Sunday, 28 March 2021

Online Islahe Muashira Conference Se Hazrat Moulana Ahmed Wameez Sb Nadwi Naqshbandi DB Ka Khitab Suru Hochuka Hai!

 




🎯 آن لائن اصلاح معاشرہ کانفرنس سے شیخ طریقت حضرت مولانا سید احمد ومیض صاحب ندوی نقشبندی مدظلہ کا خطاب شروع ہوچکا ہے!


🎯Online Islahe Muashira Conference Se Hazrat Moulana Ahmed Wameez Sb Nadwi Naqshbandi DB Ka Khitab Suru Hochuka Hai!


https://youtu.be/mdBCkOr-2aU

 


Friday, 26 March 2021

آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ کی 27؍ مارچ سے پورے ملک میں دس روزہ آسان و مسنون نکاح مہم!

 

آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ کی 27؍ مارچ سے پورے ملک میں دس روزہ آسان و مسنون نکاح مہم!
مہم کے دوران مرکز تحفظ اسلام ہند منعقد کرے کی آن لائن کانفرنس!

بنگلور، 26؍ مارچ (پریس ریلیز): اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے جو تمام شعبہٴ زندگی پرمحیط ہے۔ زندگی کے تمام امور و معاملات میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل اطاعت کا نام اسلام ہے۔ ہر اہل ایمان کو اپنے تمام امور ومعاملات کو شریعت کے تابع کردینا لازمی ہے۔ جاہلانہ اور غیر اسلامی رسوم و رواج اور طور طریقوں کو چھوڑ دینا ایک مسلمان کا فریضہ ہے۔ یہی ترک جاہلیت اسلام میں مطلوب ہے اور اسکے خلاف عمل حرام ہے۔ شادیوں میں جن جاہلانہ اور غیر اسلامی رسوم کا رواج ہوچکا ہے، ان میں ایک ”جہیز“ ہے۔ جو مہر کی ضد میں شریعت اسلامی کے خلاف پروان چڑھ چکی ہے۔ نکاح ایک مسنون عمل ہے اور شریعت نے نکاح کو سادہ اور آسان رکھا ہے، اس میں تکلفات، لوازمات، رسوم و رواج اور فضول خرچی کو ناپسند قرار دیا ہے۔ ان سے نکاح کی سنت مشکل ہوجاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سے خاندانوں میں شادیاں ان ہی رسومات بالخصوص جہیز کے پورا نہ کر سکنے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوجاتی ہیں، یہاں تک کہ ہزاروں خاندانوں نے اس جہیز کی لعنت کی وجہ سے موت کو اپنے گلے لگا لیا ہے۔ ضرورت ہیکہ معاشرے سے بیجا رسم و رواج خصوصاً جہیز کی لعنت کو ختم کرتے ہوئے نکاح کو سادہ اور آسان بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ معاشرے سے اسی جہیز کی لعنت کو ختم کرنے اور نکاح کو آسان بنانے کے لیے اصلاح معاشرہ کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ روز اول سے جد و جہد کررہی ہے۔ اس سلسلے میں بورڈ کے سکریٹری مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب نے مختلف ریاستوں کے علماء و دانشوروں کے ساتھ آن لائن میٹنگ کرتے ہوئے امت مسلمہ کو بیدار کردیا ہے۔ اسی کے ساتھ اب بورڈ نے 27؍ مارچ سے پورے ملک میں دس روزہ آسان و مسنون نکاح مہم کا اعلان کیا ہے، جس کیلئے پچیس قراردادیں بھی منظور کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز تحفظ اسلام ہند روز اول سے اس مہم کے سلسلے میں فکر مند ہے اور مختلف جگہوں اور مواقع پر اپنی نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے۔ اس دس روزہ مہم کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ رات مرکز نے اپنے اراکین کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی تھی۔جس میں اتفاق رائے سے یہ طے پایا کہ 27؍ مارچ سے مہم کے اختتام یعنی آئندہ دس دنوں تک روزانہ رات 9؍ بجے آسان و مسنون نکاح کے عنوان سے مرکز تحفظ اسلام ہند آن لائن اصلاح معاشرہ کانفرنس منعقد کرے گی، جس میں ملک کے اکابر علماء کرام کے خطابات ہونگے۔ اسی کے ساتھ زمینی سطح پر بھی چھوٹے بڑے پروگرامات کا بھی انعقاد کیا جائے گا، نیز مضامین و مقالات کے ذریعہ بھی لوگوں میں بیداری لانے کی کوشش کی جائے گی اور ایک خصوصی مجلہ بھی شائع کیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے اپیل کی کہ ہر شخص انفرادی طور پر عہد کرلے کہ آئندہ ہم نہ تو جہیز لیں گے، نہ دیں گے اور نہ ہی ایسی شادیوں میں شرکت کریں گے جن میں جہیز کا لین دین ہو، خواہ وہ ہمارے کتنے ہی عزیز کیوں نہ ہوں۔ خاص طور پر دلہا اور اس کے گھر والے جہیز نہ مانگیں۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان کے علاوہ مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان، رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی، اراکین شبیر احمد، سید توصیف، احمد خطیب، عمیر الدین، اور آن لائن کے ذریعہ رکن شوریٰ مولانا محمد نظام مظاہری، اراکین حافظ محمد شعیب اللہ خان، حافظ محمد نور اللہ وغیرہ خصوصی طور پر شریک تھے۔

