”مجلس احرار اسلام ہند“؛ ہمت وجرأت کے 91؍ سال!
(29؍ دسمبر یوم تاسیس)
✍️ بندہ محمّد فرقان عفی عنہ
(صدر مجلس احرار اسلام بنگلور و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)
تحریک آزادیٔ ہند میں جن انقلابی جماعتوں نے اپنے مذہب و قوم اور وطن کے لیے انگریز سامراج کا مقابلہ کیا اور جدوجہد آزادی میں لازوال و بے مثال ایثار و قربانی اور ایمان و عزیمت کی داستانیں رقم کیں ان میں مجلس احرار اسلام ہند سر فہرست ہے۔جس کی جرأت، استقامت، بہادری اور بے باکی کی داستانیں تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ آج سے تقریباً 91؍ سال قبل جب سن 1929ء میں دریائے راوی لاہور کے کنارے کانگریس کے اجلاس کے اختتام پر نہرو رپورٹ دریا میں بہا دی گئی اور انگریز مسلمانوں کے دلوں اور ذہنوں سے جذبۂ جہاد کی آخری چنگاری اور رمق ختم کرنے کے لیے ایک جھوٹے نبی مرزا غلام قادیانی کو جنم دے چکا تھا اور کشمیر میں ڈوگری حکومت کے مسلمانوں کے ساتھ مظالم کے درمیان انگریز کے خودکاشتہ پودے مرزا غلام قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود کی طرف سے کشمیر کو مرزائیت میں رنگنے کی سازش رچی جانے لگی تو مسلمانوں کے سامنے ملک کی آزادی کے ساتھ ساتھ اپنے عقیدوں بالخصوص عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت ایک بڑا چیلنج بن کر ابھرا اور ملک کے اکابرین بھی ایک ایسی جماعت کے خواہشمند تھے جو تحریک آزادیٔ ہند کے ساتھ ساتھ تحریک ختم نبوت کی بھی نمائندگی کرے۔بالآخر 29؍ دسمبر 1929ء کو دریائے راوی کے کنارے اسلامیہ کالج لاہور کے حبیب ہال میں تحریک آزادی کے حریت پسندوں کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ، سید الاحرار امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مفکر احرار چودھری افضل حقؒ، مولانا سید محمد غزنویؒ، مولانا مظہر علی مظہرؒ، شیخ حسام الدینؒ، ماسٹر تاج الدین انصاریؒ جیسے سربکف وجان باز مجاہدوں نے امام الہند مولانا ابو الکلام آزادؒ کے تجویز کردہ نام کے مطابق ”مجلس احرار اسلام ہند“ کے نام سے اس انقلابی جماعت کی بنیاد رکھی۔ اجلاس کے اختتام پر بطل حریت رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ کو مجلس احرار اسلام ہند کا صدر منتخب کیا گیا۔
مجلس احرار اسلام ہند کا قیام اس دور کے مشہور بزرگ شیخ المشائخ حضرت مولانا عبد القادر رائے پوریؒ اور امام المحدثین حضرت مولانا سیدانور شاہ کشمیری ؒکے عین خواہشات کے مطابق تھا۔ ان بزرگوں نے ہمیشہ احرار کی سرپرستی فرمائی۔ مجلس احرار کا قیام جہاں تحریک آزادی کے حریت پسندوں کیلئے ایک مضبوط جماعت کی شکل میں ہوا وہیں ملک میں اس جماعت نے اسلامی روایات کے مطابق میدان سیاست میں قدم رکھا۔ چونکہ مجلس احرار اسلام کے بنیادی مقاصد میں آزادی وطن اور تحفظ ختم نبوت ایسے عظیم اہداف شامل تھے۔ اس لیے کسی بھی مکتبہ فکر کے لیے احرار میں شمولیت کے لیے بے پناہ کشش پائی جاتی تھی۔ اس طرح مجلس احرار نے آزادی کی جدوجہد میں نہ صرف مذہبی شعور کو اجاگر کیا بلکہ مختلف مذہبی مکاتب فکر کے سرکردہ راہنماؤں کو یکجا کر کے مشترکہ قیادت فراہم کی۔ احرار کے قیام سے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور فرنگی حکومت کے چہرے پر شکن پڑگئے۔
