Wednesday, 14 April 2021
مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے سلسلہ ”مسائل رمضان“ کا آغاز! مختلف علماء و مفتیان کرام رمضان المبارک کے اہم مسائل پر کریں گے خطاب!
Monday, 12 April 2021
رمضان المبارک کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے، رمضان کے قیمتی اوقات عبادت و ریاضت میں گزاریں!
رمضان المبارک کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے، رمضان کے قیمتی اوقات عبادت و ریاضت میں گزاریں!
مرکز تحفظ اسلام ہند کے جلسۂ استقبال رمضان سے علماء کرام کا خطاب!
بنگلور، 12؍ اپریل (پریس ریلیز): اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و عنایات اور رحم و کرم کا موسم بہار رمضان المبارک اللہ کے دربار سے ہمارا مہمان بن کے بس کچھ ہی لمحوں میں پہنچنے والا ہے۔ اسی کے استقبال کیلئے مرکز تحفظ اسلام ہند نے گزشتہ رات ایک عظیم الشان آن لائن جلسۂ استقبال رمضان منعقد کیا گیا تھا۔ جسکی صدارت مرکز کے ناظم اعلیٰ اور جامع مسجد کنکاپورہ کے امام و خطیب مولانا محمد رضوان حسامی و کاشفی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے انجام دئے۔جلسے کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ حیات خان کی تلاوت سے ہوا جس میں مرکز کے رکن عمیر الدین خصوصی طور پر شریک تھے۔اس موقع پر مرکز کے ناظم اعلیٰ نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ رمضان المبارک کا موسم بہار ہم سب پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ جس کا پہلا عشرہ رحمتوں والا، دوسرا عشرہ مغفرتوں والا اور تیسرا عشرہ جہنم سے نجات کا پروانہ دلانے والا ہے۔ اللہ نے اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے کیلئے رمضان المبارک جیسے عظیم مہینہ کا تحفہ دیا۔ جس میں روزہ کو فرض اور تراویح کو سنت قرار دیا۔ تاکہ روزہ سے مسلمانوں میں تقویٰ پیدا ہو۔ رمضان المبارک کی غرض و غایت اور اصل مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔ مرکز تحفظ اسلام ہند کے رکن شوریٰ اور مسجد عمر فاروق، ولسن گارڈن کے امام و خطیب مفتی محمد جلال الدین قاسمی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت رمضان المبارک کا مہینہ ہے۔ رمضان المبارک تمام مہینوں میں سب سے افضل مہینہ ہے۔ یہ برکتوں، رحمتوں اور نعمتوں والا مہینہ ہے۔ حضور اکرم ﷺنے اس مہینے کی بہت ساری فضیلتیں بیان فرمائی ہیں۔مولانا نے فرمایا کہ رمضان المبارک کے ایک ایک لمحہ کو غنیمت جانتے ہوئے اسکی قدردانی کریں اور اپنی تمام مشغولیات کو بالائے طاق رکھ کر رحمت، مغفرت اور جہنم سے چھٹکارے کا پروانہ حاصل کریں۔مرکز تحفظ اسلام ہند کے رکن شوریٰ اور مکہ مسجد کاویری نگر، بنگلور کے امام و خطیب مولانا محمد طاہر قاسمی نے اعمال رمضان پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ پورا سال عبادت مقصود ہے لیکن رمضان المبارک میں زیادہ عبادت کا مطالبہ ہے۔ رمضان المبارک میں جو خاص عبادتیں ہیں وہ روزہ اور تراویح ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ رمضان المبارک میں روزہ، نماز، فرائض و نوافل، تلاوت قرآن کی کثرت، کلمہ طیبہ کا ورد، صدقہ و خیرات، استغفار اور دعاؤں کا خاص اہتمام کیا جانا چاہیے۔ نیز طاق راتوں میں عبادت اور آخری عشرہ کا اعتکاف بھی کرنا چاہیے، کیونکہ قرآن و حدیث میں اسکے بے شمار فضائل بیان کئے گئے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ رمضان المبارک تین عشرے رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا پروانہ لیکر ہمارے پاس آرہا ہے لہٰذا ہمیں اسکی قدر عبادت و ریاضت کے ساتھ کرنا چاہئے۔