Wednesday, 7 June 2023

اڑیسہ میں ہولناک ٹرین حادثے سے ہزاروں افراد متاثر، ریلیف کیلئے جمعیۃ علماء ہند میدان عمل میں سرگرم!

 اڑیسہ میں ہولناک ٹرین حادثے سے ہزاروں افراد متاثر، ریلیف کیلئے جمعیۃ علماء ہند میدان عمل میں سرگرم!






جمعیۃ علماء کرناٹک متاثرین کے ساتھ برابر کھڑی ہے اور انکی راحت رسانی کیلئے ابتدائی امداد پہنچائی جاچکی ہے!


بنگلور، 07؍ جون (پریس ریلیز): اڑیسہ کے بالاسور میں ہولناک ٹرین حادثے میں کئی لوگ جان بحق ہوگئے اور ہزاروں مسافر اس وقت ہاسپٹل میں زیر علاج ہیں، اس موقع پر جمعیۃ علماء کرناٹک نے ٹرین حادثہ پر شدید دکھ و تکلیف کا اظہار کرتے ہوئے اس میں جان بحق ہونے والے مسافروں کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی۔ جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر مولانا عبد الرحیم رشیدی اور جنرل سکریٹری محب اللہ خان امین نے فرمایا کہ ٹرین حادثے کے فوراً بعد سے ہی امیر الہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب مدظلہ کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند اور ریاستی جمعیۃ علماء اڑیسہ میدان عمل میں سرگرم ہے اور زخمیوں کے علاج و معلاج، کھانے پینے کا انتظام اور دیگر راحت رسانی کا کام سرانجام دے رہی ہے۔ اسی ضمن میں جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا مفتی سید معصوم ثاقب قاسمی مدظلہ نے ریاستی جمعیۃ کے ذمہ داران کے ساتھ مقام واردات پر پہنچ کر ہر ممکن تعاون پیش کرتے ہوئے ریلیف کے کام کا جائزہ لیا۔ لیکن افسوس یہ ہیکہ مستقل مرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، کیونکہ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد تکلیف دہ واقعہ ہے جس میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ جمعیۃ علماء اڑیسہ کے اراکین مستقل ریلیف کے کام میں مصروف ہیں، زخمیوں کے علاج و معلاج، متاثرین کی امداد و راحت رسانی کے ساتھ ساتھ انکے متعلقین جو مختلف مقامات سے وہاں پہنچ رہے ہیں ان کے لیے کھانے پینے کا نظم کررہے ہیں۔ اسی کے ساتھ متاثرین کو اپنے مقامات پر پہنچانے کیلئے ان کی مدد کی جارہی ہے۔ جبکہ جو مسلم حضرات ہیں ان کی تجہیز وتکفین کا بھی اہتمام اور اس کی ضروریات کی تکمیل کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں ابتدائی امداد کے طور پر جمعیۃ علماء کرناٹک کی جانب سے جمعیۃ علماء اڑیسہ کے ذمہ داروں کو متاثرین کی امداد و راحت رسانی کیلئے رقم بھیجی جا چکی ہے۔ اور آئندہ بھی بقدر ضرورت ہر ممکن تعاون پیش کرے گی۔ اس درد و غم کے موقع پر جمعیۃ علماء کرناٹک کی متاثرین کے ساتھ برابر شریک ہے اور حکومت سے حادثے کے اسباب سے متعلق ایماندارانہ انکوائری کراکر مناسب کارروائی کی اپیل بھی کرتی ہے۔


(تصویر:  ۱۔ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا مفتی سید معصوم ثاقب قاسمی جمعیۃ ریلیف کیمپ میں متاثرین اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے۔  ۲۔ جمعیۃ علماء کے ریلیف کیمپ میں اراکین ِجمعیۃ متاثرین کے درمیان کھانا تقسیم کرتے ہوئے۔  ۳۔ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا مفتی سید معصوم ثاقب قاسمی جمعیۃ علماء اڑیسہ کے اراکین کے ساتھ ہاسپتال میں زخمیوں کی عیادت کرتے ہوئے۔)

Monday, 5 June 2023

شیخ طریقت حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی کی خدمات ناقابل فراموش!

