Tuesday, 21 November 2023

مسجد اقصیٰ کی حفاظت پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے، امت مسلمہ اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں!

 مسجد اقصیٰ کی حفاظت پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے، امت مسلمہ اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ سے مولانا محمد ارشد علی قاسمی کا خطاب!



بنگلور، 20؍ نومبر(پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی ساتویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے مجلس تحفظ ختم نبوت تلنگانہ و آندھراپردیش کے سکریٹری مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا محمد ارشد علی قاسمی صاحب مدظلہ نے فرمایا گزشتہ ایک مہینے سے فلسطین اور غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت اور وحشیانہ حملوں سے دل بہت غمگین ہے۔ پچھلے پچھتر سالوں سے مسجد اقصٰی مسلمانوں کی طرف دیکھ رہی ہے، وہ پکار کر کہ رہی ہیکہ کہ میں تو اللہ کے بھیجے ہوئے انبیاء علیہم السلام کی سرزمین ہوں، میرے گرد و نواح میں کئی برگزیدہ انبیاء کرام کی مقدس قبریں ہیں، میرے یہاں سے آنحضور ﷺ معراج کے سفر پر روانہ ہوئے، میری مقدس سرزمین پر امام الانبیاء ؐنے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام کی امامت فرمائی، میں پوری امت کا قبلۂ اول ہوں، لیکن آج میں بیت المقدس، مسجد اقصیٰ خون کے آنسو بہارہی ہوں۔ یہودی صلیبی مجھے شہید کرنا چاہتے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ آج مسجد اقصٰی ہماری منتظر ہے لیکن ہم لوگوں کچھ نہیں کرپارہے۔ آج جن امت مسلمہ کے حکمرانوں نے ان ناپاک اسرائیلی یہودیوں سے اس مقدس سرزمین کو آزاد کروانا تھا۔ وہ ان کے ساتھ ہاتھ ملارہے ہیں، معاہدے کررہے ہیں، انکو تسلیم کررہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ مسجد اقصیٰ کی حرمت و تقدس کو پائے حقارت سے روندا جارہا ہے، اسکے محافظ اہل فلسطین و غزہ کو شہید کیا جارہا ہے اور پوری امت مسلمہ غفلت کی نیند سو رہی ہے۔ بے دست و پا نہتے فلسطینی اکیلے بیت المقدس کی بازیابی کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں اور سر پہ کفن باندھ کر صہیونیوں کے خلاف میدان جنگ میں ڈٹے ہوئے ہیں، وہ اپنے وجود اور اپنے تشخص کی بقا اور مسجد اقصٰی کی حفاظت کے لیے صہیونیوں سے دست و گریباں ہیں، ہر دن فلسطینیوں کے قتل ہورہا ہے اور خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں، مگر دنیا کے نقشے پر موجود کروڑوں کی تعداد میں کلمہ توحید پڑھنے والے ان کے ساتھ اسلامی اخوت کی بنیاد پر تعاون کرنے کو تیار نہیں۔ حالاں کہ مسلمانوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مسجد اقصی صرف گنبد و مینار پر مبنی ایک مسجد نہیں، بلکہ وہ اسلام اور مسلمانوں کا ایک نشان ہے، ان کی اسلامی میراث ہے، اسلامی تشخص کی ایک واضح علامت ہے، اس کی حفاظت ہمارا اسلامی اور مذہبی فریضہ ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اسرائیل مسلسل فلسطین اور غزہ میں ظلم و بربریت کا ننگا ناچ ناچ رہا ہے مگر تمام نام نہاد انسانیت دوست ممالک، حقوق انسانی کی محافظ تنظیمیں اور مظلوموں کے علم بردار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے اس رویے سے یہ یہ ثابت کررہے ہیں کہ انکے نزدیک مسلمانوں کے خون کی کوئی قیمت نہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے اسرائیل کے وحشیانہ مظالم پر مغربی مین اسٹریم میڈیا کی یکطرفہ رپورٹنگ جو متعصبانہ طور پر صیہونی غاصبوں کی طرف داری ہے قابل افسوسناک ہے۔ جو اسرائیل غاصب ہے اور نہتوں پر ظلم و ستم ڈھا رہا ہے اسے مظلوم بتارہے ہیں اور جو فلسطین حقیقت میں مظلوم ہے اور اپنی حفاظت کررہے ہیں انہیں یہ ظالم دیکھا رہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ جس طرح مغربی میڈیا اسرائیلی بربریت اور فلسطینیوں کے بے رحمانہ قتلِ عام کی حمایت کررہی ہے، اس سے ان کی سوچ کا اندازہ ہورہا ہے، گزشتہ پچھتر سالوں سے فلسطین پر جو ظلم ہورہا ہے اور غزہ جو ایک کھلی جیل کہ طرح ہے وہ ان لوگوں کو کیوں نظر نہیں آرہا ؟ یہ درحقیقت انصاف اور انسانیت کے قاتل ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ یہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے، انبیاء علیہم السلام کا مسکن و مدفن ہے، اسکی حفاظت پوری امت مسلمہ کی مشترکہ اور بنیادی ذمہ داری ہے، اور مسئلہ فلسطین پوری ملت اسلامیہ کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ فلسطین کے حالات کی وجہ سے ہر انصاف پسند،صاف دل اور زندہ ضمیر رکھنے والا شخص رنجیدہ ہے۔ غزہ کے لاکھوں بے قصور عوام پر قیامت ٹوٹ رہی ہے، ہر طرف انسانی نعشوں کا دل دہلانے والا منظر ہے، جس سے پوری دنیا بالخصوص پورا عالم اسلام بے چینی کا شکار ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ایسے حالات میں جب اہل فلسطین اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے تنہ تنہا بہت المقدس کی حفاظت کررہے ہیں، ایسے میں ہماری ذمہ داری ہیکہ ہم اہل فلسطین کی مدد کریں، ان کے حق میں دعائیں کریں کیونکہ دعا مومن کا ہتھیار اور طاقت ہے، قنوت نازلہ کا اہتمام کریں، علماء و ائمہ اپنی تقریر و تحریر میں ارضِ فلسطین کو موضوع سخن بنائیں۔ مولانا نے فرمایا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے پاس اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا ایک مؤثر ہتھیار اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ ہے، اس وقت دنیا بھر میں اسرائیلی کمپنیاں پھیلی ہوئی ہیں، جن کی آمدنی سے قوت پا کر اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم ڈھاتا ہے، اگر ساری دنیا کے مسلمان اسرائیلی مصنوعات کا استعمال ترک کر دیں، تو اسرائیل زبردست معاشی بحران کا شکار ہو سکتا ہے، اور یہ اسرائیلی مصنوعات سے اعتراض کرنا اسرائیل کو فلسطین کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے لیے مجبور کرنے کا ایک مؤثر ہتھیار ہے، موجودہ دور میں مصنوعات کا بائیکاٹ نہایت موثر طریقہ کار ہے، جسے اپنا کر ہم دشمنان اسلام کو مجبور کر سکتے ہیں لیکن ہم مسلمانوں کی صورتحال انتہائی افسوسناک ہے، مسلمانوں کی اکثریت غفلت کا شکار ہے انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ روز مرہ کی اشیاء کس کمپنی کی ہیں، انہیں محض اپنی ضروریات کی تکمیل چاہیے حالانکہ جتنی اسرائیلی استعمالی اشیاء بازار میں عام ہیں ان کے متبادل بھی دستیاب ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء دانشوران اور مختلف تنظیموں کے کارکنان کے ذریعے اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی باقاعدہ مہم چلائی جائے، اور اگر ہم مسجد اقصٰی سے عقیدت رکھتے ہیں اور فلسطین و غزہ کے ساتھ کھڑے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم اسرائیلی مصنوعات کا مکمل طور پر بائیکاٹ کریں۔ قابل ذکر ہیکہ یہ عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی ساتویں نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور رکن شوریٰ قاری محمد عمران کے نعتیہ کلام سے ہوا۔ جبکہ مرکز کے رکن محمد شبلی بطور خاص موجود تھے۔ اس موقع پر حضرت مولانا محمد ارشد علی صاحب قاسمی مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے صدر اجلاس اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اور صدر اجلاس حضرت مولانا محمد ارشد علی قاسمی صاحب مدظلہ کی دعا سے یہ عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی ساتویں نشست اختتام پذیر ہوئی۔



