Tuesday, 20 July 2021

یوم عرفہ، اللہ تعالیٰ کی پہچان اور شناخت کا دن ہے! مرکز تحفظ اسلام ہند کے ہفت روزہ کانفرنس سے مفتی محمد اشرف عباس قاسمی کا خطاب!



 یوم عرفہ، اللہ تعالیٰ کی پہچان اور شناخت کا دن ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے ہفت روزہ کانفرنس سے مفتی محمد اشرف عباس قاسمی کا خطاب!


بنگلور، 19؍ جولائی (پریس ریلیز) : مرکز تحفظ اسلام ہند کے آن لائن ہفت روزہ کانفرنس بسلسلہ عشرۂ ذی الحجہ و قربانی کی چھٹی نشست سے خطاب کرتے ہوئے ام المدارس دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث حضرت مولانا مفتی محمد اشرف عباس صاحب قاسمی نے فرمایا کہ سال کے بارہ مہینوں میں چار مہینے: محرم، رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ جس طرح بڑے احترام وعظمت والے مہینے ہیں ٹھیک اسی طرح دنوں میں چار دن: عیدین، جمعہ اور عرفہ کے دن بڑے احترام والے دن ہیں، پہر ہفتہ بھر کے دنوں میں افضل دن تو جمعہ کا ہے! لیکن سال بھر میں سب سے افضل ترین دن نو ذی الحجہ یعنی عرفہ کا دن ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ عرفہ، ماہ ذوالحجہ کے نویں دن کو کہا جاتا ہے، جس کی دین اسلام میں بہت اہمیت ہے لہٰذا اس مناسبت سے تاریخ اسلام میں کثیر تعداد میں روایات و احادیث ملتی ہیں۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ عرفہ حج کا اعظم رکن ہے۔ عرفہ کا مطلب معرفت کرانا یا پہچاننا ہے۔ یہ دین اسلام کی تکمیل اور نعتموں کے اتمام کا دن ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ عرفہ کا دن اتنا اہم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس کی قسم کھائی ہے۔ مولانا قاسمی نے ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یوم عرفہ سے زیادہ کسی اور دن میں اپنے بندوں کو آگ سے آزادی نہیں دیتا، اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کے قریب ہوتا اور پھر فرشتوں کے سامنے بندوں کے تعلق سے فخر کرتا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے دو سال کے صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں یعنی عرفہ کا روزہ گزرے ہوئے اور آنے والے سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ مولانا نے ایک اہم مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ روزہ رکھنے والے کے شہر و ملک میں 9؍ ذی الحجہ کی تاریخ جس دن پڑے گی وہ اسی دن روزہ رکھیں، ان کا عرفہ وہی دن ہوگا، کیونکہ میدان عرفات میں حجاج کے قیام کی تاریخ دنیا کے دیگر آبادی و شہر والوں کے لئے اس بابت دلیل و حجت نہیں۔ مولانا اشرف عباس قاسمی نے فرمایا کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا کہ ”عرفہ ہی حج ہے“- انہوں نے فرمایا کہ وقوفِ عرفات یعنی نویں ذی الحجہ کو ہر حاجی کا میدانِ عرفات میں پہنچنا اس کے حج کی ادایگی کے سلسلے میں سب سے بڑا رُکن ہے، جس کے بغیر حج نہیں ہوتا، چناں چہ حج کے دو رکنوں؛ طواف الافاضہ اور وقوفِ عرفات میں وقوفِ عرفات چوں کہ حج کا سب سے بڑا رکن ہے، اس لیے اگر یہ ترک ہو گیا تو حج ہی نہیں ہوگا۔ مولانا نے فرمایا کہ یہ عظیم دن ہمیں یوم حشر رب کے حضور پیشی کی فکر اور عملی تربیت بھی مہیا کرتا ہے کہ کچھ اسی طرح سے مخلوق حشر میں اپنے اعمال کی جوابدہی کیلئے اللہ کے حضور پیش ہوگی۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ یوم عرفہ، اللہ تعالیٰ کی پہچان اور شناخت کا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی عبادت اور اطاعت کی دعوت دی ہے اور اپنے بندوں کے لیے اپنے احسان وکرم اور جود و سخا کے دستر خوان بچھا دیئے ہیں، یہ دن اللہ تعالیٰ کی پہچان، معرفت اور محبت کا مظہر ہے۔ اس اعتبار سے بھی یہ دن نہایت مبارک ہے کہ اس میں حج کا سب سے بڑا رکن ”وقوف عرفہ“ ادا ہوتا ہے، اور اس دن بے شمار لوگوں کی بخشش اور مغفرت کی جاتی ہے۔ لہٰذا ہمیں اس دن روزہ، تلاوت، ذکر و استغفار کا کثرت کے ساتھ اہتمام کرنا چاہیے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث حضرت مولانا مفتی اشرف عباس صاحب قاسمی نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔

Monday, 19 July 2021

مرکز تحفظ اسلام ہند کے ہفت روزہ کانفرنس بسلسلہ عشرۂ ذی الحجہ و قربانی کا آج اختتامی اجلاس!



