Thursday, 8 April 2021

مسلمان خلاف شرع رسم و رواج کو ختم کرتے ہوئے نکاح کو آسان بنائیں!





مسلمان خلاف شرع رسم و رواج کو ختم کرتے ہوئے نکاح کو آسان بنائیں!

مرکز تحفظ اسلام ہند کی اصلاح معاشرہ کانفرنس سے مولانا محمد صلاح الدین ایوبی قاسمی کا خطاب!


بنگلور، 7؍ اپریل (پریس ریلیز): آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اصلاح معاشرہ کمیٹی کی دس روزہ آسان و مسنون نکاح مہم کی ملک گیر تحریک کے پیش نظر مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد آن لائن اصلاح معاشرہ کانفرنس کی چھٹویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء بنگلور کے صدر حضرت مولانا محمد صلاح الدین ایوبی قاسمی صاحب نے فرمایا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے آسان و مسنون نکاح کی جو مہم چل رہی ہے یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس سے قبل بھی مختلف تنظیموں اور جماعتوں نے ایسی تحریکیں چلائی ہیں۔ لیکن ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہیکہ اکثر خیر کے کاموں میں ہمارا معاشرہ تعاون نہیں کرتا اور کرتا بھی ہے تو نا کے برابر کرتا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ آج جو کچھ ہمارے نکاح میں ہورہا ہے بظاہر ہم اسے اپنی عزت سمجھتے ہیں جبکہ اس میں کوئی عزت نہیں ملتی کیونکہ عزت و ذلت کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ تعالیٰ نے شریعت و سنت کے پابند لوگوں کیلئے ہی عزت رکھی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کا نکاح سادگی اور مسنون طریقہ سے ہوا اور دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ نے انہیں کتنی عزت سے نوازا اس سے ہر کوئی واقف ہے۔ مولانا ایوبی نے فرمایا کہ نکاح ایک عبادت ہے اور کوئی بھی عمل تبھی عبادت کہلاتا ہے جب اسے عبادت کے طریقے پر انجام دیا جائے۔ مولانا نے فرمایا کہ آج کل تو ہمارے معاشرے کی حالت ایسی ہوچکی ہیکہ نکاح کے مختلف رسوم و رواج تو یاد رہتے ہیں لیکن نکاح میں جو اصل فرائض، واجب اور سنتیں ہیں اس کے بارے میں کسی کو کوئی علم نہیں ہوتا۔ مولانا نے فرمایا کہ نکاح میں دو فرائض ہیں ایک ایجاب و قبول کرنا اور دوسرا دو گواہوں کا موجود ہونا، اسی کے ساتھ مہر دینا واجب ہے، اور خطبہ نکاح، نکاح کے بعد چھوارے تقسیم کرنا اور اپنی حیثیت کی مطابق ولیمہ کرنا یہ تین سنتیں ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ افسوس کی بات ہیکہ آج لڑکا مہر تو لکھوادیتا ہے لیکن وہ کاغذ اور دفتر تک ہی محدود ہوجاتا ہے، اسے ادا کرنے کا کوئی احساس بھی نہیں رہتا۔ اسی کے ساتھ ولیمہ میں بھی ایسی فضول خرچی، خلاف شرع رسم و رواج ناچ گانا اور بے حیائی ہوتی ہے لیکن دعوت "ولیمہ مسنونہ" کے نام سے دی جاتی ہے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ لوگ اپنے آپ کو دولت میں تولنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں عزت ملے لیکن وہ لوگ یاد رکھیں عزت متقی اور پرہیزگار لوگوں کو ہی ملتی ہے۔ کاش کہ شادی بیاہ میں لاکھوں روپیہ خرچ کرنے کے بدلے کسی غریب، یتیم، مسکین اور بیوہ کی مدد کرتے تو ہماری زندگیوں میں رحمتیں اور برکتیں حاصل ہوتیں اور ازدواجی زندگی خوشگوار ہوتی۔ یہ نہ کرنے کی وجہ سے ہی آج ہم دنیا میں ذلیل و رسوا ہورہے ہیں۔ مولانا نے مسلمانوں سے اپیل کرتے ہوئے فرمایا کہ اب ان سب چیزوں کو ختم کرو اور نکاح کو آسان و مسنون طریقہ پر انجام دو، اگر خرچ کرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو اپنے بچوں کے ساتھ غریبوں کی اجتماعی شادیاں کرواؤ تاکہ تمہیں انکی دعائیں ملیں۔ مولانا نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی آسان و مسنون نکاح مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی۔ قابل ذکر ہیکہ مولانا محمد صلاح الدین ایوبی قاسمی نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔

Wednesday, 7 April 2021

ناچ گانا، فضول خرچی، لین دین اور دیگر رسومات والی شادیوں کا بائیکاٹ کریں!





