Sunday, 18 July 2021

قربانی شعائر اسلام میں سے ہے اور ہر صاحب نصاب کی طرف سے الگ الگ قربانی دینا لازم اور واجب ہے!



 قربانی شعائر اسلام میں سے ہے اور ہر صاحب نصاب کی طرف سے الگ الگ قربانی دینا لازم اور واجب ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے آن لائن ہفت روزہ کانفرنس سے مفتی محمد شفیق احمد قاسمی کا خطاب!


 بنگلور، 17؍ جولائی (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد آن لائن ہفت روزہ کانفرنس بسلسلہ عشرۂ ذی الحجہ و قربانی کی چوتھی نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ امام ابوحنیفہ بنگلور کے مہتمم اور دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ حضرت مولانا مفتی محمد شفیق احمد قاسمی صاحب نے فرمایا کہ ماہ ذی الحجہ کا ابتدائی عشرہ اسلام میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ بالخصوص قربانی کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے اس ماہ ذی الحجہ کو بڑی فضیلت سے نوازا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ قربانی ایک اہم عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے۔ اور ہر صاحبِ نصاب عاقل بالغ مسلمان کے ذمہ قربانی کرنا واجب ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر ایک گھر میں متعدد صاحبِ نصاب افراد ہوں تو ایک قربانی سارے گھر والوں کی طرف سے کافی نہیں ہوگی، بلکہ گھر میں رہنے والے ہر صاحبِ نصاب شخص پر الگ الگ قربانی کرنا لازم ہوگی۔ کیوں کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص صاحبِ حیثیت ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر صاحبِ نصاب پر مستقل علیحدہ قربانی کرنا واجب ہے۔ مولانا قاسمی نے متعدد احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہﷺ کا عمل مبارک بھی یہ تھا کہ آپؐ اپنی قربانی الگ فرمایا کرتے تھے اور ازواجِ مطہرات کی طرف سے الگ قربانی فرمایا کرتے تھے، اور آپؐ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓکی قربانی مستقل طور پر ہوتی تھی، چنانچہ اس سے بھی پتا چلتا ہے کہ ایک قربانی سارے گھر والوں کی طرف سے کافی نہیں ہے۔ مفتی شفیق احمد قاسمی نے فرمایا کہ حضور ؐ کے زمانہ میں غربت عام ہونے کی وجہ سے بعض اوقات ایک گھر کے اندر ایک ہی شخص صاحبِ نصاب ہوتا تھا، اس وجہ سے پورے گھر میں ایک ہی شخص کے ذمہ قربانی واجب ہوتی تھی، باقی لوگوں کے ذمہ صاحبِ نصاب نہ ہونے کی وجہ سے قربانی واجب ہی نہ ہوتی تھی، اس لیے پورے گھر میں سے صرف ایک ہی آدمی قربانی کیا کرتا تھا، لیکن قربانی کرنے والا اپنے گھر کے تمام افراد کو اس قربانی کے ثواب میں شریک کرلیتا تھا۔ مولانا نے حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر کوئی آدمی اپنی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرے اور اس کے ثواب میں اپنے ساتھ سارے گھر والوں کو شریک کر لے تو یہ جائز ہے، اس کی نظیر یہ ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ؐ نے ایک مینڈھا اپنی طرف سے قربان فرمایا اور دوسرا مینڈھا قربان کر کے فرمایا کہ یہ قربانی اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے کر رہا ہوں جو قربانی نہ کرسکیں۔ مولانا نے فرمایا کہ اس حدیث سے یہ مطلب لینا قطعاً درست نہیں ہوگا کہ چوں کہ آپؐ نے اپنی امت کی طرف سے ایک مینڈھا قربان فرمادیا اس لیے اب امت کے ذمہ سے قربانی ساقط ہوگئی، بلکہ مطلب یہ ہوگا کہ آپؐ نے ثواب میں ساری امت کو اپنے ساتھ شریک کرلیا۔ مفتی صاحب نے اس مسئلہ پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اگر ایک بکری پورے گھر والوں کی طرف سے کافی ہوتی تو جن حدیثوں میں بڑے جانور گائے، اونٹ، وغیرہ کو سات کی طرف سے متعین کیا گیا ہے، اس کے کیا معنی ہوں گے؟ کیوں کہ نصوص کی روشنی میں یہ بات متفق علیہ ہے کہ ایک بکری گائے کے ساتویں حصے کے برابر ہے، لہٰذا اگر ایک گائے میں آٹھ آدمی شریک ہوجائیں تو بمقتضائے تحدید کسی کی بھی قربانی جائز نہیں ہوگی، ورنہ تحدید بے کار ہو جائے گی۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر ایک گھر میں مثلاً دس افراد صاحبِ نصاب ہوں تب بھی ایک بکری گھر کے تمام دس افراد کی طرف سے کافی ہوجائے اور سب کی قربانی ادا ہو جائے تو یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک بکری تو دس افراد کی طرف سے کافی ہو جائے اور ایک گائے آٹھ افراد کی طرف سے کافی نہ ہو، اور اگر یہ کہا جائے کہ گائے کا ساتواں حصہ سارے گھر والوں کی طرف سے کافی ہوجائے گا تو پھر تو ایک گائے کے اندر صرف سات افراد نہیں بلکہ ساٹھ، ستر افراد کی قربانی ہو سکے گی جو کہ واضح طور پر نصوص کے خلاف ہے۔ مفتی شفیق احمد قاسمی نے فرمایا کہ خلاصہ یہ ہے کہ گھر میں متعدد صاحبِ نصاب افراد ہونے کی صورت میں تمام گھر والوں کی طرف سے ایک قربانی کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ گھر کے ہر صاحبِ نصاب فرد پر اپنی اپنی قربانی کرنا واجب اور لازم ہے، گھر کے کسی ایک فرد کے قربانی کرنے سے باقی افراد کے ذمہ سے واجب قربانی ساقط نہیں ہوگی۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ حضرت مولانا مفتی محمد شفیق احمد قاسمی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔

Saturday, 17 July 2021

عشرۂ ذی الحجہ میں عبادت کا اہتمام کریں، قربانی شعائر اسلام میں سے ہے!



 عشرۂ ذی الحجہ میں عبادت کا اہتمام کریں، قربانی شعائر اسلام میں سے ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے آن لائن ہفت روزہ کانفرنس سے مولانا سید احمد ومیض ندوی نقشبندی کا خطاب!


 بنگلور، 16؍ جولائی (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام آن لائن ہفت روزہ کانفرنس بسلسلہ عشرۂ ذی الحجہ و قربانی کی تیسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم حیدرآباد کے استاذ حدیث پیر طریقت حضرت مولانا سید احمد ومیض ندوی نقشبندی صاحب نے فرمایا کہ قمری کیلنڈر کا آخری مہینہ ذی الحجہ حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ذی الحجہ کے ان دس راتوں کی قسم کھائی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا کسی شے کی قسم کھانا اس کی عظمت و فضیلت کی واضح دلیل ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ماہ ذی الحجہ کا ابتدائی عشرہ اسلام میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دنوں کو سب سے اعلیٰ و افضل قرار دیا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ذی الحجہ کے دس دنوں میں اللہ تعالیٰ کو نیک عمل جتنا محبوب ہے اس کے علاوہ دیگر دنوں میں نہیں۔ مولانا نے ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ ”اور دنوں میں بندے کا عبادت کرنا اللہ تعالیٰ کو اتنا محبوب نہیں جتنا ذوالحجہ کے عشرہ میں محبوب ہے، اس عشرہ کے ہر دن کا روزہ سال بھرکے روزوں کے برابر اور اس کی ہر رات کے نوافل شب قدر کے نوافل کے برابر ہیں“۔مولانا نقشبندی نے فرمایا کہ حج جیسی عظیم عبادت بھی اسی عشرہ میں انجام دی جاتی ہے۔ اور حج کے بعد مسلمانوں کی دوسری بڑی عید، عید الاضحی بھی ماہ ذی الحجہ کی دس تاریخ کو ہوتی ہے۔ نیز قربانی جیسا عظیم عمل بھی اسی مہینے میں انجام دیا جاتا ہے۔مولانا احمد ومیض ندوی نے فرمایا کہ یوں تو ذی الحجہ کا پورا مہینہ ہی قابل احترام ہے لیکن اس کے ابتدائی دس دن تو بہت ہی فضیلت اور عظمت والے ہیں، جن میں بڑی بڑی عبادتیں جمع ہوجاتی ہیں یعنی نماز، روزہ، حج اور قربانی۔ ان تمام خصوصیات کی بناہ پر ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کی اہمیت اور افضلیت دو چند ہوجاتی ہے۔ یہ ایام اخروی کامیابی حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے، ہمیں ان بابرکت ایام میں بڑھ چڑھ کر نیک اعمال کرنا چاہیے، بالخصوص ذکر اللہ کی کثرت، نفلی روزے، رات کا قیام، نوافل کا اہتمام، تلاوت قرآن، صدقہئ و خیرات، عرفہ کا روزہ اور قربانی کا اہتمام کرنا چاہئے۔ مولانا نے قربانی پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ قربانی ایک عظیم عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے، جو ہر ایسے عاقل و بالغ، مقیم، مسلمان مرد و عورت پر واجب ہے جو قربانی کے دنوں میں گھرکے ضروری ساز وسامان کے علاوہ ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اسکی مالیت کا مالک ہو۔ مولانا نے فرمایا کہ کا مقصد حصول تقوی ہے یعنی قربانی نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ کیا جائے، نام و نمود، شہرت، ریاکاری، اور دکھلاوا سے بالکلیہ اجتناب کیا جائے، ورنہ قربانی کا جو ثواب ہے اس سے محرومی مقدر ہے۔ بہت سارے لوگ جانوروں کی خریداری میں تقابلی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں اور نمائش کے لئے لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں جو قطعاً درست نہیں، لہٰذا اس سے بچا جائے۔ اسی کے ساتھ قربانی کے موقع پر ہمیں پاکی صفائی کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر پیر طریقت حضرت مولانا سید احمد ندوی نقشبندی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔

قربانی نمائش یا کسی رسم کا نام نہیں بلکہ ایک عبادت اور مذہبی فریضہ ہے!


 قربانی نمائش یا کسی رسم کا نام نہیں بلکہ ایک عبادت اور مذہبی فریضہ ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے آن لائن ہفت روزہ کانفرنس سے مفتی ہارون ندوی کا خطاب!