Thursday, 25 March 2021

27؍ مارچ سے کرناٹک میں دس روزہ آسان و مسنون نکاح مہم!




 27؍ مارچ سے کرناٹک میں دس روزہ آسان و مسنون نکاح مہم!

*بیجا رسوم و رواج کو ختم کرتے ہوئے نکاح کو آسان بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے: امیر شریعت مولانا صغیر احمد رشادی


 بنگلور، 25؍ مارچ (پریس ریلیز): اسلام میں نکاح کی بڑی اہمیت ہے۔ اسلام نے نکاح کے تعلق سے جو فکرِ اعتدال اور نظریۂ توازن پیش کیا ہے وہ نہایت جامع اور بے نظیر ہے۔ اسلام میں نکاح بہت آسان ہے لیکن آج کل کے غیر شرعی رسم و رواج نے اسے مشکل بنا دیا ہے۔ بالخصوص جہیز کی لعنت نے تو معاشرے کو تباہ و برباد کردیا ہے، جس کی وجہ سے ناجانے کتنی بیٹیوں نے موت کو اپنے گلے لگا لیا۔ ان تمام تر حالات کے پیش نظر گزشتہ دنوں اصلاح معاشرہ کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے ریاست کرناٹک کے علماء و دانشوران کی ایک اہم میٹنگ آن لائن منعقد ہوئی تھی۔ اس میٹنگ میں جہیز کی لعنت کو معاشرے سے ختم کرنے اور نکاح کو آسان بنانے کے سلسلے میں کئی اہم تجاویز منظور ہوئیں۔انہیں تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کیلئے گزشتہ رات بعد نماز مغرب دارالعلوم سبیل الرشاد، بنگلور میں امیر شریعت حضرت مولانا صغیر احمد رشادی صاحب کی صدارت میں شہر بنگلور کے مؤقر علماء کرام، ائمہ عظام، سماجی کارکنان، دانشوروں قوم و ملت اور ذمہ داران مساجد کا ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔جس میں اتفاق طور پر یہ طے پایا کہ 27؍ مارچ بروز ہفتہ سے دس روز تک پوری ریاست کرناٹک میں ”دس روزہ آسان و مسنون نکاح مہم“ چلایا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر حضرت امیر شریعت نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مہم کا اعلان کیا اور فرمایا کہ یہ مہم پوری ریاست کے سبھی اضلاع میں چلائی جائے گی، جس میں جہیز اور بیجا رسوم و رواج کو ختم کرنے اور نکاح کو آسان بنانے کیلئے مسلم معاشرے کو بیدار کیا جائے گا۔ انہوں نے فرمایا کہ اس مہم کے تحت چھوٹے بڑے مختلف پروگرامات کا بھی انعقاد کیا جائے گا اور اخبارات و رسائل میں مضامین بھی شائع کئے جائیں گے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امیر شریعت نے فرمایا کہ عنقریب ریاستی سطح پر ایک نمائندہ کمیٹی اور ضلع سطح پر ایک ایک ضلعی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو معاشرے میں نکاح کو آسان بنانے کی کوشش کرے گی۔ اسی کے ساتھ امیر شریعت نے ائمہ کرام سے اپیل کی کہ وہ اگلے تین جمعہ میں آسان نکاح کے موضوع پر کم از کم دس دس منٹ خطاب کریں نیز شب برأت میں بھی اس موضوع پر مختصر روشنی ڈالیں۔قابل ذکر ہیکہ اس موقع پرمفتی افتخار احمد قاسمی (صدر جمعیۃ علماء کرناٹک)، مولانا محمد مقصود عمران رشادی (امام و خطیب جامع مسجد سٹی، بنگلور)، مولانامحمد زین العابدین مظاہری (مہتمم دارالعلوم شاہ ولی اللہ، بنگلور)، ڈاکٹر سعد بلگامی (امیر جماعت اسلامی کرناٹک)، مولانا شبیر ندوی (مہتمم اصلاح البنات، بنگلور)، محب اللہ خان امین (جنرل سیکرٹری جمعیۃ علماء کرناٹک)، آئی اے ایس ثناء اللہ،آئی پی ایس نثار احمد، مفتی شمس الدین بجلی (جنرل سیکرٹری جمعیۃ علماء کرناٹک)، ڈاکٹر عبد القدیر (شاہین کالج، بیدر)، مولانا یوسف کنی (نائب امیر جماعت اسلامی کرناٹک) اور سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن محمد فرقان(ڈائریکٹرمرکز تحفظ اسلام ہند) وغیرہ موجود تھے۔

Sunday, 14 February 2021

ویلنٹائن ڈے منانے والوں کےنام..... ایک پیغام!!!


 ویلنٹائن ڈے منانے والوں کےنام..... ایک پیغام!!! 


عبدالرحمن الخبیر قاسمی بستوی

ترجمان: تنظیم ابنائے ثاقب ورکن شوریٰ مرکز تحفظ اسلام ہند


 

14 فروی ویلنٹائن ڈے! یعنی بے حیائی کا عالمی دن ، یومِ فریب جس میں جانور بھی انسان کی بے حیا اور گھناؤنی حرکتوں کو دیکھ کر شرمندہ ہو جائے، زمین خدا سے پناہ مانگے، ویلنٹائن ڈے جس کو محبت کے نام پر انسانیت کو بے آبرو اور حیا کا جنازہ نکالنے کےلئے ان بے حیا لوگوں نے ایجاد کیا جن کے یہاں ماں، بہن بیٹی کی پہچان تک مشکل ہے، جن کے کتے توبیڈ پر سوتے ہیں پر والدین اولڈ ہاؤس میں پڑے ہوتے ہیں، لیکن افسوس کی انتہا تو تب ہوتی ہے کہ جب اس کو وہ قوم بھی منانے لگتی ہے جو اس رسول اللہ ﷺ کو مانتی ہے جس کی پاکیزہ تعلیم! الحیاءشعبۃ من الایمان! (حیا ایمان ہی کا ایک حصہ ہے) ہر دین کی ایک پہچان ہوا کرتی ہے اور اسلام کی پہچان حیا ہے، جس دین کی پہچان ہی حیا ہو اس دین میں بےحیائی کی کوئی بھی جگہ نہیں ہو سکتی۔ 


محترم قارئین! 

