Friday, 2 December 2022

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے امیر الاحرار مولانا عثمان لدھیانوی کا خطاب!

 عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان کا اولین ایمانی فریضہ ہے اور قادیانیت انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے! 

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے امیر الاحرار مولانا عثمان لدھیانوی کا خطاب!





بنگلور، 02؍ ڈسمبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی چودھویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سابق سرپرست اعلیٰ قائد الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانویؒ کے جانشین اور مجلس احرار اسلام ہند کے قومی صدر و پنجاب کے شاہی امام حضرت مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ عقیدۂ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، جس طرح اللہ کی توحید یعنی وحدانیت پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان لانا ضروری ہے کیونکہ آپ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی و رسول ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے انبیاء علیہم السلام دنیا میں آئے ان کی نبوت علاقہ، قوم اور وقت کے لحاظ سے محدود تھی۔ لیکن آپؐ صرف اپنے ملک، اپنے زمانے اور اپنی قوم کے لیے ہی نہیں بلکہ آپؐ قیامت تک پوری نوع انسانی کے لیے نبی مبعوث فرمائے گئے، کیونکہ آپؐ پر نبوت کا دروازہ ہمیشہ ہمیش کیلئے بند کردیا گیا، اب آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، اب قیامت تک آپؐ ہی کی شریعت مطہرہ کا سکہ چلے گا۔ مولانا لدھیانوی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے معاشرہ بت پرستی، قتل و غارت، قبائلی رقابتوں، کمزوروں پر ظلم، فحاشی، بدکاری، بچیوں کو زندہ دفن کرنے، غلاموں اور عورتوں کو حقوق نہ دینے، خیانت جیسی اخلاقی، سماجی اور معاشی برائیوں کی غلاظت میں لتھڑا ہوا تھا۔ ایسے میں اللہ کے پیارے نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دین حنیف کے داعی اور مبلغ بن کر مبعوث ہوئے۔ آپؐ نے بندوں کو توحید کی دعوت دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا، ان کی تخلیق کا حقیقی مقصد یاد دلایا، برائیوں کو چھوڑ کر حسن اخلاق کا پیکر بننے کا درس دیا، معاشرے میں امن و سکون قائم کرنے کا طریقہ ئکار دیا، مساوات کا حقیقی تصور دیا، معاشرے کے پسے ہوئے طبقوں بالخصوص غلاموں اور عورتوں کو جینے کا حق دلایا، رب العالمین کی نافرمانی کرنے والے غافلوں کو جہنم کی طرف جانے سے روک کر راہِ جنت پر چلایا۔ مولانا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جیسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا تو جو لوگ آپؐ کی سچائی، امانت داری، وعدے کی پاسداری، خوش اخلاقی و دیگر اوصاف کا کل تک اعتراف کیا کرتے تھے آج اعلان نبوت کے بعد آپؐ کے دشمن بن گئے کیونکہ انہیں اپنے ظلم و ستم، جھوٹ و فریب اور دھوکہ بازی اور دیگر برائیوں اور کفریہ عقائد کی دکانیں بند ہوتی نظر آرہی تھیں۔ مولانا نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقصد رسالت کی تکمیل سے روکنے کے لئے جسمانی، مالی، سماجی اور نفسیاتی قسم کی رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دیں، لیکن وہ کبھی کامیاب نہ ہوسکے۔ یہی وجہ ہیکہ جب دشمنانِ اسلام نے اپنی ہر سازشیں اور حربے ناکام ہوتے دیکھا تو اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمانوں کا مقابلہ کرنا اور انکا خاتمہ کرنا ناممکن ہے کیونکہ مسلمان اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو محبت وعقیدت رکھتے ہیں، اس نے ہی انہیں ایک امت واحدہ بنا رکھا ہے۔ لہٰذا مسلمان جسکی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں اور جس کو اپنا مرکز سمجھتے انہیں کی شخصیت کو اگر مشکوک بنایا دیا جائے تو ہم کچھ حد تک اپنی سازشوں میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اس کیلئے انہوں نے مسلمانوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق کو ختم کرنے یا کمزور کرنے کے لیے نیز آپؐ کی نبوت و رسالت اور ختم نبوت کو مشکوک بنانے کیلئے آپؐ پر لایعنی اعتراضات اور الزامات کی بوچھاڑ کرنے لگے اور ایسے لوگوں کو تیار کیا جنہوں نے اپنی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرتے ہوئے تاج ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے کی کوششیں کی اور کررہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ اتنی سازشوں کے باوجود تاریخ شاہد ہیکہ دشمنانِ اسلام بالخصوص جھوٹے مدعیان نبوت و منکرین ختم نبوت نہ کبھی اپنے مکر و فریب اور جال سازی و دھوکہ بازی میں کامیاب ہوئے اور نہ کبھی مسلمانوں نے انہیں تسلیم کیا بلکہ ہمیشہ ختم نبوت کے محافظوں نے ان ملعون و کذابوں کو انکے انجام تک پہنچایا۔ شاہی امام مولانا لدھیانوی نے فرمایا اس صدی میں مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کے پیچھے بھی وہی مقصد تھا۔ انہوں نے تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزا قادیانی انگریز کا خود کاشتہ پودا تھا۔ لیکن اس کو پروان چڑھانے میں انگریزوں کا سب سے بڑا مقصد مسلمانوں کے اندر سے روحِ محمد ﷺ نکالنا اور ان میں شعلہ جوالہ کی طرح گرم جذبۂ جہاد کو سرد کرنا تھا۔ کیونکہ برصغیر پر انگریزوں کے مکمل تسلط کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قومِ رسول ؐکے اس جذبۂ جہاد نے کھڑی کی تھی۔ لہٰذا انگریز کو ایسے مکار مگر اپنے ساتھ وفادار شخص کی ضرورت تھی جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر کے مسلمانوں کو انگریز حکومت کی اطاعت کا درس دے اور جہاد کو حرام کہے اور یہ سب کچھ اللہ کا حکم بتا کر مسلمانوں میں پھیلائے۔ اس منصوبہ کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے اور اس کے تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد انگریزوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا نبی بنا کر پیش کیا تھا۔ جس نے برطانوی حکومت کے استحکام اور عملداری کے تحفظات میں الہامات کا ڈھونگ رچایا، اسکے نزدیک تاج برطانیہ کے مراسلات، وحی کا درجہ رکھتی تھیں اور وہ ملکہ معظمہ کے لیے رطب اللسان تھا، برطانوی حکومت کی قصیدہ گوئی اور مدح سرائی مرزا قادیانی کی نبوت کا دیباچہ تھی۔ مولانا نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کا مسیلمہ کذاب سے لیکر اس دور کے مزار قادیانی اور دیگر جھوٹے مدعیان نبوت و منکرین ختم نبوت کی سرکوبی اور ختم نبوت کی حفاظت کے لیے امت مسلمہ نے لازوال قربانیوں کی ایسی داستان رقم کی ہے جو تاریخ حق کے انمول باب کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ امیر الاحرار نے فرمایا کہ عقیدۂ ختم نبوت امت مسلمہ کا اجتماعی عقیدہ ہے جس پر شروع سے لے کر آج تک کسی کا اختلاف نہیں اور یہ کوئی متنازعہ یا اختلافی مسئلہ بھی نہیں بلکہ عقیدہ ختم نبوت جان ایمان ہے، جو برحق ہے۔ مولانا لدھیانوی نے دوٹوک فرمایا کہ اسلام کی چودہ سو سال کی تاریخ گواہ ہے تمام فتنوں سے مباحثہ، مجادلہ، مناظرہ و مباہلہ وغیرہ ہوئے۔ لیکن جھوٹے نبیوں سے تو گفتگو اور دلائل مانگنے کی بھی شریعت نے اجازت نہیں دی۔ چنانچہ امت کی ساڑھے چودہ سو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی کسی اسلامی حکومت میں کسی شخص نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تو امت نے اس سے دلائل و معجزات مانگنے کی بجائے اس کے وجود سے ہی اللہ تعالیٰ کی دھرتی کو پاک کردیا۔ ہمارے اسلاف بھی مناظرہ کے قائل نہیں تھے اور ہم بھی اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مناظرے کے قائل نہیں اور نہ ہی ہماری جماعت مجلس احرار اسلام ہند مناظرہ کے قائل ہے۔ احرار کا دو ٹوک موقف ہیکہ گمراہ لوگوں سے مناظرہ نہیں کیا جاتا۔ اور مناظرہ اختلافی مسائل پر کیا جاتا ہے اور عقیدہ ختم نبوت کوئی اختلافی مسئلہ نہیں ہے۔اور جھوٹے مدعی نبوت اور پیروکاروں کا وہی علاج ہے جو صدیق اکبرؓ نے اپنے عہد زرین میں مسیلمہ کذاب کا یمامہ کے میدان میں کیا تھا۔ مولانا نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ خاتم النبیین تھے، خاتم النبیین ہیں اور خاتم النبیین رہیں گے، آپؐ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا، اس بات میں کوئی دورائے نہیں ہے، اور دنیا کی کوئی طاقت اس فیصلہ کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ مولانا نے فرمایا کہ عقیدۂ ختم نبوت ہر امتی کو جان سے بھی پیارا ہے۔ یہ اسلام کا ایسا لازم رکن ہے جسکے بغیر مسلمان کا ایمان کبھی مکمل نہیں ہو سکتا، یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس پر تمام مسالک اور فرقے متفق ہیں کہ سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم آخری نبی ہیں اور آپ ؐ کوآخری نبی نہ ماننے والا یقینی طور پر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ لہٰذا عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کا کام کرنا ہر مسلمان کا اولین ایمانی فریضہ ہے۔ مولانا لدھیانوی نے فرمایا کہ ضرورت اس بات کی ہیکہ ہم فتنۂ قادیانیت کے دجل و فریب اور ان کے کفریہ عقائد و نظریات کو بے نقاب کرنے، امت مسلمہ بالخصوص نسلِ نو کی ایمان کی حفاظت کیلئے اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے متحد ہوکر عملی اقدامات کریں۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع امیر الاحرار حضرت مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ خوب دعاؤں  سے نوازا۔


