Sunday, 6 June 2021

بیت المقدس کی حفاظت پوری امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے!





 بیت المقدس کی حفاظت پوری امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے تحفظ القدس کانفرنس مولانا اشرف عباس قاسمی، مفتی شعیب اللہ خان مفتاحی اور مولانا اسجد قاسمی ندوی کا خطاب!


بنگلور، 03؍ جون (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے منعقد عظیم الشان آن لائن تحفظ القدس کانفرنس کی پانچویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث حضرت مولانا اشرف عباس قاسمی صاحب نے فرمایا کہ اسرائیل کا وجود اور اسکا غاصبانہ اور ظالمانہ قیام عالم اسلام کی کمزوری اور غلامی سے ہے۔ اور یہ مسئلہ تبھی حل ہوگا جب بیت المقدس اور فلسطین آزاد ہوگا۔ بیت المقدس کئی سو سالوں تک مسلمان کے پاس رہا پھر عالم اسلام جب کمزور ہوا تو بیت المقدس پر یہودیوں نے قبضہ کرلیا۔ مولانا نے فرمایا کہ یہ بات واضح ہیکہ جب بیت المقدس آزاد ہوگا تو عالم اسلام بھی آزاد ہوگا۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ آج اسلامی ممالک اپنی شان و شوکت اور حکومت کی خاطر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور اغیار کی غلامی میں مصروف ہے۔یہی وجہ ہیکہ عالم اسلام کوئی متفقہ رائے قائم نہیں کرپا رہی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ عالم اسلام کی آزادی بیت المقدس سے کی آزادی وابستہ ہے۔انہوں نے فرمایا کہ قرب قیامت کی نشانیاں ظاہر ہورہی ہیں اور دجال کے انتظار میں فلسطین کے قریب یہودی جمع ہورہے ہیں تو بات واضح ہیکہ بیت المقدس کی آزادی قریب ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ فلسطین اور غزہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور بہت جلد یہودی اپنے انجام کو پہنچیں گے اور بیت المقدس آزاد ہوگا، جس سے عالم اسلام میں بھی آزاد ہوجائے گا اور پوری دنیا میں اسلام کا غلبہ ہوگا لیکن اس سے قبل مسلمانوں کو جو قربانیاں دینی ہونگی اس کیلئے ہمیں تیار رہنا ہوگا۔


تحفظ القدس کانفرنس کی چھٹی نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ اسلامیہ مسیح العلوم بنگلور کے بانی و مہتمم حضرت مولانا مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی صاحب نے فرمایا کہ اسرائیل ایک دہشت گرد ملک ہے اور انسانیت سے اسکا کوئی تعلق نہیں۔ بیت المقدس اور فلسطین پر ناجائز قبضہ اور مظلوم فلسطینیوں پر ظلم و ستم اسرائیل دہشت گردی کا واضح ثبوت ہے۔ لیکن اللہ کا شکر ہیکہ نہتے فلسطینیوں کے سامنے اسرائیل نے آج اپنے گھٹنے ٹیک دئے اور جنگ بندی کا اعلان کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فلسطینی کو فتح عطاء فرماتے ہوئے پوری دنیا کو یہ پیغام دے دیا کہ جو اللہ کیلئے بڑھتا ہے اور اللہ کی راہ میں چلتا ہے اسے اللہ فتح عطاء فرماتے ہی۔ مولانا نے بیت المقدس کی فضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ بیت المقدس ہمارا قبلہ اول ہے۔ رسول اللہﷺ نے سولہ یا سترہ مہینوں تک بیت المقدس کی طرف رُخ کرکے نمازیں ادا فرمائیں۔ انہوں نے ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ کرہئ ارض پر سب سے پہلے مسجد الحرام، پھر مسجد اقصٰی تعمیر کی گئی۔ مولانا نے فرمایا کہ مسجد اقصیٰ میں امام الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ نے سفر معراج کے موقع پر تمام انبیاء کرام کی امامت فرمائی۔ مولانا نے فرمایا کہ بیت المقدس کئی سو سالوں تک مسلمانوں کے پاس رہی اور پھر یہودیوں نے اس پر ناجائز قبضہ کرلیا۔ یہ سب چیزیں قیامت کی نشانیوں میں ایک نشانی ہے۔ مولانا فرمایا کہ وہ دن دور نہیں جب دجال ظاہر ہوگا اور حضرت مہدی اور حضرت عیسٰی علیہ السلام تشریف لائیں گے اور کفر کے خلاف جنگیں کریں گے اور دجال کا مقابلہ کریں گے۔لہٰذا قرب قیامت کے اس دور میں ہمیں چاہیے کہ اپنے ایمان کی فکر کریں اور اسے مضبوط کریں اور ہمت و شجاعت اور بہادری کو اپنائیں تاکہ جب حضرت امام مہدی اور حضرت عیسٰی علیہ السلام تشریف لائیں گے تو انکے لشکر میں ہم یا ہماری نسل شریک ہوکر کفار کا مقابلہ کرسکے۔


