Friday, 17 December 2021

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن عاملہ منتخب ہونے پر امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد رشادی کو مرکز تحفظ اسلام ہند نے پیش کی تہنیت!

 آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن عاملہ منتخب ہونے پر امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد رشادی کو مرکز تحفظ اسلام ہند نے پیش کی تہنیت!












 بنگلور، 17؍ ڈسمبر (پریس ریلیز): پچھلے دنوں شہر کانپور میں ملت اسلامیہ ہندیہ کا متحدہ، متفقہ اور مشترکہ پلیٹ فارم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا ستائیسواں اجلاس منعقد ہوا، جس میں متفقہ طورپر ملک کے ممتاز عالم دین، جنوبی ہند کی قدیم دینی درسگاہ دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور کے مہتمم و شیخ الحدیث اور ریاست کرناٹک کے امیر شریعت حضرت مولانا صغیر احمد صاحب رشادی مدظلہ کو بورڈ کی مجلس عاملہ کا رکن منتخب کیا گیا۔ 20 اور 21؍ نومبر 2021ء کو کانپور میں منعقد بورڈ کا یہ ستائیسواں اجلاس صدر بورڈ حضرت مولاناسید محمد رابع حسنی صاحب ندوی مدظلہ کی زیر صدارت منعقد ہوا تھا۔ جس میں ملک کے مختلف اہم شخصیات کا انتخاب عمل میں آیا۔ اسی اجلاس میں جنوبی ہند بالخصوص ریاست کرناٹک کی نمائندگی کے طور حضرت امیر شریعت کرناٹک کوبطور رکن عاملہ منتخب کیا گیا۔ بورڈ میں حضرت امیر شریعت کے انتخاب سے عموماً پورے ملک بالخصوص جنوبی ہند اور ریاست کرناٹک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس پرمسرت موقع پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے اراکین نے ایک وفد کے ساتھ بورڈ کے نو منتخب رکن عاملہ حضرت امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد رشادی صاحب سے خصوصی ملاقات کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی اور اس حسن انتخاب پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا شکریہ ادا کیا۔ وفد میں مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان، آرگنائزر حافظ محمد حیات خان، اراکین شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی، قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی، مولانا سید ایوب مظہر قاسمی، اراکین شبیر احمد، عمیر الدین، سید توصیف وغیرہ خصوصی طور پر شامل تھے۔ اس موقع پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے فرمایا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے روز اول سے مسلم عائلی قوانین (مسلم پرسنل لا) کی حفاظت، شریعت اسلامی کے تحفظ، معاشرے کی اصلاح اور وحدت کلمہ کی بنیاد پر تمام مسالک اور مکاتب فکر کو متحد کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ان مقاصد کے حصول کیلئے بورڈ نے ہمیشہ ملک کی ممتاز شخصیات کا انتخاب کیا ہے۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اس بار امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد رشادی صاحب کا انتخاب بورڈ کے رکن عاملہ کے طور پر ہوا ہے۔ محمد فرقان نے فرمایا کہ اس حسن انتخاب سے جنوبی ہند بالخصوص ریاست کرناٹک میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مزید مستحکم اور سرگرم عمل بنے گی کیونکہ نو منتخب رکن عاملہ امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد رشادی صاحب اعلیٰ اخلاق و کردار کے مالک، علمی و فقہی وسعت و بصیرت، فقہ و قضاء، علم و عمل، تدین و تقویٰ کے باب میں امتیازی مقام کے حامل ہیں اور اپنی گوناگوں خوبیوں، صلاحیتوں، خدمات نیز اپنی دور اندیشی و دور بینی اور اتحاد امت کی کوششوں کی بنا پر ملت کے تمام حلقوں میں یکساں محبوب اور مقبول ہیں۔ لہٰذا ایسی شخصیت کا انتخاب ملت اسلامیہ ہندیہ کے لئے نہایت موزوں اور مفید تر ہے۔ قابل ذکر ہیکہ اس ملاقات میں حضرت امیر شریعت کرناٹک نے ریاست بھر میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈکومضبوط و مستحکم اور سرگرم عمل بنانے کی یقین دلائی۔

Monday, 6 December 2021

بابری مسجد محض عبادت گاہ نہیں بلکہ ہمارا وجود ہے، ہماری پہچان ہے، وطن ہمارے رشتے کا بندھن ہے!