#Press_Release #News #khatmenabuwat #ProphetMuhammad #FinalityOfProphethood #LastMessenger #MTIH #TIMS 

منکرین ختم نبوت سوشل میڈیا پر مسلمانوں کا ایمان خراب کررہے ہیں، تحفظ ختم نبوت کیلئے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال وقت کا تقاضا ہے!

 منکرین ختم نبوت سوشل میڈیا پر مسلمانوں کا ایمان خراب کررہے ہیں، تحفظ ختم نبوت کیلئے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال وقت کا تقاضا ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مفتی افتخار احمد قاسمی کا خطاب!



بنگلور، یکم ڈسمبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی تیرہویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر خادم القرآن حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ دنیا میں جتنے انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے ان پر ایمان لانے کیلئے ضروری تھا کہ انکی نبوت کا اقرار کیا جائے لیکن حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کیلئے یہ ضروری اور لازم ہیکہ صرف آپؐ کو نبی نہیں بلکہ آخری نبی ماننا جائے، یہ ایمان کی بنیاد ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ایمان کی تکمیل کے لیے جس طرح اللہ تعالیٰ کو معبود ماننے کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اُس کے علاوہ کسی کو حقیقی معبود نہ مانے، اسی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی و رسول ماننے کے ساتھ ساتھ یہ ماننا بھی ضروری ہے کہ آپؐ اللہ کے آخری رسول و نبی ہیں۔ آپؐ کے آخری نبی ہونے کا بیان قرآن و احادیث میں بہت کثرت اور و وضاحت سے آیا ہے، جس میں کسی قسم کی نہ تاویل کی گنجائش ہے اور نہ انکار کی۔ اس مسئلے میں ہر دور کے مسلمانوں کا اجماع رہا ہے بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا جس مسئلے پر سب سے پہلے اجماع ہوا وہ بھی یہی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ افسوس کہ اس بنیادی عقیدہ سے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے کا سلسلہ دور نبوی سے چلا آرہا ہے اور تاقیامت چلتا رہے گا۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں حالاں کہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں۔“ مولانا نے فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام قرب قیامت ضرور تشریف لائیں گے لیکن وہ بطور حاکم عادل تشریف لائیں گے اور حضورﷺ کی ہی شریعت پر عمل پیرا ہونگے۔ مولانا نے فرمایا کہ بعض لوگ سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کیلئے نبوت کی تقسیم بیان کرتے ہیں اور طرح طرح کی تاویلات پیش کرتے ہیں، جبکہ یہ ساری تاویلات باطلہ ہیں، کیونکہ اسلام میں نبوت و رسالت کی کسی قسم کی تقسیم نہیں ہے مثلاً ظلی نبی، بروزی نبی، تشریعی نبی یا غیر تشریعی نبی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی آخری نبی و آخری رسول ہیں۔ آپؐ پر نبوت و رسالت کا دروازہ ہمیشہ ہمیش کیلئے بند کردیا گیا ہے، آپؐ کے بعد کوئی نیا نبی قطعاً نہیں آسکتا۔ یہی امت مسلمہ کا اجماعی عقیدہ ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ آپؐ کے بعد آنے والے متعدد کذابوں میں سے ایک جھوٹا اور کذاب مرزا غلام احمد قادیانی ہے، جو اس صدی کا سب سے بڑا فتنہ ”قادیانیت کے فتنے“ کا بانی ہے، جس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور شریعت کی روشنی میں کذاب، مردود اور دائرہ اسلام سے خارج ٹھہرا۔ لیکن افسوس کے اس کے مکر و فریب اور جال کا بہت سارے لوگ شکار ہوگئے اور گمراہ ہوتے چلے گئے۔ مولانا نے فرمایا کہ آج کل جھوٹے مدعیان نبوت و منکرین ختم نبوت کے فتنے جدید ذرائع ابلاغ سوشل میڈیا کے ذریعے سے بڑی تیزی سے پھیل رہے ہیں، سوشل میڈیا پر ہزاروں کی تعداد میں ویب سائٹ، کتابیں، رسائل، تقاریر، ویڈیو، آڈیوز، پمفلٹ وغیرہ جو ظاہراً اسلامی معلوم ہوتے ہیں درحقیقت وہ ساری چیزیں ان گمراہ کن نظریات کے حامل لوگوں کی جانب سے اپلوڈ ہوئے رہتے ہیں، جو بہت باریک بنی سے ان مواد کے ذریعے اپنے گمراہ کن نظریات کو فروغ دیتے ہیں اور افسوس کے ہمارے مسلمان بالخصوص نوجوان نسل اسی سوشل میڈیا سے دین سیکھتی ہے اور سمجھنے کی کوشش کرتی ہے، جس سے نہ صرف انکے عقائد خراب ہورہے ہیں بلکہ وہ گمراہی کا شکار ہوکر بعض دفعہ انجانے میں دائرہ اسلام سے خارج ہوتے جارہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ اسلام کے مختلف مسائل بالخصوص اسلامی عقائد پر معلومات حاصل کرنے کیلئے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مقامی علماء سے رجوع کریں اور دین  کو سوشل میڈیا کے بجائے علماء سے سیکھیں۔ مولانا نے فرمایا کہ اسی کے ساتھ ہمیں جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے ختم نبوت اور ناموس رسالت کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ قادیانی اور دیگر منکرین ختم نبوت سوشل میڈیا پر مسلمانوں کا ایمان خراب کررہے ہیں۔ اس محاذ پر کام کرنے کی اشد ضرورت اور مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کرنا انتہائی اہم ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ جہاں ابلاغ کے ذرائع وقت کی ضرورت کے مطابق استعمال ضروری ہے وہاں عالمی سطح پر جس طرح میڈیا وار جاری ہے اور اسلام، حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس و حرمت، ختم نبوت اور اسلامی تعلیمات و روایات جس طرح بین الاقوامی پروپیگنڈے اور کردار کشی کے ہتھیاروں کی زد میں ہیں، اس حوالہ سے ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ سوشل میڈیا کو نظر انداز کرنے کے بجائے اس میں پوری قوت کے ساتھ شریک ہوں اور اس محاذ پر اسلام کے مختلف شعبوں بالخصوص عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے بھی کام کیا جائے اور یہ محاذ بھی خالی نہ چھوڑا جائے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرب قیامت فتنے بارش کے قطروں کی طرح پے در پے ظاہر ہونگے۔ انہوں نے فرمایا کہ آج کے حالات کو دیکھ کر یہی محسوس ہوتا ہیکہ فتنوں کا دور شروع ہوچکا ہے، مولانا نے فرمایا کہ ایک فتنے تو وہ ہیں جس سے دنیا خراب ہوتی ہے اور ایک فتنے وہ ہیں جس سے آخرت خراب ہوتی ہے، یعنی ان فتنوں کی وجہ سے ہمارا ایمان خراب ہوتا ہے۔ اور جھوٹے مدعیان نبوت و منکرین ختم نبوت کا فتنہ وہی ہے جس سے ہمارا ایمان اور آخرت خراب ہورہا ہے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ شیطان اور اسکی ذریت نے آدم علیہ السلام کی اولادوں کو گمراہ کرنے اور جہنم میں لے جانے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے اور وہ اسی کام میں لگے ہوئے ہیں لیکن افسوس کہ ہم اپنی ذمہ داری سے غافل ہیں، ہماری ذمہ داری تھی کہ ہم اپنی اور اپنے اہل و عیال اور اطراف و اکناف کے لوگوں کے ایمان کی حفاظت کرتے لیکن افسوس کہ نہ ہم اپنی اورنہ ہی دوسروں کے ایمان کی حفاظت کرپارہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ آج ضرورت ہیکہ ہم ختم نبوت کے پیغام کو گھر گھر تک پہنچائیں تاکہ مسلمان کا ہر ایک بچہ ختم نبوت کے عقیدہ سے واقف ہوجائے، اور جہاں کہیں بھی جھوٹے مدعیان نبوت و منکرین ختم نبوت یا مسیحیت و مہدویت کے جھوٹے دعویدار پیدا ہوں وہاں مسلمان فوراً حرکت میں آجائیں اور پوری طاقت کے ساتھ اسکا رد و تعاقب کریں۔ اس کیلئے ضروری ہیکہ ہم علماء و الصلحاء اور مساجد و مدارس سے اپنا رشتہ مضبوط رکیں، دینی پروگرامات، جلسے و جلوس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، گھروں میں عقائد کی کتابوں کی تعلیم کریں، ختم نبوت کے عقیدہ کو خود سمجھیں اور دوسروں کو بھی سمجھائیں کیونکہ ہماری کامیابی و کامرانی اسی میں ہیکہ ہمارا خاتمہ حالات ایمان میں ہو کیونکہ ایمان ہی آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے اور عقیدہئ ختم نبوت جان ایمان ہے۔ قابل ذکر ہیکہ یہ پندرہ روزہ ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی بارہویں نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مرکز کے رکن شوریٰ حافظ محمد عمران کی نعتیہ کلام سے ہوا۔ جبکہ کانفرنس میں مرکز کے رکن محمد عمران خان خصوصی طور پر شریک تھے۔ اس موقع پر سرپرست مرکز حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے حضرت والا اور تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب کی دعا سے کانفرنس کی یہ نشست اختتام پذیر ہوئی۔