14 فروری یہ عیسائیوں کا تہوار ہے اس دن عیسائی سرخ لباس زیب تن کرتے ہیں، پھولوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں، آپس میں تحفہ تحائف دیا اور لیا جاتا ہے، محبت کا اظہار والہانہ انداز میں کیا جاتا ہے، اس تہوار کو منانے کا اک خاص انداز یہ ہوتا ہے کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے بے پردگی اور بے حیائی کے ساتھ میل ملاپ، تحفے تحائف کا لین دین سے لے کر فحاشی و عریانی کا جتنا ہو سکے کھلے عام یا چوری چپکے ارتقاب کیا جاتا ہے، اس دن رقص، موسیقی، مے خوری، بدکاری کے ریکارڈ توڑے جاتے ہیں، اس طرح اسلامی تعلیمات کا سرِعام مذاق اڑایا جاتا ہے، اسلام ہمیں حیا اور پاکیزگی کا پیغام دیتا ہے. ارشاد باری تعالیٰ ہے :


(اےنبی) مسلمان مردوں سے کہہ دو اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہت پاکیزہ ہے. بےشک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے. اور مسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی پاکدامنی کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں. (سورہ نور)


ایک اور جگہ ارشاد ہوا:


اور بدکاری کے قریب نہ جاؤ بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے


نیز آج کی نوجوان نسل یاد رکھےاگر آج اس طرح خوشی خوشی گناہوں کی دلدل میں دھنسے گی تو کل اس کی اولاد بھی اس نحوست کا شکار ہو گی، یہ محبت کا مذاق ہے، محبت تو ایک پاکیزہ انسانی جذبہ ہے جو بندہ مومن کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کیلئے پیدا ہوتا ہے، ایسی محبت نہیں جو ہوس پرستی میں رنگی ہو۔ 


پس اس گناہ اور بدکاری سے بچنے کے لئے دنیا بھر میں "یومِ حیا" منایا جاتا ہے، کیونکہ اسلام ہمیں حیا اور پاکیزگی کا حکم دیتا ہے، اور غیر مسلموں کے تہوار منانے سے منا کرتا ہے۔ 


نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :


جو قوم جس قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے


آخر میں میری نوجوان طبقے سے التجا ہے خدارا اس دن اپنے کردار کو داغدار کر کے پاش پاش ہونے سے بچا لیں، اپنے نامہ اعمال کو گناہوں کی سیاہی سے آلودہ نہ کریں اور اس دن یعنی 14 فروری کو "یوم حیا" اور " یوم حجاب" سمجھ کر حیا کو عام کریں، کسی کو پھول پیش کرنے کے بجائے اپنے گھر میں بہنوں کو حجاب پیش کریں، کیونکہ جو چیزیں عام ہوں اس کے توڑ کےلئے اس کا بدل تلاش کریں اور اسے خوب عام کریں تاکہ برائی بےحیائی بدکاری خود بخود ختم ہوجائے، کسی کےسر پر عزت و آبرو کی چادر ڈالیں، تاکہ معاشرہ حیا کی خوشبو سے مہکنے لگے، حیا کے زیور سے اپنے آپ کو آراستہ کریں ورنہ بےحیائی نسلوں کا سفرطئے کرکے گمراہی تک پہنچائے گی


اللہ رب العزت ہم سب کی عزتوں کی حفاظت فرمائے اور ہمیں شیطان کے شر سے محفوظ رکھے.....آمین

Saturday, 13 February 2021

ویلنٹائن ڈے بے حیائی کا عالمی دن!



 ویلنٹائن ڈے بے حیائی کا عالمی دن!


