Monday, 16 August 2021

مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام مشاعرۂ جشن آزادی کا انعقاد، ملک کے مشہور شعراء نے کی شرکت!



 مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام مشاعرۂ جشن آزادی کا انعقاد، ملک کے مشہور شعراء نے کی شرکت!

تحریک آزادی اردو شعر و ادب کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی: مفتی افتخار احمد قاسمی


بنگلور، 16؍ اگست (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام یوم آزادی کی مناسبت سے ایک عظیم الشان آن لائن مشاعرۂ جشن آزادی مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب (مہتمم جامعہ اسلامیہ تعلیم القرآن بنگلور و صدر جمعیۃ علماء کرناٹک) کی صدارت اور مرکز کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی میں منعقد ہوا۔ جسکی نظامت کے فرائض مدرسہ تعلیم القرآن شاخ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے صدر المدرسین مولانا غفران احمد ندوی نے انجام دئے۔ جبکہ مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی اس مشاعرے کے کنوینر رہے اور مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان خاص طور پر شریک تھے۔ مشاعرے کا آغاز قاری محمد ثاقب قاسمی معروفی کی تلاوت اور قاری بدرعالم چمپارنی کے نعتیہ اشعار سے ہوا۔ مشاعرۂ جشن آزادی میں ملک کے مشہور و معروف شعراء کرام نے شرکت کی۔ خصوصاً مولانا سجاد اعظم قاسمی لکھیم پوری، قاری اشفاق بہرائچی، قاری وجیہ الدین جلال کبیرنگری، مولانا فیصل میرٹھی، قاری فردوس کوثر جھارکھنڈ، قاری بدرعالم چمپارنی، وغیرہ نے اس عظیم الشان آن لائن مشاعرۂ جشن آزادی میں شرکت فرماکر سامعین کو اپنے کلام سے محظوظ فرمایا۔ بالخصوص جنگ آزادی میں مسلمانوں کا کردار، اپنے بزرگوں کی جد وجہد، دارالعلوم دیوبند اور اسکے اکابرین کی قربانیاں، حب الوطنی اور قومی یکجہتی پر بہترین اشعار پڑھے۔ اس موقع پر صدارتی خطاب کرتے ہوئے مرکز کے سرپرست مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب نے فرمایا کہ شاعری انسانی جزبات کی عکاسی کرنے کا ایک خوبصورت اور نہایت طاقتور ذریعہ ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ نبیوں اور رسولوں کی باتیں چونکہ وحی خداوندی والہامات ربانی پہ مبنی ہوتی ہیں؛ جبکہ شعراء کی باتیں شعور وآگہی، تخیل، پروازیِ فکر اور بسا اوقات حد درجہ مبالغہ آرائی پر مبنی ہوتی ہیں؛ اس لیے شعر وشاعری نبیوں اور رسولوں کے مقام نبوت کی شایان شان قرار تو نہیں دی گئی، لیکن رسولوں سے مطلقاً اس کی نفی نہیں کی گئی، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگرچہ یہ فن عطاء نہیں ہوا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذبان مبارک سے مختلف مواقع پر بیساختہ اشعار جاری فرمایا۔ اس معلوم ہوا کہ شعر و شاعری کہنا جائز ہے کیونکہ اگر شعر کہنا صحیح نہیں ہوتا تو آپ ﷺ کی زبان مبارک سے شعر کبھی جاری نہیں ہوتا۔ مولانا نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں صحابہ کرام اشعار پڑھتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم داد وتحسین سے نوازتے تھے، گویا کہ یہ مشاعروں کی محفل ہوا کرتی تھی۔ مولانا نے فرمایا کہ شعر و شاعری بہت اچھا فن ہے اور اس کے ذریعے بڑے بڑے انقلابات روئے زمین پر رونما ہوئے ہیں۔ ہندوستان میں قدیم زمانے سے شعر و شاعری کا سلسلہ چلا آرہا ہے اور ہندوستان کے مشاعروں نے قومی یکجہتی میں بڑا رول ادا کیا ہے، ملک کی آزادی کی تحریک میں قومی جذبے اور حرارت کو کوٹ کوٹ کر بھردیئے۔ یہی وجہ ہیکہ تحریک آزادی شعر و شاعری اور اردو ادب کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔مولانا قاسمی نے فرمایا کہ ہمارے ملک میں مشاعرے ابتداء خالص اصولی، ادبی اور تہذیبی شان کے حامل وامین  اور تہذیبی اقدار وتقدس کے محافظ رہے۔ ادب وشائستگی، حیاء و وقار ان مشاعروں کا خاص امتیاز رہا ہے۔ لیکن ادھر قریب ایک دہائی سے ہمارے ملک کے اردو مشاعرے ہماری تاریخی ثقافت، ادبی معنویت اور تہذیبی روایات کھو بیٹھے، مشاعرے کی تہذیبی فضاء بری طرح مجروح ہوئی، ادبی معیار گھٹ کر بازاری بن گیا،  اسلام نے جس جاہلی شاعری کی تطہیر کی تھی، فحاشی وعریانیت، شہوت انگیز بد گوئی اور فضولیات پہ مشتمل اشعار کو ناجائز وحرام قرار دیا تھا۔ اعتقادات و اخلاقیات کو خراب وفاسد کردینے والی حیاء باختہ و گمراہ کُن منفی شاعری پہ بندش لگائی تھی، ہمارے مشاعرے پھر اسی جاہلی شاعری کی ڈگر پہ رواں ہوگئے، دبے پاؤں ان میں پھر وہی ساری خرابیاں در آئیں۔ مولانا نے فرمایا آج ضرورت ہیکہ ہم ان مروجہ مشاعروں کو روکنے کی بھر پور کوشش کریں اور انکا بائیکاٹ کریں اور مشاعروں کی محفلیں اس طریقہ پر منعقد کریں جس کی ہمیں شریعت اجازت دیتی ہو اور جس طرح دور نبوی میں قائم ہوتا تھا۔ مولانا افتخار احمد قاسمی نے مرکز تحفظ اسلام ہند کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ مرکز تحفظ اسلام ہند کے اراکین قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے شرعی حدود میں رہ کر اس مشاعرہ کو منعقد کرکے امت کے سامنے ایک مثال قائم کردی، لہٰذا ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ آئندہ بھی اسی طریقے پر مشاعرہ منعقد کریں اور مروجہ مشاعرہ سے بلکل احتراز کریں۔ قابل ذکر ہیکہ پروگرام کے اختتام سے قبل مرکز کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے صدر مشاعرہ، شعراء کرام، مہمانان خصوصی اور آنے والے سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اور صدر مشاعرہ مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب کی دعا سے یہ عظیم الشان مشاعرۂ جشن آزادی اختتام پذیر ہوا۔