#Press_Release #News #khatmenabuwat #ProphetMuhammad #FinalityOfProphethood #LastMessenger #MTIH #TIMS

Tuesday, 29 November 2022

عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کیلئے مسلمان ہمہ وقت تیار رہیں

 ”عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کیلئے مسلمان ہمہ وقت تیار رہیں!“



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی کا خطاب!


 بنگلور، 29؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی بارہویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب مدظلہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دنیا میں آخری نبی و رسول بنا کر مبعوث فرمایا، آپؐ تمام انبیاء کرام اور جمیع مخلوقات سے افضل ہیں۔ آپﷺ نہ صرف نبی و رسول ہیں بلکہ خاتم النبیین اور خاتم المرسلین ہیں اور یہ شرف فقط آپؐ کو ہی حاصل ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“ مولانا نے فرمایا کہ تاج ختم نبوت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ہی انوکھی اور یکتا شان ہے، جو اور کسی بھی نبی و رسول کو عطا نہ ہوئی، آپؐ کو انبیائے کرام علیہ السلام پر جن چیزوں سے فضیلت دی گئی، ان میں سے ایک آپؐ کا ”خاتم النبیین“ ہونا ہے۔ مولانا رحمانی نے فرمایا کہ ’خاتم النبیین‘ رسول اللہﷺ کا بہت ہی عظیم اور خاص وصف و لقب و منصب ہے۔ اس کے معنیٰ و مفہوم بالکل واضح و ظاہر ہیں کہ سب نبیوں سے آخری، نبیوں کا سلسلہ ختم کرنے والے، سب سے آخری نبی، سلسلۂ نبوت پر مہر لگا کر بند کردینے والے۔ یہی معنیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔ لہٰذا جھوٹ مدعیان نبوت و منکرین ختم نبوت مثلاً قادیانیت، شکیلیت، گوہر شاہیت، احمد عیسیٰ وغیرہ جو ”خاتم النبیین“ کے معنیٰ میں طرح طرح کی بے بنیاد، جھوٹی اور دھوکا پر مبنی تاویلات فاسدہ کرتے ہیں درحقیقت وہ قرآن و احادیث اور اجماع صحابہ و اجماع امت کے خلاف ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ آخری میں تشریف لائے اور ختم نبوت کا تاج انہیں پہنایا گیا، اب انکے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور کوئی شریعت بھی نہیں آئے گی کیونکہ دین اب مکمل ہوچکا ہے۔ سرپرست مرکز نے احادیث کی روشنی میں فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت و رسالت کا سلسلہ مکمل، اس آخری امت پر امت کا سلسلہ مکمل اور آسمانی صحائف کے نزول کا سلسلہ بھی مکمل ہو گیا ہے۔ لہٰذا صدیوں سے دین اسلام مکمل اور محفوظ ہے۔ اس میں کوئی ردوبدل کی گنجائش نہیں، نہ ہی اس دین میں کوئی کمی کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی اضافہ کی گنجائش ہے۔ قیامت تک ہر زمان و مکان کیلئے یہ دین یوں ہی رہے گا جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے ذریعے اسے تکمیل کو پہنچایا اور محفوظ حالت میں رکھا ہوا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اس دین کی تکمیل خاتم الانبیاء ﷺ پر ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آخری ہدایت کو اسلام سے تعبیر فرما کر اس کا بھی اعلان کردیا کہ اب قیامت تک اس دین اسلام کے سوا کوئی اور دین اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں، اور یہ کہ انسانی نجات کے لیے صرف یہی ایک راستہ متعین ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اسلام دین کامل اور جامع دین ہے۔ دین اسلام نے زندگی گزارنے کے جتنے گوشے ممکن ہوسکتے تھے، ان سب کے لئے کچھ اصول، کچھ قوانین، اور کچھ ضابطے بیان کرکے انسان کو دوسرے طور طریقوں سے بے نیاز کردیا۔ مولانا نے فرمایا کہ قرآن میں اصول دین کو پوری وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ تمہارے لئے اللہ کے رسولﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ لہٰذا زندگی کے نشیب و فراز میں اور زندگی کے ہر ہر موڑ پر آنحضرتﷺ کی ذات اقدس ایک مسلمان کیلئے کامل نمونہ ہے۔ مولانا رحمانی نے فرمایا کہ قرآن و حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انسانیت کی ہدایت و راہنمائی کے لیے حضرت آدم علیہ السلام سے جو سلسلۂ رشد شروع ہوا تھا، وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل ہوا، آپؐ کے بعد نبوت و رسالت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ آپؐ اللہ کے آخری نبی ہیں، خاتم الانبیاء اور سیّد المرسلین ہیں۔ نبوت و رسالت کی آخری اینٹ اور آخری کڑی ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ آپﷺ پر دین کی تکمیل کردی گئی۔ آپؐ کی عطا کردہ شریعت رشد و ہدایت کا ابدی سرچشمہ ہے۔ اسلام دین کامل اور ابدی ضابطہئ حیات ہے، اس کی اتباع ہی دین و دنیا میں کامیابی کی ضمانت اور آخرت میں نجات کی کلید ہے۔ مولانا فرمایا کہ رشد و ہدایت کا سلسلہ اور ایمان سے وابستگی درحقیقت عقیدہ ختم نبوت پر ایمان سے وابستہ ہے۔ اس پر ایمان بندگی کا لازمی اور ناگزیر تقاضا ہے، جس کے بغیر دین و ایمان کا تصور بھی محال ہے۔ مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی نے فرمایا کہ ختم نبوت امت مسلمہ کا وہ اجماعی عقیدہ ہے جس کی حفاظت کیلئے آج تک امت مسلمہ نے لازوال قربانیوں پیش کی ہیں کیونکہ ختم نبوت کے سلسلے میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ انسان کو اسلام سے خارج کردیتا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اس وقت ختم نبوت کے خلاف جو سازشیں ہورہی ہیں اور جھوٹے مدعیان نبوت و منکرین ختم نبوت کے فتنوں نے جس طرح سے امت کو گھیرا ہوا ہے، ایسے وقت میں ان باطل پرستوں کے جھوٹ کا پردہ فاش کرنے اور سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کیلئے ہمیں آگے آنا چاہیے۔ اور ہماری یہ ذمہ داری ہیکہ ہم عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کیلئے پوری طاقت اور وسائل کے ساتھ ہمہ وقت تیار رہیں، ورنہ کل قیامت کے دن ہم کس منھ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہونگے؟ مولانا رحمانی نے فرمایا کہ جھوٹے مدعیان نبوت و منکرین ختم نبوت کے پیچھے دنیا کی باطل طاقتوں یار و مددگار ہیں لیکن یاد رکھیں کہ جو بھی ختم نبوت کی حفاظت کیلئے کام کرے گا اللہ تعالیٰ اسکا یار و مددگار ہوگا۔ انہوں نے فرمایا کہ اس وقت جدید ذرائع ابلاغ بالخصوص سوشل میڈیا کے ذریعے یہ فتنے کافی پھیل رہے ہیں، لہٰذا ہمیں بھی جدید ذرائع ابلاغ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ان فتنوں کا سدباب اور رد کرنا چاہئے۔ جگہ جگہ ختم نبوت کے پروگرامات اور ورکشاپ منعقد کئے جانے چاہئے، نوجوانوں کے درمیان ختم نبوت کے موضوع پر تحریری و تقریری مقابلہ کروانے چاہیے، اپنے اردگرد منکرین ختم نبوت کے فتنوں سے باخبر رہنا چاہیے اور امت مسلمہ کے ایمان کی حفاظت کیلئے ہر ایک کو فکر مند ہونا چاہیے۔ مولانا رحمانی نے فرمایا کہ ایسے حالات میں مرکز تحفظ اسلام ہند ذمہ داران نے عامۃ المسلمین کو عقیدۂ ختم نبوت سے واقف کروانے اور اسکی حفاظت کرنے کے سلسلے میں یہ ”پندرہ روزہ عظیم الشان تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ منعقد کرکے بڑی خدمت انجام دی ہے، اللہ تعالیٰ انکی کوششوں کو قبول فرمائے۔ قابل ذکر ہیکہ یہ پندرہ روزہ ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی بارہویں نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مرکز کے رکن شوریٰ حافظ محمد عمران کی نعتیہ کلام سے ہوا۔ جبکہ کانفرنس میں مرکز کے اراکین مولانا محمد نظام الدین مظاہری، حافظ محمد نور اللہ، حافظ محمد شعیب اللہ، عمیر الدین وغیرہ خصوصی طور پر شریک تھے۔ اس موقع پر سرپرست مرکز حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے حضرت والا اور تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس کی دعا سے کانفرنس کی یہ نشست اختتام پذیر ہوئی۔


