Monday, 29 September 2025

مفتی افتخار احمد قاسمی آٹھویں مرتبہ جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر منتخب!

 مفتی افتخار احمد قاسمی آٹھویں مرتبہ جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر منتخب! 

✍️ بندہ محمد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)



خادم القرآن حضرت اقدس مولانا مفتی افتخار احمد صاحب قاسمی دامت برکاتہم کا اتفاق رائے اور بلا مقابلہ جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر کی حیثیت سے آٹھویں مرتبہ انتخاب یقیناً ملت اسلامیہ کے لیے ایک مسرت انگیز اور فخر کا مقام ہے۔ حضرت والا گزشتہ بیس سال سے زائد عرصہ سے اس منصبِ صدارت پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کی قیادت میں جمعیۃ علماء کرناٹک نے جو نمایاں دینی، ملی اور سماجی کارنامے انجام دیے ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں۔ یہ مسلسل انتخاب ملت کے اعتماد، اہل علم کی دعاؤں اور آپ کی خالص دینی جدوجہد کی واضح دلیل ہے۔


حضرت والا کی شخصیت ملک و بیرون ملک میں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ علم و عمل کے جامع، اخلاق و تواضع کے پیکر، اصول پسندی اور سادگی کے امین اور ملت اسلامیہ ہندیہ کے لیے ایک عظیم قائد ہیں۔ وعظ و نصیحت، درس و تدریس، خطابت و تحریر اور دینی و سماجی میدان میں حضرت والا کی خدمات آبِ زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں۔ آپ دارالعلوم دیوبند کے عظیم سپوت اور جنوبِ ہند میں مسلکِ دیوبند کے امین ہیں۔ آپ نے اس خطے میں علمِ دین کی روشنی کو عام کرنے، مدارس و مکاتب کو مستحکم کرنے اور مسلکِ دیوبند کی علمی و فکری خدمات کو نمایاں کرنے میں جو گراں قدر کردار ادا کیا ہے، وہ تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ آپ کی قیادت نے جنوبی ہند کے ہزاروں علماء اور لاکھوں عوام کے دلوں میں دینی بیداری اور عملی استقامت پیدا کرنے میں سنگِ میل کی حیثیت اختیار کی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مرکز تحفظ اسلام ہند کی نمایاں اور ہمہ جہت سرگرمیاں حضرت والا کی سرپرستی، دعاؤں اور رہنمائی کا ثمرہ ہیں۔ مرکز کے ہر مرحلہ میں حضرت والا کی فکر مندی اور مخلصانہ مشورے ادارہ کی کامیابی کی ضمانت بنے ہیں۔


اسی موقع پر حضرت والا کی اجمالی سوانح کا ذکر بھی باعث برکت ہے تاکہ ملت ان کی علمی، دینی اور ملی خدمات سے مزید واقفیت حاصل کرے۔


حضرت مفتی افتخار احمد صاحب قاسمی بن خادم القرآن حضرت مولانا مختار احمد صاحب قاسمی رحمہ اللہ 03 مارچ 1968ء بروز اتوار کو بنگلور (کرناٹک) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ عربیہ سراج العلوم میسور روڈ بنگلور سے حاصل کی، وہیں قرآن کریم کا ناظرہ اور 1979ء میں حفظِ قرآن مکمل فرمایا۔ 1984ء میں سی ایم اے ہائی اسکول بنگلور سے میٹرک مکمل کیا۔ اس کے بعد 1985ء میں دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور میں ابتدائی عربی درجات سے تعلیم کا آغاز کیا اور پھر 1989ء میں ام المدارس دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے، جہاں سے 1992ء میں فراغت حاصل کی اور 1993ء میں تخصص فی الافتاء کی تکمیل فرمائی۔


فراغت کے بعد 1994ء میں حضرت والا نے بسم اللہ مسجد، بسم اللہ نگر، بنگلور میں مدرسہ تعلیم القرآن کے نام سے ایک مکتب قائم کیا اور اسی کے ساتھ جمعہ کی خطابت کی ذمہ داری بھی سنبھالی جو آج تک جاری ہے۔ وقت کے ساتھ یہ مکتب ایک عظیم جامعہ کی شکل اختیار کر گیا جہاں درجنوں طلبہ زیر تعلیم ہیں اور دارالقامہ میں تقریباً 350 بچے مقیم ہیں۔ مزید برآں بسم اللہ نگر سے قریب راگے ہلی میں جامعہ تعلیم القرآن عربک کالج قائم کیا، جہاں اعلیٰ دینی تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔ آج بے شمار مدارس، مکاتب اور ادارے آپ کی سرپرستی میں کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔


حضرت والا گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصہ سے جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر ہیں اور اٹھارہ برسوں سے جمعیۃ علماء ہند کی عاملہ کے رکن کی حیثیت سے بھی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آپ کی قیادت میں جمعیۃ علماء کرناٹک نے ریاست بھر میں نہ صرف دینی و تعلیمی خدمات انجام دیں بلکہ سماجی، فلاحی اور رفاہی میدان میں بھی شاندار کارنامے انجام دیے۔


فی الوقت آپ کئی اہم ذمہ داریوں پر فائز ہیں، جن میں:


- بانی و مہتمم جامعہ تعلیم القرآن بنگلور

- خطیب بسم اللہ مسجد، بنگلور

- صدر جمعیۃ علماء کرناٹک

- رکن عاملہ جمعیۃ علماء ہند

- رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

- رکن رابطہ مدارس اسلامیہ کرناٹک

- رکن شوریٰ امارت شرعیہ کرناٹک

- سرپرست مجلس تحفظ ختم نبوت کرناٹک (شاخ دارالعلوم دیوبند)

- سرپرست مرکز تحفظ اسلام ہند

- قاضی محکمہ شرعیہ بسم اللہ نگر

- سرپرست متحدہ محاذ کرناٹک

- رکن مرکزی رویت ہلال کمیٹی کرناٹک


حضرت والا کی یہ ہمہ جہت خدمات ملت اسلامیہ ہندیہ کے لیے ایک عظیم سرمایہ ہیں۔ ان کی ذات علم و عمل، اخلاق و اخلاص، قیادت و سیادت اور خدمت و شفقت کا حسین سنگم ہے۔ وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن نمونہ ہیں اور ملت کے لیے ان کی زندگی کا ہر گوشہ درسِ عمل ہے۔ حضرت والا کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے ہمیشہ دین کے ہر شعبے میں متوازن اور معتدل قیادت فراہم کی۔ آپ نے جہاں مدارس کے استحکام پر زور دیا، وہیں عصری تقاضوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی شخصیت علماء اور عوام دونوں کے لیے یکساں طور پر محبوب اور قابلِ اعتماد ہے۔ مزید برآں، آپ کی ملی خدمات صرف کرناٹک یا جنوبی ہند تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک کے مختلف خطوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ آپ نے قومی سطح پر بھی ملت اسلامیہ کے مسائل کے حل اور رہنمائی میں گراں قدر کردار ادا کیا ہے۔ آپ کی بصیرت، تدبر اور دعاؤں کے نتیجے میں آج ملت اسلامیہ ایک مضبوط قیادت سے فیضیاب ہو رہی ہے۔


آج 29 ستمبر 2025ء بروز پیر کو بنگلور کی تاریخی مودی مسجد میں ریاستی انتخاب کی مجلس کے دوران جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی مدظلہ العالی کی موجودگی اور جمعیۃ علماء کرناٹک کے ذمہ داران و اراکین کی شرکت میں حضرت مفتی افتخار احمد قاسمی کو جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر کے عہدے کے لیے دوبارہ منتخب کیا گیا۔ ہم اس حسن انتخاب پر نہ صرف حضرت والا کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں بلکہ دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے سایۂ عافیت اور شفقت کو ملت اسلامیہ اور پوری انسانیت پر دراز فرمائے، ان کے علوم و فیوض اور برکات کو عام فرمائے اور ان کی خدمات کو قبولیتِ کاملہ عطا فرمائے، آمین۔


#IftikharAhmedQasmi #Jamiat #JamiatUlama #MTIH #TIMS #PayameFurqan





Thursday, 18 September 2025

وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک: ملت کا اجتماعی فریضہ!

 وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک: ملت کا اجتماعی فریضہ!

✍️ بندہ محمد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


وقف اللہ کی دی ہوئی ایک عظیم امانت ہے جسے ہمارے بزرگوں نے آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کیا تھا، یہ محض زمین یا جائیداد نہیں بلکہ ہماری تہذیب، دین اور ملی تشخص کی بنیاد ہے۔ وقف کی زمینوں پر تعمیر مساجد، مدارس، خانقاہیں، عیدگاہیں اور قبرستانوں کا استعمال ہر ایک مسلمان کرتا چلا آرہا ہے اور ان وقف کے ادارے نے صدیوں تک مسلمانوں کو تعلیم، روزگار، صحت اور فلاحی سہولیات بھی فراہم کیں اور امت کو اپنے پیروں پر کھڑا رکھا۔ آج جب حکومت وقف املاک پر قبضہ کرنے، ان کے نظام کو توڑنے اور مسلمانوں کو ان کے اپنے اداروں سے محروم کرنے کے لیے وقف ترمیمی قانون 2025 نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے تو یہ صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ملت اسلامیہ کے وجود اور مستقبل کا سوال ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے حالات کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے "وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک" کا آغاز کیا اور اب اس تحریک کا دوسرا مرحلہ ہمارے سامنے ہے، یہ وہ مرحلہ ہے جس میں صرف بیانات اور قراردادیں کافی نہیں بلکہ عملی جدوجہد اور اجتماعی قربانیاں لازمی ہیں۔


آج ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اگر یہ قانون نافذ ہو گیا اور وقف کی جڑیں کاٹ دی گئیں تو ہمارے مدارس، مساجد، خانقاہیں، قبرستانیں، یتیم خانے اور دینی و فلاحی اداروں کو ہڑپ لیا جائے گا؟ یہ قانون ہمارے اجتماعی وجود پر حملہ ہے، ہماری دینی شناخت پر وار ہے اور ہماری آئینی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش ہے۔ دستور ہند نے ہمیں مذہبی آزادی دی ہے، اپنے اداروں کو چلانے کا حق دیا ہے اور اپنے مذہبی قوانین کے مطابق زندگی گزارنے کی ضمانت دی ہے، لیکن وقف ترمیمی قانون ان تمام بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایک واضح اور منظم روڈ میپ تیار کیا ہے تاکہ اس قانون کو ناکام بنایا جا سکے اور امت کو بیدار کر کے اجتماعی جدوجہد کی جائے۔


آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہمیں اپنی تحریک کو محض جذباتی نعروں پر محدود نہیں رکھنا بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے آگے بڑھانا ہے۔ ہمیں اپنی مساجد اور مدارس کے منبروں کو بیداری کا ذریعہ بنانا ہے، ہمارے ائمہ اور خطباء کو عوام کے سامنے اس قانون کی حقیقت بیان کرنی ہے اور یہ شعور دینا ہے کہ وقف پر حملہ صرف ایک طبقے یا ادارے پر نہیں بلکہ پوری ملت پر حملہ ہے۔ جب تک ہر فرد اس کو اپنا ذاتی مسئلہ نہیں سمجھے گا تب تک ہماری جدوجہد ادھوری رہے گی۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو اس تحریک کا ہر اول دستہ بنانا ہوگا تاکہ وہ سوشل میڈیا، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر اس قانون کے خلاف آواز بلند کریں۔


اسی دوران سپریم کورٹ آف انڈیا نے وقف ترمیمی قانون 2025 کے سلسلے میں جو عبوری فیصلہ سنایا ہے وہ بھی ملت کے لیے تشویشناک پیغام رکھتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے جن دفعات کو برقرار رکھا ہے وہ وقف املاک کی خودمختاری کو نقصان پہنچاتی ہیں اور یہ تاثر دیتی ہیں کہ حکومت وقف کی آزادی کو محدود کر سکتی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس فیصلے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ دستور ہند کی روح اور بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس کے خلاف بھرپور قانونی جدوجہد بھی جاری رکھی جائے گی۔ اس فیصلے نے ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ صرف عدالتوں کے سہارے بیٹھ جانا کافی نہیں بلکہ عوامی بیداری کی ایک بڑی تحریک بھی ساتھ ساتھ چلانا ضروری ہے تاکہ ملک کے انصاف پسند طبقے کو یہ احساس ہو کہ یہ قانون صرف مسلمانوں پر نہیں بلکہ پوری جمہوریت پر حملہ ہے۔


بورڈ کے اس وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک کے دوسرے مرحلے میں سب سے زیادہ ضرورت اتحاد اور تنظیم کی ہے۔ اختلافات کو بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا آج وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ دشمن ہمارے بکھراؤ سے فائدہ اٹھاتا ہے اور ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اگر ہم متحد ہو گئے تو کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔ ہمیں اپنے سیاسی اور مسلکی اختلافات کو پس پشت ڈال کر صرف ایک بات پر متحد ہونا ہے کہ وقف ہماری امانت ہے اور ہم اسے ہر قیمت پر بچائیں گے۔


یہ وقت قلم اور زبان دونوں کے استعمال کا ہے۔ ہمیں علمی سطح پر دلائل کے ساتھ یہ بات ملک کے عوام کے سامنے رکھنی ہے کہ وقف ترمیمی قانون آئین ہند کے خلاف ہے، یہ بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے اور یہ ایک مخصوص طبقے کے مذہبی اداروں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ہمیں عدالتوں میں اپنی لڑائی لڑنی ہے، ملک کے دانشور طبقے کو اپنے ساتھ کھڑا کرنا ہے، اور میڈیا کے ذریعے سچائی کو سامنے لانا ہے۔ ساتھ ہی ہمیں عوامی سطح پر تحریک کو مضبوط بنانا ہے تاکہ گلی گلی، بستی بستی اور شہر شہر یہ پیغام جائے کہ مسلمان اپنے وقف اور اپنے دستور کے تحفظ کے لیے کھڑے ہیں۔


یہ تحریک صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمیں ملک کے انصاف پسند غیر مسلم بھائیوں کو بھی ساتھ لینا ہے۔ ہمیں انہیں یہ سمجھانا ہے کہ یہ قانون صرف مسلمانوں کے خلاف نہیں بلکہ یہ ملک کے دستور کے خلاف ہے، یہ ایک خطرناک مثال قائم کرے گا جو کل کو کسی اور طبقے کے مذہبی اداروں پر بھی لاگو کی جا سکتی ہے۔ اس لیے یہ تحریک دراصل پورے ملک کی جمہوریت کے تحفظ کی تحریک ہے۔


آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے اس روڈ میپ میں وہ تمام عملی اقدامات شامل کیے ہیں جو اس تحریک کو کامیابی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ یہ وقت محض تماشائی بننے کا نہیں بلکہ اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کا ہے۔ ہر فرد کو اپنی استطاعت کے مطابق اس میں حصہ لینا ہوگا۔ علماء کو منبروں سے، دانشوروں کو قلم سے، نوجوانوں کو اپنی توانائیوں سے، تاجروں کو اپنے مالی تعاون سے اور عام مسلمانوں کو اپنی موجودگی اور دعاؤں سے اس تحریک کو مضبوط بنانا ہوگا۔ یہ اجتماعی جدوجہد ہی وہ ہتھیار ہے جو اس ظالمانہ قانون کو شکست دے سکتی ہے۔


جدید دور کی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا ایک عظیم محاذ کی شکل اختیار کر چکا ہے اور موجودہ زمانے میں کسی بھی تحریک کا سوشل میڈیا کے بغیر کامیابی تک پہنچنا ممکن نہیں۔ لہٰذا اس تحریک کو بھی کامیاب بنانے کے لیے سوشل میڈیا کا بھر پور استعمال کیا جانا چاہیے، اس کیلئے ٹویٹر پر مربوط مہم چلانا ہوگی، احتجاجی پروگراموں کی لائیو اسٹریمنگ بالخصوص فیس بک اور یوٹیوب پر کرنی ہوگی، اور وقف ترمیمی قانون کی ہر شق کی حقیقت کو چھوٹے چھوٹے کلپس، پوسٹرز اور مضامین کے ذریعے عوام تک پہنچانا ہوگا، نوجوان نسل کو اس میں بھرپور کردار ادا کرنا ہے تاکہ یہ پیغام صرف شہروں تک محدود نہ رہے بلکہ دیہات اور چھوٹے قصبوں تک بھی پہنچ جائے۔ اس مہم کے ذریعے عالمی سطح پر بھی یہ آواز جائے گی کہ ہندوستان کے مسلمان اپنے بنیادی آئینی اور مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں اور کسی قیمت پر اس کالے قانون کو قبول کرنے پر تیار نہیں۔ اسی کے ساتھ ہی یہ کوشش بھی ہونی چاہیے کہ وقف ترمیمی قانون کے حوالے سے ویب سیریز کے انداز میں معیاری اور مؤثر ویڈیوز تیار کی جائیں جن میں اس قانون کے نقصانات کو واضح انداز میں اجاگر کیا جائے، تاکہ ملک کے باشندے انہیں دیکھ کر وقف کے بارے میں پھیلائی گئی غلط فہمیوں سے نجات حاصل کریں اور اس کالے قانون کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ علاوہ ازیں وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک کو مؤثر اور منظم انداز میں آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ مرکزی سطح پر اور جہاں جہاں ممکن ہو ریاستی سطح پر بھی سوشل میڈیا وار روم قائم کیے جائیں تاکہ تحریک کی نگرانی، منصوبہ بندی اور پیغام رسانی جدید تقاضوں کے مطابق کی جا سکے، غلط فہمیوں کا بروقت ازالہ ہو اور ملت کی آواز ہر پلیٹ فارم پر بھرپور انداز میں گونجے۔

 


ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ وقف ہماری تاریخ کی امانت ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اپنی زمینیں، اپنی جائیدادیں اور اپنی زندگیاں وقف کر کے یہ ادارے قائم کیے تاکہ آنے والی نسلیں دین پر قائم رہ سکیں۔ آج اگر ہم نے ان اداروں کا تحفظ نہ کیا تو ہم اپنی تاریخ سے بے وفائی کریں گے۔ یہ تحریک دراصل اس امانت کی حفاظت کی تحریک ہے اور ہمیں اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس کو کامیاب بنانا ہے۔


یہ وقت ہے کہ ہم اپنی غفلت کی نیند سے جاگ جائیں، اپنی سہل پسندی کو خیرباد کہہ کر قربانی کا راستہ اختیار کریں اور اپنی ذات کے دائرے سے بلند ہو کر ملت کے اجتماعی مفاد کے لیے کھڑے ہوں، کیونکہ اگر آج ہم نے اپنی ذمہ داری ادا نہ کی اور اپنی تاریخ، اپنی تہذیب اور اپنے دین کی امانت یعنی وقف کے تحفظ کے لیے جان و مال اور وقت کی قربانی دینے میں کوتاہی کی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی اور ہمیں بزدلی اور غفلت کی علامت کے طور پر یاد کریں گی، اس لیے لازمی ہے کہ ہم پوری سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی ہر ممکن توانائی جھونک دیں، اپنی زندگی کے قیمتی لمحات اس جدوجہد کے لیے وقف کریں اور اپنے وسائل کو اس مقصد پر قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائیں، کیونکہ یہی وہ جذبہ ہے جس نے ماضی میں امت اسلامیہ کو عظیم فتوحات اور کامیابیاں عطا کیں اور آج بھی اگر ہم اسی جذبے کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں تو یقیناً اللہ کی نصرت ہمارے شامل حال ہوگی اور ہم اس کالے قانون کو ناکام بنا کر سرخرو ہوں گے۔


فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

18؍ ستمبر 2025ء بروز جمعرات


#SaveWaqfSaveConstitution | #WithdrawWaqfAmendments | #WaqfAmendmentAct | #AIMPLB | #PaighameFurqan | #MTIH |#TIMS

Thursday, 4 September 2025

عشقِ رسولﷺ: حیاتِ مومن کا سرمایہ!

