Thursday, 27 May 2021

ہم بیت المقدس اور اہل فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں، مسلمان اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں!





 ہم بیت المقدس اور اہل فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں، مسلمان اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں!

کرناٹک کے مؤقر علماء اور تمام تنظیموں کے ذمہ داران کا اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف نمائندہ و احتجاجی پروگرام!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے تحفظ القدس کانفرنس سے ریاست کرناٹک کے علماء کا ولولہ انگیز خطاب، امیر شریعت کرناٹک کی صدارت، امت کے نام اہم پیغامات!


بنگلور، 26؍ مئی (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام گزشتہ دنوں ریاست کرناٹک کے مؤقر علماء کرام اور تمام ملی و سماجی تنظیموں کے ذمہ داران کا اہل فلسطین کی حمایت اور اسرائیل دہشت گردی کے خلاف ایک نمائندہ اور احتجاجی پروگرام بعنوان ”آن لائن تحفظ القدس کانفرنس“ منعقد ہوا۔ جس میں تقریباً پچاس ہزار سے زائد لوگ شریک ہوئے۔ اس عظیم الشان کانفرنس کی صدارت امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد رشادی صاحب نے فرمائی۔ 

اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں امیر شریعت کرناٹک نے فرمایا کہ ساری دنیا کے مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں، جب انسان کے کسی عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے جسم کے تمام اعضاء تکلیف میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح اگر دنیا کے کسی کونے میں اپنے مسلمان بھائیوں پر کوئی تکلیف آئے تو یوں سمجھیں کہ گویا ہم پر تکلیف آگئی ہے۔ ہمارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں ان کی تکلیف کا احساس ہونا چاہیے۔ آج اہل فلسطین پر ظلم و ستم اور درندگی کے جو پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں اسے دیکھ کر ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ہم ان کے غم میں برابر شریک ہیں۔ اسرائیلی دہشت گردی ناقابل برداشت ہوچکی ہے۔ افسوس کا مقام ہیکہ نام نہاد مسلم ممالک اپنی ذاتی حقیر مفادات اور اپنی چند روزہ شان و شوکت اور عارضی کرسی کی بقا کی خاطر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری ملت اسلامیہ متحدہ ہوکر اس ظلم و بربریت کے خلاف آواز بلند کریں، انکے مصنوعات کا بائیکاٹ کریں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اہل فلسطین کی حفاظت فرمائے اور مسجد اقصٰی کو ظالموں کے ہاتھ سے آزاد فرمائے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر مفتی افتخار احمدصاحب قاسمی نے فرمایا کہ مسجد اقصٰی کا مسئلہ فقط اہل فلسطین کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا مسئلہ ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ مسلمانوں کو بیت المقدس کے فضائل و مناقب سے واقف کروائیں اور اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں، عالمی اداروں کو مجبور کریں کہ وہ اسرائیل کو دہشت گرد ملک قرار دیں، اقوام متحدہ اور حقوق انسانی کونسل کو اسکے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور کیا جائے۔

اس موقع پر دارالعلوم شاہ ولی اللہ کے مہتمم مولانا محمد زین العابدین رشادی مظاہری نے فرمایا کہ اہل فلسطین پر جو ظلم و بربریت ہورہی ہے وہ ہمارے گناہوں کا نتیجہ ہے۔ ہم جب تک اپنے گناہوں سے توبہ نہیں کرتے اور اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ نہیں کرتے تب تک ہم بھی اس ظلم میں برابر کے شریک ہیں۔ 

اس موقع پر جامعہ مسیح العلوم بنگلور کے مہتمم مفتی محمد شعیب اللہ خان صاحب مفتاحی نے فرمایا کہ فلسطینی مسلمانوں کا جو قتل عام کیا جارہا ہے وہ انسانیت کا قتل عام ہے۔ لہٰذا اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ اسکے خلاف آواز بلند کریں اور عالمی حقوق انسانی کو مجبور کریں کہ وہ اسرائیل کی دہشت گردی پر روک لگائے۔ 

اس موقع پر جامع مسجد سٹی بنگلور کے امام و خطیب مولانا محمد مقصود عمران رشادی نے فرمایا کہ اسرائیل اہل فلسطین پر جو ظلم و بربریت کررہا ہے وہ نہ صرف اہل فلسطین پر ظلم ہے بلکہ پورے عالم اسلام پر ظلم ہے۔ حکومت کرناٹک اور حکومت ہند کو چاہیے کہ اس بات کی نوٹس لیں اور اپنا احتجاج درج کروائیں۔

