Friday, 25 November 2022

عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت اور فتنۂ قادیانیت کا تعاقب امت مسلمہ کی بنیادی ذمہ داری ہے!

 عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت اور فتنۂ قادیانیت کا تعاقب امت مسلمہ کی بنیادی ذمہ داری ہے!



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مفتی محمدشفیق احمد قاسمی کا خطاب!


بنگلور، 24؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی دسویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ حضرت مولانا مفتی محمد شفیق احمد قاسمی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم فرما دیا، اب آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ یہی عقیدۂ ختم نبوت ہے، جو اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، اور اسکے منکر اسلام سے خارج اور اسکے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ منکرین ختم نبوت کا فتنہ آپ ؐکے دور ہی میں شروع ہوگیا تھا، جہاں آپ ؐنے اپنی ختم نبوت کا اعلان فرمایا، وہیں آپ ؐ نے قیامت تک نمودار ہونے والے ان کذابین کا بھی تذکرہ فرمایا تھا میرے بعد تیس جھوٹے کذاب پیدا ہونگے اور ہر ایک دعویٰ نبوت کرے گا لیکن میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ مولانا نے فرمایا کہ انہی میں سے ایک فتنہ ”قادیانیت کا فتنہ“ ہے، جسکا بانی مرزا غلام احمد قادیانی ہے، جسکی جھوٹی نبوت کا فتنہ چودھویں صدی کا عظیم فتنہ ہے، جسے انگریز نے اپنے ناپاک اغراض و مقاصد کی خاطر جنم دیا۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ ہمارے اکابر علماء کرام نے مرزا قادیانی کی زندگی سے ہی اس کا تعاقب شروع کردیا تھا جو ابتک جاری ہے اور ان شاء اللہ ہمیشہ جاری رہے گا، ان اکابرین نے اس فتنہ کے سدباب اور تدارک کے لیے تاریخ ساز خدمات انجام دئیے اور اس سلسلہ میں بالواسطہ وبلاواسطہ آگے آنے والوں کے لیے نمونہ عمل چھوڑا۔ مولانا نے فرمایا کہ بحیثیت مسلمان ہر ایک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہر طریقہ سے اس فتنہ کا تعاقب کرے، اور اس فتنہ کے تعاقب، سدباب اور سرکوبی کے لئے ہر ممکنہ کوشش کرے۔ کیونکہ قادیانی اپنے منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جھوٹی نبوت کی تشہیر پورے زوروں سے جاری ہے اور مسلمان کو مختلف ہتھکنڈوں سے قادیانی بنایا جارہا ہے اور دوسری طرف امت مسلمہ کی ایک بڑی تعداد قادیانیوں کی ناپاک سازشوں سے بالکل ناواقف ہے۔ ایسے حالات میں ضروری ہیکہ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کی حقیقت کو لوگوں کے سامنے لائیں۔


مفتی شفیق احمد قاسمی نے فتنۂ قادیانیت کی حقیقت کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مرزا کا نام غلام احمد والد کا نام غلام مرتضی، آبائی وطن قصبہ قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداس پور پنجاب ہے، اسکی پیدائش 1839ء یا 1840ء میں ہوئی۔ مولانا نے فرمایا کہ اگر مرزا قادیانی کے صرف حسب و نصب پر ہی روشنی ڈالی جائے تو اسکے جھوٹ کا پردہ فاش ہوجائے گا، کیونکہ وہ اپنی اصل ونسل کے بارے میں متضاد بیانات دیتا رہا اور کسی ایک نسل یا خاندان پر اکتفا نہیں کیا۔ مولانا نے مرزا قادیانی کی تحریروں کی روشنی میں ارشاد فرمایا کہ مرزا قادیانی اس حد تک تضاد بیانی کا شکار تھا کہ کبھی وہ اپنے آپکو مغلوں کی شاخ برلاس کہتا تھا، تو کبھی فارسی الأصل ہونے کا دعویٰ کرتا اور جب طبیعت اس پر بھی اکتفا نہیں کرتی تو بیک جنبشِ قلم خود کو اسرائیلی اور فاطمی بھی قرار دینے لگا، پھر کبھی چینی تو کبھی مہدی بننے کے چکر میں بنی فاطمہ ہونے کا دعویٰ کرتا، حد تو یہ ہیکہ اس نے ہندو، سکھ اور آریوں کا پاشاہ ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔


 مولانا قاسمی نے فرمایا کہ یہ بات مسلَّم ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے روحانی اور جسمانی قویٰ بالکل بے عیب اور عام لوگوں کے قویٰ سے مضبوط ممتاز اور برتر ہوتے ہیں ہاں انہیں بتقاضہ بشریت عارضی طور پر بعض بیماریاں مثلا ًبخار، سر درد وغیرہ لاحق ہوسکتیں ہیں لیکن ایسا نہ ہوگا کہ انبیاء کرام علیھم السلام ایسے موذی امراض میں مبتلا ہوں جو انہیں قبر تک پہنچا دیں اس کے برعکس مرزا قادیانی بیسیوں بیماریوں کا مجموعہ تھا اور ابتدائے عمر ہی سے مالیخولیا کا مریض تھا اور 1908ء میں ہیضہ میں مبتلا ہوکر نہایت عبرت ناک موت مرگیا۔ 


مولانا نے مرزا قادیانی کے دعوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ مرزا قادیانی نے 1880ء میں اپنے ملہم من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، 1881ء میں خود کو بیت اللہ قرار دیا، 1882ء میں مجدد ہونے کا، 1891 ء میں مسیح موعود ہونے کا، 1898ء میں مہدی ہونے کا 1899 ء میں ظلی بروزی نبی ہونے کا اور 1901ء میں باقاعدہ نبوت کا دعویٰ کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ تاریخ میں بہت سے جھوٹے مدعی نبوت گزرے ہیں لیکن ان میں سے بہت کم مدعی ایسے ہیں جن کے دعوؤں کی تعداد دو یا تین سے متجاور ہو ہاں البتہ مرزا قادیانی اس میدان میں بھی سب سے جدا ہے، مرزا قادیانی نے اس کثرت سے دعوے کیے ہیں کہ اُن کا شمار ایک عام آدمی کے لیے بالکل محال ہے اور پھر دعوے بھی اتنے مضحکہ خیز ثناقض اور متضاد ہیں کہ یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ مرزا قادیانی جاندار ہے یا بے جان، انسان ہے چھلاوہ، مرد ہے یا عورت، مسلمان ہے یا ہندو، مہدی ہے یا مسیح، ولی ہے یا نبی۔ اسکے دعوؤں کو سن کر ایک عام انسان بھی یہ فیصلہ کرسکتا ہیکہ یہ کتنا بڑا جھوٹا ہے۔ 


مولانا نے فرمایا کہ اس کے دعوؤں کی طرح اسکی ہر پیشنگوئیاں بھی جھوٹی ثابت ہوئیں۔ مولانا نے فرمایا کہ 1893ء میں عیسائی پادری عبداللہ آتھم سے مناظرہ میں شکست کھانے کے بعد مرزا قادیانی نے پیشنگوئی کی کہ 05؍ ستمبر 1894ء کو آتھم مر جائے گا لیکن دنیا گواہ ہے کہ وہ پادری اس دن کے بعد بھی عرصہ دراز تک صیح سلامت موجود رہا۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے خدا کے نام سے محمدی بیگم کے اپنے نکاح میں آنے کی پیشگوئی بار بار کی اور اس کے پورا نہ ہونے پر اپنی سزا خود تجویز کی، جبکہ محمدی بیگم کی شادی مرزا سلطان محمد سے ہوگئی، اس پر مرزا قادیانی نے سلطان محمد کے بارے میں بھی پیشگوئی کی کہ وہ ڈھائی سال کے اندر اندر مر جائے گا، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ مرزا قادیانی کی 1908ء میں موت آ گئی اور مرزا سلطان محمد زندہ رہا، مرزا سلطان محمد کے محمدی بیگم سے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں۔ جو مرزا قادیانی کے کذب کی چلتی پھتی تصویریں تھے۔ مرزا قادیانی اس کی موت کو تقدیر مبرم کہتا تھا مگر مرزا کی اپنی تقدیر بدل چکی تھی نہ محمدی بیگم مرزا کی زندگی میں بیوہ ہوئی اور نہ مرزا کے نکاح میں آئی۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ اسی طرح حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے بارے میں ایک تحریر میں اس نے پیشنگوئی کی کہ مجھے آپ مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں، لہٰذا اگر میں ایسا ہی ہوں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا اور اگر نہیں تو آپ طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریوں سے میری زندگی میں ہلاک ہونگے۔ مولانا نے فرمایا کہ تاریخ گواہ ہیکہ اس پیشگوئی کے تقریباً ایک سال بعد مرزا قادیانی کی موت نے ”آخری فیصلہ“ کر دیا کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں تھا کیونکہ اس کی موت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی زندگی میں بقول اس کے ”خدائی ہاتھوں کی سزا“ سے یعنی ہیضہ میں مبتلا ہوکر ہوئی۔ 


