Thursday, 6 May 2021

عشرۂ اخیرہ رمضان ختم ہونے کی گھنٹی ہے، رمضان ختم ہونے سے پہلے مسلمان اسکی قدر کرلیں: مولانا محمد سلمان بجنوری




 عشرۂ اخیرہ رمضان ختم ہونے کی گھنٹی ہے، رمضان ختم ہونے سے پہلے مسلمان اسکی قدر کرلیں: مولانا محمد سلمان بجنوری

مرکز تحفظ اسلام ہند کے جلسۂ فضائل رمضان سے مولانا سلمان بجنوری، مفتی اسعد سنبھلی اور حافظ ارشد احمد حنفی کا خطاب!


 بنگلور، 06؍ مئی (پریس ریلیز): رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہم پر سایہ فگن ہے۔ رمضان المبارک کے بابرکت ایام میں لاک ڈاؤن کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے مختلف آن لائن پروگرامات منعقد کئے جارہے ہیں تاکہ امت مسلمہ اکابر علماء سے بھر پور رہنمائی حاصل کرسکے۔ اسی کے پیش نظر گزشتہ دنوں ام المدارس دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز استاذ حضرت مولانا محمد سلمان بجنوری نقشبندی صاحب کی صدارت، مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد رضوان حسامی و کاشفی کی نظامت میں مرکز تحفظ اسلام ہند نے آن لائن جلسۂ فضائل رمضان کی تیسری نشست منعقد کی۔ جس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور حافظ محمد عمران کے نعتیہ اشعار سے ہوا۔ اپنے صدارتی خطاب میں حضرت مولانا محمد سلمان بجنوری صاحب نے فرمایا کہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہمارے اوپر سایہ فگن ہے۔ ماہ صیام کا دوسرا عشرہ ہم سے جدا ہوکر تیسرا اور آخری عشرہ جو جہنم سے نجات پانے کا عشرہ ہے، وہ شروع ہوچکا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ یوں تو رمضان المبارک کا پورا مہینہ دیگر مہینوں میں ممتاز اور خصوصی مقام کا حامل ہے، لیکن رمضان المبارک کے آخری دس دنوں یعنی آخری عشرہ کے فضائل اور بھی زیادہ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم رمضان کے آخری عشرہ میں عبادت وریاضت، شب بیداری اور ذکر و فکر میں اور زیادہ منہمک ہوجاتے تھے۔ مولانا نے فرمایا کہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی ایک اہم خصوصیت اعتکاف ہے۔ آپؐ کا مبارک معمول تھا کہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے۔ اعتکاف خاص طور پر لیلۃ القدر کی تلاش اور اس کی برکات پانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اور لیلۃ القدر ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بھی زیادہ افضل ہے۔ مولانا بجنوری نے فرمایا کہ اس ماہ مبارک کے مکمل ہونے میں محض چند ایام باقی رہ گئے ہیں۔ گویا کہ عشرہ اخیرہ رمضان المبارک ختم ہونے کی گھنٹی ہے۔ لہٰذا ضرورت ہیکہ ہم رمضان المبارک کے ان قیمتی ایام کے ایک ایک لمحے کی قدر کریں اور اپنا سارا وقت عبادت و ریاضت میں گزاریں۔ مولانا سلمان بجنوری نے یوم بدر پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ یوم بدر سے ہمیں یہ سبق ملتا ہیکہ ہم اپنی تمام تدبیریں اور اسباب کو اختیار کرنے کے بعد اللہ کی مدد پر بھروسہ کریں۔ یعنی پہلے ہم کوشش کریں تب ہماری دعا قبول ہوگی اور مدد آئے گی۔ یوم بدر کا دوسرا سبق یہ ہیکہ غزۂ بدر کے موقع پر رسول اللہ نے دعا فرمائی کہ اے اللہ! اگر یہ مسلمانوں کی جماعت آج ہلاک کر دی گئی تو پھر زمین میں تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ اس کے بعد فتح کے ظاہری اسباب نہ ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا کی۔ جس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس زمین پر اپنی عبادت کروانا چاہتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کے اصل مقصد کو سمجھتے ہوئے اسے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزاریں۔ اس موقع پر جامعہ شاہ ولی اللہ مرادآباد کے مہتمم حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب نے زکوٰۃ کی فضیلت و اہمیت کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ زکوٰۃ ان پانچ بنیادوں میں سے ہے جس پر پوری اسلام کی عمارت کھڑی ہے۔ زکوۃ کی ادائیگی میں بہت سارے لوگ تساہل سے کام لیتے ہیں اور اسے شرعی طریقے سے ادا نہیں کرتے، حالانکہ زکوۃ کی ادائیگی ارکان اسلام میں سے ایک اہم ترین رکن ہے اور ہر صاحب نصاب پہ فرض ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ مسلمانوں پر زکوۃ کا فرض ہونا محاسن اسلام میں سے ہے کہ غریب مسلمانوں کی مدد ہو سکے اور وہ اچھی زندگی گزار سکیں۔ زکوٰۃ کا ایک فائدہ اپنے نفس کو کنجوسی اور بخیلی جیسے رذائل اخلاق سے بچانا اور اس کا تزکیہ کرنا بھی ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ زکوٰۃ کی معاشرتی حیثیت ایک مکمل اور جامع نظام کی ہے۔ اگر ہر صاحبِ نصاب زکوٰۃ دینا شروع کر دے تو مسلمان معاشی طور پر خوشحال ہو سکتے ہیں اور اس قابل ہو سکتے ہیں کہ کسی غیر سے قرض کی بھیک نہ مانگیں اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وجہ سے بحیثیت مجموعی مسلمان سود کی لعنت سے بچ سکتے ہیں۔ مفتی اسعد سنبھلی نے فرمایا کہ انفاق فی سبیل اللہ میں بخل کرنے والے اور زکوۃ کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سخت وعید فرمائی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اسلام میں زکوٰۃ کا اہتمام نظام اجتماعیت کے ساتھ مطلوب و پسندیدہ ہے، جس طرح نماز اجتماعی طور پر ادا کی جاتی ہے اسی طرح زکوٰۃ کے لئے بھی اجتماعی نظم قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم کا بہتر انتظام ہو سکے۔ زکوٰۃ کا اجتماعی عمل نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دور سے اور صحابہ اکرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے زمانے سے رائج ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کڑوڑوں صاحبِ نصاب کی موجودگی کے باوجود اجتماعی زکوٰۃ کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ کو انفرادی طور پر صرف کرنے کا رواج عام ہوچکا ہے۔ اسکی وجہ سے آج مسلم معاشرہ میں کوئی خیر و برکت نہیں نظر آتی۔ لہٰذا زکوٰۃ کے اجتماعی نظام پر ازسرِنو مستقل و مستحکم عمل کرنے کی اشد ضرورت ہیں۔ ملت کے کئی افراد ہماری امداد کے منتظر ہیں۔ حاصل یہ کہ زکوٰۃ کا یہ اجتماعی عمل ایک خوشحال و خوشگوار معاشرہ تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء میسور کے جنرل سکریٹری قاری ارشد احمد حنفی صاحب نے یوم بدر کا پیغام کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جنگ بدر اسلام کی سب سے پہلی جنگ ہے جو بغیر کسی ارادے و تیاری کے ہوئی۔ ہمارے بہت سارے مسلمان خصوصاً نوجوانوں کا طبقہ جنگ بدر کے نام سے تو واقف ہے لیکن پیغام بدر سے واقف نہیں۔ انہوں نے اجمالی طور پر جنگ بدر کا پس منظر اور جنگ بدر کا واقعہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ بدر سے ہمیں بہت سارے پیغامات ملتے ہیں، انہیں میں سے ایک پیغام یہ ہے کہ یہ جنگ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طاقت و قوت کے بھروسے پر ہوئی اس لیے کہ مسلمانوں کے پاس نہ صحیح سے ہتھیار تھے نہ صحیح سے سواریاں موجود تھیں اور نہ ہی مستقل کوئی اہتمام و انتظام، اللہ کے نبیؐ نے ایک چھپر میں رات بھر دعائیں کی جہاں آج مسجد عریش بنی ہوئی ہے کہ ائے اللہ اگر آج تونے یہ مٹھی بھر مسلمانوں کی مدد نہ کی تو روئے زمین پر تیرا نام لینے والا کوئی موجود نہیں رہیگا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے حضراتِ صحابہ کی مدد کے لیے پانچ ہزار فرشتوں کو بھیج دیا جسکی بدولت مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔قاری ارشد احمد حنفی نے فرمایا کہ اس سے ہمیں یہ پیغام مل رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تڑپ کر گڑگڑا کر پکارا جائے، اللہ سے مدد مانگی جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور مدد کرے گا۔ قابل ذکر ہیکہ تمام اکابر علماء کرام نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا اور مرکز کی جانب سے جاری پروگرامات کو وقت کی اہم ترین ضرورت بتایا۔ اجلاس کے اختتام سے قبل مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام مقررین و سامعین اور مہمانان خصوصی کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی، اراکین مرکز حافظ محمد یعقوب شمشیر، حافظ محمد نور اللہ، شیخ عدنان احمد، محمد لیاقت وغیرہ خصوصی طور پر شریک تھے۔ حضرت مولانا محمد سلمان بجنوری صاحب کی دعا سے یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا!