 بابری مسجد محض عبادت گاہ نہیں بلکہ ہمارا وجود ہے، ہماری پہچان ہے، وطن ہمارے رشتے کا بندھن ہے! 



✍️ مولانا سید ایوب مظہر قاسمی

(رکن شوریٰ مرکز تحفظ اسلام ہند)


 

میرے پیارو! ہمارا ملک ہندوستان ایک دو نہیں ہزاروں لاکھوں مسجدوں سے سجا ہے، جن میں ہم مسلمان صوم و صلوٰۃ اور تعلیم و تبلیغ جیسے فرائض انجام دے رہے ہیں- لیکن بابری مسجد محض ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ وہ مسلمانوں کی شان ہے، پہچان ہے، ہند میں ہمارے وجود اور قدیم ہونے کا ثبوت ہے، بھارت سے ہمارے رشتے کا اعلان ہے- بابری مسجد ہماری روشن تاریخ ہے، کوئی بھی قوم اپنی تاریخ سے جدا ہوکر اپنا وجود ثابت نہیں کرسکتی- بابری مسجد کے بنا وجود ہماری پہچان ہند میں ادھوری ہے، آج کی ظالم حکومت اور اس کے کارندے برسوں سے مسلمانوں کی تاریخ مٹانے نسخ مسخ کرنے کی انتھک و منظم کوشش کررہے ہیں، شہر گلی کوچوں چوراہوں سڑک بازاروں سے مسلم نام بدلے حضرت ٹیپو سلطان شہید رحمۃ اللہ علیہ کی روشن تاریخ کو بدلنے کی ناپاک کوشش کی جگہ جگہ مسلمانوں اور ان کی جائیداد کو نقصان پہونچایا مسجدوں سے اذان اور سڑک بازار کے کناروں بلا خلل نماز پڑھنے پر پابندی اور ان جیسی ہزار ناپاک و گھناؤنی سازش کئے اور کررہے ہیں، اذان و مسجد شعائرِ اسلام میں سے ہیں جس کی حفاظت ہر مسلمان کیلئے اپنی جان سے بڑھ کر ہے، حکمت کے نام پر ان حادثوں کو بھولنا یا ان جان بننا بزدلی ہے جو ایمان کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتا- بابری مسجد کی شہادت تو ایک المناک و کربناک حادثہ تھا ہی پر 9 نومبر 2019 کو عدالتِ عظمیٰ سپریم کورٹ کا بابری مسجد کے تعلق سے لیا گیا غیر منصفانہ فیصلہ دوبارہ ظالمانہ شہادت اور مسلمانوں کی تاریخ پر حملہ کرنے جیسا ہے، ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے جس سے نہ درد کم ہوگا نہ غصہ، ہمارے جذبات اس انسانیت شرمسار فیصلے کے بعد پہلے سے زیادہ گرم ہیں- ہم ملک کی عدالت کا احترام کرتے ہیں ملک کے امن و سالمیت کا لحاظ کرتے ہیں پر ہمارا دکھ یا ہماری ایمانی حرارت قومی جذبہ ابھی سرد نہیں ہوا مسجدیں ہیں بہت پر انصاف چاہیے ہمیں سب یاد ہم بھولے کچھ نہیں ہم ہندوستانی مسلمان ہیں ہمارے قلب و جگر ایمان اور حب الوطنی سے لبریز ہیں اور بابری مسجد ہمارے ایمان کا حصہ حب الوطنی کی مثال اور تاریخ کا ثبوت ہے، جس کی یاد نسل در نسل چلے گی، ہم انتظار میں ہیں، ہوگا ضرور ہوگا ایک دن انصاف ہوگا انصاف ملے گا-

میرے عزیزو! اپنی نسل اصل تک اس کی تاریخ کو اجاگر کرو، اپنے جذبات کو گرماؤ، تاریخ وہ جڑ ہے جس کٹ کر کوئی قوم زیادہ دن جی نہیں سکتی وہ اپنا وجود اپنا سب کھوبیٹھے گی- دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ یوں ہمیں سزا نہ دے ہمیں انصاف دے ملک کے سازگار کرے شرپسندوں کو ہدایت دے-


سید ایوب مظہر شیموگہ

9686251595


جاری کردہ :مرکز تحفظ اسلام ہند

Thursday, 25 November 2021

Taleem-e-Nafsiyaat

 Book: Taleem-e-Nafsiyaat





Author : Mufti Masoom Saqib Qasmi Saheb DB


Sunday, 14 November 2021

مرکز تحفظ اسلام ہند کی”سلطان ٹیپو ٹیوٹر مہم“ کامیابی سے ہمکنار!