مولانا نے فرمایا کہ ویسے تو مرزا قادیانی نے بہت ساری پیشنگوئیاں کی تھی جن میں سے بطور نمونہ چند پیشگوئیاں آپ احباب کے سامنے پیش کی ہیں، جن کو سن کر ہر صاحب عقل انسان مرزا قادیانی کی حقیقت کو جان سکتا ہے۔ بالخصوص وہ لوگ جو مرزا قادیانی کو، مجدد، مہدی، مسیح اور نبی مانتے ہیں ان کے لیے یہ ایک کسوٹی کی حیثیت رکھتی ہیکہ وہ مرزا کے اقوال کو پڑھیں اور افعال کی طرف بھی دیکھیں کیا اتنا بڑا جھوٹا انسان جو شرابی بھی ہو او ر زنا بھی کرتا ہو۔ مجدد، مہدی، مسیح اور نبی بننا تو بہت دور کی بات ہے، کیا ایک اچھا انسان کہلوانے کے بھی قابل ہے؟ مولانا نے فرمایا کہ مرزائی مسلمانوں کے ذہنوں میں حضرت مہدی اور حضرت عیسٰی علیہ اسلام کے مسائل محض اس لیے ڈالتے ہیں کہ مسلمان عوام مرزا قادیانی کی اس قسم کی باتوں پر غور نہ کریں اور نہ ان کو زیر بحث لائیں اور مرزا قادیانی کے ان تھوک جھوٹوں پر پردہ پڑا رہے۔ جبکہ ایک سادہ لوح مسلمان کیلئے قادیانیت کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اس سے بہتر کوئی راہ نہیں کہ مرزا قایانی کی حالات زندگی اور اسکی پیشگوئیوں پر غور کریں۔ مولانا نے فرمایا کہ امت مسلمہ کے ہر ایک فرد کی ذمہ داری ہیکہ اس فتنۂ قادیانیت کی حقیقت کو لوگوں تک پہنچانے کی فکر کریں، اسکی حالات زندگی اور جھوٹی پیشنگوئیوں سے لوگوں کو واقف کروائیں، اس فتنہ کے تعاقب اور رد نیز ختم نبوت کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت تیار رہیں اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ جتنا ہوسکے کام کریں۔ قابل مبارکباد ہیں مرکز تحفظ اسلام ہند کے ذمہ داران نے انہوں نے ”پندرہ روزہ عظیم الشان تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ منعقد کرکے ان کاموں کا بیڑا اٹھایا ہے، اللہ تعالیٰ انکی کوششوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پردارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ حضرت مولانا مفتی محمد شفیق احمد قاسمی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔


#Press_Release #News #khatmenabuwat #ProphetMuhammad #FinalityOfProphethood #LastMessenger #MTIH #TIMS #Qadiyani

Wednesday, 23 November 2022

ختم نبوت اور حجیت حدیث آپس میں لازم و ملزوم ہیں، منکرین ختم نبوت اور منکرین حدیث کے فتنوں سے امت مسلمہ ہوشیار رہیں!“

 ”ختم نبوت اور حجیت حدیث آپس میں لازم و ملزوم ہیں، منکرین ختم نبوت اور منکرین حدیث کے فتنوں سے امت مسلمہ ہوشیار رہیں!“



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مولانا سید بلال حسنی ندوی کا خطاب!