Tuesday, 4 May 2021

حکومت گستاخ رسول نرسنگھانند سرسوتی کو فوراً گرفتار کریں!





 حکومت گستاخ رسول نرسنگھانند سرسوتی کو فوراً گرفتار کریں!

مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے سلسلہ ”پیغمبر اسلام محمدﷺ نامور غیر مسلم محققین و مفکرین کی نظر میں!“ کا آغاز!


 بنگلور، 4؍مئی (پریس ریلیز): مسلمانوں کے نزدیک حضرت محمدؐ کی شخصیت سب سے محترم اور عزیز ہے۔ مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن حضور اکرم ؐکی شان اقدس میں گستاخی کبھی برداشت نہیں کرسکتا۔ ملعون یتی نرسنگھا نند سرسوتی نے توہین رسالت کر کے جو ذہنی دیوالیہ پن کا ثبوت دیا ہے یہ ملک کی فرقہ وارانہ خیر سگالی کو متاثر کرنے والا ہے۔ نبی ؐ کی شان میں نرسنگھا نند سرسوتی کے ذریعہ گستاخی کرکے جو مذہبی منافرت پھیلائی جارہی ہے وہ دستور ہند کی سخت خلاف ورزی ہے۔حکومت کو چاہئے کہ فوراً ایسے شخص کو گرفتار کریں اور اسکے خلاف جو ملک کے امن و امان کے لیے خطرہ ہے سخت قانونی کارروائی کرے۔ ان خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے تحفظ ناموس رسالت ؐکے عنوان پر منعقد ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نبیؐ نے پوری دنیا کو جو انسانیت کا درس دیا ہے اسکا نہ صرف مسلمان بلکہ دنیا کے سبھی مذاہب کے ماننے والے احترام کرتے ہیں۔ بلکہ عظمت مصطفیٰؐ پر غیر مسلم پیشواؤں کے سینکڑوں کتب اور بے شمار اقوال موجود ہیں۔ نرسنگھانند سرسوتی اور پشپیندر جیسے ملعون لوگ بھولے بھالے غیر مسلم بالخصوص ہمارے ہندو بھائیوں کے ذہنوں میں اپنے مکر و فریب اور جھوٹ سے مسلمانوں اور پیغمبر اسلامؐ کے خلاف غلط فہمی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے وقت میں جہاں احتجاجی و قانونی کارروائی کی ضرورت ہے وہیں ضرورت ہیکہ ہم حضورؐ کی شان اقدس میں غیر مسلم مفکرین و محققین کے خیالات کو عام کریں تاکہ ہمارے غیر مسلموں کے ذہنوں میں جو غلط فہمی پیدا کی گئی ہے وہ ختم ہو۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند عظمت مصطفیؐ کا چھ روزہ آن لائن سلسلہ بنام ”پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ و سلم نامور غیر مسلم محققین و مفکرین کی نظر میں!“ شروع کرنے جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں مرکز کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد رضوان حسامی و کاشفی ترتیب وار خطاب فرمائیں گے اور مرکز کے رکن شوریٰ مفتی محمد جلال الدین قاسمی انکی معاونت کریں گے۔ اس سلسلے کی تفصیلات بتاتے ہوئے مرکز کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد رضوان حسامی و کاشفی نے فرمایا کہ آئے دن یتی نرسنگھا نند سرسوتی اور پشپیندر اور ان جیسے فرقہ پرست اور آتنکی لوگوں کی جانب سے مذہب اسلام، مقدس قرآن اور پیغمبر اسلام ؐکی شان میں گستاخی اور بے جا اعتراضات و الزامات کی بوچھار ہوتی رہتی ہے، انکا رد مثبت انداز میں کرنے اور حقیقت حال سے تمام لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے یہ سلسلہ شروع کیا جارہا ہے، جس میں تمام غیر مسلم مذاہب کے پیشواؤں، رہنماؤں، محققوں اور مفکروں کے آپؐ سے متعلق اقوال ذکر کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں ہندو، دوسرے مرحلے میں سکھ اور بدھ اور تیسرے مرحلے میں عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے مبلغین، اور مفکرین و محققین کے اقوال بیان کیے جائیں گے۔ یہ سلسلہ بروز چہارشنبہ بتاریخ 5؍ مئی2021ء سے آئندہ چھ دنوں تک روزانہ رات 10:45 بجے مرکز تحفظ اسلام ہند کے آفیشیل یوٹیوب چینل اور فیس بک پیج تحفظ اسلام میڈیا سروس پر براہ راست نشر کیا جائے گا۔اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکز کے رکن شوریٰ مفتی محمد جلال الدین قاسمی نے فرمایا کہ شان رسالت ؐمیں زبان درازی کرنا اپنی موت آپ مرنے کے مترادف ہے۔ پچھلے چند سالوں سے ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو خراب کرنے اور یہاں کے امن و امان کو نیست و نابود کرنے کیلئے ایک سازش کے تحت شان رسالت مآب میں گستاخیاں کی جارہی ہیں۔ جبکہ ہمارے ملک کے آئین کی دفعہ 295 اے اور 153 اے کے مطابق کوئی شخص کسی کی توہین نہیں کرسکتا لیکن افسوس کی بات ہے کہ ملعون نرسنگھانند سرسوتی ہمارے آقا ؐ کی شان اقدس میں مسلسل گستاخیاں کرتا جارہا ہے لیکن ملک کے سیاسی و سرکاری حلقوں میں ایسی دل آزری کا نوٹس نہیں لیا جارہا ہے، بلکہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ حد تو یہ ہیکہ ملی و سماجی تنظیموں کی جانب سے جب ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کی جارہی ہے تو محکمہ اسے درج کرنے سے انکار کررہا ہے۔ اسکا واضح مطلب یہ ہیکہ اس ملک میں اب عدل و انصاف ختم ہوتا جارہا ہے اور قانون بطور نام رہ گیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکز کے رکن شوریٰ مولانا سید ایوب مظہر قاسمی نے فرمایا کہ نرسنگھانند سرسوتی نے ملک میں امن وامان کو نیست و نابود کرنے، یہاں افراتفری، عدم رواداری اور عدم تحمل میں اضافہ کرنے، لوگوں میں نفرت اور عداوت پیدا کرنے اور ہندو مسلم کے درمیان دشمنی اور فساد پربا کرنے کیلئے شان رسالت مآبؐ میں گستاخی کی ہے۔ لیکن مسلمانوں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے قانونی طور پر کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے ذمہ داران نے حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے واضح طور پر فرمایا کہ حکومت ملعون نرسنگھانند سرسوتی اور ان جیسے بدبختوں کو فوراً گرفتار کریں اور انہیں سخت سے سخت سزا دیں تاکہ وہ دوسروں کیلئے نشان عبرت ثابت ہوں اور ملک میں گنگا جمنی تہذیب اور امن و امان باقی رہے۔ اس موقع پر مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان نے تمام مذاہب کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ مرکز کی جانب سے شروع ہونے والے عظمت مصطفیٰؐ کا چھ روزہ آن لائن سلسلہ ”پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ و سلم نامور غیر مسلم محققین و مفکرین کی نظر میں!“ میں ضرور شرکت کریں اور اسے زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی کوشش کریں۔ قابل ذکر ہیکہ پریس کانفرنس میں مرکز تحفظ اسلام ہند کے اراکین شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی اور مولانا محمد نظام الدین مظاہری وغیرہ بھی بطور خاص شریک تھے۔

Wednesday, 28 April 2021

رمضان المبارک حصول تقویٰ اور نیکیوں کا موسم بہار ہے: مفتی افتخار احمد قاسمی


 رمضان المبارک حصول تقویٰ اور نیکیوں کا موسم بہار ہے: مفتی افتخار احمد قاسمی


مرکز تحفظ اسلام ہند کے جلسۂ فضائل رمضان سے علماء کرام کا خطاب!