تحفظ القدس کانفرنس کی ساتویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ عربیہ امدادیہ مرادآباد کے مہتمم و شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد اسجد قاسمی ندوی نقشبندی صاحب نے فرمایا کہ مسلمانوں کے نزدیک مکہ اور مدینہ کے بعد مسجد اقصٰی سب سے مقدس مقام ہے۔ جہاں آج اسرائیل کا ناجائز قبضہ ہے۔ مظلوم فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے بادل عالم اسلام کو چیخ چیخ کر کہ رہی ہیں کہ بیت المقدس پھر کسی صلاح الدین ایوبی کے انتظار میں ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ بیت المقدس سے مسلمانوں کا رشتہ ایمانی اور مذہبی ہے۔ قبلہ اول کی حفاظت پوری امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے لیکن افسوس کا مقام ہیکہ عالم اسلام کے حکمرانوں کاہلی، عیش کوشی، بے تدبیری اور ناعاقبت اندیشی میں مبتلا ہیں۔ صرف ترکی کے صدر طیب اردگان کے علاوہ دیگر مسلم ممالک اپنی ذاتی حقیر مفادات اور اپنی چند روزہ شان و شوکت اور عارضی کرسی کی بقا کی خاطر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ فلسطین کے بہادر مسلمانوں اور بیت المقدس کے مجاہدین کے علاوہ امت مسلمہ میں ہمت و شجاعت اور بہادری کا نام و نشان دور دور تک نظر نہیں آتا۔ انہوں نے فرمایا کہ آج مسجد اقصٰی جو صدیوں سے مسلمانوں کے سجدوں سے آباد رہا، جہاں کھڑے ہوکر نبی اکرم ﷺ نے تمام انبیاء علیہ السلام کی امامت فرمائی وہ اسی صلاح الدین ایوبی کے انتظار میں ہے جس نے بیت المقدس کو فتح کرکے اغیار کی راتوں کی نیند حرام کردی تھی۔آج ضرورت ہیکہ ہم اپنے اندر ہمت و شجاعت اور بہادری پیدا کریں اور بیت المقدس کی حفاظت اور آزادی کیلئے کوششیں کریں۔ مولانا نے فرمایا کہ وہ دن قریب ہے جب بیت المقدس دوبارہ آزاد ہوکر رہے گا۔قابل ذکر ہیکہ تمام حضرات نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔

Saturday, 5 June 2021

بیت المقدس اور اسکے اطراف یہودیوں کا قابض ہونا قرب قیامت کی نشانی ہے!





 بیت المقدس اور اسکے اطراف یہودیوں کا قابض ہونا قرب قیامت کی نشانی ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے تحفظ القدس کانفرنس سے مولانا سید طلحہ قاسمی نقشبندی کا ولولہ انگیز خطاب!