اس موقع پر جماعت اسلامی کرناٹک کے صدر ڈاکٹر سعد بلگامی نے فرمایا کہ اسرائیل کو کمزور کرنے کیلئے اہل اسلام اور مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں اور اسرائیل کی دہشت گردی سے پوری دنیا کو واقف کروائیں۔ 

اس موقع پر جماعت اہل سنت کرناٹک کے صدر مولانا سید تنویر ہاشمی نے فرمایا کہ اس وقت پوری دنیا میں سب سے بڑا دہشت گرد ملک اسرائیل ہے۔ ہم اہل فلسطین پر اسرائیلی دہشت گردی اور ظلم و بربریت کی مذمت کرتے ہیں اور صاف الفاظوں میں کہتے ہیں کہ مسلمان مسجد اقصٰی کی حفاظت کیلئے ہر طرح کی قربانی دینگے۔ 

اس موقع پر جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر مولانا عبد الرحیم رشیدی نے فرمایا کہ مسجد اقصٰی کی حفاظت کے خاطر کم از کم ہمیں اسرائیل مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہئے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرنا چاہیے۔ 

اس موقع پر مرکزی مسجد اہلحدیث چارمنار بنگلور کے امام و خطیب شیخ اعجاز احمد ندوی نے فرمایا کہ ہم اہل فلسطین سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں اور اسرائیلی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ عالمی اداروں سے مطالبہ کریں کہ انسانیت کے قتل عام کے خلاف قانون بنائے۔ 

اس موقع پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن مولانا محمد الیاس بھٹکلی نے فرمایا کہ اس وقت مسجد اقصٰی کے تعلق سے مسلمانوں بالخصوص جدید تعلیم یافتہ لوگوں کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے- نیز اہل فلسطین اور غزہ، حماس اور اخوان کے تعلق سے جو غلطی فہمی عوام کے پھیلائی گئی ہے اسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر جمعیۃ علماء کرناٹک کے نائب صدر مولانا شمیم سالک مظاہری نے فرمایا کہ ہم اہل فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں اور امت مسلمہ سے اپیل کرتے ہیں وہ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ نیز مسلمان کو چاہئے کہ حکومت کو میمورنڈم دے کر اور دیگر ذرائع سے اس ظلم و بربریت کے خلاف آواز بلند کریں۔ 

اس موقع پر جامعہ حضرت بلال بنگلور کے امام و خطیب مولانا محمد ذوالفقار رضا نوری نے فرمایا کہ اہل فلسطین پر جو ظلم و بربریت ہورہی ہے اس سے پورا عالم اسلام پریشان ہے لیکن افسوس ہیکہ اسلامی ممالک طاقتور ہونے کے باوجود خاموش ہیں، انہیں چاہیے کہ اس ظلم کے خلاف کارروائی کریں- 

اس موقع پر آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک کے صدر مفتی سید باقر ارشد قاسمی نے فرمایا کہ ہم اقوام متحدہ اور عالمی اداروں سے پرزو اپیل کرتے ہیں کہ جس طرح اسرائیل نے فلسطین پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے انہیں وہاں سے نکالیں اور ان پر پابندیاں عائد کریں کیونکہ اسرائیل کھلے عام دہشت گردی کررہا ہے۔


قابل ذکر ہیکہ اس عظیم الشان تحفظ القدس کانفرنس کی نگرانی تحفظ القدس کمیٹی کے کنوینر اور مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان اور نظامت مرکز کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد رضوان صاحب کاشفی فرمارہے تھے۔ اجلاس کا آغاز قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی کی تلاوت سے ہوا۔ جبکہ اسٹیج پرمسجد رحمانیہ منہاج نگر بنگلورکے سابق امام و خطیب مولانا محمد ریاض مظاہری، جمعیۃ علماء ساؤتھ بنگلور کے نائب صدر حافظ محمد آصف، مرکز تحفظ اسلام ہند کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان، اراکین شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی، مفتی محمد جلال الدین قاسمی، مولانا محمد نظام الدین مظاہری وغیرہ بطور خاص موجود تھے۔ اپنے خطاب میں تمام علماء کرام نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا اور تحفظ القدس کانفرنس کی انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے وقت کی اہم ترین ضرورت بتایا۔ اجلاس کے اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام مقررین و سامعین اور مہمانان خصوصی کا شکریہ ادا کیا۔حضرت امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد رشادی صاحب کی دعا سے یہ عظیم الشان تحفظ القدس کانفرنس اختتام پذیر ہوا!