مجلس احرار اسلام ہند نے اپنے قیام کے فوراً بعد کشمیر کو مرزائی اسٹیٹ بنانے کی قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین کی سازش کو ناکام بنانے کیلئے سن 1931ء میں پہلی ملک گیر تحریک کشمیری مسلمانوں کے حق میں چلائی۔ جو تحریک خلافت کے بعد سب سے بڑی تحریک ثابت ہوئی۔ جس میں پچاس ہزار احرار کارکن گرفتار ہوئے۔ مجلس احرار اسلام نے اس گہری سازش کو ناکام بناتے ہوئے تحریک کشمیر میں قائدانہ کردار ادا کیا اور جنت نظیر وادی کے مسلمانوں کو ڈوگرہ راج کے مظالم سے نجات دلائی اور وہاں قادیانی سازش کے خطرناک نتائج سے بچایا۔ تحریک کشمیر کے بعد احرار کی مقبولیت آسمانوں کو چھونے لگی اور ملک کے مختلف حصوں میں احرار کی شاخیں قائم ہوئیں۔تحریک تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں سب سے بڑا اور مشکل مرحلہ جھوٹی نبوت کے گڑھ قادیان کو فتح کرنا تھا۔ اسی کے پیش نظر مجلس احرار اسلام ہند کے قائدین رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی ؒاور امیر شریعت مولاناسید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے اپنے احرار کے جانثار قافلے کے ساتھ سن 1934ء میں قادیان کا دورہ کرتے ہوئے وہاں سہ روزہ کانفرنس منعقد کیا اور اسی درمیان قادیان میں مجلس احرار اسلام کا دفتر قائم ہوا، جس پر احرار کا پرچم لہرا دیا گیا۔ جسے دیکھ کر جھوٹی نبوت کے پیروکار مرزائیوں کے یہاں زلزلہ برپا ہوگیا۔ اسی کو شاعر نے کہا:
ڈر کے سوتے ہی نہیں رات کو مرزا مرتد
آنکھ لگتی ہے تو احرار نظر آتے ہیں
مجلس احرار اسلام ہند کے قائدین بے غرضی اور بے لوثی میں اپنی مثال آپ تھے۔ انہیں مفکر احرار چوہدری افضل حقؒ کا دماغ، رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ کا جوش عمل اور امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی ساحرانہ خطابت میسر تھی۔ اس لیے دیکھتے ہی دیکھتے پورے ہندوستان میں احرار کا طوطی بولنے لگا۔ مجلس احرار اسلام نے انگریزی استعمار کے شدید مظالم کے مقابلے میں دل برداشتہ اور مایوس ہونے کے بجائے عزم کامل اور پوری جرأت و شجاعت کے ساتھ حریتِ اسلامی اور آزادیِ وطن کا علم بلند کیا۔ احرار کا قافلۂ ولی اللّٰہی اپنی مکمل دینی شناخت اور پہچان کے ساتھ تحریک آزادی میں کامیابی، مسلمانوں کے عقیدہ و ایمان کی حفاظت اور خدمت انسانیت کے جذبوں کو پروان چڑھانے کی جدوجہد میں اپنی قربانیوں کا رنگ بھرتا چلا گیا۔ تحریک آزادیٔ ہند کے ساتھ ساتھ مجلس احرار نے تحریک کشمیر، تحریک تحفظ ختم نبوت، تحریک بحالیِ مسجد شہید گنج، تحریک مسجد منزل گاہ سکھر، تحریک امداد و تعاون زلزلہ زدگان کوئٹہ ومتاثرین قحط بنگال جیسی درجنوں تحریکوں کی قیادت کی اور مسلمانوں کی رہنمائی کا حق ادا کر دیا۔ ہندوستان کے جید علماء و مشائخ کی دعائیں اور سرپرستی احرار کو شاملِ حال رہی۔