ناچ گانا، فضول خرچی، لین دین اور دیگر رسومات والی شادیوں کا بائیکاٹ کریں!

مرکز تحفظ اسلام ہند کی اصلاح معاشرہ کانفرنس سے مولانا محمد زین العابدین رشادی مظاہری کا خطاب!


بنگلور، 7؍ اپریل (پریس ریلیز): آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اصلاح معاشرہ کمیٹی کی دس روزہ آسان و مسنون نکاح مہم کی ملک گیر تحریک کے پیش نظر مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد آن لائن اصلاح معاشرہ کانفرنس کی آٹھویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم شاہ ولی اللہ، بنگلور کے مہتمم اور رابطہ مدراس اسلامیہ دارالعلوم دیوبند شاخ کرناٹک کے صدر معلم الحجاج حضرت مولانا محمد زین العابدین صاحب رشادی مظاہری نے فرمایا کہ کائنات میں بسنے والے ہر ہر فرد کی کامل رہبری کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے زندگی کے ہر شعبے میں پوری کائنات کی رہبری فرمائی۔ لیکن افسوس کا مقام ہیکہ آج اسی نبی کا ماننے والا مسلمان نبی کے طور طریقوں کو چھوڑ کر اغیار اور مغربی تہذیب کو اپناتا جارہا ہے۔ بالخصوص آج کل کی شادی بیاہ کی تقاریب تو صد فی صد غیر اسلامی بن چکی ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ جو لوگ دین و شریعت کو چھوڑ کر شادی بیاہ اور دیگر شعبوں میں غیروں کا طریقہ اپنا رہے ہیں وہ یاد رکھیں کہ انکا حشر انہیں کے ساتھ ہوگا۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہیں میں سے ہوگا۔ مولانا نے فرمایا کہ شادی میں ہونے والے غیر شرعی رسوم و رواج، جہیز کی لین دین، بےپردگی اور ناچ گانا، دعوت کے نام پر دسیوں قسم کے پکوان اور فضول خرچی و دیگر رسومات کا اسلام سے قطعاً کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اسلام اسکی اجازت دیتا ہے۔ کیونکہ اسلام نے نکاح کو آسان بنایا ہے اور سادگی کے ساتھ اسے انجام دینے کی تلقین کی ہے۔ اور برکت والا نکاح بھی وہی ہے جس میں کم خرچ اور کم بوجھ ہو۔ مولانا نے فرمایا کہ اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ اگر اپنے گھر کیلئے پھل یا مٹھائی لیکر جاؤ تو اسے ڈھک لیا کرو تاکہ کسی یتیم کی اس پر نظر نہ پڑے اور وہ غمگین نہ ہو، انہوں نے اس حوالے سے فرمایا کہ جس نکاح میں فضول خرچی ہوتی ہے، لاکھوں روپیوں کا ڈیکوریشن اور شادی محل لیا جاتا ہے تو یاد رکھو بیوہ اور یتیم کی نظر اس پر پڑتی ہے اور انکی آہ نکلتی ہے، جسکی وجہ سے تمہاری زندگیوں سے خوشیاں ختم ہوجایا کرتی ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ تم سمجھتے ہو کہ یہ مال و دولت ہماری ہے، ہم جو چاہے کرسکتے ہیں جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے، مال و دولت اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ ہے اور کل قیامت میں ایک ایک پیسے کا حساب دینا ہوگا۔ مولانا نے فرمایا کہ آج عہد کریں کہ ہم نکاح کو آسان اور مسنون طریقہ سے انجام دینگے اور ایسی شادیاں جن میں غیر شرعی رسوم و رواج پائے جاتے ہیں انکا مکمل بائیکاٹ کریں گے، کیونکہ گناہ کی محفل میں شرکت کرنا بھی گناہ کرنے کے مانند ہے۔ مولانا نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی آسان و مسنون نکاح مہم میں امت مسلمہ بالخصوص نوجوانان ملت کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور نکاح کو سادہ اور مسنون طریقہ سے انجام دینے کی اپیل کی۔ علاوہ ازیں انہوں نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہا اور دس روزہ اصلاح معاشرہ کانفرنس کے انعقاد پر مبارکبادی پیش کرتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ قابل ذکر ہیکہ آخیر میں مولانا محمد زین العابدین رشادی مظاہری نے بورڈ کے جنرل سیکرٹری، امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب رحمہ اللہ کے انتقال پر تعزیت پیش کرتے ہوئے انکی مغفرت کیلئے دعا فرمائی۔

نکاح کاروبار نہیں بلکہ عبادت ہے، جہیز والی شادیوں کا بائیکاٹ کریں!





