Monday, 26 May 2025

وقف ترمیمی قانون 2025 کے خلاف خواتین کے احتجاجی مظاہرے : چند گزارشات!

 وقف ترمیمی قانون 2025 کے خلاف خواتین کے احتجاجی مظاہرے : چند گزارشات! 


✍️ بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند) 



وقف ترمیمی قانون 2025 بلاشبہ ایک حساس، شرعی، اور آئینی مسئلہ ہے، جس پر ملتِ اسلامیہ ہند کا احتجاج ایک فطری اور ضروری رد عمل ہے۔ اس قانون کے ذریعے نہ صرف وقف کی شرعی بنیادوں کو چیلنج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے بلکہ اسے ہڑپنے اور خاص طور پر اقلیتوں کے مذہبی حقوق کو مجروح کیا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں قوم کا بیدار ہونا، آواز بلند کرنا، اور آئینی دائرے میں جدوجہد کرنا قابل تحسین ہے۔


تاہم، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس جائز تحریک کی آڑ میں بعض مقامات پر ایسے مناظر دیکھنے میں آئے ہیں جن کا شریعتِ مطہرہ اور اسلامی غیرت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ خاص طور پر خواتین کی جانب سے بے پردگی، مخلوط اجتماعات، اور ایسے نعروں کا استعمال جو اسلامی آداب اور تہذیب سے متصادم ہیں، یہ سب ایک سنگین فکری اور عملی انحراف کی علامت ہے۔


اسلام نے عورت کو عظمت، حیاء، اور وقار کا پیکر بنایا ہے۔ اسلام کا دیا ہوا پردہ محض ایک ظاہری لباس نہیں، بلکہ یہ اُس روحانی تحفظ، عفت اور وقار کا ضامن ہے جس سے ایک معاشرہ پاکیزگی، برکت، اور امن کا گہوارہ بنتا ہے۔ وقف کی حفاظت کی بات ہو اور وقف کی اصل روح یعنی دینی اقدار کو ہی پامال کیا جائے، تو یہ خود اپنے مقصد سے انحراف ہے۔


تحریکیں اگر کردار سازی سے خالی ہوں، اور صرف جذباتی نعروں اور وقتی شورش پر مبنی ہوں، تو وہ دیرپا اثر نہیں چھوڑتیں۔ خاص طور پر جب خواتین اسلام کے وقار کو نمایاں کرنے کے بجائے میڈیا کی توجہ کا ذریعہ بن جائیں، تو نقصان دوگنا ہوتا ہے: نہ صرف تحریک کی سنجیدگی مشکوک بن جاتی ہے بلکہ اسلام مخالف عناصر کو ملت پر تنقید کا موقع بھی مل جاتا ہے۔


لہٰذا ضروری بلکہ لازم ہے کہ :

1) تحریک اور احتجاج کے تمام شرکاء خاص طور پر خواتین مکمل طور پر شرعی آداب، پردے اور اسلامی اخلاق کا پاس و لحاظ رکھیں، تاکہ ہماری جدوجہد دینِ اسلام کی اقدار کا آئینہ دار ہو۔

2) پروگرام کے منتظمین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ خواتین کا احتجاج اسلام کے اعلیٰ اخلاقی اقدار جیسا کہ حیا، وقار اور کردار کا عملی مظہر ہو، تاکہ دنیا کے سامنے  دینِ اسلام کی حقیقی اور مثبت تصویر پیش کی جا سکے۔

3) نوجوان نسل کو یہ سمجھایا جائے کہ شریعت اور دستور کی حفاظت کے لیے جدوجہد، خود شریعت کی پابندی کے بغیر ممکن نہیں۔


وقف کی حفاظت ہمارے دین اور تہذیبی ورثے کا ایک اہم تقاضا ہے، اور اس کے لیے بھرپور جدوجہد وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔ تاہم یہ بات ہر کارکن، ہر رہنما اور ہر فرد کے ذہن میں واضح ہونی چاہیے کہ یہ جدوجہد اسی وقت بااثر اور بابرکت ہو سکتی ہے جب وہ مکمل طور پر دینِ اسلام کی تعلیمات، شریعت کی حدود، اور اخلاقی آداب کے دائرے میں رہ کر کی جائے۔ کیونکہ شریعت سے ہٹ کر کی جانے والی کوئی بھی کوشش، کتنی ہی پرجوش کیوں نہ ہو، آخرکار اپنی روح کھو بیٹھتی ہے۔ وقف بچانے کا راستہ، شریعت اپنانے سے ہو کر گزرتا ہے۔ اور ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارا اصل ہتھیار ہماری اخلاقی برتری، ہماری دینی وابستگی، اور ہماری تہذیبی شناخت ہے۔ اگر ہم خود ہی اپنی بنیادوں کو کھوکھلا کریں گے، تو کوئی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔

 

Thursday, 22 May 2025

مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام ”وقف بچاؤ، دستور بچاؤ کانفرنس“ کا انعقاد، اہل وطن سے شرکت کی اپیل!