 





مرکز تحفظ اسلام ہند کی”سلطان ٹیپو ٹیوٹر مہم“ کامیابی سے ہمکنار!

حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کی مخالفت فرقہ پرستوں کا محض سیاسی ایجنڈا ہے: محمد فرقان


بنگلور، 13؍ نومبر (پریس ریلیز): شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ انگریزوں کے خلاف ہندوستان کی جنگ آزادی کے اولین مجاہد ہیں جنہوں نے انگریزوں کی بالادستی کو ماننے سے انکار کیا اور ان کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ وہ ایک عادل اور رعایا پرور حکمران تھے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا- انہوں نے فرمایا کہ ہندوستان کی تاریخ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک ٹیپو سلطان شہید ؒ جیسے عظیم محب وطن، بہادر اور بے لوث ملک وملت سے محبت کرنے والے قائد وجنرل کا ذکر نہ کیا جائے۔ اور یہ ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے کہ اس ملک کی آزادی کے لیے پہلے میدان میں اترنے والوں میں ٹیپو سلطان شہیدؒ کا نام آگے ہے، اور رعایا کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے میں اور غیر مسلموں کے ساتھ حقوق وانصاف کا سلوک کرنے میں بھی ٹیپو سلطان ؒ اپنی سنہری تاریخ رکھتے ہیں۔ محمد فرقان نے فرمایا کہ آج کی تاریخ میں حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒکو محض ووٹوں اور اقتدار کے لیے متعصب قرار دیا جاتا ہے۔ جو لوگ اُن کی مخالفت کرتے ہیں وہ بھی جانتے ہیں کہ ٹیپو سلطانؒ عدل و انصاف اور مذہبی رواداری کے علمبردار تھے۔ وہ حقیقت کا اظہار اس لیے نہیں کریں گے کیونکہ وہ سیاسی فائدے گنوا دیں گے۔ اپنے سیاسی مفاد کے خاطر فرقہ پرست طاقتیں حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کے خلاف غلط پروپگنڈہ کرتے ہوئے لوگوں کو گمراہ کرتی ہیں۔ لہٰذا ایسے وقت میں ضرورت ہیکہ ہم زیادہ سے زیادہ حضرت کی اصل سیرت کو عام کریں اور فرقہ پرستوں کے بے بنیاد الزامات کا منھ توڑ جواب دیں۔ مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے فرمایا کہ اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند نے 10؍ نومبر 2021ء کی شام چھ بجے سے ”سلطان ٹیپو ٹیوٹر مہم“ چلائی۔ جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے اور گرانقدر ٹیوٹس کئے۔ خصوصاً حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی، مفتی یاسر ندیم الواجدی، مفتی حنیف احرار قاسمی، محمد یاسین ملک، رضا خان، سید الیاس ابراہیم، یاسر مولوی، محمد ابوذر، ندیم شاکر، ڈاکٹر ثقلین، رضیہ مسعود، رافعہ سلطان، نرگس بانو، ثفوان خان، عبد الستار، مولانا شمس تبریز قاسمی، مولانا سمیع اللہ خان، مفتی شمس الہدی قاسمی، سید عبید الرحمن، عرفان ترکی سمیت مختلف حضرات بالخصوص جملہ اراکین مرکز تحفظ اسلام ہند نے اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، انکے علاوہ بھی مختلف شخصیات اور اداروں نے اس مہم میں تعاون کیا اور گرانقدر ٹیوٹس کئے۔ نیز حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی اور حضرت مفتی افتخار احمد قاسمی وغیرہ نے بھی اپنا مختصر پیغام دیا جس سے مہم کو تقویّت ملی۔اس موقع پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے فرمایا کہ مختصر کوششوں کے ساتھ ہنگامی طور پر چلائی گئی یہ مہم میں الحمد للہ 12؍ ہزار سے زائد ٹیوٹس ہوئے جس کی ریچنگ 5 لاکھ 15 ہزار افراد تک ہے۔ محمد فرقان نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی ایسے اہم مواقع پر برادران اسلام کی جانب سے مکمل تعاون رہے گا۔ قابل ذکر ہیکہ اس ٹیوٹر مہم کے ذریعے حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کی جہاں سیرت عام ہوئی وہیں فرقہ پرستوں کو دلائل کی بنیاد پر منھ توڑ جواب بھی دیا گیا۔

Tuesday, 9 November 2021

شیر میسورحضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ تحریک آزادی، عدل و انصاف اور مذہبی رواداری کے علمبردار تھے!