نکاح کاروبار نہیں بلکہ عبادت ہے، جہیز والی شادیوں کا بائیکاٹ کریں!

مرکز تحفظ اسلام ہند کی اصلاح معاشرہ کانفرنس سے مولانا سید ازہر مدنی کا خطاب!



بنگلور، 7؍ اپریل (پریس ریلیز): آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اصلاح معاشرہ کمیٹی کی دس روزہ آسان و مسنون نکاح مہم کی ملک گیر تحریک کے پیش نظر مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد آن لائن اصلاح معاشرہ کانفرنس کی ساتویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء اترپردیش کے سکریٹری نبیرۂ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید ازہر مدنی صاحب نے فرمایا کہ اسلام میں نکاح ایک اہم اور بڑی عبادت ہے اور تمام انبیاء کی سنت ہے۔ شریعت اسلامیہ نے نکاح کو بہت آسان بنایا ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہیکہ آج ہمارے معاشرے نے نکاح کو بہت ہی مشکل بنا دیا ہے۔ یہاں تک کے معاشرے نے نکاح کو ایک کاروبار بنا دیا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ نکاح ایک کاروبار نہیں بلکہ ایک اہم عبادت اور پیار و محبت کا ایک مضبوط رشتہ ہے۔ شریعت نے ہمیں نکاح کے بارے میں بھی رہبری فرماتے ہوئے فرمایا کہ رشتوں کا انتخاب مال و دولت کے بجائے دینداری کی بنیاد پر کیا جائے اور اسی میں کامیابی ہے۔ مولانا مدنی نے فرمایا کہ آج کل نکاح میں دن بہ دن غیر شرعی رسوم و رواج بڑھتے ہی جارہے ہیں اور بالخصوص جہیز کا لین دین تو آسمان چھو رہا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ جہیز ایک ناسور ہے جو ہمارے معاشرے کو تباہی کی طرف لے جارہا ہے، اس لعنت نے لاکھوں بیٹیوں اور بہنوں کی زندگی کو جہنم بنا رکھا ہے۔ انکی آرزوؤں، تمناؤں اور حسین زندگی کے سپنوں کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ اس رسم کی وجہ سے ہزاروں بیٹیاں بن بیاہی گھروں میں بیٹھی ہیں اور ہزاروں جانیں اس جہیز کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ اسی کے ساتھ نکاح میں بارات کی رسم اور فضول خرچی بھی اپنے عروج پر ہے، جس کی وجہ سے لڑکی والے اپنی زندگی کو داؤ پر لگانے پر مجبور ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ مسلم معاشرہ ان غیر شرعی رسوم و رواج کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، جس کی وجہ سے نت نئے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور مسلم معاشرہ پریشانی کا شکار رہتا ہے۔ مولانا مدنی نے فرمایا کہ نکاح جتنی سادگی کے ساتھ ہوگا اس میں اتنی ہی برکت ہوگی۔ ہم جس شریعت کو مانتے ہیں اس کے مطابق نکاح کیا جانا چاہیے، اسی میں کامیابی حاصل ہوگی۔ مولانا نے فرمایا کہ ضرورت ہیکہ آج ہم سب عہد کریں کہ ہم غیر شرعی رسوم و رواج کو چھوڑ کر نکاح کو دین و شریعت کے مطابق آسان و مسنون طریقہ پر انجام دینگے۔ انہوں نے فرمایا کہ اسی کے ساتھ ہر محلہ میں کمیٹیاں بنائی جائیں اور وہ فیصلہ کرے کہ غیر شرعی رسوم و رواج اور جہیز کے لین دین والی شادیوں کا مکمل بائیکاٹ کریں گے، اس سے بھی نکاح آسان ہوگا۔ اسی کے ساتھ مولانا نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے آسان و مسنون نکاح مہم میں سب کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور اکابرین بورڈ کی ہدایات پر مکمل عمل کرنے کی اپیل کی۔ قابل ذکر ہیکہ مولانا سید ازہر مدنی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی کوششوں اور کاوشوں کو خوب سراہتے ہوئے دعاؤں سے نوازا۔

امیر شریعت کے انتقال پر مرکز تحفظ اسلام ہند کی تعزیتی و دعائیہ نشست!



