Tuesday, 8 December 2020

مسلمانوں کے بنیادی عقائد!



 مسلمانوں کے بنیادی عقائد!


از قلم : شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب رحمہ اللہ


 حدیث جبرائیل میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کا پہلا سوال یہ تھا کہ اسلام کیا ہے؟ اس کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے پانچ ارکان ذکر فرمائے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کا دوسرا سوال یہ تھا کہ: ایمان کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: “ایمان یہ ہے کہ تم ایمان لاوٴ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، قیامت کے دن پر اور ایمان لاوٴ اچھی بری تقدیر پر۔”


ایمان ایک نور ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق سے دل میں آجاتا ہے، اور جب یہ نور دل میں آتا ہے تو کفر و عناد اور رسومِ جاہلیت کی تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں اور آدمی ان تمام چیزوں کو جن کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے، نورِ بصیرت سے قطعی سچی سمجھتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: “تم میں سے کوئی شخص موٴمن نہیں ہوسکتا ہے یہاں تک کہ اس کی خواہش اس دین کے تابع نہ ہوجائے جس کو میں لے کر آیا ہوں۔” آپ کے لائے ہوئے دین میں سب سے اہم تر یہ چھ باتیں ہیں جن کا ذکر اس حدیث پاک میں فرمایا ہے، پورے دین کا خلاصہ انہی چھ باتوں میں آجاتا ہے:


۱:…اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ذات و صفات میں یکتا سمجھے، وہ اپنے وجود اور اپنی ذات و صفات میں ہر نقص اور عیب سے پاک اور تمام کمالات سے متصف ہے، کائنات کی ہر چیز اسی کے ارادہ و مشیت کی تابع ہے، سب اسی کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں، کائنات کے سارے تصرفات اسی کے قبضہ میں ہیں، اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔


۲:…فرشتوں پر ایمان یہ کہ فرشتے، اللہ تعالیٰ کی ایک مستقل نورانی مخلوق ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم ہو، بجا لاتے ہیں، اور جس کو جس کام پر اللہ تعالیٰ نے مقرر کردیا ہے وہ ایک لمحہ کے لئے بھی اس میں کوتاہی نہیں کرتا۔


۳:…رسولوں پر ایمان یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت اور انہیں اپنی رضامندی اور ناراضی کے کاموں سے آگاہ کرنے کے لئے کچھ برگزیدہ انسانوں کو چن لیا، انہیں رسول اور نبی کہتے ہیں۔ انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی خبریں رسولوں کے ذریعے ہی پہنچتی ہیں، سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام تھے، اور سب سے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ کے بعد قیامت تک کسی کو نبوت نہیں ملے گی، بلکہ آپ ہی کا لایا ہوا دین قیامت تک رہے گا۔


۴:…کتابوں پر ایمان یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی معرفت بندوں کی ہدایت کے لئے بہت سے آسمانی ہدایت نامے عطاکئے، ان میں چار زیادہ مشہور ہیں: تورات، جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتاری گئی، زبور جو حضرت داوٴد علیہ السلام پر نازل کی گئی، انجیل جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی اور قرآن مجید جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا۔ یہ آخری ہدایت نامہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے پاس بھیجا گیا، اب اس کی پیروی سارے انسانوں پر لازم ہے اور اس میں ساری انسانیت کی نجات ہے، جو شخص اللہ تعالیٰ کی اس آخری کتاب سے روگردانی کرے گا وہ ناکام اور نامراد ہوگا۔


