Wednesday, 29 November 2023

ارضِ فلسطین سے مسلمانوں کا اٹوٹ رشتہ و تعلق ہے!

 ارضِ فلسطین سے مسلمانوں کا اٹوٹ رشتہ و تعلق ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ سے مفتی محمد شفیق احمد قاسمی کا خطاب!




بنگلور، 24؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی گیارہویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ حضرت مولانا مفتی محمد شفیق احمد قاسمی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ ارضِ فلسطین سے مسلمانوں کا اٹوٹ رشتہ و تعلق ہے اور یہ تعلق ابتداء اسلام سے ہی قائم ہے جو کبھی اور کسی حال میں بھی ختم نہیں ہوگا۔ سرزمین بیت المقدس سے مسلمانوں کا رشتہ نہایت گہرا اور ایمان افروز تاریخ کے ساتھ وابستہ ہے۔ فلسطین کی مقدس سرزمین اہل ایمان کے لئے شروع سے عقیدتوں اور محبتوں کی مرکز رہی ہے، ہر دور میں مسلمانوں نے اسے اپنی جان سے زیادہ اہمیت دی اور اس کے تحفظ کے لئے اپنی زندگیوں کو نچھاور کیا کیوں کہ یہ انبیاء علیہم السلام کا مسکن و مدفن ہے، یہیں مسلمانوں کا قبلۂ اول ”مسجد اقصیٰ“ بھی واقع ہے، جس کی طرف رخ کرکے تقریباً سولہ سترہ مہینہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی۔ سفر معراج کے موقع پر امام الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مسجد میں تمام انبیاء کرام کی امامت فرمائی، یہیں سے معراج کے سفر کا آغاز ہوا، اسکے ارد گرد اللہ تعالیٰ نے برکتوں اوررحمتوں کو رکھا ہے، یہی قربِ قیامت خلافت اسلامیہ کا مرکز و محور ہوگی۔ مولانا نے فرمایا کہ بیت المقدس بہت محترم ومتبرک خطہ ہے، اور بابرکت مقام ہے، اس سرزمین کا ہر چپہ قابل احترام ہے، اسی سرزمین پر حشر برپا ہوگا، آخر زمانے میں حضرت مہدی اور حضرت عیسی علیہم السلام کا خاص تعلق رہے گا اور بھی بہت سارے فضائل وخصوصیات بیت المقدس اور سرزمین فلسطین کے ہیں۔ اتنا گہرا رشتہ مسلمانوں کا بیت المقدس سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔  مولانا نے فرمایا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ ناجائز طور پر قائم ہونے والی اسرائیلی حکومت اور اس کے حکمرانوں نے فلسطینیوں کے ساتھ جو سلوک کیا ہے وہ تاریخ کا ایک بدترین باب ہے، آج بھی فلسطینیوں کو خود ان کی ہی سرزمین میں قید وبند کرکے رکھ دیا ہے، معصوم بچوں، بے قصور جوانوں، مرد و خواتین یہاں تک کہ کمزور بوڑھوں کے ساتھ بھی اسرائیلی اپنے روز قیام سے ظلم ڈھاتے آرہے ہیں، ان کے گھروں کو اجاڑنا، ان کے شہروں کو برباد کرنا، ان کی عمارتوں کو ڈھانا،اور ہر طرف خاک وخون کا دل سوز منظر برپا کرنا اسرائیلیوں کا مشغلہ رہا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ یہ یہودی قوم کی فطرت ہے کیونکہ یہود جو ”مغضوب علیہم“ قوم ہے، پچھلے ستر سالوں سے اہلِ فلسطین پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہی ہے، یوں تو اس قوم کے ہاتھ انبیاء کرام علیہم السلام جیسی مقدس جماعت کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، اپنی ہی قوم کے علماء و صلحاء کا خون بہانا ان کا صدیوں سے آبائی پیشہ رہا ہے اور آج یہ فلسطین پر قابض ہوکر، وہاں صدیوں سے آباد مسلمانوں کا قتلِ عام کرکے انھیں نقل مکانی پر مجبور کررہے ہیں۔ یہودیوں کے مختلف جرائم قرآن کریم میں مذکور ہیں، جن میں ”قتلِ انبیاء“ کا تذکرہ بار بار دہرایا گیا ہے۔ انہی جرائم کی بنا پر یہ قوم ذلت و پستی کی پاتال میں اتاری گئی۔ مولانا نے فرمایا کہ جس قوم نے حضرات انبیاء علیہم السلام کو نہیں چھوڑا وہ کیسے ان کے ماننے والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرسکتی ہے؟  مولانا نے فرمایا کہ یہودیوں نے اسلام اور مسلمان دشمن مختلف النظریات و المذاہب قوموں اور افراد کے تعاون سے، اپنی طبعی چال بازی، مکاری، عیاری اور سازشوں کے ذریعے طرح فلسطین پر زبردستی قبضہ کیا اور ظلم و جبر و نا انصافی کے تاریخ عالم کے تمام ریکارڈوں کو توڑے، پہلے تو اپنی جگہ بنالی اور پھر سن 1948ء میں باقاعدہ اسرائیل کے نام سے اپنی غاصبانہ ریاست قائم کرلی اور بالآخر پورے فلسطین پر قبضہ کرنی شروع کردی اور اصل مکینوں یعنی فلسطینیوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کررہے ہیں۔ مولانا نے تاریخ فلسطین پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے دو ٹوک فرمایا کہ سرزمین فلسطین حضرت ابراہیم علیہ السلام کی میراث ہے، جس پر صرف اور صرف مسلمانوں کا حق ہے، جس میں کسی دوسرے مذہب کے پیروکاروں خاص کر یہودیوں کا کوئی حق نہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ اسرائیل کے غاصبانہ قیام سے لیکر آج تک فلسطینی اپنے حقوق کی لڑائی لڑ رہے ہیں، اس میں غلط ہی کیا ہے، ہر ایک کو اپنا ملک لینے اور اس پر ناجائز قبضے کو ہٹانے کا پورا حق ہے، یہی وہاں کی تنظیم حماس اور دوسری تنظیمیں کر رہی ہیں، آج فلسطین کو دہشت گرد کہنے والوں کی اکثریت اس حقیقت سے نا بلد ہے جو بیان کی گئی ہے، یا پھر وہ اسلام دشمنی میں اتنے آگے نکل چکے ہیں کہ ان مسلمانوں کا دفاعی حملہ انہیں دہشت گردی لگتا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اہل فلسطین اپنے ملک اور حرم قدسی مسجد اقصٰی کی حفاظت کی لڑائی لڑ رہ ہیں، جو اسکے فتح ہونے تک جاری رہے گی۔ انہوں نے فرمایا کہ اس جدوجہد میں پوری امت مسلمہ اہل فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے اور جو انکے خلاف کھڑے ہیں وہ اپنے ایمان کی فکر کریں۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ حضرت مولانا مفتی محمد شفیق احمد قاسمی صاحب دامت برکاتہم نے مرکز تحفظ اسلام مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔

#Press_Release #News #Alquds #Palestine #Gaza #Alqudsseries #MasjidAqsa #MasjidAlAqsa #BaitulMaqdis #AlqudsConference #MTIH #TIMS

مسئلہ فلسطین پوری امت کا مشترکہ مسئلہ ہے، مسلمان اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں!

 مسئلہ فلسطین پوری امت کا مشترکہ مسئلہ ہے، مسلمان اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ سے مولانا احمد ومیض ندوی کا خطاب!

بنگلور، 24؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی تیسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم حیدرآباد کے استاذ حدیث حضرت مولانا سید احمد ومیض ندوی نقشبندی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ اس وقت ارض مقدس پر ظلم و جبر کی آندھیاں چل رہی ہیں، فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیل جس قسم کی وحشیانہ بم باری کر رہا ہے، وہ تاریخ انسانی کی بد ترین جارحیت ہے۔اسرائیل کے تابڑ توڑ حملوں میں ہزاروں فلسطینی مسلمان جام شہادت نوش کر چکے ہیں، جس میں بچوں کی ایک بڑی تعداد ہے، اور دیگر لاکھوں فلسطینیوں کے بے گھر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ غزہ پٹی پر اس وقت ہر طرف معصوم، بے گناہ اور نہتے فلسطینیوں کا خون، جسموں کے ٹکڑے، تباہی و بربادی اور بارود کی بو ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ امریکی، برطانوی اور بعض دیگر مغربی ممالک کی حمایت اور پشت پناہی سے اسرائیل کھلے عام نہتے اور بے یار و مددگار فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ لیکن افسوس کہ اسلامی ممالک کہلائے جانے والے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ جبکہ امریکہ اور دیگر کئی مغربی ممالک قاتل اسرائیل کے سہولت کار ہیں۔ وہ نہ صرف اسرائیل کو تھپکی دے رہے ہیں بلکہ ہر قسم کی مدد بھی فراہم کر رہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ اس وقت دنیا کے بڑے امن پسند کہلائے جانے والے دہشت گرد اسرائیل کی حمایت میں متحد ہیں اور پوری دنیا بدامنی سے دو چار ہو رہی ہے، لیکن وہ یاد رکھیں کہ فلسطین کا مسئلہ حل کیے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ نیز فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضہ کے خاتمہ تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ مسئلہ فلسطین صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا مشترکہ کا مسئلہ ہے، اس لیے کہ اسرائیل بیت المقدس اور قبلہ اول پر قابض ہے، مسجد اقصی کو شہید کرکے اس کی جگہ ہیکالے سلیمانی کی تعمیر اسرائیل کا خواب ہے؛ بلکہ وہ دریائے نیل سے دریائے فرات تک گریٹر اسرائیل کا منصوبہ رکھتا ہے، ایسے میں اس مسئلہ کو صرف عربوں کا مسئلہ خیال کر کے دیگر مسلمانوں کا اس سے دامن جھاڑ لینا بہت بڑی نادانی ہوگی، نیز فلسطین صرف اپنی زمین کیلئے نہیں بلکہ مسجد اقصٰی کی حفاظت کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔ایسے حالات میں امت مسلمہ کی ذمہ داری ہیکہ وہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خاتمے کیلئے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ مولانا نے فرمایا کہ ہم ہندوستان میں رہ کر اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کے لیے دعاؤں کا اہتمام کر سکتے ہیں، قنوت نازلہ کا اہتمام کرسکتے ہیں۔مولانا نے فرمایا کہ ہم اپنے نوجوانوں اور نئی نسل کو مسئلہ فلسطین اور مسجد اقصی کے تعلق سے آگاہ کریں، نئی نسل مسجد اقصی اور مسئلہ فلسطین سے بالکل ناواقف ہے، اکثر مسلم نوجوانوں کو پتہ تک نہیں کہ مسجد اقصیٰ سے مسلمانوں کا کیا رشتہ ہے، اور قبلہ اول کی بازیابی مسلمانوں کا فریضہ ہے۔اسی کے ساتھ ہمیں برادران وطن اور عام لوگوں کو بھی مسئلہ فلسطین کے حقائق سے باخبر کرنا چاہیے۔ مولانا نے فرمایا کہ اسی کے ساتھ ہمیں دنیا بھر کے مسلمانوں کے پاس اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا ایک مؤثر ہتھیار اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ ہے، اگر ساری دنیا کے مسلمان اسرائیلی مصنوعات کا استعمال ترک کر دیں، تو اسرائیل زبردست معاشی بحران کا شکار ہو سکتا ہے، اور یہ اسرائیلی مصنوعات سے اعتراض کرنا اسرائیل کو فلسطین کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے لیے مجبور کرنے کا ایک مؤثر ہتھیار ہے، موجودہ دور میں مصنوعات کا بائیکاٹ نہایت موثر طریقہ کار ہے، جسے اپنا کر ہم دشمنان اسلام کو مجبور کر سکتے ہیں، لہٰذا ضرورت ہیکہ مسلمان اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ قابل ذکر ہیکہ یہ عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی تیسری نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز رکن شوریٰ مفتی سید حسن ذیشان قادری قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور رکن شوریٰ قاری محمد عمران کے نعتیہ کلام سے ہوا۔ اس موقع پر دارالعلوم حیدرآباد کے استاذ حدیث حضرت مولانا سید احمد ومیض صاحب ندوی نقشبندی مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے صدر اجلاس اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اور مفتی سید حسن ذیشان قادری و قاسمی کی دعا سے یہ عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی تیسری نشست اختتام پذیر ہوئی۔


#Press_Release #News #Alquds #Palestine #Gaza #Alqudsseries #MasjidAqsa #MasjidAlAqsa #BaitulMaqdis #AlqudsConference #MTIH #TIMS





Tuesday, 28 November 2023

اہلِ فلسطین کی جرأت کو سلام، عارضی جنگ بندی فلسطین کی فتح اور اسرائیل کی شکست ہے!

 اہلِ فلسطین کی جرأت کو سلام، عارضی جنگ بندی فلسطین کی فتح اور اسرائیل کی شکست ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ سے مفتی افتخار احمد قاسمی کا ولولہ انگیز خطاب!