 مرکز تحفظ اسلام ہند کے ہفت روزہ کانفرنس بسلسلہ عشرۂ ذی الحجہ و قربانی کا آج اختتامی اجلاس!

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی ندوی کی زیر صدارت منعقد ہوگا یہ پروگرام!

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا عمرین محفوظ رحمانی، مولانا ابو طالب رحمانی بطور مہمانان خصوصی شریک ہونگے! 


بنگلور، 19؍ جولائی (پریس ریلیز) : مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام گزشتہ ایک ہفتے سے ”سلسلہ عشرۂ ذی الحجہ و قربانی“ پورے زور و شور کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ ہزاروں لوگ اس سلسلے سے استفادہ حاصل کررہے ہیں۔ اس سلسلے کی سب سے اہم کڑی ”عظیم الشان آن لائن ہفت روزہ کانفرنس بسلسلہ عشرۂ ذی الحجہ و قربانی“ ہے۔ جو روزانہ رات بعد نماز عشاء منعقد ہوتی ہے۔ اس کانفرنس سے اب تک ملک کے مختلف اکابر علماء کرام خطاب فرما چکے ہیں۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب اس کانفرنس کا اختتامی پروگرام آج بروز پیر بتاریخ 19؍ جولائی 2021ء رات 8:45 بجے منعقد ہونے جارہا ہے۔ انہوں تفصیلات بتاتے ہوئے فرمایا کہ اختتامی پروگرام کی صدارت عالم اسلام کی مایہ ناز شخصیت مرشد الامت حضرت اقدس مولانا سید محمد رابع حسنی صاحب ندوی دامت برکاتہم (صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و ناظم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ) فرمائیں گے اور انہیں کے خطاب و دعا سے یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوگا۔ علاوہ ازیں اس عظیم الشان اختتامی پروگرام میں بطور مہمان خصوصی فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی مدظلہ (کارگزار جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و ناظم المعھد العالی الاسلامی حیدرآباد)، شیخ طریقت حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ صاحب رحمانی مدظلہ (سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و سرپرست مرکز تحفظ اسلام ہند)، خطیب بے باک حضرت مولانا ابو طالب صاحب رحمانی مدظلہ (رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) شریک رہیں گے اور کانفرنس سے خطاب بھی فرمائیں گے۔ مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے برادران اسلام سے گزارش کی کہ وہ آن لائن ہفت روزہ کانفرنس کی اس عظیم الشان اختتامی نشست میں کثیر تعداد میں شرکت فرماکر حضرات اکابرین کے خطابات سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔ قابل ذکر ہیکہ یہ کانفرنس مرکز تحفظ اسلام ہند کے آفیشیل یوٹیوب چینل اور فیس بک پیج تحفظ اسلام میڈیا سروس پر براہ راست نشر کیا جائے گا۔

Sunday, 18 July 2021

قربانی حصول تقویٰ و تقرب الٰہی کا انتہائی مستند اور مفید ذریعہ ہے!



 قربانی حصول تقویٰ و تقرب الٰہی کا انتہائی مستند اور مفید ذریعہ ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے آن لائن ہفت روزہ کانفرنس سے مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی کا خطاب!