 عشقِ رسولﷺ: حیاتِ مومن کا سرمایہ!

✍️ بندہ محمد فرقان عفی عنہ 

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


عشق رسول ﷺ وہ سرمدی حقیقت ہے جو ایمان کی جان ہے، زندگی کا مرکز ہے اور آخرت کی نجات کا ذریعہ ہے۔ یہ وہ چراغ ہے جو دلوں کے اندھیروں کو روشنی میں بدل دیتا ہے، وہ خوشبو ہے جو روح کے ہر گوشے کو معطر کر دیتی ہے، وہ نغمہ ہے جو سینے کو وجد میں ڈال دیتا ہے اور وہ حقیقت ہے جس کے بغیر ایمان ادھورا اور زندگی بے مقصد ہے۔حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ وہ محبوب ہیں جن کی محبت پر کائنات فخر کرتی ہے، وہ رحمت ہیں جن کی رحمت نے زمین و آسمان کو اپنی آغوش میں لیا ہے۔ ان کی ذات وہ مرکز ہے جس پر ہر عاشق اپنی جان و دل نچھاور کرتا ہے اور ہر مومن اپنی عقیدت اور عظمت کا نذرانہ پیش کرتا ہے۔ دنیا کے ہر رشتے میں کمی ہوسکتی ہے، ہر تعلق میں ٹوٹ پھوٹ آسکتی ہے، ہر محبت زوال پذیر ہوسکتی ہے لیکن رسول اللہؐ سے محبت ایسی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی، جس کی خوشبو قیامت تک باقی رہتی ہے اور جس کی تاثیر دلوں کو ایمان کے نور سے بھر دیتی ہے۔ رسول اللہﷺ کی ذات وہ چراغ ہے جس کے بغیر انسان اندھیروں میں بھٹکتا ہے، وہ مرکز ہے جس کے بغیر انسان کا وجود بکھر جاتا ہے، وہ رحمت ہے جس کے بغیر دنیا قہر و غضب کا شکار ہوجاتی ہے۔ ایمان کا کمال اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب رسول اللہﷺ  کی محبت والدین، اولاد، دوستوں اور دنیا کے ہر تعلق سے بڑھ جائے۔ حدیث پاک میں صاف اعلان ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک رسول اللہﷺ اسے ہر چیز سے زیادہ محبوب نہ ہوجائیں۔ یہ محبت محض دعوے یا نعرے کا نام نہیں بلکہ یہ دل کی دھڑکن اور زندگی کے ہر عمل میں ظاہر ہونے والی کیفیت ہے۔ محبت کا اصل تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی سوچ کو، اپنے جذبات کو، اپنی عادات کو اور اپنی پوری زندگی کو محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق ڈھال دے۔ زبان پر درود و سلام کے نغمے ہوں، دل میں عقیدت کی روشنی ہو اور زندگی کے ہر گوشے میں اتباعِ مصطفیؐ جھلک ہو۔


صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اسی عشق کے پیکر تھے۔ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی چیز رسول اللہ ﷺ کی رضا اور محبت سے بڑھ کر نہیں تھی۔ بدر و احد کے میدان اسی عشق کے گواہ ہیں کہ کیسے ایک ایک صحابی اپنی جان قربان کرتا مگر حضورﷺ کے قدموں میں قربانی پیش کرنے سے پیچھے نہ ہٹتا۔ حضرت صدیق اکبرؓ کی زندگی سراسر حضور ؐ پر فنا ہونے کی تفسیر تھی، حضرت فاروق اعظمؓ کی غیرت عشقِ رسول ؐ سے سرشار تھی، حضرت عثمان غنیؓ کی بے مثال سخاوت محمد رسول اللہ ؐ کے عشق و محبت کا آئینہ دار تھی، اور حضرت علی المرتضیٰؓ کی جوانی اور شجاعت حضورؐکے قدموں میں قربان ہو کر عشق کی کامل تصویر بن گئی تھی۔ یہ وہ لوگ تھے جن کی رگوں میں خون کی جگہ عشق مصطفیٰ ﷺ دوڑ رہا تھا۔ کیونکہ عشق کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی تمام خواہشات، اپنی تمام آرزوئیں، اپنے سارے خواب حضور ؐکی محبت پر قربان کردے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کے نزدیک حضور ﷺ کی ایک مسکراہٹ دنیا کے تمام خزانوں سے بڑھ کر تھی۔ وہ آپ ؐ کے وضو کا پانی پینے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لیتے تھے، آپ ؐ کے قدموں کی خاک کو آنکھوں کا سرمہ بناتے تھے، آپ ؐ کے بالوں کو تبرک سمجھ کر محفوظ کرلیتے تھے۔ یہ سب اسی عشق کی علامتیں تھیں جس نے ان کے دلوں کو ایمان سے لبریز کردیا تھا۔


محمد مصطفی ﷺ کی سیرت سراسر رحمت ہے۔ دشمنوں نے آپ کو ستایا، پتھر مارے، وطن سے نکالا لیکن آپ ؐ نے بدلے میں کبھی بددعا نہیں کی، بلکہ ہمیشہ معافی اور رحمت کے دامن کو پھیلایا۔ طائف کے میدان میں لہولہان بدن کے ساتھ بھی یہ دعا کی کہ اے اللہ! ان کی نسل سے وہ لوگ پیدا کر جو تجھ پر ایمان لائیں۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ ؐ نے دشمنوں کے سامنے اعلان فرمایا کہ جاؤ تم سب آزاد ہو، حالانکہ یہ وہی دشمن تھے جنہوں نے زندگی بھر اذیتیں دیں۔ یہ رحمت ہی عشق کی سب سے بڑی بنیاد ہے، یہی وہ صفت ہے جس نے دلوں کو کھینچ کر آپ ؐکا دیوانہ بنایا اور آپ کے دشمن بھی معترف ہوگئے۔


عشق کا تقاضا یہ ہے کہ محبوب کی اطاعت کی جائے۔ قرآن کریم نے صاف فرمایا کہ اگر اللہ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہو تو رسول اللہﷺ کی اتباع کرو، تبھی اللہ تم سے محبت کرے گا۔ یہی عشق کی اصل ہے، یہی محبت کا ثبوت ہے۔ ورنہ نعرے اور دعوے کھوکھلے ہیں۔ سچا عاشق وہ ہے جو اپنی روزمرہ زندگی میں حضور ؐکی سنت کو زندہ کرے، چاہے وہ کھانے پینے کا طریقہ ہو یا چلنے کا انداز، عبادات ہوں یا معاملات، اخلاق ہوں یا عادات، ہر جگہ محمد رسول اللہ ﷺ کی جھلک نظر آئے۔یہی محبت علماء دیوبند نے اپنے قلوب میں بسائی اور عشق رسول ؐ کی سب سے روشن مثالیں قائم کی۔ ان کے نزدیک دین کی اصل روح اتباع سنت اور عشق رسول ؐ تھی۔ ان کی سادہ زندگی حضور ؐ کی سنتوں کی عملی تصویر تھی۔ انہوں نے جیل کی تاریکیوں میں بھی عشق رسول ؐ کو اپنے دل کی روشنی بنایا۔ ان کی تعلیمات اور اصلاحی مشن عشق رسول ؐکی خوشبو سے معطر تھے۔ یہ وہ علم و حریت کا قافلہ ہے جنہوں نے اپنے قلم اور عمل دونوں سے یہ واضح کیا کہ عشق رسول ؐ کا مطلب صرف عقیدت کا اظہار نہیں بلکہ شریعت کی پابندی، سنتوں کی پیروی اور دین کے غلبے کے لیے قربانی دینا ہے۔عاشق رسول ﷺ کے لیے سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ جب دنیا میں نبی ؐ کی عظمت پر حملے ہوں تو وہ اپنی جان و مال قربان کردے لیکن رسول اللہ ؐکی شان پر آنچ نہ آنے دے۔ یہی عشق ہے جس نے صحابہؓ کو ہر میدان میں فاتح بنایا اور یہی عشق تھا جس نے علماء دیوبند کو غلامی کے اندھیروں میں آزادی کی جدوجہد کے لیے تیار کیا۔ ان کے نزدیک عشق رسول ؐ کا تقاضا تھا کہ ظلم کے سامنے ڈٹ جائیں، باطل کے خلاف علم اٹھائیں اور دین کی عزت کے لیے کوئی قربانی دینے سے نہ گھبرائیں۔


رسول اللہ ﷺ کی ذات وہ پناہ ہے جس کے بغیر دلوں کو سکون نہیں ملتا۔ وہ محبوب ہیں جن کی محبت سے دل زندہ ہوتا ہے، آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں، زبان درود و سلام سے تر ہوجاتی ہے اور روح کو وہ لذت نصیب ہوتی ہے جو کسی اور تعلق سے ممکن نہیں۔ ان پر درود و سلام پڑھنے والا دل بیدار ہوجاتا ہے، ان کی سیرت پر غور کرنے والا دل نرم ہوجاتا ہے، ان کی سنت اپنانے والا انسان کامیاب ہوجاتا ہے۔ عشق رسول ؐ وہ سرور ہے جو عاشق کو جھومنے پر مجبور کر دیتا ہے، وہ آگ ہے جو دل کو جلا کر خاکستر کردیتی ہے مگر اس میں ایمان کا نور باقی رکھتی ہے۔ عشق رسول ؐ کے بغیر ایمان کی لذت نہیں، عبادت کی روح نہیں اور زندگی کی راحت نہیں۔ عاشق کے دل میں ہر لمحہ یہی تمنا رہتی ہے کہ کاش میری زندگی بھی سنت کے مطابق ہوجائے، میری آنکھوں کا نور حضور ؐ کا دیدار بن جائے، میرے کانوں کی لذت درود و سلام کی صدائیں ہوں اور میرے دل کا قرار حضور ؐ کی یاد ہو۔ یہ عشق ہی ہے جو ایک عام انسان کو ولی بنادیتا ہے، غلام کو آقا کے قریب کردیتا ہے، اور گناہگار کو مغفرت کے دروازے تک پہنچادیتا ہے۔ یہی عشق ہے جو روزِ محشر نجات کی ضمانت ہے۔ حضور ؐ کی شفاعت اسی کو نصیب ہوگی جو دل و جان سے آپ ؐکا عاشق ہوگا، جو اپنی زندگی کو آپ ؐ کی سیرت کے مطابق گزارے گا اور جو آپ ؐ کے نام پر اپنی جان بھی قربان کردے گا۔


کون سا عاشق رسول ﷺ ہے جو یہ سن کر نہ تڑپے کہ روزِ قیامت جب سب لوگ ایک دوسرے سے دور بھاگ رہے ہوں گے، وہاں صرف ایک ہستی ہوگی جو“امتی! امتی!”کی صدا لگائے گی، اور وہ ہستی ہے محمد مصطفیﷺ کی۔ اس دن سچے عاشقوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی کہ ہم جس کے دیوانے تھے وہی ہماری شفاعت کے لیے کھڑا ہے، مگر یہ حقیقت ہمیں سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے کہ کیا محض عاشق رسول ؐ ہونے کا دعویٰ کافی ہے؟ اگر ہماری زندگی سنت مصطفیؐ سے خالی ہے، اگر ہماری عادات و معاملات شریعت کے مطابق نہیں، اگر ہمارے دل و دماغ نبی ؐ کے نقش قدم سے محروم ہیں، تو پھر ہمارا دعویٰ عشق ایک بے جان صدا بن کر رہ جائے گا۔ سچا عاشق وہی ہے جو اپنے محبوب ؐ کے ہر فرمان کو دل سے قبول کرے، اپنی ذات کو ان کے دین پر قربان کرے اور اپنی زندگی کو حضور ؐ کی سنتوں کی خوشبو سے معطر کرے، تبھی قیامت کے دن رسول اللہ ؐ کی شفاعت نصیب ہوگی اور آنکھوں کو وہ ٹھنڈک ملے گی جس کا خواب ہر مومن اپنے دل میں سجائے بیٹھا ہے۔


یہی وہ پیغام ہے جو صحابہؓ نے دیا، یہی وہ تعلیم ہے جو علماء دیوبند نے آگے بڑھائی اور یہی وہ راستہ ہے جو ہر مومن کو اختیار کرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت ایمان کا سر ہے، عشق ایمان کی جان ہے اور اتباع اس کی حقیقت ہے۔ اگر یہ تینوں چیزیں جمع ہوجائیں تو انسان کی زندگی نور سے بھر جاتی ہے اور اس کا انجام جنت الفردوس میں رسول اللہ ﷺ کی رفاقت کے ساتھ ہوتا ہے۔

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے

دہر میں اسم محمد ﷺ سے اجالا کر دے


#ProphetMohammed | #Muhammad | #RabiulAwwal | #Madina | #PaighameFurqan | #MTIH | #TIMS

Saturday, 30 August 2025

آسام کی بدلتی سیاست، مولانا محمود مدنی کی للکار اور ہیمنت بسوا سرما کی بوکھلاہٹ!

 آسام کی بدلتی سیاست، مولانا محمود مدنی کی للکار اور ہیمنت بسوا سرما کی بوکھلاہٹ!

✍️ بندہ محمد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)



آج کے ہندوستان میں اقتدار کی کرسی پر بیٹھے کچھ لوگ جب زبان کھولتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ جمہوری ملک نہیں بلکہ کسی آمریت کی چراگاہ ہے، جہاں قانون، انصاف اور آئین کے بجائے غرور، تعصب اور طاقت کی زبان بولی جاتی ہے۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کا جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کے خلاف زبان درازی کرتے ہوئے یہ کہنا کہ ”اگر مجھے مولانا محمود مدنی مل گئے تو میں انہیں بنگلہ دیش بھیج دوں گا“ دراصل اسی زہریلی ذہنیت کی عکاسی ہے۔ یہ جملہ نہ صرف ایک مذہبی قائد کی توہین ہے بلکہ پورے ہندوستانی مسلمانوں کی عزت و وقار کو للکارنے کے مترادف ہے۔ یہ وہی ملک ہے جس کے آئین نے سب کو برابری کا حق دیا، لیکن آج حکمرانوں کی زبان سے ایسے جملے نکل رہے ہیں جو نہ صرف آئین بلکہ انسانیت کی بھی توہین ہیں۔ اس بیان نے صاف کر دیا ہے کہ آسام میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ زمین بازیابی یا تجاوزات ہٹانے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک خاص مذہبی طبقے کو نشانہ بنانے کی منظم سازش ہے۔


جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ نے گزشتہ دنوں مولانا محمود مدنی کی صدارت میں بروقت اور برمحل قدم اٹھاتے ہوئے وزیر اعلیٰ آسام کو معطل کرنے اور ان پر ہیٹ اسپیچ کے مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ وہی جمعیۃ ہے جو اپنے قیام 1919ء سے آج تک ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ڈھال بنی ہوئی ہے۔ اس کی تاریخ میں قربانیوں کے ایسے ایسے باب درج ہیں جن پر پوری ملت فخر کرتی ہے۔ آزادی کی تحریک سے لے کر بعد آزادی کے نازک ترین مواقع تک، جب بھی ملک میں مسلمانوں یا اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا یا ان کے مذہبی و آئینی حقوق پر شب خون مارنے کی کوشش کی گئی، جمعیۃ ہمیشہ سب سے آگے کھڑی رہی۔ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ کی بے مثال جدوجہد اور ان کی جرأت مندی آج بھی تاریخ کے اوراق پر جگمگا رہی ہے۔ انہوں نے انگریز سامراج کے خلاف قیادت کی، جیلیں کاٹیں، تعذیبیں برداشت کیں مگر حق گوئی اور استقلال سے پیچھے نہ ہٹے۔ وہ اس نظریے کے داعی تھے کہ یہ ملک ہندو مسلم سب کا ہے اور سب کو ساتھ مل کر اس کی حفاظت کرنی ہے۔ انہی کی اولاد مولانا محمود اسعد مدنی آج اسی حوصلے اور عزم کے ساتھ اپنے بزرگوں کی وراثت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ جس شخص کے دادا نے ہندوستان کی آزادی اور مسلمانوں کے وقار کے لیے اپنی زندگی قربان کی، اس کے پوتے کو بنگلہ دیش بھیجنے کی دھمکی دینا نہ صرف بدزبانی ہے بلکہ اپنی سیاسی پستی اور بوکھلاہٹ کا اعتراف بھی ہے۔


