Saturday, 10 October 2020

حضرات صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کرنے والا زندیق ہے!



 حضرات صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کرنے والا زندیق ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت صحابہؓ کانفرنس سے مولانا طاہر حسین گیاوی کا ولولہ انگیز خطاب!


بنگلور، 10/ اکتوبر (ایم ٹی آئی ہچ): مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت صحابہؓ کانفرنس کی چوبیسویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے مناظر اسلام حضرت مولانا سید طاہر حسین گیاوی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ قرآن پاک کی سورہئ حدید میں اللہ تعالیٰ نے حضرات صحابہؓ کی شان بیان کی ہے اور صحابہؓ کی دو ہی جماعت ہے، ایک فتح مکہ سے پہلے ایمان لانے والے اور دوسرے فتح مکہ کے بعد ایمان لانے والے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ سے پہلے ایمان لانے والوں کا درجہ فتح مکہ کے بعد ایمان لانے والوں کے مقابلے میں بڑا ہے۔ لیکن دونوں فریق سے اللہ تعالیٰ نے حسنیٰ کا وعدہ کیا ہے ”کلاً وعد اللہ الحسنیٰ“ حسنیٰ کا وعدہ دونوں سے ہے۔ اور حسنیٰ کا معنیٰ یہاں پر جنت کے ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ دونوں فریق جنتی ہیں اور دونوں فریق سے جنت کا وعدہ ہے۔ مولانا گیاوی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں جن سے حسنیٰ کا وعدہ کیا گیا ہے وہ دوزخ سے دور رکھے جائیں گے۔اور جنت و دوزخ دو ہی چیزیں ہیں، جب دوزخ سے دور رکھے جائیں گے تو وہ جنتی ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ سارے صحابہ جنتی ہیں۔ مولانا طاہر گیاوی نے فرمایا کہ حضرات صحابہ کرامؓ کی شان میں ذرا و ادنیٰ درجہ کی گستاخی سے بھی آدمی زندیق ہوجاتا ہے۔ امام ابو زرعہ رازیؒ کہتے ہیں کہ جب تم کسی کو دیکھو کہ وہ صحابہؓ کی شان میں برا بھلا، الٹا سیدھا بول رہا ہے تو سمجھ جاؤ کہ وہ زندیق ہے! مولانا نے فرمایا کہ ان تمام چیزیں سے پتہ یہ چلا کہ جو صحابہؓ کی شان میں گستاخی کریگا تو اسکا مطلب یہ ہیکہ وہ قرآن کی آیت کا انکار کر رہا ہے کیونکہ قرآن کی آیت دونوں فریق کو اور سارے صحابہ کو جنتی قرار دے رہی ہے۔ جب سارے صحابہ جنتی ہیں تو انکی شان میں گستاخی کرنے سے آدمی جہنمی نہیں ہوگا تو کیا ہوگا؟ مولانا گیاوی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے اور توفیق دے کہ صحابہؓ کی شان میں ادنیٰ درجہ کی گستاخی بھی کوئی شخص نہ کرے، چاہے وہ حضرت معاویہ ہوں یا حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہم اجمعین ہوں۔ قابل ذکر ہیکہ مولانا سید طاہر حسین گیاوی مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔

Urdu Newspapers | 10 Oct 2020

 Urdu Newspapers | 10 Oct 2020

⭕️Mufti Iftikhar Ahmed Qasmi Sb DB Speech In Online Azmat-e-Sahaba Conference By Markaz Tahaffuz-e-Islam Hind!









 

حضرات صحابہؓ پر انگلیاں اٹھانا نبیؐ پر انگلیاں اٹھانے کے برابر ہے


 

 حضرات صحابہؓ پر انگلیاں اٹھانا نبیؐ پر انگلیاں اٹھانے کے برابر ہے!
مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت صحابہؓ کانفرنس سے مفتی افتخار احمد قاسمی کا ولولہ انگیز خطاب!