مفکر اسلام مولانا محمد ولی رحمانیؒ کی وفات ملت اسلامیہ کیلئے عظیم خسارہ اور ایک عہد کا خاتمہ ہے!

امیر شریعت کے انتقال پر مرکز تحفظ اسلام ہند کی تعزیتی و دعائیہ نشست!


بنگلور، 07؍ اپریل (پریس ریلیز): عالم اسلام کی مایہ ناز اور عظیم شخصیت، مسلمانانِ ہند کے قدآور اور عظیم رہنما، مفکر اسلام، امیر شریعت حضرت اقدس مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ 03؍ اپریل 2021ء بروز سنیچر کو اس دارفانی سے دارالبقاء کی طرف کوچ کرگئے۔انکے انتقال کی خبر پھیلتے ہی عالم اسلام بالخصوص مسلمانانِ ہند پر غم و افسوس کا بادل چھا گیا۔ ہنگامی طور پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے اراکین نے اسی رات ایک آن لائن زوم پر تعزیتی و دعائیہ نشست منعقد کی۔ جس میں مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان، ناظم اعلیٰ مولانا محمد رضوان حسامی و کاشفی، آرگنائزر حافظ حیات خان، اراکین شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی، قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی، مولانا محمد نظام الدین، مفتی جلال الدین قاسمی، مولانا ایوب مظہر قاسمی، اراکین احمد خطیب خان، شبیر احمد، سید توصیف، عمیر الدین، حافظ شعیب اللہ خان، حافظ نور اللہ، شیخ عدنان احمد، محمد عاصم، حارث پٹیل، عمران خان اور جمعیۃ الحفاظ فاؤنڈیشن کے جنرل سیکرٹری حافظ محمد ادریس مصباحی وغیرہ نے شرکت کی۔اس موقع پر حضرت امیر شریعت کے ایصال ثواب کیلئے مرکز کے اراکین نے دو قرآن مجید کی تلاوت کی۔ مرکز کے ڈائریکٹر، ناظم اعلیٰ و دیگر اراکین نے حضرت کی شخصیت پر مختصر روشنی ڈالی بعد ازاں ایک تعزیتی مکتوب میں مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے فرمایا کہ حضرتؒ کی شخصیت ہمہ جہت تھی۔ انکی پوری زندگی ملت کی خدمت سے عبارت تھی۔ وہ ایک جید عالم دین، ماہر تعلیمات، لاکھوں علماء کے استاذ، لاکھوں مریدین کے کامل شیخ طریقت، خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشین، جامعہ رحمانی مونگیر کے سرپرست، بہار، اڑیسہ اور جھارکھنڈ کے امیر شریعت، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکریٹری، درجنوں مدارس عربیہ کے سرپرست اور درجنوں کتابوں کے مصنف تھے۔انہوں نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کیلئے وقف کردی تھی۔ انکا شمار ان بزرگ ترین ہستیوں میں ہوتا ہے جن کے علمی و دینی خدمات سے تاریخ کے نے شمار باب روشن ہیں۔ آپکی شخصیت تواضع و انکساری، خوش مزاجی و سادگی، تقویٰ و پرہیزگاری، شستہ و شگفتہ اخلاق کی حامل تھی۔ آپکی ذات عالیہ مسلمانان ہند کے لئے قدرت کا عظیم عطیہ تھی، جو انقلابی فکر اور صحیح سمت میں صحیح اور فوری اقدام کی جرأت رکھتے تھے۔ استقلال، استقامت، عزم بالجزم، اعتدال و توازن اور ملت کے مسائل کیلئے شب و روز متفکر اور رسرگرداں رہنا حضرت امیر شریعت کی خاص صفت تھی۔انکی بے باکی اور حق گوئی ہر خاص و عام میں مشہور تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ حضرت امیر شریعت ؒکا اس طرح اچانک پردہ فرما جانے سے ملت اسلامیہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، بلکہ علمی و عملی میدان میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔ انکا انتقال ایک عظیم خسارہ ہے بلکہ ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اس رنج و ملال کے موقع پر ہر ایک تعزیت کا مستحق ہے۔ لہٰذا وہ عموماً پوری ملت اسلامیہ اور خصوصاً تمام محبین، متعلقین، تلامذہ و مریدین بالخصوص حضرت والا کے فرزندان جانشین مفکر اسلام مولانا احمد فیصل رحمانی صاحب، محترم حامد فہد رحمانی صاحب، مولانا نے خلیفہ اجل حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی صاحب، و جمیع اراکین بورڈ، امارت شرعیہ، خانقاہ رحمانی و جامعہ رحمانی، و جملہ پسماندگان کے غم و افسوس میں برابر کے شریک ہیں اوروہ اپنی اور مرکز تحفظ اسلام ہند کے اراکین کی جانب سے تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہیں۔ اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت والا کی مغفرت فرماتے ہوئے انکی خدمات کو شرف قبولیت بخشے اور انکے نہ رہنے سے جو کمی ہوئی ہے اسکی تلافی فرمائے، اسکا نعم البدل عطاء فرمائے۔نیز مرحوم کو جوار رحمت اور اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ قابل ذکر ہیکہ یہ تعزیتی و دعائیہ نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد رضوان حسامی و کاشفی کی دعا سے اختتام پذیر ہوئی۔