۵:…قیامت پر ایمان یہ کہ ایک وقت آئے گا کہ ساری دنیا ختم ہوجائے گی زمین و آسمان فنا ہوجائیں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ سب کو زندہ کرے گا اور اس دنیا میں لوگوں نے جو نیک یا برے عمل کئے ہیں، سب کا حساب و کتاب ہوگا۔ میزانِ عدالت قائم ہوگی اور ہر شخص کی نیکیاں اور بدیاں اس میں تولی جائیں گی، جس شخص کے نیک عملوں کا پلہ بھاری ہوگا اسے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا پروانہ ملے گا اور وہ ہمیشہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب کے مقام میں رہے گا جس کو “جنت” کہتے ہیں، اور جو شخص کی برائیوں کا پلہ بھاری ہوگا اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا پروانہ ملے گا اور وہ گرفتار ہوکر خدائی قیدخانے میں جس کا نام “جہنم” ہے، سزا پائے گا، اور کافر اور بے ایمان لوگ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہیں گے۔ دنیا میں جس شخص نے کسی دوسرے پر ظلم کیا ہوگا، اس سے رشوت لی ہوگی، اس کا مال ناحق کھایا ہوگا، اس کے ساتھ بدزبانی کی ہوگی یا اس کی بے آبروئی کی ہوگی، قیامت کے دن اس کا بھی حساب ہوگا، اور مظلوم کو ظالم سے پورا پورا بدلا دلایا جائے گا۔ الغرض خدا تعالیٰ کے انصاف کے دن کا نام “قیامت” ہے، جس میں نیک و بد کو چھانٹ دیا جائے گا، ہر شخص کو اپنی پوری زندگی کا حساب چکانا ہوگا اور کسی پر ذرا بھی ظلم نہیں ہوگا۔


۶:…”اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانے” کا مطلب یہ ہے کہ یہ کارخانہٴ عالم آپ سے آپ نہیں چل رہا، بلکہ ایک علیم و حکیم ہستی اس کو چلا رہی ہے۔ اس کائنات میں جو خوشگوار یا ناگوار واقعات پیش آتے ہیں وہ سب اس کے ارادہ و مشیت اور قدرت و حکمت سے پیش آتے ہیں۔ کائنات کے ذرہ ذرہ کے تمام حالات اس علیم و خبیر کے علم میں ہیں اور کائنات کی تخلیق سے قبل اللہ تعالیٰ نے ان تمام حالات کو، جو پیش آنے والے تھے، “لوحِ محفوظ” میں لکھ لیا تھا۔ بس اس کائنات میں جو کچھ بھی وقوع میں آرہا ہے وہ اسی علم ازلی کے مطابق پیش آرہا ہے، نیز اسی کی قدرت اور اسی کی مشیت سے پیش آرہا ہے۔ الغرض کائنات کا جو نظام حق تعالیٰ شانہ نے ازل ہی سے تجویز کر رکھا تھا، یہ کائنات اس طے شدہ نظام کے مطابق چل رہی ہے۔


(ماخوذ: کتاب "آپ کے مسائل اور انکا حل" جلد اول، مؤلف : شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ)


پیشکش : سلسلہ عقائد اسلام، شعبہ تحفظ اسلام میڈیا سروس، مرکز تحفظ اسلام ہند

کسانوں کے بھارت بند کو مرکز تحفظ اسلام ہند کی حمایت!


 

کسانوں کے بھارت بند کو مرکز تحفظ اسلام ہند کی حمایت!

 مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں سے ہندوستان کی غذائی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے!


