinHaneef #MTIH #TIMS

Wednesday, 9 November 2022

عقیدہ ختم نبوتؐ کا پیغام گھر گھر تک پہنچانے کی ضرورت ہے!

 عقیدہ ختم نبوتؐ کا پیغام گھر گھر تک پہنچانے کی ضرورت ہے! 



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مولانا محفوظ الرحمن فاروقی کا خطاب!


بنگلور، 09؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی چوتھی نشست سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن حضرت مولانا محفوظ الرحمن فاروقی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں تمام انبیاء و مُرسلین کے بعد سب سے آخر میں بھیجا اور رسول اللہؐ پر رسالت و نبوت کا سلسلہ ختم فرمادیا۔ لہٰذا آپؐ کے زمانے یا آپؐ کے بعد قیامت تک کسی کو نبوت ملنا ناممکن ہے، یہ دین اسلام کا ایسا بنیادی عقیدہ ہے کہ جس کا انکار کرنے والا یا اس میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ کرنے والا کافر و مرتد ہوکر دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے۔ کیونکہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبیؐ ہونے پر غیر متزلزل ایمان اور انکے بعد کسی نبی، پیغمبر یا رسول کی آمد کا تصور بھی نہ کرنے کا عقیدہ ہی دراصل وہ بنیاد فراہم کرتا ہے جس پر ایمان کی عمارت کھڑی رہ سکتی ہے۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہیکہ عقیدہ ختم نبوت ایمان کی بنیاد ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ قرآن مجید میں سو مقامات پر بہت ہی واضح انداز میں اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کی ختم نبوت کا اعلان فرمایا ہے۔ اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان حق ترجمان سے اپنی ختم نبوت کا واضح الفاظ میں اعلان فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ مولانا نے فرمایا کہ یہی وجہ ہیکہ چودہ صدیوں سے امت محمدیہ کا اس پر اجماع ہے کہ مدعی نبوت اور اس کے پیروکار خارج از اسلام اور مرتد ہیں۔ اسلام کی پوری تاریخ میں جب بھی کسی سر پھرے، طالع آزما یا فتنہ پرداز نے اپنے آپ کو نبی کہنے کی جرأت کی، مسلمانوں نے اسکو اس کے انجام تک پہنچایا۔ مولانا فاروقی نے فرمایا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مسیلمہ کذاب کے فتنے نے سر اٹھایا، جو مدعی نبوت تھا، لہٰذا اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے صدیق اکبرؓ نے ایک لشکر حضرت خالد بن ولید ؓ کی قیادت میں بھیجا، بلآخر اس لشکر نے مسیلمہ کذاب کو شکست دے کر اسے ہلاک کردیا، لیکن کئی سو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس جنگ میں جام شہادت نوش فرمائی۔ اس سے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہیکہ اصحاب رسولؓ نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے اسلام کے اس بنیادی عقیدے کی حفاظت فرمائی۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہیکہ مسلمان اس عقیدے کو مضبوطی سے تھامے اور دوسروں کو بھی اسکی تلقین کریں۔ مولانا فاروقی نے فرمایا کہ آج بھی ملک کے مختلف علاقوں میں باطل طاقتیں ختم نبوت پر حملہ آور ہیں، بالخصوص فتنۂ قادیانیت اور فتنۂ شکیلیت ان دنوں کافی سرگرم ہیں، اور بھولے بھالے مسلمانوں کو دھوکہ دیکر یا غریب و دیہاتوں میں رہنے والے لوگوں کو پیسوں کا لالچ دیکر اپنے جال میں پھنسانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ایسے حالات میں امت مسلمہ کے ہر ایک فرد کی ذمہ داری بنتی ہیکہ وہ عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت سے امت مسلمہ کو واقف کروائیں اور اسکا پیغام گھر گھر تک پہنچائیں، نیز مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ارد گرد کڑی نظر رکھیں اور ان فتنوں سے امت کو بچانے اور ختم نبوت کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت تیار رہیں، یہ ہر ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ حضرت مولانا محفوظ الرحمن فاروقی صاحب نے فرمایا کہ مرکز تحفظ اسلام ہند کے ذمہ داران قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے ختم نبوت کی حفاظت اور اسکی اہمیت و فضیلت سے امت مسلمہ کو واقف کروانے کیلئے یہ”عظیم الشان پندرہ روزہ تحفظ ختم نبوتؐ“ کانفرنس منعقد کیا۔ اللہ تعالیٰ اسکے اچھے اثرات مرتب فرمائے اور ختم نبوت کی حفاظت کیلئے ہمیں قبول فرمائے۔ قابل ذکر ہیکہ حضرت والا نے مرکزتحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔


 #Press_Release #News #khatmenabuwat #ProphetMuhammad #FinalityOfProphethood #LastMessenger #MTIH #TIMS

جون ایلیاء اور ہمارے لاعلم ساتھی

 جون ایلیاء اور ہمارے لاعلم ساتھی...!


