Saturday, 7 November 2020

نبی کریمؐ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے دنیا کے بدترین لوگ ہیں!



نبی کریمؐ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے دنیا کے بدترین لوگ ہیں!

مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت مصطفیٰؐ کانفرنس سے مولانا عبد الباری فاروقی کا ولولہ انگیز خطاب!


بنگلور، 7/ نومبر (ایم ٹی آئی ہچ): مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت مصطفیٰؐ کانفرنس کی چوتھی نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالمبلغین لکھنؤکے استاذ حضرت مولانا عبد الباری فاروقی مدظلہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کو محسن انسانیت بناکر پیدا کیا اور قیامت تک کے لیے آپکو مبعوث فرمادیا۔ آپکی یہ بعثت عالمی اور ابدی بعثت ہے۔ آپؐ کے بعد کوئی نیا نبی، کوئی نیا رسول، اور کوئی نئی شریعت آنے والی نہیں ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا انکی قوموں نے انکا مذاق اڑایا انکا استہزاء کیا، انکی شان میں گستاخی کی، انکو حقیر و فقیر سمجھا، انکی تذلیل کی گئی، تو اللہ تعالیٰ کا غضب جوش میں آیا اور وہ عذاب کا شکار ہوئے۔ مولانا نے فرمایا کہ جب اخیر میں ہمارے نبیؐ آئے اور اپنی نبوت و رسالت کا اعلان کیا تو انکے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آیا، خود آپکے خاندان قبیلے والوں نے آپکو برا بھلا کہا اور آپکی شان میں گستاخیاں کیں۔ مکی زندگی میں اللہ کے نبیؐ کو جس دور سے اور جن جن تکلیفوں، مصیبتوں سے گزرنا پڑا اسے بولنے سے بھی جسم کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی ؐکی ہر جگہ حفاظت فرمائی۔ مولانا عبد الباری فاروقی نے فرمایا کہ شان رسالتؐ میں گستاخی کا یہ سلسلہ اسی دور سے چلتا آرہا ہے، اور آج بھی آئے دن ہمارے نبی ؐکی شان میں گستاخیاں کی جارہی ہیں، اور یہ دنیا کے خبیث ترین اور بد ترین لوگ ہیں جو ہمارے نبی ؐکی شان میں گستاخیاں کر رہے ہیں اور جن جن لوگوں نے کسی بھی اعتبار سے اس میں حصّہ لیا وہ دنیا کے بدترین لوگ ہیں۔ مولانا فاروقی نے دو ٹوک فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر نازل ہو، اور اللہ تعالیٰ انکو تباہ و برباد کرے۔ مولانا نے افسوس کرتے ہوئے فرمایا کہ آج اگر ان بد بختوں کو ہمارے نبی ؐکی شان میں گستاخی کرنے کی ہمت اور جرأت ہو رہی ہے تو یہ ہماری کمزوری ہے، ہمارا اسلام سے دور ہونے کا نتیجہ ہے، جب مسلمان سچے پکے مسلمان بن جائیں گے تو ان شاء اللہ یہ سب کچھ ختم ہو جائیں گے۔ مولانا نے فرمایا کہ تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ اللہ کے نبی ؐسے اور اللہ کے نبیؐ جن سے محبت رکھتے تھے ان سے امت محبت کرے۔اگرایسا نہیں کرتے تو اسکی محبت رسول کا کوئی اعتبار نہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ آپؐ کو اللہ کے دشمنوں سے، اللہ کے دین کے دشمنوں سے اور انکے طریقوں سے دشمنی تھی تو ہمیں بھی ان لوگوں سے دشمنی رکھنا ضروری ہے، اس لیے کہ وہ ہمارے دین کو اور ہماری شریعت کو ختم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھیں گے۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ ہم تباہ و برباد ہو جائیں، اور انکے منہ سے جو نکل رہا ہے وہ کم ہے کیونکہ انکے سینوں میں اس سے بھی بہت زیادہ بغض چھپا ہوا ہے۔ مولانا عبد الباری فاروقی نے فرمایا کہ محبت رسولؐ کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان کے اندر حمیت اسلامی اور حمیت دینی ہو، قرآن کے حقوق ادا کرنے کا ایک جذبہ ہو، محبت رسولؐ کا تقاضا یہ ہے کہ اسلام ساری دنیا اور ساری دنیا کی چیزوں سے ہمیں محبوب ہو اور اس پر مر مٹنے کا جذبہ ہمارے اندر پیدا ہوجائے۔قابل ذکر ہیکہ نبیرۂ امام اہل سنت حضرت مولانا عبد الباری فاروقی مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔

Friday, 6 November 2020

France! Hamare Sabr Ka Imtihaan Na Lo Warna...


VIDEO : https://youtu.be/SgrtfYDwZnw


🎯فرانس! ہمارے صبر کا امتحان نہ لو ورنہ... | جانشین امام اہل سنت حضرت مولانا عبد العلیم صاحب فاروقی مدظلہ


🎯France! Hamare Sabr Ka Imtihaan Na Lo Warna... | Moulana Abdul Aleem Saheb Farooqi DB


🎯फ्रांस! हमारे सब्र का इम्तिहान ना लो... | मौलाना अब्दुल अलीम साहब फारुकी द.ब


Presented By:

Tahaffuz-e-Islam Media Service

(Bangalore, Karnataka, India)


Urdu Newspapers | 05 Nov 2020

 Urdu Newspapers | 05 Nov 2020


⭕️Moulana Abdul Aleem Farooqi Sb DB Speech In Online Azmat-e-Mustafa Conference Org By Markaz Tahaffuz-e-Islam Hind Appeals To Raise Voice Against France!







Thursday, 5 November 2020

فرانس کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرکے حب رسولؐ کا ثبوت دیں!



 مسلمان فرانس کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرکے حب رسولؐ کا ثبوت دیں!

مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت مصطفیٰؐ کانفرنس سے مولانا سیداحمد ومیض ندوی نقشبندی کا ولولہ انگیز خطاب!