Sunday, 23 May 2021

بیت المقدس کی حفاظت اور اپنے ملی وجود و اسلامی تشخص کی خاطر فلسطینی مسلمانوں کا مالی تعاون کریں!



 بیت المقدس کی حفاظت اور اپنے ملی وجود و اسلامی تشخص کی خاطر فلسطینی مسلمانوں کا مالی تعاون کریں!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے تحفظ القدس کانفرنس سے مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی کا ولولہ انگیز خطاب!


 بنگلور، 22؍ مئی (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد دس روزہ عظیم الشان آن لائن تحفظ القدس کانفرنس کی افتتاحی نشست سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اعلیٰ اور مجلس احرار اسلام ہند کے قومی صدرشیر اسلام حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی صاحب نے فرمایا کہ بیت المقدس وہ مقدس مقام ہے جہاں سے خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کا سفر کرایا گیا اور پیغمبر اسلامﷺ نے نبوت کے بعد سولہ یا سترہ ماہ تک اسی طرف رخ کر کے نماز ادا فرمائی، اس لئے یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ قائد الاحرار نے فرمایا کہ بیت المقدس سے مسلمانوں کا رشتہ ایمانی اور مذہبی ہے اور مسلمان بیت المقدس کو عقیدت و محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اسکی حفاظت کیلئے ہزاروں جانیں قربان کرنے کیلئے تیار ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ آج یہودیوں نے مسجد اقصٰی پر قبضہ کیا ہوا ہے اور ہزاروں فلسطینی اور غزہ کے مسلمان جو اپنی آنکھوں میں بیت المقدس کی آزادی سجائے ہوئے ہیں، وہ تنہ تنہا اسرائیلی اور یہودی دہشت گردوں سے لڑ رہے ہیں اور جام شہادت پی کر بیت المقدس کی حفاظت کررہے ہیں۔انہوں نے فرمایا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران بیت المقدس میں فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیلی افواج کی جانب سے جو ظلم و بربریت کی گئی وہ ناقابل برداشت ہے۔ مولانا لدھیانوی نے فرمایا کہ فلسطین کے مائیں، بہنیں، بچے، بوڑھے اور نوجوان سب نے اپنی قربانی پیش کرکے قبلہ اول بیت المقدس کی حفاظت کی ہے لیکن افسوس کا مقام ہیکہ نام نہاد مسلم ممالک اپنی ذاتی حقیر مفادات اور اپنی چند روزہ شان و شوکت اور عارضی کرسی کی بقا کی خاطر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری ملت اسلامیہ فلسطینوں کے حقوق اور مسجد اقصیٰ کی حفاظت و بقاء کیلئے بیک زبان اٹھ کھڑی ہو اور اپنے ملی وجود اور اسلامی تشخص کی خاطر غزہ اور فلسطینی مسلمانوں کا مالی اعتبار سے تعاون کرتے ہوئے اپنا فریضہ ادا کرے۔ یہ وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم انکی مدد کرسکتے ہیں اور بیت المقدس کی حفاظت میں اپنا نام درج کرواسکتے ہیں۔قابل از کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکز کے اراکین شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی نے مسجد اقصٰی کے فضائل پر روشنی ڈالی، مفتی محمد ناصر ایوب ندوی نے مسجد اقصٰی کی بازیابی اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں اور مفتی محمد جلال الدین قاسمی نے بیت المقدس اور موجودہ حالات کے عنوان پر مختصراً روشنی ڈالی۔ کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی مجلس احرار اسلام ہریانہ کے صدر قاری سعید الزماں خضرآبادی شریک تھے۔ کانفرنس کی نگرانی مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان اور نظامت مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی فرما رہے تھے جبکہ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کے تلاوت سے ہوئی اور مرکز کے رکن شوریٰ مولانا سید ایوب مظہر قاسمی بطور خاص موجود رہے۔ قابل ذکر ہیکہ قائد الاحرار مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کے خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا!

Wednesday, 19 May 2021

فلسطین اور بیت المقدس کے موجودہ حالات پر ریاست کرناٹک کے علماء کرام کا امیر شریعت کی صدارت میں آج احتجاجی پروگرام!





فلسطین اور بیت المقدس کے موجودہ حالات پر ریاست کرناٹک کے علماء کرام کا امیر شریعت کی صدارت میں آج احتجاجی پروگرام!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام عظیم الشان آن لائن تحفظ القدس کانفرنس!