✍️ بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک پاکیزہ مذہب اور تہذیب عطاء کیا۔ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات کا نام ہے۔ جس نے انسان کو زندگی کے ہر گوشے میں رہنمائی فراہم کی ہے۔ اسلام نے جہاں ہمیں نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر عبادات کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی وہیں سیاست، معاشرت، معاشیات، اخلاقیات اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھی بھرپور تعلیمات عطاء کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی کرنیں مکہ و مدینہ سے نکل کر پوری دنیا میں پہنچ چکی ہیں۔ اور دن بدن بلاد کفار میں بسنے والے لوگ دائرۂ اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔ آج مغرب میں اسلام سب سے مقبول اور تیزی سے پھیلنے والا مذہب بن چکا ہے۔ اسلام اور مغربی تہذیب کی کشمکش صدیوں سے جاری ہے۔اسلام کی بڑھتی مقبولیت کو دیکھ کر مغرب نہ صرف پریشانی میں مبتلا ہے بلکہ اسلامی تعلیمات اور تہذیب پر منصوبوں کے تحت حملے کیے جارہا ہے اور ان مذموم مقاصد کو سر انجام دینے کیلئے باقاعدہ مختلف ادارے دن رات سرگرم ہیں۔ مغرب کے مشترکہ اہداف میں اولین ہدف مسلم معاشرے میں بے حیائی، بے شرمی، جنسی بے راہ روی اور شہوت رانی کا فروغ دینا ہے۔ اسی کے پیش نظر مغربی تہذیب نے معاشرے میں مختلف بے ہودہ رسوم و رواج، بدکاری و بے حیائی کو جنم دیا ہے۔ انہیں میں سے ایک 14؍ فروری کو ”یوم محبت“ کے نام سے منایا جانے والا ”ویلنٹائن ڈے“ ہے۔ جس کی بنیاد بے حیائی، بے شرمی، بدکاری اور زنا پر ہے۔ افسوس کہ آج مسلمان بھی مغرب کی اس سازش کا شکار ہوچکے ہیں۔

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی

خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ


ہر سال 14؍ فروری کو دنیا کے مختلف حصّوں بالخصوص مغربی ممالک میں ”ویلنٹائن ڈے“ کو بے حیائی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر ناجائز طریقے سے محبت کرنے والوں کے درمیان نہ صرف مٹھائیوں، پھولوں، کارڈز اور ہر طرح کے تحائف کا تبادلہ ہوتا ہے بلکہ ناجائز تعلقات بھی قائم کئے جاتے ہیں۔ کارڈز بھیجنے کے حوالے سے ایک تحقیق کے مطابق عیسائیوں کا تہوار کرسمس کے بعد یہ دوسرا بڑا موقع ہوتا ہے۔ آخر ویلنٹائن ڈے کے پیچھے کیا کہانی ہے؟ آئیے اس حوالے سے سب سے مشہور روایات اور واقعات پر نظر ڈالتے ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ وہ دن ہے جب ”سینٹ ویلنٹائن“ نے روزہ رکھا تھا اور لوگوں نے اسے”محبت کا دیوتا“ مان کر یہ دن اسی کے نام کر دیا۔ کئی شرکیہ عقائد کے حامل لوگ اسے یونانی کیوپڈ (محبت کے دیوتا) اور وینس (حسن کی دیوی) سے موسوم کرتے ہیں، یہ لوگ کیوپڈ کو ویلنٹائن ڈے کا مرکزی کردار کہتے ہیں، جو اپنی محبت کے زہر بُجھے تیر نوجوان دلوں پر چلا کر انہیں گھائل کرتا تھا۔ تاریخی شواہد کے مطابق ویلنٹائن کے آغاز کے آثار قدیم رومن تہذیب کے عروج کے زمانے سے چلے آرہے ہیں۔ (ویلنٹائن ڈے تاریخ، حقائق اور اسلام کی نظر میں: 40)


