Thursday, 1 July 2021

مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحبؒ ایک عہد ساز شخصیت!



 مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحبؒ ایک عہد ساز شخصیت!


✍️ بندہ محمد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


 قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ قرب قیامت میں علماء حق کی پے درپے وفات ہو گی۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس طرح علم نہ اٹھائے گا کہ اسے بندوں سے کھینچ لے، بلکہ علماء کو اٹھا کر اسے اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب (زمین پر) کسی عالم کو باقی نہ چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے، جن سے مسائل پوچھے جائیں گے تو وہ جاہل بغیر علم کے فتویٰ دیں گے تو خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے“، (بخاری)۔ اسی لئے علماء کی وفات کو پورے عالَم کی وفات سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قحط الرجال کے اس دور میں علماء اور اہل علم کا یکے بعد دیگرے اٹھ جانا کسی سانحہ سے کم نہیں ہے۔ آسمان علم و معرفت کے ستاروں میں سے ایک تارہ اور ٹوٹ گیا۔ اخلاص و تقویٰ کے روشن چراغوں میں سے ایک دیا اور بجھ گیا۔ گزرے وقتوں کے باخدا بزرگوں اور پچھلے زمانوں کے ربانی علماء کی ایک جیتی جاگتی نشانی، عالم اسلام کی نامور شخصیت، خادم کتاب و سنت، ترجمان حق و صداقت، یادگار اسلاف، میر کارواں، شیخ طریقت، رہبر شریعت، امارت شرعیہ بہار،اڑیسہ و جھارکھنڈ کے امیر شریعت، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری، خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشین، رحمانی تھرٹی اور رحمانی فاؤنڈیشن کے بانی،دارالعلوم ندوۃ العلماء کے رکن، جامعہ رحمانی مونگیر اور درجنوں اداروں کے سرپرست، مفکر اسلام حضرت اقدس مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ مورخہ 20؍ شعبان 1442ھ مطابق 03؍ اپریل2021ء بروز سنیچر دوپہر ڈھائی بجے پٹنہ کے پارس ہاسپٹل میں مختصر علالت کے بعد راہ ملک بقاء ہوگئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون، ان اللہ ما اخذ ولہ مااعطی وکل شء عندہ بأجل مسمی۔

جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں 

کہیں سے آب بقائے دوام لاساقی


 حضرت علیہ الرحمہ کے انتقال کے دوسرے دن صبح 11؍ بجے مونگیر میں حضرت کے خلیفہ ئاجل حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب مدظلہ نے لاکھوں افراد کی موجودگی میں انکی نماز جنازہ پڑھائی اور خانقاہ رحمانی میں انکے والد حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی صاحبؒ کے پہلو میں سپرد خاک کردیا گیا۔ حضرت امیر شریعتؒ کا انتقال ایک عظیم خسارہ ہے بلکہ ایک عہد کا خاتمہ ہے جو امت مسلمہ کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ لیکن خالق کائنات اللہ رب العزت نے ہر جاندار کے لئے موت کا وقت اور جگہ متعین کردی ہے اور موت ایسی شی ہے کہ دنیا کا کوئی بھی شخص اس سے محفوظ نہیں۔ کیونکہ موت ایک ایسی حقیقت ہے جسے قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں، یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس سے کسی کو بھی مفر نہیں، جب پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موت نے اپنے آغوش میں لے لیا اور قرآن نے بھی کہہ دیا: ”کُلُّ نَفسٍ ذَآءِقَۃُ المَوتِ“ (سورہ آل عمران:185) کہ ”ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے“، تو ہما شما کی کیا بات ہے۔ چناں چہ سب کے سب انبیاء ورسل، صحابہ وتابعین اوراولیاء وصلحا کو اس جہان سے کوچ کرنا پڑا۔ ہم سب کو بھی ایک دن جانا ہوگا۔ حضرت امیر شریعت نوراللہ مرقدہ بھی اپنے مقررہ وقت پر، پاک پروردگار کے حکم کا اتباع کرتے ہوئے ہزاروں شاگردوں، مریدوں اور متعلقین کو الوداع کہتے ہوئے اس جہاں سے کوچ کرگئے۔ اللہ تعالی حضرت والا کو جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے، آمین!

جان کر من جملہ خاصان میخانہ تجھے

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے


 امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحبؒ کی ولادت بہار کے مشہور علمی اور روحانی خانوادہئ رحمانی میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بانی، امیر شریعت حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی نوراللہ مرقدہ کے گھر 05؍ جون 1943ء کو ہوئی۔ آپ کے دادا قطب الزماں حضرت مولانا محمد علی مونگیری صاحب رحمۃ اللہ علیہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے بانیوں میں سے تھے۔ آپکی تعلیم اور تربیت ابتداء میں خانقاہ رحمانی کے احاطہ میں چل رہے پرائمری اسکول میں ہوئی، مولانا حبیب الرحمن صاحب اور ماسٹر فضل الرحمن صاحب کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے نامور والد گرامی کے سامنے بھی زانوئے تلمذ تہ کیا، اور جامعہ رحمانی مونگیر میں مشکوۃ شریف تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1961ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ اور 1964ء میں ام المدارس دارالعلوم دیوبند سے علوم متداولہ کی تکمیل کی اور ان دونوں اداروں سے کسب فیض اور خاندانی تعلیم وتربیت کی وجہ سے زبان ہوش مند اور فکر ارجمند سے مالا مال ہوئے۔ اس کے بعد سن 1970ء میں تلکا مانجھی یونیورسٹی بھاگلپور آپنے سے ایم اے کیا۔ آپکے خاندان کا یہ امتیاز رہا ہے کہ علم و معرفت، تصوف و سلوک، شریعت و طریقت، تصنیف و تالیف، تقریر و خطابت، قیادت و رہبری کے وہ اوصاف جو دوسری جگہوں پر الگ الگ پائے جاتے ہیں اس خانوادہئ رحمانی میں ایک ساتھ جمع نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کی آپکی شخصیت بھی اپنے آباء و اجداد کی طرح ہمہ جہت تھی، ان کی پوری زندگی ملت کی خدمت سے عبارت تھی، وہ ایک مؤقر عالم دین، شیخ طریقت، امیر شریعت اور مفکر اسلام اور تحریکی مزاج کے آدمی تھے۔ انہوں نے خانقاہ رحمانی مونگیر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، امارت شرعیہ، اصلاح معاشرہ، جامعہ رحمانی مونگیر، درجنوں مدارس کی سرپرستی اور رحمانی تھرٹی کے ذریعہ مختلف شعبوں میں ملت اسلامیہ کی بے پناہ خدمات انجام دیں۔


 مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب رحمہ اللہ نے اپنی فراغت کے بعد سن 1967ء میں امارت شرعیہ کے ترجمان ہفت روزہ نقیب، پھلواری شریف، پٹنہ کی ادارت کے ساتھ ساتھ جامعہ رحمانی مونگیر میں تدریس اور فتوی نویسی کا کام بھی شروع کیا، اور 1969ء میں جامعہ رحمانی کی نظامت کے عہدہ پر فائز ہوئے۔پھر 1974ء میں ویدھان پریشد کے رکن منتخب ہوئے، اسی سال جامعہ رحمانی کے ترجمان صحیفہ کی ادارت سنبھالی۔ سن 1974ء سے 1996ء تک بہار قانون ساز کونسل کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اسی درمیان 1985ء بہار ودہان پریشد کے ڈپٹی چیرمین بھی منتخب ہوئے۔ وہ اپنے والد ماجد حضرت مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات 1991ء کے بعد سے خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشین اور جامعہ رحمانی مونگیر کے سرپرست رہے۔ سن 1991ء تا 2015ء ملت اسلامیہ ہندیہ کے تمام مسالک کا متحدہ، متفقہ اور مشترکہ پیلٹ فارم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری رہے۔ اور 07؍ جون 2015ء کو بورڈ کے کارگزار جنرل سکریٹری نامزد ہوئے۔ بعدازاں 16؍ اپریل 2016ء کو دارالعلوم ندوۃ العلماء میں منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں باتفاق رائے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری منتخب ہوئے۔ اسی طرح 03؍ اپریل 2005ء میں امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ کے نائب امیر شریعت منتخب ہوئے۔اور 29؍ نومبر 2015ء کو دارالعلوم رحمانی، زیرو مائل، ارریہ، بہار میں مجلس ارباب حل و عقد نے آپکو مستقل طور پر امیر شریعت سابع بہار،اڑیسہ و جھارکھنڈ منتخب کیا۔ سن 2010ء میں آپ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کورٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔ ساتھ ہی آپ تاحیات دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے انتظامی رکن، مولانا آزاد فاؤنڈیشن کے وائس چیرمین اور آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے نائب صدر رہے۔


حضرت امیر شریعت علیہ الرحمہ مختلف اداروں اور تحریکوں سے وابستہ ہوکر مسلمانوں کے حقوق کی لڑائی لڑتے رہے اور تعمیراتی اور ترقیاتی کاموں میں حصہ لیتے رہے۔اسی کے پیش نظر انہوں نے مختلف اداروں کا قیام بھی عمل میں لایا۔ انہوں نے سن 1996ء میں سماجی فلاح و بہود کیلئے رحمانی فاونڈیشن کی بنیاد رکھی، جس کی تعلیم اور تربیت کی سمت میں شاندار خدمات ہیں - سن 2008ء میں حضرت نے مسلمانوں کے معیاری تعلیمی ترقی کیلئے رحمانی 30 کو قائم کیا۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں عصری تعلیم کے متعدد شعبوں میں معیاری اعلی تعلیم و قومی مقابلاجاتی امتحانات کے لیے طلبہ کو تیار کیا جاتا ہے۔ اس ادارے نے آئی آئی ٹی، جے ای ای، نیٹ، چارٹرڈ اکاؤنٹ اور دیگر مشکل مقابلوں میں مسلم بچوں اور بچیوں کو کامیابی کی راہ دکھائی اور شاندار ریکارڈ قائم کیا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے سن 2013ء میں مسلم طلبہ کو ڈاکٹرز بنانے کیلئے میڈیکل کی تیاری اور سن 2014ء میں وکیل اور جج بنانے کی تیاری کرانے کی شروعات کی۔ اسی طرح حضرت امیرشریعت نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف تحریکات کو چلایا جس کے ذریعے پورے ملک میں اچھے اثرات مرتب ہوئے۔انہوں نے سن 2003ء میں مدارس کی حفاظت کی تحریک چلائی اور مونگیر میں تاریخ ساز ”ناموس مدارس اسلامی کنونشن“ منعقد کیا۔ امارت شرعیہ کے استحکام کے لئے متعدد اقدام کئے اور تینوں ریاستوں میں امارت کو مضبوط کیا۔ دارالقضاء کے کاموں کو وسعت بخشی، تعلیمی میدان میں بنیادی دینی تعلیم کے فروغ، عصری تعلیمی اداروں کے قیام عمل میں لایا۔ 15؍ اپریل 2018ء کو گاندھی میدان میں ”دیش بچاؤ، دین بچاؤ“ کے نام سے حضرت کی صدارت میں تاریخ ساز کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا۔ اسی کے ساتھ ”سی اے اے، اینڈ آر سی اور این پی آر“ کے خلاف بھی مہم چلائیں گئی۔ اپنے آخری دور میں حضرت نے ”اردو کی بقاء و تحفظ اور ترویج و اشاعت“ کے لئے پورے بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ میں تحریک چلائی۔امارت شرعیہ کے ساتھ ساتھ حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحبؒ نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے پلیٹ فارم سے بھی نمایاں خدمات انجام دئے۔ انہوں نے رائٹ ٹو ایجوکیشن اور قانون وقف کی اصلاح نیز ڈائریکٹ ٹیکس کوڈ کو روکنے کیلئے بورڈ کے بینر تلے ”آئینی حقوق بچاؤ“ کے نام سے کامیاب ملک گیر تحریک چلائی۔ 2015ء میں شریعت اسلامی اور آئین ہند کے تحفظ اورحکومت کی جانب سے اس میں مداخلت اور ترمیم کی سازشوں کے خلاف”دین و دستور بچاؤ“ کے نام سے حضرت کی قیادت میں بورڈ نے ملک گیر تحریک چلائی۔ 2016ء میں ”یونیفارم سول کوڈ“ کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں پروگرامات منعقد کئے۔ 2017ء کے اواخر اور 2018ء کی ابتداء میں پورے ملک میں مرکزی حکومت کے مجوزہ ”طلاق ثلاثہ بل“ کے خلاف تحریکِ چلائی، جس کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں تاریخ ساز احتجاجی پروگرامات اور ریلیاں منعقد ہوئے، بالخصوص امت کے بہادر ماؤں اور بہنوں نے شرعی دائرے میں رہ کر احتجاجی جلوس نکالے۔اسی دوران حضرت کے حکم پر ملک کے مختلف علاقوں میں ”تحفظ شریعت کمیٹی“ تشکیل پائی۔ اسی دوران مسلم پرسنل لا میں مداخلت کے خلاف ”دستخطی مہم“ بھی چلائی گئی اور تقریباً پانچ کڑوروں دستخطوں کو لاء کمیشن کے حوالے کیا گیا۔ جب 2018ء میں حکومت کی جانب سے مسلم پرسنل لا میں تبدیل کی بات ہونے لگی تو لاء کمیشن کے چیئرمین کی دعوت پر بورڈ کے وفد نے حضرت کا پیغام ان تک پہنچایا۔ جس میں اسلامی تعلیمات اور فقہ کی روشنی میں انکے اشکالات کا واضح جواب دیا گیا اور واضح طور پر کہا گیا کہ مسلم پرسنل لا میں کسی ترمیم، تنسیخ یا تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ حضرت علیہ الرحمہ نے بورڈ کی”بابری مسجد کمیٹی“ کے ذریعے آخری مرحلے تک بابری مسجد کی پیروی کرنے والوں کی نگرانی فرمائی۔ اسی طرح پورے ملک میں اصلاح معاشرہ کی تحریک چلائی اور ملک کے مختلف ریاستوں اور اضلاع میں ”اصلاح معاشرہ کمیٹی“ تشکیل دئیے اور ساتھ ہی وحدت امت کیلئے ہمیشہ کوشاں رہے۔ مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب رحمہ اللہ نے اپنی پوری زندگی تحفظ شریعت، وحدت امت اور اصلاح معاشرہ کیلئے وقف کردی تھی۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا


 حضرت امیر شریعت علیہ الرحمہ کو اداروں اور تحریکوں کی قیادت اور تعلیم و تعلم کے ساتھ ساتھ تالیف و تصنیف میں بھی یکساں عبور حاصل تھا۔ آپ نے اپنے زور قلم سے مختلف کتابیں مرتب فرمائی۔جس میں ”تصوف اور حضرت شاہ ولی اللہؒ“، ”بیت عہد نبوی میں آپکی منزل یہ ہے!“، ”دینی مدارس میں مفت تعلیم کا مسئلہ!“، ”سماجی انصاف، عدلیہ اور عوام“، ”شہنشاہ کونین کے دربار میں!“، ”حضرت سجاد، مفکر اسلام“، ”کیا 1857 پہلی جنگ آزادی ہے؟“، ”مجموعہ رسائل رحمانی“ وغیرہ حضرت ؒ کے تصنیفی کمالات کا شاہکار ہے۔ انکی بے لوث خدمات پر انہیں مختلف اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ انہیں بھارت جیوتی ایوارڈ، راجیو گاندھی ایکسلنس ایوارڈ، شکچھارتن ایوارڈ، سر سید ایوارڈ، امام رازی ایوارڈ، کولمبیا یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری قابل ذکر ہیں اور حضرت کے تدفین سے قبل حکومت بہار کی جانب سے سرکاری اعزازی سلامی بھی دی گئی۔


 شیخ طریقت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحبؒ نے تصوف و سلوک کے میدان میں بھی عظیم مقام پایا تھا۔ آپ اپنے والد گرامی حضرت مولانا منت اللہ رحمانی صاحبؒ سے بیعت و مجاز تھے اور چاروں سلسلہ قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ اور سہروردیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ آپکے دست مبارک پر تقریباً ساڑھے آٹھ لاکھ سے زیادہ افراد نے توبہ و بیعت کیا تھا۔ جس میں آپ کے خلفاء کی تعداد نو ہے۔ جو ملک کے مختلف حصوں میں اصلاحی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس طرح حضرتؒ کو ہر میدان میں یکساں عبور حاصل تھا۔ 


 راقم السطور کو عالم اسلام کی جن عظیم المرتبت شخصیات کو قریب سے دیکھنے اور سننے کا حسین موقع ملا ان میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب رحمہ اللہ کی ذات گرامی بطور خاص شامل ہے۔ ماضی قریب کے سالوں میں جب بھی حضرت والا کا شہر گلستان بنگلور آمد مسعود ہوتا راقم بلا ناغہ انکی مجالس میں شریک رہتا۔ آپکی شخصیت تواضع و انکساری، خوش مزاجی و سادگی، تقویٰ و پرہیزگاری، شستہ و شگفتہ اخلاق کی حامل تھی۔ آپکی ذات عالیہ مسلمانان ہند کے لئے قدرت کا عظیم عطیہ تھی، جو انقلابی فکر اور صحیح سمت میں صحیح اور فوری اقدام کی جرأت رکھتے تھے۔ استقلال، استقامت، عزم بالجزم، اعتدال و توازن اور ملت کے مسائل کیلئے شب و روز متفکر اور رسرگرداں رہنا حضرت امیر شریعتؒ کی خاص صفت تھی۔ انکی بے باکی اور حق گوئی ہر خاص و عام میں مشہور تھی۔ عاجز کا جب بھی آبائی وطن جھارکھنڈ جانا ہوتا تو وہاں کی فضاء میں حضرت کی جرأت مندی، عزم و حوصلہ اور بے باکی نظر آتی، جس پر ہمارے گاؤں کے بزرگ اور رشتہ داروں کی زبان واضح ثبوت دے رہی ہوتی۔ یوں تو بنگلور میں حضرت کے مجالس میں شرکت کا موقع ملا لیکن بالمشافہ کبھی ملاقات نہیں ہو پایا لیکن دل میں ایک آرزو تھی کہ حضرت سے ایک دفعہ ضرور ملاقات کرنا ہے، لیکن اب یہ آرزو ایک حسین خواب ہی بن کر رہ گئی۔

