Monday, 8 August 2022

حق کیلئے سر کٹ تو سکتا ہے لیکن باطل کے سامنے سر جھک نہیں سکتا، یہی شہادت حسینؓ کا پیغام ہے!

 حق کیلئے سر کٹ تو سکتا ہے لیکن باطل کے سامنے سر جھک نہیں سکتا، یہی شہادت حسینؓ کا پیغام ہے! 



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان”عظمت صحابہؓ کانفرنس“سے مفتی اسعد قاسم سنبھلی کا خطاب! 


 بنگلور، 08؍ اگست (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے ہفت روزہ عظیم الشان آن لائن ”عظمت صحابہؓ کانفرنس“ کی تیسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ شاہ ولی اللہؒ، مرادآباد کے مہتمم ممتاز عالم دین حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ حضور اکرم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے، حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کے لخت جگر ہیں۔ یہ وہی شخصیت ہیں جنہوں نے حضورؐ کے سایہ عاطفت میں پرورش پائی اور آپ ؐ کی تربیت میں رہ کر حق گوئی و بیباکی کی خوبیوں سے متصف ہوئے۔ مولانا نے فرمایا کہ حضور اکرم ؐ کو حضرت حسن ؓ و حضرت حسینؓ سے بے پناہ محبت تھی۔ آپ ؐ فرماتے تھے کہ ”حسن ؓ و حسینؓ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں“۔ مولانا نے فرمایا کہ جس شخصیت کی تعریف حضورؐ نے بیان فرمائی ہو اور جس کو امت مسلمہ نے اپنا رہبر و رہنما مانا ہو وہ شخصیت کسی تعریف کی محتاج نہیں، حضرت حسینؓ تاریخ اسلام کی وہ قد آور شخصیت ہیں کہ صدیاں بیت جانے کے با وجود بھی ان کا کردار زندہ اور ان کی عظمت پائندہ ہے۔ مولانا سنبھلی نے فرمایا محرم الحرام کا مہینہ ہمیں نواسۂ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اس عظیم قربانی کی یاد دلاتا ہے جو دین محمدی کی بقا کا باعث ہے، آپؓ نے کربلا کے میدان میں اپنے اصحاب و اقربا کے ساتھ جو عظیم الشان قربانی پیش کی تاریخ اسلام میں اسکی کوئی نظیر نہیں ملتی، آپؓ نے دین اسلام کی سربلندی اور اعلائے حق کے لئے اپنی اور اپنے اہل و عیال جان کی قربانی دی۔ مفتی صاحب نے شہدات حضرت حسینؓ پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا ک یزید نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کے ساتھ ہی اسلامی خلافت کے دستور کی ساری دفعات تبدیل کرنا شروع کردیں۔ یہ وہ حالات تھے جب اسلامی نظامِ خلافت ملوکیت میں تبدیل ہو رہا تھا۔ اب حضرت حسینؓ کے سامنے دو ہی راستے تھے۔ ایک راستہ یہ تھا کہ اس ظلم و ناانصافی پر خاموش ہوجائیں اور اپنی جان، مال اور اولاد کو محفوظ رکھیں اور ایک راستہ یہ تھا کہ اپنے پاس جو کچھ بھی ہے اسے اسلامی نظامِ خلافت کو بچانے میں لگا دیں۔ نواسۂ رسولؐ کیلئے یہ بات تو ہر گز ممکن نہیں تھی کہ چپ سادھ لیں، لہٰذا انہوں نے دوسرا راستہ اختیار فرمایا اور اپنی اور اپنے اہل و عیال کی قربانی دے کر اس بات کو ثابت فرما دیا کہ حق کیلئے سر کٹانا قبول ہے لیکن باطل کے سامنے سر جھکانا قبول نہیں۔ مولانا نے فرمایا حضرت حسینؓ کا مقصد خلافت کو منہاج نبوت پر قائم کرنا تھا جبکہ یزید کا مقصد خلافت کو اپنی میراث اور خاندانی جائداد پر قائم کرنا تھا۔ مولانا نے فرمایا کہ اہل سنت و الجماعت علماء دیوبند کا یہ مؤقف ہے کہ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ حضرت حسینؓ کی شہادت یزید کے دور حکومت اور اسی کی فوج سے ہوئی اور یزید فاسق و فاجر بھی تھا، لیکن یزید کے مسئلہ پر سکوت اختیار کرنا چاہئے۔ اور رہی بات حق و باطل کی تو یہ روز روشن کی طرح عیاں ہیکہ حضرت حسینؓ حق پر تھے اور یزید باطل پر تھا۔ مولانا نے فرمایا کہ شہادت حسینؓ کا یہ پیغام ہیکہ حضرت حسینؓ جو اصرار نبوت کو سمجھتے تھے، جنہوں نے حضورؐ کی صحبت حاصل کی ہے، جو صحابیت کے منصب پر فائز تھے اور حضورؐ کے قلب اطہر کے انوار انکے قلب میں منتقل ہوئے ہیں، اس حضرت حسینؓ کا مقصد یہ تھا کہ خلافت جو عظیم الشان شعبہ ہے، اس خلافت کو ہر قیمت منہاج نبوت پر قائم کرنا ضروری ہے، چاہیے اس سلسلے میں اپنی جان چلی جائے اور انہوں نے اپنی جان بھی قربان کردی لیکن خلافت کو میراث اور خاندان جائداد ہونے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، یہی حضرت حسینؓ کا پیغام ہے۔مولانا نے فرمایا کہ نئی نسل کو حضرت حسینؓ کے اس پیغام کو یاد کرنا چاہیے اور اس کو دل میں بسا کر سمجھنا چاہیے کہ ہمیں حق کیلئے کیا کرنا چاہیے اور باطل کیلئے کیا کرنا چاہیے؟ مولانا نے فرمایا حضرت سیدنا حسینؓ کا جذبہ، ایثار و قربانی کو اللہ تعالیٰ امت میں دوبارہ پیدا فرمایا اور خلافت راشدہ قائم فرمائے۔ مولانا نے فرمایا کہ حضرت حسین ؓ کی شہادت اُمت کے لیے ایک نمونہ اور لائحہ عمل فراہم کرتی ہے۔ شہادت حسینؓ ہر دور کے یزیدیوں کی موت کا اعلان اور اسلام کی زندگی کا ثبوت ہے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا اور حضرت ہی کی دعا سے عظیم الشان ”عظمت صحابہؓ کانفرنس“ کی تیسری نشست اختتام پذیر ہوئی۔