بنگلور، 02؍ جون (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن تحفظ القدس کانفرنس کی چوتھی نشست سے خطاب کرتے ہوئے شیخ طریقت حضرت مولانا سید محمد طلحہ صاحب قاسمی نقشبندی مدظلہ نے فرمایا کہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے، حضور اکرم ؐ نے 16 یا 17 مہینوں تک اسی طرف رخ کرکے نماز ادا کی تھی۔ بیت المقدس روئے زمین پر بنائی گئی دوسری مسجد ہے۔ مکہ اور مدینہ کے بعد مسلمانوں کے نزدیک مسجد اقصٰی تیسرا مقام مقدس ہے جس کی جانب عبادت کیلئے سفر کرنا جائز ہے۔ معراج کے سفر کے وقت بھی حضورؐ نے تمام انبیاء کی امامت بیت المقدس میں فرمائی۔ مولانا نے فرمایا کہ بیت المقدس پر یہودیوں کا قابض ہونا اور ساری دنیا سے ہجرت کر کر کے اس علاقے میں آکر یہودیوں کا آباد ہونا اور اپنی حکومت بنانا یہ قیامت کی ایک بہت بڑی علامت ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ بیت المقدس انبیاء علیہم السلام کی سرزمین فلسطین میں واقع ہے، جب نبی کریمؐ کی بعثت ہوئی تو اس وقت اس پر سلطنت روم کے عیسائیوں کا قبضہ تھا۔ اسی وقت نبی کریم ؐنے بیت المقدس کی آزادی کی خوشخبری سنائی اور اس کو قیامت کی نشانیوں میں سے قرار دیا۔ مولانا قاسمی نے بیت المقدس کی تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں بیت المقدس کو یہود و نصاری کے ہاتھوں سے آزاد کرایا تھا۔ بیت المقدس کی یہ مقدس سرزمین تقریباً عباسی دور تک مسلمانوں کے ماتحت رہی پھر جیسے جیسے ان میں آپسی اختلاف و انتشار، خانہ جنگی، سیاسی فتنوں اور باطنی تحریکوں کی وجہ سے سن 1099ء میں صلیبیوں نے بیت المقدس کو مسلمانوں سے چھین لیا۔ مولانا طلحہ قاسمی نے فرمایا کہ اسکے بعد سن 1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے پیہم معرکہ آرائیوں کے بعد بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کروالیا۔ اس طرح 88؍ سال بعد بیت المقدس دوبارہ مسلمانوں کے بازیابی میں آگیا اور ارض مقدسہ سے عیسائی حکومت کا صفایہ ہوگیا۔ مولانا نے فرمایا کہ اس طرح ارض مقدسہ پر تقریباً 761؍ برس مسلسل مسلمانوں کی سلطنت رہی، یہاں تک کہ سن 1948ء میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی سازشوں سے ارض فلسطین کے خطہ میں صیہونی سلطنت قائم کی گئی اور بیت المقدس کا نصف حصہ یہودیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ پھر سن 1967ء میں بیت المقدس پر اسرائیلیوں نے قبضہ کرلیا اور اب پوری طرح انکے قبضہ میں ہے۔ مولانا نقشبندی نے فرمایا کہ زمانہ قدیم میں جس علاقے کو ”شام“ کہا جاتا تھا، وہ لبنان، فلسطین، اردن اور شام کی سرزمین پر مشتمل تھا، جہاں آج یہودی قابض ہیں۔ پوری دنیا سے یہودی اپنے مقتل ”اسرائیل“ میں جمع ہورہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ قرب قیامت میں شام میں اسلام کا غلبہ ہوگا، قیامت سے قبل فتنوں کے ادوار میں ان علاقوں خصوصاً شام (بیت المقدس) میں رہائش اختیار کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ قرب قیامت جب فتنے بکثرت ہونگے تو ایمان اور اہل ایمان زیادہ تر شام کے علاقوں میں ہی ہونگے۔ اور شام کیلئے خوشخبری ہے کہ اللہ کے فرشتوں نے اس پر حفاظت کیلئے اپنے پر پھلا رکھے ہونگے۔ مولانا طلحہ قاسمی نے فرمایا کہ فتنوں کے زمانے میں اہل اسلام کی مختلف علاقوں میں مختلف جماعتیں اور لشکر ہونگے اس دور میں آپؐ نے شام اور اہل شام کے لشکر کو اختیار کرنے کی ترغیب دلائی کیونکہ اس دور میں ان کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے لی ہوگی۔ یہ حضرت مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لشکر ہوگا۔ اور آخری وقت زمانہ قرب قیامت میں خلافت اسلامیہ کامرکز ومحور ارض مقدسہ ہوگی۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ قیامت سے قبل مدینہ منورہ ویران ہوجائے گا اور بیت المقدس آباد ہوگا تو یہ زمانہ بڑی لڑائیوں اور فتنوں کا ہوگا، اس کے بعد دجال کا خروج ہوگا۔ دجال شام اور عراق کے درمیان میں سے نکلے گا۔ دجال کا فتنہ اس امت کا بہت بڑا فتنہ ہے اس سے ہر نبی نے اپنی قوم کو ڈرایا۔ مگر دجال مکہ، مدینہ اور بیت المقدس میں داخل نہیں ہوسکے گا۔مولانا نے فرمایا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی ان ہی علاقوں دمشق کے مشرق میں سفید مینار کے پاس ہوگا۔ اور وہ دجال کو ”باب لد“ کے پاس قتل کریں گے۔ باب لد فلسطین کے علاقے میں بیت المقدس کے قریب ہے، جس پر اسرائیل غاصب نے قبضہ کر رکھا ہے۔ اور اسی طرح فتنہ یا جوج و ماجوج کی ہلاکت اور انتہاء بھی بیت المقدس کے قریب”جبل الخمر“ کے پاس ہوگی۔ مولانا نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی کہ جب تک یہودیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا نہ دیا جائے، قیامت سے پہلے یہ وقت ضرور آئے گا کہ مسلمان یہودیوں کو چن چن کر قتل کریں گے اور بیت المقدس آزاد ہوگا۔ مولانا نے فرمایا کہ بیت المقدس اور ارض فلسطین کے موجودہ حالات کو دیکھ کر یہ بات واضح ہوچکی ہیکہ اب قیامت بہت قریب ہے۔ ان حالات میں ہمیں چاہئے کہ ہم اہل فلسطین کی مدد کریں اور اپنے اعمال کی فکر کریں۔ نیز بیت المقدس کے ان مجاہدین کیلئے دعا کریں جو بیت المقدس کی آزادی کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں، اللہ تعالیٰ انکی مدد و نصرت فرمائے۔ قابل ذکر ہیکہ شیخ طریقت حضرت مولانا سید محمد طلحہ صاحب قاسمی نقشبندی مدظلہ نے آخیر میں مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمت کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا اور انہیں کی دعا سے  تحفظ القدس کانفرنس کی یہ نشست اختتام پذیر ہوئی!