Tuesday, 6 April 2021

معاشرے کو جہیز کی زنجیروں سے آزاد کروانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے!





معاشرے کو جہیز کی زنجیروں سے آزاد کروانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کی اصلاح معاشرہ کانفرنس سے مولانا محمد مقصود عمران رشادی کا خطاب!


بنگلور، 6؍ اپریل (پریس ریلیز): آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اصلاح معاشرہ کمیٹی کی دس روزہ آسان و مسنون نکاح مہم کی ملک گیر تحریک کے پیش نظر مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد آن لائن اصلاح معاشرہ کانفرنس کی پانچوں نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامع مسجد سٹی بنگلور کے امام و خطیب حضرت مولانا محمد مقصود عمران رشادی صاحب نے فرمایا کہ اسلام نے نکاح کو جتنا آسان بنایا تھا آج معاشرے نے اسے اتنا ہی مشکل بنا دیا ہے۔ شادی بیاہ میں بیجا رسوم و رواج اور جہیز کے لین دین نے امت کے ہزاروں گھرانوں کو تباہ و برباد کردیا ہے۔ بالخصوص مالداروں کی شادیوں میں ہونے والی فضول خرچی اور لین دین کی وجہ سے امت کے غریب گھرانوں کی ہزاروں بیٹیاں جہیز کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ آج امت کی حالت ایسی ہوچکی ہیکہ وہ فضول خرچی اور غیر شرعی رسوم و رواج کو گناہ ہی نہیں سمجھتی، جس کی وجہ سے یہ لوگ بےتحاشا ان گناہوں میں پڑ کر عیاشی کررہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ مالدار ہونا بری بات نہیں ہے بلکہ مال و دولت کو غلط جگہوں پر استعمال کرنا اور فضول خرچی کرنا بری بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکاح ایک عبادت ہے اور عبادت میں نمائش نہیں کی جاتی اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ شخص سب سے زیادہ محترم ہے جو تقویٰ والا ہو۔ مولانا نے فرمایا کہ ہماری کامیابی و کامرانی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عمل کرنے میں ہی ہے اور دین و شریعت سے علاحدہ ہوکر نکاح کرنے سے کامیابی اور سکون کبھی حاصل نہیں ہوسکتا۔ مولانا نے فرمایا کہ جہیز کے مطالبات بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہیکہ لڑکیوں کو وراثت سے بےدخل کردیا جارہا ہے۔ مولانا رشادی نے فرمایا کہ نکاح کو آسان بنانے کا طریقہ یہ ہیکہ نکاح کو سنت و شریعت کے مطابق انجام دیں اور جہیز کی لعنت سے اس امت کو بچائیں۔ مولانا نے فرمایا کہ معاشرہ کے نوجوان کھڑے ہوکر جہیز کی ان زنجیروں کو توڑکر معاشرے سے اس لعنت کو ختم کریں اور کسی کے دباؤ میں نہ آکر نکاح کو نبوی طریقہ کے مطابق انجام دیں، اس سے نکاح بھی آسان ہوگا، ازدواجی زندگی بھی خوشگوار ہوگی اور ایک بہترین معاشرہ بھی بنے گا۔ مولانا نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی کی جانب سے ملکی سطح پر جاری آسان و مسنون نکاح مہم میں بھر پور تعاون کرنے کیلئے امت مسلمہ بالخصوص نوجوانان ملت سے اپیل کی۔ قابل ذکر ہیکہ مولانا محمد مقصود عمران رشادی نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