Sunday, 15 August 2021

ہندوستان کی آزادی مسلمانوں کی مرہون منت ہے، مسلمانوں کی سنہری تاریخ ہمیشہ زندہ رہے گی!









 ہندوستان کی آزادی مسلمانوں کی مرہون منت ہے، مسلمانوں کی سنہری تاریخ ہمیشہ زندہ رہے گی!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام یوم آزادی کے موقع پر جشن یوم آزادی کانفرنس!


بنگلور، 14؍ اگست (پریس ریلیز): یوم آزادی 15؍ اگست کی تاریخ ہندوستان کی ایک یادگار اور اہم ترین تاریخ ہے، اسی تاریخ کو ہمارا یہ پیارا وطن ہندوستان انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا، اور طوقِ سلاسل کا سلسلہ ختم ہوا۔ ہندوستان کو طویل جدوجہد کے بعد آزادی کی نعمت حاصل ہوئی، جس کے لیے ہمارے اسلاف نے زبردست قربانیوں کا نذرانہ پیش کیا، جان و مال کی قربانیاں دیں، تحریکیں چلائیں، تختہ دار پر چڑھے، پھانسی کے پھندے کو جرأت و حوصلہ اور کمال بہادری کے ساتھ بخوشی گلے لگایا، قید و بند کی صعوبتیں جھلیں اور حصولِ آزادی کی خاطر میدان جنگ میں نکل پڑے، اور تقریباً دو سو سال تک مسلسل قربانیوں اور جانفشانیوں کے بعد آزادی کا یہ دن دیکھنے کو نصیب ہوا اور انگریز ملک سے نکل جانے پر مجبور ہوئے اور ہندوستان آزاد ہوا۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا۔انہوں نے فرمایا کہ ہندوستان کی آزادی کی کہانی اور تاریخ مسلمانوں کے خون سے لکھی گئی ہے۔ آبادی کے لحاظ سے کم تناسب کے باوجود جدوجہد آزادی میں مسلمانوں نے نہ صرف بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ اپنے وطن عزیز کی آزادی کو یقینی بنانے کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کئے۔ آج ہم جو اطمینان اور سکون کی زندگی گزاررہے ہیں، اور آزادی کے ساتھ جی رہے ہیں یہ سب ہمارے مسلم عوام اور علماء کی دَین ہے۔ اگر مسلمان میدان جنگ میں نہ کودتے اور علماء مسلمانوں کے اندر جذبہ جہاد و آزادی کو پروان نہ چڑھاتے تو پھر شاید کبھی یہ ہندوستان غلامی سے نجات نہیں پاسکتا تھا۔ بلکہ ہندوستان کی آزادی مسلمانوں ہی کی مرہون منت ہے۔کیونکہ ہم نے اس راہ میں اپنا اتنا خون بہایا ہیکہ دوسروں نے اتنا پسینہ بھی نہیں بہایا ہوگا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت اور ناقابل فراموش سچائی ہے کہ مسلمانوں نے ہی سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اس ملک کو آزاد کرانے کی کوشش کی، اور اپنی آنکھوں میں اپنے پیارے وطن کی آزادی کے خواب لیے جان وتن نچھاور کیا۔ سخت ترین اذیتوں کو جھیلا، خطرناک سزاؤں کو برادشت کیا، طرح طرح کی مصیبتوں سے دوچار ہوئے، حالات و آزمائشوں میں گرفتار ہوئے، لیکن برابر آزادی کا نعرہ لگاتے رہے اور ہر ہندوستانی کو بیدار کرتے رہے، کبھی میدان سے راہ فرار اختیار نہیں کی اور نہ ہی کسی موقع پر ملک وطن کی محبت میں کمی آنے دی۔ محمد فرقان نے فرمایا کہ افسوس کی بات ہیکہ جدوجہد آزادی میں جس قوم مسلم نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں آج اسکی تاریخ کو مٹانے کی بھر پور کوشش کی جارہی ہے اور مسلمان بھی اس سلسلے میں غفلت کا شکار نظر آرہے ہیں۔ایک سازش کے تحت فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کی قربانیوں کو جان بوجھ کر چھپانے اور عوام کی نظروں سے اوجھل کرنے کی کوششیں کررہی ہیں۔ ایسے دور میں ضرورت ہیکہ ہم اپنے اسلاف کی قربانیوں کی روشن تاریخ کو ملک کے چپے چپے تک پہنچائیں بالخصوص ملت اسلامیہ ہندیہ کے نونہالوں کو اپنی تاریخ سے واقف کروائیں، کیونکہ جو قوم اپنی تاریخ ماضی فراموش کردے اسکا وجود ختم ہوجاتا ہے۔مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے فرمایا کہ اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند نے یوم آزادی کے موقع پر ”عظیم الشان آن لائن جشن یوم آزادی کانفرنس“ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کی صدارت جمعیۃ علماء اترپردیش کے صدر نواسہئ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید اشہد رشیدی صاحب (مہتمم جامعہ قاسمی شاہی مرادآباد) فرمائیں گے، جبکہ بطور مہمانان و مقررین خصوصی کے طور پر دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث حضرت مولانا مفتی اشرف عباس قاسمی صاحب، جمعیۃ علماء تمل ناڈو کے صدر حضرت مولانامفتی سبیل احمد قاسمی صاحب اور جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر حضرت مولانا عبد الرحیم رشیدی صاحب شرکت فرمائیں گے۔جبکہ مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی کی تلاوت اور قاری فخر الاسلام کبیر نگری کے نعتیہ اشعار سے کانفرنس کا آغاز ہوگا اور جمعیۃ علماء رائچور کے صدرمفتی سید ذیشان حسن قادری قاسمی کانفرنس کی نظامت کے فرائض انجام دینگے۔ یہ کانفرنس مرکز تحفظ اسلام ہند کے آفیشیل یوٹیوب چینل اور فیس بک پیج تحفظ اسلام میڈیا سروس پر 15؍ اگست بروز اتوار کی رات 9:00سے براہ راست لائیو نشر کیا جائے گا۔محمد فرقان نے تمام اہل وطن سے اپیل کی کہ وہ اس اہم اور عظیم الشان آن لائن جشن یوم آزادی کانفرنس میں شرکت کرکے شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں اور جنگ آزادی کی حقیقی تاریخ سے پورے ملک کو واقف کرائیں۔

Saturday, 14 August 2021

تحریکِ آزادی میں اردو شعر و ادب کا کردار ناقابل فراموش ہے!