 شیخ طریقت حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی کی خدمات ناقابل فراموش! 

مرکز تحفظ اسلام ہند نے مولانا رحمانی کی خدمات پر پیش کی تہنیت!




 بنگلور، 05؍ جون (پریس ریلیز): گزشتہ دنوں مرکز تحفظ اسلام ہند کے پانچ رکنی ایک وفد نے مالیگاؤں کا دورہ کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری شیخ طریقت حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب دامت برکاتہم سے خصوصی ملاقات کی اور انکی بے لوث خدمات پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے انکی شال پوشی کی اور انکی خدمت میں ایک سپاس نامہ بھی پیش کیا۔ وفد میں مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان صاحب، آرگنائزر حافظ محمد حیات خان، اراکین محمد فیض، محمد حفظ اللہ اور محمد سلیم پاشاہ وغیرہ خصوصی طور پر شامل تھے۔ اس موقع پر مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کی خدمات کو سراہتے ہوئے فرمایاکہ حضرت کی شخصیت ملک ہندوستان میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے، جب بھی وعظ و خطابت، ارشاد و اصلاح، بیعت و سلوک، اور تصنیفات و تالیفات کا تذکرہ ہوتا ہے تو اس تذکرہ میں حضرت کا نام سرفہرست ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا رحمانی ہند و بیرون ہند کی ایک ممتاز وبافیض شخصیت، علم عمل کے مجمع البحرین، فضل و کمال کے حامل، علم و فن کے ماہر، ملک و ملت کے مقبول خادم اور ملت اسلامیہ ہندیہ کے عظیم رہنما و قائد ہیں۔ انکی ذات گرامی فکرو نظر، علم وعمل اور فضل و کمال کا ایک حسین سنگم ہے۔ وہ سادہ مزاجی، تصنع وتکلف سے بری اور اخلاق و عادات میں اسلاف کے سچے جانشین ہیں۔ نیز انکی خوش الحانی اور سحر آفریں خطابت اور دلآویز مواعظ جس طرح سامعین کے کانوں میں رس گھو لتے ہیں اسی طرح دلوں پر بھی اپنی اثر انگیزی کا رنگ دکھاتے ہیں۔ محمد فرقان نے فرمایا کہ اسی طرح شیخ طریقت مولانا رحمانی تصوف و سلوک کے ذریعہ بھی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انکے فیوض بیعت و صحبت اور ان سے تعلق کی برکت سے ہزاروں انسانوں کو ہدایت میسر آئی ہے، بے شمار لوگوں کو انکی برکات سے فیضیاب ہونے کا موقع میسر آیا اور سینکڑوں لوگوں کو دین برحق کی رہنمائی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا نے جہاں وعظ و نصیحت، خط و خطابت اور تصوف و سلوک کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دئے ہے وہیں دینی، ملی، سماجی اور صحافتی میدان میں بھی انکی خدمات آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ انکی ہمہ جہت خدمات حیات انسانی کے مختلف گوشوں سے متعلق ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب مختلف اداروں بالخصوص آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور خانقاہ رحمانیہ مالیگاؤں کے ذریعے جو خدمات انجام دے رہے ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں، نیز مرکز تحفظ اسلام ہند جو انہیں کی سرپرستی اور نگرانی میں بڑی ہی اہم نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے، یہ انہیں کی دعاؤں اور سرپرستانہ رہنمائی کا نتیجہ ہے جو خود اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ اور بفضل باری تعالیٰ انکی ان اہم اور نمایاں خدمات سے نہ صرف ملت اسلامیہ ہندیہ بلکہ پورا عالم اسلام مستفیض ہورہا ہے۔ مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے فرمایا کہ شیخ طریقت حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کی ان نمایاں خدمات پر مرکز تحفظ اسلام ہند انکو مبارکباد پیش کرتے ہوئے دعا گو ہیکہ اللہ تعالیٰ انکے سایۂ عافیت اور شفقت کو ملت اسلامیہ پر خصوصا اور عالم انسانی پر عموماً دراز فرمائے اور انکے علوم و معرفت اور فیوض و برکات کو ملک و عالم میں عام وتام فرمائے، آمین۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے وفد نے مرکز کے تنظیمی معاملات اور اسی طرح ملکی، ملی اور سماجی مسائل پر حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کے قیمتی مشوروں سے استفادہ حاصل کیا، جہاں حضرت کے خادم خاص محمد عذیر رحمانی بھی بطور خاص شریک تھے۔