تحریک آزادی کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور سن 1947ء میں ملک آزاد ہوا لیکن افسوس کہ آزادی کے ساتھ ساتھ ملک تقسیم بھی ہوگیا۔ مجلس احرار اسلام نے روز اول سے تقسیم ہند اور قیام پاکستان کی مخالفت کی۔ الغرض ملک کی آزادی کے ساتھ ہی ملک تقسیم ہوا اور پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ پاکستان کے قیام کے اعلان کے ساتھ ہی ملک بھر میں فسادات کی ابتداء ہوگئی، ہر طرف قتل و غارت، لوٹ مار کا بازار گرم تھا، پاکستان سے بڑی تعداد میں سکھ اور ہندوستان سے بڑی تعداد میں مسلمان ہجرت کررہے تھے۔ کچھ عرصے بعد ہجرت کا یہ سلسلہ ختم ہوا۔ امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سمیت احراریوں کی ایک تعداد بھی پاکستان ہجرت کرگئی لیکن چند ہی دنوں بعد رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ اپنے اہل خانہ سمیت ہندوستان دوبارہ واپس تشریف لے آئے۔ 1947ء کے بعد پاکستان میں امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے احرار کی سرگرمیاں جاری رکھیں اور ہندوستان میں رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ نے عزم احرار کو زندہ رکھا۔ البتہ دونوں مقامات میں فرق یہ تھا کہ امیر شریعت ؒکے ہمراہ بے شمار احراری موجود تھے اور رئیس الاحرارؒ نے دیار کفر میں اس کا پرچم بلند رکھا تھا۔
مجلس احرار اسلام ہند نے دینی معاملات پر یکسوئی کے ساتھ توجہ مرکوز رکھی۔ تقسیم ہند کے بعد جب پنجاب و اطراف کے علاقوں میں دین اسلام کا نام لینے والا کوئی بھی نہ رہا اس وقت بھی رئیس الاحرار نے ہمت نہ ہاری بلکہ پنجاب میں مساجد آباد کاری کا کام شروع کروایا اور الحمدللہ انکی قربانیوں کے صدقے آج مشرقی پنجاب میں ایک مرتبہ پھر سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔ اسی کے ساتھ سیاسی میدان میں نہ ہونے کے باوجود قومی امور اور عوامی مسائل پر مجلس احرار کی توانا آواز سنائی دیتی رہی۔ ستمبر 1956ء میں رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ کا اچانک وصال ہوگیا، اناللہ وانا الیہ راجعون۔ رئیس الاحرار کے تمام صاحبزادے پنجاب میں اسلام کی اشاعت نو میں متحرک تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ کے فرزند مفتیٔ اعظم مفتی محمد احمد لدھیانویؒ نے عزم احرار کو آگے بڑھایا اور اس ضمن میں پندرہ روزہ اخبار ”الحبیب“ بھی جاری کیا جو کہ احرار کی ترجمانی کررہا تھا۔ رئیس الاحرار کی رحلت کے بعد پنجاب میں مساجد اور مسلمانوں کو آباد کرنے، تحریک ختم نبوت، مدرسہ حبیبیہ کا قیام جیسے مختلف تحریکوں کے ذریعہ اپنی نمایاں خدمات انجام دیتے ہوئے 27؍ مئی 1988ء میں اس مرد مجاہد نے بھی داعی اجل کو لبیک کہ دیا، اناللہ وانا الیہ راجعون۔ مفتیٔ اعظم کے انتقال کے صرف ایک سال بعد لدھیانہ جامع مسجد میں احرار قائدین کی میٹنگ ہوئی، جس میں مجلس احرار اسلام ہند کو ایک بار پھر ملک بھر میں سرگرم کرنے کیلئے اور مسلمانوں کو جذبۂ احرار سے آشناء کروانے کیلئے طویل مجلس کے بعد اتفاق رائے سے قائد الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی دامت برکاتہم کو جماعت احرار کا صدر منتخب کیا گیا۔