✍️ بندہ محمد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


اس وقت ہمارے کچھ احباب سوشل میڈیا پر "جون ایلیاء" نامی ایک شاعر کیلئے تعریفوں کے پُل باندھ رہے ہیں، افسوس ہیکہ ان بیچاروں کو اس منحوس شخص کے بارے میں کچھ علم ہی نہیں، بس بہتی گنگا میں انکو بڑھ چڑھ کر ہاتھ دھونا ہے، چاہے اس سے انکو یا معاشرے کو کچھ فائدہ ہو یا نقصان، بس سوشل کے وائرل موضوع میں حصہ لینا ہے، جو بہت افسوس کی بات ہے- یاد رکھیں کہ جون ایلیاء نامی شخص کے عقائد و نظریات اتنے خراب اور گمراہ کن ہیں کہ ایک عام مسلمان اگر اس سے متاثر ہوجائے تو اسکا ایمان خطرے میں پڑ جائے گا، اسکے اشعار میں وہ کفریہ جملے شامل ہیں جسے پڑھنے سے آدمی ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا- جون ایلیاء نامی شخص ایک شرابی، زانی، جادوگر، گمراہ اور دہریہ انسان تھا، جس نے یہودیوں کے ٹکڑے کھا کر اسلام اور اسکے ماننے والوں کے خلاف نہ جانے کیسی کیسی سازشیں کیں- نیز اصحاب رسول اور خدائے وحدہ کے ذات کے بارے میں ایسی ایسی الٹی سیدھی بکواسات کئے ہیں، جسے سننا ایک عام مسلمان کیلئے بھی ناقابل برداشت ہے- پس ہمارے لوگوں کو چاہیے کہ وہ کسی کی تعریف یا کسی کے تحریر شدہ مواد کی تشہیر کرنے سے قبل اس شخص کے بارے میں تحقیق کرلیں، کیونکہ کہیں آپ کے چند تعریفی و توصیفی کلمات کسی اور کی گمراہی کا سبب بن سکتی ہیں، جسکا خمیازہ آپکو بھی بھکتنا پڑے گا، اللہ تعالیٰ ہم لوگوں کے دین و ایمان کی حفاظت فرمائے، آمین یارب العالمین!


فقط و السلام

بندہ محمد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

8 اکتوبر 2022ء، بروز منگل

Tuesday, 8 November 2022

عقیدۂ ختم نبوتؐ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، جسکے منکر دائرہ اسلام سے خارج ہیں!

 عقیدۂ ختم نبوتؐ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، جسکے منکر دائرہ اسلام سے خارج ہیں! 



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مولانامحمد ارشد علی قاسمی کا خطاب!