 بنگلور، 18؍ مئی (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند شروع دن سے ہی حالات کے اعتبار سے کام کرتا آرہا ہے، جس وقت امت کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، اس وقت امت کو وہ چیز دینے کی مکمل کوشش کرتا ہے۔ اس وقت مسجد اقصٰی اور فلسطین کے کتنے نازک حالات ہیں اور اسرائیلی بدبخت اور ظالم یہود کی طرف سے کس قدر فلسطینی مسلمانوں پر ظلم و ستم ہورہا ہے۔ اور کتنے ہی لوگوں کو اب تک شہید کردیا گیا ہے۔ ایسے وقت میں ہمیں کیا کرنا ہے؟ اور ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں؟ انہی ساری چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند دس روزہ سلسلہ تحفظ القدس شروع کررہا ہے۔ جسکا پہلا پروگرام ریاست کرناٹک کے مؤقر علماء کرام اور ملی و سماجی تنظیموں کے ذمہ داران کے احتجاجی پروگرام کے طور پر منعقد ہوگا۔ مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے فرمایا کہ یہ احتجاجی پروگرام امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد رشادی صاحب کی صدارت میں 19؍ مئی 2021ء بروز چہارشنبہ، رات 8:30 بجے سے منعقد ہوگا۔ اس کانفرنس میں مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب (صدر جمعیۃ علماء کرناٹک)، مولانا محمد زین العابدین رشادی مظاہری صاحب (مہتمم دارالعلوم شاہ ولی اللہ بنگلور)، مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی صاحب (مہتمم جامعہ اسلامیہ مسیح العلوم بنگلور)، مولانا محمد مقصود عمران رشادی صاحب (امام و خطیب جامع مسجد سٹی بنگلور)، ڈاکٹر سعد بلگامی صاحب (امیر جماعت اسلامی کرناٹک)، مولانا تنویر ہاشمی صاحب (صدر جماعت اہل سنت کرناٹک)، مولانا عبد الرحیم رشیدی صاحب (صدر جمعیۃ علماء کرناٹک)، مولانا اعجاز احمد ندوی صاحب (امام و خطیب مرکزی مسجد اہلحدیث، بنگلور)، مولانا محمد الیاس بھٹکلی صاحب (رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)، مولانا شمیم سالک مظاہری صاحب (نائب صدر جمعیۃ علماء کرناٹک)، مولانا ذوالفقار نوری صاحب (امام و خطیب جامعہ حضرت بلال، بنگلور) اور مفتی باقر ارشد قاسمی صاحب (صدر ملی کونسل کرناٹک) بطور خاص شریک رہیں گے اور اپنے گرانقدر خیالات کا اظہار فرمائیں گے۔ یہ کانفرنس مرکز تحفظ اسلام ہند کا آفیشیل یوٹیوب چینل اور فیس بک پیج تحفظ اسلام میڈیا سروس پر براہ راست لائیو نشر کیا جائے گا۔ انہوں نے پوری امت مسلمہ بالخصوص مسلمانان کرناٹک سے درخواست کی کہ وہ اس عظیم الشان تحفظ القدس کانفرنس میں کثیر تعداد میں شرکت کریں۔



Tuesday, 18 May 2021

بیت المقدس کی حفاظت اور غزہ وفلسطینی مسلمان کے ساتھ کھڑا ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت!




 بیت المقدس کی حفاظت اور غزہ وفلسطینی مسلمان کے ساتھ کھڑا ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت!

مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے سلسلہ تحفظ القدس کا آغاز، 19 ؍مئی کو ریاست کرناٹک کے مؤقرعلماء کا احتجاجی پروگرام!