آسام کے حالات گواہی دے رہے ہیں کہ انخلا کے نام پر ظلم کی ایسی داستان لکھی جا رہی ہے جس کی مثال شاید ہی کہیں اور ملے۔ پچاس ہزار خاندانوں کو گھروں سے محروم کر کے کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔ اور یہ سب کچھ اس دعوے کے ساتھ کیا گیا کہ یہ لوگ غیر قانونی بنگلہ دیشی ہیں، جب کہ اب تک اجاڑے گئے سب خاندان سو فیصد مسلمان ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا یہ اعتراف کہ ”ہم صرف میاں مسلمانوں کو بے دخل کر رہے ہیں“ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ یہ سب کچھ محض انتظامی کارروائی نہیں بلکہ خالص مسلم دشمنی ہے۔ کیا یہ بیان آئین ہند کی روح سے کھلا مذاق نہیں؟ کیا یہ سپریم کورٹ کی واضح گائیڈ لائنز کی صریح خلاف ورزی نہیں؟ جمعیۃ علماء ہند نے نہایت متوازن اور اصولی موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بھی سرکاری زمین پر ناجائز قبضے کی حامی نہیں رہی، لیکن موجودہ بے دخلی کی مہم انصاف اور انسانی ہمدردی کے تمام تقاضوں کو روندتے ہوئے ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنانے کا ثبوت ہے۔ یہی وہ اصولی رویہ ہے جس نے ہمیشہ جمعیۃ کو دوسروں سے ممتاز کیا ہے۔ ماضی قریب میں جب آسام کے چالیس لاکھ شہریوں کو ان شہریت سے محروم کرنے کی سازش کی گئی۔ اس نازک موقع پر جمعیۃ علماء ہند نے میدان میں آ کر بھرپور جدوجہد کی۔ قانونی اور عوامی محاذ پر مضبوط دلائل کے ساتھ آواز بلند کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت کی سازش ناکام ہوئی اور انصاف کی جیت ہوئی۔ یوں جمعیۃ علماء ہند نے چالیس لاکھ آسامیوں کو ان کا حق دلا کر تاریخ رقم کی جس کو آج ہر طرف سراہا جاتا ہے۔


اصل حقیقت یہ ہے کہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی حکومت بدعنوانی اور اقربا پروری میں دھنسی ہوئی ہے۔ گروکھوتی کثیر مقصدی زرعی منصوبہ (Garukhuti Multipurpose Agricultural Project) کی مثال آج بھی سامنے ہے، جس میں ہزاروں مسلم گھرانوں کو اجاڑ کر زمین حاصل کی گئی اور پھر گائے کے نام پر ایسا گھپلا کیا گیا جس نے حکومت کی نیت کو بے نقاب کر دیا۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے خریدی گئی گائیں یا تو مر گئیں یا وزیروں اور ایم ایل ایز کے فارم ہاؤسوں پر پہنچا دی گئیں۔ عوام کا پیسہ لوٹا گیا اور کسانوں کو فریب دیا گیا۔ یہ سب کچھ ”گؤ ماتا“ کے تحفظ کے نام پر کیا گیا، مگر اصل مقصد سیاسی اور مالی مفادات سمیٹنا تھا۔اس مسئلہ کو اپوزیشن نے پورے آسام میں گرما رکھا ہے۔


اسی کے ساتھ اگلے سال 2026ء میں آسام کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر آسام کی سیاست میں اس وقت جو منظرنامہ ابھر رہا ہے، وہ ہیمنت بسوا سرما کی گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ کو کھول کر سامنے لے آ رہا ہے۔ کانگریس کے گورو گگوئی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، ان کی شفاف شبیہ اور عوامی حمایت نے بی جے پی کے مضبوط قلعے میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرما کبھی ان پر بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں، تو کبھی مسلمانوں کو کھلے عام دھمکیاں دے کر اپنی بے بسی چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ جارحانہ لب و لہجہ دراصل ان کے دل میں گھر کرتی اس سیاسی خوف کا اظہار ہے، جو بدلتی ہوئی فضاؤں نے ان پر طاری کر دیا ہے۔ آسام میں بی جے پی کے پاس بلاشبہ عددی طاقت موجود ہے، لیکن اقتدار مخالف لہر، بدعنوانی کے الزامات، اندرونی اختلافات اور عوامی ناراضگی نے اس طاقت کو کھوکھلا بنا دیا ہے۔ سرما کے لیے یہ وقت سخت آزمائش کا ہے، کیونکہ شمال مشرق کی سیاست میں منی پور سمیت مختلف ریاستوں کے بحرانوں نے بی جے پی کی قیادت کو مشکوک بنا دیا ہے۔ آج وہ جس اعتماد کے ساتھ بی جے پی کے واحد مضبوط چہرے کے طور پر ابھرتے تھے، وہ اعتماد تیزی سے ٹوٹ رہا ہے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اگر بی جے پی آسام کے انتخابات جیت بھی لے تو اندرونی حالات اور قیادت کے بحران کے باعث ممکن ہے کہ ہمنتا بسوا سرما کو اقتدار کی کرسی سے محروم ہونا پڑے۔ گویا آسام کی بدلتی ہوا نہ صرف بی جے پی کے لیے دردِ سر بنتی جارہی ہے بلکہ خود سرما کی سیاسی بقا پر بھی سوالیہ نشان لگا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہیمنت بسوا سرما اپنی اقتدار کی کرسی بچانے کے لیے کبھی مسلمانوں کو دھمکیاں دیتے نظر آتے ہیں اور کبھی ملت اسلامیہ ہندیہ کی رہنما تنظیم جمعیۃ علماء ہند اور اس کی قیادت پر زہر افشانی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے دھمکی آمیز جملے دراصل اس گھبراہٹ کا اعتراف ہیں جو آسام کی بدلتی ہوئی سیاسی فضا نے ان کے دل میں پیدا کر دی ہے۔ 


آج دنیا فلسطین میں جاری نسل کشی بھی دیکھ رہی ہے جہاں مسلمانوں کو ان کی زمینوں سے محروم کیا جا رہا ہے، اور آسام کی کہانی بھی کچھ اسی طرح ہے۔ ایک طرف اسرائیل کے ٹینک اور بم فلسطینی گھروں کو مٹا رہے ہیں، دوسری طرف آسام میں بے دخلی کی آڑ میں مسلمانوں کے مکانات اجاڑے جا رہے ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند نے اپنے اجلاس میں دونوں مسائل کو اٹھا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندہ نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کی آواز ہے۔ یہی وہ جرأت ہے جو جمعیۃ کو تاریخ کے روشن ابواب میں جگہ دیتی ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے عظیم سپوت شیخ الہندؒ اور شیخ الاسلام مولانا مدنیؒ نے جو چراغ جلایا تھا وہ آج بھی بجھا نہیں، اور مولانا محمود مدنی جیسے جانشین اسی روشنی کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ہیمنت سرما لاکھ شور مچائیں، انگوٹھا دکھائیں یا دھمکیاں دیں، وہ اس حقیقت کو نہیں بدل سکتے کہ جمعیۃ علماء ہند کی جڑیں اس ملک کی مٹی میں اتنی گہری ہیں کہ کوئی آندھی انہیں اکھاڑ نہیں سکتی۔


وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کے انصاف پسند ادارے اور عدلیہ آگے بڑھیں۔ اگر آج ہیمنت بسوا سرما جیسے وزرائے اعلیٰ کو لگام نہ دی گئی تو کل آئین اور انصاف کا جنازہ اٹھ جائے گا۔ جمعیۃ کا مطالبہ بالکل بجا ہے کہ وزیر اعلیٰ کو برطرف کیا جائے، ان پر ہیٹ اسپیچ کے مقدمات درج ہوں، اور متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری فوری کی جائے۔ جمعیۃ علماء ہند نے ہمیشہ حق کا پرچم بلند رکھا ہے اور آج بھی یہ پرچم سر بلند ہے۔ یہ جدوجہد صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ ہندوستان کی جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے ہے۔ ظلم اور دھمکیاں کبھی حق کی روشنی کو بجھا نہیں سکتیں، بلکہ وہ روشنی مزید تیز ہو کر ظلم کی اندھیری رات کو چیر دیتی ہے۔ ہیمنت بسوا سرما کی بوکھلاہٹ اس بات کی دلیل ہے کہ آسام میں رات کی تاریکی ختم ہونے والی ہے اور صبحِ روشن قریب ہے!


فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

30؍ اگست 2025ء بروز سنیچر


+918495087865

mdfurqan7865@gmail.com


#Assam | #MahmoodMadni | #HimantBiswaSharma | #AssamDemolition | #PaighameFurqan | #MTIH | #TIMS

Thursday, 14 August 2025

ہندوستان کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کا کردار!

 ہندوستان کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کا کردار!

✍️ بندہ محمد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

ہندوستان کی جنگ آزادی کی تاریخ جب کسی غیر جانبدار نظر سے پڑھی جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس سرزمین کی آزادی کا چراغ سب سے پہلے مسلمانوں نے جلایا، اس کی حفاظت کے لیے اپنے خون کی ندیاں بہائیں اور صدیوں تک اس چراغ کو بجھنے نہ دیا۔ برصغیر میں انگریزوں کے قدم جمائے جانے کے ساتھ ہی مسلمانوں نے نہ صرف ان کی غلامی کو مسترد کیا بلکہ اس کے خلاف اعلانِ جہاد کر کے اس ملک میں آزادی کی ایک ایسی جدوجہد کا آغاز کیا جو تقریباً دو صدی سے زائد عرصہ تک جاری رہی۔ یہ وہ جدوجہد تھی جس کی بنیاد اسلام کے تصورِ آزادی اور جہاد میں مضمر تھی۔ مسلمان اس حقیقت پر یقین رکھتے تھے کہ غلامی انسانیت کی توہین ہے اور ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ کے سوا کسی کا غلام نہ ہو۔ یہی عقیدہ تھا جس نے ان کے دلوں میں غیرت و حمیت کا وہ شعلہ بھڑکایا جس کی روشنی سے پورا برصغیر منور ہوا۔


سترہویں صدی سن 1754ء میں نواب سراج الدولہؒ کے نانا علی وردی خان نے کلکتہ کے فورٹ ولیم پر حملہ کر کے انگریزوں کو شکست دی اور انہیں ڈائمنڈ ہاربر میں پناہ لینے پر مجبور کیا، جسے ملک کی پہلی منظم مسلح جنگ آزادی کہا جا سکتا ہے۔ علی وردی خان کے بعد سراج الدولہؒ حکمران بنے اور انگریزوں کے بڑھتے خطرے کو ختم کرنے کا عزم کیا، مگر دربار کی سازشوں کے باعث 1757ء میں پلاسی کی جنگ میں شکست ہوئی اور مرشدآباد میں شہید کر دیے گئے۔ اس طرح بنگال کے نواب سراج الدولہؒ نے انگریز سامراج کے خلاف میدان سنبھالا اور پلاسی کی جنگ میں اپنی جان دے کر اس ملک میں آزادی کی پہلی اینٹ رکھی۔


اسی طرح جنوب ہند دکن کے عظیم فرمانروا حیدر علیؒ (م 1782ء) اور ان کے فرزند سلطان ٹیپو شہیدؒ برصغیر کی جنگ آزادی کے وہ عظیم مجاہد تھے جو ہمیشہ انگریزوں کے لیے خطرہ بنے رہے۔ والد کے انتقال کے بعد سلطان ٹیپو ؒ نے 1783ء میں انگریزوں کے خلاف پہلی جنگ لڑی اور انگریزوں کو شکست دیا، اس کے بعد کئی جنگیں ہوئی اور سلطنتِ میسور کے شیر، سلطان ٹیپو شہیدؒ اپنے تخت و تاج کی پرواہ کیے بغیر انگریزوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بننے کے عہد پر قائم رہے۔ اور بالآخر 1799ء میں اپنی جان قربان کر کے اس حقیقت کو ثابت کیا کہ ایک مسلمان حکمران کے لیے غلامی قبول کرنے سے بہتر ہے کہ وہ میدانِ جنگ میں شہادت کو گلے لگا لے۔


اس کے بعد اٹھارویں صدی کے اوائل یعنی 1803ء میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے ”فتویٰ“ دیا کہ ہندوستان دارالحرب بن چکا ہے اور یہاں انگریزوں کے خلاف جہاد فرض ہے۔ یہ فتویٰ محض ایک دینی رائے نہیں تھی بلکہ ایک عملی اعلانِ جنگ تھا، جس نے لاکھوں مسلمانوں کے دلوں میں بغاوت کی آگ بھڑکا دی۔ اس فتوے کا اثر یہ ہوا کہ انگریزوں کے خلاف ہر گوشے سے مزاحمت اٹھنے لگی۔ یہ مزاحمت صرف زبانی نعروں تک محدود نہ تھی بلکہ خون اور جانوں کی قربانی سے مزین تھی۔ چنانچہ سن 1831ء میں سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ ”بالاکوٹ کے میدان“ میں انگریزوں کے خلاف جہاد میں شہید ہوئے، مگر ”لبریشن تحریک“ مولانا نصیرالدین دہلویؒ، پھر مولانا ولایت علی عظیم آبادیؒ (م1852ء) اور مولانا عنایت علی عظیم آبادیؒ (م1858ء) کی قیادت میں جاری رہی اور بالآخر 1857ء کی جنگ آزادی تک پہنچی۔


انگریزوں کے خلاف یہ معرکہ محض حکمرانوں تک محدود نہ رہا بلکہ عوام الناس، علماء، صوفیاء، اور دیندار طبقے نے بھی اس میں حصہ لیا۔ انگریزوں کی ریشہ دوانیوں، عیاریوں اور سازشوں کے باوجود مسلمانوں نے اپنی جدوجہد ترک نہ کی۔ 1857ء کی جنگ آزادی کو جسے تاریخ میں پہلی جنگ آزادی کہا جاتا ہے تو درحقیقت یہ وہ آگ تھی جو ایک صدی سے جل رہی تھی اور اس کی لو کو تیز کرنے والوں میں مسلمانوں کا کردار نمایاں تھا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ، شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ، شاہ اسحاق محدث دہلویؒ اور ان کے شاگردوں کی طویل محنت کے نتیجے میں علماء کی ایک جماعت تیار ہوئی اور اس جنگ میں انہوں نے قیادت کی اور ہر محاذ پر انگریزوں کو للکارا۔ ”شاملی کا میدان“ جس کے امیر حاجی امداللہ مہاجر مکیؒ تھے اور جس کی قیادت حجۃ لاسلام مولانا قاسم نانوتویؒ اور مولانا رشید احمد گنگوہیؒ فرما رہے تھے، انہوں اپنے قلیل وسائل کے باوجود انگریز فوج کا مقابلہ کیا تو یہ دراصل اس عزم کا اعلان تھا کہ آزادی کی راہ میں جان و مال کی کوئی قربانی بڑی نہیں۔ اسی معرکے میں حافظ ضامنؒ سمیت کئی علماء شہید ہوئے۔ 1857ء کی جنگ میں مسلمانوں کو بظاہر شکست ہوئی، مگر درحقیقت یہ شکست نہیں بلکہ ایک طرح کی فتح تھی۔ اس جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے اسلام پر حملہ کرتے ہوئے اس کے عقائد، فکر اور تہذیب کو ہندوستان سے مٹانے کا فیصلہ کر لیا، لیکن یہی وہ فیصلہ تھا جس سے انگریزوں کے زوال کا آغاز ہوا۔ چنانچہ اسلام کے خلاف اس سازش کو بھانپتے ہوئے مولانا قاسم نانوتوی اور انکے رفقاء اکابرین دیوبند نے 30؍ مئی 1866ء کو ”دارالعلوم دیوبند“ کی بنیاد رکھی گئی، جو محض ایک دینی درسگاہ نہ تھی بلکہ ایک فکری و عملی قلعہ تھی جہاں آزادی، خودداری اور دینی غیرت کی شمع جلائی جاتی رہی۔ اس ادارے نے نہ صرف دینی علوم کی حفاظت کی بلکہ آزادی کی تحریک کو ایک فکری و نظریاتی بنیاد فراہم کی، جس نے آنے والے عشروں میں ہزاروں مجاہدین آزادی کو تیار کیا۔شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ، مولانا عبید اللہ سندھیؒ جیسے عظیم سپوتوں نے آزادی کی جدوجہد کو نہ صرف برصغیر بلکہ عالمی سطح پر بھی جوڑا۔ مالٹا کی جیل میں شیخ الہند اور شیخ الاسلام نے سالہا سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن ان کے عزم و حوصلے کو توڑنا ممکن نہ ہوا۔ انگریزوں کے خلاف 1912ء میں شروع ہونے والی ان کی ”تحریک ریشمی رومال“ خفیہ منصوبہ بندی سے لے کر خلافت موومنٹ تک پھیلی ہوئی تھی، جس نے مسلمانوں کے دلوں میں ایک نیا ولولہ پیدا کیا۔ سن 1919ء میں شیخ الہند کے شاگردوں نے ”جمعیۃ علماء ہند“ کی بنیاد رکھی اور اسکے پلیٹ فارم سے آزادی کی جدوجہد کو منظم کیا اور مسلمانوں کو یہ باور کرایا کہ آزادی محض ایک سیاسی ضرورت نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ ہے۔ انہیں ایام میں ”تحریکِ خلافت“ وجود میں آئی، جس کے بانی مولانا محمد علی جوہرؒ تھے، اس تحریک سے ہندو مسلم اتحاد عمل میں آیا۔ گاندھی جی اور مسلم رہنماؤں نے ایک ساتھ ملک گیر دورہ کیا، اس تحریک نے عوام اور مسلم علماء کو ایک پلیٹ فارم پر کھڑا کردیا۔ اور ادھر مالٹا کی جیل سے شیخ الہند کی رہائی کے بعد سب سے پہلے 29؍ جولائی 1920ء کو ”ترکِ موالات“ کا فتوی شائع کیا گیا۔ اس کے بعد 29؍ دسمبر 1929ء کو امرتسر میں رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ اور امیر شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے آزادی کی تحریک کو مضبوط کرنے کیلئے ایک اور تحریک کا اعلان کرتے ہوئے ”مجلس احرار اسلام ہند“ کی بنیاد رکھی۔ یوں مختلف تحریکوں اور تنظیموں کے پرچم تلے مسلمانوں نے آزادی کی شمع روشن رکھی، اور دارالعلوم دیوبند و جمعیۃ علماء ہند جیسے اہم پلیٹ فارمز سے انگریز سامراج کے خلاف مسلسل بھرپور آوازیں بلند ہوتی رہیں۔ اور بالآخر 15؍ اگست 1947ء کے دن وطن عزیزبھارت کو انگریزوں سے مکمل آزادی ملی۔