 وقف ترمیمی قانون 2025 : دستور ہند کے خلاف اور مسلمانوں کی مذہبی شناخت پر حملہ ہے: محمد فرقان

مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام ”وقف بچاؤ، دستور بچاؤ کانفرنس“ کا انعقاد، اہل وطن سے شرکت کی اپیل!



بنگلور، 22؍ مئی (پریس ریلیز): وقف ایک مذہبی فریضہ اور ایک مقدس امانت ہے، جو صدیوں سے عوامی فلاح، عبادات، تعلیم اور رفاہی کاموں کے لیے وقف کی گئی زمینوں اور اداروں کی صورت میں ہماری تہذیبی و دینی زندگی کا اہم حصہ رہی ہے۔ مگر موجودہ حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا وقف ترمیمی قانون 2025ء نہ صرف اس مقدس نظام پر حملہ ہے بلکہ یہ ایک مخصوص مذہبی طبقے کی شناخت، آزادی اور آئینی حقوق پر ضرب کاری ہے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان ترمیمات کے ذریعے حکومت بڑی آسانی سے ان وقف جائیدادوں پر اپنے قبضہ جما سکتی ہے، جو کہ نہ صرف دستور ہند کے خلاف ہے بلکہ مذہبی آزادی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض قانونی معاملہ نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی روحانی، تاریخی اور ثقافتی اساس کا مسئلہ ہے۔ لہٰذا ملک کے انصاف پسند شہری بالخصوص مسلمان اس ناانصافی پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ یہی وجہ ہیکہ اس غیر آئینی، غیر جمہوری اور غیر منصفانہ وقف ترمیمی قانون 2025ء کے خلاف پورا ملک سراپا احتجاج ہے اور ملت اسلامیہ ہندیہ کا متحدہ و متفقہ پلیٹ فارم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ملک بھر میں وقف املاک کو درپیش خطرات کے پیش نظر ”وقف بچاؤ، دستور بچاؤ تحریک“ چلا رہی ہے۔ جس کو ملک کے تمام دینی، ملی، سماجی تنظیموں اور انصاف پسند شہریوں کا تعاون ہے۔ مرکز تحفظ اسلام ہند بھی روز اول سے بورڈ کی اس تحریک کے ساتھ کھڑی ہے، نیز مرکز نے پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پیش ہونے سے قبل بھی ایک عظیم تحفظ اوقاف کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے کہا کہ چونکہ بورڈ اب ملک بھر میں ”وقف بچاؤ، دستور بچاؤ تحریک“ چلا رہی ہے، لہٰذا مرکز تحفظ اسلام ہند اس تحریک کو کامیاب کرنے کے سلسلے میں نہ صرف مسلسل جدوجہد کررہی ہے بلکہ اب ایک عظیم الشان آن لائن ”وقف بچاؤ، دستور بچاؤ کانفرنس“ کے انعقاد کا آغاز کررہی ہے، اس کے لئے ایک ایکشن کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔ محمد فرقان نے بتایا کہ اس تحریک اور کانفرنس کا مقصد وقف کی شرعی اور قانونی حیثیت کا تحفظ، اقلیتوں کے آئینی حقوق کی حفاظت، اور حکومت ہند کی جانب سے مجوزہ و منظور شدہ وقف ترمیمی قوانین کے غیر آئینی اور غیر منصفانہ پہلوؤں کو بے نقاب کرنا ہے۔ محمد فرقان نے کہا کہ ”وقف بچاؤ، دستور بچاؤ تحریک“ صرف وقف املاک کے تحفظ کی تحریک نہیں، بلکہ یہ ایک وسیع تر جمہوری اور دستوری جدوجہد ہے جو اس ملک کی اقلیتوں کے مذہبی، تعلیمی اور ثقافتی حقوق کی حفاظت کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔ یہ تحریک عوام کو بیدار کرنے، قانونی اور سیاسی سطح پر اقدامات اٹھانے، اور تمام امن پسند و انصاف پسند شہریوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی ایک کوشش ہے۔ مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے کہا کہ انہیں مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام یہ عظیم الشان آن لائن”وقف بچاؤ، دستور بچاؤ کانفرنس“ منعقد کی جارہی ہے، جس کی نشستیں ہر ہفتے میں تین دن یعنی جمعہ، سنیچر اور اتوار کی شب رات 9 بجے منعقد ہوگی اور مرکز کے آفیشیل یوٹیوب چینل اور فیس بک پر براہ راست نشر کیا جائے گا۔ محمد فرقان نے ملک کے باشندوں سے اپیل کی کہ وہ اس تحریک کا بھرپور حصہ بنیں اور اس کانفرنس کو کامیاب بنائیں اور ملک کے آئینی ڈھانچے، اقلیتی حقوق اور وقف املاک کے تحفظ کی اس عظیم جدوجہد کو مضبوط بنائیں۔