 



تحریکِ آزادی میں اردو شعر و ادب کا کردار ناقابل فراموش ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام عظیم الشان مشاعرہ جشن آزادی، اہل وطن سے شرکت کی اپیل!


 بنگلور، 13؍ اگست (پریس ریلیز): ہندوستان کی جنگ آزادی کی تحریک ایک ایسی داستان کا درجہ رکھتی ہے، جو شہیدان وفا کے خون سے گوناگوں رنگین نظر آتی ہے۔ جس میں ایک رنگ اردو کا بھی ہے۔ جب بھی تحریک آزادی کی بات چھڑیگی تو”اردو“ کا تذکرہ ضرور ہوگا کیونکہ اس کے تذکرے کے بغیر تحریک آزادی کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔ ہماری مادری زبان اردو نے ہندوستان کی جنگ آزادی میں اہم رول ادا کیا ہے۔ جب ہمارا ملک غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا تو اس دوران سرزمین ہند نے اپنی کوکھ سے جہاں بے شمار مجاہدین آزادی کو جنمیں دیا وہیں بے شمار شاعروں، ادیبوں اور صحافیوں کو بھی جنم دیا۔اردو شعراء نے وطن کی محبت میں نہ جانے کتنے ترانے گائے۔ انقلاب زندہ باد اور آزادی پائندہ باد جیسے نعرے لگائے۔ انکی شعر و شاعری اور شعلہ بار تقریروں سے تمام ہندوستانیوں بالخصوص مجاہدین آزادی کو عزم و حوصلہ اور طاقت و توانائی عطا کرنے، عوام کو بیدار کرنے، اس کے اندر سیاسی شعور پیدا کرنے، ہندو مسلم اتحاد کو مضبوط کرنے، انگریزوں کے ظلم کی داستان بیان کرنے اور انسانوں کی پیدائش و فطری آزادی کا نعرہ بلند کرنے کا کام نہایت کامیابی سے کیا۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا۔انہوں نے فرمایا کہ تحریکِ آزادی میں اردو شعر و ادب کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ لہٰذا اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے 75ویں یوم آزادی کے جشن کے طور پر مرکز تحفظ اسلام ہند بتاریخ 14؍ اگست 2021ء بروز سنیچر ٹھیک رات 8:00بجے ایک ”عظیم الشان آن لائن مشاعرہ جشن آزادی“ کے عنوان سے ایک آن لائن مشاعرہ منعقد کرنے جارہی ہے۔ جسکی صدارت مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب (صدر جمعیۃ علماء کرناٹک و مہتمم جامعہ اسلامیہ تعلیم القرآن بنگلور) فرمائیں گے اور نظامت کے فرائض حضرت مولانا غفران ندوی صاحب (صدر المدرسین مدرسہ تعلیم القرآن شاخ ندوۃ العلماء لکھنؤ) انجام دینگے۔ جبکہ ملک کے مشہور و معروف شعراء کرام مثلاً مولانا سجاد اعظم قاسمی لکھیم پوری، قاری اشفاق بہرائچی، قاری وجیہ الدین جلال کبیرنگری، مولانا فیصل میرٹھی، قاری فردوس کوثر جھارکھنڈ، قاری بدرعالم چمپارنی، وغیرہ اس عظیم الشان آن لائن مشاعرہ جشن آزادی میں شرکت فرمائیں گے اور اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ فرمائیں گے۔ مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے فرمایا کہ اس مشاعرے کے کنوینر مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی رہیں گے اور مشاعرہ کا آغاز مولانا قاری محمد ثاقب معروفی صاحب قاسمی (استاد تجوید و قرأت مدرسہ کنز العلوم ٹڈولی سہارنپور) کی تلاوت سے ہوگا۔ اختتام سے قبل صدر مشاعرے و سرپرست مرکز کا”جنگ آزادی میں مسلمانوں کا کردار“کے عنوان پر کلیدی و جامع خطاب ہوگا۔ یہ مکمل پروگرام مرکز تحفظ اسلام ہند کے آفیشیل یوٹیوب چینل اور فیس بک پیج تحفظ اسلام میڈیا سروس پر براہ راست نشر کیا جائے گا۔ مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام اہل وطن سے کثیر تعداد میں شرکت کی اپیل کی ہے۔

Friday, 13 August 2021

ارتداد کے طوفان کو روکنے کیلئے امت مسلمہ کے ہر ایک فرد کو آگے آنا ہوگا!