آئے عشاق، گئے وعدہئ فردا لے کر

اب انھیں ڈھونڈ چراغ رج زیبا لے کر


 زندگی کے آخری لمحات میں حضرت امیر شریعتؒ جہاں امارت شرعیہ کے ”تحریک فروغ اردو“ کی قیادت فرما رہے تھے وہیں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ”آسان اور مسنون نکاح مہم“ کی سرپرستی فرما رہے تھے۔ اسی دوران اچانک طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے پٹنہ کے پارس ہاسپٹل بغرض علاج داخل کرایا گیا۔ جہاں علم و عرفان کے اس روشن ستارے نے 20؍ شعبان المعظم 1442ھ مطابق 03؍ اپریل 2021ء بروز سنیچر دوپہر ڈھائی بجے اپنی آخری سانس لیتے ہوئے اس دار فانی سے کوچ کر گئے،اناللہ وانا الیہ راجعون۔ آپکے انتقال کو دنیا بھر کے علماء و مشائخین نے عالم اسلام کیلئے ایک عظیم خسارہ قرار دیا۔ یہ ایک ایسا موقع تھا کہ ہر ایک غم و افسوس میں مبتلا تھا اور ہر کوئی تعزیت کا مستحق تھا۔ انکے انتقال سے آقائے دوعالم جناب محمد الرسول اللہﷺ کا یہ فرمان ”موت العالِم موت العالَم“ کہ ”ایک عالم دین کی موت پورے عالم کی موت ہے“ کا ہر کسی نے عملی مشاہدہ کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت امیر شریعتؒ کی خدمات کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے انکی مغفرت فرمائے اور اعلیٰ علیلین میں جگہ نصیب فرمائے، ہم تمام کو انکے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور امت مسلمہ کو انکا نعمل بدل عطاء فرمائے۔ آمین

عجب قیامت کا حادثہ ہے، آستیں نہیں ہے

زمین کی رونق چلی گئی ہے، اُفق پہ مہر مبیں نہیں ہے

تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے

مگر تری مرگ ناگہاں کا اب تک یقیں نہیں ہے


فقط و السلام

بندہ محمد فرقان عفی عنہ*

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

١٩؍ ذو القعدہ ١٤٤٢ھ

مطابق یکم جولائی 2021ء بروز جمعرات


+91 8495087865

mdfurqan7865@gmail.com


_________

*ابن مولانا محمد ریاض الدین مظاہری

متعلم جامعہ ابو ہریرہ ؓ اکیڈمی

بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند

صدر مجلس احرار اسلام بنگلور

رکن عاملہ جمعیۃ علماء ساؤتھ بنگلور


#پیغام_فرقان

#PaighameFurqan #Article #Mazmoon #WaliRahmani #AIMPLB #Akabir #AmeerShariat #Rahmani

Sunday, 27 June 2021

عزت و ذلت کا مالک اللہ ہے!



 { پیام فرقان - 06 }


🎯عزت و ذلت کا مالک اللہ ہے!


✍️بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


یہ دنیا ایک دھوکے کا گھر ہے، جہاں قدم قدم پر حاسدین اور منافقین کا بسیرا ہے۔ یہ دنیا اتنی خود غرض ہیکہ اس دنیا میں کسی کی کامیابی کسی سے برداشت نہیں ہوتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا خالق و مالک ہے اور ہر شئے اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ کوئی ذرہ بھی اذنِ الٰہی کے بغیر اپنی جگہ سے نہ ہل سکتا ہے اور نہ کوئی پتّہ گر سکتا ہے۔ جس طرح اس کائنات کا کوئی معمولی سا عمل بھی اللہ تعالیٰ کے علم اور مشیت کے بغیر انجام نہیں پاسکتا اسی طرح انسان کی عزت و ذلت بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ: ” قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِى الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۤءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۤءُۖ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۤءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۤءُ ۗ بِيَدِكَ الْخَيْرُۗ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ “ کہ ”آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے“ (سورہ آل عمران : 26)۔ معلوم ہوا کہ عزت اور ذلت دونوں ہی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی انسان کسی کو ‏نہ عزت دے سکتا ہے اور نہ ہی کسی کو ذلیل کر سکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی کو عزت دینا چاہے تو پھر ساری دنیا مل کر بھی اسے ذلیل نہیں کر سکتی۔ جو کوئی بھی عزت چاہتا ہے اسے پتہ ہونا چاہئے کہ عزت صرف اور صرف اللہ کی ہے۔ اچھے اعمال انسان کی عزت اور درجات کی بلندی کا سبب بنتے ہیں اور برے اعمال انسان کی ذلت و پستی کا باعث ہوتے ہیں۔ اور یہ بات عیاں ہیکہ جو لوگ دوسروں کے لئے گڑھا کھودتے ہیں وہ خود اسی میں گرتے ہیں، ذلیل اور رسوا ہوتے ہیں۔ کوئی کتنا بھی زور لگائے جسے اللہ عروج پر پہنچنا چاہے تو پھر کسی میں بھی اتنی قدرت نہیں کہ اسے روک سکے۔ کیونکہ عزت و ذلت دینے والی صرف وہی ایک ذات ”اللہ“ ہے۔؂

خدا کے ہاتھ میں ہے میری عزت و ذلت

امیر شہر سے ڈرنا مجھے نہیں آتا


فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

27؍ جون 2021ء بروز اتوار 

+918495087865

mdfurqan7865@gmail.com


#PayameFurqan #پیام_فرقان

#ShortArticle #MTIH #TIMS

Saturday, 26 June 2021

مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام کل ہند نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد، ملک کے مشہور شعراء نے کی شرکت!



 مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام کل ہند نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد، ملک کے مشہور شعراء نے کی شرکت!

اتباع رسولؐ ہی حب رسولؐ کا اصل تقاضا ہے: مولانا 

محمد عمرین محفوظ رحمانی کا صدارتی خطاب 


 بنگلور، 26؍ جون (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام گزشتہ دنوں عظیم الشان آن لائن کل ہند نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد ہوا۔ جسکی صدارت مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب (سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) نے فرمائی۔ جبکہ نظامت کے فرائض مدرسہ تعلیم القرآن شاخ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے صدر المدرسین مولانا غفران احمد ندوی نے انجام دئے۔ نعتیہ مشاعرہ میں ملک کے مشہور و معروف شعراء اسلام نے شرکت کی۔ اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب نے فرمایا کہ حضورؐ سے محبت اور الفت رکھنا ایمان کا تقاضا ہے۔ اور محبت کا معیار اور تقاضا یہ ہے کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اپنی جان و مال، اولاد و والدین، عزیز و اقارب حتیٰ کہ ہر عزیز چیز سے زیادہ ہونی چاہیے اور یہی دین و ایمان کی اساس اور بنیاد ہے اور اگر اس میں کمی ہوگی تو دین و ایمان میں کمی اور خامی باقی رہ جائیگی۔ خود نبی کریمؐ نے ایک موقع پر فرمایا کہ قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں جب تک میں اس کو اس کے والد سے، اس کی اولاد سے اور تمام لوگوں سے محبوب نہ ہو جاؤں۔ مولانا نے فرمایا کہ ہماری ذمہ داری ہیکہ ہم حضورؐ سے سچی محبت کریں اور انکی اتباع کریں کیونکہ اصل محبت تو اتباع میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنا ہی آپؐ سے محبت کا اصل تقاضا ہے اور اصل محبت تو یہی ہے کہ ہم آپؐ کی پیروی کریں، آپؐ کی پسند ناپسند کو اپنی پسند ناپسند بنا لیں اور آپؐ کی حیات طیبہ کو اپنی زندگی کا شعار بنا لیں اور یہ تب ہی ہوسکتا ہے جب دل میں سچی محبت ہو اور ہم سچی محبت کے دعوے دار ہوں۔ مولانا رحمانی نے فرمایا کہ نعت خوانی کی مجالس بڑے مبارک ہوتے ہیں اور حضورؐ کی شان اقدس میں نعت لکھنا، پڑھنا اور سننا بڑی سعادت کی بات ہے۔ ہر دور میں شعراء اسلام نے نعتوں کی روایات کو فروغ دیا ہے کیونکہ عشقِ رسولؐ کے حصول کیلئے نعت خوانی ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اس موقع پر عالمی شہرت یافتہ شعراء عظام قاری اسعد بستوی (ممبئی)، قاری تابش ریحان (مؤناتھ بھنجن)، قاری ضیاء الرحمن فاروقی (ڈائریکٹر تحفظ دین میڈیا سروس)، قاری محمد عمران مصباحی (رکن مرکز تحفظ اسلام ہند)، قاری محمد اسامہ قاسمی (فیض آباد، یوپی) وغیرہ نے منفرد انداز اور مسحور کن لہجے میں قیمتی اور ایمان افروز اشعار و نعتیہ کلام پیش کرتے ہوئے سامعین کے دلوں کو مزین کردیا۔ اس عظیم الشان کل ہند نعتیہ مشاعرہ کا آغاز مرکز تحفظ اسلام ہند کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت سے ہوا۔ جبکہ مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی نے تمام شعراء کا استقبال کرتے ہوئے مرکز کی خدمات پر مختصراً روشنی ڈالی۔ پروگرام کے اختتام پر مرکز کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام ہی شعراء، مہمانان خصوصی اور آنے والے سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر صدر مشاعرہ مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی اور تمام شعراء کرام نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا اور مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی کی دعا سے یہ کل ہند نعتیہ مشاعرہ اختتام پذیر ہوا۔

Thursday, 17 June 2021

عشقِ رسولﷺ کے حصول کیلئے نعت خوانی بہترین ذریعہ ہے!





 عشقِ رسولﷺ کے حصول کیلئے نعت خوانی بہترین ذریعہ ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام عظیم الشان کل ہند نعتیہ مشاعرہ، برادران اسلام سے شرکت کی اپیل!