مرکز تحفظ اسلام ہند کے رکن شوریٰ اور مدرسہ جامعۃ الخلیل، شیموگہ کے مہتمم مولانا سید ایوب مظہر قاسمی نے روزے کے مقاصد اور اسکے فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ رمضان کے روزے رکھنا ہر مسلمان بالغ صحت مند مرد و عورت پر فرض ہیں۔ اور روزے کی اہمیت کا اندازہ فقط اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ روزے کا بدلہ میں خود ہوں۔ مولانا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے روزہ اس لئے فرض کیا ہیکہ بندے کے اندر تقویٰ اور پرہیز گاری کی صفت پیدا ہوجائے یعنی وہ گناہوں سے بچ سکے اور نیک اعمال کی ادائیگی ذوق اور شوق سے کرے۔ روزے کی روح یا ہر عبادت کی روح تقویٰ ہے۔ تقویٰ انسان کو بریک لگاتا ہے، اسے قابو میں رکھتا ہے، اس کی غلط خواہشوں پر روک لگاتا ہے، خواہش نفس سے بچاتا ہے۔ اور تقویٰ ہی انسانی کامیابی کا معیار ہے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام مقررین اور سامعین اور اراکین مرکز کا شکریہ ادا کیا اور مرکز کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد رضوان حسامی و کاشفی کی دعا سے استقبال رمضان کا یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
Saturday, 10 April 2021
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی”آسان اور مسنون نکاح مہم“ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے!
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی”آسان اور مسنون نکاح مہم“ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے!
مسلمان غیر شرعی رسموں اور جہیز والی شادیوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے نکاح کو آسان بنائیں!
علماء کرام کے ولولہ انگیز خطابات سے مرکز تحفظ اسلام ہند کی اصلاح معاشرہ کانفرنس اختتام پذیر!
بنگلور، 10؍ اپریل (پریس ریلیز): اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے تمام معاملات کو مکمل واضح ترین انداز میں بیان کر دیا ہے نیز زندگی اور معاشرے کا کوئی ایسا پہلو نہیں ہے جس کے سلسلے میں اسلامی تعلیمات نہ ہوں مگر افسوس کا مقام ہے کہ آج ان تعلیمات سے دور ہونے کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں بہت سے پہلو اور گوشے ایسے ہیں جن میں ہم جاہلانہ رسوم و رواج پر عمل کرتے ہیں، نتیجتاً ہم بہت سی خرابیوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور بسا اوقات تو یہ خرابیاں روگ اور ناسور کی شکل اختیار کر جاتی ہیں،جس کی ایک کڑی جہیز کی رسم ہے۔ جہیز ایک ناسور ہے جو ہمارے معاشرے میں کینسر کی طرح پھیل رہا ہے۔ اس لعنت نے لاکھوں بیٹیوں اور بہنوں کی زندگی کو جہنم بنا رکھا ہے۔ انکی آرزوؤں، تمناؤں اور حسین زندگی کے سپنوں کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ کتنی لڑکیاں ایسی ہیں کہ جہیز کے پورے ہونے کے انتظار میں اپنے والدین کے گھر بیٹھی رہتی ہیں اور کتنی ایسی لڑکیاں ہیں جو اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے غلط راہوں پر چل پڑتی ہیں اور ارتداد کا شکار ہوجاتی ہیں۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں آئے دن غیرت کے نام پر کبھی ماں بہن اور بیٹیوں کو قتل کیا جاتا ہے اور بعض اوقات تو یہاں تک بھی دیکھا