 ارتداد کے طوفان کو روکنے کیلئے امت مسلمہ کے ہر ایک فرد کو آگے آنا ہوگا!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے اصلاح معاشرہ کانفرنس سے مولانا عمرین محفوظ رحمانی، مولانا محمود دریابادی اور مولانا یحییٰ نعمانی کا خطاب!


 بنگلور 12؍ اگست (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد آن لائن سہ روزہ اصلاح معاشرہ کانفرنس بعنوان ”مسلم لڑکیاں ارتداد کے دہانوں پر: اسباب اور حل“ کی دوسری نشست سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری اور مرکز کے تحفظ اسلام ہند کے سرپرست حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب نے فرمایا کہ کائنات کی سب سے بڑی سچائی دین و اسلام ہے اور کائنات کے سارے انسانوں کی کامیابی صرف اور صرف اسلام میں ہے۔ دین و اسلام ایک عظیم نعمت ہے اور جو یہ نعمت چھوڑ کر دوسرے مذہب کو اپنائے گا اسے دونوں جہاں میں سزا بھگتنی پڑے گی۔ کیونکہ یہی وہ نعمت ہے جو دنیا میں عزت اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔ مولانا رحمانی نے فرمایا کہ افسوس کا مقام ہیکہ آج ہمیں اس نعمت کی قدر اور عظمت کا احساس نہیں ہے اور کتنے ہماری بہنیں اور بھائی ہیں جو ارتداد کا شکار ہورہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ فکری، عملی اور ذہنی ارتداد کی لہروں نے امت کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے لیکن ہمیں مایوس ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ اس وقت مسلم لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں سے شادی کے معاملات اپنے عروج پر ہیں۔ اور یہ ارتداد کے واقعات کوئی اتفاقی واقعات نہیں ہے بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی اور پوری تیاری و سازش کے ساتھ مسلمان لڑکیوں کو ارتداد کا شکار بنایا جارہا ہے۔ جسکے پیچھے کئی فرقہ پرست تنظیمیں کام کررہی ہیں، غیر مسلم لڑکوں کو مسلمان لڑکیوں کو رجھانے، قریب کرنے اور پھر ان کا جنسی استحصال کرنے کے لیے گراں قیمت تحفے دئے جاتے ہیں، مثلاً مہنگے موبائیل، لیپ ٹاپ، گاڑیاں وغیرہ دی جارہی ہے۔ اور باضابطہ ان کی فنڈنگ کی جا رہی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ لو جہاد نام کی کوئی چیز اس ملک میں نہیں ہے، البتہ یہ شوشہ صرف اس لیے چھوڑا گیا تھا کہ ہندو نوجوانوں میں انتقامی جذبہ ابھارا جائے اور خود مسلمانوں کو لوجہادمیں الجھا کر اندرون خانہ مسلمان لڑکیوں کو تباہ و برباد کرنے کا کھیل کھیلا جائے۔ مولانا نے فرمایا کہ ارتداد کی دوسری وجہ یہ ہیکہ لڑکے لڑکیوں کا اختلاط ہورہا ہے، مخلوط تعلیم کی وجہ بے حیائی اور بے پردگی عام ہورہی، بے جا رسومات کی وجہ سے شادی بیاہ مہنگے ہورہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ ارتداد کے اس طوفان کو روکنے کیلئے امت مسلمہ کے ہر ایک فرد بالخصوص علماء و دانشوران اور مذہبی و ملی تنظیموں کو میدان میں آنا ہوگا اور مسلسل محنت کرنی ہوگی۔ مولانا نے فرمایا کہ ارتداد کو روکنے کیلئے ہمیں اپنے اندر دینی غیرت و حمیت پیدا کرنی چاہیے، مسجد کے منبر و محراب سے اس موضوع پر صاف صاف گفتگو کرنی چاہیے، مستورات کے اجتماعات منعقد کرنی چاہیے، اسکول اور کالجز میں پڑھنے والے بچوں سے بات کرنی چاہیے انہیں بتانا چاہئے کہ دونوں جہاں کی کامیابی صرف دین و اسلام میں ہے، اسی کے ساتھ مکاتب کے نظام کو مضبوط اور مستحکم کرنا چاہئے، اپنے نونہالوں کے دلوں پر عقیدہ توحید و رسالت کو نقش کرنا چاہیے، ساتھ ہی ہمیں سماجی بیداری پیدا کرنی چاہیے اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی بیداری پیدا کرنی چاہیے- مولانا نے فرمایا کہ والدین کو خاص طور پر اپنے بچوں پر نگرانی کرنی چاہیے اور انکی ہر طرح سے ترتیب کرنی چاہیے۔