بنگلور، 16؍ جون (پریس ریلیز): حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ اسلام کی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑے اہتمام کے ساتھ مدح سرائی فرمائی ہے اور سارا قرآن پاک حضور اکرمؐ کی مدحت و توصیف بیان کرتا ہے۔ جس طرح دین اسلام کے محاسن بیان کرنے کی ضرورت ہے اسی طرح اس دین کو لانے والے کی خوبیاں بیان کرنا بھی ضروری ہے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا۔انہوں نے فرمایا کہ حضور نبی کریمؐ نے خود کئی مرتبہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نعت سماعت فرمائی ہے۔ انہوں کے کہا کہ دورِ صحابہ سے لے کر آج کے دور کے علماء و مشائخ تک حضور پاکؐ کی نعتوں کی روایت کو فروغ دیا کیونکہ اسلام کی ترویج و اشاعت کے ساتھ عشقِ رسولؐ ایمان کی تکمیل کے لئے ناگزیر ہے اور عشقِ رسولؐ کے حصول کے لئے نعت خوانی بہترین ذریعہ ہے۔ لہٰذا اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند بتاریخ 17؍ جون 2021ء بروز جمعرات ٹھیک رات 9:00 بجے سے ایک ”عظیم الشان آن لائن کل ہند نعتیہ معاشرہ“ منعقد کرنے جارہی ہے۔ جسکی صدارت شاعر اسلام حضرت مولانا قاری احسان محسن قاسمی صاحب (مہتمم جامعہ قاسم العلوم کٹیہسرہ، مظفرنگر یوپی) فرمائیں گے اور نظامت کے فرائض حضرت مولانا غفران ندوی صاحب (صدر المدرسین مدرسہ تعلیم القرآن شاخ ندوۃ العلماء لکھنؤ) انجام دینگے۔جبکہ ملک کے مشہور و معروف شعراء کرام مثلاً قاری عبدالباطن فیضی (فیض آباد، یوپی)، قاری اسعدصاحب بستوی (ممبئی)، مفتی طارق جمیل قاسمی قنوجی (یوپی)، قاری تابش ریحان (مؤناتھ بھنجن)، قاری ضیاء الرحمن فاروقی (ڈائریکٹر تحفظ دین میڈیا سروس، اورنگ آباد)، قاری اشفاق بہرئچی (یوپی)، قاری محمد عمران مصباحی (رکن مرکز تحفظ اسلام ہند) وغیرہ اس عظیم الشان آن لائن کل ہند نعتیہ مشاعرہ میں شرکت فرمائیں گے اور نعتیہ کلام سے سامعین کو محظوظ فرمائیں گے۔ یہ پروگرام مرکز تحفظ اسلام ہند کے آفیشیل یوٹیوب چینل اور فیس بک پیج تحفظ اسلام میڈیا سروس پر براہ راست نشر کیا جائے گا۔ مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے برادران اسلام سے کثیر تعداد میں شرکت کی اپیل کی ہے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان اور مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی بطور خاص شریک تھے۔

Friday, 11 June 2021

بیت المقدس تاریخ کے آئینے میں!



 بیت المقدس تاریخ کے آئینے میں!


از قلم:  بندہ محمد فرقان عفی عنہ 

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


 گذشتہ دنوں ماہ رمضان المبارک میں غزہ اور فلسطین میں اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم کے بعد قبلۂ اول بیت المقدس اور فلسطین ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کی نظروں کے سامنے آگئے۔ بیت المقدس کی آزادی کے خواب سجائے ہوئے اہل فلسطین کی داستان تقریباً ایک صدی پر پھیلی ہوئی ہے۔ جس سے آج ہماری نئی نسل بالکل ناواقف ہے۔ اہل فلسطین کی کہانی روشنائی سے نہیں بلکہ انکے خون سے لکھی گئی ہے۔ فلسطین کے ہر چپہ چپہ پر قربانیوں کی ایسی لازوال داستانیں نقش ہیں جس سے وہاں کے باشندوں کی جرأت، ہمت، غیرت اور استقامت کا پتہ چلتا ہے۔ فلسطین کے معصوم بچے، مائیں، بہنیں، جوان اور بوڑھے سب ہی جس ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اس کے بارے میں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو بزبان حال یہی کہ سکتے ہیں:

تم شہرِ اماں کے رہنے والے! درد ہمارا کیا جانو!

ساحل کی ہوا تم موج صبا طوفان کا دھارا کیا جانو!


 اس میں کوئی شک نہیں کہ فلسطینی مسلمان اب تقریباً ایک صدی سے تکلیف اور آزمائش کی چکی میں پس رہے ہیں اور یہ دنیا کی وہ واحد قوم ہے جو خود اپنے ہی علاقے اور اپنے وطن میں مہاجروں کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل اہل فلسطین کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ کسی بھی صورت اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ فلسطین کا غم امت مسلمہ کا مشترکہ غم ہے اور اہل فلسطین کا درد بھی سانجھا ہے۔ اور یہ بات روز و روشن کی طرح عیاں ہیکہ بیت المقدس کا مسئلہ فقط اہل فلسطین کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا مسئلہ ہے۔ لہٰذا ضرورت ہیکہ ہم اپنی نسلوں کو بیت المقدس اور فلسطین و غزہ کی مجاہدانہ تاریخ سے واقف کروائیں تاکہ ہماری نسلیں بیت المقدس کی حفاظت اور آزادی کیلئے ہمیشہ تیار رہیں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا:

اقصٰی کی زمین کو ہم سب مل کے چھڑائیں گے

تاریخ فلسطین ہم گھر گھر میں بتائیں گے


 قارئین! ”القدس“ فلسطین کا شہر اور دارالحکومت ہے۔ یہ یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں تینوں کے نزدیک مقدس ہے۔ یہاں مسلمانوں کا قبلہ اول مسجد اقصٰی اور گنبد الصخرہ واقع ہیں۔ مکہ مکرمہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریباً 1300 کلومیٹر ہے۔ شہر 31؍ درجے 45؍ دقیقے عرض بلد شمالی اور 35؍درجے 13؍ دقیقے طول بلد مشرقی پر واقع ہے۔ بیت اللحم اور الخلیل اس کے جنوب میں اور رام اللہ شمال میں واقع ہے۔ القدس کو یورپی زبانوں میں ”یروشلم“ کہتے ہیں۔ القدس پہاڑیوں پر آباد ہے اور انہی میں سے ایک پہاڑی کا نام ”کوہِ صیہون“ ہے جس پر ”مسجد اقصٰی“ اور ”گنبد الصخرہ“ واقع ہیں۔ مسجد اقصی کے اطراف 1600 میٹر لمبی پتھر کی دیوار ہے، اس کے اندر 09؍ دروازے ہیں، جو (1) باب رحمت (2) باب حطہ (3) باب فیصل (4) باب غواغہ (5) باب ناظر (6) باب حدید (7) باب قطانبین (8) باب سلسلہ (9) باب مغاربہ کے نام سے موسوم ہیں۔