بنگلور، 5/ نومبر (ایم ٹی آئی ہچ): مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت مصطفیٰؐ کانفرنس کی تیسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے پیر طریقت حضرت مولانا سید احمد ومیض صاحب ندوی نقشبندی مدظلہ نے فرمایا کہ ربیع الاول کا مہینہ بہت ہی مبارک اور متبرک مہینہ ہے، ربیع الاول کا مہینہ اس لیے بھی معتبر ہے کہ اس میں ہمارے آقائے نامدار، تاجدارِ عرب، امام الانبیاء محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم کی ولادت ہوئی، اور آپؐ کی ذات ہی ایسی ہے کہ جس چیز کا تعلق آپؐ سے ہو جاتا ہے اسکا مقام و مرتبہ بڑھ جاتا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ بڑے ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آئے دن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی شان اقدس میں گستاخیاں کی جارہی ہیں، ابھی فی الحال فرانس کے صدر نے گستاخانہ خاکے بناکر جو گستاخی کی ہے وہ قابل مذمت اور قابل لعنت ہے، اور فرانس کی یہ گستاخیاں کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ فرانس نے شروع ہی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے رکھی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ فرانس کا صدر میکرون بچپن سے ہی بد کردار ہے۔ مولانا نے کئی رازوں کو فاش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ میکرون 15/ سال کی عمر میں جس اسکول میں پڑھتا تھا، اسی اسکول کی 40/سالہ ٹیچر کے ساتھ اس نے بدکاری کی جسکی وجہ سے ان دونوں کو اسکول سے نکال دیا گیا اور اس عورت کے شوہر کو معلوم ہوا تو اسنے اسے طلاق دے دی۔ تو ایسے بد کرداروں کو کیسے حق پہنچتا ہے کہ وہ ایسی ذات پر انگلی اٹھائے جسکی عزت و عصمت کی گواہی فرشتے دیتے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ آپ ؐ کی شان میں گستاخی کے دور میں کچھ ذمہ داریاں ہمارے اوپر عائد ہو جاتیں ہیں۔ جسکا ادا کرنا بہت ضروری ہے۔پہلی ذمہ داری ہمارے نبی ؐپر سچا پکا ایمان رکھنا یعنی آپکی ذات پر آپکی صفات پر یقین رکھنا، دوسری ذمہ داری حضور ؐکی زندگی کو جاننا اس لیے کہ حضورؐ کی معرفت آدمی کے دل میں حضورؐ کی محبت پیدا کرتی ہے، تیسری ذمہ داری حضورؐ کے دین کو دوسروں تک پہنچانا خصوصاً غیر مسلموں تک پہنچانا، چوتھی ذمہ داری ختم نبوتؐ کی حفاظت کرنا کہ ہمارے نبیؐ آخری نبی و رسول ہیں آپکے بعد کوئی نبی و رسول نہیں اگر کوئی کہے کہ آپکے بعد بھی نبی ہے تو وہ ایک نمبر کا جھوٹا و کذاب ہے، پانچویں ذمہ داری حضورؐ کے سلسلے میں جو غلط باتیں پھیلا دی گئیں ہیں اسکو دور کرنا۔ مولانا سید احمد ومیض نقشبندی نے فرمایا کہ ان ذمہ داریوں کے ساتھ ہمیں پوری دنیا میں نبیؐ کی سیرت و تعلیمات کو عام کرنا چاہئے۔ اسی کے ساتھ ہمیں پوری شدت کے ساتھ فرانس کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے اور اپنے آقاؐ سے محبت کا اظہار کرنا چاہیے۔ مولانا نے فرمایا کہ جو لوگ فرانس یا دوسرے گستاخان رسولؐ کی تائید کرتے ہیں انکو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنے محسن کے ساتھ گستاخی کررہے ہیں کیونکہ رسول اللہؐ پوری انسانیت کے محسن اور نبی ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ فرانس کی گستاخانہ مہم کا خاتمہ کرنے کیلئے ہر طرح کے ذرائع ابلاغ کا استعمال کرنا چاہیے۔ مولانا احمد ومیض ندوی نقشبندی نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ قابل ذکر ہیکہ 07/ نومبر بروز ہفتہ آن لائن عظمت مصطفیٰ ؐکانفرنس سے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ حدیث حضرت مولانا محمد خالد ندوی غازیپوری مدظلہ خطاب کریں گے۔

Wednesday, 4 November 2020

کی شان رسالتؐ میں گستاخی ناقابل قبول، مسلمان نبیؐ کی شان میں گستاخی ہرگز برداشت نہیں کرسکتا! مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت مصطفیٰؐ کانفرنس سے مولانا عبد العلیم فاروقی کا ولولہ انگیز خطاب!



 فرانس کی شان رسالتؐ میں گستاخی ناقابل قبول، مسلمان نبیؐ کی شان میں گستاخی ہرگز برداشت نہیں کرسکتا!

مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت مصطفیٰؐ کانفرنس سے مولانا عبد العلیم فاروقی کا ولولہ انگیز خطاب!