#Press_Release #News #Alquds #Palestine #Gaza #Alqudsseries #MasjidAqsa #MasjidAlAqsa #BaitulMaqdis #AlqudsConference #MTIH #TIMS



فلسطینی مسلمان کی ہمت و جرأت کو سلام!

 فلسطینی مسلمان کی ہمت و جرأت کو سلام!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ سے مولانا عبد الباری فاروقی کا خطاب!



بنگلور، 19؍ نومبر(پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی پندرھویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالمبلغین لکھنؤ کے استاذ حدیث حضرت مولانا عبد الباری فاروقی صاحب مدظلہ نے فرمایا اس وقت فلسطین پر اسرائیلی بربریت کی سفاکانہ کاروائیوں اور حملوں سے دل چھلنی ہو کر رہ گیا ہے، ہزاروں مسلمانوں کا قتل، بچوں اور عورتوں پر ظلم و ستم، مساجد و مدارس کا انہدام، بیت المقدس کے تقدس کی پامالی اور ان جیسی بےشمار ذلیل حرکتوں نے روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہودیوں نے ہمیشہ ظلم ڈھائے ہیں چاہے وہ نبی ہوں بلکہ انہوں نے بہت سے نبیوں کو قتل کیا۔ یہ قوم مسلسل بغاوت، سازش اور فساد کی علمبردار ہے۔ اس قوم پر رب کائنات نے متعدد بار لعنت کی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اسرائیلیوں کی مکرو فریب کی پوری تفصیل قرآن پاک میں محفوظ کی گئی ہے۔ ہمیشہ سے ہی یہود و نصاریٰ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے جال بنتے آئے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصہ کے دوران اسرائیلی یہودیوں کی جارحانہ کاروائیوں اور جنگوں میں ہزاروں لاکھوں فلسطینی مسلمان شہید، زخمی یا بے گھر ہوچکے ہیں اور لاکھوں افراد مقبوضہ فلسطین کے اندر یا آس پاس کے ملکوں میں کیمپوں کے اندر قابلِ رحم حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں بلکہ غزہ تو مکمل ایک زندان بن چکی ہے۔ مولانا فاروقی نے فرمایا کہ اسرائیل مسلسل فلسطین میں ظلم و بربریت کا ننگا ناچ ناچ رہا ہے مگر تمام نام نہاد انسانیت دوست ممالک، حقوق انسانی کی محافظ تنظیمیں اور مظلوموں کے علم بردار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں بلکہ اقوام متحدہ اور اس کے کرتا دھرتا امریکہ اور یورپ کے ممالک یہودیوں کے سرپرست اور پشتیبان بنے ہوئے ہیں۔ افسوس کا مقام ہیکہ بعض نام نہاد مسلم ممالک اپنی ذاتی حقیر مفادات اور اپنی چند روزہ شان و شوکت اور عارضی کرسی کی بقا کی خاطر یا تو ان دشمنان اسلام کی حمایت کررہی ہے یا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اگر مسلمان ممالک متحد ہوکر القدس کی بازیابی کے لیے جدوجہد کریں تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ بیت المقدس صہیونی طاقتوں کے قبضے سے آزاد نہ ہو۔ فلسطینی مظلوموں کی زبانی حمایت اور درپردہ صہیونیت نوازی نے اسرائیل کو مکمل ریاست کا درجہ دیدیا۔ آج فلسطین کے ناگفتہ بہ حالات دشمن کی سازشوں اور منصوبہ بندیوں کا نتیجہ کم، عالم اسلام کی غلامی اور بے حسی کا نتیجہ زیادہ ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ سلام ہو ان نہتے فلسطینیوں پر کہ وہ بیت المقدس کے تقدس کیلئے اور اپنے حق کے خاطر مسلسل قربانیاں پیش کررہے ہیں لیکن اپنے موقف سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں، کیونکہ یہ مسئلہ فقط زمین کا نہیں اپنے ایمان کا مسئلہ ہے کیونکہ مسجد اقصٰی مسلمان کا قبلۂ اول ہے، یہ انبیاء علیہم السلام کا مسکن ہے، یہاں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیاء کرام کی امامت فرماکر امام الانبیاء کا لقب پایا، یہ سفر معراج کی پہلی منزل ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ مسلمان یاد رکھیں کہ یہ یہودی وہ قوم ہے کہ جنہوں نے اپنے محسنین کے احسان کو فراموش کیا، جب ہٹلر نے انکی نسل کشی کی اور ان کے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہیں تھی تو ان پر اہل فلسطین نے احسانات کئے اور اپنی زمین انہیں دی اور اس احسانات کا یہ بدلہ دیا جارہا ہیکہ اہل فلسطین کو ہی اپنے گھروں سے بے دخل کرکے انہوں شہید کیا جارہا ہے۔ لیکن یاد رکھیں کہ ایک دن آئے گا کہ ان یہودیوں کا نام و نشاں مٹ جائے گا۔ مولانا نے دوٹوک انداز میں فرمایا کہ ہم یہ نہیں کہیں گے کہ فلسطین ہار گیا، مسلمان ہار گئے، بلکہ ہم کہتے ہیں کہ مسلمان جیت گیا اور انہوں نے شہادت کا عزیم مقام کو حاصل کیا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ وہ ہارے ہیں جو اپنی آنکھوں سے اس ظلم کے ننگے ناچ کو دیکھ رہے ہیں اور خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جن کی غیرت ایمانی ان کو للکار نہیں رہی ہے، جن کا ضمیر اور جن کا دل مردہ ہو چکا ہے وہ ہار ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ یہ جنگ ظلم و ستم اور جنگ قیامت تک جارہی رہے گی اور ان شاء اللہ مسلمان غالب آکر رہیں گے اور اللہ کے وہ بندے جو اس وقت روح زمین پر موجود رہیں گے احقاق حق کا پرچم بلند کرتے رہیں گے اور باطل کی سرخوبی کرتے رہیں۔ انہیں معلوم ہیکہ اس کا بدلہ جنت ہے، یہی وجہ ہیکہ وہ اپنی پیاری عزیز جان اللہ کے راستے میں قربان کر رہے ہیں، اپنے بچوں کو کے راستے میں مرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، وہ شہید ہو رہے ہیں لیکن یاد رکھنا وہ غالب آکر رہیں گے اور مسجد اقصٰی فتح ہوکر رہے گی۔ مولانا نے فرمایا کہ ایسے حالات میں ہماری ذمہ ہیکہ ہم ان کی مدد و معاونت کریں، ان کیلئے دعاؤں کا اہتمام کریں، انکے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا عبد الباری صاحب فاروقی مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ 


