Sunday, 15 November 2020

Online Azmat-e-Mustafa Conference Ke Ikhtitaami Nashist Se Moulana Kaleem Siddiqui DB Ka Khitab


*🛑 लाईव 🛑 LIVE 🛑 لائیو 🛑*


https://youtu.be/Wvv6zV218tI


*🎯آن لائن عظمت مصطفیٰؐ کانفرنس کے اختتامی پروگرام سے داعیٔ اسلام مولانا محمد کلیم صدیقی صاحب مدظلہ کا خطاب شروع ہوچکا ہے!*


*🎯Online Azmat-e-Mustafa Conference Ke Ikhtitaami Nashist Se Moulana Kaleem Siddiqui DB Ka Khitab Suru Hochuka Hai!*


*🎯आॅनलाइन अजमत-ए-मुस्तफ़ा कॉन्फ्रेंस के इख्तितामि प्रोग्राम से मौलाना कलीम सिद्दीकी साहब द.ब का खिताब शुरू हो चुका है!*


Saturday, 14 November 2020

مومن حضور اکرم ؐکی شان میں گستاخی ہرگز برداشت نہیں کر سکتا!


 

مومن حضور اکرم ؐکی شان میں گستاخی ہرگز برداشت نہیں کر سکتا!

 مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت مصطفیٰؐ کانفرنس سے مولانا رحمت اللہ میر قاسمی کشمیری کا ولولہ انگیز خطاب!