بنگلور، 22؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی گیارہویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ناظر عام حضرت مولانا سید بلال حسنی ندوی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لئے ہر دور میں انبیائے کرام ؑ کو مبعوث فرمایا اور انہیں ایسی شریعت عطا کی جس پر عمل کرنے والا جنت کا مستحق سمجھا جاتا تھا۔ ان کے زمانے کے اعتبار سے وہ شریعت کامل اور نجات دہندہ تھی لیکن ان کی شریعتیں مخصوص زمان و مکان کے لئے تھیں۔ ایک امت کو جو نظام زندگی دیا جاتا وہ اس وقت تک قابل عمل ہوتا جب تک کہ دوسرے نبی نہ آجائیں۔ دوسرے نبی اور پیغمبر کے آنے کے بعد ماضی کے بہت سے احکام منسوخ ہوجاتے اور پھر نئی شریعت پر عمل کرنا واجب ہوتا۔ اسی طرح ان کی شریعت خاص قوم اور محدود خطے کے لئے ہوتی تھی۔ بسا اوقات مختلف علاقوں میں تبلیغ وہدایت کے لئے الگ الگ انبیاء بھیجے جاتے اور بیک وقت کئی نبی اس روئے زمین پر تشریف فرما ہوتے جو اپنی اپنی قوم کی رہنمائی و رہبری کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسٰی ؑ تک چلتا رہا لیکن جب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے تو آپ کو آخری نبی کی حیثیت سے مبعوث کیا گیا۔ آپ کی امت آخری امت اور آپ پر نازل کی جانے والی کتاب آخری کتاب قرار دی گئی، اسی طرح آپکی شریعت کو بھی آخری شریعت کی حیثیت سے پیش کیا گیا۔ اس کے بعد جس طرح اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا، اسی طرح سے اب قیامت تک کوئی نئی کتاب یا کوئی شریعت نہیں آئے گی بلکہ رہتی دنیا تک سارے اقوام کے لئے اسی قرآن و حدیث اور شریعت مطہرہ پر عمل کرنا لازم ہوگا، یہی راہ نجات اور اسی میں اللہ تعالیٰ کی رضا مضمر ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ دین ہر اعتبار سے کامل اور مکمل ہوچکا۔ ایک انسان کی ہدایت کے لئے جن احکام کی ضرورت تھی وہ دے دیئے گئے۔ دنیا خواہ کتنی ہی ترقی پذیر ہوجائے اورٹیکنالوجی جس بلندی پر بھی پہنچ جائے ہمیشہ کے لئے یہ شریعت آچکی۔ یہ آفاقی بھی ہے اور ابدی بھی۔ اب نہ تو اس کا کوئی حکم منسوخ ہوگا اور نہ اس کے رہتے ہوئے کسی دوسرے قانون کی ضرورت ہوگی۔ ہر طرح کی ترمیم و تنسیخ سے بالا تر اسلامی شریعت نازل کردی گئی جو اس امت کا اعزاز اور لائقِ فخر ہے۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ قرآن و حدیث شریعت اسلامی کی بنیاد اور اولین حجت ہے اور ان دونوں چیزوں کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ افسوس کہ جس طرح متعدد جھوٹے اور کذابوں نے ختم نبوت کا انکار کی اسی طرح متعدد کذابوں نے احادیث مبارکہ کا بھی انکار کیا۔ جبکہ حضور اکرمﷺ کی حدیث کو قرآن مجید کے بعد اسلامی قانون کا دوسرا اہم ترین ماخذ مانا جاتا ہے لیکن ہر دور میں اسے عناصر امت مسلمہ میں موجود رہے ہیں جنہوں نے نبی اکرمؐ کی حدیث کو ماننے کی بجائے اپنی عقل اور تاویلات سے احادیث رسول کا انکار کیا ہے اور کررہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ منکرین حدیث ظاہراً حدیث رسول کے منکر ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن مجید اور مذہب اسلام کے بھی مخالف ہی؛ کیوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر آج تک مذہب اسلام کا مدار دو ہی چیزیں رہی ہیں۔ ایک کتاب اللہ یعنی قرآن مجید اور دوسرا سنت رسول اللہ یعنی حدیث، خلفائے راشدین، صحابۂ کرام فقہائے عظام؛ بلکہ تمام عالم کے علماء حدیث رسول کو حجت مانتے آئے ہیں، مگر اس فرقے یعنی منکرین حدیث جو اپنے آپ کو اہل قرآن کہتے ہیں، انکا خیال اور عقیدہ یہ ہے کہ حدیث رسول حجت نہیں۔ در اصل اس فرقے کا مقصد صرف انکار حدیث تک محدود نہیں بلکہ یہ لوگ اسلام کے سارے نظام کو مخدوش کرکے ہر امر ونہی سے آزاد رہنا چاہتے ہیں، کیوں کہ قرآن مجید میں ہرچیز کا بیان اجمالاً ہے جس کی تشریح وتفصیل حدیث میں ہے، یہ فرقہ ان سب تفصیلات اور پورے نظام کو یکسر بدلنا چاہتا ہے، نیز قرآن کریم میں بھی من مانی تفسیر کرکے حقیقی مطالب اور مرادِ الٰہی کو ختم کردینا چاہتا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ختم نبوت اور حجیت حدیث آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ کیونکہ قرآن مجید کے بعد کوئی کتاب نہیں اس لیے وہ قیامت تک محفوظ ہے، اسی طرح حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں اس لیے آنحضرتؐ کے ارشادات بھی قیامت تک کے لیے محفوظ اور حجت ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اسلام کو اللہ کا آخری دین اور قیامت تک محفوظ رہنے کو ماننے کا نتیجہ یقینی، حتمی اور بدیہی طور پر یہ ہے کہ دین اسی شکل میں محفوظ رہ سکتا ہے جب قرآن بھی محفوظ ہو اور حدیث بھی محفوظ ہو۔ اگر حدیث محفوظ نہیں تو اللہ کا آخری دین محفوظ نہیں ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اللہ نے اپنا آخری دین اپنے آخری رسول حضرت محمدرسول اللہ ؐ کے ذریعہ انسانیت تک بھیجا، لہٰذا ان کے ارشادات یعنی حدیث نبویؐ پر ایمان اور ان پر عملدر آمد ہی ہمارے لیے نجات کا واحد راستہ ہے۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ مذہبی لحاظ سے سطحِ ارض پر اگرچہ بے شمار فتنے رونما ہو چکے ہیں، اب بھی موجود ہیں اور تا قیامت باقی رہیں گے لیکن فتنہ انکار ختم نبوت کے بعد فتنہ انکارِ حدیث اپنی نوعیت کا واحد فتنہ ہے۔ باقی فتنوں سے تو شجرِ اسلام کے برگ و بار کو ہی نقصان پہنچتا ہے لیکن اس فتنہ سے شجرِ اسلام کی جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں اور اسلام کا کوئی بدیہی سے بدیہی مسئلہ بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پر، قرآن مجید کے آخری کتاب ہونے پر، شریعت محمدیہؐ کا آخری شریعت ہونے پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح سے احادیث رسولؐ پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ کیونکہ قرآن کو ماننا اور احادیث کا انکار کرنا کفر ہے اور جو شخص حدیث کا منکر ہے وہ درحقیقت قرآن کا بھی منکر ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ایسے فتنوں سے امت مسلمہ کو باخبر کرنا اور اپنے دین و ایمان کی حفاظت کرنا وقت کا اہم تقاضہ ہے۔قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا سید بلال حسنی ندوی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں  سے نوازا۔