 شیر میسورحضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ تحریک آزادی، عدل و انصاف اور مذہبی رواداری کے علمبردار تھے! 

مرکز تحفظ اسلام ہند کے ”سلطان ٹیپوؒ ٹیوٹر مہم“ میں حصہ لینے کی مفتی افتخار احمد قاسمی نے کی اپیل!


 بنگلور، 09؍ نومبر (پریس ریلیز): اگر ارضِ ہند پر کسی نے انگریزوں کو دن میں تارے دکھائے تو اس عظیم شخصیت کا نام ہے شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ ہے۔ جنہوں نے مادر وطن کی حفاظت اور دشمنوں کے ناپاک وجود سے اس سرزمین کو پاک کرنے کے لیے اپنی جان تک قربان کردیا۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب (مہتمم جامعہ اسلامیہ تعلیم القرآن بنگلور) نے کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کا شمار ان عظیم شخصیات میں ہوتا نے جنہوں نے آزادی ہند کی پہلی شمع جلائی اور لوگوں کے دلوں میں اپنے ملک کی حفاظت اور اس کیلئے اپنی جان کو قربان کرنے کا جذبہ پیدا کیا۔ آپکی حکومت اور زندگی دونوں قابل رشک ہے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒنے ملک میں رہنے والوں پر حکومت نہیں کی بلکہ انکے دلوں پر حکومت کی ہے۔ عدل و انصاف، رواداری، حقوق کی ادائیگی میں یکسانیت اور لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی وجہ سے انکے دلوں میں اپنی جگہ بنائی تھی۔مولانا نے فرمایا کہ ہندوستان کی تاریخ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک ٹیپو سلطان شہید ؒ جیسے عظیم محب ِوطن،بہادر اور بے لوث ملک وملت سے محبت کرنے والے قائد وجنرل کا ذکر نہ کیا جائے۔ مولانا نے فرمایا کہ ملک کی تاریخ میں حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کا نام روشن الفاظ میں لکھا گیا ہے۔آپکی تاریخ روشن درخشاں اور ستارے کی طرح چمک رہی ہے۔ لیکن افسوس کہ موجودہ زمانے میں کچھ لوگ آسمان پر تھوکنے اور سورج کو چراغ دکھانے کی ناکام کوششیں کررہے ہیں اور حضرت ٹیپو سلطان شہید َکی پاک و صاف اور شفاف زندگی پر انگلیاں اٹھانے کی جرأت کررہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو انکی اوقات بتانے کیلئے اور حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کی سچی تاریخ اور آپکی سیرت سے لوگوں کو واقف کروانے کیلئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام ”سلطان ٹیپوؒ“ کے نام سے 10؍ نومبر2021ء بروز چہارشنبہ شام 6:00 بجے سے ٹیوٹر پر ایک مہم چلائی جارہی ہے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ جیسی شخصیت پر چلائی جانے والی مہم کا حصہ بننا یقیناً ہمارے لئے سعادت کی بات ہے، جس پر ہمیں فخر محسوس کرنا چاہیے۔ مفتی افتخار احمد قاسمی نے تمام اہل وطن بالخصوص برادران اسلام سے اپیل کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اس”سلطان ٹیپوؒ ٹیوٹر مہم“ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور حضرت کی سیرت کو عام کریں۔ قابل ذکر ہیکہ ٹیوٹر مہم کا ہیش ٹیگ وقت سے قبل مرکز تحفظ اسلام ہند کے آفیشیل سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے عام کیا جائے گا اور مرکز کے آفیشیل ٹیوٹر ہینڈل سے ٹیوٹ بھی کیا جائے۔ مندرجہ ذیل لنک کے ذریعے مرکز کے آفیشیل ٹیوٹر ہینڈل کو فالوو کرسکتے:

https://twitter.com/tahaffuze_islam