بنگلور، 9/ اکتوبر (ایم ٹی آئی ہچ): مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت صحابہؓ کانفرنس کی تئیسویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ تعلیم القرآن بنگلور کے مہتمم اور جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی مدظلہ نے فرمایا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں اور قرآن پاک کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے لی ہے۔ معلوم ہوا کہ قرآن مجید محفوظ کتاب ہے، محفوظ کتاب میں اللہ تعالیٰ نے حضرات صحابہؓ کی عظمت و فضیلت کو بیان کیا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ حضرات صحابہ کرامؓ تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے اور قیامت تک حضرات صحابہؓ کے جیسا طبقہ نہیں آئے گا اور اس امت میں سب سے اونچا مقام حضرات صحابہؓ کا ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ حضرات صحابہؓ وہ جماعت ہے جس نے دین کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا، لہٰذا حضرات صحابہؓ کی شان میں گستاخیاں کرنے سے بچنا چاہیے۔ کیونکہ صحابہ کرامؓ دین کی بنیاد ہیں، اگر صحابہ کرامؓ پر انگلیاں اٹھائی گئیں تو دین کی بنیادیں ہل جائیں گی۔ مفتی افتخار احمد قاسمی نے فرمایا کہ حضرات صحابہ کرامؓ نبی کریمؐ کا عکس ہیں، نبی کریمؐ کے پرتو ہیں۔ حضرات صحابہؓ پر انگلیاں اٹھانا نبی کریمؐ پر انگلیاں اٹھانے کے برابر ہے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ شریعت مطہرہ ہمیں صحابہؓ کے ذریعہ ملی ہے، لہٰذا صحابہ کرامؓ پر انگلیاں اٹھانے سے ساری شریعت مجروح ہوجاتی ہے۔ مفتی صاحب نے حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ حضرات صحابہؓ پر زبان درازی کرنے والوں کے دل میں نبیؐ کی محبت نہیں ہوتی، اس لیے کہ حضرات صحابہؓ سے محبت نبیؐ سے محبت کی دلیل ہے اور صحابہؓ سے نفرت نبیؐ سے نفرت و عداوت کی دلیل ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ حضرات صحابہؓ کے دفاع کی ایک بہت بڑی ذمہ داری حضرات علماء کی ہے، ایسے نازک اور پرُفتن دور میں جبکہ حضرات صحابہؓ پر زبان درازی اور طعن و تشنیع ہورہی ہے، حضرات علماء کو میدان میں آنا چاہیے اور دفاع صحابہؓ پر کھل کر کام کرنا چاہیے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ یہ دور سوشل میڈیا و پرنٹ میڈیا کا دور ہے اور ایک بہت بڑا طبقہ اس سے جڑا ہوا ہے تو اسکے ذریعے بھی حضرات صحابہؓ کی عظمت و فضیلت کو اجاگر کرنا چاہیے اور دفاع صحابہؓ پر کام کرتے ہوئے گستاخان صحابہؓ کو منہ توڑ جواب دینا چاہیے۔ مولانا نے فرمایا کہ ایسے چینلوں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے جو گستاخان صحابہ کی حمایت کرتے ہیں، گستاخان صحابہ کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اور دفاع صحابہؓ پر کام کرنے والوں کو غلط ٹھیراتے ہیں۔ اور ایسے چینلوں کا ساتھ دینا چاہیے تو دفاع صحابہؓ اور عظمت صحابہؓ کا کام کرتے ہیں۔ مفتی افتخار احمد قاسمی نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔

Urdu Newspapers | 09 Oct 2020

 Urdu Newspapers | 09 Oct 2020

⭕️Moulana Yahya Nomani Sb DB & Mufti Haroon Nadvi Sb DB Speech In Online Azmat-e-Sahaba Conference By Markaz Tahaffuz-e-Islam Hind!

 







کوئی صحابی منافق نہیں، دفاع صحابہؓ کیلئے مسلمان ہر ممکن کوشش کریں


 

 کوئی صحابی منافق نہیں، دفاع صحابہؓ کیلئے مسلمان ہر ممکن کوشش کریں!
مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت صحابہؓ کانفرنس سے مولانا یحییٰ نعمانی اور مفتی ہارون ندوی کا خطاب!