#Press_Release #News #UmrainRahmani #Tahniyat #MarkazTahniyat #MTIH #TIMS

Thursday, 23 March 2023

رمضان المبارک تقوی کے حصول کا بہترین ذریعہ، ماہ مبارک کے قیمتی اوقات عبادت و ریاضت میں گزاریں!

رمضان المبارک تقوی کے حصول کا بہترین ذریعہ، ماہ مبارک کے قیمتی اوقات عبادت و ریاضت میں گزاریں!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے جلسہ استقبال رمضان سے مفتی افتخار احمد قاسمی کا خطاب!



بنگلور، 22؍ مارچ (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد جلسہ استقبال رمضان سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر عالی قدر خادم القرآن حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ رمضان المبارک کا مہینہ اللہ تعالیٰ کی بڑی عظیم نعمت ہے۔ اللہ کے باتوفیق بندے ہی اس قدر جانتے ہیں اور اس کے انوار وبرکات سے پورے طور پر مستفید ہوتے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک سے دو ماہ قبل ماہ رجب سے ہی رمضان المبارک کے مقدس مہینہ کا انتظار کیا کرتے تھے۔ مولانا نے فرمایا کہ ماہ رمضان المبارک برکتوں والا مہینہ ہے اور اس ماہ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مقدس کا نزول اسی پاک مہینے میں ہوا۔ انہوں نے فرمایا کہ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرہ عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا ہے۔ اس مہینے میں شیاطین قید میں جکڑے لے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ نے روزوں کو فرض اور تراویح کو سنت قرار دیا ہے۔ اور اس مہینے کے روزے رکھنے والے کو اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں میں شمار کرتا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ آپ بھوکا پیٹ رہیں گے۔ بلکہ رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کا اصل مقصد تقویٰ کا حصول ہے یعنی آپ متقی و پرہیز گار بن جائیں، اللہ تعالیٰ کی یاد میں اپنی زندگی بسر کریں اور اپنی زندگی میں غلطیوں کو سدھارنے کی کوشش کریں۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ رمضان المبارک امت مسلمہ کے لئے نیکیوں کی فصل بہار ہے۔ اس ماہ مبارک میں ایک نیکی کا ثواب ستر گنا زیادہ ملتا ہے۔ لہٰذا ہمیں انتہائی ذوق و شوق اور اہتمام کے ساتھ رمضان المبارک کا استقبال کرنا چاہیے۔ پورے ماہ کے روزے نہایت ذوق و شوق اور اہتمام کے ساتھ رکھیں۔ نیز اس ماہ رمضان میں عبادات اور اعمال صالحہ کا خصوصی اہتمام کریں۔ فرائض کے علاوہ نوافل بھی کثرت سے ادا کریں۔ کیونکہ اس مہینے میں نفلی عبادات عام مہینوں کے فرض عبادت کے برابر ہوتی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اس مقدس مہینے میں قرآن مجید کی تلاوت کثرت سے کریں کیونکہ یہ مبارک مہینہ قرآن مجید سے خصوصی تعلق اور نسبت رکھتا ہے۔ نیز اس ماہ مبارک میں جتنا ہوسکے صدقہ اور خیرات کریں۔ غریبوں، بیواؤں، یتیموں اور بے کسوں کی خبر گیری کریں۔ ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کریں۔ اسکے علاوہ تراویح کی نماز خشوع و خضوع اور ذوق و شوق کے ساتھ پڑھیں اور پورا قرآن مجید پڑھنے اور سننے کا اہتمام کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کی قربت اور اس کی رضا حاصل ہو۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کریں اور اس کی طاق راتوں میں شب قدر کو پانے کی کوشش کریں اور ان طاق راتوں میں زیادہ سے زیادہ عبادت کریں۔ تلاوت و تسبیح، توبہ و استغفار اور دعا کا اہتمام کریں۔ کیونکہ شب قدر کی ایک رات ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ رمضان المبارک کے ماہ مقدس میں زیادہ سے زیادہ نیکی کمانے پر کمربستہ ہو جائیں اور کوئی ایسا کام ہرگز نہ کریں جس سے رمضان کا تقدس مجروح ہو۔ اللہ تعالیٰ پوری امت مسلمہ کو رمضان المبارک کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا اور مفتی صاحب کی دعا سے استقبال رمضان کا یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔


#Press_Release #News #Ramzan #IstaqbaleRamzan #Ramadhan

مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام ”سلسلہ تفسیر قرآن“ کا آغاز!

 مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام ”سلسلہ تفسیر قرآن“ کا آغاز!

مفسر قرآن مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی عام فہم انداز میں قرآن مجید کی تفسیر بیان فرمائیں گے!




بنگلور، 23؍ مارچ (پریس ریلیز): ماہ رمضان برکتوں والا مہینہ ہے اور اس ماہ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مقدس کا نزول اسی پاک مہینے میں ہوا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے رمضان المبارک کی ہی ایک بابرکت رات میں لوح محفوظ سے سماء دنیا پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اس کے بعد حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا رہا۔ قرآن مجید کے سورۃ البقرہ میں ایک جگہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ”رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اُتارا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں۔“ تو معلوم ہوا کہ رمضان سے قرآن مجید کا تعلق بہت گہرا ہے۔ لہٰذا ہمیں رمضان کے اوقات وساعات کی قدر کرتے ہوئے، روزہ کے ساتھ ساتھ تلاوت قرآن مجید میں مصروف رہنا چاہیے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا۔ انہوں نے ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ رمضان اور قرآن مجید ایک دوسرے سے اس طرح مربوط ہیں کہ یہ دونوں قیامت کے دن روزہ رکھنے والوں اور تلاوت کرنے والوں کے حق میں سفارش بھی کریں گے۔ محمد فرقان نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، اصحاب رسول اور ہمارے اسلاف رمضان المبارک میں تلاوتِ قرآن کا شغل نسبتاً زیادہ رکھتے تھے۔ اور اس میں شک نہیں کہ کلام پاک کی تلاوت اللہ تعالیٰ کو بے حد محبوب ہے اور اسکا پڑھنا اور سننا دونوں کارِثواب ہے۔ اس کی ایک ایک آیت پر اجر و ثواب کا وعدہ ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کا فہم، اس میں غو رو تدبر اور اس پر عمل پیرا ہونا نہایت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہیکہ ہمارے اکابر و اسلاف علماء دیوبند کا یہ معمول رہا ہیکہ وہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں جہاں فضائل و مسائل رمضان بیان فرماتے تھے وہیں درس قرآن و حدیث بالخصوص تفسیر قرآن کا اہتمام کیا کرتے تھے تاکہ امت مسلمہ قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھ سکے۔ اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے حسب معمول امسال بھی مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے رمضان المبارک کی بابرکت راتوں میں آن لائن ”سلسلہ تفسیر قرآن“ کا آغاز کیا جارہا ہے۔ مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے اس پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے فرمایا کہ رمضان المبارک کی بابرکت راتوں میں روزانہ بعد نماز تراویح ٹھیک رات ساڑھے دس بجے سے ”سلسلہ تفسیر قرآن“ کی مجلس منعقد ہوگی، جس میں مرکز تحفظ اسلام ہند سرپرست اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری شیخ طریقت، مفسر قرآن حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب مدظلہ (خلیفۂ اجل امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب رحمہ اللہ) عام فہم انداز میں قرآن مجید کی تفسیر بیان فرمائیں گے۔ جو مرکز تحفظ اسلام ہند کے آفیشیل یوٹیوب چینل اور فیس بک پیج تحفظ اسلام میڈیا سروس پر براہ راست نشر کیا جائے گا۔ لہٰذا تمام اہلیان اسلام سے کثیر تعداد میں شرکت کی اپیل ہے۔