 بنگلور، 28؍ اپریل (پریس ریلیز): رمضان المبارک اپنی تمام تر رحمتوں، برکتوں اور سعادتوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہے۔ چونکہ کرونا وائرس کے پیش نظر ملک کے مختلف حصوں میں لاک ڈاؤن نافذ ہے جسکی وجہ سے اکابر علماء کے پیغامات امت مسلمہ تک پہنچانے کیلئے مرکز تحفظ اسلام ہند مسلسل آن لائن پروگرامات کا انعقاد کررہا ہے۔ لہٰذا گزشتہ دنوں جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر حضرت مولانا مفتی محمد افتخار احمد قاسمی صاحب کی صدارت، مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد رضوان حسامی و کاشفی کی نظامت میں مرکز تحفظ اسلام ہند نے آن لائن جلسۂ فضائل رمضان کی دوسری نشست منعقد کی۔ جس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور حافظ محمد عمران کے نعتیہ اشعار سے ہوا۔ اپنے صدارتی خطاب میں مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہیکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں رمضان المبارک کا مہینہ عطاء فرمایا۔ یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے خصوصی انعام ہے، جس میں ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کے بے شمار انوار و تجلیات کا ظہور ہوتا رہتا ہے اور انعام و اکرام کی خاص بارش اللہ کے نیک بندوں پر ہوتی ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ رمضان المبارک اور روزہ کے دو مقاصد ہیں، پہلا مقصد حصول تقویٰ ہے۔ اس مقصد کی حصول یابی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس پورے مہینے میں روزوں کو فرض قرار دیا ہے تاکہ ایک مسلمان متقی و پرہیزگار بن جائے۔ مولانا نے فرمایا کہ جنت میں جانے کیلئے بنیادی چیز تقویٰ ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو رمضان المبارک کا مقدس مہینہ عطاء کرتا ہے تاکہ وہ تقویٰ حاصل کریں اور جنت کے حقدار بنیں۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ رمضان کا دوسرا مقصد یہ ہیکہ ہم اس مہینہ میں نیکیوں کا زیادہ سے زیادہ ذخیرہ جمع کر سکیں، تاکہ ہمارے نامۂ اعمال میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں ہوں، کیوں قیامت کے روز وہی لوگ کامیاب ہوں گے جن کی نیکیاں زیادہ ہوں گی۔ چنانچہ پچھلی امتوں کی عمر کے مقابلے میں امت محمدیہ کی عمر کم ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا اس مہینے میں خصوصی رعایتوں کا اعلان ہے تاکہ امت محمدیہ اپنی کم عمر میں بھی زیادہ ثواب کما سکے۔ لہٰذا اس ماہ میں نفل عبادتوں کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر گنا بڑھادیا جاتا ہے اور اسکی ایک مقدس رات لیلۃ القدر کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا گیا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ افسوس کی بات ہیکہ پچھلے سال کی طرح اس سال بھی کرونا کی ظاہری وجہ اور ہماری ناقدری کی اصل وجہ سے مساجد بند ہیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ کو خوب عبادت و ریاضت، تلاوت قرآن، استغفار و دعا سے راضی کریں اور دونوں جہاں کی کامیابی حاصل کریں۔جلسۂ فضائل رمضان سے خطاب کرتے ہوئے مدرسہ مظہر العلوم شیموگہ کے مہتمم حضرت مولانا مفتی سید مجیب اللہ قاسمی و رشادی صاحب نے فرمایا کہ رمضان المبارک خیر و اصلاح اور نزول قرآن کا مہینہ ہے، تقویٰ، پرہیزگاری، ہمدردی، غم گساری، محبت و خیرخواہی اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا لو لگانے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و بخشش اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ وہ لوگ خوش قسمت ہیں جنہوں نے اس مبارک مہینے میں روزہ اور عبادت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو راضی کیا۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر گنا بڑھا دیتا ہے۔ یہ ماہ صیام تقویٰ کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، اس ماہ مبارک میں ہمیں چاہیے کہ ہم متقی و پرہیزگار بنیں، اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کریں اور اپنی بخشش کرواتے ہوئے مغفرت کا پروانہ حاصل کریں اور جنت کے حقدار بنیں۔ اس موقع پر جامعہ اسلامیہ مسیح العلوم بنگلور کے سابق مدرس حضرت مولانا محمد خالد خان قاسمی صاحب نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ رمضان المبارک عبادت کے ساتھ مواسات کا مہینہ بھی ہے، مواسات کے معنی ہیں، غم گساری، ہم دردی، جان و مال سے کسی کی مدد کرنا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے، جو اس ماہ مبارک میں کسی روزہ دار کو افطار کرائے گا یہ اس کے گناہوں کی مغفرت اور دوزخ سے آزادی کا سبب ہوگا، اس کو روزہ دار کے برابر ثواب بھی ملے گا۔ روزے کی حالت میں بھوک پیاس پر صبر سے بھوکے پیاسے انسان کی تکلیف کا احساس ہوتا ہے اور اخوت و غم گساری کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ مواسات و غم گساری ہی کا تقاضا ہے کہ غریبوں، مسکینوں اور حاجت مندوں کو تلاش کر کے اس ماہ مبارک میں اس کی کفالت کی جائے، ان کو احساس کمتری کے گڑھے سے نکالا جائے۔ ان کے چہروں سے افسردگی دور کی جائے، رشتہ داری، پڑوس اور اسلامی بھائی چارہ کا لحاظ کرتے ہوئے اپنی نجی رقموں سے جس قدر ہو سکے اس کی غم گساری کی جائے۔ قابل ذکر ہیکہ تمام علماء کرام نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا اور مرکز کی جانب سے جاری پروگرامات کو وقت کی اہم ترین ضرورت بتایا۔ اجلاس کے اختتام سے قبل مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام مقررین و سامعین اور مہمانان خصوصی کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد نظام الدین مظاہری، اراکین مرکز شبیر احمد، سید توصیف، عمیر الدین، محمد عاصم پاشاہ وغیرہ خصوصی طور پر شریک تھے۔ حضرت مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب کی دعا سے یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا!