بنگلور، 27؍ نومبر(پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کی تحریک تحفظ القدس کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی چھبیسویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر عالی قدر حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب مدظلہ نے فرمایا بیت المقدس مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے، یہ روئے زمین پر مسجد حرام خانۂ کعبہ کے بعد یہ دوسری قدیم ترین مسجد ہے، اس سرزمین پر بکثرت انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت مبارکہ ہوئی جس کی وجہ یہ خطہ انوار نبوت سے درخشاں رہا اور یہ پیغام توحید کی درخشانیاں سارے عالم کو روشن و منور کرگئیں، بیت المقدس سے مسلمانوں کا مذہبی اور جذباتی تعلق ہے، اس کی حفاظت مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ لہٰذا اسکی حفاظت کیلئے امت کو بیدار کرنا، اسکی اہمیت و فضیلت سے امت کو واقف کروانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ فلسطین کے مظلوم مسلمان گزشتہ ایک صدی سے اسرائیل کے جبر وتشدد کا شکار ہیں، ارضِ فلسطین پر اسرائیل کا تسلط غیر قانونی بھی ہے اور غیر اخلاقی بھی ہے۔ اسلام دشمن طاقتوں نے منصوبہ بند سازش سے فلسطین میں یہودیوں کو آباد کیا ہے۔ ارضو فلسطین پر ناجائز قبضہ کے ساتھ ہی غاصب یہودی فلسطینیوں کے قتل وخون سے اپنے ہاتھ رنگین کررہے ہیں، ان کے اسباب معیشت کو تباہ و برباد کرنا اور مسجد اقصیٰ کی تقدس کو پامال کرنا ان کا مشغلہ بن گیا ہے۔ فلسطین کے علاقوں پر مسلسل قبضہ جماتے ہوئے یہودیوں کو بسایا جارہا ہے، نہتے فلسطینی مظلوموں پر فضائی حملے اسرائیل کی جارحیت کا زندہ ثبوت ہیں۔ فلسطینی ظلم وجور کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو فلسطینیوں کے لئے بڑا صبرآزما ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اسرائیل مسلسل فلسطین میں ظلم و بربریت کا ننگا ناچ ناچ رہا ہے مگر تمام نام نہاد انسانیت دوست ممالک، حقوق انسانی کی محافظ تنظیمیں اور مظلوموں کے علم بردار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں بلکہ اقوام متحدہ اور اس کے کرتا دھرتا امریکہ اور یورپ کے ممالک یہودیوں کے سرپرست اور پشتیبان بنے ہوئے ہیں۔ افسوس کا مقام ہیکہ بعض نام نہاد مسلم ممالک اپنی ذاتی حقیر مفادات اور اپنی چند روزہ شان و شوکت اور عارضی کرسی کی بقا کی خاطر یا تو ان دشمنان اسلام کی حمایت کررہی ہے یا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اس کے باوجود فلسطینی مسلمانوں نے ہمت نہیں ہاری، مادی وسائل کی قلت اور تناہ ہونے کے باوجود وہ آج تک وہ نہتے دنیا کی طاقتور حکومت کہلائی جانی والی اسرائیل سے نبرد آزما ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ یہی وجہ ہیکہ گزشتہ ڈیڑھ مہینے سے اسرائیل کی دہشت گردی جاری تھی، لیکن اب اسرائیل عارضی جنگ بندی پر رضامند ہونے پر اس لئے مجبور ہوگیا کیونکہ وہ ان سے جیت نہیں رہا تھا، اس کے دل میں اللہ تعالیٰ نے ہارنے اور مرنے کا خوف پیدا کردیا ہے۔ یہ یقیناً اہل فلسطین کی ہمت و جرأت اور استقامت نیز اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان ہونے کا جذبۂ ایمانی اور پوری امت کے دعاؤں اور قنوت کا صدقہ ہیکہ آج اللہ تعالیٰ نے یہ عارضی جنگ بندی کے ذریعے اہل فلسطین کی فتح اور اسرائیل کی شکست کا منظر دیکھایا۔ مولانا نے فرمایا کہ ہر روز فلسطین پر کوئی نہ کوئی بمباری ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ہمارے بزرگ، مائیں، بیٹیاں اور نوجوان شہید ہوتے ہیں، مساجد شہید ہوتی ہیں لیکن ہمارے افسوس کہ اسلامی ممالک کے حاکم ٹس سے مس نہیں ہوتے، بیدار نہیں ہوتے۔ مولانا نے فرمایا کہ اہلِ فلسطین پوری امت مسلمہ کی جانب سے فرض کفایہ ادا کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں، ان شاء اللہ ثم ان شاء اللہ وہ سرخرو ہونگے اور فلسطین اور مسجد اقصیٰ آج نہیں تو کل آزاد ہوکر رہے گا۔ مولانا نے فرمایا ان شہداء کی قربانیوں اور فلسطین کے موجودہ حالات کو دیکھ کر مایوس ہونی کی قطعاً ضرورت نہیں کیونکہ مشکل حالات اور آزمائش زندہ قوموں پر ہی آتی ہیں۔ زندہ قومیں مشکل سے مشکل حالات کا حکمت اور جرأت کے ساتھ مقابلے کرتی ہیں اور نئے عزم و حوصلہ کے ساتھ مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرتی ہیں، جس پر اہلِ فلسطین اس عمل پیرا ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ آج اسرائیل کی درندگی، وحشیانہ فضائی حملوں، ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی بچوں کی شہادتوں اور غزہ کو ملبہ کے ڈھیر میں تبدیل کئے جانے کے باوجود فلسطینیوں کے صبر و شکر نے دنیا کو حیران کردیا ہے۔ دنیا یہ سوچنے پر مجبور ہیکہ آخر اس قدر تباہی و بربادی، اپنے عزیز و رشتہ داروں کی شہادت، پانی، بجلی، گھر اور خوراک سے محرومی کے باوجود مسجد اقصیٰ کی حفاظت کرتے ہوئے فلسطینی اپنے رب کا شکر ادا کررہے ہیں۔ صابر و شاکر بن کر ابھر رہے ہیں۔ ان کے لبوں پر اپنے رب سے کوئی شکایت نہیں۔ ان کے اس عزم و استقلال اور جذبۂ ایمانی میں کوئی کمی نہیں اور انکی کوئی مثال نہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ ایسے حالات میں ہماری ذمہ داری ہیکہ ہم ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اسرائیلی جارحیت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں، اہل فلسطین و غزہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں، انکی مدد و معاونت کریں، اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ مسجد اقصیٰ اور اہلِ فلسطین کی مجاہدانہ تاریخ سے امت مسلمہ کو واقف کروائیں تاکہ امت مسجد اقصیٰ کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت تیار رہیں۔ قابل ذکر ہیکہ یہ عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی چھبیسویں نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز رکن شوریٰ مفتی سید حسن ذیشان قادری قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور رکن شوریٰ قاری محمد عمران کے نعتیہ کلام سے ہوا۔ جبکہ اسٹیج پر مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بطور خاص موجود تھے۔ اس موقع پر حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا اور مرکز کے تحریک تحفظ القدس اور تحفظ القدس کانفرنس کو وقت کی اہم ترین ضرورت بتایا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے صدر اجلاس اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اور صدر اجلاس حضرت مولانا مفتی مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب مدظلہ کی دعا سے یہ عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی چھبیسویں نشست اختتام پذیر ہوئی۔