نوٹ : تفسیر قرآن کو مذکورہ لنک پر براہ راست لائیو دیکھیں👇

https://youtube.com/c/TahaffuzeIslamMediaService



#Press_Release #News #TafseerQuran #TafseerQuranSeries #RamzanSeries #UmrainRahmani #MTIH #TIMS

Sunday, 12 March 2023

شہر بنگلورو کے اہل مساجد اور سفراء کرام سے حضرت مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب کی چند گزارشات!

 شہر بنگلورو کے اہل مساجد اور سفراء کرام سے حضرت مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب کی چند گزارشات!




رمضان کا مبارک مہینہ عنقریب شروع ہو رہا ہے۔ اس مبارک مہینے میں ملک بھر کے سفراء اپنے اپنے مدارس کا چندہ اکٹھا کرنے بنگلور کا رخ کرتے ہیں۔ سال گزشتہ میں ہوئے چند تلخ تجربات کی بنیاد پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر خادم القرآن حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب دامت برکاتہم نے اہل مساجد اور سفرائے کرام کو چند ضروری ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے ملک بھر سے آنے والے سفرائے کرام کا شہریان بنگلور کی طرف سے استقبال کرتے ہوئے کہا کہ آپ ان دینی مدارس کے نمائندے ہیں، جن کو مسلم سماج میں اسلام کے قلعے قرار دیا جاتا ہے۔ ان مدارس کو بڑی عظمت اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اہل مدارس کے لئے رمضان المبارک کا مہینہ بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ مدارس کے بجٹ کا بہت بڑا حصہ رمضان المبارک کے چندہ سے پورا ہوتا ہے۔ لہٰذا مقامی احباب اور ذمہ دارانِ مساجد اور عمائدین کے لئے یہ ضروری ہے کہ سفرائے کرام کا استقبال کریں اور ان کا ہر ممکن تعاون بھی کریں۔ اس ضمن میں:


(1) ذمہ دارانِ مساجد سے گزارش ہے کہ وہ اپنی اپنی مسجد میں اعلان دینے کی تاریخ پہلے ہی سے طے کر کے اس کی تشہیر کر دیں۔ آپ کی مسجد میں کتنے اعلانات کی اجازت دی جا سکتی ہے، اس حساب سے آپ مدارس کا معیار طے کریں۔ اس معیار پر اترنے والے مدارس کے دستاویزات کا مطالعہ کر کے اعلان کی اجازت مرحمت فرمادیں۔


(2) سفرائے کرام سے گزارش ہے کہ ان کے ساتھ اپنے اداروں کی نسبت ہے۔ متعلقہ ادارہ کے نمائندہ کی غلط حرکت کا اثر براہ راست ادارہ اور ادارے کے ذمہ داروں پر پڑتا ہے۔ لہٰذا کسی بھی قسم کی غیر شرعی حرکت سے مکمل پر ہیز کریں اور ادارہ کے وقار کو مجروح ہونے نہ دیں۔