 مسجد اقصٰی کی بنیاد مکہ مکرمہ کی بنیاد ڈالنے کے چالیس سال بعد حضرت سیدنا آدم علیہ السلام یا ان کی اولاد میں سے کسی نے ڈالی۔ پھر اس کی تعمیر حضرت سیدنا سام بن نوح علیہ السلام نے کی۔ عرصۂ دراز کے بعد حضرت سیدنا داؤد علیہ السلام نے بیت المقدس کی بنیاد اس مقام پر رکھی جہاں حضرتِ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا خیمہ نصب کیا گیا تھا۔ اس عمارت کے پورا ہونے سے قبل حضرت سیدنا داؤد علیہ السلام کی وفات کا وقت آگیا تو آپ نے اپنے فرزند ارجمند حضرت سیدنا سلیمان علیہ السلام کو اس کی تکمیل کی وصیّت فرمائی۔ چنانچہ حضرت سیدنا سلیمان علیہ السلام نے جنّوں کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد اقصٰی کو تعمیر کیا۔


 بیت المقدس مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے، ہجرت کے بعد 16؍ سے 17؍ ماہ تک نبی کریمﷺ بیت المقدس (مسجد اقصٰی) کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگیا۔ مسلمانوں کے نزدیک مسجد حرام اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام مسجد اقصٰی ہے۔ مقامی مسلمان اسے ”المسجد الاقصیٰ“ یا ”حرم قدسی شریف“ کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں پانچ ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے، جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ سفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور بیت المقدس میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔ قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ”پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں یقیناً اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے“ (سورہ الاسراء)۔ احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصٰی شامل ہیں۔ مسجد اقصٰی روئے زمین پر بنائی گئی دوسری مسجد ہے۔ جہاں ایک نماز کا ثواب ڈھائے سو اور بعض روایتوں کے مطابق 25؍ ہزار ملتا ہے۔


بیت المقدس انبیاء علیہم السلام کی سرزمین فلسطین میں واقع ہے، جب نبی کریمﷺ کی بعثت ہوئی تو اس وقت اس پر سلطنت روم کے عیسائیوں کا قبضہ تھا اور سلطنت روم اس وقت بہت طاقتور تھا۔ لیکن اسی وقت نبی کریمﷺ نے بیت المقدس کی آزادی کی خوشخبری سنائی اور اس کو قیامت کی نشانیوں میں سے قرار دیا۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت 16ھ مطابق سن 236ء میں بیت المقدس کو یہود و نصاری کے ہاتھوں سے آزاد کرایا تھا۔ اس دور میں بہت سے صحابہ نے تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کی خاطر بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔ سن 66ھ اور 86ھ کے درمیان خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور سن 86ھ اور 96ھ کے درمیان انکے صاحبزادے خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔ 


 بیت المقدس کی یہ مقدس سرزمین تقریباً عباسی دور تک مسلمانوں کے ماتحت رہی پھر جیسے جیسے ان میں آپسی اختلاف و انتشار، خانہ جنگی، سیاسی فتنوں اور باطنی تحریکوں کی وجہ سے عباسی حکومت کمزور پڑنے لگی تو گھات میں بیٹھے ہوئے صلیبیوں کو موقع مل گیا۔ اور ادھر فاطمی حکومت نے بھی اپنی حکومت کی مضبوطی اور استحکام اور شام سے سلجوقیوں کے خاتمے کیلئے ان صلیبیوں سے مدد طلب کی اور انہیں کئی طرح کی سہولتیں فراہم کردیں اور بیت المقدس میں آنے جانے کی اجازت دے دی۔ بالآخر ان تمام باتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صلیبیوں نے بغاوت کردی اور اپنے فاطمی خلفاء کے ساتھ غداری اور دھوکہ کیا۔ اور القدس پر قبضہ کیلئے اپنی فوج کو تیار کرلیا اور پھر 70؍ ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید کرتے ہوئے بالآخر 492ھ مطابق سن 1099ء کو صلیبیوں نے بیت المقدس کو مسلمانوں سے چھین لیا۔ اور یروشلم پر اپنی مسیحی حکومت قائم کردی۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہوگیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔ 


 پھر اسکے بعد سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے قبلۂ اول کی آزادی کے لئے تقریبا 16؍ جنگیں لڑیں۔ اور بالآخر 538ھ مطابق سن 1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے پیہم معرکہ آرائیوں کے بعد بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کروالیا۔ اور مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔ اس طرح 88؍ سال بعد بیت المقدس دوبارہ مسلمانوں کے بازیابی میں آگیا اور ارض مقدسہ سے عیسائی حکومت کا صفایہ ہوگیا۔ اس طرح ارض مقدسہ پر تقریباً 761؍ برس مسلسل مسلمانوں کی سلطنت رہی۔ پھر پہلی جنگ عظیم دسمبر 1917ء کے دوران میں انگریزوں نے بیت المقدس اور فلسطین پر قبضہ کرکے یہودیوں کو آباد ہونے کی عام اجازت دے دی۔ یہود و نصاریٰ کی سازش کے تحت نومبر 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دھاندلی سے کام لیتے ہوئے فلسطین عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کر دیا۔ یہاں تک کہ 14؍ مئی 1948ء میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی سازشوں سے ارض فلسطین کے خطہ میں صیہونی سلطنت قائم کی گئی اور جب 1948ء کو یہودیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا، تو پہلی عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیلی، فلسطین کے 78؍ فیصد رقبے پر قابض ہوگئے۔ تاہم مشرقی یروشلم (بیت المقدس) اور غرب اردن کے علاقے اردن کے قبضے میں آگئے۔ پھر تیسری عرب اسرائیل جنگ جون 1967ء میں اسرائیلیوں نے بقیہ فلسطین اور بیت المقدس پر بھی تسلط جما لیا۔ اور اس طرح سن 1967ء سے بیت المقدس پر یہودیوں نے قبضہ کرلیا اور اب پوری طرح انکے قبضہ میں ہے۔