گیا ہے کہ جہیز کی آگ شادی کے بعد بھی بجھنے کا نام نہیں لیتی، لڑکی والے شادی کے بعد بھی طرح طرح کے مطالبے کرتے ہیں اور اگر ان کو پورا نہ کیا جائے تو لڑکی کو بار بار لعن طعن اور آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہاں تک من مرضی کے مطابق جہیز نہ دینے کی صورت میں لڑکی کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑ جاتا ہے، انہیں یا تو زندہ جلا دیا جاتا ہے یا خودکشی کرنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جہیز کی رسم کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت موجود نہیں ہے،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جہیز کا چلن ہندوانہ رسوم و رواج کو گلے لگا لینے کا نتیجہ ہے، جس کا اسلامی تعلیمات کے مقاصد سے ادنیٰ سا بھی تعلق نہیں، ہندو معاشرے میں چونکہ وراثت اور جائیداد کے بٹوارے کی کوئی مذہبی یا قانونی حیثیت نہیں ہے لہٰذا لڑکی کے والدین لڑکی کو جہیز دے کر اسے وراثت سے محروم کر دیتے ہیں، اسلام کی رو سے یہ عمل لڑکی کا حق غصب کرنے کے مترادف ہے، افسوس کہ ہمارا معاشرہ بھی اسی راستے پر چل نکلا ہے۔ شریعت نے جس نکاح کو بہت آسان بنایا تھا موجودہ زمانہ میں ہم نے خود ہی نکاح جیسی سنت کو حرام رسم و رواج، ناجائز پابندیوں اور فضول خرچیوں سے مشکل بنا دیا ہے۔ ان تمام تر حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی نے بورڈ کے سکریٹری حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کی قیادت میں 27؍مارچ 2021ء سے ملکی سطح پر دس روزہ آسان اور مسنون نکاح مہم کا اعلان کیا تھا۔ تاکہ بیجا رسوم و رواج بالخصوص جہیز کے لین دین کو ختم کرتے ہوئے نکاح کو آسان بنایا جائے۔اسی مہم کے پیش نظر مرکز تحفظ اسلام ہند نے امت مسلمہ تک اکابر علماء کا پیغام پہنچانے کیلئے دس روزہ آن لائن اصلاح معاشرہ کانفرنس کا انعقاد کیا۔ جس سے حضرت مولانا عبد الرحیم رشیدی صاحب (صدر جمعیۃ علماء کرناٹک)، شیخ طریقت حضرت مولانا سید احمد ومیض ندوی نقشبندی صاحب (استاذ حدیث دارالعلوم حیدرآباد)، حضرت مفتی حامد ظفر ملی رحمانی صاحب (استاذ حدیث مدرسہ معہد ملت مالیگاؤں)، خادم القرآن حضرت مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب (صدر جمعیۃ علماء کرناٹک)، خطیب العصر حضرت مولانا محمد مقصود عمران رشادی صاحب (امام و خطیب جامع مسجد سٹی بنگلور)، حضرت مولانا محمد صلاح الدین ایوبی قاسمی صاحب (صدر جمعیۃ علماء بنگلور)، نبیرۂ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید ازہر مدنی صاحب (سکریٹری جمعیۃ علماء اترپردیش)، معلم الحجاج حضرت مولانا محمد زین العابدین رشادی مظاہری صاحب (مہتمم دارالعلوم شاہ ولی اللہ، بنگلور)، فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی صاحب (بانی و مہتمم جامعہ اسلامیہ مسیح العلوم بنگلور)، امیر شریعت کرناٹک حضرت مولانا صغیر احمد رشادی صاحب (مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور) مدظلہم نے پرمغز خطابات کئے۔ یہ کانفرنس مرکز تحفظ اسلام ہند کی سوشل میڈیا ڈیسک تحفظ اسلام میڈیا سروس کے یوٹیوب چینل اور فیس بک پیج پر براہ راست نشر کیا جارہا تھا، جسے دیکھنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ تمام حضرات علماء کرام نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ سب سے بابرکت والانکاح وہ ہے جس میں کم خرچ ہو اور فضول خرچی کرنے والا تو شیطان کابھائی ہے۔ نکاح کو سادگی کے ساتھ سنت و شریعت کے مطابق مسنون طریقہ پر انجام دینا چاہیے۔ کیونکہ اسلام میں خلاف شرع رسموں اور جہیز کی قطعاً اجازت نہیں۔ لہٰذا بیجا رسوم و رواج کو ختم کرتے ہوئے نکاح کو آسان بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔انہوں نے غیر شرعی رسوم و رواج اور جہیز کے لین دین والی شادیوں کا مکمل بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی۔اسی کے ساتھ تمام حضرات علماء کرام نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی آسان و مسنون نکاح مہم کو وقت کی اہم ترین ضرورت بتاتے ہوئے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور ہر ممکن تعاون پیش کرنے کی امت مسلمہ سے اپیل کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کی کوششوں اور کاوشوں کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ قابل ذکر ہیکہ مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام 27؍مارچ 2021ء سے جاری اصلاح معاشرہ کانفرنس کا اختتام 05؍اپریل 2021ء کو امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد رشادی صاحب کے خطاب و دعا سے ہوا۔ جس میں خاص طور پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکریٹری حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب رحمہ اللہ کیلئے دعائے مغفرت کی گئی۔
جہیز کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، خلاف شرع رسموں کو ختم کرتے ہوئے نکاح کو آسان بنائیں!
جہیز کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، خلاف شرع رسموں کو ختم کرتے ہوئے نکاح کو آسان بنائیں!
مرکز تحفظ اسلام ہند کی اصلاح معاشرہ کانفرنس کی اختتامی نشست سے امیر شریعت مولانا صغیر احمد رشادی کا خطاب!
بنگلور، 09؍ اپریل (پریس ریلیز): آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اصلاح معاشرہ کمیٹی کی دس روزہ آسان و مسنون نکاح مہم کی ملک گیر تحریک کے پیش نظر مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد آن لائن اصلاح معاشرہ کانفرنس کی دسویں و اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے امیر شریعت کرناٹک حضرت مولانا صغیر احمد صاحب رشادی، مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم سبیل الرشاد، بنگلور نے فرمایا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے ملکی سطح پر آسان اور مسنون نکاح کی جو مہم چلائی جارہی ہے وہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور اسکے بہترین نتائج بھی رونما ہورہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ ہمارے معاشرے نے نکاح میں طرح طرح کے رسم و رواج کو ایجاد کردیا ہے جسے دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہیکہ لوگ حد سے تجاوز کرچکے ہیں۔ جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ نکاح کو آسان کرو کیونکہ نکاح میں جتنا کم خرچ ہوگا اس میں اتنی ہی برکت ہوگی۔ مولانا نے فرمایا کہ شریعت نے نکاح کو بہت آسان بنایا ہے لیکن موجودہ زمانہ میں ہم نے خود ہی نکاح جیسی سنت کو حرام رسم و رواج، ناجائز پابندیوں اور فضول خرچیوں سے مشکل بنا دیا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ جہیز کوئی لازمی چیز نہیں ہے بلکہ یہ ایک غیر اسلامی رسم ہے جسکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ شریعت نے کبھی بھی عورت پر نکاح کے سلسلے میں کوئی مالی ذمہ داری نہیں رکھی ہے بلکہ ساری مالی ذمہ داریاں لڑکے پر رکھی ہیں کہ وہ مہر ادا کرے گا اور اپنی استطاعت کے مطابق ولیمۂ مسنونہ کرے گا۔