بنگلور، 14/ نومبر (ایم ٹی آئی ہچ): مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت مصطفیٰؐ کانفرنس کی ساتویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم رحیمیہ کشمیر کے بانی و مہتمم اور دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ حضرت مولانا رحمت اللہ میر قاسمی کشمیری مدظلہ نے فرمایا کہ نبی کریمؐ تمام عالم کے لیے رحمت ہیں حتیٰ کے جانوروں کے لیے بھی رحمت ہیں۔ آپؐ کی پوری زندگی پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو مخلوق سے بے پناہ محبت و شفقت تھی اسی لیے ہر طبقہ آپکی رحمت اللعالمین کا حصہ رکھتا ہے، اب جو لوگ ایمان والے ہیں انکا ایک درجہ نبی کریمؐ سے قربت کا بڑھا ہوا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ نبی کریمؐ کے حقوق امت پر بہت زیادہ ہیں، ان میں سے ایک آپؐ سے ساری دنیا سے زیادہ اپنے ماں باپ اپنی آل اولاد سے زیادہ محبت کرنا ہے۔ اور جو بندہ آپؐ سے محبت کریگا وہ آپکی اتباع بھی کریگا۔اور اتباع کا مطالبہ خود اللہ کے نبیؐ نے احادیث میں فرمایا ہے۔ مولانا رحمت اللہ کشمیری نے فرمایا کہ جو بندہ اللہ کے نبیؐ سے سچی محبت کریگا وہ ضرور بالضرور حضورؐ کی اتباع و اطاعت بھی کریگا۔ اور مومنین کاملین کی یہی علامت ہے۔ مولانا کشمیری نے فرمایا کہ اسی محبت کا نتیجہ ہوتا ہے کہ آدمی جس سے محبت کرتا ہے اسکی ادنیٰ سی گستاخی و بے ادبی بھی برداشت نہیں کر سکتا، جیسے اولاد اپنے ماں باپ کی گستاخی برداشت نہیں کر سکتی، بھائی اپنی بہن کی گستاخی برداشت نہیں کر سکتا، بہن اپنے بھائی کی گستاخی برداشت نہیں کر سکتی، اب ان تمام رشتہ داروں سے زیادہ مومن کے دل میں حضور اقدسﷺ کی محبت ہوتی ہے تو مومن حضورؐ کی شان میں گستاخی کیسے برداشت کر سکتا ہے؟ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ مومن چونکہ حضورؐ کا عاشق صادق ہوتا ہے تو کہیں بھی ادنیٰ سی بے ادبی و گستاخی حضورؐ کی ہوتی ہے تو برداشت نہیں کر سکتا، اور یہی مومنین کا سرمایہ ہے۔ اسی لیے آپکے جانثار صحابہؓ نے حضورؐ کی شان میں گستاخی کو ہرگز برداشت نہیں کیا۔ مولانا رحمت اللہ کشمیری نے فرمایا کہ دو چیزوں سے حضورؐ کی محبت بڑھتی ہے: پہلی چیز درود شریف پڑھنے سے اور دوسری چیز آپؐ کی سنتوں کو اپنانے سے۔ اور یہی محبت مطلوب و مقصود ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی حضورؐ کی شان میں گستاخی ہوتی ہے تو مسلمانوں کا دل چھلنی و زخمی ہو جاتا ہے، اور اس پر وہ ناراضگی کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتے، اور ناراضگی کا اظہار کرنا بھی چاہیے مگر ناراضگی کا اظہار آپ ؐکی شریعت کے حدود میں رہ کر کرنا چاہیے، جذبات میں آکر حضورؐ کی شریعت سے ہٹنا مناسب نہیں ہے۔ محبت کے جذبات بھی دین و شریعت کے تابع ہوں۔ کیونکہ ہمارا دین صرف عبادات کا دین نہیں ہے بلکہ ایمانیات، معاملات، معاشرت، اخلاقیات کا بھی دین ہے۔ نبی کریمؐ نے ساری چیزیں بیان کی ہیں۔ حتیٰ کہ قیامت تک کیا کیا ہونے والا ہے؟ کیسے کیسے فتنے ابھریں گے؟ کیسی کیسی لڑائیاں اور جنگیں ہوں گیں؟ سب کی پیشین گوئیاں کیں۔ مولانا نے فرمایا کہ مومن کو جب بھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ حضورؐ کی شریعت کی طرف رجوع ہوتا ہے اور اسکی ماتحتی میں رہ کر کام کرتا ہے، اسی لیے کامل مومن وہ ہے جو اپنے جذبات کو شریعت محمدی کے تابع کردے۔ اسکی ساری مثالیں حضرات صحابہؓ کی زندگیوں میں موجود ہیں۔ مولانا رحمت اللہ قاسمی کشمیری نے فرمایا کہ آج جو لوگ آپؐ کو رحمت اللعالمین نہیں مانتے اور آپکی شان میں گستاخی کرتے ہیں ان میں سے اکثر وہ بیچارے ہیں جو لاعلم ہیں، جاہل ہیں انکے قلب کی آنکھیں بند ہیں، وہ آپؐ کے مقام و مرتبہ کو نہیں جانتے، امت مسلمہ کا فریضہ ہے کہ وہ ان لوگوں تک آپ ؐکا تعارف پہنچائیں۔ اور حضورؐ کے حقوق کو مکمل ادا کرنے کی کوشش کریں۔ قابل ذکر ہیکہ مولانا رحمت اللہ میر قاسمی کشمیری مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اطلاعات کے مطابق 15/ نومبر بروز اتوار کو کانفرنس کے اختتامی پروگرام سے داعیٔ اسلام مولانا محمد کلیم صدیقی مدظلہ کا خطاب ہوگا اور انہیں کی دعا سے کانفرنس کا اختتام ہوگا۔

Friday, 13 November 2020

حضور اکرمؐ کی شان اقدس میں گستاخی ناقابل برداشت ہے!

 


حضور اکرمؐ کی شان اقدس میں گستاخی ناقابل برداشت ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت مصطفیٰؐ کانفرنس سے مولانا عبد الرحیم رشیدی کا ولولہ انگیز خطاب!