اسلام اور ملت اسلامیہ کے خلاف یہودیوں کی دشمنی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے۔ یہودِ مدینہ نے عہد رسالت مآبؐ میں جو شورشیں اور سازشیں کیں ان سے تاریخ اسلام کا ہر طالب علم آگاہ ہے۔ گزشتہ چودہ صدیوں سے یہود نے مسلمانوں کیخلاف بالخصوص اور دیگر انسانیت کے خلاف بالعموم معادانہ رویہ اپنا رکھا ہے۔ بیسویں صدی کیحادثات وسانحات میں سب سے بڑا سانحہ مسئلہ فلسطین ہے۔ یہود ونصاریٰ نے یہ مسئلہ پیدا کرکے گویا اسلام کے دل میں خنجر گھونپ رکھا ہے۔ سن 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے بعد یورپ سے آئے ہوئے غاصب یہودیوں نے ہزاروں سال سے فلسطین میں آباد فلسطینیوں کو ان کی زمینوں اور جائدادوں سے بیدخل کرکے انہیں کمیپوں میں نہایت ابتر حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور کردیا ہے۔21؍ اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلہئ اول کو آگ لگادی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا جسے سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب کیا تھا۔ دراصل یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گراکر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا۔ گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصہ کے دوران اسرائیلی یہودیوں کی جارحانہ کاروائیوں اور جنگوں میں ہزاروں لاکھوں فلسطینی مسلمان شہید، زخمی یا بے گھر ہوچکے ہیں اور لاکھوں افراد مقبوضہ فلسطین کے اندر یا آس پاس کے ملکوں میں کیمپوں کے اندر قابلِ رحم حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں بلکہ غزہ تو مکمل ایک زندان بن چکی ہے۔ اور اقوام متحدہ اور اس کے کرتا دھرتا امریکہ اور یورپ کے ممالک یہودیوں کے سرپرست اور پشتیبان بنے ہوئے ہیں۔ افسوس کا مقام ہیکہ بعض نام نہاد مسلم ممالک اپنی ذاتی حقیر مفادات اور اپنی چند روزہ شان و شوکت اور عارضی کرسی کی بقا کی خاطر یا تو ان دشمنان اسلام کی حمایت کررہی ہے یا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ لیکن یہ یہود اور اسکے حواریں یاد رکھیں کہ ”شام“ جو زمانہ قدیم میں لبنان، فلسطین، اردن اور شام کی سرزمین پر مشتمل تھا، جہاں آج یہ یہود قابض ہیں، احادیث کے مطابق قرب قیامت میں وہاں اسلام کا غلبہ ہوگا اور ایمان اور اہل ایمان فتنوں کے اس دور میں زیادہ تر شام کے علاقوں میں ہی ہونگے۔ فتنوں کے اس زمانے میں اہل اسلام کی مختلف علاقوں میں مختلف جماعتیں اور لشکر ہونگے اس دور میں آپؐ نے شام اور اہل شام کے لشکر کو اختیار کرنے کی ترغیب دلائی کیونکہ اس دور میں ان کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے لی ہوگی۔ یہ حضرت مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لشکر ہوگا۔ اور آخری وقت زمانہ قرب قیامت میں خلافت اسلامیہ کا مرکز ومحور ارض مقدسہ ہوگی۔ قیامت سے قبل مدینہ منورہ ویران ہوجائے گا اور بیت المقدس آباد ہوگا، تو یہ زمانہ بڑی لڑائیوں اور فتنوں کا ہوگا، اس کے بعد دجال کا خروج ہوگا۔ دجال شام اور عراق کے درمیان میں سے نکلے گا۔ دجال کا فتنہ اس امت کا بہت بڑا فتنہ ہے اس سے ہر نبی نے اپنی قوم کو ڈرایا۔ مگر دجال مکہ، مدینہ، بیت المقدس اور کوہ طور میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی ان ہی علاقوں دمشق کے مشرق میں سفید مینار کے پاس ہوگا۔ اور وہ دجال کو ”باب لد“ کے پاس قتل کریں گے۔ باب لد فلسطین کے علاقے میں بیت المقدس کے قریب ہے، جس پر اسرائیل غاصب نے قبضہ کر رکھا ہے۔ اور اسی طرح فتنہ یا جوج و ماجوج کی ہلاکت اور انتہاء بھی بیت المقدس کے قریب ”جبل الخمر“ کے پاس ہوگی۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہیکہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی کہ جب تک یہودیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا نہ دیا جائے، آج پوری دنیا سے یہودی اپنے مقتل ”اسرائیل“ میں جمع ہورہے ہیں، قیامت سے پہلے یہ وقت ضرور آئے گا کہ مسلمان یہودیوں کو چن چن کر قتل کریں گے اور ایک بار پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے قیامت کے قریب حضرت امام مہدی اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے ظہور کے بعد ایک مومن جماعت کے ہاتھوں بزور شمشیر مسلمانوں کا قبلہ اول بیت المقدس فتح ہوگا۔ بیت المقدس اور فلسطین کے موجودہ حالات سے یہ بات واضح ہیکہ وہ وقت اب قریب ہے، لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قبلہ اول کی حفاظت اور آزادی کیلئے ہمہ وقت تیار رہیں اور اپنی نسلوں کو اسکی تاریخ سے واقف کرواتے ہوئے اسکی بازیابی کیلئے تیار کریں!

اٹھ باندھ کمر مرد مجاہد کا جگر لے

مومن ہے تو پھر مسجد اقصٰی کی خبر لے



فقط و السلام

بندہ محمد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

٢٩؍ شوال المکرم ١٤٤٢ھ

مطابق11؍ جون 2021ء بروز جمعہ


+91 8495087865

mdfurqan7865@gmail.com

_____________

*ابن مولانا محمد ریاض الدین مظاہری

متعلم جامعہ ابو ہریرہ ؓ اکیڈمی

بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند

صدر مجلس احرار اسلام بنگلور

رکن عاملہ جمعیۃ علماء ساؤتھ بنگلور


#پیغام_فرقان

#PaighameFurqan #Article #Mazmoon #Alquds #Alqudsseries #MasjidAqsa #MasjidAlAqsa #BaitulMaqdis #Palestine #Gaza