بنگلور، 07/ڈسمبر (ایم ٹی آئی ہچ): مرکز کی بی جے پی حکومت کے ذریعہ ملک کے کسانوں پر مسلط کئے گئے تین زرعی قوانین کیخلاف پورا ملک سراپا احتجاج ہے۔ ان قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے لاکھوں کسان دہلی میں دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ نئے زرعی قوانین ملک کی زراعت کو تباہ کردیں گے۔ کسانوں کو اپنی زمینات کارپوریٹ گھرانوں کے پاس گروی رکھنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے۔ یہ نئے قوانین غیرجمہوری طریقہ سے لائے گئے ہیں۔ پارلیمنٹ میں منظورہ ان قوانین کے ذریعہ کسانوں کو بے بس کیا جارہا ہے۔ پارلیمنٹ میں ان قوانین پر وسیع تر غور و خوص نہیں کیا گیا اور نہ ہی رائے دہی کروائی گئی۔ مودی حکومت کی پالیسیوں سے ہندوستان کی غذائی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ زرعی سرگرمیاں اور ہمارے کسانوں کو شدید دھکا پہونچایا گیا ہے۔کسانوں کیلئے اقل ترین امدادی قیمت اور زرعی ارضیات کو رہن رکھنے کیلئے یہ قوانین خطرناک ثابت ہورہے ہیں۔ ان زرعی قوانین کیخلاف کسانوں نے 08/ ڈسمبر2020ء بروز منگل کو بھارت بند کا اعلان کیا ہے۔جس کو تمام اپوزیشن پارٹیوں اور تمام ملی، سماجی، رفاہی تنظیموں کی تائید حاصل ہے۔لہٰذا ملک بھر کی تمام ملی، سماجی، رفاہی و سیاسی تنظیموں کے ساتھ مرکز تحفظ اسلام ہند بھی 08/ دسمبر بروز منگل بھارت بند کی مکمل تائید کرتا ہے۔مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے ملک کے تمام باشندوں سے اپیل کی کہ وہ 08/دسمبر بروز منگل کو کسانوں کے حق میں اپنی دکانیں اور کاروبار کی ساری سرگرمیوں کو بند کر کے بھارت بند کو کامیاب بنائیں،تاکہ مرکز ی حکومت ہمارے کسانوں کے جائز مطالبات کو پورا کریں اور کسان دشمن قوانین کو واپس لے سکے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد رضوان حسامی و کاشفی، آرگنائزر حافظ حیات خان وغیرہ شریک تھے۔

Saturday, 5 December 2020

عقائد اسلام کا تحفظ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے!



 عقائد اسلام کا تحفظ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کی فخریہ پیشکش ”سلسلہ عقائد اسلام“ کا آغاز!