جس کے ایثار سے ملت کی دوبالا ہوئی شان
اس جماعت کے ہیں سردار حبیب الرحمن
مجلس احرار اسلام ہند کا صدر بننے کے بعد قائد الاحرار مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے تمام تر ذمہ داریاں بخوبی ادا کرنی شروع کردیں۔ اولاً تحریک تحفظ ختم نبوت، ثانیاً پنجاب میں مساجد کی آبادکاری اور دینی تعلیم کا فروغ، ثالثاً جماعت احرار کی تنظیم کے کام کو سرفہرت رکھا۔ آپ نے چند سالوں میں ہی نہ صرف جماعت احرار کو منظم کیا بلکہ احراریوں کو ایک بار پھر سے قادیانیوں اور فرقہ پرست طاقتوں کے سامنے شیشہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح قائم کردیا۔ آپ نے پورے ملک کا طوفانی دورہ کرتے ہوئے انگریز کے خودکاشہ پودے قادیانیوں کو اس طرح بے نقاب کیا کہ قادیانی کی راتوں کی نیند حرام ہوگئی۔ یہی وجہ تھی کہ سن 2001ء میں قادیانیوں نے آپکے فرزند ارجمند اور مجلس احرار اسلام ہند کے جنرل سیکریٹری مولانا محمدعثمان رحمانی لدھیانوی سمیت دیگر احراریوں کے خلاف قتل کا ایک جھوٹا مقدمہ درج کرواتے ہوئے گرفتار کرواکر جیل بھیج دیا گیا۔ اس گرفتاری کے بعد قادیانی خوش تھے کہ وہ کامیاب ہوگئے لیکن انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ احراری جہاں جائیں وہاں اللہ کے فضل سے انفرادی انداز میں دین کا کام کرتے ہی رہتے ہیں۔ لدھیانہ جیل میں احراریوں نے عشق رسول اور جرأت و بے باکی کی بے شمار مثالیں قائم کی۔ مجلس احرار اسلام ہند کے تعاون اور قائد الاحرار مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی کی سرپرستی میں اسیران ختم نبوت نے لدھیانہ سنٹرل جیل میں فقط پانچ ماہ کے مختصر عرصے میں برصغیر کے جیلوں میں اول”مسجد ختم نبوت“ تعمیر کردی، جسکا افتتاح سن 2005ء میں قائد الاحرار نے کیا۔ اسی طرح مرتد قادیانی پر علمائے لدھیانہ کے سرخیل مولانا شاہ محمد لدھیانویؒ، مولانا شاہ عبداللہ لدھیانویؒ اور مولانا شاہ عبد العزیز لدھیانویؒ کی جانب سے جاری کئے گئے اول فتویٰ تکفیر کے ساتھ جو تحریک تحفظ ختم نبوت شروع ہوئی تھی اسکے سو سال مکمل ہونے پر مجلس احرار اسلام ہند نے 10؍ اپریل 2011ء کو قائد الاحرار مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی کی صدارت میں لدھیانہ کی سرزمین پر تاریخی صد سالہ جلسہ منعقد کیا، جس میں تقریباً 10؍ لاکھ سے زائد فرزند توحید نے شرکت کی اور قادیانیوں کا تعاقب اور تاج ختم نبوت کی حفاظت کا عزم کیا۔ جسے دیکھ کر قادیانی بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے اور ملک کی حکومت اور اسکے اہلکاروں کے یہاں احرار کی شکایتیں کرنے لگے لیکن انہیں شاید معلوم نہیں کہ ایسی شکایتوں سے احرار نہ کبھی ماضی میں گھبرایا تھا اور نہ آج اور کل گھبرائے گا کیونکہ احرار تاج ختم نبوت کی حفاظت کے خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا جانتا ہے تو شکایت اور مقدمہ کیا چیز ہے!