Friday, 4 June 2021

مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی کی صدارت میں آج عظیم الشان تحفظ القدس کانفرنس!




 مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی کی صدارت میں آج عظیم الشان تحفظ القدس کانفرنس!

کانفرنس سے ملک کے نوجوان قائدین کریں گے خطاب، برادران اسلام سے کثیر تعداد میں شرکت کی اپیل!


بنگلور، 30؍ مئی (پریس ریلیز) : مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام گزشتہ پندرہ دنوں سے سلسلہ القدس پورے زور و شور کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ اب تک ہزاروں لوگوں نے اس سلسلے سے استفادہ حاصل کیا ہے۔ اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ملک کے نوجوان قائدین کا اجلاس تھا۔ جو آج بروز جمعہ بتاریخ 04؍ جون 2021ء کی رات 9:00 بجے سے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کی صدارت میں منعقد ہونے جارہا ہے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا۔ انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے فرمایا کہ تحفظ القدس کانفرنس کا یہ پروگرام ”مسجد اقصٰی سازشوں کے گھیرے میں!“ کے عنوان پر منعقد ہوگا- جس میں ملک کے مختلف اداروں، تحریکوں اور تنظیموں کے نوجوان ذمہ دار و قائدین شرکت فرماکر کانفرنس سے خطاب فرمائیں گے- جس میں بطور خاص حضرت مولانا شمشاد رحمانی صاحب (نائب امیر شریعت بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ)، حضرت مولانا غیاث احمد رشادی صاحب (صدر صفا بیت المال انڈیا)، حضرت مولانا عبد الباری فاروقی صاحب (رکن تحفظ ناموس صحابہ، الہند)، حضرت مولانا محمد شکیب قاسمی صاحب (ڈائریکٹر حجۃ الاسلام اکیڈمی و نائب مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند)، حضرت مولانا مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی صاحب (نائب ناظم المعھد العالی الاسلامی حیدرآباد)، حضرت مولانا عبد الاحد قاسمی صاحب (صدر آل انڈیا تحریک تحفظ سنت و مدح صحابہ) شریک رہیں گے- جبکہ کانفرنس کی نظامت جمعیۃ علماء رائچور کے صدر حضرت مولانا مفتی سید حسن ذیشان قادری قاسمی صاحب فرمائیں گے- انہوں نے برادران اسلام سے گزارش کی کہ وہ تحفظ القدس کانفرنس میں کثیر تعداد میں شرکت فرماکر علماء کرام کے خطاب سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔ قابلِ ذکر ہیکہ یہ کانفرنس مرکز تحفظ اسلام ہند کے آفیشیل یوٹیوب چینل اور فیس بک پیج تحفظ اسلام میڈیا سروس پر براہ راست نشر کیا جائے گا!