 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن حضرت مولانا محمود احمد خان دریابادی صاحب نے فرمایا کہ ارتداد کا مسئلہ بڑا سنگین مسئلہ ہے۔یہ مسئلہ فقط ملکی نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے، جس سے دیگر مذاہب والے بھی شکار ہیں۔ اور یہ صرف لڑکیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ لڑکوں کا بھی مسئلہ ہے۔ ہمارے ملک میں اس مسئلے میں اب ایک سازش اور سیاست داخل ہوچکی ہے۔ اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ مسلم لڑکے اور لڑکیوں کو ارتداد کا شکار بنایا جارہا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ آج مسلمان نوجوان لڑکے لڑکیوں کی ایک تعداد اعلانیہ طور پر ارتداد کا شکار ہورہی ہے لیکن اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ آج مسلمانوں کے عصری اسکولوں وکالجز میں زیر تعلیم نوجوان طبقہ حتیٰ کہ دیندار گھرانوں کے لڑکے لڑکیوں کی اکثریت فکری ارتداد میں مبتلا ہیں وہ بظاہر تو مسلمان ہیں مگر غیر شعوری طور پر انکے دلوں سے ایمان نکل رہا ہے۔ اور اپنے دین و مذہب کے سلسلے میں وہ مشکوک ہورہے ہیں۔ لہٰذا ہمیں سب سے پہلے اس فکری ارتداد کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مولانا دریابادی نے فرمایا کہ مسلم لڑکیوں میں بڑھتا ارتداد کی وجہ بے دینی، مخلوط تعلیم، بے پردگی اور شادی بیاہ میں بے جا رسوم و رواج ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی دینی چاہیے اور شادی بیاہ کو آسان بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔


 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن حضرت مولانا یحییٰ نعمانی صاحب نے فرمایا کہ ارتداد کی لہر اپنے عروج پر ہے لیکن جس قدر ہم لوگ کو اس مسئلے کے سلسلے میں غفلت کا شکار ہیں وہ قابل افسوس ہے۔ ماضی میں جب کبھی ارتداد کا کوئی ایک واقعہ بھی پیش آجاتا تو پوری امت بے چین ہوجاتی تھی لیکن آج ہزاروں مسلم لڑکے اور لڑکیاں مرتد ہورہے ہیں اور ہمارے سر پر جوں تک نہیں رینگتی۔ مولانا نے فرمایا کہ جس دین و مذہب کو ہمیں دوسروں تک پہنچانے تھا آج اسی دین و مذہب کے ماننے والے دوسرے مذاہب کو اپنا رہے ہیں۔ مولانا نعمانی نے فرمایا کہ ارتداد کی بنیادی وجہ بے دینی، جہالت، مخلوط تعلیم نظام اور مختلف شعبوں اور اداروں میں اجنبی مرد و عورت کا اختلاط ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ایسی جگہوں پر شرم و حیا اور پردہ کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا۔ اور ایسے لوگوں میں دین کا شعور نہیں ہوتا۔مولانا نعمانی نے فرمایا کہ امت مسلمہ کے ہر ایک فرد کو چاہیے کہ وہ اپنی مصروفیت کے علاوہ کچھ وقت اور سرمایہ ایسے لوگوں میں دین کا شعور پیدا کرنے کیلئے خرچ کریں اور امت کے نوجوانوں میں دینی اور ملی حمیت اور فکر پیدا کریں اور انہیں شرک اور کفر کی سنگینی سے واقف کروائیں جو وقت کی بہت اہم ترین ضروری ہے۔ مولانا یحییٰ نعمانی نے فرمایا کہ ضرورت ہے کہ ہم بیدار ہوں اور اس امت کے بھٹکتے لوگوں کی کچھ رہنمائی کرسکیں اور انھیں کفرو شرک سے بچاکر ایمان ودین کی محبت سے سرشار کردیں۔