#Press_Release #News #Alquds #Palestine #Gaza #Alqudsseries #MasjidAqsa #MasjidAlAqsa #BaitulMaqdis #AlqudsConference #MTIH #TIMS 


قرب قیامت خلافت اسلامیہ کا مرکز و محور ارض مقدسہ بیت المقدس ہوگی!

 قرب قیامت خلافت اسلامیہ کا مرکز و محور ارض مقدسہ بیت المقدس ہوگی!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ سے مفتی اسعد قاسم سنبھلی کا خطاب!



بنگلور، 19؍ نومبر(پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی چھٹی نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ شاہ ولی اللہ مرادآباد کے مہتمم فاتح شکیلیت حضرت اقدس مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب مدظلہ نے فرمایا روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کا سب سے پہلے گھر مسجد حرام خانۂ کعبہ کی تعمیر کے چالیس سال بعد بیت المقدس کی تعمیر ہوئی۔ مسجد اقصیٰ روئے زمین پر بیت اللہ کے بعد دوسری مسجد ہے کہ جس کو عبادت الٰہی کیلئے تعمیر کیا گیا۔ یہ مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے، مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا حرم ہے۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سترہ مہینوں تک اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتی۔ معراج کے سفر میں بھی یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی منزل تھا۔ جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیاء علیہم السلام کی امامت بیت المقدس میں فرمائی۔ مولانا نے فرمایا کہ فلسطین کی پاک سرزمین انبیاء کرام علیہم السلام کا مسکن رہا ہے، اسی وجہ سے اسے سرزمین انبیاء بھی کہا جاتا ہے، یہ بڑی بابرکت سرزمین ہے۔ مولانا نے فرمایا یہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اس وقت اس پر سلطنت روم کے عیسائیوں کا قبضہ تھا۔ اسی وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی آزادی کی خوشخبری سنائی اور اس کو قیامت کی نشانیوں میں سے قرار دیا۔ مولانا نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں بیت المقدس کو یہود و نصاری کے ہاتھوں سے آزاد کرایا تھا۔ فتح ہونے کے بعد کسی کا ایک قطرہ خون نہیں بہا تھا، کسی پر ظلم نہیں ہوا تھا اور انہوں نے اعلان کر دیا تھا کہ سب کی عام معافی کی جاتی ہے۔ بیت المقدس کی یہ مقدس سرزمین تقریباً عباسی دور تک مسلمانوں کے ماتحت رہی پھر جیسے جیسے ان میں آپسی اختلاف و انتشار، خانہ جنگی، سیاسی فتنوں اور باطنی تحریکوں کی وجہ سے سن 1099 (490ھ) میں صلیبیوں نے بیت المقدس کو مسلمانوں سے چھین لیا اور تقریباً ستر ہزار مسلمان شہید کر دیئے اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے۔  لیکن پھر سن 1087 (583ھ) میں سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ نے بیت المقدس کو فتح کیا۔  اب یہ ہو سکتا تھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ 490 ہجری کے تمام ظلم و ستم کا حساب لے لیتے، یہ ممکن تھا اور ان کے پاس طاقت بھی تھی، وہ اگر چاہتے تو صلیبیوں کے لاشوں کے ڈھیر لگاتے تھے لیکن مسلمانوں کا انصاف، مسلمانوں کے دریا دلی، مسلمانوں کا عفو و درگزر آپ دیکھیے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے کسی بھی طرح کا انتقام لینے کے بجائے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اس سنت کو زندہ کیا اور پھر عیسائیوں کو یہ رعایت دی کہ جو چاہے یہاں سے نکل جائے، جو چاہے یہاں پر رہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اس طرح 88؍ سال بعد بیت المقدس دوبارہ مسلمانوں کے بازیابی میں آگیا اور ارض مقدسہ سے عیسائی حکومت کا صفایہ ہوگیا۔ مولانا نے فرمایا کہ اس طرح ارض مقدسہ پر تقریباً 761؍ برس مسلسل مسلمانوں کی سلطنت رہی، یہاں تک کہ سن 1948ء میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی سازشوں سے ارض فلسطین کے خطہ میں صیہونی سلطنت قائم کی گئی اور بیت المقدس کا نصف حصہ یہودیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ پھر سن 1967ء میں بیت المقدس پر اسرائیلیوں نے قبضہ کرلیا اور اب پوری طرح انکے قبضہ میں ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ آج پوری دنیا سے یہودی اپنے مقتل ”اسرائیل“ میں جمع ہورہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ قرب قیامت میں شام میں اسلام کا غلبہ ہوگا، قیامت سے قبل فتنوں کے ادوار میں ان علاقوں خصوصاً شام (بیت المقدس) میں رہائش اختیار کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ قرب قیامت جب فتنے بکثرت ہونگے تو ایمان اور اہل ایمان زیادہ تر شام کے علاقوں میں ہی ہونگے۔ مولانا نے فرمایا کہ فتنوں کے زمانے میں اہل اسلام کی مختلف علاقوں میں مختلف جماعتیں اور لشکر ہونگے اس دور میں آپؐ نے شام اور اہل شام کے لشکر کو اختیار کرنے کی ترغیب دلائی کیونکہ اس دور میں ان کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے لی ہوگی۔ یہ حضرت مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کا لشکر ہوگا۔ مولانا نے فرمایا کہ قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سب سے پہلی علامت حضرت امام مہدی کا ظہور ہے، احادیث مبارکہ میں حضرت امام مہدی کا ذکر بڑی تفصیل سے آیا ہے کہ امام مہدی مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے، آخری زمانے میں جب مسلمان ہر طرف سے مغلوب ہوجائیں گے، مسلسل جنگیں ہوں گی، شام میں بھی عیسائیوں کی حکومت قائم ہوجائے گی، ہر جگہ کفار کے مظالم بڑھ جائیں گے، عرب میں بھی مسلمانوں کی باقاعدہ پُرشوکت حکومت نہیں رہے گی، تو مسلمان امام مہدی کو تلاش کریں گے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔ پھر کچھ عرصے بعد وہ شام روانہ ہوں گے، دمشق پہنچ کر عیسائیوں سے ایک خونریز جنگ ہوگی جس میں بہت سے مسلمان شہید ہوجائیں گے، بالآخر مسلمانوں کو فتح ہوگی، امام مہدی ملک کا انتظام سنبھال کر وہاں سے قسطنطنیہ فتح کرکے شام کے لئے روانہ ہوں گے، دمشق میں انکا قیام ہوگا اور عرصے بعد دجال نکل پڑے گا، دجال شام اور عراق کے درمیان میں سے نکلے گا اور گھومتا گھماتا دمشق کے قریب پہنچ جائے گا۔ اسی دوران سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی سفید مینار پر ہوگا۔ اس کے بعد دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر بھاگے گا، بالآخر باب لد پر پہنچ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کا قتل کریں گے۔ باب لد فلسطین کے علاقے میں بیت المقدس کے قریب ہے، جس پر اسرائیل غاصب نے قبضہ کر رکھا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ قیامت سے قبل مدینہ منورہ ویران ہوجائے گا اور بیت المقدس آباد ہوگا اور آخری وقت زمانۂ قرب قیامت میں خلافت اسلامیہ کا مرکز و محور ارض مقدسہ بیت المقدس ہوگی۔ مولانا نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی کہ جب تک یہودیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا نہ دیا جائے، قیامت سے پہلے یہ وقت ضرور آئے گا کہ مسلمان یہودیوں کو چن چن کر قتل کریں گے اور بیت المقدس آزاد ہوگا۔ اس وقت روئے زمین پر کوئی کافر نہیں رہے گا، سب مسلمان ہوں گے۔ مولانا نے فرمایا کہ بیت المقدس اور ارضِ فلسطین کے موجودہ حالات کو دیکھ کر یہ بات واضح ہوچکی ہیکہ اب قیامت بہت قریب ہے۔ ان حالات میں ہمیں چاہئے کہ ہم اہل فلسطین کی مدد کریں اور اپنے اعمال کی فکر کریں۔ نیز بیت المقدس کے ان مجاہدین کیلئے دعا کریں اور قنوت نازلہ پڑھیں جو بیت المقدس کی آزادی کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں، اللہ تعالیٰ انکی مدد و نصرت فرمائے۔ قابل ذکر ہیکہ یہ عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور رکن شوریٰ قاری محمد عمران کے نعتیہ کلام سے ہوا۔ جبکہ اسٹیج پر مرکز کے رکن شوریٰ مولانا سید ایوب قاسمی، قاری یعقوب شمشیر، عمران خان بطور خاص موجود تھے۔اس موقع پر حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے صدر اجلاس اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اور صدر اجلاس حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب مدظلہ کی دعا سے یہ عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی چھٹی نشست اختتام پذیر ہوئی۔