لیکن افسوس کہ آج لوگوں نے نکاح کی ساری مالی ذمہ داریاں لڑکی والوں پر ڈل دی اور طرح طرح کے مطالبات خصوصاً جوڑے جہیز کی مانگ تو عروج پر جا پہنچی ہے۔ جس کے نتیجے میں ہزاروں بیٹیاں بن بیاہی اپنے گھروں میں بیٹھی ہیں کیونکہ انکے ذمہ داران لڑکے والوں کے مطالبات پورا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ مولانا رشادی نے فرمایا کہ جہیز کے لین دین کے متعلق اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہیکہ اس میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے جو یقیناً ایک غریب اور متوسط طبقے کے لئے بہت تکلیف دہ ہے۔ اور بعض اوقات تو یہاں تک بھی دیکھا گیا ہے کہ جہیز کی آگ شادی کے بعد بھی بجھنے کا نام نہیں لیتی، لڑکے والے شادی کے بعد بھی طرح طرح کے مطالبے کرتے ہیں اور اگر ان کو پورا نہ کیا جائے تو لڑکی کو بار بار لعن طعن اور آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ جس کے نتیجے میں لڑکی خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں، ایسے کئی واقعات ہمارے سامنے موجود ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ آج ضرورت ہیکہ بیجا رسوم و رواج بالخصوص جہیز کی لعنت کو معاشرے سے ختم کرتے ہوئے نکاح کو آسان بنائیں۔ امیر شریعت نے فرمایا کہ اسی کے ساتھ فضول خرچی سے بھی احتراز کرنا چاہئے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ فضول خرچی کرنے والا شیطان کا بھائی ہے۔ لہٰذا ولیمہ بھی مسنون طریقہ پر سادگی سے انجام دینا چاہیے، اس میں کسی طرح کے غیر شرعی رسوم و رواج اور فضول خرچی و نمائش کی اسلام میں قطعاً اجازت نہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ اگر کوئی یہ چاہتا ہیکہ نکاح اپنی مرضی کے مطابق کرے تو یاد رکھو کہ یہ سب چیزیں ناجائز اور اسلامی مزاج کے خلاف ہیں۔ لہٰذا شادی بیاہ کو اللہ و رسول کے بتائے ہوئے طریقے اور سنت و شریعت کے مطابق سادگی سے انجام دینا چاہیے۔ امیر شریعت نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی آسان و مسنون نکاح مہم میں اہلیان اسلام کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینے، اس مہم سے بھر پور فائدہ اٹھانے اور اپنے نکاح کو شریعت و سنت کے مطابق انجام دینے کی اپیل کی۔ اس موقع پر امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد رشادی نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ اس مہم کے پیش نظر مرکز تحفظ اسلام ہند نے دس روزہ اصلاح معاشرہ کانفرنس کے ذریعہ امت مسلمہ تک علماء کرام کا پیغام پہنچانے کی جو کوششیں کی ہیں وہ قابل ستائش ہیں۔ قابل ذکر ہیکہ27؍ مارچ 2021ء سے جاری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی آسان و مسنون نکاح مہم کے پیش نظر مرکز تحفظ اسلام ہند کی دس روزہ اصلاح معاشرہ کانفرنس 05؍ اپریل 2021ء کی شب حضرت امیر شریعت کے خطاب و دعا سے اختتام پذیر ہوئی۔
Thursday, 8 April 2021
جہیز اور فضول رسموں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، جہیز والی شادیوں کا بائیکاٹ کریں!
جہیز اور فضول رسموں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، جہیز والی شادیوں کا بائیکاٹ کریں!
مرکز تحفظ اسلام ہند کی اصلاح معاشرہ کانفرنس سے مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی کا خطاب!
