Thursday, 15 October 2020

حضرات صحابہ کرامؓ کے بغیر دنیا اسلام سے خالی ہے، صحابہ پر زبان درازی کرنے سے بچیں!



 حضرات صحابہ کرامؓ کے بغیر دنیا اسلام سے خالی ہے، صحابہ پر زبان درازی کرنے سے بچیں!

مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت صحابہؓ کانفرنس سے مولانا صلاح الدین قاسمی اور مفتی ناصر ایوب ندوی کا خطاب!


بنگلور، 14/ اکتوبر (ایم ٹی آئی ہچ): مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت صحابہؓ کانفرنس کی انتیسویں نشست سے خطاب کرتے جمعیۃ علماء ضلع بنگلور کے صدر مولانا محمد صلاح الدین ایوبی قاسمی مدظلہ نے فرمایا کہ آج پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے طرح طرح کی کوششیں جاری ہیں لیکن یہ بات طئے ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اسلام کو مٹا نہیں سکتے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے اندر ایک ایسی لچک رکھ دی ہے کہ جتنا ہی اسے دبائیں گے اتنا ہی وہ ابھرے گا۔ مولانا نے فرمایا کہ دشمنانِ اسلام شروع ہی سے اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ عام بھولے بھالے مسلمانوں کو اسلام کی دعوت و تبلیغ سے روکا جائے اور اسلام سے متنفر کرایا جائے اور اس کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کررہے ہیں، جن میں سے ایک حضرات صحابہؓ پر سے اعتماد کو ختم کرنا ہے، صحابہ کرامؓ پر طعن و تشنیع کے ذریعے انکی شخصیت کو مجروح کردیا جائے۔ حالانکہ حضرات صحابہؓ ہی کے ذریعے آج ہمارے پاس قرآن موجود ہے، اسلام کے سارے شعبے حضرات صحابہؓ ہی کی دین ہیں۔مولانا نے فرمایا کہ حضرات صحابہؓ اللہ کے نبیؐ کے عشق میں ڈوبے ہوئے تھے، ذرا برابر بھی ان سے اللہ و رسول ؐکی نافرمانی نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ حضرات صحابہؓ کو اللہ نے رضی اللہ عنہ کا مژدہ سنایا اور اللہ کے نبیؐ نے ستاروں کے مانند قرار دیکر کہا کہ جس کسی کی بھی اقتدا کرلو گے تو کامیاب ہو جاؤ گے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ حضراتِ صحابہؓ وہ ہیں جن پر ایمان لانے کی وجہ سے انکے رشتہ داروں، دوستوں نے تک ظلم کیا، کسی صحابی کو حصیر میں لپیٹ کر نیچے سے آگ کا دھواں دیا جاتا، کسی کو ننگا بدن عرب کی تپتی ہوئی ریت پر لٹا کر اوپر بھاری بھر کم چٹان کو رکھ دیا جاتا، اتنی ساری تکلیفوں، مصیبتوں کو برداشت تو کرلیا مگر ایمان کا سودا نہیں کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ حضرات صحابہؓ ہیں تو امت ہے، حضراتِ صحابہ ؓہیں تو اسلام ہے، صحابہ کرامؓ کے بغیر دنیا اسلام سے خالی ہے۔ مولانا صلاح الدین قاسمی نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔


عظمت صحابہؓ کانفرنس کی ستائیسویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے مدرسہ فیض العلوم خانقاہ بوڑیہ کے رفیق مفتی ناصر ایوب ندوی مدظلہ نے فرمایا کہ حضراتِ صحابہؓ وہ لوگ ہیں جنکے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقوی کے لیے خالص کردیا ہے، انکے لیے مغفرت کا اعلان اور اجر عظیم ہے۔ جن کے بارے میں رسول اللہؐ نے فرمایا کہ میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں، جسکی بھی اقتدا کرو گے راستہ پا جاؤ گے۔ مولانا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دین کی حفاظت اور اسکی سر بلندی کے لیے حضرات صحابہؓ کی پاکیزہ اور مقدس جماعت کو چنا اور حضرات صحابہؓ نے دین کی حفاظت کے لیے تن من دھن کی بازی لگادی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان سچے جانثاروں نے دین اسلام کی خاطر وہ قربانیاں پیش کی ہیں کہ جسکی نظیر پیش کرنے سے عالم انسانیت تہہ دامن سے خالی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ یہی وہ صحابہؓ ہیں جنہوں نے پیغام خداوندی اور سنت مصطفوی کو عام کرنے کے لیے اپنی گردنیں کٹا دیں، اپنی بیویوں کو بیوہ اور بچوں کو یتیم کردیا، یہی وہ صحابہؓ ہیں جنہوں نے آفتاب ہدایت سے بلا واسطہ نور حاصل کیا، یہی وہ صحابہؓ ہیں جنہوں نے ہمیشہ ہمیش کے لیے آخرت کو دنیا پر ترجیح دی، یہی وہ صحابہؓ ہیں جو حق و صداقت کا مجسم نمونہ تھے، یہی وہ صحابہؓ ہیں جو سربکف مجاہد تھے، یہی وہ صحابہؓ ہیں جنکی نعش کو فرشتوں نے غسل دیا تھا، یہی وہ صحابہؓ ہیں جو موت سے نہیں بلکہ موت ان سے ڈرتی تھی، یہی وہ صحابہؓ ہیں جنکو سمندروں نے راستہ دیا۔ لیکن افسوس کہ ساتھ یہ کہنا پڑھ رہا ہے کہ آج کچھ لوگ حضرات صحابہؓ کی شان میں گستاخی کر رہے ہیں، صحابہ کرامؓ کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا رہے ہیں۔مفتی ناصر ایوب ندوی نے فرمایا کہ حضرات صحابہ کرامؓ بہت ہی مقدس اور بابرکت ہستیاں ہیں اس لیے صحابہ کی شان میں گستاخی کرنے سے بچنا چاہیے۔

Urdu Newspapers | 14 Oct 2020

 Urdu Newspapers | 14 Oct 2020


⭕️Mufti Zaid Mazahiri Nadwi Sb DB Speech In Online Azmat-e-Sahaba Conference By Markaz Tahaffuz-e-Islam Hind!










Darul Uloom Deoband Ki Shoora Ka Bada Faisal!

 VIDEO : https://youtu.be/OwaHSmKZS6w


📢دارالعلوم دیوبند کی شوریٰ کا بڑا فیصلہ!

🎯مہتمم دارالعلوم دیوبند مفتی ابوالقاسم نعمانی صاحب "شیخ الحدیث" ، جانشین شیخ الاسلام مولانا سید ارشد مدنی صاحب "صدر المدارسین" اور امیر الہند قاری عثمان منصورپوری صاحب "کارگزار مہتمم" منتخب!

👈🏻دیکھیں👀 خصوصی رپورٹ!


🔊Darul Uloom Deoband Ki Shoora Ka Bada Faisal!

🎯Mufti Abul Qasim Nomani DB "Sheikhul Hadees", Moulana Syed Arshad Madni DB "Sadrul Mudarriseen" Aur Qari Usman Mansoorpuri DB "Karguzar Mohatmim" Muntakhab!

*👉🏻Daikhain 👀 Special Repor


Presented By:

Tahaffuz-e-Islam Media Service

(Bangalore, Karnataka, India)

Salman Nadwi Ke Batil Nazriyaat Ke Mutalliq Jamia Mazahir Ul Uloom Saharanpur Ka Fatwa!

 ⭕️سلمان ندوی کے گمراہ نظریات کے متعلق جامعہ مظاہر العلوم سہارنپور کا فتویٰ!

👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻




حضرت ابوہریرہ ؓ نے اظہار حق کیلئے کسی کی پرواہ نہیں کی،کسی صحابی پر بھی تنقید کرنا جائز نہیں!



 حضرت ابوہریرہ ؓ نے اظہار حق کیلئے کسی کی پرواہ نہیں کی،کسی صحابی پر بھی تنقید کرنا جائز نہیں!

مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت صحابہؓ کانفرنس سے مفتی محمد زید مظاہری ندوی کا خطاب!