ایک مشہور واقعہ یہ ہیکہ تیسری صدی عیسوی میں ایک ”ویلنٹائن“ نام کا پادری راہبہ کی محبت میں مبتلا ہوچکا تھا۔ چونکہ عیسائیت میں راہبہ سے نکاح ممنوع تھا اسلئے ایک دن پادری نے اپنی معشوقہ کو بتایا کہ اس نے خواب میں دیکھا کہ 14؍ فروری کو اگر کوئی راہبہ سے جسمانی تعلق کرلے تو وہ گناہ میں شامل نہیں ہوگا۔ راہبہ نے اسکی بات پر یقین کرلیا اور دونوں اس دن وہ سب کچھ کر گزرے۔ کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اڑانے پر انکا حشر وہی ہوا جو عموماً ہوا کرتا ہے، یعنی ان دونوں کو قتل کردیا گیا۔ لیکن کچھ عرصہ بعد چند لوگوں نے انہیں ”محبت کا شہید“ جان کر عقیدت کا اظہار کیا اور انکی یاد میں یہ دن منانا شروع کردیا۔ (ویلنٹائن ڈے تاریخ، حقائق اور اسلام کی نظر میں: 41)


تاریخ یہ بھی بتاتی ہیکہ روم کے جیل خانہ میں ایک ایسے شخص کو مقید کردیا گیا جو راتوں کو لوگوں کے گھروں میں گھس کر عورتوں کے ساتھ زیادتی کرتا تھا۔ اس قیدی کا نام پادری ”سینٹ ویلنٹائن“ تھا، جس کے نام سے اس تہوار کو منسوب کرکے شہرت دی گئی۔ جس جیل میں اسے قیدی بنا کر رکھا گیا تھا اس جیل کی جیلر کی بیٹی روزانہ اپنے والد کو کھانا دینے جیل آیا کرتی تھی، پادری نے کسی طریقے سے اس لڑکی کو اپنی طرف مائل کرلیا، جس کے نتیجے میں اسے جیل سے رہائی نصیب ہوئی۔ اس کے بعد اس نے کچھ عرصہ تک ناجائز طریقے سے اسی داروغہ کی بیٹی کے ساتھ گزارا اور ایک دن اسے چھوڑ کر ایسے غائب ہوا کچھ سراغ نہ ملا! (ویلنٹائن ڈے تاریخ، حقائق اور اسلام کی نظر میں: 48)


اس طرح کی مختلف داستانیں تاریخ کے اوراق میں درج ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہیکہ ”ویلنٹائن ڈے“ کی بنیاد ہی کلی طور پر فحاشی، عریانی، بے حیائی اور بدتہذیبی پر مبنی ہے۔ ویلنٹائن ڈے بے حیائی کو فروغ دینے کا باعث ہے، اس کا مقصد صرف اور صرف مرد و عورت کو ایک دوسرے کے قریب لانا ہے اور جنسی بے راہ روی کو محبت کا لبادہ پہنا کر ناجائز تعلقات قائم کروانا ہے۔ یہ اسلامی معاشرہ و تہذیب کو تباہ و برباد کرنے کی عالم کفر کی نہ صرف سازش ہے بلکہ اولین ہدف ہے۔ افسوس کی بات ہیکہ ”ویلنٹائن ڈے“ کے نام پر منایا جانے والا بے حیائی کے اس عالمی دن میں اب مسلمان بھی شریک ہورہے ہیں اور بے حیا، بے شرم اور دوسروں کی بیٹیوں کی عزت پر ڈاکا ڈالنے والے عیسائی پادری کی روایات کو زندہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہیکہ آج معاشرے میں اخلاقیات کا وجود ختم ہوتا نظر آرہا ہے، خاندانی نظام تباہ و بربا ہورہا ہے، مقدس رشتوں کی اہمیت ختم ہوتی جارہی ہے، عصمت و عفت اور پاکدامنی اور شرم و حیا اپنی آخری سانس لینے پر مجبور ہے۔ ان سب حالات کے باوجود بھی بدقسمتی سے آج کل کے ماڈرن مسلمان دین اسلام کی پاکیزگی تہذیب و تمدن کو چھوڑ کر مغرب کا تھوک چاٹنا اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہیں۔ اسلامی تہذیب، مذہبی و معاشرتی روایات کا تحفظ کرنے کے بجائے ویلنٹائن ڈے جیسے فحاشی اور بے غیرتی پر مبنی مغربی انداز ثقافت کے فروغ میں مسلمان شرم ناک کردار ادا کررہا ہے، کسی شاعر نے کیا خوب کہا:

جو درر ملا اپنوں سے ملا

غیروں سے شکایت کون کرے؟


اسلام تو ”حیا“ کی تعلیم دیتا ہے اور اسکی پاسداری کی خوب ترغیب دیتا ہے بلکہ حیا کو ایمان کا شعبہ قرار دیا گیا ہے۔ بخاری شریف کی روایت ہیکہ ”حیا ایمان کا ایک اہم جز ہے!“ (صحیح البخاری،163)۔ اور ایک دوسری حدیث میں فرمایا کہ ”بے شک ہر دین کی کوئی خاص خصلت (فطرت، مزاج یا پہچان) ہوتی ہے اور اسلام کی وہ خاص خصلت حیا ہے!“ (ابن ماجہ، 4181)۔ یہی وجہ ہے کہ عالم کفر نے اسلام کی پہچان ”حیا“ پر حملہ کرکے اپنی دشمنی کا آغاز کیا۔ اور آج 14؍ فروری آتے ہی بے ہودگی اور بے حیائی کا سیلاب امڈتا چلا آتا ہے۔ نسل نو اپنے مقصد حیات کو چھوڑ کر بے حیائی کا ننگا ناچ کھیلنے لگتی ہے اور ہمارے تعلیمی اداروں میں بھی اس بے حیائی کا سبق دیا جانے لگا ہے۔ نہ صرف عیسائی مشنریز کے پابند تعلیمی ادارے بلکہ آج کل مسلم اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیس میں بھی  پابندی کے ساتھ ویلنٹائن ڈے منا کر عذاب خداوندی کو دعوت دی جاتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ”اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ“ کہ ”جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے ان کیلئے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے!“ (سورۃ النور: 19)


اسلام دین فطرت ہے اور محبت فطرت کا تقاضا ہے، اسلام نے محبت کرنے سے نہیں روکا بلکہ اسکے کچھ حدود و قیود مقرر فرمائی تاکہ مسلمان محبت اللہ اور اسکے رسول ؐ اور انکے ارشادات کے مطابق جائز طریقے سے کرے۔ لیکن ویلنٹائن ڈے کے دن ایک لڑکا ایک لڑکی سے ناجائز طریقہ سے اظہار محبت کرتا ہے۔ آج اس رسمِ بد نے ایک طوفانِ بے حیائی برپا کردیا ہے۔ عفت و عصمت کی عظمت اور رشتہئ نکاح کے تقدس کو پامال کردیا ہے۔ معاشرہ کو پورا گندہ کرنے اور حیا و اخلاق کی تعلیمات، اور جنسی بے راہ روی کو فروغ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا ہے، بر سرعام اظہار محبت کے نت نئے طریقوں کے ذریعہ شرم و حیا، ادب وشرافت کو ختم کردیا گیا ہے۔ اور افسوس کی بات ہیکہ آج ملت اسلامیہ کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی ویلنٹائن ڈے منارہی ہیں۔ یہی وجہ ہیکہ آج ہماری نسل نو سے دین و شریعت کا تصور ختم ہوتا جارہا ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ ”حیا اور ایمان یہ دنوں ہمیشہ ساتھ اکٹھے رہتے ہیں، جب ان دونوں میں سے کوئی ایک اٹھا لیا جائے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے!“ (شعب الایمان)۔ اور اسی کے ساتھ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہیکہ ”ویلنٹائن ڈے منانا سراسر حرام ہے۔“ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہیکہ ”قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ“ کہ ”کہ دو میرے پروردگار نے تو بے حیائی کے کاموں کو حرام قرار دیا ہے، چاہے وہ بے حیائی کھلی ہوئی ہو یا چھپی ہوئی ہو!“ (سورہ اعراف، 33)۔ اور ویلنٹائن ڈے منانا کھلے عام زنا کرنے کے برابر ہے، ویلنٹائن ڈے یوم محبت نہیں بلکہ یوم زنا ہے۔ بخاری شریف کی روایت ہیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سر عام گناہ کرنے کے وبال پر فرمایا کہ ”میری پوری امت معاف کردی جائے گی، لیکن کھلم کھلا گناہ کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔“ اور ویلنٹائن ڈے منانے کا مطلب عیسائیوں کی مشابہت اختیار کرنا ہے اور اللہ کے رسولؐ نے واضح طور پر کہا کہ ”جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہیں میں سے ہے!“ (ابو داؤد، 4033)