بنگلور، 08؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی تیسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے مجلس تحفظ ختم نبوتؐ ٹرسٹ تلنگانہ و آندھراپردیش کے سکریٹری حضرت مولانا محمد ارشد علی صاحب قاسمی مدظلہ نے فرمایا کہ رسول اور نبی دونوں اہم مناصب ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ مخصوص بندوں کو منتخب کرتے ہیں، نبوت و رسالت ملنا کا تعلق عبادت، ریاضت اور نہ ہی کسی سفارش سے ہے، بلکہ نبی و رسول کا انتخاب من جانب باللہ ہوتا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی راہنمائی اور رشد و ہدایت کے لئے انبیاء کرام ؑ کا سلسلہ شروع کیا جس کا آغاز حضرت آدم ؑ کی ذات سے ہوتا ہے اور اس کا اختتام خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گروہ انبیاء کرام کے آخری فرد ہیں اور سلسلہ نبوت و رسالت کی آخری کڑی ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے، اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء و رسل کے آخر میں مبعوث فرمایا اور سلسلہ نبوت و رسالت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کردیا گیا ہے۔ اب آپؐ کے بعد کوئی رسول یا نبی نہیں آئیگا۔ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی زبانِ مبارک سے متعدد بار اپنے آخری نبی ہونے کو بیان فرمایا ہے کہ میں سب سے آخری نبی ہوں اور تم سب سے آخری امت ہو۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی قرب قیامت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک امتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے اور اپنی شریعت کے بجائے دین محمدی کی تبلیغ کریں گے۔ مولانا نے فرمایا کہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، اسلام کی ساری خصوصیات اور امتیازات اسی پر موقوف ہیں۔ ختم نبوت ہی کے عقیدہ میں اسلام کا کمال اور دوام باقی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام اور اہل سنت و الجماعت کے ان بنیادی اور اساسی عقائد میں سے ہے، جس کو مضبوطی کے ساتھ تھامنا اسلام کے اصول اور ضروریاتِ دین میں سے ہے اور اسکے منکر دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ یہی وجہ ہیکہ اگر کوئی کسی نئے نبی کے لیے نبوت ملنا ممکن جانے کہ کسی کو نبوت مل سکتی ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو کر کافر ہو جائے گا اور اسے کافر و مرتد کہا جائے گا اور اس کو مرتد و کافر نہ ماننے والا بھی کافرو مرتد ہو جائے گا۔ مولانا نے فرمایا کہ عقیدۂ ختم نبوت ہر زمانہ میں تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ رہا ہے اور اس امر میں مسلمانوں کے درمیان کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا جس کسی نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا ہے یا جس کسی نے بھی دعویٰ کو قبول کیا ہے اسے متفقہ طور پر اسلام سے خارج سمجھا گیا ہے اور اسلامی حکومت میں مدعی نبوت واجب القتل ہے۔ اس پر تاریخ کے بہت سے واقعات مثلاً مسلمہ کذاب، اسود عنسی وغیرہ کے واقعات شاہد ہیں۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام میں نبوت و رسالت کی کسی قسم کی تقسیم نہیں ہے مثلاً ظلی نبی، بروزی نبی، تشریعی نبی یا غیر تشریعی نبی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے اور جو لوگ یہ قسمیں بیان کرتے ہیں وہ بھی گمراہ ہیں۔ مولانا ارشد علی قاسمی نے فرمایا کہ آج بعض لوگ عقیدہ ختم نبوت پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس میں ایک وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو ”احمدیہ مسلم جماعت“ کہتے ہیں اور ”قادیانی“ کے نام سے مشہور ہیں، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہیں مانتے بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ قادیانی انتہائی دجل اور فریب سے کام لیتے ہوئے سادہ لوح مسلمانوں پر ظاہر کرتے ہیں کہ وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مانتے ہیں، جسے بھولے بھالے مسلمان سن کر گمراہی کا شکار ہوجاتے ہیں، جبکہ اصل بات یہ ہیکہ قادیانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی تو مانتے ہیں لیکن آخری نبی نہیں مانتے۔ لہٰذا مزرا قادیانی اور اسکے ماننے والے سب دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مولانا محمد ارشد علی قاسمی نے ”فتنہ گوہر شاہی“ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ جن لوگوں نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول اور امت مسلمہ کو گمراہ کرنے کے لیے مہدی، نبی یا خدا ہونے کے جھوٹے دعوے کیے انہیں میں سے ایک نام ”ریاض احمد گوہر شاہی“ کا بھی ہے۔ جس نے پہلے مہدیت پھر مسیحیت، اسکے بعد نبوت اور بالآخر خدائی کا دعویٰ کیا تھا۔ نیز ایسے ہزاروں اسکے گمراہ کن عقائد ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی، قرآن میں تحریف، کلمہ طیبہ میں تبدیلی اور حضرت آدم و حضرت موسیٰ و دیگر انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کی گستاخی وغیرہ پر مشتمل ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ گوہر شاہی نے تصوف وسلوک کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اس نے اپنی ناپاک زہریلی تعلیمات کے ذریعے اپنے آپ کو نبوت اور الوہیت کے درمیان ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اب اس فتنہ گوہر شاہی کا پیشوا اور سربراہ یونس گوہر شاہی بن گیا ہے اور اسلام مسلمان دشمنوں کی طاقت سے ہر آئے دن سوشل میڈیا کے ذرائع ابلاغ کی مدد سے امت کو گمراہ کررہا ہے۔ جبکہ گوہر شاہی اور اُس کے متبعین اپنے باطل عقائد کی بنا پر دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ ہم مسلمانوں کی ذمہ داری ہیکہ تاج ختم نبوت کے جس اعزاز کو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء کیا اسکی حفاظت کریں، امت میں شعور بیدار کرنے کیلئے کانفرنس اور جلسے جُلوس منعقد کریں اور لوگوں کو ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت سے واقف کروائیں۔ اور امت مسلمہ کے ہر ایک فرد کو چاہیے کہ وہ اپنے اور اپنے اہل و عیال اور اطراف و اکناف کے لوگوں کے ایمان کی حفاظت کریں۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر مجلس تحفظ ختم نبوتؐ ٹرسٹ تلنگانہ و آندھراپردیش کے سکریٹری حضرت مولانا محمد ارشد علی صاحب قاسمی مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔


#Press_Release #News #khatmenabuwat #ProphetMuhammad #FinalityOfProphethood #LastMessenger #MTIH #TIMS