#Press_Release #News #Alquds #Palestine #Gaza #Alqudsseries #MasjidAqsa #MasjidAlAqsa #BaitulMaqdis #AlqudsConference #MTIH #TIMS 

Monday, 20 November 2023

مسجد اقصیٰ کی حفاظت پوری امت مسلمہ کی مشترکہ اور بنیادی ذمہ داری ہے!

 مسجد اقصیٰ کی حفاظت پوری امت مسلمہ کی مشترکہ اور بنیادی ذمہ داری ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست مفتی افتخار احمد قاسمی کا ملت اسلامیہ کے نام اہم پیغام!

بنگلور، 17؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے تحریک تحفظ القدس کے تحت گزشتہ پندرہ دنوں سے ”عظیم الشان آن لائن تحفظ القدس کانفرنس“ پورے زور و شور کے ساتھ جاری ہے۔ ملک کے اکابر علماء کرام اس کانفرنس سے کلیدی خطاب فرمارہے ہیں۔ اس درمیان مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب مدظلہ (صدر جمعیۃ علماء کرناٹک) نے امت مسلمہ کے نام ایک پیغام جاری کرتے ہوئے فرمایا کہ فلسطین کا مسئلہ پوری امت مسلمہ کا مشترکہ مسئلہ ہے اور مسجد اقصیٰ کی حفاظت پوری ملت اسلامیہ کی مشترکہ اور بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس وقت اسرائیل مسلسل فلسطین میں ظلم و بربریت کا ننگا ناچ ناچ رہا ہے مگر تمام نام نہاد انسانیت دوست ممالک، حقوق انسانی کی محافظ تنظیمیں اور مظلوموں کے علم بردار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں بلکہ اقوام متحدہ اور اس کے کرتا دھرتا امریکہ اور یورپ کے ممالک یہودیوں کے سرپرست اور پشتیبان بنے ہوئے ہیں۔ افسوس کا مقام ہیکہ بعض نام نہاد مسلم ممالک اپنی ذاتی حقیر مفادات اور اپنی چند روزہ شان و شوکت اور عارضی کرسی کی بقا کی خاطر یا تو ان دشمنان اسلام کی حمایت کررہی ہے یا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ارض فلسطین اور اس مقدس سرزمین کے مکین تقریباً ستر سالوں سے اسرائیل کا ظلم سہتے آرہے ہیں اور تنے تنہا کسی کی مدد ونصرت کے بغیر مسجد اقصیٰ کی حفاظت کیلئے صرف اور صرف توکل الی اللہ پر اپنی بساط اور طاقت وقوت کے بقدر ان ظالموں کا بھر پور جواب دیتے آرہے ہیں۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ سلام ہو ان فلسطینی جیالوں پر جو بے خوف وخطر ہو کر تنہ تنہا مسلسل ان ظالموں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ گزشتہ ایک مہینے سے اسرائیلی فوج کی فضائی درندگی اور ظلم وستم کا سلسلہ دوبارہ جاری ہے، وہ مسلسل جنگی اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں مگر دنیا کے لئے قوانین بنانے والے سب کے سب خاموش ہیں، اسرائیل غزہ کی آبادیوں میں، تعلیم گاہوں پر اور ہسپتالوں پر بم برسارہا ہے اور اس وحشیانہ بمباری کے نتیجہ میں ہزاروں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے، لیکن اس قدر کٹھن اور نازک حالات میں بھی مظلوم فلسطینی ثابت قدم اور پُر جوش ہیں۔ ایسے حالات میں جب اہل فلسطین پوری ملت اسلامیہ کی جانب سے فرض کفایہ کے طور پربخوبی اپنا فریضہ ادا کر رہے ہیں اور اس فریضہ کی ادائیگی میں اپنی جان، مال، جائداد اور اپنے عزیزوں کی قربانیاں دے رہے ہیں اور اسرائیل کی بدترین جارحیت کا بہادری سے مقابلہ کررہے ہیں، تو ہم لوگ جو ان سے بہت دور بیٹھے ہیں ہماری یہ ذمہ داری ہیکہ ان کے ساتھ برابر کھڑے رہیں، ان سے اظہار ہمدردی و یکجہتی کریں، ان کے حق میں دعاؤں کا اہتمام کریں، فجر میں قنوت نازلہ پڑھنے کا اہتمام کریں اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں۔ نیز یہ بھی ضرورت ہیکہ ہم بیت المقدس اور فلسطین و غزہ کی تاریخ، اسکے مقام و مرتبہ، اسکی اہمیت و فضیلت سے امت مسلمہ کو واقف کروائیں تاکہ ہماری نسلیں بیت المقدس کی حفاظت اور آزادی کیلئے ہمیشہ تیار رہیں۔ مفتی افتخار احمد قاسمی نے فرمایا کہ انہیں مقاصد کے حصول کیلئے مرکز تحفظ اسلام ہند نے تحریک تحفظ القدس کے تحت عظیم الشان تحفظ القدس کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا، جو پورے جوش و خروش کے ساتھ جاری و ساری ہے اور روزانہ رات بعد 9 بجے منعقد ہورہی ہے۔ جس سے ملک کے مختلف اکابر علماء کرام مخصوص عناوین پر اپنے منفرد انداز میں خطاب فرما رہے ہیں۔جو مرکز تحفظ اسلام ہند کے آفیشیل یوٹیوب چینل، فیس بک پیج اور ٹیوٹر اکاؤنٹ پر براہ راست لائیو نشر کیا جاتا ہے۔ اب ہمارے یہ ذمہ داری ہیکہ ہم اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے کم از کم ان پروگرامات میں شریک ہوں اور تاریخ سے واقفیت حاصل کرتے ہوئے اہل فلسطین سے یکجہتی کا اظہار کریں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ مرکز تحفظ اسلام ہند کے اس مبارک تحریک تحفظ القدس اور تحفظ القدس کانفرنس کے سلسلے کو بے انتہا قبول فرمائے اور اس کے انعقاد کے مقاصد میں بھرپور کامیابی عطا فرمائے۔ آمین