بنگلور، 05/ ڈسمبر (ایم ٹی آئی ہچ): انسانی زندگی میں عقیدہ کی جو اہمیت ہے، اس کی مثال اس طرح ہے جس طرح کسی بھی عمارت میں بنیاد کی، یعنی اگر بنیاد صحیح، درست اور مضبوط ہوگی تو اس پر تعمیر ہونے والی ہر عمارت مضبوط اور دیر پا ہوگی، اور اگر بنیاد میں کسی قسم کی کمی ہوگی یا بنیاد صحیح مال لگا کر اور اچھے انداز پر نہیں رکھی جائے گی، تو اس پر تعمیر ہونے والی ہر عمارت بے کار، بے سود، بے فائدہ اور کمزور ہوگی اور اس کے بھیانک نتائج جلد آشکارا ہوجائیں گے۔ اسلام میں عقیدے کو اوّلیت حاصل ہے، پہلے خدا اور اس کے بھیجے ہوئے رسولوں اور کتابوں پر درست عقیدہ رکھنا ضروری ہوتا ہے پھر اس کے بعد ہی اعمال کی ابتدا ہوتی ہے۔ عقیدہ کی حیثیت اور اہمیت کسی پر پوشیدہ نہیں مگر حیرت اس بات پر ہے کہ عقائد کی حفاظت کے لیے جو محنت درکار ہے اس میں مجموعی طور پر حد درجہ تغافل سے کام لیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہیکہ آج جگہ جگہ فتنوں کی کثرت ہورہی ہے، نئے نئے ارتدادی فتنے مسلمانوں کے درمیان جنم لے رہے اور پنپ رہے ہیں، قدیم فلسفیوں کے زہریلے اثرات کو نئی نئی تعبیرات و زبان میں پیش کرکے اسلامی عقائد کو مسخ کرنے کی فکر میں دشمنانِ اسلام شب و روز مصروف ہیں۔ فتنوں کی کثرت اِس مرض کی علامت ہے کہ مسلمانوں کا عقیدہ کمزور ہوچکا ہے۔ ان تمام تر حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے 07/ ڈسمبر 2020ء سے مکمل ایک ماہ تک مرکز تحفظ اسلام ہند”سلسلہ عقائد اسلام“ کا آغاز کرنے جارہا ہے۔ تاکہ مسلمانوں کو کم از کم اسلام کے بنیادی عقائد سے واقفیت ہوجائے اور وہ اپنے عقائد کو مضبوط کریں تاکہ فتنوں سے بچاؤ میں مسلمان خود اپنی طاقت استعمال کرسکیں۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مرکز تحفظ اسلام ہند کی فخریہ پیشکش سلسلہ عقائد اسلام کی نگرانی خاص طور پر مرکز کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد رضوان حسامی و کاشفی، اراکین شوریٰ مفتی محمد جلال الدین قاسمی، مولانا محافظ احمد، وغیرہ کریں گے۔ نظام الاوقات یومیہ پر روشنی ڈالتے ہوئے مرکز کے آرگنائزر حافظ حیات خان نے فرمایا کہ روزانہ بعد نماز ظہر جامعہ اسلامیہ مسیح العلوم بنگلور کے بانی و مہتمم، فقیہ العصر مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی مدظلہ کی کتاب ”اسلامی اسباق“ سے ایک عقیدہ اردو، ہندی اور رومن ترجمہ کے ساتھ اشتہار کی شکل میں شئیر کیا جائے گا اور روزانہ رات 07/ بجے مجلس تحفظ ختم نبوتؐ ہانگ کانگ کے امیر، وکیل احناف مولانا محمد الیاس مدظلہ کا مختصر و جامع درس ہوگا۔ اسی کے ساتھ ہفتہ وار نظام میں بعد نماز عشاء عقائد اسلام سے متعلق بروز پیر کو مضمون، بروز منگل کو فارم پیلٹ، بروز چہارشنبہ کو دارالعلوم دیوبند کا ایک فتویٰ، بروز جمعرات کو دارالعلوم دیوبند کی تجویز شدہ کتاب، بروز جمعہ کو اسلامی اسباق باب عقائد کی ویڈیو، بروز ہفتہ کو پریس ریلیز، بروز اتوار کو اکابر علماء دیوبند کے بیانات کی نشر و اشاعت ہوگی۔ اس سنہرے موقع پر مرکز تحفظ اسلام ہند نے امت مسلمہ سے درخواست کی کہ وہ مرکز تحفظ اسلام ہند کی سوشل میڈیا ڈسک تحفظ اسلام میڈیا سروس کے آفیشل اکاؤنٹس سے جڑ کر ان تمام چیزوں سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے اپنے اور دوسروں کے عقائد کی حفاظت کریں اور دوسروں کو جوڑ کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔

Sunday, 29 November 2020

نبی کریم ؐکی شان اقدس میں گستاخی مسلمان کبھی برداشت نہیں کرسکتا!



 نبی کریم ؐکی شان اقدس میں گستاخی مسلمان کبھی برداشت نہیں کرسکتا!

علماء کرام کے ولولہ انگیز خطابات سے مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت مصطفیٰؐ کانفرنس اختتام پذیر!