(3) سفرائے کرام کا یہ مذہبی اور اخلاقی فریضہ ہے کہ جب مساجد میں اعلان کی اجازت دینے کیلئے بلائیں تو اس موقع پر زور زبردستی اور طاقت کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ سنجیدگی اور وقار کو ملحوظ رکھیں۔ گروپ بندی کے ذریعہ دوسروں پر حاوی ہونے اور غالب آنے کی کوشش ہر گز نہ کریں۔ اسی طرح کسی مسجد میں اعلان نہ ملنے کی صورت میں ذمہ داروں سے نہ الجھیں اور نہ ہی انہیں برا بھلا کہیں، بلکہ اپنا مقدر سمجھ کر دوسری جگہ کوشش میں لگ جائیں۔


(4) یہ شکایت مستقل سننے میں آرہی ہے کہ چند سفراء، روزہ ترک کر دیتے ہیں، نمازوں اور جماعت کے اہتمام میں غفلت برتتے ہیں، تراویح کا تو اہتمام ہی نہیں کرتے۔ اسی طرح جہاں مجموعی قیام اور طعام کا نظم ہوتا ہے ان منتظمین کے احسان مند اور انکے شکر گزار ہیں۔ وہاں کے اصولوں اور شرائط و ضوابط کی پابندی کریں۔ پاکی صفائی کا خاص خیال رکھیں اور واپسی کے موقع پر ذمہ داروں کے شکریہ کا اہتمام کریں۔


(5) اس کے علاوہ راتوں میں محلوں، گلیوں میں گھومنے پھرنے سے پر ہیز کریں۔ گزشتہ سالوں میں ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں کہ سفرائے کرام کو گھیر کر رسید بکس سمیت ان سے ساری رقم چھین لی گئی ہیں۔ خدانخواستہ اگر پولیس روک کر تحقیق کرے تو اپنی شناخت کے مکمل دستاویزات اپنے پاس ہونا لازمی ہے۔


(6) سفراء کرام اگر شہر میں دو پہیوں والی گاڑی استعمال کر رہے ہیں تو ٹرافک قوانین کا پورا لحاظ رکھتے ہوئے سواری کا استعمال کریں۔


(7) بعض جگہ سے یہ شکایت بھی ملی ہیکہ رسید لکھنے کے موقع پر نیچے کاربن نہیں ہوتا، لہٰذا رسید لکھنے سے قبل رسید کے نیچے کاربن دیکھ لیا کریں۔خدانخواستہ غلطی یا بھول سے بھی ایسا ہوجائے تو سامنے والے کی غلط فہمی دور کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔


(8) اسی طرح بعض جگہ چادر میں رقم شمار کرنے سے پہلے کچھ رقم اخراجات کے نام پر اٹھا لی جاتی ہے جو بلکل غلط ہے، لہٰذا کل رقم جوڑ کر ہی رسید کاٹی جائے۔


(9) اسی طرح بعض سفراء حضرات دوسروں کے تصدیق ناموں میں کتربیونت کرکے کانٹ چھانٹ کر اسکا غلط استعمال کرتے ہیں اور وہ بھی پکڑے جاتے ہیں، ایسے موقع پر ذمہ داران مساجد کو مطمئن کرنا بہت مشکل ہوتا ہے- نیز تصدیق ناموں کے غلط استعمال پر قانون چارہ جوئی بھی ہوسکتی ہے۔ لہٰذا سفراء کرام ان تمام باتوں کا خاص خیال رکھیں۔


(10) آن لائن اسکینر (Scanner) سے رقم دینے والے احباب سب سے پہلے یہ معلوم کرلیں کہ اسکینر ادارے کے نام پر ہے یا کسی شخص کے نام پر ہے۔ نیز رقم ادا کرنے کے بعد اسکرین شاٹ دیکھا کر اسکی رسید ضرور حاصل کریں۔


( نوٹ: اہل مساجد سے گزارش ہیکہ اسکا ”A3 ساہز“ میں پرنٹ نکال کر مساجد کے نوٹس بورڈ پر آویزاں کریں۔)

(Note : Ahle Masajid Se Guzarish Hai Ke Iska “A3 Size” Main Printout Nikal Ka Masajid Ke Notice Board Per Lagayain)


المشتھر : مرکز تحفظ اسلام ہند