 بنگلور، 17؍ جولائی (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے آن لائن ہفت روزہ کانفرنس بسلسلہ عشرۂ ذی الحجہ و قربانی کی پانچویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ اسلامیہ مسیح العلوم بنگلور کے بانی، مہتمم و شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی صاحب نے فرمایا کہ قرب الٰہی کے حصول کیلئے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت ضروری ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، قربانی اور دیگر اعمال صالحہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل ہوتی ہے۔ بالخصوص قربانی اللہ تعالیٰ کے تقرب کا انتہائی مستند اور مفید ذریعہ ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی بارگاہ الٰہی میں تقرب حاصل کرنے کے لیے ہی اپنے لخت جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی پیش کی تھی، جس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں قبول فرمانے کے بعد عظیم بشارت سے سرفراز کیا اور یہ ادا اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند آئی کہ رہتی دنیا تک اس کو برقرار رکھا۔مولانا نے فرمایا کہ قربانی ایک عظیم عبادت اور اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ایک بہترین ذریعہ ہے جو قدیم زمانے سے چلی آرہی ہے، قرآن کہتا ہے: ”ہر امت کیلئے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کردیا ہے تاکہ اس امت کے لوگ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جواس نے ان کو بخشے ہیں۔“ مولانا نے فرمایا کہ ایک مرتبہ صحابہ کرامؓ نے نبی اکرم ؐسے پوچھا: ”یا رسول اللہؐ! یہ قربانی کیاچیز ہے؟“ آپ نے ارشاد فرمایا: ”یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔“ پھر انہوں نے عرض کیا ”یا رسول اللہؐ! ہمارے لیے ان میں کیا اجر ہے؟“ آپؐ نے فرمایا کہ”قربانی کے جانور کیہر ہر بال کے عوض ایک نیکی ہے۔“ مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی نے فرمایا کہ انسانی زندگی کا مقصد اطاعت الٰہی ہے، جو تقرب الٰہی اور کیفیت تقویٰ کے بغیر ممکن نہیں اور یہ تقرب الٰہی، کیفیت تقویٰ کے بغیر حاصل نہیں ہوتی لہٰذا اطاعت کیلئے قربانی ضروری ہے۔ مولانا نے قرآن مجید کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے پاس نہ ہمارے قربانی کے جانوروں کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ خون بلکہ ہمارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ اس آیت کریمہ سے یہ واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مقصود ان جانوروں کا خون یا ان کا گوشت نہیں بلکہ وہ اپنے بندوں کا تقویٰ دیکھنا چاہتا ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر کس قدر یقین رکھتے ہیں؟ اس کے احکام کی کس قدر پابندی کرتے ہیں اور کس طرح وقت ضرورت قربانی پیش کرنے کو تیار رہتے ہیں؟ مولانا نے فرمایا کہ تقویٰ کی صفت اللہ تعالیٰ کو بے حد محبوب ہے، اسی صفت سے انسان نیک اعمال کو ترجیح دے کر انہیں اختیار کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی عمل کو تقویٰ کی صفت کے ساتھ انجام دیتا ہے تووہ خالصۃً للہ ہوتا ہے۔ اس میں ریا کا شائبہ نہیں ہوتا۔ مولانا مفتاحی نے فرمایا کہ عیدالاضحی کا مقصد بھی جذبہئ قربانی کو بیدار کرنا اور اپنی عزیز سے عزیز تر چیز کو حکم ربانی کے مطابق رضائے الٰہی کے حصول میں قربان کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا یہی قربانی ہے۔ اس سے ان کو یہ سبق ملتا ہے کہ اپنی مقصد ِزندگی کے تمام شعبوں میں اپنی خواہشات پر رب کائنات کی مرضیات کو ترجیح دے۔ یہ دراصل انسان کی عملی زندگی کا ایک امتحان ہے، جس سے اسکے اندرنکھار اور حسن پیدا ہوتا ہے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔

قربانی شعائر اسلام میں سے ہے اور ہر صاحب نصاب کی طرف سے الگ الگ قربانی دینا لازم اور واجب ہے!



 قربانی شعائر اسلام میں سے ہے اور ہر صاحب نصاب کی طرف سے الگ الگ قربانی دینا لازم اور واجب ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے آن لائن ہفت روزہ کانفرنس سے مفتی محمد شفیق احمد قاسمی کا خطاب!