#Press_Release #News #AzmateSahaba #Sahaba #MTIH #TIMS

Friday, 5 August 2022

مسلمان حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت کو اپنائیں اور انہیں نمونۂ عمل بنائیں!

 مسلمان حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت کو اپنائیں اور انہیں نمونۂ عمل بنائیں!



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”عظمت صحابہؓ کانفرنس“ سے مولانا محمد مقصود عمران رشادی کا خطاب!


بنگلور، 05؍ جولائی (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد ہفت روزہ عظیم الشان آن لائن ”عظمت صحابہؓ کانفرنس“ کی دوسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامع مسجد سٹی بنگلور کے امام و خطیب حضرت مولانا ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی صاحب نے فرمایا حضرات صحابہ کرامؓ وہ پاکیزہ اور برگزیدہ لوگ ہیں کہ جنہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے، جن کے ذریعہ سے اسلام کا تعارف کرایاگیا اور رسول اللہؐ کی سیرت طیبہ اور سنت کو عام کیا گیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ ؐ سے براہ راست قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کی اور دنیا کے سامنے اسے صاف و شفاف آئینہ کی طرح پیش کیا جو کہ سورج کی طرح واضح اور روشن ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ تاریخ شاہد ہے کہ اصحابِ رسول ؐنے نہایت خلوص اور دیانت کے ساتھ اپنی ذمہ داری کو نبھایا۔ شریعت اسلامی کے دو بنیادی مآخذ قرآن و حدیث کو یاد کرنے، محفوظ رکھنے، جمع کرنے، لکھنے اور اُن کو عام کرنے کے حوالے سے اصحابِ رسول ؐ کی جو خدمات ہیں وہ اُمت محمدیہ کی روشن تاریخ کا ایک نمایاں باب ہے۔ مولانا رشادی نے فرمایا کہ صحابہ کرامؓ میں اتباع سنت کا ایسا جذبہ تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کے لئے بہت زیادہ دلدادہ اور شوقین تھے، جو عمل حضور پاکؐ نے ایک دفعہ کیا تھا، صحابہ کرامؓ اس عمل کو بھی جاری رکھتے تھے۔ مولانا نے فرمایا کہ حضرات صحابہ کرامؓ کی فضیلت کیلئے یہی بات کافی ہیکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان سے راضی ہونے اور ان کے جنتی ہونے کا اعلان کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ آج بھی اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم بھی دونوں جہاں میں کامیاب ہوں تو ہمیں چاہیے کہ ان پاکیزہ نفوس کی محبت دل میں بساتے ہوئے ان کے حالات و واقعات کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کریں اور دونوں جہاں میں کامیابی کے لیے ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں۔ مولانا رشادی نے فرمایا کہ اس ماہ محرم الحرام میں خاص طور پر نواسۂ رسول حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا جاتا ہے، جنہوں نے اسلام کی سربلندی کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کردیا۔ مولانا نے فرمایا کہ ہم شہداء کربلا کا تذکرہ تو بڑے زور و شور کے ساتھ کرتے ہیں لیکن افسوس کے ہم انکے پیغام پر عمل کرنا نہیں چاہتے۔ مولانا نے فرمایا کہ حضرت حسینؓ نے میدان کربلا میں جنگ کی حالت میں جب نماز کا وقت ہوا تو نماز کو ترک نہیں کیا بلکہ تلوار کے سائے میں نماز کو ادا کرتے ہوئے سجدے میں سر کٹا دیا اور رہتی دنیا تک یہ پیغام دے دیا کہ نماز کسی بھی حال میں چھوڑی نہیں جاسکتی لیکن افسوس کہ آج حضرت حسینؓ سے عقیدت و محبت رکھنے والی امت مسلمہ کا حال یہ ہیکہ انہیں نمازوں کی کوئی فکر نہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ آج ضرورت اس بات کی ہیکہ ہمیں اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین کو، انکی زندگیوں کو، انکی سیرتوں کو اپنی اجتماعی اور انفرادی دونوں زندگی میں نمونہ بنانا ہوگا، اسلام ہمیں اسی کا حکم بھی دیتا ہے اور اسی میں ہماری کامیابی کی بھی ضمانت ہے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا محمد مقصود عمران رشادی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا اور اس اہم عظیم الشان ”عظمت صحابہؓ کانفرنس“ کے انعقاد پر مبارکبادی پیش کی۔


#Press_Release #News #AzmateSahaba #Sahaba #MTIH #TIMS

Wednesday, 3 August 2022

حضرات صحابہ کرامؓ معیار حق ہیں، انکے نقش قدم پر چلنے سے ہی امت مسلمہ کامیاب ہوسکتی ہے!

 حضرات صحابہ کرامؓ معیار حق ہیں، انکے نقش قدم پر چلنے سے ہی امت مسلمہ کامیاب ہوسکتی ہے!



مرکز تحفظ اسلام ہند کے ”عظمت صحابہؓ کانفرنس“ سے مولانا سید احمد ومیض ندوی نقشبندی کا خطاب!