 قابل ذکر ہیکہ یہ اصلاح معاشرہ کانفرنس مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمدفرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور قاری پرویز مشرف قاسمی کی نعتیہ کلام سے ہوا، جبکہ مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی بطور خاص شریک تھے۔ کانفرنس سے خطاب کرنے والے تمام اکابر علماء کرام نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا اور اس کانفرنس کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام مقررین و سامعین اور مہمانان خصوصی کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کی دعا سے یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوا۔

Wednesday, 11 August 2021

ارتداد کا فتنہ عروج پر، نئی نسل کے ایمان کی حفاظت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے!



 ارتداد کا فتنہ عروج پر، نئی نسل کے ایمان کی حفاظت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے اصلاح معاشرہ کانفرنس سے مولانا الیاس بھٹکلی ندوی اور مولانا خالد بیگ ندوی کا خطاب!


 بنگلور، 11؍ اگست (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد آن لائن سہ روزہ اصلاح معاشرہ کانفرنس بعنوان ”مسلم لڑکیاں ارتداد کے دہانوں پر: اسباب اور حل“ کی پہلی اور افتتاحی نشست سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن حضرت مولانا محمد الیاس بھٹکلی ندوی صاحب نے فرمایا کہ امت مسلمہ جن بڑے بڑے مسائل سے دوچار ہے ان میں سے ایک بڑا اور سنگین مسئلہ ”فتنہ ارتداد“ اس وقت اپنے عروج پر ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ مسلم لڑکیاں غیر مسلم نوجوانوں کے دام الفت میں گرفتار ہوکر مرتد ہوتی جارہی ہیں اور پھر مذہب اسلام سے خارج ہوکر، ماں باپ کو شرمسار کرتے ہوئے غیر مسلموں کے ساتھ شادیاں رچا رہی ہیں، مسلم لڑکیوں کے ارتداد کی خبریں مسلمانوں پر بجلی بن کر گر رہی ہیں اور ہر غیرت مند مسلمان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا ہے۔ ارتداد کی خبریں سن کر مسلم معاشرہ سخت کربناک حالات سے دوچار ہے۔ مولانا بھٹکلی نے فرمایا کہ ارتداد کے اس نئی لہر سے ہر ایمان والے کا بے چین ہونا فطری ہے لیکن ہمیں اس کے اسباب پر غور کرکے اسکا حل تلاش کرنا چاہیے۔ مولانا نے فرمایا کہ اگر مسلم معاشرہ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہیکہ مسلم لڑکیوں کے ایمان سے ہاتھ دھونے اور ارتداد کی لپٹ میں آنے کی بنیادی وجہ دینی تعلیم سے ناواقفیت اور دوری ہے۔ ظاہر ہے جو بچی بے دینی کے ماحول میں پرورش پا کر بڑی ہوگی اور وہ اسلامی تعلیمات سے آگاہ نہیں ہوگی تو پہلے ہی وہ اُس حد کے قریب چل رہی ہے جہاں سے ارتداد کا راستہ آسانی سے مل جاتا ہے۔ اس لیے مسلم والدین سے گزارش ہیکہ خود بھی دیندار بنیں اور گھر میں بھی دینداری کا ماحول بنائیں۔ مولانا نے فرمایا کہ عصری تعلیم ضرور دلائیں لیکن اس سے قبل انہیں دینی تعلیم سے آراستہ کروائیں۔ مولانا نے فرمایا کہ بچپن سے دینی تعلیم ایسی مضبوط ہوکہ ہمارے بچے یورپ اور امریکہ کے کلیساؤں میں جاکر بھی دین کے داعی بنیں۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ مخلوط تعلیمی نظام اور نئی تعلیمی پالیسی کی وجہ سے بھی مسلم معاشرے میں ارتداد کے واقعات بڑھ رہے ہیں لہٰذا پوری ملت اسلامیہ بالخصوص حضرات علماء کرام کو چاہیے کہ وہ مکاتب کے نظام کو مضبوط اور مستحکم کریں اور ہرگاؤں گاؤں اور شہرشہر میں مکاتب کو قائم کریں اور اپنے بچوں کو ان مکاتب کی طرف متوجہ کریں جس سے ان کے اندر دینی ماحول پیدا ہو تاکہ وہ کفر و ارتداد کے طوفانوں سے اپنے دین و ایمان کی حفاظت کرسکے۔