Thursday, 22 April 2021

تقویٰ کے حصول کا سب سے موثر ذریعہ ”ماہ رمضان“ ہے!



 تقویٰ کے حصول کا سب سے موثر ذریعہ ”ماہ رمضان“ ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے جلسۂ فضائل رمضان سے علماء کرام کا خطاب!


 بنگلور، 22؍ اپریل (پریس ریلیز): رمضان المبارک کی بابرکت اور باسعادت ایام میں مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے شب و روز مسلسل پروگرامات کا انعقاد کیا جارہا ہے تاکہ امت مسلمہ علماء کرام کے خطبات سے مستفید ہوتے ہوئے رمضان المبارک کے قیمتی اوقات عبادت و ریاضت میں گزاریں۔ اسی کے پیش نظر گزشتہ دنوں مرکز تحفظ اسلام ہند نے مرکز کے ناظم حضرت مولانا محمد رضوان حسامی و کاشفی کی صدارت، مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی کی نظامت میں ایک عظیم الشان آن لائن”جلسہ فضائل رمضان“ منعقد کیا۔ جس سے مختلف علماء و مفتیان کرام نے خطاب فرمایا۔ اجلاس کا آغاز حافظ محمد عمران کی تلاوت سے ہوا، جس کے بعد محمد حسان نے شان رسالت میں گلہائے عقیدت پیش کیا۔اس موقع پر دارالعلوم محمودیہ گنٹور کے بانی و مہتمم اور جمعیۃ علماء و مجلس العلماء گنٹور آندھراپردیش کے صدر حضرت مولانا مفتی عبد الباسط صاحب قاسمی نے رمضان المبارک اور عشرہئ رحمت کی فضیلت کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی جانب سے امت مسلمہ کے لیے عظیم نعمتوں میں سے ایک گراں قدر نعمت ہے۔ اس مہینے کی آمد سے پہلے رسول اللہؐ نے اپنے صحابہ کو بشارت دی تھی۔ مولانا نے فرمایا کہ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمتوں والا ہے اور اللہ کی رحمت ہی وہ بنیادی دولت ہے کہ جو کسی کو مل جائے تو اسے اور کیا چاہیے۔ اللہ نے اپنی رحمت کو امت محمدیہﷺ پر رمضان کے پہلے عشرے میں خاص کردیا، اب جو اللہ کی رحمت حاصل کرنا چاہتا ہے وہ اس میں خوب محنت کرے اور اللہ کے انعام کو حاصل کرے۔ مولانا نے فرمایا کہ ہمارے اکابرین علماء دیوبند کا یہ معمول رہا ہیکہ وہ رمضان المبارک میں دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ ذکر اور استغفار کی کثرت کیا کرتے تھے، جس سے اللہ کی رحمت جوش میں آتی ہے اور بندوں کے گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ رحمت کا نزول جاری ہے اور ہم اس کے محتاج ہیں، لہٰذا ان قیمتی ساعتوں کو غنیمت جانتے ہوئے اسکی قدر کریں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کو سمیٹیں۔اس کے بعد جامع مسجد گوری پالیہ، بنگلور کے امام و خطیب حضرت مولانا حفظ الرحمن قاسمی بستوی صاحب نے رمضان المبارک کی فضیلت کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن و حدیث میں رمضان المبارک کے بے شمار فضائل بیان فرمائیں ہیں۔ اس میں روزہ کو فرض اور تراویح کو سنت قرار دیا ہے تاکہ بندہ اپنے گناہوں سے پاک ہوکر متقی و پرہیزگار بنے۔ مولانا نے فرمایا کہ رمضان المبارک قرب الٰہی اور ریہرسل کا مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روزہ کے بارے میں فرمایا کہ میں خود اسکا بدلہ ہوں۔ مولانا نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں مل جائے تو دنیا و آخرت کی کامیابی ہمارے قدم چومیں گی۔ لہٰذا ضرورت ہیکہ رمضان کو غنیمت جانتے ہوئے اسکے قیمتی اوقات عبادت و ریاضت کے ساتھ گزاریں۔ اس موقع پر نورانی مسجد، پادرائن پورہ، بنگلور کے امام و خطیب حضرت مولانا مفتی محمد اصغر علی قاسمی صاحب نے روزہ کی فضیلت کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ روزہ فرض عبادت ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے ”اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے، جس طرح تم سے پہلی امّتوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم متقّی اور پرہیزگار بن جاؤ۔“ یعنی روزے کا اصل مقصد متقّی اور پرہیزگار بننا ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ روزہ کے چار آداب ہیں، پہلا زبان کی حفاظت، دوسرا آنکھوں کی حفاظت، تیسرا کانوں کی حفاظت، چوتھا دیگر اعضاء کی حفاظت کرنا۔ انہوں نے فرمایا کہ ہمیں چاہیے کہ روزہ رسمی طور پر نہیں بلکہ حقیقی طور پر رکھیں تبھی روزہ کامیاب ہوگا اسکے ثواب کے حق دار بنیں گے۔ قبل از جلسۂ فضائل رمضان سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا محمد رضوان حسامی و کاشفی صاحب نے فرمایا کہ رمضان المبارک کی عظمت کیلئے فقط یہی بات کافی ہیکہ قرآن مجید سمیت تمام آسمانی کتابیں رمضان المبارک میں ہی نازل ہوئیں ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ رمضان کے آتے ہی جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ کر قید کر دیا جاتا ہے تاکہ مومن شیطان کے وسوسوں سے دور ہوکر یکسوئی کے ساتھ پورا مہینہ اللہ تعالیٰ کے حکم مطابق عبادت و ریاضت میں گزاتے ہوئے متقی و پرہیزگار بنیں۔ قابل ذکر ہیکہ تمام علماء کرام نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا اور مرکز کی جانب سے جاری پروگرامات کو وقت کی اہم ترین ضرورت بتایا۔ اجلاس کے اختتام سے قبل مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام مقررین و سامعین اور مہمانان خصوصی کا شکریہ ادا کیا اورآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے آسان اور مسنون نکاح مہم میں حصہ لینے کی اپیل کی۔ اس موقع پر مرکز کے آرگنائزر حافظ محمدحیات خان، اراکین مرکز عمران خان، حارث شوکت علی پٹیل وغیرہ خصوصی طور پر شریک تھے۔ حضرت مفتی عبد الباسط قاسمی صاحب کی دعا سے یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا!