#Press_Release #News #khatmenabuwat #ProphetMuhammad #FinalityOfProphethood #LastMessenger #MTIH #TIMS

Mufti-e-Azam Pakistan Hazrat Moulana Mufti Mohammed Rafi Usmani Saheb RH Ke Intiqaal Per Taziyati Paigham

 🎯 مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع صاحب عثمانیؒ کے انتقال پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست شیخ طریقت حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب دامت برکاتہم کا شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم  کے نام تعزیتی پیغام...!




🎯 Mufti-e-Azam Pakistan Hazrat Moulana Mufti Mohammed Rafi Usmani Saheb RH Ke Intiqaal Per Markaz Tahaffuz-e-Islam Hind Ke Sarparast Sheikh-e-Tariqat Hazrat Moulana Mohammed Umrain Mahfooz Rahmani Sb DB Ka Sheikhul Islam Hazrat Moulana Mufti Mohammed Taqi Usmani Saheb DB Ke Naam Taziyati Paigham...!


#Taziyat #RafiUsmani #Usmani #TaqiUsmani #Letter_Head


Monday, 21 November 2022

تعزیتی پیغام بروفات حسرت آیات مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ!

 ⭕️تعزیتی پیغام بروفات حسرت آیات مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ!





✍بندہ محمد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


⭕️Condolence Message On Death Of Mufti-e-Azam Pakistan Hazrat Moulana Mufti Mohammed Rafi Usmani Saheb RH! 


✍ Mohammed Furqan 

(Founder & Director Markaz Tahaffuz-e-Islam Hind)


#Taziyat #RafiUsmani #Usmani #TaqiUsmani #Letter_Head

”جھوٹے مہدویت و مسیحیت کے دعویداروں سے امت مسلمہ ہوشیار رہیں اور انکے بہکاوے میں نہ آئیں“

 ”جھوٹے مہدویت و مسیحیت کے دعویداروں سے امت مسلمہ ہوشیار رہیں اور انکے بہکاوے میں نہ آئیں“



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مفتی محمد حذیفہ قاسمی کا خطاب!