#SaveWaqfSaveConstitution | #WaqfBachaoCampaign | #RejectWaqfAct | #WaqfAmendmentAct | #WithdrawWaqfAmendments

Tuesday, 29 April 2025

وقف ترمیمی قانون 2025ء کے خلاف ”بتی گل تحریک“ کو کامیاب بنائیں!

 وقف ترمیمی قانون 2025ء کے خلاف ”بتی گل تحریک“ کو کامیاب بنائیں! 

مرکز تحفظ اسلام ہند کی باشندگان ملک بالخصوص ملت اسلامیہ سے اپیل! 




بنگلور، 29؍ اپریل (پریس ریلیز): غیر آئینی، غیر دستوری اور غیر منصفانہ وقف ترمیمی قانون 2025ء کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام جاری ”وقف بچاؤ، دستور بچاؤ تحریک“ کے تحت ایک اہم اور پر امن احتجاج ”بتی گل تحریک“ کا نفاذ بروز چہارشنبہ 30؍ اپریل 2025ء کو رات 9 بجے سے 9:15 بجے تک کیا جائے گا۔ مذکور خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کی ہدایات کے مطابق یہ خاموش احتجاج پورے ملک میں ایک وقت اور ایک طریقہ پر ہوگا، ہر گھر کی، ہر دکان کی، ہر مکان کی، ہر فیکٹری کی لائٹ بند ہوگی اور ملت کے اجتماعی شعور اور بیداری کی گواہ بنیں گی اور متحدہ طور پر حکومت کو یہ واضح پیغام جائے گا کہ پورا ملک اس غیر آئینی سیاہ قانون کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی قانون 2025ء کے خلاف بتی گل تحریک ایک علامت ہوگا کہ ہم ظلم کے خلاف ہیں، ہم بیدار ہیں اور اپنے حق کے حصول کی جد وجہد کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ انہوں نے کہا مرکز تحفظ اسلام ہند جہاں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اس بتی گل تحریک کی حمایت کرتی ہے وہیں ملک کے تمام باشندگان بالخصوص ملت اسلامیہ ہندیہ سے گزارش کرتی ہیکہ 30؍ اپریل 2025ء کی رات کو 9 بجے سے 9:15 تک اپنے مکانوں، دکانوں، فیکٹریوں اور دیگر تجارتی مراکز کی روشنیاں بند کر کے بورڈ کی ہدایت کے مطابق اس کام کو پورے اہتمام سے انجام دیتے ہوئے پر امن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔ ساتھ ہی اپنی مساجد اور حلقہ اثر میں عوام کو اس احتجاج میں شامل ہونے کی ترغیب دیں تا کہ حکومت کو یہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ ملک کے انصاف پسند شہری بالخصوص ملت اسلامیہ اپنی وقف املاک پر کسی قسم کی زیادتی برداشت نہیں کرے گی۔ اسی کے ساتھ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے جاری ہیش ٹیگ 

 #BlackOutAgainstWaqfAmendments 

کو استعمال کرتے ہوئے اپنی تصاویر اور ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی کوشش کریں بالخصوص ٹیوٹر (ایکس) پر زیادہ سے زیادہ اہتمام کے ساتھ ٹیوٹ کریں اور دوسروں کو بھی اسکی ترغیب دلائیں۔ یہ وقت بیداری، یکجہتی اور شعور کا ہے۔ ان شاء اللہ یہ پندرہ منٹ وقف کے تحفظ اور دستور کے بقا کے لئے روشن پیغام ثابت ہوگا۔ اور ہماری وحدت، نظم اور شعوری احتجاج کی علامت ہوں گے۔

Saturday, 12 April 2025

WAQF BACHAO ANDOLAN

 WAQF BACHAO ANDOLAN

(Defending Constitution | Protecting Rights)



ONLINE AWARENESS SESSION ON WAOF


Jb. Md Furqan

Director, Markaz Tahaffuz-e-Islam Hind


Jb. Luqman Farqalit 

Secretary, Association for the Protection of Civil Rights, AP Chapter


📆13 April 2025


Organized By:

Youth Joint Action Committee, Vijayawada


#WaqfAmendmentAct #RejectWaqfAct #RepealWaqfAct #Waqfbill

Saturday, 5 April 2025

Waqf Amendment Bill is not acceptable to Muslims under any circumstances : Markaz Tahaffuz-e-Islam Hind

Waqf Amendment Bill is not acceptable to Muslims under any circumstances : Markaz Tahaffuz-e-Islam Hind

The passage of the unconstitutional Waqf Amendment Bill is a black chapter for the world's largest democracy : Mohammed Furqan


Bengaluru, 05 April 2025

The Waqf Amendment Bill is very dangerous in terms of its contents, this bill is not only a direct interference in the religious affairs of Muslims but also contradicts the fundamental rights of the Constitution of India, because the proposed amendments are also against the religious freedom guaranteed by the Constitution of India and violate Articles 14, 15, 21, 25, 26, 29, 30 and 300A of the Constitution of India. This bill is discriminatory and part of the BJP's communal agenda, through which it wants to strip Muslims of their basic rights and make them second-class citizens. The Indian Muslims has completely rejected this unconstitutional, undemocratic and unfair bill. These views were expressed by Markaz Tahaffuz-e-Islam Hind's Director Mohammed Furqan in a press statement.


He said that last year, when this bill was presented in Parliament and due to strong opposition from the opposition parties, it was handed over to the JPC, that the JPC would take opinions on this bill from Muslim religious, social and political institutions and stakeholders and present its fair report. But unfortunately, the JPC not only sought opinions from unrelated institutions on this important religious issue of Muslims, but also from people who are always against Muslims, and in its report, it disregarded all the opposition's suggestions and presented it to the Speaker.


Mohammed Furqan said that this bill is lawlessness in the name of law and is so dangerous that after this bill becomes law, millions of acres of Waqf properties which were Waqf by Muslims ancestors will be snatched away and the government will take possession of it, and difficulties will also arise in further doing any Waqf. He said that appointing non-Muslims members in the Central Waqf Council and Waqf Board and transferring the power of the Waqf Tribunal to the Collector clearly shows that the government's intention is to usurp Waqf properties.



The Markaz director Mohammed Furqan, said that the Muslims had protested against this unconstitutional Waqf Amendment Bill in different parts of the country, and millions of Muslims had tied black bands on their arms as a symbol of silent protest against it on the occasion of Jumma Tul Wida (Last Friday of Ramazan) and Ramazan Eid (Eid-ul-Fitr). Not only all Muslim religious, political and social parties and organizations are against this bill, but other minorities are also opposing this bill, because they know that today Muslim community are in targeted, then tomorrow they will be also targeted. But unfortunately, the government did not listen to the opposition, the Muslims, or other minority communities, and through its stubbornness, brought this bill to parliament and, despite strong opposition from Muslims, the justice-loving citizens, and the opposition, got this unconstitutional Waqf Amendment Bill passed on its intoxication with power. Which is a black chapter and a stigma on the world's largest democracy.


Mohammed Furqan said that Muslims can never accept this unconstitutional Waqf Amendment Bill, because if it becomes law, our Masjids, madrasas, Khanqah, Mazar, and Graveyards will all be at stake. Therefore, soon our national organizations especially the common platform of our all national organization's, the All India Muslim Personal Law Board (AIMPLB) will announce the nationwide protest against this Waqf Amendment Bill. We have to respond to its call and join the protest.


Mohammed Furqan addressed the Muslims and said that there is absolutely no need to despair over the current situation because difficult situations and trials only come to living nations. Living nations face difficult situations with wisdom and courage and chart a course for the future with renewed determination and courage. He said that Muslims should also keep in mind that success is not presented on a golden platter, but rather requires enduring tears, blood, hunger, and hardship, and continuous struggle and sacrifice. So don't consider yourself defeated, that if you can't dare, then you certainly can't do anything. Always keep your thoughts high because victory and success begin with a man's determination.


The Markaz Director Mohammed Furqan also asked the BJP's allies, especially the JDU and TDP, who supported to pass this bill, to wait for time. The dagger they have stabbed in the back of Muslims will be answered in the elections. And, the BJP government should also listen that till now Muslims have been very patient and have endured every injustice, but now Muslims will never sit silent and will protest in every corner of the country with the justice-loving citizens until this unconstitutional Waqf Amendment Bill is withdrawn.


At last the Director of Markaz Tahaffuz-e-Islam Hind Mohammed Furqan, said that the sectarian government and its allied parties should also fear the wrath of Allah because ultimately this waqf property belongs to Allah!


#SaveWaqfSaveConstitution | #IndiaAgainstWaqfBill | #RejectWaqfBill | #SayNoToWaqfBill | #WaqfBill