لاک ڈاؤن میں رمضان کا مقدس مہینہ کیسے گزاریں؟



 لاک ڈاؤن میں رمضان کا مقدس مہینہ کیسے گزاریں؟


✍️(مولانا) محمد رضوان حسامی و کاشفی

(ناظم اعلیٰ مرکز تحفظ اسلام ہند)


محترم قارئین! کورونا وائرس کووڈ 19 کی وجہ سے پوری دنیا کے اکثر ممالک پریشان ہیں اور اس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کے طور پر لاک ڈاؤن وغیرہ کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح ہمارے ملک بھارت میں بھی کئی دنوں سے لاک ڈاؤن ہے جسکی وجہ سے بطورِ احتیاط ساری مذہبی عبادت گاہیں خصوصاً مسجدیں وغیرہ بند ہیں صرف مسجد کا عملہ امام صاحب، مؤذن صاحب وغیرہ نمازیں ادا کررہے ہیں.اور اکثر لوگ اکابر علماء و عمائدین کی ہدایات کے مطابق گھروں پر ہی عبادات انجام دے رہے ہیں۔ لیکن ہماری بد قسمتی یہ ہےکہ اس سال رمضان المبارک کا آغاز بھی لاک ڈاؤن ہی میں ہو رہا ہے جسکی وجہ سے کئی مسلمان کشمکش میں مبتلا ہیں کہ کیا کریں رمضان کا مقدس مہینہ کیسے گزاریں؟


لیکن ہمیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہمارا مذہبِ اسلام اتنا پیارا مذہب ہے کہ قدم قدم پر ہماری رہبری و رہنمائی کرتا ہے. لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہمیں اعمالِ رمضان کو ہرگز ترک کرنا نہیں ہے یہ جو گھروں میں رہنے کا موقع ہم کو ملا ہے یہ الله سے قریب ہونے کے لئے سب سے بہترین موقع ہے شاید کہ ایسا موقع ہم کو زندگی میں کبھی ملا ہو اسلیے کہ ہم دوسرے رمضانوں میں اپنے کاروبار اور دوسری مصروفیات میں لگے رہنے کی وجہ سے اتنی عبادت نہیں کرپاتے تھے لیکن اس رمضان میں ہمارے لئے نیکیاں کمانے الله کو راضی کرنےاور خود اپنے ساتھ اپنے گھر کے ماحول کو دیندار بناکر سب کو جنت کا مستحق بنانے کے لئے سب سے زریں موقع ہےلہذا ہم کو ان قیمتی لمحوں کو لا یعنی (بیکار) کاموں اور لغو باتوں میں مشغول ہوکر وقت کو ضائع نہیں کرنا ہے بلکہ مزید ذوق و شوق کے ساتھ گھروں میں ہی رہکر عبادات ادا کرنا ہے. تاکہ ہماری عبادتوں، ریاضتوں، دعاؤں اور آنکھوں سے نکلنے والے آنسوؤں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کو رحم آجائے اور وہ اس وبائی بیماری کا خاتمہ فرمادے، اور حالات پھر سے خوشگوار بنادے۔ لہٰذا اکابر علماء کرام کی ہدایات اور حکومت کی پالیسیوں کو سامنے رکھتے ہوئے شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں ترتیب وار رمضان المبارک کے خصوصی اعمال مع فضائل ذکر کیے جارہے ہیں ضرور با الضرور ان پر عمل کریں۔

__________________________

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=751263345406038&id=392898787909164

__________________________

نوٹ: بروز جمعہ 24 اپریل کو شعبان کی 29 ویں تاریخ ہے؛ لہٰذا ہر علاقے کے لوگ اپنے اپنے گھروں پر چاند دیکھنے کا اہتمام کریں،اور اگر کہیں چاند نظر آجائے تو مقامی علماء و مفتیان کرام کے ذریعہ ملک کی مرکزی ہلال کمیٹیوں سے رابطہ کریں۔اور پھر جب چاند کا فیصلہ ہوجائے تو عشاء میں تراویح کا اہتمام کریں۔ چاند کے مسئلے کو لیکر اپنے گھروں سے نہ نکلیں اور پٹاخے وغیرہ نہ پھوڑیں۔