 بنگلور، 17؍ جولائی (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد آن لائن ہفت روزہ کانفرنس بسلسلہ عشرۂ ذی الحجہ و قربانی کی چوتھی نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ امام ابوحنیفہ بنگلور کے مہتمم اور دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ حضرت مولانا مفتی محمد شفیق احمد قاسمی صاحب نے فرمایا کہ ماہ ذی الحجہ کا ابتدائی عشرہ اسلام میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ بالخصوص قربانی کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے اس ماہ ذی الحجہ کو بڑی فضیلت سے نوازا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ قربانی ایک اہم عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے۔ اور ہر صاحبِ نصاب عاقل بالغ مسلمان کے ذمہ قربانی کرنا واجب ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر ایک گھر میں متعدد صاحبِ نصاب افراد ہوں تو ایک قربانی سارے گھر والوں کی طرف سے کافی نہیں ہوگی، بلکہ گھر میں رہنے والے ہر صاحبِ نصاب شخص پر الگ الگ قربانی کرنا لازم ہوگی۔ کیوں کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص صاحبِ حیثیت ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر صاحبِ نصاب پر مستقل علیحدہ قربانی کرنا واجب ہے۔ مولانا قاسمی نے متعدد احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہﷺ کا عمل مبارک بھی یہ تھا کہ آپؐ اپنی قربانی الگ فرمایا کرتے تھے اور ازواجِ مطہرات کی طرف سے الگ قربانی فرمایا کرتے تھے، اور آپؐ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓکی قربانی مستقل طور پر ہوتی تھی، چنانچہ اس سے بھی پتا چلتا ہے کہ ایک قربانی سارے گھر والوں کی طرف سے کافی نہیں ہے۔ مفتی شفیق احمد قاسمی نے فرمایا کہ حضور ؐ کے زمانہ میں غربت عام ہونے کی وجہ سے بعض اوقات ایک گھر کے اندر ایک ہی شخص صاحبِ نصاب ہوتا تھا، اس وجہ سے پورے گھر میں ایک ہی شخص کے ذمہ قربانی واجب ہوتی تھی، باقی لوگوں کے ذمہ صاحبِ نصاب نہ ہونے کی وجہ سے قربانی واجب ہی نہ ہوتی تھی، اس لیے پورے گھر میں سے صرف ایک ہی آدمی قربانی کیا کرتا تھا، لیکن قربانی کرنے والا اپنے گھر کے تمام افراد کو اس قربانی کے ثواب میں شریک کرلیتا تھا۔ مولانا نے حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر کوئی آدمی اپنی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرے اور اس کے ثواب میں اپنے ساتھ سارے گھر والوں کو شریک کر لے تو یہ جائز ہے، اس کی نظیر یہ ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ؐ نے ایک مینڈھا اپنی طرف سے قربان فرمایا اور دوسرا مینڈھا قربان کر کے فرمایا کہ یہ قربانی اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے کر رہا ہوں جو قربانی نہ کرسکیں۔ مولانا نے فرمایا کہ اس حدیث سے یہ مطلب لینا قطعاً درست نہیں ہوگا کہ چوں کہ آپؐ نے اپنی امت کی طرف سے ایک مینڈھا قربان فرمادیا اس لیے اب امت کے ذمہ سے قربانی ساقط ہوگئی، بلکہ مطلب یہ ہوگا کہ آپؐ نے ثواب میں ساری امت کو اپنے ساتھ شریک کرلیا۔ مفتی صاحب نے اس مسئلہ پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اگر ایک بکری پورے گھر والوں کی طرف سے کافی ہوتی تو جن حدیثوں میں بڑے جانور گائے، اونٹ، وغیرہ کو سات کی طرف سے متعین کیا گیا ہے، اس کے کیا معنی ہوں گے؟ کیوں کہ نصوص کی روشنی میں یہ بات متفق علیہ ہے کہ ایک بکری گائے کے ساتویں حصے کے برابر ہے، لہٰذا اگر ایک گائے میں آٹھ آدمی شریک ہوجائیں تو بمقتضائے تحدید کسی کی بھی قربانی جائز نہیں ہوگی، ورنہ تحدید بے کار ہو جائے گی۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر ایک گھر میں مثلاً دس افراد صاحبِ نصاب ہوں تب بھی ایک بکری گھر کے تمام دس افراد کی طرف سے کافی ہوجائے اور سب کی قربانی ادا ہو جائے تو یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک بکری تو دس افراد کی طرف سے کافی ہو جائے اور ایک گائے آٹھ افراد کی طرف سے کافی نہ ہو، اور اگر یہ کہا جائے کہ گائے کا ساتواں حصہ سارے گھر والوں کی طرف سے کافی ہوجائے گا تو پھر تو ایک گائے کے اندر صرف سات افراد نہیں بلکہ ساٹھ، ستر افراد کی قربانی ہو سکے گی جو کہ واضح طور پر نصوص کے خلاف ہے۔ مفتی شفیق احمد قاسمی نے فرمایا کہ خلاصہ یہ ہے کہ گھر میں متعدد صاحبِ نصاب افراد ہونے کی صورت میں تمام گھر والوں کی طرف سے ایک قربانی کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ گھر کے ہر صاحبِ نصاب فرد پر اپنی اپنی قربانی کرنا واجب اور لازم ہے، گھر کے کسی ایک فرد کے قربانی کرنے سے باقی افراد کے ذمہ سے واجب قربانی ساقط نہیں ہوگی۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ حضرت مولانا مفتی محمد شفیق احمد قاسمی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔

Saturday, 17 July 2021

عشرۂ ذی الحجہ میں عبادت کا اہتمام کریں، قربانی شعائر اسلام میں سے ہے!