بنگلور، 28/ نومبر (ایم ٹی آئی ہچ): نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و توقیر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے۔ نبی کریمؐ کی ذات اقدس مسلمان کو اپنی جان سے زیادہ عزیز، اپنے ماں باپ سے زیادہ محبوب، اپنی اولاد سے زیادہ پیاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی مسلمان نبی کریمؐ کی شان میں گستاخی تو دور ادنیٰ درجہ کی بے ادبی بھی برداشت نہیں کرسکتا اور یہی ایمان کا تقاضہ بھی ہے۔نبیؐ کی ناموس کی حفاظت کے خاطر مسلمان ہزاروں جانیں قربان کرنے کیلئے تیار ہے اور اس قربانی کو وہ اپنے لیے باعث افتخار اور باعث نجات سمجھتا ہے۔ افسوس کی بات ہیکہ اللہ تعالیٰ نے جس پیغمبرؐ کو پوری انسانیت کیلئے نمونہئ کاملہ اور اسوۂ حسنہ بنایا اور رحمۃللعالمین بنا کر اس دنیا میں مبعوث فرمایا آج اسی عظیم، باکمال اور مقدس ہستی کی شان میں گستاخی کی جارہی ہے۔ ابھی حالیہ دنوں میں فرانس نے گستاخ رسولؐ کی حمایت کرتے ہوئے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کا جو اعلان کیا ہے اسے کوئی ادنیٰ درجہ کا مسلمان بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ایسے حالات میں جہاں فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنا احتجاج درج کروانا مسلمانوں کا فریضہ ہے وہیں اسلام اور سیرت نبویؐ کو علمی و فکری انداز میں پیش کرنا وقت کا اہم فریضہ اور مسلمانوں کی اولین ذمہ داری ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند نے آن لائن عظمت مصطفیٰؐ کانفرنس کا سلسلہ شروع کیا۔مرکز تحفظ اسلام ہند کی دعوت پر ملک ہند کے مختلف اکابر علماء کرام نے عظمت مصطفیٰؐ، حب رسولؐ، ناموس رسالتؐ، گستاخ رسولؐ کا انجام جیسے مختلف عناوین پر کانفرنس سے پرمغز اور ولولہ انگیز خطابات کیے اور واضح طور پر کہا کہ نبی کریم ؐکی شان اقدس میں ذرا برابر بھی گستاخی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔ مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن عظمت مصطفیٰ ؐکانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں فقیہ العصر مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی مدظلہ (بانی و مہتمم جامعہ اسلامیہ مسیح العلوم بنگلور)، جانشین امام اہل سنت مولانا عبد العلیم فاروقی مدظلہ (صدر مجلس تحفظ ناموس صحابہؓ الہند)، پیر طریقت مولانا سیداحمد ومیض ندوی مدظلہ (استاذ حدیث دارالعلوم حیدرآباد)، نبیرۂ امام اہل سنت مولانا عبد الباری فاروقی مدظلہ (استاذ دارالمبلغین لکھنؤ)، نمونۂ اسلاف مولانا خالد ندوی غازیپوری مدظلہ (استاذ حدیث دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ)،مخیر قوم و ملت مولانا عبد الرحیم رشیدی مدظلہ (صدر جمعیۃ علماء کرناٹک)، نمونۂ اسلاف مولانا رحمت اللہ میر قاسمی کشمیری (رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند)، داعئ اسلام مولانا محمد کلیم صدیقی مدظلہ (ناظم جامعہ امام ولی اللہؒ اسلامیہ پھلت) مدظلہم شامل ہیں۔ عظمت مصطفیٰ ؐکانفرنس کو مرکز تحفظ اسلام ہند کی سوشل میڈیا ڈیسک تحفظ اسلام میڈیا سروس کے آفیشیل یوٹیوب چینل و فیس بک پیج پر براہ راست نشر کیا جارہا تھا۔ کانفرنس کو تقریباً ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے سماعت کیا۔ تمام علماء کرام خصوصاً اکابرین نے جہاں گستاخان رسولؐ کو دلائل کی روشنی میں منھ توڑ جواب دیا وہیں امت مسلمہ کو نبی کریمؐ کی سیرت کو اپنانے، اسے عام کرنے اور انکی ناموس کی حفاظت کرنے کی تلقین کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ کانفرنس کا آغاز 30/ اکتوبر 2020ء کو فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی مدظلہ کے خطاب سے ہوا اور 15/ نومبر 2020ء کو داعیئ اسلام مولانا محمد کلیم صدیقی مدظلہ کے پُر مغز خطاب و دعا سے اختتام پذیر ہوا۔ کانفرنس سے خطاب کرنے والے حضرات علماء کرام کا ادارہ مرکز تحفظ اسلام ہند نے شکریہ ادا کیا اور انکی خدمت میں تہنیت نامہ پیش کیا۔

Tuesday, 17 November 2020

محسن انسانیت ؐپوری انسانیت کے پیغمبر ہیں، انکی شان میں گستاخی ناقابل قبول ہے!