بنگلور، 03؍ اگست (پریس ریلیز) مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ہفت روزہ ”عظمت صحابہؓ کانفرنس“ سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم حیدرآباد کے استاذ حدیث پیر طریقت حضرت مولانا سید احمد ومیض صاحب ندوی نقشبندی مدظلہ نے فرمایا کہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے عقیدت و محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ حضرات صحابہ کرامؓ وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہیں آقائے دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل رہی ہے، اور جنہوں نے دین و شریعت کو نبی رحمت ؐسے حاصل کیا اور بڑی امانت داری کے ساتھ آنے والی نسلوں تک دین کے اس عظیم سرمایہ کو پہنچایا۔ مولانا نے فرمایا کہ آپؐ کی دعوت اور تعلیم و تبلیغ کا کام انجام دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے صحابہؓ کو منتخب فرمایا۔ ان حضرات نے بہت ہی تکلیفیں اٹھائیں اور اسلام کے عقائد اور اصول وفروع کے پھیلانے اور پہنچانے میں جانوں کی بازی لگادی، جو دین انہیں ملا تھا، اسے محفوظ رکھا اور آگے بڑھایا اور عالم میں پھیلایا۔ ساری اُمت پر ان حضرات کا احسان ہے کہ اُمت تک پورا دین پہنچادیا۔ یہ حضرات نبی اکرمؐ کے صحیح نائب بنے۔ علم بھی سکھایا اور عمل کرکے بھی دکھایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص کی قدر دانی فرمائی، ان کی محنتوں کو قبول فرمایا۔ قرآن مجید میں ان کی تعریف فرمائی اور ان سے راضی ہوجانے کی خوشخبری دی اور ان کے بلند درجات سے آگاہ فرمایا۔ مولانا نے فرمایا کہ حضرات صحابہ کرامؓ کی جماعت اس پوری کائنات میں وہ خوش قسمت جماعت ہے جن کی تعلیم وتربیت اور تصفیہ وتزکیہ سرورکائنات ﷺ نے فرمائی۔ قرآن وحدیث میں جابجا ان کے فضائل مناقب بیان کیے گئے، وحی خداوندی نے ان کے تعدیل فرمائی، ان کا تزکیہ کیا، ان کے اخلاص وللہیت کی شہادت دی اور انہیں یہ رتبہ بلند ملا کہ انہیں رسالت محمدی ؐکے عادل گواہوں کی حیثیت سے ساری دنیا کے سامنے پیش کیا۔ حضرات صحابہؓ کے ایمان کو ”معیار حق“ قرار دیتے ہوئے نہ صرف لوگوں کو اس کا نمونہ پیش کرنے کی دعوت دی گئی، بلکہ ان حضرات کے لیے ادب و احترام کی تعلیم دی گئی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ قیامت تک آنے والی پوری نسل انسانی کیلئے صحابہؓ کا ایمان معیارِ حق ہے اور وہ امت تک دین پہنچانے میں واسطے ہیں۔ لہٰذا اگر حضرات صحابہؓ پر سے اعتماد ہٹا دیا جائے تو دین پر بے اعتمادی شروع ہوجائے گی۔ یہی وجہ ہیکہ حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ صحابہؓ کی محبت عین میری محبت ہے، اور ان سے بغض رکھنا براہ راست مجھ سے بغض رکھنا ہے۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ حضرات صحابہؓ امت کے بہت بڑے محسن ہیں، امت انکا کبھی بدلے چکا نہیں سکتی کیونکہ انہوں نے بہت سی قربانیاں دیکر اس دین کی حفاظت کی اور ہم تک اسے پہنچایا۔ مولانا نے فرمایا کہ آج پوری دنیا میں امت مسلمہ اس وجہ سے ناکام ہے کہ ہم نے صحابہؓ کے راستے کو ترک کردیا۔ ہماری زندگی کا مقصد دنیاداری ہوچکی ہے جبکہ صحابہؓ کا مقصد آخرت میں کامیابی کا حصول تھا۔ مولانا نے فرمایا افسوس ہیکہ ہمارے ہر اعمال اس دین و شریعت کے خلاف ہوتے ہیں جسکی حفاظت اصحاب رسولؓ نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے کیا تھا۔ یہی وجہ ہیکہ آج امت در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں اور امت کے اندر بزدلی اس قدر رائج ہوگئی ہے کہ جب ہمارے دین و شریعت پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں تو ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مولانا نقشبندی نے فرمایا کہ آج ہمیں صحابہؓ کی روحیں چیخ چیخ کہ رہی ہیں کہ جس دین کیلئے ہم نے ہر طرح کی قربانیاں دیں آج اس دین کی حفاظت کے بجائے امت دنیاداری کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ دن بہ دن حالات بگڑنے کے باوجود ہم خواب غفلت سے بیدار ہونے کیلئے تیار نہیں۔ صحابہ کرامؓ کی روحیں امت سے چیخ چیخ کر کہ رہی ہیں کہ امت خواب غفلت سے اٹھ کر اسلام کی سربلندی اور حفاظت کیلئے ہمہ وقت تیار رہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ ضرورت اس بات کی ہیکہ ہمارے دلوں میں صحابہؓ کی عظمت کو پیدا کیا جائے اور انہیں صحابہؓ کی روشن تاریخ سے واقف کرائی جائے، گھروں میں بچوں کے درمیان صحابہؓ کی بہادری کے واقعات سنائے جائیں، ان پر امت کے احسانات کو بتائے جائیں۔ اپنی بچیوں کو صحابیاتؓ کے واقعات سنائے جائیں، انہیں بتایا جائے کہ صحابیاتؓ کا دین و اسلام کیلئے کیا کیا قربانیاں ہیں؟ مولانا نے فرمایا کہ جب تک امت حضرات صحابہ کرامؓ کو اپنا رول ماڈل نہیں بناتی تب تک وہ دنیا و آخرت دونوں جگہ کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اور جس دن ہم نے اصحاب رسولؓ کے نقش قدم پر چلنا شروع کردیا تو ان شاء اللہ کامیاب ہمارے قدم چومیں گی۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا سید احمد ومیض ندوی نقشبندی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ ماہ محرم الحرام کا آغاز ہوچکا ہے، اس ماہ مبارک میں حضرات صحابہ کرامؓ اور اہل بیت اطہارؓ کا مبارک تزکرہ بالعموم کیا جاتا ہے۔ مرکز تحفظ اسلام ہند قابل مبارکباد ہے کہ وہ محرم الحرام کی مناسبت سے ہر سال آن لائن عظمت صحابہؓ کانفرنس کا اہتمام کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس مرکز کے ذمہ داران کو بہترین صلہ عطاء فرمائے اور اسکے فیض کو زیادہ سے زیادہ عام فرمائے۔