 بنگلور، 16؍ جولائی (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد آن لائن ہفت روزہ کانفرنس بسلسلہ عشرۂ ذی الحجہ و قربانی کی دوسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء جلگاؤں کے صدر اور وائرل نیوز کے ڈائریکٹر حضرت مولانا مفتی ہارون ندوی صاحب نے فرمایا کہ قربانی اہم عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے۔اسی لئے اس عمل کو بڑی فضیلت اور اہمیت حاصل ہے۔ بارگاہ الٰہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ سیدنا آدم علیہ السلام سے ہی چلا آرہا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ قربانی کا عمل ہر امت میں مقرر کیا گیا۔ البتہ اس کے طریقے اور صورت میں کچھ فرق ضرور رہا ہے۔ انہی میں سے قربانی کی ایک عظیم الشان صورت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہؐ کو عیدالاضحٰی کی قربانی کی صورت میں عطاء فرمائی ہے جو حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے۔ اور اسی کی یادگار کے طور پر امت محمدیہ پر قربانی کو واجب قرار دیا گیا۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ عید الاضحٰی کے نماز کے بعد قربانی ادا کی جاتی ہے اور مسلمانان عالم کو قربانی کا فریضہ سر انجام دے کر اتنی خوشی نصیب ہوتی ہے کہ سارے سال میں کسی اور دن نہیں ہوتی۔ لیکن ادھر کچھ دنوں سے ہمارے ملک میں بعض فرقہ پرست لوگ یہ غلط فہمی پیدا کررہے ہیں کہ جس شخص پر قربانی واجب ہو، اس کی طرف سے قربانی کے دنوں میں جانور ذبح کرنے کے بجائے بہ قدر قربانی نقد قیمت صدقہ کرنا چاہیے یا جانوروں کی قربانی کے بہ جائے مٹی کے بکرے ذبح کرکے علاماتی طور پر قربانی انجام دینے پر اکتفا کریں۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ یہ حضرات کو سمجھ لینا چاہئے کہ قربانی شعائر اسلام میں ہے اور ملک ہند کے دستور نے ہمیں ہمارے مذہب پر چلنے کی مکمل آزادی دی ہے اور یہ ہمارا جمہوری حق بھی ہے۔ اور علاماتی قربانی کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ یہ لوگ اچھی طرح سمجھ لیں کہ قربانی کرنا محض گوشت کھانے کے لیے نہیں بلکہ یہ خدا و رسول کے احکام و سنت کی اتباع ہے۔ جسکی ادائیگی سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ قربانی کے دنوں میں اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عبادت قربانی کے جانوروں کا خون بہانا ہے، جتنے زیادہ جانوروں کی قربانی ہوگی، اتنا اللہ کا قرب نصیب ہوگا اور یہی زیادہ افضل ہے۔ نیز یہ بھی واضح ہو کہ عمدہ جانور لینے والے کو قربانی کے جانور کے لیے زیادہ پیسے خرچ کرنے پر ملامت نہیں کی جائے گی کیونکہ فقہاءِ کرام نے لکھا ہے کہ قربانی کا جانور صحت مند اور فربہ ہونا چاہیے۔ لہٰذا جن جانوروں میں قربانی کی شرائط مکمل ہوں، ایسے زیادہ جانور لینا اگرچہ افضل ہے، لیکن کوئی مہنگا جانور خریدنا چاہے تو اس کے لیے کوئی حد مقرر نہیں ہے اور مہنگا جانور خریدنا جائز ہے۔ لیکن یہ بھی واضح ہو کہ مہنگا جانور یا زیادہ جانور خریدنا محض قربانی کی عبادت کو عمدہ طریقے سے ادا کرنے کی نیت سے ہو، نمود و نمائش کی نیت سے نہ ہو۔ کیونکہ ریاکاری عبادات کو باطل کردیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ قربانی کو نمود ونمائش کا عمل اور مذاق بنانے والے قابل مذمت ہیں۔ مفتی ہارون ندوی نے فرمایا کہ قربانی ایک اہم عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے یہ نمائش یا کسی رسم کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عبادت اور مذہبی فریضہ ہے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا مفتی ہارون ندوی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔

Friday, 16 July 2021

عشرۂ ذی الحجہ بڑی فضیلت و اہمیت کا حامل، قربانی کا مقصد رضائے الٰہی ہونا چاہیے!

 



عشرۂ ذی الحجہ بڑی فضیلت و اہمیت کا حامل، قربانی کا مقصد رضائے الٰہی ہونا چاہیے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے ہفت روزہ کانفرنس کی افتتاحی نشست سے مولانا محمد مقصود عمران رشادی کا خطاب!