بنگلور، 8؍ اپریل (پریس ریلیز): آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اصلاح معاشرہ کمیٹی کی دس روزہ آسان و مسنون نکاح مہم کی ملک گیر تحریک کے پیش نظر مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد آن لائن اصلاح معاشرہ کانفرنس کی نویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ اسلامیہ مسیح العلوم بنگلور کے بانی و مہتمم، فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی صاحب نے فرمایا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے آسان و مسنون نکاح کی جو مہم چلائی جارہی ہے اسکا مقصد نکاح میں ہونے والی بے اعتدالی سے امت کو بچا کر اسے اسلامی طریقہ کے مطابق انجام دینے کی کوشش کرنا ہے۔ اس وقت اس مہم کی ضرورت ہر آدمی محسوس کررہا ہے کیونکہ ہر ایک آدمی نکاح میں پائے جانے والی خرافات سے پریشان ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اسلام نے نکاح کا جو ڈھانچہ ہمیں عطاء کیا تھا آج ہم نے اسے بالکل بدل دیا ہے، نکاح جیسی آسان عبادت میں ہم نے مختلف خرافات کو داخل کرکے مشکل بنا دیا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ نکاح ایک ضرورت ہے اور معاشرے کی بنیاد نکاح پر ہی منحصر ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اسلام نے رشتوں کا انتخاب دینداری کی بنیاد پر کرنے کی تلقین کی لیکن آج کل رشتوں کا انتخاب حسن و جمال، حسب و نسب، مال و دولت کی بنیاد پر ہورہا ہے۔ جسکے نتیجے میں کئی لڑکیاں بن بیاہی گھروں میں بیٹھی ہیں تو کئی لڑکیاں ارتداد کا شکار ہورہی ہیں۔ آج نکاح کے مشکل ہونے کی وجہ سے زنا آسان اور عام ہوتا جارہا ہے۔ جبکہ اسلام نے زنا کو حرام قرار دیا ہے۔ مفتی شعیب اللہ خان مفتاحی نے فرمایا کہ رشتہ طے ہونے کے بعد ایسے مختلف رسوم و رواج اور لین دین کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جنکا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جہیز اور جوڑے کی باتیں تو ذلت و رسوائی کا سبب ہیں لیکن آج یہ نادان مسلمان اسے فخر سمجھتے ہیں۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ جہیز کی رسم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ یہ ہندوؤں کی رسم ہے، انکے یہاں لڑکی کو وراثت نہیں دی جاتی اور مسلمانوں میں لڑکی کو وراثت دی جاتی ہے- انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ہندوؤں کے اس رسم کو مسلم معاشرے نے قبول کرلیا۔ اور شادی بیاہ میں طرح طرح کے پکوان، شادی کیلئے مہنگے شادی کارڈز اور شادی محل، جہیز کے لین دین نے نکاح کو مشکل سے مشکل بنا دیا ہے۔ اور ان سب چیزوں نے اسلامی نکاح کو ایسا رنگ دیا ہیکہ وہ اسلامیات سے نکل گیا ہے اور معاشرے کو تباہی کی طرف لے جارہا ہے اور برکت والے نکاح کو منحوس بنا دیا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ضرورت ہیکہ ہم سب بالخصوص نوجوان یہ عہد کریں کہ جوڑے اور جہیز کے لین دین کے بغیر سنت و شریعت کے مطابق نکاح کریں گے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے فرمایا کہ لڑکے کو چاہیے کہ وہ حسب استطاعت مہر ادا کریں اور ولیمہ کو بھی خلاف شرع امور اور رسم و رواج سے احتراز کرتے ہوئے انجام دے۔ انہوں نے مسلمانوں سے گزارش کی کہ وہ جہیز اور خلاف شرع امور اور رسوم و رواج والی شادیوں کا مکمل بائیکاٹ کریں کیونکہ جب تک ایسا نہیں ہوگا ملت کے اندر شعور پیدا نہیں ہوگا۔ قابل ذکر ہیکہ مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی صاحب نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی آسان و مسنون نکاح مہم میں امت مسلمہ سے بھر پور تعاون کرنے کی اپیل کرتے تھے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہا اور خوب دعاؤں سے نوازا۔