بنگلور، 18؍ مئی (پریس ریلیز): اس وقت عالم اسلام بڑی بے چینی کا شکار ہے، فلسطین، غزہ اور بیت المقدس میں جو حالات در پیش ہیں اس سے دیکھ اور سن کر دل دہک جاتا ہے۔مسجد اقصٰی جو ہمارا قبلہ اول ہے، آج وہ خاک اور خون میں لت پت ہے، ہلا دینے والے مصائب سے گزر رہی ہے، جس کو یہودیوں نے بے حال کرکے رکھ دیا، جس پر کوئی بھی غیرت مند مسلمان خاموش نہیں رہ سکتا۔ تاریخی حیثیت سے مسجد اقصٰی ہی وہ ایک مسئلہ ہے جس سے ہمارے شرعی ثوابت، تاریخی حقوق اور ہمارے تہذیب و تمدن کے بڑے کارنامے متعلق ہیں۔ عالم کفر کی طرف سے مسلسل کوششیں کی گئی ہیں کہ فلسطین اور القدس کے مسئلے کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیا جائے، اس کی اسلامی حیثیت کو ختم کر کے اس کو محض ایک محدود قومی مسئلہ بنادیا جائے، اس مذموم مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے دوغلی پالیسی اور دھوکے اور فریب کے سارے ہتھکنڈے استعمال کیے یہاں تک کے نام نہاد مسلم ممالک بھی انکی جال میں پھنس گئے۔ آج یہودیوں نے مسجد اقصٰی پر قبضہ کیا ہوا ہے اور ہزاروں فلسطینی مسلمان جو اپنی آنکھوں میں بیت المقدس کی آزادی سجائے ہوئے ہیں، وہ تنے تنہا اسرائیلی اور یہودی دہشت گردوں سے لڑ رہے ہیں اور جام شہادت پی کر بیت المقدس کی حفاظت کررہے ہیں۔ ان حالات میں امت مسلمہ بالخصوص مسلمانان ہند کی کیا ذمہ داریاں اور فریضہ ہے اس طرف توجہ دلانے کیلئے مرکز تحفظ اسلام ہند 19؍ مئی 2021ء بروز بدھ سے”دس روزہ سلسلہ تحفظ القدس“ کا آغاز کرنے جارہی ہے۔ان خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا سب سے پہلے 19؍ مئی بروز چہارشنبہ کو ٹھیک رات 8:30 بجے سے امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد رشادی صاحب کی صدارت میں ریاست کرناٹک کے مؤقر علماء کرام اور ملی و سماجی تنظیموں کے ذمہ داران کا احتجاجی پروگرام بعنوان عظیم الشان تحفظ القدس کانفرنس منعقد کیا جائے گا۔اسکے اگلے دن سے روزانہ رانہ 9:30 بجے دس روزہ ”تحفظ القدس کانفرنس“منعقد ہوگی، جس میں ملک کے مختلف علماء کرام کے خطابات ہونگے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکز کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد رضوان حسامی و کاشفی نے فرمایا کہ مرکز تحفظ اسلام ہند شروع دن سے ہی حالات کے اعتبار سے کام کرتا آرہا ہے، جس وقت امت کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، اس وقت امت کو وہ چیز دینے کی مکمل کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد اقصٰی اور فلسطین کے اس وقت کتنے نازک حالات ہیں اور اسرائیل بدبخت، ظالم کی طرف سے کس قدر فلسطینی مسلمانوں پر ظلم و ستم ہورہا ہے۔ اور کتنے ہی لوگوں کو اب تک شہید کردیا گیا ہے۔ ایسے وقت میں ہمیں کیا کرنا ہے؟ اور ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں؟ انہی ساری چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند نے دس روزہ سلسلہ تحفظ القدس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے یومیہ نظام پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ روزانہ صبح دس بجے فضائل بیت المقدس پر ایک حدیث بھیجی جائے گی، دوپہر 2 بجے بیت المقدس اور فلسطین کے سلسلے میں ایک اسٹیٹس ویڈیو بھیجا جائے گا اور روزانہ رات 9:30 بجے ملک کے اکابر علماء کرام میں سے کسی ایک کا لائیو بیان ہوگا۔ جسکے ذریعے وہ موجودہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے امت کی رہبری و رہنمائی فرمائیں گے۔ اس موقع پر مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی نے فرمایا کہ ارض مقدس فلسطین اور مسجد اقصٰی جو مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ آج اسکی بے حرمتی و بے ادبی کی جارہی ہے۔ نمازیوں پر، عبادت کرنے والوں پر گولیاں چلائی جارہی ہیں، بم دھماکے کیے جارہے ہیں۔ اور نہتے فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ ہم اسکی مرکز تحفظ اسلام ہند کی طرف سے شدید مذمت کرتے ہیں۔ اور فلسطینی مسلمانوں کے لیے دعا کرتے ہیں کہ اللہ انکی مدد و نصرت فرمائے۔ مرکز کے رکن شوریٰ مفتی محمد جلال الدین قاسمی نے اس موقع پر فرمایا کہ اہل اسلام کے لئے مسجد حرام اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا سب سے مقدس ترین مقام مسجد اقصٰی ہے۔جو بدقسمتی سے اس وقت یہودیوں کے قبضے میں ہے۔مسجد اقصی کے اسی تقدس کو برقرار رکھنے اور اس کی بازیابی کے لئے مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونکنے اور احساس ذمہ داری و بیداری پیدا کرنے اور تمام مساجد کے تقدس کو پامال ہونے سے بچانے اور اپنے بھولے ہوئے ماضی کو پھر سے یاد دلانے کیلئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام دس روزہ سلسلہ تحفظ القدس شروع کیا جارہا ہے۔ اس موقع پر مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی نے فرمایا کہ مرکز تحفظ اسلام ہند نے دس روزہ سلسلہ تحفظ القدس کیلئے ”تحفظ القدس کمیٹی“ کے نام سے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے- جس کے کنوینر محمد فرقان، معاون کنوینر مولانا محمد رضوان حسامی اور اراکین حافظ محمد حیات خان، مولانا محمد طاہر قاسمی، مفتی محمد جلال الدین قاسمی، قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی اور مولانا محمد نظام الدین مظاہری رہیں گے۔ یہ کمیٹی اس پورے سلسلہ کا نظام اور پروگرامات طے کرے گی نیز اسکی مکمل نگرانی کرے گی۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان نے تمام صحافی حضرات، ناظرین، اراکین مرکز تحفظ اسلام ہند بالخصوص تحفظ القدس کمیٹی کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد نظام الدین مظاہری بطور خاص شریک تھے۔