 اصلاح معاشرہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین حضرت مولانا خالد بیگ ندوی صاحب (مہتمم دارالارقم ٹمکور) نے فرمایا کہ اس وقت ملک اپنی تاریخ کے سنگین دور سے گزر رہا ہے بالخصوص مسلمان ہندوستان کے سب سے خطرناک دور سے گزر رہے ہیں۔ لیکن اس آزمائش اور فتنوں کے دور میں ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ ہمیں خواب غفلت سے بیدار ہوکر حالات کا مقابلہ کرنا ہے۔مولانا نے فرمایا کہ اس وقت جو واقعات پورے ملک میں ہورہے ہیں اسکے چند وجوہات ہیں۔ اقتدار پر موجود بھگوا پارٹی کا ایجنڈا ہی ملک کو ہندو راشٹر بنانا ہے۔ اور وہ اس کیلئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ یہ ملک ایک سیکولر ملک ہے جہاں مختلف مذہب کے ماننے والے رہتے ہیں، اسی میں مسلمان بھی اپنی دینی تشخص کے ساتھ رہتے ہیں اور آگے بھی رہیں گے۔ لیکن مسئلہ یہ ہیکہ موجودہ حکومت مسلمانوں کو ہندو رنگ میں رنگا چاہ رہی ہے۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ بابری مسجد، این آر سی، یکساں سول کوڈ کے مسائل یقیناً بڑے ہیں لیکن میرے نزدیک اس سے بھی سنگین مسئلہ 2020 ء کی نئی تعلیمی پالیسی کا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اب تک ہمارا تعلیمی نظام سیکولر تھا لیکن اب یہ نئی تعلیمی پالیسی کو مکمل ہندو رنگ میں رنگ دیا گیا ہے۔ اور اس نظام میں تعلیم حاصل کرنے والے ہماری نئی نسلیں چند سال میں ہندو سوچ اور تہذیب اپنانے لگے گی اور ہزاروں معصوم مسلم بچے ارتداد کر دہانوں پر ہونگے۔ جو ملت اسلامیہ ہندیہ کا سب سے بڑا المیہ ہوگا۔ لہٰذا ہمیں اس طرف توجہ دینی کی سخت ضرورت ہے۔ مولانا خالد بیگ ندوی نے فرمایا کہ ہماری نئی نسل بالخصوص دختران ملت میں بڑھتے ارتداد کے واقعات کی بنیادی وجہ دینی تعلیم سے دوری، انٹرنیٹ اور موبائل کا غلط استعمال، مخلوط تعلیمی نظام اور شادی کو مشکل کرنا ہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم لوگ اسلامی اسکول اور کالجز کا قیام عمل میں لائیں تاکہ ہمارے بچے اسلامی ماحول میں تعلیم حاصل کرسکیں، مکاتب کے جال کو ہر محلے اور ہر گاؤں میں قائم کریں تاکہ نونہالان امت کے ایمان مضبوط ہوسکے اور انکا بچپن سے اسلامی مزاج بن سکے۔ مولانا نے فرمایا کہ اسی طرح ہفتے میں ایک مرتبہ ہر محلے میں مستورات کا اجتماع کریں اور انہیں دین کی باتیں بتائیں۔نیز ہر علاقے میں شادی کونسل سنٹر قائم کریں اور بالخصوص ہماری بچیوں کو کم از کم ہفتے میں ایک مرتبہ اسلامی شادی اور اسکی اہمیت سے انہیں واقف کروائیں اور اسی کے ساتھ اسکول اور کالجز میں پڑھنے والے بچوں کی کارنرس میٹنگ کروائیں اور انکی ذہن سازی کریں۔ کیونکہ جب تک ذہن اسلامی رہے گا کوئی فتنہ انکا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ لہٰذا اس کاموں کیلئے امت مسلمہ بالخصوص حضرات علماء کرام کو آگے آنا ہوگا ورنہ کل قیامت کے دن ہمیں جواب دینا پڑے گا۔


 قابل ذکر ہیکہ یہ اصلاح معاشرہ کانفرنس مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمدفرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت سے ہوا۔ دونوں اکابر علماء کرام نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا اور اس کانفرنس کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام مقررین و سامعین اور مہمانان خصوصی کا شکریہ ادا کیا اور حضرت مولانا خالد بیگ ندوی صاحب کی دعا سے یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوا۔