آج مسلمان مغرب کی اس سازش میں اس طرح پھنستا چلا جارہا ہے وہ اپنی شناخت اور پہچان ہی بھلا بیٹھا ہے۔ نبی کریمؐ نے جو معاشرے قائم فرمایا اسکی بنیاد ”حیا“ پر رکھی جس میں زنا کرنا ہی نہیں بلکہ اسکے اسباب پھیلانا بھی ایک جرم تھا۔ جس دین کی پہچان اور بنیادی ہی حیا ہو اس میں بے حیائی کی کہاں گنجائش ہوسکتی ہے؟ جو شریعت عورتوں کو پردہ میں رکھنے کا حکم دیتی ہو وہ کیوں کر ویلنٹائن ڈے منانے کی اجازت دے گی؟ اور یہ بات واضح ہیکہ ”ویلنٹائن ڈے منانے کی اسلام میں قطعاً اجازت نہیں۔“ ہمیں تو چاہئے تھا کہ ہم اپنے آقا دوعالم جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تہذیب و ثقافت کو اس طرح غالب کرتے کہ عالم کفر بھی اسکی نقالی پر مجبور ہوجاتا۔ لیکن ہائے افسوس کہ ہم اسکے برعکس کام کررہے ہیں۔ کیا کمی تھی میرے آقا ؐ کی پاکیزہ تہذیب و ثقافت میں کہ ہم نے اسے اپنے معاشرے سے ہی جدا کردیا؟ اور نبیؐ کے دشمنوں کی غلیظ تہذیب کو سینے سے لگایا؟ کیا ہم اس طوفان بے حیائی سے اپنے آقا ؐ کو تکلیف نہیں پہنچا رہے رہیں؟ جس نبیؐ نے ہماری خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیا آج ہم نے انہیں یہ صلہ دیا کہ انکی سنت و شریعت کو ہی اپنی زندگی سے نکال دیا، کیا یہی ایمان اور عشقِ رسول کا تقاضہ ہے؟ آج ویلنٹائن ڈے کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے وہ تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ لہٰذا آج ضرورت ہیکہ ہم سب ملکر عہد کریں کہ دین اسلام کی تہذیب و ثقافت کی حفاظت کرتے ہوئے ویلنٹائن ڈے کا مکمل بائیکاٹ کریں گے، معاشرے کو پاکیزہ بنانے کی فکر کریں گے اور ہم اپنی محبت کو اسلام کی مقرر کردہ حدود و قیود یعنی پاکیزہ رشتوں تک ہی محدود رکھیں گے کیونکہ پاکیزگی ایمان کا حصہ ہے اور ہمارا ایمان ہماری شان، آن اور بان ہے!

اب جس کے جی میں آئے وہ پائے روشنی

ہم نے تو دل جلاکر سر عام رکھ دیا!