1۔ روزانہ رات کے آخری حصے میں تہجد کا اہتمام کریں۔اسلیے کہ اللہ کے نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: اپنے اوپر تہجد کی نماز لازم کرلو،تم سے قبل بھی نیک لوگوں کا یہی معمول تھا۔(ترمذی:٥/ ٥١٦)

2۔ نماز تہجد کے بعد دعاء و استغفار کا اہتمام کریں۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: رات کے اخیر حصے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوتا ہے کہ ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا کہ میں اسکی مغفرت کروں؟(مسلم: ١/ ٥٣٧)

3۔ روزہ رکھنے کے لیے سحری کھائیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: سحری کھایا کرو، اس میں بہت برکت ہے۔(بخاری:٣ / ٧٣) نوٹ: سحری وقت پر ختم کردیں یا وقت سے پہلے فارغ ہو جائیں اذان کا انتظار نہ کریں جیسا کہ پہلے سے ہمارے یہاں یہ عادت چلی آرہی ہے ایسا ہرگز نہ کریں۔ورنہ روزے میں خلل آجائے گا۔

4۔ جب فجر کی اذان ہوجائے تو فجر کی دو رکعت سنتِ مؤکدہ ادا کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا فجر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھنا دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بہتر ہے۔(مسلم:١ / ٥١٠)

5۔ پھر فجر کی نماز گھر کے افراد کے ساتھ باجماعت ادا کریں۔حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے صبح کی نماز پڑھ لی وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ و حفاظت میں ہے۔(صحیح مسلم)

6۔ بعد نماز فجر اشراق تک مع سورۂ یٰسین قرآن پاک کی تلاوت اور ذکر میں مشغول رہیں۔نبی کریم ﷺ کا معمول تھا کہ جب فجر کی نماز سے فارغ ہوجاتے تو سورج اچھی طرح روشن ہونے تک اسی جگہ چار زانو بیٹھے رہتے۔(مسلم:١ / ٤٨٠)

7۔ دو یا چار رکعت اشراق کی نماز ادا کریں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص فجر کے بعد سورج نکلنے تک ذکر میں مشغول رہے، پھر دو رکعت نفل نماز پڑھ لے تو اسکو ایک کامل حج و عمرہ کا ثواب ملے گا۔(ترمذی:٣ / ٤٨٠) 

8۔ بعد نماز اشراق چند گھنٹے آرام فرمالیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: تمہاری ذات کا بھی تم پر حق ہے(کہ اسے آرام پہنچاؤ) (بخاری:٣ / ٩٠)

9۔ گیارہ بجے سے پہلے آرام سے فارغ ہوجائیں تو چاشت کی چار رکعت نماز پڑھ لیں۔ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ چاشت کی چار رکعت پڑھتے اور اللہ تعالیٰ جس قدر زیادہ چاہتا اتنی پڑھ لیتے۔(مسلم:١ / ٤٩٧)

10۔ نماز چاشت کے بعد نمازِ ظہر تک جو خالی وقت ہے اسمیں تعلیمی یا کاروباری مشغولیت میں مشغول رہیں جنکی حکومت نے اجازت دی ہے.نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص اپنی محنت کی کمائی سے زیادہ پاکیزہ روزی نہیں کھاتا۔(بخاری:٤ / ٣٠٣)

11۔ خالی اوقات میں ذکرِ الہی کا اہتمام کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہمیشہ اپنی زبان کو اللہ کے ذکر سے تر و تازہ رکھو۔(ابن ماجہ:٢ / ٢٤٦)

12۔ مستورات اپنے گھر کے کام کاج اور بچوں کی خدمت و تربیت میں اس نیت سے لگی رہیں کہ مخلوق کی خدمت افضل ترین عبادت ہے۔

13۔ ظہر سے پہلے چار رکعت سنت پڑھنے کا اہتمام کریں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ظہر سے پہلے چار رکعتیں سحر یعنی تہجد کی نماز کے قائم مقام ہو جاتی ہیں۔(مصنف ابن ابی شیبہ،رقم الحدیث: ٥٩٩١)

14۔ پھر باجماعت ظہر کی نماز کا اہتمام کریں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جماعت کے ساتھ پڑھی گئ نماز تنہا پڑھی جانے والی نماز سے ستائیس گنا افضل ہے۔(بخاری:٢ / ١٣١)

15۔ بعد نماز ظہر سنتوں کا اہتمام کریں۔ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام فرما دیں گے۔(ترمذی،ابن ماجہ،حاکم)

16۔ نماز عصر تک اپنی اپنی مصلحت کے حساب سے کام میں مشغولیت یا آرام کریں،عورتیں اگر پاک ہوں تو تلاوتِ قرآن میں مشغول رہیں، ورنہ ذکر اللہ،درودِ شریف وغیرہ پڑھنے میں مصروف رہیں۔

17۔ عصر کی اذان کے بعد چار رکعت سنت پڑھیں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ اپنے اس بندے پر رحم فرمائے جو عصر سے پہلے چار رکعت کا اہتمام کرتا ہے۔(ترمذی:١ / ٤٣٨)

18۔ پھر باجماعت نماز عصر کا اہتمام کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے دو ٹھنڈی نمازیں پڑھیں یعنی فجر اور عصر تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔(بخاری و مسلم) 

19۔ بعد نماز عصر ہوسکے تو اپنے گھر والوں کے ساتھ مختصر کتابی تعلیم(جیسے فضائل اعمال یا کوئی دوسری مستند دینی کتاب) کا اہتمام کریں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اپنی اولاد کا اکرام کرو اور انکی اچھی تعلیم و تربیت کرو۔(ابن ماجہ:١ / ٢١٤)