الحمداللہ! آج 29؍ ڈسمبر 2020ء کو مجلس احرار اسلام ہند عزم، ہمت، جرأت اور استقامت کے 91؍ سال مکمل کرچکی ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں اپنا یوم تاسیس منا رہی ہے۔ یہ حقیقت ہیکہ علماء لدھیانہ نے بقائے احرار کے لیے اپنی صلاحیتیں وقف کر دیں۔ پرچم احرار بلند رکھا اور اپنے عظیم نصب العین کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہے۔ جس کے نتیجے میں قافلۂ احرار آج بھی قائد الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی دامت برکاتہم کی قیادت میں رواں دواں ہے اور مجلس احرار اسلام ہند کے جنرل سیکریٹری مولانا محمد عثمان لدھیانوی کی مدبرانہ صلاحیتوں کے نتیجے میں حلقۂ احرار وسیع ہورہا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آج ملک کے طول و عرض میں شیر اسلام، شاہی امام پنجاب، قائد الاحرار مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی مدظلہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ آج ملت اسلامیہ ہندیہ کا ایک بڑا طبقہ جہاں آپکی آواز پر لبیک کہتا ہے وہیں دشمن پر آپکا رعب اس طرح طاری ہیکہ دشمن ڈر بھاگتا ہے۔ آج احرار میں وہی جذبۂ حریت، بے خوف، حق گوئی کی صفات موجود ہے جس کی بنیاد رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ اور امیر شریعت مولانا سیدعطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے رکھی تھی۔ آج بھی احرار کا شمار ان جماعتوں میں ہوتا ہے جو فتنۂ قادیانیت کے خلاف صف اول میں ملت اسلامیہ کی رہنمائی کررہے ہیں اور مظلوموں کے حق میں ظالم حکومتوں کے آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کررہی ہے۔ احرار کے خلاف قادیانیوں کی لگاتار شکایتیں، قائد الاحرار پر بزدلانہ حملے، احراریوں پر ناجائز مقدمات، گودی میڈیا کا قائد الاحرار کے خلاف غلط پروپیگنڈا اور ظالم حکومت کو للکارنے پر قائد الاحرار کا ملک کی راجیہ سبھا میں تذکرہ ہونا اسکی جیتی جاگتی ثبوت ہے کہ احرار کا عمل قبول ہورہا ہے اور یہ واضح پیغام ہیکہ احرار ہیں ہم بیدار ہیں ہم! الغرض ہم دعا کرتے ہیں کہ دین و اسلام اور تحریک ختم نبوت کیلئے اپنی ساری زندگی وقف کرنے والے اس مرد مجاہد، ملت اسلامیہ کے عظیم جرنیل، شیر اسلام، قائد الاحرار مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی مدظلہ کی قیادت میں مجلس احرار اسلام ہند اپنی پیش قدمی جاری رکھی، آمین یارب العالمین۔
یہ طنطنہ یہ دبدبا ہے مسلمان کا
ہیبت سے کانپتا ہے بدن قادیان کا
احراریوں نے جو کیا انگریزیوں کے ساتھ
حشر اس سے بڑھ کے ہوگا مرتدوں کے ساتھ
(مجلس احرار اسلام ہند اور علماء لدھیانہ کی تاریخ اور خدمات کو پڑھنے کیلئے مولانا محمد عثمان لدھیانوی کی کتاب ”قافلہ علم حریت“ کا مطالعہ ضرور کریں!)
فقط و السلام
بندہ محمد فرقان عفی عنہ*
(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)
١٣؍ جمادی الاول ١٤٤٣ھ
مطابق 29؍ دسمبر 2020ء
+91 8495087865
mdfurqan7865@gmail.com
_____________________
*ابن مولانا محمد ریاض الدین مظاہری
متعلم جامعہ ابو ہریرہ ؓ اکیڈمی
ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند
صدر مجلس احرار اسلام بنگلور
رکن عاملہ جمعیۃ علماء ساؤتھ بنگلور