 عشرۂ ذی الحجہ میں عبادت کا اہتمام کریں، قربانی شعائر اسلام میں سے ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے آن لائن ہفت روزہ کانفرنس سے مولانا سید احمد ومیض ندوی نقشبندی کا خطاب!


 بنگلور، 16؍ جولائی (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام آن لائن ہفت روزہ کانفرنس بسلسلہ عشرۂ ذی الحجہ و قربانی کی تیسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم حیدرآباد کے استاذ حدیث پیر طریقت حضرت مولانا سید احمد ومیض ندوی نقشبندی صاحب نے فرمایا کہ قمری کیلنڈر کا آخری مہینہ ذی الحجہ حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ذی الحجہ کے ان دس راتوں کی قسم کھائی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا کسی شے کی قسم کھانا اس کی عظمت و فضیلت کی واضح دلیل ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ماہ ذی الحجہ کا ابتدائی عشرہ اسلام میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دنوں کو سب سے اعلیٰ و افضل قرار دیا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ذی الحجہ کے دس دنوں میں اللہ تعالیٰ کو نیک عمل جتنا محبوب ہے اس کے علاوہ دیگر دنوں میں نہیں۔ مولانا نے ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ ”اور دنوں میں بندے کا عبادت کرنا اللہ تعالیٰ کو اتنا محبوب نہیں جتنا ذوالحجہ کے عشرہ میں محبوب ہے، اس عشرہ کے ہر دن کا روزہ سال بھرکے روزوں کے برابر اور اس کی ہر رات کے نوافل شب قدر کے نوافل کے برابر ہیں“۔مولانا نقشبندی نے فرمایا کہ حج جیسی عظیم عبادت بھی اسی عشرہ میں انجام دی جاتی ہے۔ اور حج کے بعد مسلمانوں کی دوسری بڑی عید، عید الاضحی بھی ماہ ذی الحجہ کی دس تاریخ کو ہوتی ہے۔ نیز قربانی جیسا عظیم عمل بھی اسی مہینے میں انجام دیا جاتا ہے۔مولانا احمد ومیض ندوی نے فرمایا کہ یوں تو ذی الحجہ کا پورا مہینہ ہی قابل احترام ہے لیکن اس کے ابتدائی دس دن تو بہت ہی فضیلت اور عظمت والے ہیں، جن میں بڑی بڑی عبادتیں جمع ہوجاتی ہیں یعنی نماز، روزہ، حج اور قربانی۔ ان تمام خصوصیات کی بناہ پر ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کی اہمیت اور افضلیت دو چند ہوجاتی ہے۔ یہ ایام اخروی کامیابی حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے، ہمیں ان بابرکت ایام میں بڑھ چڑھ کر نیک اعمال کرنا چاہیے، بالخصوص ذکر اللہ کی کثرت، نفلی روزے، رات کا قیام، نوافل کا اہتمام، تلاوت قرآن، صدقہئ و خیرات، عرفہ کا روزہ اور قربانی کا اہتمام کرنا چاہئے۔ مولانا نے قربانی پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ قربانی ایک عظیم عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے، جو ہر ایسے عاقل و بالغ، مقیم، مسلمان مرد و عورت پر واجب ہے جو قربانی کے دنوں میں گھرکے ضروری ساز وسامان کے علاوہ ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اسکی مالیت کا مالک ہو۔ مولانا نے فرمایا کہ کا مقصد حصول تقوی ہے یعنی قربانی نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ کیا جائے، نام و نمود، شہرت، ریاکاری، اور دکھلاوا سے بالکلیہ اجتناب کیا جائے، ورنہ قربانی کا جو ثواب ہے اس سے محرومی مقدر ہے۔ بہت سارے لوگ جانوروں کی خریداری میں تقابلی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں اور نمائش کے لئے لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں جو قطعاً درست نہیں، لہٰذا اس سے بچا جائے۔ اسی کے ساتھ قربانی کے موقع پر ہمیں پاکی صفائی کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر پیر طریقت حضرت مولانا سید احمد ندوی نقشبندی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