#Press_Release #News #AzmateSahaba #Sahaba #MTIH #TIMS

Sunday, 31 July 2022

حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین امت کے عظیم محسن، رہنما طبقہ اور رول ماڈل ہیں!

 حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین امت کے عظیم محسن، رہنما طبقہ اور رول ماڈل ہیں!




مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام ہفت روزہ ”عظمت صحابہؓ کانفرنس“، برداران اسلام سے شرکت کی اپیل!


بنگلور، 30؍ جولائی (پریس ریلیز): حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حضرات انبیائے کرام علیہ السلام کے بعد پورے روئے زمین کے سب سے مقدس اور پاکیزہ جماعت ہے۔ اور اس امت محمدیہ کے بھی سب سے برگزیدہ لوگ ہیں، کیوں کہ امام الانبیاء خاتم النبیین جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور ہم نشینی کا انھیں شرف حاصل ہے، بارگاہِ نبوت سے خوشہ چینی کا انھیں خوش نصیب موقع ملا ہے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ حضرات صحابہ کرامؓ حضور اکرم ؐ کی وہ مقدس جماعت ہے، جنہیں اللہ پاک نے اپنے رسول ؐ کی صحبت، نصرت اور اِعانت کے لئے منتخب فرمایا، جنہوں نے حضرت رسول اللہ ؐ اور آپؐ کے لائے ہوئے دین پر نہ صرف ایمان لایا، بلکہ قرآن کو نازل ہوتے ہوئے دیکھا، رسول اللہ ؐ کی زندگی کے تمام پہلوؤں کا عملی طور سے مشاہدہ کیا، آپؐ سے دین کو سیکھا اور وہ اس کے سب سے پہلے پھیلانے والے خوش نصیب افراد ہیں۔ محمد فرقان نے فرمایا کہ صحابہ کرامؓ کی فضیلت و مدح میں قرآن پاک میں جابجا آیات مبارکہ وارد ہیں جن میں ان کے حسن عمل، حسن اخلاق اور حسن ایمان کا تذکرہ ہے اور انہیں دنیا ہی میں مغفرت اور انعامات اخروی کا مژدہ سنا دیا گیا ہے۔ لہٰذا صحابہ کرامؓ سے محبت کرنا اور انکا احترام کرنا، صحابہؓ کے باہمی ظاہری اختلافات میں خاموشی اختیار کرنا اور ہر قسم کی منفی رائی دہی سے اجتناب کرنا، اور یہ عقیدہ رکھنا کہ تمام صحابہ مجتہد ہیں اور اللہ کے یہاں انتہائی معزز اور اجر و ثواب والے ہیں اور ان کی سیرت و کردار کو زبانی و عملی طور پر اپنانا ہر مسلمان پر واجب وضروری ہے۔ محمد فرقان نے فرمایا کہ حضرات صحابہ کرامؓ نوعِ انسانی کے لئے باعث شرف وافتخار ہیں، یہ امت کے محسن،رہنما وقائد اور رول ماڈل ہیں۔ ایسے برگزیدہ لوگوں کی عظمت کو سمجھنے، ان کی فضیلت کو دل و جان سے تسلیم کرنے اور انکے نقش قدم پر چلنے سے ہمیں دونوں جہاں میں کامیاب مل سکتی ہے۔ لہٰذا اسی کے پیش نظر مرکز تحفظ اسلام ہند بتاریخ یکم؍ اگست 2022ء بروز پیر سے ہفت روزہ آن لائن ”عظمت صحابہؓ کانفرنس“ منعقد کرنے جارہی ہے۔ جو روزانہ رات 9:30 بجے مرکز کے آفیشیل یوٹیوب چینل اور فیس بک پیج تحفظ اسلام میڈیا سروس پر براہ راست نشر کیا جائے گا۔ جس سے ملک کے مختلف اکابر علماء کرام بالخصوص سرپرستاں مرکز تحفظ اسلام ہند خطاب فرمائیں گے۔ محمد فرقان نے تمام برادران اسلام سے اپیل کی کہ وہ اس اہم اور عظیم الشان ”عظمت صحابہؓ کانفرنس“ میں شرکت فرماکر اکابرین کے خطابات سے مستفید ہوں اور اسکے پیغام کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی کوشش کریں!


#Press_Release #News #Letter_Head #AzmateSahaba #Sahaba #MTIH #TIMS

Saturday, 30 July 2022

”سیرت خلیفۂ ثانی،امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ“

 ”سیرت خلیفۂ ثانی،امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ“

(یکم محرم الحرام یوم شہادت)



✍️ بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹرمرکز تحفظ اسلام ہند)


 امیر المومنین، خلیفۃ المسلمین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی پیدائش مکۃ المکرمہ میں واقعہ فیل سے تیرہ سال بعد قبیلہ بنو عدی میں خطاب بن نفیل کے گھر ہوئی۔ آپؓ صحابی رسول اور مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد ہیں۔ آپؓ کا شمار عشرے مبشرہ جن کو دنیا میں جنت کی بشارت ملی، ان میں ہوتا ہے۔ حضرت عمر ؓرسول اللہ ؐ کے خسربھی ہیں۔ آپؓ کی صاحبزادی ام المومنین حضرت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما رسول اللہؐ کی ازواج میں سے ایک ہیں۔آپ ؓکا لقب فاروق، کنیت ابو حفص ہے۔ لقب و کنیت دونوں محمدﷺ کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اللہ ؐسے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہؐ مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمرؓ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔


 حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا شمار مکہ کے ان لوگوں میں ہوتا تھا جو پڑھ لکھ سکتے تھے۔ جب حضور ؐ نے پہلے اسلام کی تبلیغ شروع کی تو حضرت عمرؓ اسکے مخالف تھے۔ آپ ؐ کی دعا سے آپؓ نے نبوت کے چھٹے سال ستائیس برس کی عمر میں چالیس مردوں اور گیارہ عورتوں کے بعد مشرف بااسلام ہوئے۔ اسی لئے آپکو مراد رسولؐ کہا جاتا ہے۔”آپؓ کے اسلام لانے پر فرشتوں نے بھی خوشیاں منائی تھیں“ (مستدرک حاکم)۔ ہجرت کے موقعے پر کفار مکہ کے شر سے بچنے کیلئے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپؓ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارا نہیں کیا۔ آپؓ نے تلوار ہاتھ میں لی، کعبہ کا طواف کیا اور کفار کے مجمع کو مخاطب کر کے کہا ’’تم میں سے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی بیوہ ہو جائے، اس کے بچے یتیم ہوجائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھ لے“۔ مگر کسی کافر کی ہمت نہ پڑی کہ آپ کا راستہ روک سکتا۔ رسول اللہ ؐ نے آپؓ کو مخاطب کرتے ہوئے ایک دفعہ ارشاد فرمایا کہ ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، آپ جس راستے پر چلتے ہیں شیطان وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرلیتا ہے“ (مصنف ابن ابی شیبہ)۔ ہجرت کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تمام غزوات میں رسول اللہﷺ کی معیت میں رہے۔


 حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کفر و نفاق کے مقابلہ میں بہت جلال والے تھے اور کفار و منافقین سے شدید نفرت رکھتے تھے۔ ایک دفعہ ایک یہودی و منافق کے مابین حضور ؐ نے یہودی کے حق میں فیصلہ فرمایا مگر منافق نہ مانا اور آپؓ سے فیصلہ کیلئے کہا۔ آپؓ کو جب علم ہوا کہ نبیؐ کے فیصلہ کے بعد یہ آپ سے فیصلہ کروانے آیا ہے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کر کے فرمایا جو میرے نبیؐ کا فیصلہ نہیں مانتا میرے پاس اس کا یہی فیصلہ ہے۔ کئی مواقع پر نبی کریمؐ کے مشورہ مانگنے پر جو مشورہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے دیا قرآن کریم کی آیات مبارکہ اس کی تائید میں نازل ہوئیں۔


 حضرت عمر فاروقؓ باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران تھے۔ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا۔ حضرت عمرؓ حق و صداقت کے علمبردار تھے۔ امیر المومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے وقت وصال امت کی زمام آپؓ ہی کے سپرد کی تھی، 22؍ جمادی الثانی 13؍ ھجری کو آپ مسند نشین خلافت ہوئے۔آپؓ کے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے۔ آپ ہی کہ دور خلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آگیا۔آپؓ نے 22؍ لاکھ مربع میل کے رقبے پر اسلام کا جھنڈا لہرایا اور قبلہ اول بیت المقدس کی شاندار فتح کا سہرا بھی آپ کے سر ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓنے جس مہارت، شجاعت اور عسکری صلاحیت سے ساسانی سلطنت کی مکمل شہنشاہیت کو دو سال سے بھی کم عرصہ میں زیر کر لیا، نیز اپنی سلطنت و حدود سلطنت کا انتظام، رعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت اور دیگر امور سلطنت کو جس خوش اسلوبی اور مہارت و ذمہ داری کے ساتھ نبھایا وہ ان کی عبقریت کی دلیل ہے۔ آپؓ کا دور خلافت عدل و انصاف کا درخشندہ باب اور مثالی دور ہے نیز بہت مبارک اور اشاعت و اظہار اسلام کا باعث تھا۔ آپؓ ہی نے تقویم اسلامی (اسلامی کیلنڈر) کی ابتداء ہجرت مدینہ کی بنیاد پر یکم محرم الحرام سے کروائی۔ مفتوحہ علاقوں میں 900؍ جامع مساجد اور 4000؍ عام مساجد تعمیر کروا کر اس میں تعلیم و تدریس کا انتظام کروایا، جب کہ حرمین شریفین کی توسیع بھی آپؓ کے دور خلافت میں ہوئی۔تاریخ کی سب سے پہلی مردم شماری، کرنسی سکہ کا اجراء، مہمان خانوں (سرائے) کی تعمیر، لاوارث بچوں کی خوراک، تعلیم و تربیت کا انتظام اور وطائف کا اجراء دور فاروقی میں کیا گیا۔ آپؓ کا مقام و مرتبہ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ ”میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتے تو عمر بن خطاب ہوتے۔“ (ترمذی شریف)