Monday, 31 May 2021

بیت المقدس کی آزادی کا وقت قریب ہے، مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے!


بیت المقدس کی آزادی کا وقت قریب ہے، مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے تحفظ القدس کانفرنس سے مولانا عبد العلیم فاروقی اور مولانا ابو طالب رحمانی کا خطاب!


بنگلور، 31؍ مئی (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن تحفظ القدس کانفرنس کی دوسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے جانشین امام اہل سنت حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی صاحب نے فرمایا کہ گذشتہ دنوں غزہ اور فلسطین میں اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم کے بعد قبلۂ اول بیت المقدس اور فلسطین ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کی نظروں کے سامنے آگئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فلسطینی مسلمان اب تقریباً ایک صدی سے تکلیف اور آزمائش کی چکی میں پس رہے ہیں۔ عالمی طاقتوں نے نہایت چالاکی اور سفاکی سے فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری کا بندوبست کر کے ارض مقدس کے باسیوں سے انکی اپنی ہی زمین چھین لی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ یہودی وہ قوم ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی مسلسل نافرمانی بلکہ سرکشی اور انبیائے کرام علیہ السلام کی حکم عدولی بلکہ ان کے ساتھ گستاخی کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی جانب سے لعنت اور غضب کے مستحق ہوئے اور ہدایت اور خیر سے محروم کردیئے گئے، پھر مکمل طور پر شیطان کے آلۂ کار بن گئے اور دنیا میں بے حیائی اور سود وقمار کو بطور نظام اور مشن کے عام کرنے میں مصروف ومنہمک ہوگئے جس کی وجہ سے ایمان، خیر، حیا کے یہ دشمن ہوگئے۔ اسلام چونکہ ان چیزوں کا علمبردار ہے اور مسلمان کسی نہ کسی درجہ میں اس کے حامل ہیں، اس لیے یہ یہودیوں کی جماعت اسلام اور مسلمانوں کی دشمن ہوگئی۔ مولانا نے فرمایا کہ یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کھل کردشمنی نہ کرسکے تو نفاق کا راستہ اختیار کیا، بعد میں کبھی کھل کر کبھی چھپ کر اضرار فساد پھیلانے میں مصروف ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ یہود و نصاریٰ کبھی مسلمانوں کے ہمدرد نہیں ہوسکتے۔ جس قوم نے اپنے نبیوں کی بات نہیں مانی وہ ہماری بات کہاں سے مانے گی۔ مولانا نے فرمایا کہ مسلمانوں کے نزدیک مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد تیسرا سب سے زیادہ قابل احترام مقام بیت المقدس اور مسجد اقصٰی ہے۔ آج اس مقام مقدس پر یہودی قابض ہیں اور مظلوم فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھا رہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ اللہ ہر ایک فلسطینی شہید کا حساب لے گا۔ لیکن ایک جانب اللہ کے دین برحق کے دشمن اتنے منظم ہیں اور دوسرے جانب ہم مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ اسلام دشمن طاقتوں کے ان اقدامات کے خلاف کوئی قدم اٹھانا یا متحد ہونا تو بہت دور کی بات ہے۔ ہماری اکثریت ابھی تک اپنے اصل دشمن اور اسکے نظریات کو پہچانتی تک نہیں ہے۔ مولانا نے دوٹوک فرمایا کہ اگر ان حادثات سے ہمارے دل نہ تڑپیں تو ہمیں اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے۔ مولانا نے فرمایا کہ آج ضرورت ہیکہ ہم فلسطینی مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں، انکا ساتھ دیں اور تعاون کریں یا کم از کم انکو اپنے دعاؤں میں یاد رکھیں۔ ورنہ اگر آج بھی ہم بیدار نہیں ہوئے اور اسی طرح کی بے حسی رہی تو ہم مکہ اور مدینہ کی بھی حفاظت نہیں کرسکیں گے!