یہ حقیقت بھی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے کہ آزادی کی اس طویل جدوجہد میں ایک صدی تک مسلمان عملاً تن تنہا میدان میں ڈٹے رہے۔ انگریز حکومت نے ہر ممکن کوشش کی کہ مسلمانوں کی قیادت کو ختم کیا جائے، ان کے تعلیمی ادارے بند کیے جائیں، ان کے دینی شعائر کو مٹایا جائے اور ان کے تشخص کو مسخ کیا جائے، لیکن مسلمانوں نے ہمت نہ ہاری۔ چاہے وہ 1857ء کے شہداء ہوں، چاہے بالا کوٹ کے میدان میں سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کا خون ہو، یا پھر 1920ء کی جمعیۃ علماء ہند، تحریک خلافت کے جلسے اور جلوس؛ ہر مقام پر مسلمانوں نے اپنے ایمان اور عزم کا ثبوت دیا۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں آزادی کی وہ فضا پیدا ہوئی جس میں دوسرے طبقات نے بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرنا شروع کیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس فضا کو قائم رکھنے اور پروان چڑھانے والے مسلمان ہی تھے۔


آج افسوس کا مقام یہ ہے کہ جن مسلمانوں نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر اس ملک کو آزادی دلائی، ان ہی سے آج محب وطن ہونے کا سرٹیفکیٹ طلب کیا جا رہا ہے۔ یہ سوال ان زبانوں سے اٹھ رہا ہے جن کا اس جنگ آزادی میں دور دور تک کوئی کردار نہ تھا، بلکہ بعض کے آبا و اجداد انگریزوں کے وفادار رہے اور آزادی کی تحریک کو کچلنے میں انگریزوں کے مددگار بنے۔ تاریخ کے یہ سیاہ کردار آج اس حد تک جری ہو گئے ہیں کہ ملک کی آزادی کے اصل محافظوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ان کے مذہبی شعائر پر قدغن لگاتے ہیں، ان کے تعلیمی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں اور ان کے بنیادی حقوق کو پامال کرتے ہیں۔لیکن تاریخ کا ایک اور سبق یہ بھی ہے کہ مسلمانوں نے جب بھی ظلم و جبر کے سائے تلے زندگی گزاری، انہوں نے آزادی کے لیے جدوجہد کی اور اپنی جان و مال قربان کیے۔ اگر آج بھی حالات اس نہج پر پہنچ جائیں کہ ظلم اپنی انتہا کو چھو لے اور انصاف کا چراغ بجھنے لگے، تو وہی مسلمان جو کل انگریزوں کے خلاف سینہ سپر تھے، آج کے ظالموں کے خلاف بھی میدان میں ہوں گے۔ کیونکہ ان کے خون میں وہی غیرت، وہی حمیت اور وہی جذبہ موجزن ہے جو سلطان ٹیپو شہیدؒؒ، مولانا قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور مولانا حسین احمد مدنیؒ کے رگ و پے میں دوڑتا تھا۔


ہندوستان کی آزادی کی کہانی محض سیاسی جملوں یا سرکاری نصاب کی محدود سطروں میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ یہ کہانی شہادتوں، قربانیوں اور جدوجہد کے ان ابواب پر مشتمل ہے جنہیں مسلمانوں کے خون سے لکھا گیا۔ یہ کہانی ان بزرگوں کی ہے جنہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، پھانسی کے پھندوں کو بوسہ دیا، جلاوطنی کو گلے لگایا اور اپنی نسلوں کو غلامی سے بچانے کے لیے سب کچھ قربان کر دیا۔ اور یہ کہانی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ محب وطن وہ نہیں ہوتے جو صرف زبانی دعوے کریں بلکہ وہ ہیں جو آزادی کی قیمت اپنے خون سے ادا کریں۔ 


لہٰذا آج اگر کوئی مسلمان کے حب الوطنی پر سوال اٹھاتا ہے تو دراصل وہ تاریخ سے ناواقف ہے یا جان بوجھ کر سچ کو مسخ کر رہا ہے۔ مسلمانوں کا کردار اس ملک کی آزادی میں بنیاد کا ہے اور بنیاد کو کمزور کر کے عمارت مضبوط نہیں رہ سکتی۔ جو قوم اپنی بنیاد کو فراموش کر دے، وہ خود اپنے زوال کو دعوت دیتی ہے۔ مسلمانوں نے کل بھی اس وطن کو غلامی سے نکالا تھا اور اگر آج ضرورت پڑی تو وہی کردار ادا کر کے اس وطن کو ہر ظالم اور جابر کے پنجے سے آزاد کرائیں گے، کیونکہ آزادی اور خودداری مسلمانوں کی میراث ہے اور وہ اس میراث کی حفاظت کرنا بخوبی جانتے ہیں۔ گرچہ مسلمانوں کی قربانیوں کو مٹانے اور ان کے کردار کو فراموش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، لیکن مسلمانوں کی تاریخ، جدوجہد اور خدمات ایسی روشن اور ناقابلِ فراموش حقیقت ہیں جو وقت کی گرد میں دب نہیں سکتیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ حوصلہ، عزم اور آزادی کی جستجو کا چراغ بنی رہیں گی۔

جب پڑاوقت گلستاں پہ توخوں ہم نے دیا

جب بہارآئی تو کہتے ہیں ترا کام نہیں


فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

12؍ اگست 2025ء بروز منگل


#IndependenceDay | #Azaadi | #FreedomFighters | #PaighameFurqan | #MTIH | #TIMS

Monday, 4 August 2025

قضیہ فلسطین اور بی ڈی ایس تحریک!

 قضیہ فلسطین اور بی ڈی ایس تحریک!

✍️ بندہ محمد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)


فلسطین کے جانباز شہریوں نے اسرائیل کے ناجائز قبضے، ظلم و ستم، اور انسانی وقار کی پامالی کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے 2005ء میں اپنی سوسائٹی کی نمائندہ 170؍ تنظیمیں، تحریکیں اور این جی اوز کے ذریعے ایک عالمی تحریک کی بنیاد رکھی، جو آج دنیا بھر میں BDS (Boycott, Divestment, Sanctions) کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہ تحریک ایک پُرامن، باوقار اور عالمی سطح پر مؤثر احتجاجی جدوجہد ہے، جس کا مقصد اسرائیل پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کا احترام کرے۔ BDS تین بنیادی نکات پر قائم ہے: (1) بائیکاٹ (Boycott): یعنی اسرائیلی مصنوعات، اداروں، اور ان کمپنیوں کا مکمل سوشل اور معاشی بائیکاٹ جو اسرائیل کی حمایت یا تعاون کرتی ہیں۔ (2) سرمایہ نکالنا (Divestment): یعنی ان کمپنیوں یا اداروں سے سرمایہ کاری واپس لینا جو اسرائیل کو مالی سہارا فراہم کرتے ہیں یا اس کے قبضے میں شریک ہیں۔ اور (3) پابندیاں (Sanctions): یعنی حکومتوں سے مطالبہ کہ وہ اسرائیل پر اقتصادی، فوجی اور سفارتی پابندیاں عائد کریں تاکہ وہ انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں بند کرے۔ یہ تحریک ظلم کے خلاف انسانیت کی آواز ہے اور عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کی ایک منظم اور پرامن کاوش ہے۔ بی ڈی ایس تحریک کی نوعیت کسی ہتھیار یا تشدد پر مبنی نہیں بلکہ یہ اخلاقی، سماجی، معاشی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ایک ایسے بائیکاٹ کا مطالبہ کرتی ہے جو دنیا کی مختلف اقوام، اداروں اور حکومتوں پر یہ واضح کر دے کہ وہ اسرائیلی ظلم پر خاموش نہیں رہیں گے۔ یہ تحریک اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ یہ کسی خاص مذہب، رنگ، نسل یا ملک سے وابستہ نہیں، بلکہ دنیا کے ہر انصاف پسند انسان کی آواز بن چکی ہے۔



بی ڈی ایس تحریک کے آغاز کی بنیاد 2005ء میں فلسطینی عوام اور سماجی اداروں کے اُس مشترکہ اعلامیے سے ہوئی جس میں اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، زمین پر غاصبانہ قبضہ، شہری حقوق کی پامالی، جبری نقل مکانی، اور انسانی عزت نفس کی تذلیل کے خلاف دنیا بھر کی اقوام سے بائیکاٹ، سرمایہ نکالنے اور اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کی اپیل کی گئی۔ یہ وہ دور تھا جب اسرائیل نے دیوارِ فاصل (Apartheid Wall) تعمیر کر کے فلسطینی علاقوں کو مزید محصور کر دیا تھا۔ بستیوں کی تعمیر، مقدس مقامات کی توہین، بچوں، عورتوں اور معمر افراد پر مظالم اور بنیادی انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں نے دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا، مگر طاقتور مغربی دنیا اور عالمی ادارے، خاص طور پر اقوام متحدہ، صرف مذمت تک محدود رہے۔ ایسے میں BDS تحریک فلسطینی عوام کی طرف سے ایک مؤثر، پرامن اور عالمی سطح پر منظور شدہ احتجاجی حکمت عملی بن کر ابھری۔


یہ عالمی BDS تحریک کے تین بنیادی مطالبات ہیں: (پہلا) اسرائیل 1967ء سے قبضہ کیے گئے تمام فلسطینی علاقوں سے دستبردار ہو۔(دوسرا) اسرائیل میں موجود عرب نژاد فلسطینیوں کو بھی وہی حقوق دیے جائیں جو یہودیوں کو حاصل ہیں۔ اور(تیسرا) 1948ء اور 1967ء کے دوران جبری طور پر نکالے گئے تمام فلسطینیوں کو واپس اپنے گھروں کو لوٹنے کا حق دیا جائے، جیسا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد 194 میں تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ تینوں مطالبات نہ صرف انصاف پر مبنی ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔


یہ تحریک پرامن بائیکاٹ کو ایک طاقتور ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ اس بائیکاٹ کا دائرہ کار ان مصنوعات، اداروں، یونیورسٹیوں، ثقافتی پروگراموں، اسپورٹس ایونٹس اور سرمایہ کاری منصوبوں تک پھیلتا ہے جو اسرائیل کو سپورٹ کرتے ہیں یا اس کے قبضے کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ Coca-Cola، HP، McDonald’s، Starbucks، Intel، Puma، Caterpillar، اور Nestlé جیسی درجنوں کمپنیاں یا تو اسرائیل کی فوجی سرگرمیوں میں سرمایہ لگاتی ہیں، یا مقبوضہ علاقوں میں غیرقانونی یہودی بستیوں کی تعمیر میں ملوث ہیں۔ BDS ان کمپنیوں کے بائیکاٹ کی عوامی مہم چلاتی ہے، تاکہ اسرائیل کو اس کے جرائم کی قیمت چکانی پڑے۔ اسی تناظر میں مرکز تحفظ اسلام ہند نے سن 2024ء میں ایک نہایت اہم تحقیقی رپورٹ شائع کی، جس میں اسرائیلی مصنوعات اور ان سے وابستہ معاون عالمی و مقامی کمپنیوں کی تفصیلی فہرست پیش کی گئی۔ اس رپورٹ میں امت مسلمہ اور انصاف پسند شہریوں سے ان مصنوعات کے بائیکاٹ کی پُرزور اپیل شامل ہے۔ ملک بھر میں اس رپورٹ کو عوامی سطح پر بے حد سراہا گیا، اور بائیکاٹ کی مہم کو تقویت ملی۔ مرکز کی یہ علمی و تحریکی کاوش درحقیقت عالمی BDS تحریک کی ہم آہنگی اور اس کے اصولوں کا عملی تسلسل ہے، جو فلسطین کی حمایت اور صہیونی استعمار کی مزاحمت کا ایک مضبوط اور سنجیدہ قدم ثابت ہوئی۔


بی ڈی ایس تحریک کی کامیابیاں قابلِ ذکر ہیں۔ دنیا بھر میں کئی بڑی یونیورسٹیوں نے اسرائیلی کمپنیوں سے سرمایہ نکالنے کا اعلان کیا۔ جنوبی افریقہ، آئرلینڈ، ملائیشیا، اور چلی جیسے ممالک میں عوامی دباؤ کے نتیجے میں کئی اداروں نے اسرائیلی مصنوعات پر پابندیاں عائد کیں۔ عالمی شہرت یافتہ موسیقاروں، مصنفین، فنکاروں اور کھلاڑیوں نے اسرائیلی حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے اشتراک سے انکار کر دیا۔ یہاں تک کہ بعض اسرائیلی دانشوروں اور یہودی انسان دوست حلقوں نے بھی BDS کی حمایت کی۔ اس تحریک کی اخلاقی طاقت نے اسرائیل کو عالمی سطح پر تنہا کرنے میں اہم کردار ادا کیا، حتیٰ کہ اسرائیلی حکومت نے BDS کے خلاف عالمی سطح پر تشہیری مہم شروع کر دی اور بعض ممالک میں اس پر پابندی لگوانے کی کوشش کی۔ یہ سب کچھ اس بات کی علامت ہے کہ BDS ایک کامیاب اور مؤثر تحریک ہے۔ جو آج بھی پوری قوت، مؤثر اور زندہ دلی کے ساتھ عالمی سطح پر جاری و ساری ہے۔ اگر ہم تازہ ترین رپورٹس پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ جنوری 2025 میں City University of New York (CUNY) کی پروفیسرز یونین نے اسرائیلی کمپنیوں اور حکومتی بانڈز سے مکمل سرمایہ نکالنے کا اعلان کیا، جو 2026 تک مکمل ہوگا۔ دنیا بھر میں طلبہ، اساتذہ، اور انسانی حقوق کے علمبردار تعلیمی اداروں، پنشن فنڈز، اور سرمایہ کاری کمپنیوں سے اسرائیل کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ Trinity College Dublin، University of Amsterdam، UC Berkeley، اور Stanford جیسے ادارے اس جدوجہد کا حصہ ہیں، جہاں قراردادیں پاس ہو چکی ہیں، بھوک ہڑتالیں ہوئیں، اور اسرائیلی اداروں سے تعلقات پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ ثقافتی محاذ پر BDS کے دباؤ سے بڑے میوزک فیسٹیولز اور کھیلوں کے مقابلے اسرائیلی شراکت داری سے دور ہو رہے ہیں۔ امریکہ میں BDS کے خلاف 38 ریاستوں نے قانون سازی کی ہے، مگر اس کے باوجود طلبہ اور یونیورسٹی یونینز کی مزاحمت جاری ہے۔ 2025ء میں Protect Economic and Academic Freedom Act جیسے قوانین BDS کے خلاف لائے گئے، مگر اس تحریک کے اثرات Harvard، Yale، Georgetown، اور NYU جیسے اداروں کے سرمایہ نکالنے کے فیصلوں کی صورت میں نظر آ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ نیویارک سٹی نے اسرائیلی بانڈز میں اپنی سرکاری سرمایہ کاری تقریباً مکمل طور پر ختم کر دی۔ یہ تمام حقائق اس بات کا ثبوت ہیں کہ BDS تحریک نہ صرف زندہ ہے بلکہ دن بہ دن عالمی سطح پر مضبوط تر ہو رہی ہے، اور تعلیم، ثقافت، معیشت اور سیاست جیسے شعبوں میں فلسطینی کاز کے حق میں ایک موثر آواز بنتی جا رہی ہے۔


یہ تحریک نہ صرف فلسطینی عوام کی آواز ہے بلکہ ظلم کے خلاف ہر مظلوم قوم کی علامت بن چکی ہے۔ اس تحریک نے دنیا کو یاد دلایا کہ طاقت صرف فوجی ہتھیاروں میں نہیں بلکہ عوامی بیداری، معاشی دباؤ اور اخلاقی سچائی میں بھی ہوتی ہے۔ BDS نے دنیا کے نوجوانوں کو متحرک کیا، تعلیمی اداروں کو بیدار کیا، اور عام انسانوں کو احساس دلایا کہ ان کا روزمرہ کا ایک چھوٹا سا قدم مثلاً کسی اسرائیلی مصنوعات کا نہ خریدنا بھی عالمی انصاف کی طرف ایک بڑا قدم ہو سکتا ہے۔ اس تحریک نے ایک عام شہری کو ایک عالمی مجاہد میں بدل دیا، جس کا میدان جنگ اس کا بٹوہ، اس کی زبان، اس کی سوشل میڈیا پوسٹ اور اس کا شعور بن گیا۔ BDS کی موجودہ اہمیت اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ اسرائیل غزہ میں انسانیت کو روند رہا ہے، ہزاروں بچوں، عورتوں اور معصوم شہریوں کو بمباری سے شہید کیا جا رہا ہے، ہسپتالوں، اسکولوں اور مساجد کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور دنیا کی بڑی طاقتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے بے بسی کا شکار ہیں، اور عالمی میڈیا اسرائیلی ظلم کو چھپاتا اور فلسطینی مزاحمت کو دہشت گردی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ایسے حالات میں BDS ایک مظلوم کی آخری عالمی صدا ہے جو ہر زندہ ضمیر تک پہنچنا چاہتی ہے۔


اسلامی نقطہ نظر سے بھی BDS ایک نہایت جائز اور ضروری اقدام ہے۔ جب کسی مسلمان پر ظلم ہو، تو شریعت ہمیں حکم دیتی ہے کہ ظالم کا ہاتھ روکو، مظلوم کی مدد کرو، کم از کم دل سے برا جانو۔ BDS تحریک دل کی برائی کو زبان، عمل اور شعور میں بدلتی ہے۔ یہ بائیکاٹ صرف معاشی نہیں، ایک دینی غیرت، ملی حمیت اور انسانی ضمیر کا اعلان ہے۔ یہ کہنا کہ ”ہم ظالم کو سپورٹ نہیں کریں گے“ ایک اسلامی اصول ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ”ظالم کی بھی مدد کرو، چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم“۔ صحابہؓ نے پوچھا کہ ظالم کی مدد کیسے؟ آپؐ نے فرمایا: ”اسے ظلم سے روکو، یہی اس کی مدد ہے“۔ بی ڈی ایس تحریک اسی اصول پر عمل کر رہی ہے۔


افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض مسلم ممالک نے اسرائیل سے تجارتی، سفارتی اور عسکری تعلقات قائم کر لیے ہیں، جو امت مسلمہ کے اجتماعی شعور کے خلاف ہے۔ ایسے وقت میں BDS امت مسلمہ کو جگانے کی ایک صدا ہے کہ اگر تم میں سے ہر کوئی ظالم کے خلاف کھڑا ہو جائے، تو وقت کے فرعون کو بھی گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے۔ فلسطین کی سرزمین ہم سے پکار پکار کر کہتی ہے کہ ہم سے مت غافل ہو، ہم پر ظلم ہو رہا ہے، تمہاری خاموشی ہمارے قاتل کی طاقت بن رہی ہے۔ BDS ایک تحریک ہے، ایک دعوت ہے، ایک غیرت ہے، ایک مزاحمت ہے، ایک شعور ہے۔ یہ ایک صدا ہے کہ اگر ظلم کے خلاف کھڑے نہیں ہو سکتے، تو کم از کم ظالم کے ساتھ کھڑے نہ ہو۔ اگر جنگ کے میدان میں نہیں جا سکتے، تو اپنے بٹوے، اپنے بازار، اور اپنی زبان کو ایک ہتھیار بنا دو۔ اگر تم صرف ایک Coca-Cola کی بوتل سے ہاتھ کھینچ لو، تو یہ بھی ایک مزاحمت ہے۔ اگر تم اپنے اسکول، اپنی یونیورسٹی، اپنے دفتر، اپنی مسجد میں فلسطین کا تذکرہ کرتے ہو، BDS کا شعور دیتے ہو، تو یہ بھی ایک جہاد ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ BDS کو محض ایک تحریک نہ سمجھا جائے بلکہ اسے ایک عالمی فریضہ سمجھا جائے۔ یہ ایک امت کی اجتماعی آواز ہے جو ظلم، قبضے، اور نسل پرستی کے خلاف صف آرا ہے۔ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اسرائیل غاصب قبضے سے دستبردار نہیں ہوتا، فلسطینیوں کو ان کے حقوق نہیں دیے جاتے، اور مظلوم انسانیت کو انصاف نہیں ملتا۔ اور جب تک دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی ظالم باقی ہے، BDS جیسے پرامن اور مؤثر ہتھیار باقی رہیں گے، کیونکہ ظلم کے خلاف مزاحمت ہی انسانیت کی بقاء کی ضامن ہے۔ اگر BDS کے اس پیغام کو دنیا بھر کے مسلمان، انصاف پسند اور انسانی حقوق کے علمبردار قبول کر لیں تو ایک دن ضرور آئے گا جب القدس آزاد ہوگا، فلسطین کے بچے ہنسی کھیلیں گے، اور ظالم اسرائیلی حکومت کو اپنے ظلم کا حساب دینا پڑے گا۔ یہی BDS کا خواب ہے، اور یہی ہر زندہ انسان کا خواب ہونا چاہیے۔


فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

04؍ اگست 2025ء بروز پیر


#Palestine | #Gaza | #BDSMovement | #BoycottIsraelProducts | #IsraelProducts | #PaighameFurqan | #MTIH #TIMS

Thursday, 31 July 2025

فریادِ اقصیٰ، آہِ فلسطین اور ضمیرِ امت کا امتحان!

 فریادِ اقصیٰ، آہِ فلسطین اور ضمیرِ امت کا امتحان!

✍️ بندہ محمد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

فلسطین وہ سرزمین ہے جہاں انبیاء علیہ السلام نے قدم رکھے، وہ مقدس خطہ جہاں اللہ کے محبوبوں کی صدائیں گونجتی تھیں، جہاں آسمانوں کی طرف معراج کا سفر شروع ہوا، جہاں بیت المقدس کے در و دیوار نے رسول اللہ ﷺ کی امامت دیکھی۔ وہی فلسطین آج خون میں نہایا ہوا ہے، وہی القدس آج صیہونی جارحیت کی بھینٹ چڑھا ہوا ہے، وہی اقصیٰ آج اُمت کے غفلت آلود سکوت پر نوحہ کناں ہے۔ یہ مسئلہ صرف کسی قوم یا قبیلے کا مسئلہ نہیں، یہ کسی جغرافیائی یا نسلی نزاع کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ اُمت مسلمہ کی روحانی، دینی، اور ایمانی غیرت کا مسئلہ ہے۔ یہ وہ درد ہے جسے ہر مومن کو اپنے سینے میں محسوس کرنا چاہیے، یہ وہ زخم ہے جو چودہ سو سالہ تاریخِ اسلام کے قلب پر لگا ہے۔ یہ وہ صدا ہے جو ارضِ اقصیٰ سے اٹھتی ہے اور ہر باضمیر مسلمان کے دل کو چیر دیتی ہے۔


فلسطین کی اہمیت محض اس کی جغرافیائی حیثیت میں نہیں، بلکہ یہ وہ سرزمین ہے جسے قرآن نے مبارک کہا، جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنے خوابوں کی وادی قرار دیا، جسے صحابہؓ نے اپنی جانوں سے سینچا، جس پر سیدنا فاروق اعظم ؓنے فتح کے بعد عدل کا جھنڈا گاڑا، اور جس کے باسیوں کو نبی کریم ﷺ نے اپنا بھائی قرار دیا۔ بیت المقدس وہ قبلہ اول ہے جس کی طرف رخ کرکے صحابہؓ نے برسوں نماز ادا کی، وہی مسجد ہے جہاں ایک ہی وقت میں تمام انبیاء نے اللہ کے آخری نبی کے پیچھے نماز پڑھی، وہی جگہ ہے جہاں سے حضوراکرم ﷺ نے آسمانوں کا سفر کیا، اور وہی جگہ ہے جو قیامت کے قریب دجال اور امام مہدیؑ کے درمیان آخری معرکہ کی گواہ بنے گی۔


فلسطین کی سرزمین پر آج جو ظلم ہو رہا ہے، وہ تاریخ کا سب سے بھیانک باب ہے۔ لاکھوں بچے یتیم ہو چکے، ہزاروں عورتیں بیوہ ہو گئیں، مساجد کھنڈر بنادی گئیں، قرآن کے اوراق جلا دیے گئے، اسپتالوں پر بم برسائے گئے، اسکولوں میں بارود بھرا گیا، حتیٰ کہ وہ نومولود جنہوں نے ابھی دنیا کی ہوا تک نہ چھوئی، انہیں بھی میزائلوں نے آغوشِ اجل میں پہنچا دیا۔ یہ ظلم محض انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں، یہ انسانیت کے چہرے پر طمانچہ ہے، یہ تہذیبِ مغرب کا اصل چہرہ ہے، یہ اقوام متحدہ، عالمی عدالت انصاف، اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی مکمل منافقت کا عکاس ہے۔ ایک طرف غزہ کی گلیوں میں بچوں کے ٹکڑے بکھرے ہیں، دوسری طرف امریکہ و اسرائیل ہتھیاروں کے سودے کررہے ہیں۔ ایک طرف فلسطینی مائیں اپنے معصوم بچوں کی لاشیں گود میں لیے بین کررہی ہیں، تو دوسری طرف یورپی اقوام اسرائیلی جارحیت کو ”دفاعی کارروائی“ قرار دے کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کررہی ہیں۔ اقصیٰ کے منبر پر اذان دینے والے شہید کردیے گئے، قرآن سنانے والوں کے سینے چھلنی کردیے گئے، اور پوری دنیا… بالخصوص 57 اسلامی ممالک… صرف مذمتی بیانات، علامتی اجلاس، اور خاموش دعاؤں تک محدود ہیں۔


کیا یہ امت محمد ﷺ کی غیرت کا مظہر ہے؟ کیا یہ اُمت جو ایک جسم کی مانند کہلائی، وہ اپنے ہی جسم کے ایک عضو کے زخم پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے؟ کیا یہ وہی امت ہے جس کے لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر تم نے ایک مظلوم مسلمان کی مدد نہ کی، تو اللہ تمہیں بھی بے یار و مددگار چھوڑ دے گا؟۔فلسطین آج صرف فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں، یہ پوری اُمت کا مسئلہ ہے، یہ ہماری ایمانی بقا، دینی غیرت، اور نبوی نسبت کا امتحان ہے۔ اگر آج ہم اقصیٰ کے حق میں نہ اٹھے، اگر آج ہم نے فلسطینیوں کی صداؤں پر لبیک نہ کہا، اگر آج ہم نے اپنی زبان، قلم، دل، اور وجود کو اس میں شریک نہ کیا، تو کل جب ہم رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے ہوں گے، تب ہم کس منہ سے کہیں گے کہ ہم آپ کی امت ہیں؟


ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فلسطین کا دفاع محض عسکری یا سیاسی مسئلہ نہیں، یہ ایمان کا تقاضا ہے۔ جس طرح ہم اپنے گھر کی دیوار کے ایک پتھر کو بھی غیروں کے قبضے میں نہیں جانے دیتے، اسی طرح بیت المقدس… جو ہمارا قبلہ اول ہے… وہ صرف فلسطینیوں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی مشترکہ وراثت ہے، اور اس کا تحفظ ہم سب کا فریضہ ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی صفوں کو درست کریں، اپنی ترجیحات کو بدلیں، اپنے دلوں میں فلسطین کے لیے درد پیدا کریں، اور ہر محاذ پر؛ چاہے وہ میڈیا ہو، معیشت ہو، سیاست ہو یا سفارت؛ فلسطین کے لیے ایک سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔ ہمیں اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے، ان کمپنیوں کا محاسبہ کرنا چاہیے جو صیہونی جرائم میں شریک ہیں، ہمیں اپنی حکومتوں پر دباؤ بنانا چاہیے کہ وہ محض مذمتی بیانات پر اکتفا نہ کریں بلکہ عملی اقدامات کریں۔ہماری مساجد، ہمارے مدارس، ہمارے اسکول، ہمارے میڈیا، ہماری تحریریں، ہماری تقریریں، ہر ہر چیز کو فلسطین کا ترجمان بننا چاہیے۔ ہمیں امت کو بیدار کرنا ہوگا، دلوں میں ایمان کی حرارت جگانی ہوگی، نوجوانوں میں بیداری کی روح پھونکنی ہوگی، اور ظالموں کو یہ باور کرانا ہوگا کہ امتِ محمدیہ مر نہیں گئی، بلکہ وہ لمحہ قریب ہے جب یہ امت اپنا کھویا ہوا وقار واپس لے گی۔


یاد رکھیے! اقصیٰ کا مسئلہ صرف فلسطینی ماں کے بیٹے کا مسئلہ نہیں، یہ آپ کے بیٹے کا مسئلہ بھی ہے، یہ آپ کی بیٹی کے حجاب کا مسئلہ بھی ہے، یہ آپ کے ایمان کا مسئلہ بھی ہے۔ اگر آج ہم نے فلسطین کو تنہا چھوڑ دیا، تو کل ہماری گلیوں میں بھی یہی ظلم دہرایا جائے گا۔آج مسجد اقصیٰ پکار رہا ہے، غزہ چیخ رہا ہے، اور مظلوم بچوں کے لاشے ہم سے سوال کر رہے ہیں کہ کہاں ہے وہ امت جس کے نبی ﷺ نے فرمایا تھا: ”مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں“؟ کہاں ہے وہ غیرت جو بدر و اُحد کے میدانوں میں گونجی تھی؟ کہاں ہیں وہ آنسو جو مظلوموں کے لیے بہا کرتے تھے؟ کہاں گیا وہ جذبہ جو کربلا میں یزید کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گیا تھا؟ اے امت مسلمہ! اُٹھ جا، ابھی وقت ہے، اب بھی جاگ جائے تو اقصیٰ بچ سکتا ہے، اگر تُو نے صدائے حق بلند کی تو ظلم کے ایوان لرز سکتے ہیں، اگر تُو نے فلسطینی بچوں کی چیخوں کو اپنی صدا بنا لیا تو پھر اقصیٰ کے منبر سے اذان کی گونج سنائی دے سکتی ہے، ورنہ یاد رکھ، تاریخ خاموش نہیں رہتی، کل یہی فلسطین تمہیں یاد کرے گا اور کہے گا: ”تم ہمارے اپنے تھے، مگر تم نے ہمیں یتیموں کی طرح تنہا چھوڑ دیا!“۔ اگر تیرے ہاتھ میں قلم ہے تو اسے فلسطین کا سفیر بنا، اگر تیری زبان میں اثر ہے تو اس سے فلسطین کی آہ کو دنیا تک پہنچا، اگر تیرے پاس دولت ہے تو اسے مظلوموں کی مدد میں خرچ کر، اگر تیرے پاس اثر و رسوخ ہے تو اسے اسرائیلی بائیکاٹ کے لیے استعمال کر، اور اگر تیرے پاس صرف دعا ہے تو اسے آنسوؤں اور سچائی سے بھر دے تاکہ وہ عرشِ الٰہی تک جا پہنچے؛ ورنہ جب قیامت کے دن ایمان کا سوال ہوگا، تو فلسطین کی چیخ تیرے جواب کے بیچ گونجے گی، اور بیت المقدس کی دیواریں گواہی دیں گی: ”یہ وہ لوگ تھے… جو امت کے زخموں پر پھول چڑھاتے رہے!“

اٹھ باندھ کمر مرد مجاہد کا جگر لے

مومن ہے تو پھر مسجد اقصیٰ کی خبر لے


فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

31 جولائی 2025ء بروز جمعرات


8495087865

mdfurqan7865@gmail.com


#Palestine | #Gaza | #Israel | #PahalgamTerroristAttack | #FREEPalestine | #PaighameFurqan | #MTIH | #TIMS


Monday, 28 July 2025

مرکز تحفظ اسلام ہند کی پوری ملت اسلامیہ سے مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھنے کی اپیل!

 مرکز تحفظ اسلام ہند کی پوری ملت اسلامیہ سے مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھنے کی اپیل!


فلسطین اور غزہ پر اسرائیلی ظلم کے خلاف عالمی دباؤ اور امت مسلمہ کی بیداری وقت کا اہم تقاضا: محمد فرقان


بنگلور، 28؍ جولائی (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند موجودہ فلسطینی بحران، بالخصوص غزہ میں اسرائیلی جارحیت، خونریزی، انسانی حقوق کی پامالی، بچوں، عورتوں اور معصوم شہریوں کے قتل عام اور انسانیت سوز مظالم پر شدید رنج، غم اور اضطراب کا اظہار کرتا ہے۔ مرکز تحفظ اسلام ہند کے اراکین کی ایک اہم مشاورتی اجلاس میں مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے مسئلہ فلسطین پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نہتے فلسطینی عوام پر جاری اسرائیلی بمباری، محاصرہ، غذائی و طبی ناکہ بندی، اسپتالوں اور پناہ گاہوں پر حملے صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا سانحہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ جب پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے ظلم ہو رہا ہے، تب 57؍ اسلامی ممالک کی خاموشی اور عالمی اداروں کی مجرمانہ بے حسی اس ظلم کی خاموش معاون بنتی جا رہی ہے۔ محمد فرقان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مسئلہ فلسطین کو امت مسلمہ کے دلوں میں زندہ رکھا جائے۔ یہ محض وقتی جذباتی ردعمل کا نہیں، بلکہ ایک طویل المدت، مربوط، مسلسل، منظم اور مؤثر جدوجہد کا تقاضا ہے تاکہ یہ مسئلہ عالمی منظرنامے سے اوجھل نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ مساجد، مدارس، جامعات، دینی اداروں، جلسے جلوس اور عوامی پلیٹ فارمز پر فلسطین سے متعلق بیداری مہمات کا آغاز کیا جانا چاہیے، جمعہ کے خطبات میں مظلوم فلسطینیوں کی تکالیف کو امت کے سامنے رکھا جائے، اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر ایک عالمی کیمپین چلائی جائے جو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دے۔ اسی کے ساتھ رجوع الی اللہ، آیت کریمہ کا ورد اور دعائیہ مجلسوں کا اہتمام بھی کیا جانا چاہیے تاکہ روحانی سطح پر بھی نصرتِ الٰہی کی امید بندھی رہے۔

محمد فرقان نے کہا کہ مرکز تحفظ اسلام ہند اسلامی ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مشترکہ مؤقف اختیار کریں اور اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی اداروں پر مؤثر دباؤ ڈالیں تاکہ سفارتی، سیاسی، اقتصادی اور قانونی سطح پر اسرائیل کو روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیت المقدس صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا مرکز و محور ہے۔ قبلہ اول کے تحفظ، اس کی آزادی اور اس پر جاری حملوں کی مذمت ہر مسلمان کی دینی و ایمانی ذمہ داری ہے۔ اس کے فضائل، تاریخی حیثیت اور مرکزیت کو امت میں عام کیا جانا چاہیے تاکہ نوجوان نسل اپنے قبلہ اول سے جڑ سکے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلسطین کے مظلوموں کی حمایت صرف جذباتی نعرہ نہ بنے بلکہ امت اس مسئلہ کو دل سے اپنائے۔ علمی، فکری، تنظیمی اور عملی سطح پر اس کے لیے اقدامات کیے جائیں، دیگر دینی و ملی تنظیموں سے اشتراک عمل کیا جائے، مشترکہ موقف سامنے لایا جائے، عالمی میڈیا میں اسرائیل کے ظلم کو بے نقاب کیا جائے، سوشل میڈیا کو آوازِ مظلوم بنانے کا ذریعہ بنایا جائے، اور ہر ہر پلیٹ فارم سے اس مظلوم ملت کے ساتھ کھڑے ہونے کا عملی مظاہرہ کیا جائے۔

آخر میں مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے امت مسلمہ سے دردمندانہ اپیل کی کہ فلسطینی عوام کی حمایت کو اپنی ذمہ داری سمجھا جائے، اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کو ایمان کا تقاضا جانا جائے، مظلوموں کی عملی امداد اور پشتیبانی کو اپنا فریضہ بنایا جائے، اور صرف دعاؤں پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ دعاؤں کے ساتھ ساتھ ظلم کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز تحفظ اسلام ہند ان شاء اللہ مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھنے، فلسطینی مظلومین کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے ہر ممکن پیش رفت کرتا رہے گا۔

قابل ذکر ہے کہ اس مشاورتی اجلاس میں مرکز کے سابقہ اور حالیہ کاموں کا جامع جائزہ لیا گیا، بالخصوص تحریک تحفظ ختم نبوت ؐ، تحریک دفاعِ صحابہؓ، وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک، اور ارتداد ی و الحادی فتنوں خصوصاً ایکس کے فتنے کے سلسلے میں جاری مساعی پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اسی کے ساتھ مرکز تحفظ اسلام ہند کے سالانہ مشاورتی اجلاس کے انعقاد کے حوالے سے اہم فیصلے بھی کیے گئے، جنہیں عملی جامہ پہنانے میں کے لیے تمام اراکین مرکز نے پختہ عزم و اتحاد کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے عہدیداران بالخصوص آرگنائزر حافظ محمد حیات خان، خازن قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی، اراکین تاسیسی مولانا محمد نظام الدین مظاہری، عمیر الدین، اراکین شوریٰ مولانا اسرار احمد قاسمی، مولانا سید ایوب قاسمی، مولانا محمود الرحمن قاسمی، حافظ سمیع اللہ، قاری محمد عمران، انعامدار خضر علی، دیگر اراکین مفتی مختار احمد قاسمی، مولانا اسعد بستوی، سید توصیف، شبیر احمد، شبلی محمد اجمعین، شیخ عدنان احمد، حفظ اللہ، محمد فرحان خان، محمد کیف، تبریز عالم، مولانا بلال احمد اور مختلف شعبہ جات کے کنوینرز اور دیگر ذمہ داران کی ایک بڑی تعداد اجلاس میں شریک رہی۔ اجلاس کا آغاز مولانا اسرار احمد قاسمی کی تلاوت سے ہوا،مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے اجلاس کی صدارت فرمائی اور دعا ئیہ کلمات پرمرکز تحفظ اسلام ہند کا یہ اہم آن لائن مشاورتی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔


#Palestine | #Gaza | #Alquds | #Israel | #PressRelease | #MTIH | #TIMS

اسلامی نکاح پر اعتراضات کا علمی و عقلی تجزیہ!