 27؍ ذی الحجہ سن 23ھ بروز بدھ کو مسجد نبوی میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فجر کی نماز کی امامت کررہے تھے۔ نماز کے دوران ابو لؤلؤفیروز نامی بدبخت مجوسی غلام نے زہر آلود خنجر سے آپؓ کے جسم مبارک پر تین چار وار کئے۔ جس کی وجہ سے حضرت عمرؓ زخمی ہوکر گر پڑے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی۔ آپؓ کو بے ہوشی کے حالات میں گھر لایا گیا۔ ہوش آنے پر آپکو جب یہ بتایا گیا کہ حملہ آور مجوسی تھا تو آپؓ نے اس بات پر اللہ کا شکریہ ادا کیا کہ حملہ آور مسلمان نہیں تھا۔ آپؓ کے علاج کے باوجود افاقہ نہیں ہو رہا تھا،اس دوران اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاکر کہیں کہ ”عمر کی خواہش ہے کہ انہیں اپنے رفقا ء کے جوار میں دفن ہونے کی اجازت دے دی جائے“۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا پیغام سننے کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ”بخدا یہ جگہ میں نے اپنے لیے منتخب کرلی تھی، لیکن آج کے دن میں یہ قربان کئے دیتی ہوں۔“ تین دن کرب میں گزارنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے یکم محرم الحرام سن 24ھ جام شہادت نوش فرماگئے۔آپؓ کی نماز جنازہ حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ (المنتظم) روضۂ نبوی میں خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلیفۂ اول حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پہلو میں حضرت سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک بنائی گئی۔ اور یوں عدل و انصاف کا آفتاب ومہتاب غروب ہو گیا۔ یہ مشیعت خداوندی ہی ہے کہ اسلامی سال کی ابتداء ہی شہادت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ہوتی ہے اور پھر مرقد رسول اللہؐ کے سرہانے تاقیامت استراحت کیلئے دو گز جگہ بھی عطا فر مادی گئی۔ قیامت تک جو بھی مسلمان روضہئ اقدس میں سلامی کیلئے حاضر خدمت ہوگا وہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر سلام بھیجے بغیر آگے نہ بڑھ سکے گا۔ دشمنان صحابہ کا منہ بند کرنے کیلئے یہ ایک اعزاز خداوندی ہی کافی ہے۔


فقط و السلام

بندہ محمد فرقان عفی عنہ*

یکم محرم الحرام ١٤٤٤ھ

30؍ جولائی 2022ء


+91 8495087865

mdfurqan7865@gmail.com


______________


*ابن مولانا محمد ریاض الدین مظاہری

ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند

سوشل میڈیا انچارج جمعیۃ علماء کرناٹک

صدر مجلس احرار اسلام بنگلور

رکن عاملہ جمعیۃ علماء بنگلور


#PaighameFurqan 

#پیغام_فرقان 

#Mazmoon #Article #UmarFarooq #Umar #HazratUmar #CaliphOfIslam #HazratUmarFarooq