#Press_Release #News #Alquds #Palestine #Gaza #Alqudsseries #MasjidAqsa #MasjidAlAqsa #BaitulMaqdis #AlqudsConference #MTIH #TIMS


Friday, 17 November 2023

فلسطین و غزہ میں انسانیت کا قتل ہورہا ہے، جمعیۃ علماء ہند اہل فلسطین و غزہ کے ساتھ کھڑی ہے!

 فلسطین و غزہ میں انسانیت کا قتل ہورہا ہے، جمعیۃ علماء ہند اہل فلسطین و غزہ کے ساتھ کھڑی ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ سے قائد جمعیۃ مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کا خطاب!



بنگلور، 15؍ نومبر(پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی چودھویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد حکیم الدین قاسمی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ فلسطین کی سرزمین پر قائم کی جانے والی صیہونی ریاست اسرائیل ایک ناجائز اور غاصب ریاست ہے۔ جس نے 1948ء میں بعض عالمی طاقتوں کی پشت پناہی سے فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کیا، جو گذشتہ پچھتر سالوں سے مسلسل فلسطینی عوام کو قتل کر رہی ہے اور ظلم و بربرہت کی بدترین داستیں رقم کر رہی ہے اور آج بھی اس سرزمین سے فلسطینی عوام کے وجود کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ جب فلسطین کی زمینوں کو بیچنے کیلئے عرب علماء نے اجازت دی تھی تو اس فیصلے پر ہمارے اکابر علماء دیوبند راضی نہیں تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ ارضِ فلسطین کے ساتھ ایک ظلم اور زیادتی کے مترادف ہوگا۔ صیہونی ریاست کے قیام سے اس سرزمین کے اصل وارث یعنی فلسطینی دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ان کے گھر بار، کاروبار اور حیاتِ زندگی تنگ کر دی جائے گی، جبکہ بیت المقدس قبلۂ اول بھی غاصب صیہونی ریاست کے قبضے میں چلی جائے گی۔ مولانا نے غزہ میں ہونے والے قتل عام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت غزہ بچوں کے قبرستان میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے کیونکہ اس علاقے میں روزانہ سیکڑوں بچے اور بچیاں جاں بحق یا زخمی ہو رہی ہیں، غزہ پٹی پر صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد ہزاروں سے تجاوز کر چکی ہے، غزہ میں بے تحاشہ بمباری اور زمینی حملوں کے ساتھ ہی اہل غزہ کے لئے اناج، پانی اور غذا کی سپلائی بھی بند کردی گئی ہے، جس کے بعد فلسطینی عوام بھوک اور پیاس سے بھی پریشان ہوکر موت کی نیند سورہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ غزہ کی صورتحال دن بہ دن اور مزید خراب ہوتی جارہی ہے۔ افسوس کہ جنگی اصولوں کی دھجیاں اڑانے اور انسانی بنیادوں پر حملے کے باوجود اس ظلم و ستم کو روکنے کے بجائے دنیا کے نام نہاد انسانیت دوست ممالک اور اورعالمی حقوق انسانی کے محافظ تنظیمیں اسرائیل کا ساتھ دے رہی ہیں۔ اور دوسری طرف عالم عرب بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ جو قابل افسوسناک ہے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ مسجد اقصٰی مسلمانوں کیلئے بہت مقدس ہے، یہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے بعد اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ جو مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور فلسطین انبیاء علیہم السلام کا مسکن اور مدفن ہے۔ لہٰذا مسجد اقصٰی اور ارض فلسطین سے مسلمانوں کا مذہبی اور ایمانی تعلق ہے۔یہی وجہ ہیکہ آج فلسطین اور غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے پورا عالم اسلام بے چینی کا شکار ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اس وقت فلسطین اور غزہ میں انسانیت کا قتل ہورہا ہے، لہٰذا وقت کا تقاضا یہ ہیکہ اسے اسلام اور کفر کی شکل نہ دیکر اسے ظالم اور مظلوم کی شکل دینی چاہیے اور دیگر اقوام عالم کو ساتھ لیکر اسرائیل جارحیت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنی چاہیے۔ مولانا نے فرمایا نہ صرف مذہبی اعتبار سے بلکہ تاریخی اعتبار سے سرزمین فلسطین پر مسلمانوں کا حق ہے، جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ مولانا نے دوٹوک انداز میں فرمایا کہ اس دنیا میں بہت سارے ظالم پیدا ہوئے لیکن اللہ نے ان کی ایسی پکڑ کی کہ آج انکا نام و نشان تک باقی نہیں ہے کیونکہ ظلمت کی شب زیادہ دیر تک باقی نہیں رہتی اور ہمیشہ مظلوم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت شامل حال رہتی ہے۔ لہٰذا یاد رکھیں کہ ایک وقت آئے گا جب ظالم اسرائیل کا نام و نشان نہیں رہے گا اور فلسطین دوبارہ آباد ہوگا جس پر مسلمانوں کا مکمّل اختیار ہوگا۔مولانا نے فرمایا کہ جمعیۃ علماء ہند روز اول سے اہل فلسطین و غزہ کے ساتھ کھڑی تھی، کھڑی ہے اور آئندہ بھی کھڑی رہے گی، نیز غزہ پر اسرائیل کی جارحیت، وحشیانہ حملوں اور مظالم کی جمعیۃ علماء ہند نہ صرف شدید مذمت کرتی ہے بلکہ اہل فلسطین و غزہ کیلئے مدد و معاونت کیلئے بھی کوشاں ہے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ ایسے حالات میں امت مسلمہ کی ذمہ داری یہ ہیکہ وہ اہل فلسطین و غزہ کیلئے دعاؤں کا اہتمام کریں، ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں، اسرائیلی جارحیت کے خلاف دیگر اقوام عالم کو لیکر صدائے احتجاج بلند کریں۔ قابل ذکر ہیکہ یہ عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی چودھویں نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور رکن شوریٰ قاری محمد عمران کے نعتیہ کلام سے ہوا۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی حضرت مولانا محمد حکیم الدین صاحب قاسمی مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے صدر اجلاس اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اور صدر اجلاس حضرت مولانا محمد حکیم الدین قاسمی صاحب مدظلہ کی دعا سے یہ عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی چودھویں نشست اختتام پذیر ہوئی۔


#Press_Release #News #Alquds #Palestine #Gaza #Alqudsseries #MasjidAqsa #MasjidAlAqsa #BaitulMaqdis #AlqudsConference #MTIH #TIMS