 اسلامی نکاح پر اعتراضات کا علمی و عقلی تجزیہ! 

✍️ بندہ محمد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نکاح محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ ایک مقدس بندھن، عبادت، فطرت کی تکمیل اور روحانی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔ یہ محض دو افراد کا ملاپ نہیں، بلکہ دو خاندانوں، دو نسلوں، اور دو دلوں کا باوقار، باہمی فہم و تعاون پر مبنی تعلق ہے۔ لیکن جدید دور میں جب عقل کو مذہب سے کاٹ دیا گیا، اور خواہشات کو آزادی کا لباس پہنا دیا گیا، تو بہت سے لوگ خصوصاً وہ جو الحاد یا مذہب بیزاری کی طرف مائل ہو گئے، اسلامی نکاح کے اصولوں پر اعتراضات کرنے لگے۔ ان میں بعض ایکس مسلم کہلائے جانے والے بھی ہیں، جو یا تو جذباتی یا فکری الجھن کا شکار ہوئے، یا مغربی پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر دین اسلام پر سوالات اٹھانے لگے۔ ان اعتراضات کا مقصد بظاہر بعض اوقات حق کی تلاش ہوتا ہے، تو بعض اوقات صرف مخالفت برائے مخالفت۔ لیکن اسلام سچائی کا دین ہے۔ یہ نہ اندھی تقلید سکھاتا ہے، نہ اندھا انکار۔ یہ دلیل، فطرت اور وحی کا حسین امتزاج ہے۔ اس لیے ہم ان اعتراضات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں، اور ان کے جوابات بھی اسی سنجیدگی، محبت اور دلائل کے ساتھ دیتے ہیں۔


پہلا اعتراض جو اکثر کیا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ اسلام میں مرد کو عورت پر فوقیت دی گئی ہے، اور نکاح میں بھی مرد حاکم اور عورت محکوم ہے۔ حالانکہ یہ دعویٰ حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ قرآن کہتا ہے: "وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ"* یعنی "عورتوں کے ساتھ حسن سلوک سے رہو۔" (النساء: 19)۔ اس ایک جملے میں اسلام کے خاندانی نظام کی بنیاد پوشیدہ ہے؛ حسن سلوک، محبت، مہربانی اور انصاف۔ اسلام نے مرد کو قوام ضرور بنایا، لیکن اس لیے نہیں کہ وہ عورت پر ظلم کرے، بلکہ اس لیے کہ وہ اس کی حفاظت، کفالت اور رہنمائی کرے۔ قوامیت، حاکمیت نہیں بلکہ خدمت کی ذمہ داری ہے، جیسا کہ ایک ملاح اپنے جہاز کو سنبھالتا ہے، نہ کہ اسے تباہ کرتا ہے۔


پھر سوال کیا جاتا ہے کہ اسلام میں مرد کو چار شادیاں کیوں جائز ہیں جبکہ عورت کو نہیں؟ اور یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہ غیر مساوات ہے، مگر درحقیقت یہ ایک فطری، سماجی اور نفسیاتی حکمت پر مبنی اصول ہے۔ مرد اور عورت کی حیاتیاتی ساخت (Biological Structure)، تولیدی صلاحیت (Fertility)، جذباتی مزاج (Emotional temperament)، اور سماجی کردار (Social Role) یکساں نہیں۔ ایک عورت صرف ایک وقت میں ایک ہی مرد سے حاملہ ہو سکتی ہے، اور بچہ پیدا ہونے کے بعد کئی ماہ و سال تک ماں کی شدید توجہ اور پرورش کا محتاج ہوتا ہے۔ اس دوران ماں کا تعلق اور ذمہ داری ایک شوہر اور بچے تک محدود ہوتی ہے۔ برخلاف اس کے، مرد کی تولیدی صلاحیت مسلسل جاری رہتی ہے، اور وہ بیک وقت کئی بیویوں اور بچوں کی کفالت کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ عدل کرے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے چار شادیوں کی اجازت مشروط کی: "فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً" (النساء: 3) یعنی "اگر عدل نہ کر سکو تو ایک ہی پر اکتفا کرو۔" یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ معاشرے میں بیواؤں، مطلقہ خواتین، یا غیر شادی شدہ خواتین کی تعداد بعض اوقات مردوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے، خاص کر جنگوں، قدرتی آفات یا سماجی عوامل کے بعد۔ اس وقت تعددِ ازوجات ان خواتین کے لیے ایک باعزت زندگی کی ضمانت بن جاتا ہے۔ جس معاشرے نے اس کو رد کیا، وہاں یا تو خواتین "live-in relationships" کا شکار ہوئیں، یا بازاروں کی زینت بن گئیں۔


ایک اور اعتراض اکثر سننے کو ملتا ہے کہ اسلامی نکاح میں عورت کی مرضی کو ثانوی حیثیت دی گئی ہے، اور ولی کا کردار زبردستی مسلط کیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ ایک بنیادی غلط فہمی ہے۔ اسلام عورت کی مرضی کے بغیر نکاح کو باطل قرار دیتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "بیوہ عورت کی شادی بغیر اس کی اجازت کے نہ کی جائے، اور کنواری سے اجازت لی جائے، اور اس کی خاموشی (انکار نہ کرے) اس کی اجازت ہے۔" (صحیح مسلم)۔ ولی کا کردار عورت کی حفاظت کے لیے ہے، نہ کہ اس کی آزادی کو سلب کرنے کے لیے۔ ولی اس وقت تک مداخلت کرتا ہے جب لڑکی کوئی غیر معقول فیصلہ کرے، یا جذبات میں آکر اپنے یا خاندان کے لیے نقصان دہ قدم اٹھائے۔ عقلی اعتبار سے بھی دیکھیں تو شادی جیسا اہم فیصلہ جس کا اثر پوری زندگی، نسل اور معاشرت پر پڑتا ہے، محض ایک فرد کا ذاتی فیصلہ نہیں ہو سکتا، خاص کر جب وہ فرد تجربے یا فہم سے عاری ہو۔ ایک بالغ، باشعور لڑکی جسے زندگی کا تجربہ ہے، اگر وہ خود فیصلہ کرے تو شریعت اس پر سختی نہیں کرتی، بلکہ اس کے ولی کو اس کی رائے کا احترام لازم ہے۔


کچھ لوگ اسلامی مہر پر بھی اعتراض کرتے ہیں، کہ یہ گویا عورت کی قیمت ہے۔ لیکن دراصل مہر عورت کا "حق" ہے، قیمت نہیں۔ قیمت وہ ہوتی ہے جو مالک کو ملتی ہے، جبکہ مہر عورت خود وصول کرتی ہے، یہ اس کے احترام، تحفظ، اور اس رشتے کی سنجیدگی کا نشان ہے۔ قرآن نے فرمایا: "وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً" یعنی "عورتوں کو ان کا مہر خوش دلی سے ادا کرو۔" (سورۃ النساء: 4)۔ حیرت کی بات ہے کہ جو لوگ تحفے تحائف، ڈیٹ، رِنگ، اور سفر پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں، وہ نکاح کے وقت مہر پر سوال اٹھاتے ہیں، حالانکہ مہر عورت کی مالی آزادی اور خودمختاری کی علامت ہے۔


اسی طرح بعض افراد کو یہ اعتراض ہوتا ہے کہ طلاق کا اختیار مرد کو ہے، عورت کو نہیں۔ حالانکہ اسلام میں عورت کو بھی مکمل حق دیا گیا ہے؛ خلع، عدالتی فسخ اور اس کے کئی طریقے موجود ہیں۔ مرد کو طلاق کا حق فوری طور پر اس لیے دیا گیا کہ وہ مالی و قانونی ذمہ دار ہے، اور اسے خاندان کے استحکام کو ذہن میں رکھنا ہوتا ہے۔ عورت کے لیے بھی شرعی عدالت کا دروازہ کھلا ہے، تاکہ وہ بغیر عدل و فکر کے محض جذبات میں آکر نکاح نہ توڑے۔ اسلام کی نظر میں طلاق اگرچہ ایک ناگوار اور ناپسندیدہ عمل ہے، لیکن اگر صلح و صفائی کے تمام طریقے ناکام ہو جائیں اور زوجین کے درمیان اعتماد ختم ہو جائے، تو نکاح کو زبردستی برقرار رکھنا ظلم بن جاتا ہے۔ ایسی صورت میں زندگی تنگی، نفرت اور گناہوں کا باعث بن سکتی ہے۔ اسلام میں طلاق ناپسندیدہ ضرور ہے، لیکن مجبوری کی حالت میں اسے جائز قرار دیا گیا ہے تاکہ میاں بیوی سکون کے ساتھ اپنی راہ جدا کر سکیں۔ ایسے حالات میں طلاق ایک رحمت پر مبنی شریعت کا حل ہے، جس سے دونوں کو نئی زندگی شروع کرنے کا موقع ملتا ہے۔


بعض لوگ نکاح میں عمر کی کوئی حد نہ ہونے پر اعتراض کرتے ہیں، اور اسلام پر الزام لگاتے ہیں کہ اس نے بچپن میں شادی کی اجازت دے کر بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی ہے، حالانکہ یہ اعتراض دراصل اسلامی نکاح کے صحیح مفہوم سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ اسلام میں نکاح کو صرف ایک ابتدائی معاہدہ (Contract) تصور کیا گیا ہے، نہ کہ فوراً ازدواجی زندگی کا آغاز۔ اگر کسی کم عمر بچے یا بچی کا نکاح کر بھی دیا جائے تو اس کے عملی تقاضے، جیسے جسمانی تعلق، صرف اس وقت جائز اور نافذ ہوتے ہیں جب وہ بلوغت کو پہنچ کر ذہنی طور پر سمجھدار ہو جائے اور ازدواجی زندگی کی ذمہ داریاں اٹھانے کے قابل ہو۔ یہ اصول دراصل بچوں کے تحفظ اور ان کی فلاح کا ضامن ہے، کیونکہ اسلام کسی پر ایسی ذمہ داری نہیں ڈالتا جو وہ سمجھ اور جسمانی طور پر اٹھانے کے لائق نہ ہو۔ اس طرح اسلامی تعلیمات بچوں کے حقوق کی حفاظت اور ان کی جسمانی و ذہنی صحت کے احترام پر مبنی ہیں، نہ کہ ان کی خلاف ورزی پر۔ دوسری طرف، دنیا بھر کے سیکولر قوانین میں بھی "کم عمری کی شادی" کی تعریف متغیر ہے۔ امریکہ کی کئی ریاستوں میں آج بھی 14–16 سال کی عمر میں والدین کی رضامندی یا عدالتی اجازت کے ساتھ شادی ممکن ہے۔ سچ یہ ہے کہ مسئلہ عمر کا نہیں بلکہ شعور، رضامندی، اور فطرت کی تکمیل کا ہے۔ اسلامی قانون نے انہی اصولوں کو بنیاد بنایا۔ اگر کوئی بالغ، سمجھدار لڑکی خود یا والدین کی رضامندی سے نکاح کرے تو اس پر اعتراض صرف اس لیے کرنا کہ وہ "کم عمر" ہے، ایک تہذیبی تعصب ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کے دور میں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہزاروں کم سن لڑکے اور لڑکیاں "Boyfriend" اور "Girlfriend" کے نام پر بے حیائی میں مبتلا ہیں، ناجائز تعلقات عام ہیں، اور معاشرہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے، کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہوتا۔ لیکن جب اسلام ایک پاکیزہ، ذمہ دار اور باقاعدہ نکاح جیسے مقدس رشتے کے ذریعے زندگی کو نظم و اخلاق کا پابند بناتا ہے، تو اسی پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نکاح انسان کی فطری ضرورت کو عزت، تحفظ، اور شریعت کے دائرے میں پورا کرنے کا ذریعہ ہے، جب کہ آزاد تعلقات معاشرتی بگاڑ، ذہنی تناؤ اور اخلاقی زوال کا سبب بنتے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات زندگی کو باحیا اور متوازن رکھنے کے لیے ہیں، نہ کہ کسی کی آزادی کو سلب کرنے کے لیے۔



ایک اور اعتراض یہ ہے کہ نکاح عورت کی آزادی کو محدود کرتا ہے، اسے گھر، شوہر اور بچوں کے دائرے میں قید کر دیتا ہے۔ اس اعتراض کا جواب بہت واضح ہے: جو شخص آزادی کو صرف جسمانی خواہش، بے لگام تعلقات، اور خاندانی ذمہ داری سے انکار کے طور پر سمجھتا ہے، وہ کبھی نکاح کی حکمت کو نہیں سمجھ سکتا۔ اسلام میں نکاح دونوں کے لیے سکون، اطمینان، محبت اور تعاون کا ذریعہ ہے: "وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً" (سورہ الروم: 21)۔ عورت نکاح میں قید نہیں ہوتی، بلکہ وہ تسلیم شدہ، محفوظ، محبت سے بھرپور تعلق میں شامل ہوتی ہے، جہاں اس کے حقوق اور اس کی عزت کی ضمانت دی جاتی ہے۔ اس کے برخلاف جو مغربی معاشرے نے “freedom” کے نام پر "Live-in relationships" اور casual تعلقات کو فروغ دیا، وہاں نہ صرف عورت بلکہ بچے بھی قانونی تحفظ سے محروم ہو گئے۔ سائنسی مطالعات (جیسے CDC USA، Pew Research) بتاتے ہیں کہ live-in تعلقات میں طلاق کی شرح، domestic violence، اور بچوں میں ذہنی پریشانی کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ نکاح ایک قانونی، روحانی اور سماجی معاہدہ ہے، جو نہ صرف جسموں کو، بلکہ دلوں اور خاندانوں کو جوڑتا ہے۔


کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نکاح ایک “پرانی روایتی چیز” ہے، جو آج کے جدید، ترقی یافتہ معاشرے کے لیے موزوں نہیں۔ یہ اعتراض بھی دراصل “زمانہ پرستی” (chronological snobbery) کا شکار ہے؛ یعنی ہر نئی چیز اچھی اور ہر پرانی چیز دقیانوسی! لیکن تاریخ شاہد ہے کہ جن معاشروں نے نکاح کو کمزور کیا، وہاں خاندان ٹوٹ گئے، جنسی تعلقات بے اصول ہو گئے، بچے والدین کے بغیر یا سنگل والدین کے ساتھ محرومی میں پلنے لگے، اور خود عورت سب سے زیادہ استحصال کا شکار بنی، خواہ وہ جسم فروشی کی صنعت ہو، یا ورک پلیس پر ہراسانی، یا اکیلی ماں بننے کا درد۔ اس کے برخلاف اسلام نے عورت کو ماں، بیوی، بیٹی، بہن کے ہر روپ میں تحفظ دیا، اور نکاح کو اس تحفظ، عزت، محبت اور سکون کی ضمانت بنایا۔ اسلام نکاح کو شہوت کی تسکین کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مقدس عبادت قرار دیتا ہے۔ وہ اسے نسلِ انسانی کی بقا، مرد و عورت کی روحانی و جذباتی تکمیل، اور ایک صالح معاشرے کی بنیاد کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اگر اسلام میں بعض حدود مقرر کی گئی ہیں، جیسے مہر، عدل، قوامیت، خلع، طلاق یا تعددِ ازوجات، تو یہ سب انسان کی فطرت، معاشرتی تقاضوں اور انسانی کمزوریوں کو سامنے رکھ کر دی گئی ہیں۔ ان حدود کا مقصد مرد کو برتری دینا نہیں، بلکہ دونوں کے لیے توازن، حفاظت، سکون اور باہمی تعاون فراہم کرنا ہے۔


یہاں ایک اور اہم بات واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ اعتراض کرنے والوں میں بعض sincere اور سوالات کے ذریعے سچ کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ ان کے لیے دعوتِ فکر کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے۔ ہمیں سختی، طنز یا نفرت کے بجائے محبت، دلائل اور حکمت سے بات کرنی چاہیے، کیونکہ قرآن خود کہتا ہے: "ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ" (النحل: 125) یعنی "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت سے بلاؤ۔" اگر کوئی شخص اسلام میں نکاح کے اصولوں کو "پسماندہ" یا "ظالمانہ" سمجھتا ہے تو اسے دعوت ہے کہ وہ صرف اعتراض نہ کرے، بلکہ قرآن، سنت، اور فطری عقل کے ساتھ اس نظام کو سمجھے، اس کی حکمت کو دیکھے، اس کے نتائج کو دوسروں نظاموں سے تقابل کرے۔ ان شاء اللہ، جس دل میں انصاف کی طلب ہوگی، وہ دل اس نظام کے حسن کے آگے جھک جائے گا۔ ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اسلام کے خاندانی نظام کو صرف زبانی نہ بیان کریں، بلکہ خود اپنی زندگیوں میں نکاح کو واقعی محبت، سکون، حسنِ سلوک، عدل، اور وفاداری کا نمونہ بنائیں۔ تب ہی ہم سچائی کے علمبردار بن کر دنیا کو دکھا سکیں گے کہ اسلام نہ صرف عبادت، عقیدہ اور روحانیت کا دین ہے، بلکہ انسانی تعلقات، ازدواجی زندگی، اور معاشرتی استحکام کا بھی کامل نظام ہے۔


فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

03؍ جولائی 2025ء بروز جمعرات


+91 8495087865

mdfurqan7865@gmail.com


#Nikah #Marriage #IslamicNikah #IslamicMarriage #PaighameFurqan #MTIH #TIMS

Saturday, 26 July 2025

اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ، غیرتِ ایمانی کا امتحان ہے!

 اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ : غیرتِ ایمانی کا امتحان ہے! 

✍️ بندہ محمد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند) 

یقیناً کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب انسانیت چیخ اُٹھتی ہے، جب ضمیر دہاڑتا ہے، جب دل کے اندر ایسی آگ بھڑکتی ہے کہ لفظ اس کا ساتھ دینے سے عاجز ہوجاتے ہیں۔ فلسطین کی سرزمین پر، غزہ کی گلیوں میں، بیت المقدس کے سائے میں، ایک سال سے بھی زائد عرصہ سے جو کچھ ہورہا ہے، وہ صرف قتل و غارت گری نہیں، وہ انسانیت کی توہین، بچوں کی آہیں، ماؤں کی سسکیاں، اور بے گھر لوگوں کی تڑپ ہے۔ وہ لاشیں نہیں جو زمین پر گری ہوئی ہیں، وہ جیتی جاگتی زندگیاں تھیں، خواب تھیں، خواہشیں تھیں، اور ہمارے جیسے انسان تھے جنہیں صہیونی درندوں نے بموں، میزائلوں اور گولیوں سے روند ڈالا۔ فلسطین میں مرنے والوں کی تعداد اب دو لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے، جن میں زیادہ تر معصوم بچے، کمزور خواتین اور نہتے بزرگ شامل ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں لاشیں اٹھتی ہیں، گھروں کے ملبے سے بچوں کی لاشیں نکالی جاتی ہیں، ماں کی گود سے اس کا لعل چھین لیا جاتا ہے، اور ایک نسل کو صفحہئ ہستی سے مٹانے کی منظم کوشش کی جارہی ہے۔


یہ کوئی وقتی جنگ نہیں، یہ دہائیوں پر محیط ظلم و ستم کا تسلسل ہے، جس کی منصوبہ بندی صہیونی دماغوں نے کی ہے اور جس کو انجام تک پہنچانے کیلئے امریکہ جیسے سامراجی طاقتوں نے اپنے اسلحے، پیسوں اور اقوام متحدہ جیسے اداروں کی بے حسی کے ساتھ تعاون دیا ہے۔ اسرائیل کی جارحیت اب صرف غزہ، رفح اور نابلس تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کا ہدف پورے عالم اسلام کو کمزور کرنا، مسلمانوں کی غیرت کو مار ڈالنا اور اسلامی شعور کو مٹا دینا ہے۔ جب امریکہ اسرائیل کے حق میں کھڑے ہوکر اسلحہ فراہم کرتا ہے، جب یورپی ممالک انسانی حقوق کا نعرہ لگاتے ہوئے فلسطینی بچوں کے قتل پر خاموش رہتے ہیں، جب اقوام متحدہ صرف قراردادیں منظور کرکے اپنی جان چھڑاتا ہے، تو ایسی دنیا میں مظلوموں کی آخری امید خود امت مسلمہ کے افراد ہوتے ہیں۔


ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم بے بس ہیں؟ کیا ہم کچھ نہیں کر سکتے؟ کیا ہمارے ہاتھوں میں کوئی طاقت نہیں؟ نہیں! ہم بے بس نہیں، ہمارے پاس ایک طاقت ہے، ایک ایسا ہتھیار جو دشمن کی بنیادیں ہلا سکتا ہے، اور وہ ہے ”بائیکاٹ“! ہاں، ان کمپنیوں کا مکمل بائیکاٹ جو اسرائیل کی پشت پناہی کرتی ہیں، جو صہیونی فوج کو مالی مدد فراہم کرتی ہیں، جو اپنے منافع سے فلسطینی بچوں کی قبریں کھودتی ہیں، اور جو ہمارے پیسوں سے ہمیں ہی مارنے کیلئے اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنیوں کو سرمایہ فراہم کرتی ہیں۔ہم جو جب کسی سوپرمارکیٹ میں خریداری کرتے ہیں، جب کسی فاسٹ فوڈ چین میں کھانا کھاتے ہیں، جب کسی مشروب کو پیاس بجھانے کیلئے حلق سے نیچے اتارتے ہیں، ہم نہیں جانتے کہ ہم دراصل کن ہاتھوں کو پیسہ دے رہے ہیں۔ ہمیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہی کمپنیاں جیسے Coca-Cola, Pepsi, Nestlé, McDonald's, Starbucks, Domino's, KFC, Maggi اور Unilever وغیرہ جیسی کمپنیاں اسرائیل کو نہ صرف معاشی سہارا دے رہی ہیں بلکہ کئی مرتبہ صہیونی فوج کو براہ راست امداد فراہم کرتی ہیں۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق ان کمپنیوں کا بڑا سرمایہ اسرائیلی مارکیٹ میں گردش کرتا ہے، اور ان کے منافع کا حصہ ان تنظیموں کو جاتا ہے جو فلسطین میں نسل کشی کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔


ابھی 2023ء کے اختتام پر شائع ہونے والی AFSC کی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو ملنے والی سالانہ 3.8 بلین ڈالر کی امداد کے علاوہ بڑی کارپوریٹ کمپنیاں بھی کروڑوں ڈالرز کی رقم براہ راست یا بالواسطہ صہیونی اداروں کو دیتی ہیں۔ ایسی کمپنیوں میں سب سے نمایاں Starbucks ہے، جس کی انتظامیہ نے اسرائیل کی کھل کر حمایت کی اور فلسطین کی حمایت میں بولنے والے اپنے ملازمین کو نوکری سے برخاست کیا۔ McDonald'sنے اسرائیلی فوجیوں کو مفت کھانا فراہم کیا۔ HP اور Intel جیسی ٹیکنالوجی کمپنیاں اسرائیلی سیکیورٹی سسٹم کی تیاری میں براہ راست شریک ہیں۔ Coca-Cola کا مرکزی پلانٹ اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں میں واقع ہے اور اس کا CEO کھل کر صہیونی عزائم کی حمایت کرتا ہے۔


فلسطین سالیڈیریٹی کیمپین اور BDS موومنٹ کی تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ اگر پوری دنیا کے مسلمان ان کمپنیوں کا صرف 20 فیصد بائیکاٹ کریں، تو ان کا سالانہ نقصان 30 بلین ڈالر سے زائد ہوسکتا ہے۔ جب کوئی کمپنی یا ادارہ صہیونی ریاست اسرائیل کی مالی مدد کر رہا ہو، اور اس کی مصنوعات کی خریداری سے ظالم کو تقویت ملتی ہو، تو ایسی صورت میں ان مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا صرف جذباتی ردعمل نہیں بلکہ شرعی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں صاف فرمایا: ”وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ“ (سورۃ المائدہ: 2) کہ ”گناہ اور زیادتی (ظلم) کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔“عرض کیا گیا: مظلوم کی تو مدد سمجھ آتی ہے، مگر ظالم کی کیسے؟ فرمایا: ”اسے ظلم سے روک کر“ (صحیح بخاری: 2444)۔ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ دراصل ظالم کو ظلم سے روکنے کا عملی قدم ہے۔ اور اگر کوئی کمپنی کسی ایسی ریاست یا فوج کی مالی معاونت کرتی ہو جو مسلمانوں پر ظلم کر رہی ہو، تو اس کے بائیکاٹ کا مطالبہ نہ صرف شرعاً درست بلکہ واجب کے قریب ہے۔ لہٰذا، اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ صرف ایک اخلاقی اقدام نہیں بلکہ ایک شرعی فریضہ ہے، جو ہر غیرت مند مسلمان پر لازم ہے۔ Bloomberg اور Reuters کی رپورٹس کے مطابق صرف عرب ممالک میں 2023 ء میں ہونے والے جزوی بائیکاٹ کی وجہ سے McDonald'sکو ایک چوتھائی خسارہ ہوا اور Middle East Eye کے رپورٹ کے مطابق کئی ممالک میں ان کے آؤٹ لیٹس بند کرنے پڑے۔ اسی طرح Coca-Cola کو خلیجی ممالک میں اپنی برانڈ ویلیو کھونا پڑی۔ اگر یہی بائیکاٹ مکمل اور منظم ہو، تو ان کمپنیوں کے مالی مفادات کو کاری ضرب لگائی جاسکتی ہے، اور اسرائیل کو عالمی سطح پر تنہائی کی طرف دھکیلا جاسکتا ہے۔


ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ایک مشروب ہماری غیرت سے زیادہ قیمتی ہے؟ کیا ایک برگر یا چکن پیس اتنا اہم ہے کہ اس کے بدلے ہم کسی فلسطینی بچے کی لاش کا سودا کرلیں؟ جب ہم Starbucks کی کافی پیتے ہیں تو کیا ہمیں وہ تصویر یاد آتی ہے جس میں ایک بچہ اپنی ماں کی لاش سے لپٹا ہوا تھا؟ جب ہم Nestlé کے چاکلیٹ کھاتے ہیں تو کیا ہم بھول جاتے ہیں کہ غزہ میں مائیں اپنے بچوں کو نمک ملا پانی پلا کر سلانے پر مجبور ہیں؟ یہ بائیکاٹ صرف معاشی اقدام نہیں، یہ ضمیر کی پکار ہے، یہ ایمان کی صداقت ہے، یہ مظلوموں کے ساتھ ہمارے ربط کا ثبوت ہے۔


آج سوشل میڈیا پر کئی ایسی رپورٹس گردش کر رہی ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ اسرائیلی مصنوعات کے خلاف بائیکاٹ نے اسرائیلی معیشت کو دھچکا پہنچایا ہے۔ الجزیرہ کے ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں 2024ء کے دوران گھریلو مصنوعات کی فروخت میں 17 فیصد کمی آئی اور براہ راست سرمایہ کاری میں 23 فیصد کمی دیکھی گئی۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ ان بچوں کی دعائیں ہیں جن کے ماں باپ کو زندہ جلایا گیا، یہ ان ماؤں کی آہیں ہیں جو اپنے بچوں کی لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک چکی ہیں۔ جب ہم ان مصنوعات کا بائیکاٹ کرتے ہیں، تو ہم ظالم کو براہ راست پیغام دیتے ہیں کہ ہم خاموش تماشائی نہیں، بلکہ امت کا زندہ ضمیر ہیں۔اسلامی شریعت بھی ہمیں یہی حکم دیتی ہے کہ ظالم کے خلاف آواز بلند کی جائے، اور اگر قوت نہ ہو تو کم از کم دل میں نفرت اور معاشی بائیکاٹ کے ذریعے اس کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا جائے۔ اگرہمارے ذریعہ ظالم حکمران کی مدد مالی طور ہورہی ہوتوگویا یہ ظلم میں شرکت مترادف ہے۔ تو جو کمپنی ظلم کی پشت پناہی کرے، اس کی مصنوعات خریدنا کیا ہے؟ کیا یہ ظلم میں حصہ داری نہیں؟


یہ صرف انفرادی عمل نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ادارہ جاتی سطح پر بھی اس کو منظم کیا جانا چاہیے، اور الحمدللہ، مرکز تحفظ اسلام ہند نے اس حوالے سے ایک بڑی خدمت انجام دی ہے۔ ایک تین ماہ کی تفصیلی تحقیق کے بعد ایک ایسی فہرست مرتب کی گئی ہے جس میں ان تمام مصنوعات کا احاطہ کیا گیا ہے جو اسرائیل یا اس کے معاونین سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ فہرست نہ صرف درست اور مستند ہے بلکہ اس میں ہر پراڈکٹ کے پیچھے موجود کمپنی اور اس کا اسرائیل سے تعلق بھی تحقیق کے ساتھ درج ہے۔ مرکز تحفظ اسلام ہند نے یہ فہرست ملک بھر کی تنظیموں، اداروں اور عوام الناس تک پہنچانے کی کوشش کی ہے تاکہ لوگ بیدار ہوں اور اس تحریک کا حصہ بنیں۔ یہ وقت غیرتِ ایمانی کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ یہ محض ایک مہم نہیں، یہ ضمیر کا فیصلہ، دل کی پکار، اور ایمان کا امتحان ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون اس آزمائش میں سرخرو ہوتا ہے اور کون رسوا۔ ہم یا تو ظلم کے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں، یا اپنی بے حسی سے قاتلوں کے معاون بن سکتے ہیں۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔


اب وقت آچکا ہے کہ ہم دو ٹوک فیصلہ کریں۔ یا تو ہم فلسطین کے ان بچوں کا ساتھ دیں جو ہر روز شہید ہو رہے ہیں، یا ان کمپنیوں کا جو ان کے قاتلوں کو طاقت فراہم کر رہی ہیں۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس کے ساتھ ہیں؛ مظلوموں کے یا ظالموں کے؟ اگر ہم واقعی ایمان رکھتے ہیں، اگر ہماری غیرت ابھی زندہ ہے، اگر ہمارے دل میں امت کا درد ہے، تو ہمیں آج سے، اسی لمحے سے ان تمام اسرائیلی اور ان کے مددگار کمپنیوں کے مصنوعات کا مکمل، غیر مشروط، اٹل بائیکاٹ کرنا ہوگا۔ یہ صرف بائیکاٹ نہیں ہوگا، بلکہ مظلوم فلسطینیوں کے زخموں پر مرہم ہوگا، اور ظالم اسرائیل کے وجود پر ضربِ کاری۔


ابھی نہیں تو کب؟ ہم نہیں تو کون؟ خدارا اٹھو! خریدو نہیں، جھاڑ دو ان پراڈکٹس کو، نکال دو انہیں اپنے گھروں سے، دکانوں سے، دلوں سے۔ کیونکہ جب آخرت میں ہم سے پوچھا جائے گا کہ تم نے کیا کیا تھا؟ تو ہم کم از کم یہ تو کہہ سکیں گے: اے اللہ! ہم نے ظالم کا ساتھ نہیں دیا، ہم نے مظلوم کا ساتھ دیا، ہم نے ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا تھا۔


فقط والسلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

26؍ جولائی 2025ء بروز سنیچر 


+91 8495087865

mdfurqan7865@gmail.com


#BoycottIsraelProducts | #IsraelProducts | #Palestine | #Gaza | #IndianMuslims | #MTIH | #TIMS | #PaighameFurqan

Thursday, 24 July 2025

”بس جرم ہے اتنا کہ مسلمان ہیں ہم لوگ!“

 ”بس جرم ہے اتنا کہ مسلمان ہیں ہم لوگ!“

(11/7 ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ : 12؍ مسلم نوجوان 19؍ سال بعد باعزت بری) 

”انصاف“ کے نام پر انیس سال کی سزا“..!