بنگلور، 13 /نومبر (ایم ٹی آئی ہچ): مرکز تحفظ اسلام ہند کی عظیم الشان آن لائن عظمت مصطفیٰؐ کانفرنس کی چھٹویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر مولانا عبد الرحیم رشیدی مدظلہ نے فرمایا کہ آج کا یہ دور سوشل میڈیا کا دور ہے، دنیا کے کسی کونے میں کوئی بات کہی جاتی ہے تو منٹوں بلکہ سیکنڈوں میں پوری دنیا میں پہنچ جاتی ہے۔ بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ آج نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔ ابھی قریب میں فرانس کے اندر آپ علیہ السلام کے بارے میں نازیبا کلمات کہے گئے اور آپ ؐکے کارٹون بنائے گئے، آخر آپؐ کی ذات گرامی کے ساتھ ایسا معاملہ کیوں؟ مولانا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو وہ مقام و مرتبہ دیا ہے جو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، ہمارے لوگ بھی اسے مانتے ہیں اور بہت سارے لوگ جو ہمارے نبیؐ کو نہیں مانتے وہ بھی ہمارے نبی کے مقام و مرتبہ کو جانتے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ دنیا کے انسانوں کی اگر تقسیم کی جائے تو دنیا میں صرف دو ہی قسم کے لوگ ہیں: ایک قسم محمد عربیؐ کو ماننے والوں کی اور دوسری قسم نہ ماننے والوں کی۔ مولانا نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے نام کو قیامت تک کے لیے بلند کردیا، جیسے جیسے دور گزر رہا ہے ویسے ویسے آپکا نام بلند ہو رہا ہے،جسکے نام کو اللہ نے بلند کردیا اسے کوئی نیچے نہیں کر سکتا! مولانا نے فرمایا آپؐ کی سیرت طیبہ دنیا کی جتنی بڑی زبانیں ہیں ساری زبانوں میں موجود ہے، کوئی زبان اس سے خالی نہیں ہے۔ ہر ایک کو چاہیے کہ آپؐ کی سیرت کو پڑھے اور آپکی سیرت پر غور کرے۔ اس لیے کہ آپکی سیرتِ طیبہ میں زندگی گزارنے کا طریقہ ہے، انسانوں کے لیے آئیڈیل اور نمونہ ہے۔ مولانا عبد الرحیم رشیدی نے دوٹوک فرمایا کہ آج بڑے عہدوں پر فائز لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر کیچڑ اچھالنا چاہتے ہیں یہ تعجب کی بات ہے، کیا یہ لوگ سورج پر تھوکنا چاہتے ہیں؟ سورج پر یہ تھوکیں گے تو تھوک انکے منہ پر ہی گرے گا۔ اور یہ بات یاد رکھیں کہ حضور اکرمؐ کی شان اقدس میں گستاخی ناقابل برداشت ہے۔قابل ذکر ہیکہ مولانا عبد الرحیم رشیدی نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اطلاعات کے مطابق 14/ نومبر بروز ہفتہ کو رات 9:30 بجے آن لائن عظمت مصطفیٰ ؐکانفرنس سے دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ حضرت مولانا رحمت اللہ میر قاسمی کشمیری مدظلہ کا خطاب ہوگا، جو مرکز تحفظ اسلام ہند کے آفیشل یوٹیوب چینل اور فیس بک پیج تحفظ اسلام میڈیا سروس پر براہ راست نشر کیا جائے گا!


#Press_Release #News #AzmateMustafa #ProphetMuhammad #BycottFrenchProducts #MTIH #TIMS

Thursday, 12 November 2020

Urdu Newspapers | 11 Nov 2020 Moulana Khalid Nadwi Gazipuri DB

 Urdu Newspapers | 11 Nov 2020


⭕️Moulana Khalid Nadwi Gazipuri DB Speech In Online Azmat-e-Mustafa Conference Org By Markaz Tahaffuz-e-Islam Hind!








Tuesday, 10 November 2020

فرانس نے اسلام دشمنی میں انسانیت بھی بھلادی، نبی ؐکی شان میں گستاخی ناقابل برداشت ہے!



 فرانس نے اسلام دشمنی میں انسانیت بھی بھلادی، نبی ؐکی شان میں گستاخی ناقابل برداشت ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت مصطفیٰ ؐکانفرنس سے مولانا خالد ندوی غازیپوری کا ولولہ انگیز خطاب!