بنگلور، 19؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی ساتویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء مہاراشٹرا کے ناظم حضرت مولانا مفتی سید محمد حذیفہ صاحب قاسمی مدظلہ نے فرمایا کہ ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کے بنیادی عقیدوں میں سے ہے، جس طرح حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی اور رسول ماننا ضروری ہے اسی طرح نبی کو آخری نبی بھی ماننا ضروری ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ہر دور میں کچھ بدبختوں نے ختم نبوت و رسالت پر ڈاکہ ڈالیں کی پر زور کوششیں کیں لیکن سب کے سب جھوٹے ثابت ہوئے۔ انہوں نے فرمایا کہ دعویٰ نبوت کے ساتھ ساتھ کچھ لوگ اپنی سستی شہرت اور مال کی لالچ میں باطل کے اہلکار بن کر مہدی اور مسیح ہونے کے بھی جھوٹے دعویٰ کرتے ہیں۔ جبکہ امام مہدی کا ظہور اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے نزول کے سلسلے میں متعدد احادیث میں ان کی آمد سے پہلے کے حالات و واقعات، ان کی ولادت، ظہور و نزول اور شخصی اوصاف کو واضح طور پر بیان فرما دیا گیا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں قربِ قیامت حضرت مہدی کا ظہور ہوگا۔ امام مہدی حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی نسل سے ہوں گے اور نجیب الطرفین سید ہوں گے۔ مدینہ منورہ میں ان کی پیدائش وتربیت ہوگی، ان کا نام نامی ”محمد“ اور والد صاحب کا نام ”عبداللہ“ ہوگا، وہ شکل وشباہت اور اخلاق وشمائل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں گے، وہ نبی نہیں ہوں گے، نہ ان پر وحی نازل ہوگی نہ وہ نبوت کا دعویٰ کریں گے، مکہ مکرمہ میں ان کی بیعت خلافت ہوگی اور بیت المقدس ان کی ہجرت گاہ ہوگا، بیعتِ خلافت کے وقت ان کی عمر چالیس برس کی ہوگی، ان کی خلافت کے ساتویں سال دجال نکلے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک ہوگا، حضرت مہدی کے دوسال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معیت میں گزریں گے اور 49؍ برس میں ان کا وصال ہوگا۔ مولانا نے فرمایا کہ روایات میں حضرت مہدی کے زمانے میں ہی حضرت عیسٰی علیہ السلام کا نزول ہوگا اور یہ حضرت مہدی سے الگ شخصیت ہوگی۔ انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی مینارے پر نازل ہوں گے، عین اس وقت جب کہ نماز فجر کی اقامت ہوچکی ہوگی۔ آپ علیہ السلام اپنی دونوں ہتھیلیاں فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے ہوں گے، ان کی تشریف آوری پر امام مہدی (جو مصلے پر جاچکے ہوں گے) پیچھے ہٹ جائیں گے اور ان سے امامت کی درخواست کریں گے۔ مگر وہ یہ کہہ کر انکار فرما دیں گے کہ یہ اعزاز اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے رکھا ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوکر صلیب کو توڑدیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ موقوف کردیں گے اور تمام لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں گے، پس اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں اسلام کے سوا تمام ملتوں کو ہلاک کردیں گے اور انہیں کے ہاتھوں سے مسیح دجال کو ہلاک کردیں گے۔ روئے زمین پر امن وامان کا دور دورہ ہوگا، شیر اونٹوں کے ساتھ، چیتے گائے بیلوں کے ساتھ اور بھیڑ بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے، روایات کے مطابق حضرت عیسٰی علیہ السلام امام مہدی کے ساتھ مل کر دنیا پر اسلام کی حکومت قائم کریں گے، قبیلہ ازد کی ایک خاتون سے شادی کریں گے، کم و بیش 45؍ سال دنیا میں رہنے کے بعد ان کی وفات ہوگی اور وہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے روضے میں مدفون ہوں گے جہاں ایک قبر کی جگہ آج بھی خالی موجود ہے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ مذکورہ تفصیلات سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہیکہ حضرت مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں الگ الگ شخصیتیں ہیں، اور حضرت مہدی دنیا میں پہلی مرتبہ تشریف لائیں گے، جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوسری مرتبہ تشریف لائیں گے۔ مولانا نے فرمایا کہ متعدد احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی سے متعلق یہ ساری تفصیلات وضاحت کے ساتھ مروی ہیں جن کی روشنی میں امت مسلمہ کے لئے حقیقی عیسیٰ علیہ السلام اور حقیقی امام مہدی کو پہچان کر چھوٹے مدعیان کی شناخت کرنا آسان ہے۔ لیکن اس کے باوجود طالع آزماؤں نے ہر دور میں جناب رسول اللہﷺ کی اس پیشین گوئی سے غلط فائدہ اٹھانے اور مہدی و مسیح ہونے کے دعوے کے ساتھ اپنا کاروبار چمکانے اور سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسلامی تاریخ میں سینکڑوں افراد گزرے ہیں جنہوں نے مختلف ادوار میں مہدی و مسیح ہونے کا دعویٰ کیا اور عجیب و غریب باتیں کر کے اپنے گرد لوگوں کا ہجوم اکٹھا کر لیا۔ انہیں جھوٹے دعویداروں میں ہمارے ملک کا مرزا غلام احمد قادیانی اور شکیل بن حنیف بھی شامل ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بیک وقت مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور دونوں کو ایک شخصیت قرار دے کر ان کے بارے میں جناب نبی اکرمؐ کی فرمودہ علامات کو خود پر فٹ کرنے کے لیے ایسی ایسی تاویلیں کیں کہ عقل سر پیٹ کر رہ گئی، لیکن اسکا جھوٹ دنیا پر ظاہر ہوگیا۔ اس کے باوجود مرزا قادیانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بہار سے تعلق رکھنے والا شکیل بن حنیف نامی ایک شخص نے اپنے بارے میں یہ دعویٰ کیا کہ وہ مسیح اور مہدی ہے، اور اس کے ماننے والے ان احادیث صحیحہ متواترہ کو جو کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت مہدی کے بارے میں مروی ہیں اس شخص (شکیل بن حنیف)پر چسپاں کرکے لوگوں میں اس بات کی تبلیغ کرتے ہیں کہ وہ شخص مسیح موعود اور مہدی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اس شخص کا مسیح موعود ہونے کا دعوی تو ایسا جھوٹا ہے کہ کسی صورت اس پر مسیح موعود کی علامتیں منطبق نہیں ہوتی ہیں، احادیث صحیحہ میں مسیح موعود کے بارے میں آیا ہے کہ وہ عیسی ابن مریم ہیں جو بغیر والد کے محض قدرت خداوندی سے پیدا ہوئے،جنہیں دشمنوں کی شازشوں سے بچاکر بحفاظت آسمان پر اٹھالیا گیا، اور پھر وہ قرب قیامت میں آسمان سے اتریں گے۔ مولانا نے فرمایا کہ بغیر کسی غور وفکر کے ایک عام انسان بھی یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ جس طرح شکیل بن حنیف سے پہلے مسیح ہونے کے دعویدار مرزا غلام احمد قادیانی میں مہدی و مسیح موعود کی علامتوں میں سے ایک بھی نہیں پائی گئی تو وہ مردور اور جھوٹا قراردیا گیا، اسی طرح اس جھوٹے شکیل بن حنیف میں بھی ان علامتوں میں سے کوئی علامت نہیں پائی جاتی کہ وہ ابن مریم نہیں بلکہ ابن حنیف ہے، وہ نہ آسمان پر کبھی اٹھایا گیا اور نہ ہی دنیا کہ کسی علاقہ میں آسمان سے اترا ہے، بلکہ عام انسانوں کی طرح پیدا ہوا ہے، نہ ہی اس کا حلیہ مسیح موعود کے جیسا ہے اور نہ اسے دجال اور دجالی جماعت سے مقابلہ کرنے کا موقع ملا ہے، نہ اس نے خنزیر کو قتل کیا اور نہ ہی عیسائیت کا خاتمہ کیا ہے، اور ارض فلسطین کو تو اس نے آج تک دیکھا نہیں ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ مرزا قادیانی کی طرح شکیل بن حنیف کی شخصیت کو بھی احادیث کے آئینے میں دیکھا جائے تو وہ کسی لحاظ سے بھی امام مہدی یا حضرت عیسٰی علیہ السلام کے معیار پر پورا نہیں اُترتے، سو دیگر دعاوی کی طرح ان کا دعویٰ مہدویت و مسیحیت بھی مبنی برکذب و افترا اور جہالت و گمراہی ہے، بلکہ اس کی شخصی اوصاف کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہیکہ یہ تو ایک اچھا انسان کہلانے کے لائق نہیں چہ جائیکہ مہدی، مسیح یا نبی وغیرہ۔ مولانا حذیفہ قاسمی نے فرمایا کہ احادیث میں قرب قیامت بہت زیادہ فتنوں کے ظاہر ہونے کی خبر دی گئی اور فرمایا گیا ہیکہ بہت سے دجال اور جھوٹے لوگ پیدا ہوں گے، جو اپنے گمراہ اور باطل عقائد کو دھوکہ دہی وجعل سازی کے ذریعہ سچ اور صحیح ثابت کرنے کی کوشش کریں گے، چنانچہ مسلم معاشرہ میں وقفہ وقفہ سے نبی، مہدی اور مسیح ہونے کے جھوٹے دعویدار پیدا ہوتے رہے ہیں، اس وقت مختلف علاقوں میں یہ فتنے رونما ہورہے ہیں، باطل طاقتوں کی مدد سے یہ لوگ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ اسلئے عام مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس طرح کے نئے نئے دعوے کرنے والوں اور اسلاف ومتقدمین کے نہج سے ہٹ کر قرآن وسنت کی تشریح وتاویل کرنے والوں سے دور رہیں اور ان کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ ایسے حالات میں مرکز تحفظ اسلام ہند ذمہ داران نے عامۃ المسلمین کو ان اہم عقائد سے واقف کروانے اور اسکی حفاظت کرنے کے سلسلے میں یہ”پندرہ روزہ عظیم الشان تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ منعقد کرکے بڑی خدمت انجام دی ہے، اللہ تعالیٰ انکی کوششوں کو قبول فرمائے۔ قابل ذکر ہیکہ یہ پندرہ روزہ ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی ساتوں نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مرکز کے رکن شوریٰ حافظ محمد عمران کی نعتیہ کلام سے ہوا۔ اس موقع پر حضرت مولانا مفتی محمد حذیفہ قاسمی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے حضرت والا اور تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس حضرت مفتی محمد حذیفہ قاسمی صاحب کی دعا سے کانفرنس کی یہ نشست اختتام پذیر ہوئی۔


#Press_Release #News #khatmenabuwat #ProphetMuhammad #FinalityOfProphethood #LastMessenger #MTIH #TIMS