✍️ بندہ محمد فرقان عفی عنہ

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)



انیس برس کے طویل اندھیرے کے بعد بالآخر وہ روشنی جھلکی جس کی امید وقتاً فوقتاً دم توڑتی رہی۔ بامبے ہائی کورٹ نے 7/11 ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ کیس میں دہشت گردی کے الزام میں قید بارہ مسلم نوجوانوں کو باعزت بری کر دیا۔ عدالت نے نہ صرف مکوکا عدالت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا، بلکہ ان کے خلاف دیے گئے اقبالیہ بیانات اور تمام سرکاری گواہیوں کو بھی ناقابل قبول مانا۔ یہ فیصلہ اگرچہ عدالتی نظام میں آئینی انصاف کی ایک روشن مثال بن کر سامنے آیا، مگر اس کی چمک میں ان انیس برسوں کا وہ ظلم چھپا نہیں جا سکتا جو ان نوجوانوں نے جیل کی کال کوٹھریوں میں جھیلا۔ انصاف آیا، مگر ایک ایسے وقت جب زندگی کا سب کچھ بکھر چکا تھا۔


07؍ جولائی 2006ء کی شام ممبئی کی لوکل ٹرینیں موت کا کارواں بن گئی تھیں۔ یکے بعد دیگرے ہونے والے دھماکوں نے شہر کی روح کو لرزا دیا، ایک 189 جانیں چھن گئیں، سینکڑوں افراد زخمی ہوئے، اور ہر جانب چیخ و پکار کا عالم برپا ہو گیا۔ حکومت پر سوالات کی بارش شروع ہوئی، اور دباؤ میں آ کر جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا، وہ وہی تھے جو سب سے زیادہ بے بس تھے؛ مسلم نوجوان، 

یہ وہ نوجوان تھے جنہیں دہشت گردی کے الزامات میں صرف ان کے مذہب کی بنیاد پر گھسیٹا گیا۔ نہ کوئی پختہ ثبوت، نہ کوئی گواہ، نہ کوئی فارنسک بنیاد، صرف مذہب اور نام کی بنیاد پر انہیں اٹھا لیا گیا۔ تفتیشی اداروں نے ان سے جھوٹے اقبالیہ بیانات حاصل کیے، میڈیا نے انہیں مجرم ٹھہرا دیا، اور عوام کے ذہنوں میں نفرت کے بیج بو دیے گئے۔ برسوں تک یہ نوجوان جیل میں سڑتے رہے، ایک ایک دن ان پر قیامت بن کر گزرتا رہا، اور سچائی پر پردے ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی رہی۔


آخرکار 2025ء میں بامبے ہائی کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ ان نوجوانوں کے خلاف کوئی قابل قبول ثبوت موجود نہیں، سرکاری گواہیاں مشتبہ اور اقبالیہ بیانات غیر قانونی ہیں، اور پوری تفتیشی کہانی محض مفروضوں پر مبنی تھی۔ یہ فیصلہ اگرچہ ان افراد کو آزادی دے گیا، مگر قوم کے ضمیر پر ایک ایسا دھبہ لگا گیا جو شاید کبھی مٹ نہ سکے۔ سوال یہ نہیں کہ ان ملزمین کو رہا کر دیا گیا، سوال یہ ہے کہ ان کی جوانی کیوں چھین لی گئی؟ ان کے خاندانوں کو کیوں برباد کیا گیا؟ اور کیوں انصاف کو انیس برس لگ گئے؟ کیا یہ فیصلہ انصاف کہلائے گا یا ایک ایسے سسٹم پر فردِ جرم ہے، جو جرم سے زیادہ کسی کی مذہبی شناخت کو مجرم بنانے پر آمادہ ہے؟


ان بے قصور نوجوانوں کی زندگیاں تباہ ہوگئیں۔ ان میں سے کئی کی شادیوں کے رشتے ٹوٹ گئے تو کئی کی شادیاں ہی ختم ہو گئیں، کئی کے ماں باپ انصاف کی آس میں دنیا سے رخصت ہو گئے، کئی کے بچے باپ ہونے کے باوجود یتیمی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے اور کئی نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنی جوانی، خواب، عزت، وقت اور مستقبل سب کچھ گنوا دیا۔ یہ سب وہ سزائیں تھیں جو عدالت سے پہلے سنائی جا چکی تھیں۔انہیں صرف مجرم بنا کر جیل میں نہیں ڈالا گیا بلکہ ان کے گھروں کو برباد کیا گیا، ان کی نسلوں کا مستقبل تاریک کر دیا گیا اور ان کی شناخت کو داغدار کیا گیا۔ اور سب کچھ صرف اس لیے کیونکہ وہ مسلمان تھے۔ 


حکومتیں بدلتی رہیں، وزرائے داخلہ، وزرائے قانون آتے جاتے رہے، لیکن ان بے قصور نوجوانوں کی فائلیں عدالت کی کسی دھول بھری الماری میں پڑی رہیں۔ اس دوران کئی مجرم آزاد گھومتے رہے، کئی اصل سازشی عناصر سیاسی پناہ لیتے رہے، اور کچھ کو "قومی ہیرو" کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ یہ معاملہ محض چند افراد کی زندگی کا نہیں، یہ پورے ملک کے نظامِ انصاف، پولیس، تحقیقاتی ایجنسیوں، میڈیا اور حکومتوں کی اجتماعی ناکامی اور مجرمانہ غفلت کی علامت ہے۔ جب بامبے ہائی کورٹ نے کہا کہ ان کے خلاف نہ کوئی ثبوت ہے، نہ کوئی چشم دید گواہ، نہ کوئی سائنسی یا فارنسک معاونت، تب پوری قوم کو یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑا کہ اگر کچھ بھی نہیں تھا تو انہیں 19؍ سال تک کیوں قید رکھا گیا؟ اس کا سیدھا سا جواب ہے: کیونکہ وہ مسلمان تھے۔ ایک بار پھر ریاست نے مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جو پہلے بھی کیا جاتا رہا ہے؛ نہ کوئی گارنٹی، نہ کوئی تحفظ، نہ کوئی رعایت، اور نہ کوئی معذرت۔


اس پورے اندھیرے میں ایک چراغ وہ تنظیم تھی جسے جمعیۃ علماء ہند کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جس نے قانونی محاذ پر ان نوجوانوں کی پیروی کی، ان کے خاندانوں کو سہارا دیا، بہترین وکلاء کا انتظام کیا، عدالتی اخراجات برداشت کیے، اور ہر محاذ پر ان کے ساتھ کھڑا رہا۔ اگر جمعیۃ نہ ہوتی تو شاید یہ فیصلہ کبھی نہ آتا۔ مولانا ارشد مدنی کی قیادت میں جمعیۃ نے برسوں اس کیس کو زندہ رکھا، قانونی ٹیم بنائی، دلائل پیش کیے، جھوٹ کو بے نقاب کیا اور بالآخر ان معصوموں کو رہائی دلوائی۔ یہ کام صرف ایک ادارے کا نہیں بلکہ پوری ملت کا تھا، لیکن افسوس کہ پوری ملت نے خاموشی اختیار کی، اور صرف جمعیۃ نے اپنا فرض نبھایا۔


یہ پہلا واقعہ اور ایک دو ناموں پر محدود نہیں۔ ہمیں مفتی عبد القیوم قاسمی کا کیس یاد ہے، جنہیں اکشردھام حملے میں جھوٹے طور پر پھنسا کر گیارہ سال تک اذیت دی گئی۔ ہمیں وہ ہزاروں مسلم نوجوان یاد ہیں جنہیں ٹاڈا، پوٹا اور مکوکا جیسے کالے قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا، برسوں قید رکھا گیا، اور آخرکار عدالتوں نے انہیں باعزت بری کیا۔ ہمیں مولانا انظر شاہ قاسمی جیسے علماء یاد ہیں جنہیں بغیر کسی جرم کے میڈیا نے دہشت گرد بنا کر پیش کیا، لیکن آخر میں عدالت نے انہیں بے قصور مانا۔ ہمیں کشمیر کے وہ پانچ نوجوان یاد ہیں جو 23 سال بعد باعزت بری ہوئے تھے، ان کے ماں باپ قبروں میں جا چکے تھے، ان کی جوانی قبرستان بن چکی تھی، اور ان کی واپسی پر صرف آنسو، سناٹا اور سوال باقی رہ گئے تھے۔  یہ فہرست طویل ہے کشمیر سے کنیاکماری تک، گجرات سے مغربی بنگال تک، یہ قصے ہر جگہ دہرائے جا رہے ہیں۔ ہر علاقے سے ایسے ہزاروں کیسز سامنے آتے ہیں جہاں مسلمان نوجوانوں کو صرف ان کی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ آج بھی ملک کی مختلف جیلوں میں ہزاروں مسلمان نوجوان ایسے الزامات میں قید ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں، جن کے مقدمات کی سماعت نہیں ہو رہی، جنہیں ضمانت نہیں دی جا رہی اور جنہیں وکیل میسر نہیں آ رہا۔ ان کے خلاف صرف اور صرف پولیس کی کہانی ہے، جسے میڈیا سچ بنا کر پیش کرتا ہے، اور عدالتیں برسوں بعد غلط ثابت کرتی ہیں۔ لیکن جب تک عدالتیں فیصلہ سناتی ہیں، تب تک اس کی پوری زندگی تباہ ہو چکی ہوتی ہے۔


عدالتی نظام کی سست روی اور تفتیشی ایجنسیوں کی تعصب زدہ روش نہ صرف انفرادی المیوں کو جنم دیتی ہے بلکہ ایک پوری قوم کو احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیتی ہے۔ 19؍ سال بعد اگر عدالت فیصلہ دیتی ہے تو یہ انصاف نہیں، بلکہ نظام کی ناکامی کا اعلان ہے۔ اس فیصلے میں خوشی کم، شرمندگی زیادہ ہے۔ سب سے شرمناک پہلو یہ ہے کہ پولیس، اے ٹی ایس، اور تفتیشی ایجنسیوں نے جو ثبوت عدالت میں پیش کیے، وہ خود ان کے منہ پر طمانچہ بن کر سامنے آئے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں صاف لکھا کہ پولیس کی کہانی میں جھول ہے، ملزمان کی موجودگی کے شواہد مشکوک ہیں، ان کے اقبالیہ بیانات قانون کے مطابق نہیں لیے گئے، اور پورے کیس میں متعدد نقائص ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا گیا۔ مقصد اصل مجرم کو پکڑنا نہیں تھا، بلکہ فوری طور پر کسی کو پکڑ کر کیس بند کرنا تھا، اور اس کے لیے سب سے آسان شکار مسلمان تھے۔


اور میڈیا؟ جسے معاشرے کا ضمیر کہا جاتا ہے، وہ اس معاملے میں سب سے بڑا مجرم ہے۔ گرفتاری کے فوراً بعد ان نوجوانوں کی تصویریں دکھا دکھا کر چیخ چیخ کر بتایا گیا کہ "دہشت گرد پکڑے گئے"۔ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو شک کی نظر سے دیکھا گیا، دینی مدارس کو دہشت گردی کا گڑھ قرار دیا گیا، اور عام مسلمان کو ایک مشتبہ مخلوق بنا دیا گیا۔ پھر جب عدالت نے کہا کہ یہ سب بے قصور تھے تو کوئی معذرت نہیں، کوئی ندامت نہیں، کوئی پچھتاوا نہیں۔ میڈیا نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ ان کی خبروں نے کتنے گھروں کو برباد کیا، کتنے رشتے توڑے، کتنی ملازمتیں چھن گئیں، اور کتنے ذہنوں میں نفرت کے بیج بوئے۔


سوال یہ ہے کہ جب عدالت نے سب گواہوں، اقبالیہ بیانات اور شواہد کو مسترد کر دیا تو اتنے سال تک ان نوجوانوں کو قید میں رکھنے کی بنیاد کیا تھی؟ اور سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اصل مجرموں کو پکڑنے کے بجائے پولیس نے صرف اپنی فائلیں بند کرنے کیلئے مسلمانوں کو قربانی کا بکرا بنایا۔ لیکن کیا ان افسروں پر مقدمہ چلے گا جنہوں نے جھوٹے کیس بنائے، بے بنیاد ثبوت گھڑے، اذیتیں دیں؟ کیا ان ایجنسیوں سے سوال کیا جائے گا جنہوں نے معصوم نوجوان کو دہشت گرد بنا کر پیش کیا؟ کیا ان سیاستدانوں سے سوال ہوگا جنہوں نے مجرموں کی گرفتاری کے نام پر سیاسی واہ واہی لوٹی؟ کیا میڈیا سے جواب طلب کیا جائے گا؟ افسوس کہ نہیں! کیونکہ اس ملک میں مسلمان کا انصاف مانگنا بھی خود ایک جرم بن چکا ہے۔


عدالتوں سے رہا ہو جانا انصاف نہیں کہلاتا، جب تک ظلم کرنے والوں کو سزائیں نہ دی جائیں، اور متاثرین کو ازالہ نہ دیا جائے۔ اس وقت ان نوجوانوں کے پاس نہ کوئی روزگار ہے، نہ کوئی نفسیاتی سہارا، نہ ریاستی مدد، نہ کوئی رسمی معافی۔ وہ برسوں کی اذیتیں لے کر باہر نکلے ہیں، مگر زندگی کی گاڑی اب بھی پٹری سے اتری ہوئی ہے۔ اگر ان بے قصور پر ظلم کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی، تو کیا یہی انصاف ہے؟ اگر ان افسران پر جنہوں نے سازش رچی ان پر مقدمہ نہیں چلایا گیا تو یاد رکھیں کہ پھر اگلے کسی حادثے میں کوئی اور قاسم، کوئی اور کلیم، کوئی اور عرفان نشانہ بنے گا اور عنقریب ہم بھی ان کے نشانے پر ہونگے! 


ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ایسے کیسز کے بعد مسلمانوں کا عدلیہ اور نظامِ انصاف پر جو اعتماد مجروح ہوتا ہے، اس کی تلافی کیسے ہوگی؟ کیا عدالتیں صرف ثبوت کی بنیاد پر ہی فیصلہ دیں گی، یا اس نظام کے اندر موجود تعصب، نفرت اور استحصال کو بھی دیکھیں گی؟ جب مسلمان نوجوان ہر دھماکے کے بعد پہلے ملزم بن جاتے ہیں، اور برسوں بعد بے قصور قرار دیے جاتے ہیں، تو پھر قوم کا اعتماد ٹوٹتا ہے، دلوں میں ناامیدی جڑ پکڑتی ہے، اور سماج میں فاصلے بڑھتے ہیں۔ 7/11 کیس میں جو کچھ ہوا وہ ایک مکمل ریاستی و ادارہ جاتی ناکامی تھی۔ یہ ایک آزاد ملک کے اس "سیکولر" ڈھانچے پر سوالیہ نشان ہے جو اقلیتوں کو برابری کے حقوق دینے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کیس نے ثابت کر دیا کہ مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کو ایک مخصوص بیانیہ کے تحت نشانہ بنایا جاتا ہے، انہیں شکوک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور ان کے خلاف مقدمات بنانے کے لیے پولیس، ایجنسیاں، اور میڈیا سب مل کر کام کرتے ہیں۔ اس ظالمانہ سسٹم میں عدالت صرف آخری دروازہ بن کر رہ جاتی ہے، جو اگر انصاف کرے بھی تو بہت دیر سے کرتی ہے۔


قوم کے سامنے اب دو راستے ہیں: یا تو ہم خاموشی سے ہر بار یہی تماشا دیکھتے رہیں گے، یا پھر ہم منظم ہو کر اس سسٹم کو چیلنج کریں گے۔ ہمیں قانونی میدان میں مضبوطی لانا ہوگی، ہر کیس کی پیروی کرنی ہوگی، میڈیا کی نگرانی کرنی ہوگی، اور مظلوموں کی داد رسی کو دینی و ملی فریضہ سمجھنا ہوگا، کیونکہ آج جو ان نوجوانوں کے ساتھ ہوا، وہ کل کسی اور کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ اور اگر ہم خاموش رہے تو کل شاید ہمارا بھی نمبر ہو۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم صرف رہائی کی خبر پر خوش ہونا چھوڑ دیں، اور ان سوالات کو بنیاد بنائیں جو اس نظام کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کرتے ہیں۔ ہمیں متحد ہو کر مطالبہ کرنا ہوگا کہ ان نوجوانوں کو مکمل انصاف دیا جائے، سرکاری معافی، مالی ازالہ، نفسیاتی بحالی، روزگار کی ضمانت، اور سب سے بڑھ کر ان کے ساتھ ظلم کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہیں نشانِ عبرت بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی معصوم صرف مذہب کی بنیاد پر قربانی کا بکرا نہ بنے۔ اگر ہم اب بھی خاموش رہے، تو ظلم کا یہ پہیہ رکنے والا نہیں، بلکہ کل کو پوری قوم اس کی زد میں آ سکتی ہے۔


اس فیصلے نے ہمیں ایک تلخ حقیقت کا سامنا کروایا ہے کہ جب ریاستی طاقت مذہبی تعصب کے تابع ہو جائے تو قانون صرف ایک دکھاوا بن جاتا ہے، اور انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والا اگر وقت پر سچ نہ بولے تو وہ خود جرم میں شریک ہو جاتا ہے۔ مگر ہمیں مایوس نہیں ہونا، ہار نہیں ماننی۔ ہمیں اپنے مظلوم بھائیوں کے لیے مسلسل آواز بلند کرتے رہنا ہے، قانونی میدان میں مضبوطی سے جمے رہنا ہے، میڈیا کے زہریلے کردار کا محاسبہ کرنا ہے، اور اپنی نسلوں کو یہ شعور دینا ہے کہ سچ کو دبایا جا سکتا ہے، مگر ختم نہیں کیا جا سکتا؛ آخرکار وہ سامنے آتا ہے، اگر ہم ڈٹے رہیں۔ یہ فیصلہ درحقیقت عدالت کا نہیں بلکہ ظلم کے خلاف ایک گواہی ہے، اور یہ رہائی انصاف کی فتح نہیں بلکہ ریاستی نظام کی ناکامی کا اقرار ہے۔ ہمیں اس وقت تک لڑنا ہے جب تک ہر بے گناہ قیدی آزاد نہ ہو جائے، ہر جھوٹے مقدمے کو ختم نہ کر دیا جائے، ہر ایجنسی جواب دہ نہ بن جائے، اور ہر مسلمان کو یہ اعتماد حاصل نہ ہو جائے کہ اس ملک میں اس کی جان، عزت اور ایمان محفوظ ہے۔ یہ کیس ہمارے لیے ایک سبق بھی ہے اور انتباہ بھی؛ سبق اس لیے کہ ہمیں اپنی نئی نسل کو قانون، عدلیہ اور میڈیا کے مکر و فریب سے واقف کرانا ہوگا، انہیں اپنی حفاظت کے لیے شعور اور تیاری دینا ہوگی، اور ظلم کے خلاف ایک منظم تحریک اٹھانی ہوگی اور آخیر تک لڑائی لڑنی ہے کیونکہ یہ صرف انصاف کی نہیں، انسانی وقار، مذہبی آزادی اور قومی سلامتی کی بھی لڑائی ہے۔ اور انتباہ اس لیے کہ اگر ہم اب بھی غفلت میں رہے تو یہ ظلم دوبارہ کسی اور شہر، کسی اور نام، کسی اور حادثے کی آڑ میں سر اٹھا سکتا ہے، اور اگلا فیصلہ شاید پھر انیس سال بعد آئے؛ تب جب ہم شاید بہت کچھ کھو چکے ہوں۔ اور ہوسکتا ہے کہ آج اگر ہم خاموش رہے تو کل شاید ہمارا ہی نمبر ہو!  

اس دیش میں برسوں سے پریشان ہیں ہم لوگ 

بس جرم ہے اتنا کہ مسلمان ہیں ہم لوگ


فقط و السلام

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

23؍ جولائی 2025 ء بروز بدھ


#MumbaiTrainBlast #InnocentMuslim #Jamiat #ArshadMadani #MTIH #TIMS #PaighameFurqan