بنگلور، 4/ نومبر (ایم ٹی آئی ہچ): مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت مصطفیٰؐ کانفرنس کی دوسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے جانشین امام اہل سنت حضرت مولانا عبد العلیم صاحب فاروقی مدظلہ نے فرمایا کہ سالہا سال سے لوگ حضورؐ کی سیرت کو لکھ رہے ہیں مگر آج تک کوئی سیرت کا حق ادا نہ کر سکا، بڑے بڑے علماء، صلحاء، فصحاء، بلغاء، ادباء، شعراء آئے سب نے یہی کہا کہ ہم مکمل سیرت کو لکھ نہ سکے۔ ساری امت کی ماں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ آپؐ کے اخلاق کیا ہیں؟ آپ ؐکی سیرت کیا ہے؟ تو امی جان نے ایک منٹ میں جواب دے دیا فرمایا ”نبیؐ کا اخلاق قرآن ہے“ یعنی آپ ؐکی سیرت قرآن ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ قرآن پاک کے معانی و مطالب کو مکمل بیان کرنے کی ہمت کہاں ہے؟ غالباً حضرت سمرہ بن جندب ؓ فرماتے ہیں کہ آپؐ تشریف فرما تھے اور جسم اطہر پر چادر تھی جس پر سرخ دھاریاں تھیں اور حضرت سمرہؓ آپکو دیکھ رہے ہیں اور فرمایا میں نے حضورؐ سے پہلے بھی دنیا دیکھی اور حضورؐ کے بعد بھی دنیا دیکھی مگر حضورؐ کے جیسا کسی کو نہیں دیکھا۔ نہ کوئی آپکی سیرت بیان کر سکتا ہے نہ کوئی صورت بیان کر سکتا ہے، کسی نے کہا جلوہ بقدرِ ظرف نظر دیکھتے رہے، کیا دیکھتے ہم انکو مگر دیکھتے رہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضورؐ کو ایسا بنایا کہ پھر ویسا کسی کو نہیں بنایا۔ کسی شاعر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضورؐ کو بنانے کے بعد وہ سانچہ ہی توڑ دیا اب کوئی دوسرا ویسا پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔ مولانا نے فرمایا کہ جب آپؐ کو نبوت و رسالت کا تاج پہنایا گیا تو آپؐ نے سب سے پہلے امن و امان کی اور سلامتی کی دعوت دی، آج جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر اعتراض کرتے ہیں، انگلیاں اٹھاتے ہیں، وہ صرف فتح مکہ کو دیکھ لیں ساری طاقت و قوت آپؐ کے ہاتھ میں تھی، اللہ کے نبی ؐچاہتے تو چن چن کر بدلہ لے سکتے تھے، مگر آپؐ نے فرمایا جو خانۂ کعبہ میں پناہ لے وہ بھی امن میں ہے، جو ابو سفیان کے گھر میں پناہ لے وہ بھی امن میں ہے جو مجھے دیکھ کر تلوار نیچے کردے وہ بھی امن ہے، آج تم سے کوئی بدلہ اور انتقام نہیں لیا جائے گا! مولانا فاروقی نے فرمایا کہ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام امن و امان والا ہے۔ مولانا نے دوٹوک فرمایا کہ جو لوگ اسلام کو دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہیں وہ کان کھول کر سن لیں! اسلام میں تلواریں جب بھی اٹھی ہیں تو حیات جاودانی کے لیے اور اپنے دفاع میں اٹھی ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ اسلام تو یہاں تک کہتا ہے کہ کسی مذہب کے مقدسات کو بھی برا بھلا مت کہو، آج تک مسلمانوں نے کسی مذہب کے مقدسات کی توہین نہیں کی۔ مولانا عبد العلیم فاروقی نے فرمایا کہ آج کل فرانس میں جو کچھ ہورہا ہے اور جو لوگ شان رسالتؐ میں گستاخی کرتے ہوئے گستاخانہ خاکے بنا رہے ہیں وہ کان کھول کر سن لیں کہ مسلمان نبی ؐکی شان میں گستاخی کبھی برداشت نہیں کرسکتا۔ مولانا نے فرمایا کہ یہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہیکہ وہ ایسے گستاخوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، اور اگر ہاتھ سے اسے روک سکیں تو روکیں، یا اگر زبان سے روک سکتے ہوں تو روکیں یا کم از کم دل سے اسے برا سمجھیں! خاموش رہنے کا مسلمانوں کو کوئی حق نہیں اور جو خاموش رہے گا وہ گنہگاروں میں شامل ہوگا۔ اسی کے ساتھ مولانا نے فرمایا کہ پوری دنیا میں امن و امان قائم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت اور تعلیمات کو اپنانے سے اور آپکی تعلیمات کو عام کرنے سے ہوگا۔ مولانا عبد العلیم فاروقی نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے مرکز کو بہت ساری دعاؤں سے نوازا۔ خصوصاً مرکز کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی عظمت صحابہؓ کانفرنس کے تعلق سے فرمایا کہ اس کا پورا ملک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں خاطر خواہ فائدہ ہوا ہے۔ قابل ذکر ہیکہ 05 /نومبر کو عظمت مصطفیٰؐ کانفرنس سے نبیرۂ امام اہل سنت مولانا عبد الباری صاحب فاروقی مدظلہ خطاب کریں گے!