Thursday, 13 May 2021

اختتام رمضان سے قبل اسکی قدر کریں، ناموس رسالت کی حفاظت، مسجد اقصٰی اور فلسطینی مسلمانوں کیلئے امت کو کھڑا ہونا ہوگا!






اختتام رمضان سے قبل اسکی قدر کریں، ناموس رسالت کی حفاظت، مسجد اقصٰی اور فلسطینی مسلمانوں کیلئے امت کو کھڑا ہونا ہوگا!


مرکز تحفظ اسلام ہند کے اجلاس عام سے مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، مولانا سجاد نعمانی، مفتی شعیب اللہ خان، مولانا عمرین محفوظ رحمانی، مفتی یوسف تاؤلی اور مولانا سلمان بجنوری کا خطاب!


 بنگلور، 12؍ اپریل (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے رمضان المبارک کے بابرکت ایام میں جاری مختلف پروگرامات مثلاًسلسلہ ”فضائل رمضان“، سلسلہ”مسائل رمضان“،سلسلہ”تفسیر قرآن“، سلسلہ ”پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ و سلم نامور غیر مسلم محققین و مفکرین کی نظر میں!“ کے اختتام پر ایک عظیم الشان آن لائن اجلاس عام مرکز کے سرپرست اعلیٰ قائد الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی صاحب کی سرپرستی اورفقیہ العصر مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی صاحب کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی صاحب، مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب، مفتی یوسف تاؤلی صاحب اور مولانا محمد سلمان بجنوری صاحب بطور مہمانان و مقررین خصوصی شریک ہوئے۔ جبکہ اجلاس کی نگرانی مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان اور نظامت مرکز کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد رضوان حسامی نے فرمائی۔


 اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اعلیٰ اور مجلس احرار اسلام ہند کے صدر حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی صاحب نے فرمایا کہ رمضان المبارک اپنے آخری مرحلے میں جاری ہے۔ رمضان المبارک اور روزہ کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔ ہمیں رمضان المبارک کے بقیہ ایام میں رجوع الی اللہ اور عبادت و ریاضت کے ذریعے تقویٰ حاصل کرتے ہوئے اپنی مغفرت کروالینا چاہیے۔ مولانا نے فرمایا کہ کرونا وائرس کی لہر سے پوری دنیا پھر ایک بار بڑی پریشانی کا سامنا کررہی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس موقع پر ہم غریبوں، مسکینوں اور ضرورتمندوں کی خوب مدد کریں بالخصوص کرونا کے مریضوں کی خدمت کیلئے مالی تعاون کریں۔ قائد الاحرار نے فرمایا کہ آج پوری دنیا بالخصوص اس ملک میں فرقہ پرست طاقتوں قرآن مجید پر تنقید اور حضرت محمد رسول اللہ ؐکی شان میں گستاخی کرتے رہتے ہیں انکو سمجھ لینا چاہیے کہ مسلمان اسے قطعاً برداشت نہیں کرسکتا، ہم خون کے آخری خطرے تک ناموس رسالت کی حفاظت کرتے رہیں گے۔