بنگلور، 10/ نومبر (ایم ٹی آئی ہچ): مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت مصطفیٰ ؐکانفرنس کی پانچویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ حدیث حضرت مولانا محمد خالد ندوی غازی پوری مدظلہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں تین قسم کے عہد لیے ہیں پہلا عہد تمام بنی آدم ؑسے خدا کی ذات اور ربوبیتِ عامہ کے سلسلے میں لیا گیا، دوسرا عہد اہل کتاب کے احبار و رھبان اور علماء و مشائخ سے یہ لیا گیا کہ وہ حق بات کو نہیں چھپائیں گے، اور تیسرا عہد سارے انبیاء کرام علیہم السلام سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت و رسالت کے بارے میں لیا گیا، جو قابل ذکر ہے۔ تمام انبیاء کرامؑ سے کہا گیا کہ اخیر میں ایک نبی و رسول آنے والے ہیں جنکی علامتیں و اوصاف آپکی کتابوں میں مذکور ہوں گیں ان پر ایمان رکھنا اور اگر وہ تمہاری زندگی میں آجائیں تو انکا بھرپور تعاون کرنا۔ اسی لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا حضرت عیسی علیہ السلام بھی آئیں گے تو میری شریعت کے پابند ہوں گے۔ مولانا نے فرمایا کہ دنیا و آخرت کی کامیابی صرف آپ ؐ کی اتباع میں ہے، دنیا میں امن و امان آسکتا ہے تو صرف آپ کی اتباع سے آسکتا ہے۔ اتباع رسول ہو جائے تو زندگی با وصول ہو جائے۔ مولانا خالد ندوی نے فرمایا کہ اللہ کے نبیؐ کی سیرت ہمارے لیے مدار نجات ہے، سیرت ہماری کامیابی کا ذریعہ و سبب ہے، لہٰذا سیرت ہماری زندگی کا خاصہ ہونا چاہیے۔ لیکن آج آزادی رائے کی آڑ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کی جارہی ہے، آپؐ کے گستاخانہ خاکے بنائے جائے رہے ہیں، اور آپکی توہین کی جارہی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ آپؐ کی توہین کا یہ سلسلہ صدیوں سے چلا آرہا ہے، کبھی ڈنمارک میں تو کبھی کسی ملک میں اور ابھی جو کچھ فرانس میں ہو رہا ہے اور چارلی ہیبڈو نے جو کچھ کیا وہ سب کچھ آزادی رائے کے نام پر کیا جارہا ہے، حالانکہ آزادی رائے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کسی کی دل آزاری کی جائے۔ آزادی رائے کا صحیح مطلب مذہب اسلام نے پیش کیا۔ مولانا خالد غازیپوری نے فرمایا کہ اگر آزادی رائے کے نام پر ہم نعوذبااللہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی توہین کریں تو کیا کوئی عیسائی برداشت کریگا؟ ہرگز نہیں، اس حقیقت کے سامنے ہونے کے باوجود افسوس کی بات ہیکہ ہمارے ملک بھارت کی حکومت نے فرانس کی حمایت کی، جبکہ فرانس نے اسلام دشمنی میں انسانیت بھی بھلادی ہے۔ ہم جہاں اسکی بھر پور مذمت کرتے ہیں وہیں یہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ نبی ؐکی شان اقدس میں گستاخی کبھی برداشت نہیں کی جائیگی۔مولانا نے فرمایا کہ موجودہ حالات میں ہمارے اوپر فرض ہے کہ ہم سنت نبوی کو زندہ کریں اور آپؐ کی باتوں کی ترویج و اشاعت کریں۔ مولانا خالد ندوی غازی پوری نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ ایسے حالات میں جب باطل طاقتیں شان رسالتؐ پر انگلیاں اٹھانے کی کوشش کررہی ہیں تو مرکز تحفظ اسلام ہند نے عظمت مصطفیٰ ؐکانفرنس کا سلسلہ شروع کرکے پوری ذمہ داری کے ساتھ ناموس رسالتؐ کی حفاظت کا بہترین کام کیا ہے۔قابل ذکر ہیکہ مولانا نے مرکز اور اسکے اراکین کو خوب دعاؤں سے بھی نوازا۔