تحفظ القدس کانفرنس کی تیسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن حضرت مولانا ابو طالب رحمانی صاحب نے فرمایا کہ اس وقت پوری دنیا میں جو آواز گونج رہی ہے وہ مظلوم فلسطینی کی چیخ اور ظالم اسرائیل کے بم دھماکے کی آواز گونج رہی ہے۔ ارض فلسطین کے مظلوم مسلمان گزشتہ ایک صدی سے جبر و تسلط کی چکیوں میں پس رہے ہیں۔ یہ دنیا کی وہ واحد قوم ہے جو خود اپنے ہی علاقے اور اپنے وطن میں مہاجروں کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ یہ سب جرائم اقوام متحدہ کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ اسرائیل نے فلسطین پر غیر قانونی قبضہ کیا ہے۔ فلسطینی اور غزہ کے مسلمان اسرائیلی محاصرے میں ہیں اور ان سے قیدیوں جیسا سلوک روا رکھا جارہا ہے۔ اس کی کھلی جارحیت کیخلاف جدوجہد کرنا یقیناً فلسطینیوں کا بنیادی حق ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ موجودہ صورتحال انتہائی کرب ناک ہے۔ اسرائیل کی نہایت مضبوط اور جدید ہتھیاروں سے لیس فوج معصوم فلسطینی شہریوں، بچوں اور خواتین پر ظلم و ستم کا بازار گرم کیے ہوئے ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ اس تنازعے کا اصل شکار کون رہا، مگر بد قسمتی سے جب اسرائیل اور فلسطین کی بات آتی ہے تو عالمی برادری دوہرے معیارات اختیار کرتی ہے۔ ایک نرالی منطق یہ پیش کی جاتی ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک طرف ایف سولہ طیارے عمارتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تو دوسری جانب ہاتھ سے بنے ہوئے راکٹ اسرائیل کی جانب پھینکے جا رہے ہیں۔ تو سوچیے کون ظالم ہے اور کون اہنا دفاع کررہا ہے؟ مولانا رحمانی نے فرمایا کہ سلام ہو ان فلسطینی بہادروں کو کہ انکے ایک ایک بچے سے بھی آج اسرائیل خوف کھارہا ہے۔ یہ زندہ اور سچی قوم ہونے کی دلیل ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اقوام متحدہ کے پاس کوئی انصاف نہیں ہے وہ یہود و نصاری کے اشاروں پر ناچتی ہے۔ بیت المقدس پہلے بھی آزاد ہوا تھا اور ان شا اللہ وہ وقت قریب ہے جب بیت المقدس دوبارہ آزاد ہوکر رہے گا۔ قابل ذکر ہیکہ حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی صاحب اور حضرت مولانا ابو طالب رحمانی صاحب نے مرکزتحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔

Sunday, 30 May 2021

مرکز تحفظ اسلام ہند کے دس روزہ تحفظ القدس کانفرنس کا آج اختتامی اجلاس!



 مرکز تحفظ اسلام ہند کے دس روزہ تحفظ القدس کانفرنس کا آج اختتامی اجلاس!

دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابو القاسم نعمانی صاحب کی صدارت میں منعقد ہوگا یہ پروگرام!


بنگلور، 30؍ مئی (پریس ریلیز) : مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام گزشتہ دس دنوں سے سلسلہ القدس پورے زور و شور کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ ہزاروں لوگ اس سلسلے سے استفادہ حاصل کررہے ہیں۔ اس سلسلے کی سب سے اہم کڑی دس روزہ عظیم الشان آن لائن تحفظ القدس کانفرنس ہے۔ جو روزانہ رات 9:30 بجے منعقد ہوتی ہے۔ اس کانفرنس سے اب تک ملک کے مختلف اکابر علماء کرام خطاب فرما چکے ہیں۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب اس کانفرنس کا اختتامی پروگرام آج بروز اتوار بتاریخ 30؍ مئی 2021ء رات 9:30 بجے منعقد ہونے جارہا ہے۔   انہوں تفصیلات بتاتے ہوئے فرمایا کہ اختتامی پروگرام کی صدارت عالم اسلام کی مایہ ناز شخصیت، بقیۃ السلف، نمونۂ اسلاف، فخر دیوبند، امیر ملت حضرت اقدس مولانا مفتی ابو القاسم صاحب نعمانی دامت برکاتہم (مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند) فرمائیں گے اور انہیں کے خطاب و دعا سے یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوگا۔ انہوں نے برادران اسلام سے گزارش کی کہ وہ تحفظ القدس کانفرنس کی اس اختتامی نشست میں کثیر تعداد میں شرکت فرماکر حضرت والا کے خطاب سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔ قابلِ ذکر ہیکہ یہ کانفرنس مرکز تحفظ اسلام ہند کے آفیشیل یوٹیوب چینل اور فیس بک پیج تحفظ اسلام میڈیا سروس پر براہ راست نشر کیا جائے گا!