بنگلور، 8/ اکتوبر (ایم ٹی آئی ہچ): مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت صحابہؓ کانفرنس کی اکیسویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین مولانا یحییٰ نعمانی مدظلہ نے فرمایا کہ رسول اللہؐ اور عام امت کے درمیان حضرات صحابہؓ ہی واسطہ ہیں، کیونکہ صحابہ کرامؓ سب کے سب عدالت و دیانت والے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ حضرات صحابہ کرامؓ اور منافقین یہ دو الگ الگ گروہ ہیں انکا آپس میں کوئی میل جول نہیں ہے اور منافقین کوئی غیر معروف لوگ نہیں تھے، سب کو معلوم تھا کہ کون منافق ہے اور کون مومن! انکو سزا دینے کے لیے قانونی طور پر جو شواہد چاہیے وہ منظر عام پر نہ ہونے کی وجہ سے وہ بچ جاتے تھے ورنہ سارے صحابہؓ کو معلوم تھا کہ منافقین کون ہیں! مولانا نے فرمایا کہ قرآن و حدیث میں منافقین کی نشانیوں کو صاف لفظوں میں بتادیا گیا ہے اور منافقین کی چال ڈھال ہی سے معلوم ہوجاتا تھا کہ یہ منافق ہے۔ امام رازیؒ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے منافقین کو صحابہؓ سے الگ کر دیا تھا اور رسول اللہؐ کے دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا تھا اور غزوۂ تبوک کے موقع پر مکمل طور پر واضح ہو گیا تھا کہ کون منافق ہے اور کون مومن اور غزوۂ تبوک کے مجاہدین کے بارے میں قرآن کی شہادت ہے۔ اور وہ صحابہ جو کسی عذر کی وجہ سے جنگ میں شریک ہونے سے رہ گئے تھے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایسی معافی مانگی اگر انکی توبہ کو سارے مدینے میں تقسیم کردیا جاتا تو سب کی مغفرت ہو جاتی۔مولانا نعمانی نے فرمایا کہ محدثین نے کسی بھی منافق سے کوئی حدیث نقل نہیں کی۔ لہٰذا حضرات صحابہؓ کو منافق کہنا یہ قرآن و حدیث پر نظر نہ ہونے کی دلیل ہے۔ مولانا یحییٰ نعمانی نے فرمایا کہ حضرات صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی شیعہ کرتے ہیں اور حضرات صحابہؓ کو منافق شیعہ ہی کہتے ہیں، مثلاً شیعہ کی معتبر کتاب اصول کافی میں جگہ جگہ صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخیاں کی گئیں ہیں اور شیعہ کے پیچھے یہودی سازشیں کام کر رہی ہیں۔

عظمت صحابہؓ کانفرنس کی بائیسویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے مشہور عالم دین مفتی ہارون ندوی مدظلہ نے فرمایا کہ حضرات صحابہؓ وہ مقدس جماعت کا نام ہے جنکے ذریعے ہمیں دین و اسلام ملا، جنہوں نے نبی کریم ؐکی مبارک صحبت پائی۔ مولانا نے فرمایا کہ حضرات صحابہؐ کی جماعت چنندہ جماعت ہے اور حضرات صحابہؓ کی جماعت وہ جماعت ہے جنہوں نے نبی ؐکے تھوک کو بھی زمین پر گرنے نہیں دیا۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ صحابہ ؓنبیؐ کے محافظ ہیں، نبیؐ پر جان قربان کرنے والے صحابہؓ ہیں، دین اسلام کی خاطر اپنی بیویوں کو بیوہ اور بچوں کو یتیم کرنے والے صحابہؓ ہیں۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ حضرات صحابہؓ حق کا معیار ہیں اور حضرات علماء فرماتے ہیں صحابہؓ قرآن و سنت کے ہیرے ہیں۔ مفتی ہارون ندوی نے فرمایا کہ آج ان پاکیزہ و مقدس ہستیوں پر کچھ نام نہاد اور پڑھے لکھے جاہل طعن و تشنیع کر رہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ یاد رکھیں! صحابہ ؓپر زبان درازی کرنے والا کتنا ہی بڑا عالم، مفتی، محدث،مفسر، مقرر کیوں نہ ہو اپنے ایمان کی خیر منائے، توبہ کرے اور اللہ سے معافی مانگے۔ہمیں تمہیں کوئی حق نہیں ہے صحابہؓ پر تبصرہ کرنے کا۔ مولانا نے دو ٹوک فرمایا جن صحابہ کرامؓ سے اللہ تعالیٰ راضی ہے ان صحابہؓ سے ناراض رہنے والے، ان پر تنقید کرنے والے، انکو برا بھلا کہنے والے بڑے بد بخت ہیں، بڑے جاہل اور انپڑھ گوار ہیں۔ مفتی ہارون ندوی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اگر صلاحیتوں سے نوازا ہے تو اسے عظمت صحابہؓ اور دفاع صحابہؓ کے لیے استعمال کرو! قلم کی صلاحیت ہے تو لکھو، زبان کی طاقت ہے تو بولو! الغرض دفاع صحابہؓ کے لیے اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرو! مفتی ہارون ندوی نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ جو چینلز حضرات صحابہؓ کا دفاع کررہے ہیں امت تک دین کی صحیح بات پہنچا رہے ہیں ایسے چینلوں سے جڑیں، یہی وقت کا تقاضہ ہے۔