محسن انسانیت ؐپوری انسانیت کے پیغمبر ہیں، انکی شان میں گستاخی ناقابل قبول ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت مصطفیٰ ؐکانفرنس کی اختتامی نشست سے مولانا محمد کلیم صدیقی کا خطاب!


بنگلور، 17/ نومبر (ایم ٹی آئی ہچ): مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن عظمت مصطفیٰ ؐکانفرنس کی آٹھویں و اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے داعئ اسلام حضرت مولانا محمد کلیم صدیقی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات کو انسان کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے اور اس پوری کائنات کا دولہا حضرات انسان کو بنایا۔ جب اللہ تعالیٰ انسان کے خالق و مالک ہیں تو اللہ تعالیٰ کو سب کچھ معلوم ہے کہ انسان کو کن کن چیزوں کی ضرورت ہے اور کن چیزوں کی نہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ساری نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہدایات بھی دیں اس لیے کہ نعمت کے ساتھ اگر ہدایت نہ ہو تو وہ زحمت ہے۔ نعمت کے ساتھ ہدایت کا ہونا ضروری ہے۔ اور یہ ساری چیزیں سکھانے اور بتانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام کا سلسلہ شروع فرمایا اوف اخیر میں میرے اور آپ کے آقا جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو بھیجا اور آپ کے ساتھ قرآن پاک کو بھی بھیجا، جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا لاسٹ اور کمپلیٹ ایڈیشن ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آ پؐکو پوری دنیا کے لیے نمونہ اور رول ماڈل بنا کر بھیجا ہے۔ ہم مسلمانوں نے یہ کہہ کر قرآن کے ساتھ اور اللہ کے نبیؐ کے ساتھ بے وفائی کی ہے کہ قرآن صرف مسلمانوں کی کتاب اور اللہ کے نبیؐ صرف مسلمانوں کے نبی ہیں، جبکہ یہ بات بلکل درست نہیں کیونکہ قرآن مجید پوری دنیا کے انسانوں کی کتاب ہے اور نبی کریم ؐساری کائنات کے نبی ہیں۔ قرآن پاک کا اکثر حصہ ان لوگوں سے مخاطب ہے جو غیر مسلم ہیں۔ مولانا کلیم صدیقی نے فرمایا کہ آج کل نبی کریمؐ کی شان میں جو گستاخیاں ہو رہی ہیں یقیناً اسکے ذمہ دار ہم خود بھی ہیں، اس لیے کہ ہم نے اللہ کے رسولؐ کا تعارف اس طرح نہیں کروایا کہ آپؐ ساری انسانیت کے رسول ہیں اور آپکی تعلیمات کو جو انسانیت کے لیے بہت ضروری ہیں اسے عام نہیں کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضراتِ صحابہ کے ذریعہ نبی ؐکی ایک ایک ادا کو محفوظ فرمایا، آج کے ترقی یافتہ دور میں کسی کی تاریخ و ہسٹری اس طرح باریکی سے محفوظ نہیں جس طرح آپؐ کی سیرت باریکی سے محفوظ ہے۔ محققین نے یہاں تک فرمایا کہ حضرات صحابہ نے اللہ کے نبیؐ کی زندگی کو اتنی گہرائی اور باریکی سے بیان کیا ہے کہ آپ کی زندگی کے دنوں اور گھڑیوں کے چاٹ بناسکتے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ میں نے مدینہ منورہ کی لائبریری میں ڈاکٹر عبد الجبار رفاہی کی ایک کتاب دیکھی جس میں انہوں نے سیرت کی انتتیس ہزار سات سو چوہتر کتابوں کا تعارف کرایا تھا جو انکی دسترس تک پہنچی ہیں۔ ان میں سے بعض کتابیں کئی کئی جلدوں پر مشتمل ہیں، ان میں سے ایک کتاب پچاسی جلدوں کی اور ایک کتاب اڑتیس جلدوں کی ہے۔ عرب میں صرف آپکے جوتوں پر پچپن کتابیں لکھی گئیں ہیں۔ یہ سارا کام ایسا ہی اتفاقی طور پر نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ سارا کام کروایا ہے کہ جو ذات ساری انسانیت کے رول ماڈل بننے والی ہے اسکی ایک ایک چیز محفوظ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپکی ذات کو پُر کشش بنانے کے لیے آپکو پوری دنیا کے لیے رحمت بناکر بھیجا۔ مولانا کلیم صدیقی نے فرمایا کہ دنیا میں بہت سارے ایسے لوگ ہیں جو کسی چیز کو پسند کرتے ہیں تو کسی کو نہیں کرتے لیکن رحمت ایک ایسی چیز ہے جسے ہر کوئی پسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے آپکو رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا، جنگ کے میدان میں بھی آپؐ رحمت کا پیکر تھے۔ مولانا صدیقی نے فرمایا کہ اللہ کے نبی سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور محبت کا تقاضا یہ ہے کہ پوری دُنیا میں کہیں بھی نبیؐ کی شان میں گستاخی ہوتو ہمارا خون کھول جائے اور ہم اس پر ناراضگی کا اظہار کریں لیکن یہ ساری چیزیں شریعت کے حدود میں رہتے ہوئے اللہ کے لیے کرنا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے پوری امت کا درد دیکر ہمیں خیر امت کا لقب دیا ہے، پوری امت مدعو ہے ہم داعی ہیں۔ فرانس میں جو واقعہ پیش آیا اور وہاں کے صدر میکرون نے گستاخان رسولؐ کی حمایت کی اس پر پوری امت مسلمہ میں انفعال پیدا ہونا امت مسلمہ کا بے چین ہوجانا اور تڑپ جانا اور بھڑک جانا یہ فطری چیز ہے، اسکے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں کیونکہ حب رسولؐ بنیادی چیز ہے۔ داعئ اسلام نے فرمایا کہ یہ انتہائی تکلیف کی بات ہے کہ جو نبیؐ ساری ساری رات امت کے لیے رویا تڑپا، جسکی ہدایت کی فکر لیکر ستر ستر مرتبہ انکے پاس جاتے رہے، اور اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا:ائے نبی جی! کیا آپ اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے؟ اس غم میں کہ یہ لوگ ایمان لے آئیں، آج اس محسن نبیؐ کی شان میں گستاخی ہو رہی ہے۔ جو لوگ گستاخی کر رہے ہیں اللہ کے نبیؐ انکے بھی رسول ہیں، انھیں معلوم نہیں ہے کہ وہ اپنے نبیؐ کی شان میں گستاخی کر رہے ہیں۔ اسکے اصل مجرم ہم ہیں کہ ہم نے آپ ؐکا صحیح سے تعارف نہیں کرایا۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت طیبہ کو زیادہ سے زیادہ عام کریں۔ قابل ذکر ہیکہ داعئ اسلام مولانا محمد کلیم صدیقی مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا اور انہیں کی دعا سے پندرہ روزہ آن لائن عظمت مصطفیٰؐ کانفرنس اختتام پذیر ہوا!


#ProphetMuhammad4All #BycottFrenchProducts #ProphetMuhammad #MTIH #TIMS #Press_Release