20۔ اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر افطاری کا انتظام کریں۔ نبی کریم ﷺ کا معمول تھا کہ خانگی کاموں میں اپنے گھر والوں کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔(بخاری:٣ / ٨٥)

21۔ افطار سے پہلے دعا کا اہتمام کریں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: روزہ دار کی دعا رد نہیں کی جاتی۔(ترمذی:٥ / ٥٣٩)

22۔ بر وقت افطاری کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میری امت خیر پر قائم رہیگی جب تک افطار میں تاخیر نہ کرے۔(بخاری:٣ / ٨٥)

23۔ افطاری کے فوراً بعد باجماعت مغرب کی نماز ادا کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میری امت خیر پر قائم رہے گی جب تک وہ نمازِ مغرب میں تاخیر نہ کرے۔(ابوداؤد:١ / ٢٩١)

24۔ بعد نماز مغرب اوابین کا اہتمام کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص مغرب کے بعد فضول بات کیے بغیر چھ رکعت نفل پڑھے گا تو اسکو بارہ سال عبادت کا اجر ملے گا۔(ابن ماجہ:١ / ٤٣٧)اور سورۃ الواقعہ کی تلاوت کریں۔عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہتے ہوئے سنا: جس شخص نے ہر رات سورۃ الواقعہ کی تلاوت کی اسے فاقہ کبھی بھی نہیں پہنچے گا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اپنی بیٹیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اسے ہر رات تلاوت کریں۔(شعب الایمان للبیھقی)

25۔ اپنی اپنی سہولت کے حساب سے عشائیہ(رات کا کھانا)کھالیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: رات کا کھانا کھاؤ گرچہ ایک مٹھی ردی کجھور ہی کیوں نہ ہو اس لیے کہ رات کا کھانا چھوڑنا بڑھاپے کا سبب ہے۔(سنن ترمذی،اسنادہ ضعیف جداً)

26۔ عشاء کی اذان کے بعد چار رکعت سنتیں پڑھ کر باجماعت نماز عشاء کی ادائیگی کا اہتمام کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص نماز عشاء باجماعت ادا کرے اسکو نصف شب عبادت کا ثواب ملتا ہے۔(ترمذی:١ / ٢٦٠)

27۔ بعد نماز عشاء دو رکعت سنت پڑھ کر 20 رکعت نماز تراویح کا اہتمام کریں، اسلیے کہ یہ رمضان المبارک کی خاص عبادت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص رمضان کی راتوں میں ایمان اور ثواب کی امید کے ساتھ قیام کرے اسکے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔(بخاری:٣ / ١٠٠)

28۔ تراویح مکمل ہونے کے بعد تین رکعت واجب الوتر نماز باجماعت ادا کریں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے مسلمانو! وتر پڑھو؛ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ بھی وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)

29۔ تراویح وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد جلد از جلد آرام کرلیں۔ نبی کریم ﷺ عشاء سے پہلے سونے اور عشاء کے بعد بلا ضرورت مجلس جمع کرنے سے منع فرماتے تھے۔(بخاری:١ / ٢٩٥)

30۔ اور مستورات اپنے گھروں کے خصوصی کمروں میں آخری عشرے کا اعتکاف کریں۔ اور مسجد میں صرف مسجد کے عملے میں سے کوئی ایک فرد اعتکاف کرلے یا مسجد کی انتظامیہ جسکو طئے کردے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے رمضان المبارک کے دس دنوں کا اعتکاف کیا اسکو دو حج اور دو عمروں کا ثواب عطا کیا جائے گا۔(الترغیب والترھیب:٢ / ٩٦)


نوٹ: ان امور کی پابندی کے علاوہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ زکوٰۃ فرض ہے تو اسکی ادائیگی حساب کتاب کے ساتھ کرے، ورنہ نفلی صدقہ و خیرات کرتا رہے، جسکی اب بہت ضرورت ہےلاک ڈاؤن کی وجہ سے کئی غریبوں کوسحری وافطاری کا انتظام کرنے میں پریشانیوں کا سامنا ہے لہٰذا ان پر رحم کریں ان کا خاص خیال رکھیں۔

رشتہ داروں اور غرباء و مساکین کے حقوق ادا کرنے کا اہتمام کریں۔

جمعہ کے دن سورۂ کھف، صلوٰۃ التسبیح، اور درود شریف کا کثرت سے اہتمام کریں اور امام کے علاوہ تین یا چار گھر کے افراد ہوں تو جمعہ کی دو رکعت نماز مختصر عربی خطبہ کے ساتھ ادا کریں یا پھر ظہر کی نماز تنہاء تنہاء ادا کرلیں۔

طاق راتوں میں زائد عبادات کے ذریعہ شبِ قدر کو پانے کی کوشش کریں۔

فضول کاموں بالخصوص گھروں سے باہر وقت گزارنے سے سختی سے پرہیز کریں، ماں باپ خصوصی طور پر اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت اور اخلاق پر توجہ دیں،زبان، آنکھ،کان اور تمام اعضاء کو گناہوں سے محفوظ رکھیے۔

اور عیدالفطر کے دن صدقۂ فطر ادا کرنا نہ بھولیں۔

اللہ تعالیٰ ہم تمام کو مذکورہ بالا امور کی پابندی کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین 


فقط والسلام

(مولانا) محمد رضوان حسامی و کاشفی

(ناظم اعلیٰ مرکز تحفظ اسلام ہند)

+91 8951269345

mdrizwanrr85@gmail.com