#Press_Release #News #Alquds #Palestine #Gaza #Alqudsseries #MasjidAqsa #MasjidAlAqsa #BaitulMaqdis #AlqudsConference #MTIH #TIMS



Thursday, 23 November 2023

مسجد اقصیٰ اور ارضِ فلسطین کی تاریخ سے واقفیت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے!

 مسجد اقصیٰ اور ارضِ فلسطین کی تاریخ سے واقفیت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ سے مولانا محمد الیاس بھٹکلی ندوی کا خطاب!



بنگلور، 22؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ”تحفظ القدس کانفرنس“ سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن اور جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے استاذ حضرت مولانا محمد الیاس بھٹکلی ندوی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ مسجد اقصیٰ روئے زمین پر مسجد حرام خانہ کعبہ کے بعد یہ دوسری قدیم ترین مسجد ہے۔ قرآن وحدیث میں مختلف جگہوں پر اس مبارک مسجد کا ذکر آیا ہے۔ اس مسجد کے ارد گرد کی جگہوں کو برکت والی جگہیں کہا گیا ہے۔ اور سرزمین فلسطین نہایت مبارک اور محترم ہے، یہ سرزمین آسمانی پیغامات اور رسالتوں کا منبع اور سرچشمہ رہی ہے، اس سرزمین پر اکثر انبیاء اور رسل آئے ہیں، یہی وہ سرزمین رہی ہے جہاں سے معراج سفر کے دوران حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیاء علیہم سلام کی امامت فرمائی اور ”امام الانبیاء“ کے شرف سے مفتخر ہوئے اور پھر یہیں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ سفر معراج شروع ہوا، جس نے انسانیت کو سرعرش مہمان نوازی کا اعزاز عطا کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو مسجد حرام سے سیدھے آسمانوں کی طرف سفر ہو سکتا تھا، لیکن درمیان میں بیت المقدس کو لا کر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کے ذریعہ یہ عظیم پیغام دیا کہ اسلام میں بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ بیت المقدس کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ یہ مسلمانوں کا قبلۂ اول رہا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اس وقت فلسطینیوں پر اسرائیل یہود کی بربریت اور ظلم بدستور جاری ہے۔ مولانا نے یہودیوں کی تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالی اور یہودیوں کی مسلمانوں سے دشمنی کی اصل وجوہات بھی عوام کے سامنے رکھی۔ مولانا نے فرمایا کہ یہودی دنیا کی بدترین قوم ہے، یہودیوں پر اللہ کا قہر ہے کہ یہ ہزاروں سال سے تباہ و برباد ہوتے چلے آئے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ یہودیوں نے اپنے مقدس کتابوں میں تحریف کرکے اپنے آپ پر ظلم کیا اور ہزاروں انبیاء کو قتل کرکے اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے ہیں۔ مولانا نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیدا ہونے والے حالات اور انہیں پہنچائی گئی ذہنی اذیتوں کو مثالوں کے ساتھ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی قوم ہے جنہوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکہ دے کر قتل کرنے کی سازش رچی، ان کے کرتوں میں یہ بھی شامل ہے کہ انہوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا اور ان پر جادو کرکے انہیں اذیت پہنچاتے رہے۔ مولانا نے نبی کے دور کے بعد کے حالات بھی سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ایک لمبی مدت تک یہ ارضِ مقدسہ مسلمانوں ہی کے قبضہ میں رہا لیکن بڑی چالاکی کے اور مکاری کے ساتھ زبردستی 1948ء میں انہوں نے اس پر قابض ہونے کی شکلیں پیدا کیں اور آہستہ آہستہ انہوں نے اس پر قبضہ کرنا شروع کردیا۔ جس کے بعد سے میں وہ لوگ مسجد اقصیٰ کی اسلامی شناخت ختم کرکے صیہونی رنگ میں رنگنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ ایک ایسی بزدل قوم ہے جو سامنے سے وار نہیں کرتی کیونکہ اگر یہ میدان میں مقابلہ کرے گی تو انکا وجود مٹ جائے گا۔ مولانا نے فرمایا کہ مسئلہ فلسطین مسلم امہ کے مشترکہ موضوعات میں سب سے اہم ترین مسئلہ ہے، کیونکہ ایک ایسا مسلمان ملک جو کئی حوالوں سے مسلمانوں کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اسے اس کے باسیوں سے چھین کر مختلف ممالک سے لائے گئے غیر قانونی اور غاصب افراد کے حوالے کیا جا رہا ہے، فلسطینوں پر ان کی اپنی ہی زمین تنگ کر دی گئی ہے، آئے روز ظلم و ستم اور قتل و غارت کا سلسلہ بڑھتا چلا جا رہا ہے، غاصب صیہونیوں کو روکنے کیلئے کہیں سے کوئی آواز بلند نہیں ہو رہی۔ مولانا نے فرمایا کہ القدس جو کہ عالم اسلام کا حساس ترین نقطہ ہے وہاں ایک غاصب اور جعلی ریاست کو تشکیل دیا گیا، نہ صرف تشکیل دیا گیا بلکہ اسے مسلسل غاصبانہ طریقے سے وسعت دی جا رہی ہے۔ حماس اور اس جیسی مزاحمتی تنظیمیں جو اپنی زمین کے دفاع کیلئے کھڑی ہیں ان کو دہشت گرد اور متشدد کے ناموں سے پکارا جاتا ہے، مگر غاصب اسرائیل کو کوسنے والا کوئی نہیں، جس کی دہشت گرد آرمی مسلم امہ کے مقدس ترین مقام مسجد اقصٰی میں مقدسات کی تو ہین کے ساتھ ساتھ نہتے اور مظلوم فلسطینیوں کی جانوں کے ساتھ کھیلتے نظر آتے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ افسوس کہ آج ہماری قوم بیت المقدس اور ارضِ فلسطین کی تاریخ سے نا واقف ہے اور غفلت کی نیند سو رہی ہے۔ اور عالم اسلام کے خاموش تماشائی بنے رہنے کے باوجود فلسطینی آج بھی پوری امت مسلمہ کی جانب سے فرض کفریہ ادا کرتے ہوئے مسجد اقصٰی کی حفاظت کیلئے نہتے مزاحمت کر رہے ہیں اور اسرائیلی درندگی کا ڈٹ کر سامنا کر رہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ ارضِ فلسطین کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس کو دور فتن، قربِ قیامت اور آزمائشی مراحل میں جائے پناہ اور مرکز قرار دیا گیا ہے۔ پہلے زمانہ میں بھی انبیاء اور صلحاء نے مشکل مراحل میں اسی کی طرف رخ کیا تھا اور پھر اسی طرح آئندہ بھی اسی سر زمین کو جائے پناہ اور مرکز اسلام قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا ضرورت ہیکہ اسلام کے اس عظیم مرکز کی حفاظت کیلئے پوری امت کھڑی ہوجائے۔ مولانا نے موجودہ حالات کے تناظر میں مسلمانوں کے ذہنوں میں پیدا کیے جانے والے شکوک وشبہات کا دلائل کے ساتھ ازالہ کیا اور اس کا پس منظر بھی حاضرین کے سامنے رکھتے ہوئے فرمایا کہ مسجد اقصیٰ اور ارضِ فلسطین کی تاریخ سے واقفیت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ مولانا نے اپنے خطاب میں اس بات کو زور دے کر کہا کہ مسئلہ فلسطین صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ دنیا کے تمام مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔ جب دنیا کے مسلمان اس کو اپنا مسئلہ سمجھیں گے اس وقت فلسطین کی آزادی کی شکلیں پیدا ہوں گی اور دنیا دیکھے گی کہ اس پر مسلمانوں کا ایک نہ ایک قبضہ ہوکر رہے گا۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا محمد الیاس بھٹکلی ندوی صاحب مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔


#Press_Release #News #Alquds #Palestine #Gaza #Alqudsseries #MasjidAqsa #MasjidAlAqsa #BaitulMaqdis #AlqudsConference #MTIH #TIMS

Tuesday, 21 November 2023

مسجد اقصیٰ کی حفاظت پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے، امت مسلمہ اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں!

 مسجد اقصیٰ کی حفاظت پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے، امت مسلمہ اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ سے مولانا محمد ارشد علی قاسمی کا خطاب!



بنگلور، 20؍ نومبر(پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی ساتویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے مجلس تحفظ ختم نبوت تلنگانہ و آندھراپردیش کے سکریٹری مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا محمد ارشد علی قاسمی صاحب مدظلہ نے فرمایا گزشتہ ایک مہینے سے فلسطین اور غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت اور وحشیانہ حملوں سے دل بہت غمگین ہے۔ پچھلے پچھتر سالوں سے مسجد اقصٰی مسلمانوں کی طرف دیکھ رہی ہے، وہ پکار کر کہ رہی ہیکہ کہ میں تو اللہ کے بھیجے ہوئے انبیاء علیہم السلام کی سرزمین ہوں، میرے گرد و نواح میں کئی برگزیدہ انبیاء کرام کی مقدس قبریں ہیں، میرے یہاں سے آنحضور ﷺ معراج کے سفر پر روانہ ہوئے، میری مقدس سرزمین پر امام الانبیاء ؐنے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام کی امامت فرمائی، میں پوری امت کا قبلۂ اول ہوں، لیکن آج میں بیت المقدس، مسجد اقصیٰ خون کے آنسو بہارہی ہوں۔ یہودی صلیبی مجھے شہید کرنا چاہتے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ آج مسجد اقصٰی ہماری منتظر ہے لیکن ہم لوگوں کچھ نہیں کرپارہے۔ آج جن امت مسلمہ کے حکمرانوں نے ان ناپاک اسرائیلی یہودیوں سے اس مقدس سرزمین کو آزاد کروانا تھا۔ وہ ان کے ساتھ ہاتھ ملارہے ہیں، معاہدے کررہے ہیں، انکو تسلیم کررہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ مسجد اقصیٰ کی حرمت و تقدس کو پائے حقارت سے روندا جارہا ہے، اسکے محافظ اہل فلسطین و غزہ کو شہید کیا جارہا ہے اور پوری امت مسلمہ غفلت کی نیند سو رہی ہے۔ بے دست و پا نہتے فلسطینی اکیلے بیت المقدس کی بازیابی کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں اور سر پہ کفن باندھ کر صہیونیوں کے خلاف میدان جنگ میں ڈٹے ہوئے ہیں، وہ اپنے وجود اور اپنے تشخص کی بقا اور مسجد اقصٰی کی حفاظت کے لیے صہیونیوں سے دست و گریباں ہیں، ہر دن فلسطینیوں کے قتل ہورہا ہے اور خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں، مگر دنیا کے نقشے پر موجود کروڑوں کی تعداد میں کلمہ توحید پڑھنے والے ان کے ساتھ اسلامی اخوت کی بنیاد پر تعاون کرنے کو تیار نہیں۔ حالاں کہ مسلمانوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مسجد اقصی صرف گنبد و مینار پر مبنی ایک مسجد نہیں، بلکہ وہ اسلام اور مسلمانوں کا ایک نشان ہے، ان کی اسلامی میراث ہے، اسلامی تشخص کی ایک واضح علامت ہے، اس کی حفاظت ہمارا اسلامی اور مذہبی فریضہ ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اسرائیل مسلسل فلسطین اور غزہ میں ظلم و بربریت کا ننگا ناچ ناچ رہا ہے مگر تمام نام نہاد انسانیت دوست ممالک، حقوق انسانی کی محافظ تنظیمیں اور مظلوموں کے علم بردار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے اس رویے سے یہ یہ ثابت کررہے ہیں کہ انکے نزدیک مسلمانوں کے خون کی کوئی قیمت نہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے اسرائیل کے وحشیانہ مظالم پر مغربی مین اسٹریم میڈیا کی یکطرفہ رپورٹنگ جو متعصبانہ طور پر صیہونی غاصبوں کی طرف داری ہے قابل افسوسناک ہے۔ جو اسرائیل غاصب ہے اور نہتوں پر ظلم و ستم ڈھا رہا ہے اسے مظلوم بتارہے ہیں اور جو فلسطین حقیقت میں مظلوم ہے اور اپنی حفاظت کررہے ہیں انہیں یہ ظالم دیکھا رہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ جس طرح مغربی میڈیا اسرائیلی بربریت اور فلسطینیوں کے بے رحمانہ قتلِ عام کی حمایت کررہی ہے، اس سے ان کی سوچ کا اندازہ ہورہا ہے، گزشتہ پچھتر سالوں سے فلسطین پر جو ظلم ہورہا ہے اور غزہ جو ایک کھلی جیل کہ طرح ہے وہ ان لوگوں کو کیوں نظر نہیں آرہا ؟ یہ درحقیقت انصاف اور انسانیت کے قاتل ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ یہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے، انبیاء علیہم السلام کا مسکن و مدفن ہے، اسکی حفاظت پوری امت مسلمہ کی مشترکہ اور بنیادی ذمہ داری ہے، اور مسئلہ فلسطین پوری ملت اسلامیہ کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ فلسطین کے حالات کی وجہ سے ہر انصاف پسند،صاف دل اور زندہ ضمیر رکھنے والا شخص رنجیدہ ہے۔ غزہ کے لاکھوں بے قصور عوام پر قیامت ٹوٹ رہی ہے، ہر طرف انسانی نعشوں کا دل دہلانے والا منظر ہے، جس سے پوری دنیا بالخصوص پورا عالم اسلام بے چینی کا شکار ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ایسے حالات میں جب اہل فلسطین اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے تنہ تنہا بہت المقدس کی حفاظت کررہے ہیں، ایسے میں ہماری ذمہ داری ہیکہ ہم اہل فلسطین کی مدد کریں، ان کے حق میں دعائیں کریں کیونکہ دعا مومن کا ہتھیار اور طاقت ہے، قنوت نازلہ کا اہتمام کریں، علماء و ائمہ اپنی تقریر و تحریر میں ارضِ فلسطین کو موضوع سخن بنائیں۔ مولانا نے فرمایا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے پاس اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا ایک مؤثر ہتھیار اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ ہے، اس وقت دنیا بھر میں اسرائیلی کمپنیاں پھیلی ہوئی ہیں، جن کی آمدنی سے قوت پا کر اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم ڈھاتا ہے، اگر ساری دنیا کے مسلمان اسرائیلی مصنوعات کا استعمال ترک کر دیں، تو اسرائیل زبردست معاشی بحران کا شکار ہو سکتا ہے، اور یہ اسرائیلی مصنوعات سے اعتراض کرنا اسرائیل کو فلسطین کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے لیے مجبور کرنے کا ایک مؤثر ہتھیار ہے، موجودہ دور میں مصنوعات کا بائیکاٹ نہایت موثر طریقہ کار ہے، جسے اپنا کر ہم دشمنان اسلام کو مجبور کر سکتے ہیں لیکن ہم مسلمانوں کی صورتحال انتہائی افسوسناک ہے، مسلمانوں کی اکثریت غفلت کا شکار ہے انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ روز مرہ کی اشیاء کس کمپنی کی ہیں، انہیں محض اپنی ضروریات کی تکمیل چاہیے حالانکہ جتنی اسرائیلی استعمالی اشیاء بازار میں عام ہیں ان کے متبادل بھی دستیاب ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء دانشوران اور مختلف تنظیموں کے کارکنان کے ذریعے اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی باقاعدہ مہم چلائی جائے، اور اگر ہم مسجد اقصٰی سے عقیدت رکھتے ہیں اور فلسطین و غزہ کے ساتھ کھڑے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم اسرائیلی مصنوعات کا مکمل طور پر بائیکاٹ کریں۔ قابل ذکر ہیکہ یہ عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی ساتویں نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور رکن شوریٰ قاری محمد عمران کے نعتیہ کلام سے ہوا۔ جبکہ مرکز کے رکن محمد شبلی بطور خاص موجود تھے۔ اس موقع پر حضرت مولانا محمد ارشد علی صاحب قاسمی مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے صدر اجلاس اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اور صدر اجلاس حضرت مولانا محمد ارشد علی قاسمی صاحب مدظلہ کی دعا سے یہ عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی ساتویں نشست اختتام پذیر ہوئی۔



#Press_Release #News #Alquds #Palestine #Gaza #Alqudsseries #MasjidAqsa #MasjidAlAqsa #BaitulMaqdis #AlqudsConference #MTIH #TIMS