 بنگلور، 15؍ جولائی (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ہفت روزہ کانفرنس بسلسلہ عشرۂ ذی الحجہ و قربانی کی پہلی و افتتاحی نشست سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے جامع مسجد سٹی بنگلور کے امام و خطیب حضرت مولانا محمد مقصود عمران رشادی صاحب نے فرمایا کہ ذی الحجہ کا مبارک مہینہ شروع ہوچکا ہے۔ جو اسلامی مہینوں کا آخری مہینہ ہے۔ اسلام کے سارے ہی مہینے محترم اور قابل عظمت ہیں لیکن اللہ تعالی نے بعض مہینوں کو خاص فضیلت اور عظمت سے نوازا ہے، ان میں سے ایک ذوالحجہ کا مہینہ بھی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے سورۃ الفجر میں ذی الحجہ کی دس راتوں کی قسم کھائی ہے جس سے معلوم ہوا کہ ماہ ذی الحجہ کا ابتدائی عشرہ اسلام میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ حج جیسا عظیم فریضہ اور اسکا اہم رکن وقوف عرفہ اسی عشرہ میں ادا کیا جاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے خاص فضل وکرم کو حاصل کرنے کا دن ہے۔ مولانا نے ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمام دنوں میں کسی دن میں بھی بندے کا عبادت کرنا اللہ کو اتنا محبوب نہیں جتنا ذوالحجہ کے عشرہ میں محبوب ہے۔ اس عشرہ کے ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور اس کی ہر رات کی نوافل شب قدر کے نوافل کے برابر ہے۔ بالخصوص عرفہ کے دن کا ایک روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کی معافی کا سبب بنتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ عشرۂ ذی الحجہ میں میں زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت کریں، اللہ کا ذکر کریں، روزہ رکھیں، قربانی کریں۔ مولانا رشادی نے قربانی کے پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ عشرۂ ذی الحجہ کی دس تاریخ کو عید منائی جاتی ہے، عید الاضحی کا دن مسلمانوں کے لیے بہت ہی تاریخی اور عظمت کا حامل دن ہے، یہ دن صرف عید کی خوشی میں مست ہوجانے والا دن نہیں بلکہ ایک عظیم پیغام اور سبق دینا والا دن ہے، مسلمان عید الاضحٰی کے دن جانور کی قربانی کرتے ہیں، اور صاحب حیثیت اور مالک نصاب افراد اپنی جانب سے قربانی انجام دیتے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ دیگر اعمال صالحہ کی طرح قربانی میں بھی مطلوب و مقصود رضاء الٰہی ہونی چاہیے اور قربانی کے جانوروں کی نمائش سے حتیٰ الامکان بچنا چاہیے۔ انہوں نے فرمایا کہ قربانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں اپنی جان ومال و وقت ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہیں۔ مولانا نے قربانی کے اہم مسائل پر اور جانور کی خریداری پر خصوصی روشنی ڈالی۔ علاوہ ازیں فرمایا کہ قربانی کے وقت ہمیں پاکی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے اور قربانی کے گوشت کی تقسیم میں غریبوں، مسکینوں اور یتیموں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ قابل ذکر ہیکہ مرکز تحفظ اسلام ہند کے اس عظیم الشان آن لائن ہفت روزہ کانفرنس بسلسلہ عشرۂ ذی الحجہ و قربانی کی افتتاحی نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ جسکا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مرکز کے رکن حافظ محمد عمران کے نعتیہ اشعار سے ہوا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے ہدیہ تشکر پیش کیا۔ اس موقع پر حضرت مولانا محمد مقصود عمران رشادی نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو خوب سراہا اور انہیں کی دعا سے یہ افتتاحی نششت اختتام پذیر ہوئی۔

Monday, 12 July 2021

عشرۂ ذی الحجہ کی برکتوں سے اپنے آپ کو محروم نہ کریں!

 



عشرۂ ذی الحجہ کی برکتوں سے اپنے آپ کو محروم نہ کریں!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے آن لائن ہفت روزہ کانفرنس بسلسلہ عشرۂ ذی الحجہ و قربانی کا آغاز!