بنگلور، 13/ اکتوبر (ایم ٹی آئی ہچ): مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت صحابہؓ کانفرنس کی چھبیسویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ حدیث حضرت مولانا مفتی محمد زید مظاہری ندوی مدظلہ نے فرمایا کہ حضرت ابوہریرہؓ کے متعلق صحابہ کرام ؓمیں یہ بات طئے شدہ تھی جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہؓ سے فرمایا: ”ائے ابوہریرہ! آپ تو ہم لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہؐ کے ساتھ رہنے والے اور سب سے زیادہ رسول اللہؐ کی حدیثوں کو یاد رکھنے والے ہیں۔“ مولانا نے فرمایا کہ حضرت ابو ہریرہؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ کی زندگیوں کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہؐ کی تربیت کے نتیجے میں وہ پورے طور پر لایخافون لومتہ لائم کا مصداق بن چکے تھے، اظہارِ حق کے سلسلے میں انکو کوئی طاقت، حکومت یا بڑی سے بڑی شخصیت بھی مانع نہ بنتی تھی، وہ حق کو ظاہر کرکے رہتے تھے، وہ لوگوں کو کتنا ہی کڑوا معلوم ہو، وہ اپنے وقت کے امراء اور حکام کے سامنے بھی حق گوئی اور امر با المعروف و نہی عن المنکر سے باز نہ آتے تھے۔ چنانچہ اس سلسلے میں حضرت ابوہریرہ ؓاور دیگر صحابہ کرامؓ کے مختلف واقعات کتب حدیث میں موجود ہیں، جن سے امراء اور حکام وقت کے سامنے انکی حق گوئی کا پتہ چلتا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ حدیث کی کتابوں میں ایسے بہت سارے واقعات ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ کبھی بھی نہ مداہنت کا شکار ہوئے اور نہ ہی کسی موقع پر کسی ملامت اور بدنامی یا کسی امیر و حاکم کے خوف سے کتمان علم اور کتمان حدیث کے گناہ میں مبتلا ہوئے ہوں۔ اگر کسی موقع پر انہوں نے کچھ حدیثوں کو بیان نہیں کیا تو وہ بھی رسول اللہؐ ہی کے ارشادات اور خصوصی ہدایات سے انہوں نے یہ سمجھا کہ اس مضمون کی حدیثوں کا بیان کرنا فتنے کا موجب ہوگا اس لیے رسول اللہؐ کی ہدایات کے مطابق ان حدیثوں کو انہوں نے بیان نہیں کیا، احادیث مبارکہ سے اسکی دلیلیں ملتی ہیں اور مولانا نے بہت ساری دلیلیں اور مثالیں پیش کیں۔ مولانا زید مظاہری نے فرمایا کہ یہاں ایک اعتراض ہوتا ہے کہ اگر ان حدیثوں کو بیان کرنا فتنے کا موجب ہے تو رسول اللہؐ نے ان حدیثوں کو کیوں بیان کیا؟ تو اسکا جواب یہ ہے کہ اللہ کے نبیؐ کو وہ مخصوص حدیثیں بیان کرکے اپنی دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری کو پورا کرنا تھا تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ آپ ؐنے اللہ کے پیغامات کو نہیں پہنچایا، اور اللہ کے نبیؐ نے اگر چند مخصوص صحابہ کرامؓ کو یہ حدیثیں بیان کی تو اس میں بہت ساری حکمتیں اور مصلحتیں پوشیدہ تھیں اور اس میں ان صحابہؓ کے صبر و ضبط کا امتحان بھی لینا مقصود تھا، کہ ایسی حدیثوں کو اپنی ذات تک محدود رکھیں، اور الحمد للہ حضرات صحابہ اس میں پورا کھرے کے کھرے اترے۔ مولانا نے فرمایا کہ ایسی حدیثوں کی تحقیق اور ٹوہ میں بھی نہیں پڑھنا چاہیے، جنکو مخفی رکھا گیا ہے۔ الغرض ان ساری باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ اور دیگر حضرات صحابہ کرام ؓنے ان حدیثوں کو ضرور بیان کیا جس میں امت کے لیے خیر تھا، اور جن حدیثوں کو بیان نہیں کیا انکو بیان نہ کرنا ہی مناسب تھا، لہٰذا اس پہلو سے کسی صحابی پر بھی تنقید کرنا جائز نہیں۔ قابل ذکر ہیکہ مفتی محمد زید مظاہری ندوی نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو بہت سراہا اور اراکین مرکز کے لیے بہت ساری دعاؤں سے نوازا۔