 اس موقع پر مفکر اسلام حضرت مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی صاحب نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اسکو قرآن کی روشنی میں جاننا بہت ضروری ہے۔ قرآن و حدیث میں مسجد اقصٰی میں جو کچھ ہورہا ہے اور جو آگے ہوگا وہ پہلے ہی بتایا جاچکا ہے۔اس وقت شدید ضرورت ہے کہ امت کو بہادری، شجاعت اور ہمت کا پیغام دیا جائے، اسلئے کہ اس وقت بالخصوص مسلمانانِ ہند ڈر و خوف میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی ؐنے ارشاد فرمادیا کہ مشرکین اور یہود آخری زمانے میں اہل اسلام پر بدترین ظلم کریں گے اور درمیان میں کئی امتحانات سے گزرنے کے بعد ایک وقت وہ آئیگا کہ یہود اور مشرکین کے تکبر کا نشہ اتارا جائے گا۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں کچھ نہیں کرنا ہے بلکہ اللہ کا دستور ہے کہ گزشتہ انبیاء کے دشمنوں کو اللہ نے آسمان سے عذاب بھیج کر تباہ و برباد کیا لیکن اس امت مسلمہ کے دشمنوں کو اللہ تعالیٰ امت کے جیالوں کے ہاتھوں سے عذاب دے گا۔ مولانا سجاد نعمانی نے فرمایا کہ امت مسلمہ اور انسانیت اب فیصلہ کن دور میں داخل ہو چکی ہے۔ مولانا نعمانی نے بیت المقدس کے حالیہ دردناک واقعہ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ہمت، جرأت، شجاعت، غیرت اور شوق شہادت جسے کہتے ہیں وہ ساری چیزیں فلسطینی مسلمانوں کے اندر نظر آتی ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ نمازیوں کی صفیں لگی ہوئی ہیں گولیاں اور بم برس رہے ہیں ایک نمازی بھی نیت توڑ کر بھاگ نہیں رہا ہے، مرنے کے ارادے سے اور جام شہادت پینے کے شوق میں آئے ہیں، انکی عورتوں لڑکیوں اور بچوں میں وہ ہمت ہے کہ ہم جیسے بڑے بڑے بزرگ سمجھے جانے والے لوگوں کے اندر اسکا عشرے عشیر بھی نہیں ہے۔ مولانا نعمانی نے ایک حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ تم دنیا کے کسی کونے میں بھی رہو مسجد اقصٰی سے وابستہ اور جڑے رہو۔ مولانا نے قرآن و حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ایک گروہ میری امت میں ہوگا، جو ہر قیمت پر ظلم کے مقابلے میں جما رہے گا، وہ ہر طرح کی قربانیاں دے گا لیکن کسی کے سامنے سر نہیں جھکائے گا اور اللہ کی مدد انکے ساتھ ہوگی۔ اسکی علامت یہ ہوگی کہ وہ گروہ کہیں اور نہیں بلکہ بیت المقدس میں اور اسکے اطراف میں ہوگا۔ مولانا نے فرمایا کہ مجھے تو اس بات پر ایک فیصد شبہ کی بھی گنجائش نہیں ہے کہ وہ گروہ یہی فلسطینی مسلمانوں کا ہے جو کسی بھی قیمت پر مسجد اقصٰی کی حفاظت سے پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں۔ مولانا سجاد صاحب نے انکے ایمان کی مضبوطی کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اپنے بارے میں کہتا ہوں کہ مجھے صاف لگتا ہے انکے ایمان کے مقابلہ میں ہم صرف منافق ہیں، ہم ہر چیز میں شکست تسلیم کرنے کو تیار ہیں، ہم سے تم جو مشرکانہ نعرہ لگوانا چاہو لگوالو، ہمارے بچوں کو اسکولوں میں جو کفرو شرک پڑھانا چاہو پڑھا لو، ہم تو سب کچھ گوارا کیے ہوئے ہیں۔مولانا نے فرمایا کہ رمضان کے مبارک مہینہ میں جہاں ہمیں بہت سارے گناہوں سے توبہ کرنا ہے وہیں اجتماعی طور پر بزدلی کے گناہ سے بھی توبہ کرنا ہوگا۔ مولانا نے فرمایا جس قرآن نے ہمیں نماز کا حکم دیا روزے کا حکم دیا تقویٰ کا حکم دیا اسی قرآن نے ہمیں بہادری و شجاعت اور مقابلے، ہمت و استقامت اور حوصلہ کا بھی حکم دیا ہے۔ لہٰذا بزدلی سے توبہ کریں اور مسجد اقصٰی کی حفاظت کے لیے فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔


 اس موقع پر صدارتی خطاب کرتے ہوئے فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی صاحب نے فرمایا کہ رمضان المبارک کا مہینہ ہمیں اس لیے عطاء کیا گیا تاکہ ہم اپنے اندر تقویٰ و طہارت، مجاہدانہ کردار، صبر و تحمل، اللہ سے تعلق اور اللہ کی معارفت پیدا کرسکیں۔ تقویٰ کے معنیٰ لحاظ کے ہیں کہ ہمیں اللہ و رسول کا لحاظ کرتے ہوئے زندگی گزارنا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اسی تقویٰ کے حصول کیلئے رمضان المبارک کا مہینہ بطور ٹریننگ ہمیں عطاء کیا گیا تھا۔اب اختتام رمضان پر یہ ٹریننگ ختم ہوتی ہے اور اصل میدان عمل میں ہم داخل ہوتے ہیں۔ جس طرح ہم سب رمضان المبارک میں احکامات الٰہی کی پیروی کرتے ہیں اور محرمات سے بچتے رہتے ہیں اور ہم نے رمضان میں جو کچھ سیکھا ہے اس پر پوری زندگی عمل کرنا ہوگا۔ گویا کہ اب ہماری ٹریننگ مکمل ہوکر امتحان شروع ہوگا۔


 اس موقع پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہیکہ رمضان المبارک کی سعادتیں ہمیں حاصل ہوئیں۔ رمضان المبارک عبادت کے ساتھ ساتھ تربیت کا مہینہ ہے۔ ہم نے رمضان سے یہ ترتیب حاصل کی ہیکہ ہم آئندہ کی زندگی تقویٰ و طہارت، اخلاص و للہیت، پاکدامنی اور اللہ و رسول کی مکمل فرمانبرداری کے ساتھ گزاریں گے۔ اختتام رمضان میں بس کچھ لمحات باقی ہیں لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ان بقیہ ایام میں نیکیوں سے اپنی جھولیاں بھرلیں، دعا و مناجات سے اپنے رب کو منالیں اور توبہ و استغفار سے اپنے آپ کو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ سے آزاد کرلیں۔ نیز کرونا وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے امسال عید الفطر سادگی سے منائیں اور ضرورتمندوں کا تعاون کریں!


 اس موقع پر دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث مفتی یوسف تاؤلی صاحب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کو دوسرے مہینہ کے مقابلے میں زیادہ فضیلت عطاء فرمائی ہے۔ اور اس ماہ صیام میں فرض کا ثواب ستر گنا اور نوافل کا ثواب فرض کے برابر عطا کرتا ہے۔ یہ رحمت، مغفرت اور جہنم سے خلاصی کا مہینہ ہے۔ اس میں لیلۃ القدر کی ایسی رات آتی ہے جو ہزار مہینوں سے بھی افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس ماہ مبارک کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


 اس موقع پر دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث مولانا محمد سلمان بجنوری نقشبندی صاحب نے فرمایا کہ آج رمضان آخری مرحلے میں ہے، رمضان میں جس طرح ہم احکام الٰہی کے پابند تھے اور گناہوں سے بچتے تھے اسی طرح اب ہمیں پورا سال گزارنا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی اموات سے لوگ خوفزدہ ہیں لیکن ہمیں اس سے قطعاً ڈرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ موت برحق ہے اور موت پہلے سے ہی متعین ہے لہٰذا ہمیں اپنے رب اور اپنے گناہوں سے ڈرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بیماری اور شفاء اسی کے ہاتھ میں ہے۔


  قابل ذکر ہیکہ اجلاس کا آغاز حافظ حیات خان کی تلاوت اور حافظ محمد عمران کے نعتیہ اشعار سے ہوا۔ جبکہ اسٹیج پر مولانا محمد ریاض مظاہری اور مولانا نور الدین فاروقی بطور خاص موجود تھے۔ اپنے خطاب میں تمام علماء کرام نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اجلاس کے اختتام سے قبل مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام مقررین و سامعین اور مہمانان خصوصی کا شکریہ ادا کیا۔حضرت مولانا سجاد نعمانی صاحب کی دعا سے یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا!



#فضائل_رمضان #مسائل_رمضان #تفسیر_قرآن 

#MasaileRamzanSeries #MasaileRamzan #TafseerQuran #TafseerQuranSeries #BaitulMaqdis #MasjidAqsa #JalsaFazaileRamzan #FazaileRamzan #RamzanSeries #RamzanSpecial #TIMS #MTIH #Press_Release #News