بنگلور، 12؍ جولائی (پریس ریلیز): ماہ ذی الحجہ اسلامی سال کا سب سے آخری مہینہ ہے اور قرآن پاک میں جن چار مہینوں کے حرمت والے ہونے کا تذکرہ ہے، ان میں سے ایک ذی الحجہ بھی ہے۔ اسلام کے سارے ہی مہینے محترم اور قابل عظمت ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے بعض مہینوں کو خاص فضیلت اور عظمت سے نوازا ہے۔ ان میں سے ایک ذی الحجہ کا مہینہ بھی ہے، جس کا احترام شروع زمانہ سے چلتا آرہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ میں کچھ عبادتوں کو رکھا ہے جس کی وجہ سے اس کی عظمت میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔ ماہ ذی الحجہ کو مختلف عبادات کی وجہ سے خصوصی مقام اور امتیاز حاصل ہے، حج جیسی عظیم عبادت بھی اسی ماہ میں انجام دی جاتی ہے، اسی مناسبت سے اس کا نام ذی الحجہ ہے یعنی حج والا مہینہ ہے۔ ماہ ذی الحجہ کی عظمت اور فضیلت اس وجہ سے اور بڑھ جاتی ہے کہ اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کے دو برگزیدہ پیغمبر حضرت سیدنا ابراہیم وحضرت سیدنا اسماعیل علیہما السلام سے ہے اور اس ماہ میں اللہ کی راہ میں ان کی دی ہوئی قربانی کی یاد کو تازہ کیا جاتا ہے اور عزم کیا جاتے ہیکہ ہم اللہ تعالیٰ کے دین اور اسکی رضا کیلئے ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے آن لائن پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ ذی الحجہ کا پورا مہینہ ہی قابل احترام ہے لیکن اس کے ابتدائی دس دن تو بہت ہی فضیلت اور عظمت والے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس کی عظمت و اہمیت کو بیان فرمایا اور نبی کریمﷺ نے امت کو عشرۂ ذی الحجہ کی قدردانی سے آگاہ فرمایا۔ انہوں نے فرمایا کہ عشرۂ ذی الحجہ کی دس تاریخ کو عید منائی جاتی ہے، عید الاضحٰی کا دن مسلمانوں کے لیے بہت ہی تاریخی اور عظمت کا حامل دن ہے، یہ دن صرف عید کی خوشی میں مست ہوجانے والا دن نہیں بلکہ ایک عظیم پیغام اور سبق دینا والا دن ہے، مسلمان عید الاضحٰی کے دن جانور کی قربانی کرتے ہیں، اور صاحب حیثیت اور مالک نصاب افراد اپنی جانب سے قربانی انجام دیتے ہیں۔ مرکز کے ڈائریکٹر نے فرمایا کہ عشرۂ ذی الحجہ کی خصوصیت اور فضیلت احادیث میں بکثرت آئی ہیں اور اسلام کے اہم ترین عبادات اس میں انجام دئیے جاتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں اس کی تعظیم اور احترام کرنا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ عبادات وغیرہ کا اہتمام کرنا چاہیے۔ بالخصوص معاصی اور گناہوں کے کاموں اور نافرمانی والے اعمال سے بچنا چاہیے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے ان دنوں کی عظمت کو بڑھا دیا اور اس میں عبادت انجام دینے پر اجر وثواب میں زیادتی ہوگی، اسی طرح اس دنوں کو بے حرمتی کرتے ہوئے گناہوں کا ارتکاب کرنے پر سزا اور عتاب میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔ اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے عشرۂ ذی الحجہ اور قربانی کی فضیلت و اہمیت سے امت مسلمہ کو واقف کروانے کیلئے مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے ”سلسلہ عشرۂ ذی الحجہ و قربانی“ کا آغاز کیا جارہا ہے۔ مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے یومیہ نظام پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ روزانہ صبح 11؍ بجے ایک ایک مختصر ویڈیو پیغام بنام واٹساپ اسٹیٹس بھیجی جائے گی، دوپہر دو بجے عشرۂ ذی الحجہ کی فضیلت پر ایک حدیث یا قرآنی آیت کا اشتہار بھیجا جائے گا، اسکے علاوہ روزانہ رات 9:30 بجے ”عظیم الشان آن لائن ہفت روزہ کانفرنس بسلسلہ عشرۂ ذی الحجہ و قربانی“ منعقد ہوگی۔ جس سے ملک کے مختلف اکابر علماء کرام خطاب فرمائیں گے۔ انہوں نے برادران اسلام سے کثیر تعداد میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔اس موقع پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی نے مرکز کی خدمات پر مختصراً روشنی ڈالتے ہوئے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان فرمائے اور مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی نے تمہیدی گفتگو کے ساتھ پریس کانفرنس کی نظامت کے فرائض انجام دئے۔ علاوہ ازیں مرکز کے رکن شوریٰ مولانا سید ایوب مظہر قاسمی نے ذی الحجہ کی فضیلت اور مرکز کے رکن مولانا بلال احمد حسینی نے قربانی کی فضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے برادران اسلام سے اس اہم پروگرام میں شرکت کی اپیل کی۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان نے تمام صحافی حضرات، ناظرین، اراکین مرکز تحفظ اسلام ہند کا شکریہ ادا کیا۔