#Press_Release #News #khatmenabuwat #ProphetMuhammad #FinalityOfProphethood #LastMessenger #MTIH #TIMS #UmrainRahmani

Friday, 25 November 2022

عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت اور فتنۂ قادیانیت کا تعاقب امت مسلمہ کی بنیادی ذمہ داری ہے!

 عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت اور فتنۂ قادیانیت کا تعاقب امت مسلمہ کی بنیادی ذمہ داری ہے!



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مفتی محمدشفیق احمد قاسمی کا خطاب!


بنگلور، 24؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی دسویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ حضرت مولانا مفتی محمد شفیق احمد قاسمی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم فرما دیا، اب آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ یہی عقیدۂ ختم نبوت ہے، جو اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، اور اسکے منکر اسلام سے خارج اور اسکے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ منکرین ختم نبوت کا فتنہ آپ ؐکے دور ہی میں شروع ہوگیا تھا، جہاں آپ ؐنے اپنی ختم نبوت کا اعلان فرمایا، وہیں آپ ؐ نے قیامت تک نمودار ہونے والے ان کذابین کا بھی تذکرہ فرمایا تھا میرے بعد تیس جھوٹے کذاب پیدا ہونگے اور ہر ایک دعویٰ نبوت کرے گا لیکن میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ مولانا نے فرمایا کہ انہی میں سے ایک فتنہ ”قادیانیت کا فتنہ“ ہے، جسکا بانی مرزا غلام احمد قادیانی ہے، جسکی جھوٹی نبوت کا فتنہ چودھویں صدی کا عظیم فتنہ ہے، جسے انگریز نے اپنے ناپاک اغراض و مقاصد کی خاطر جنم دیا۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ ہمارے اکابر علماء کرام نے مرزا قادیانی کی زندگی سے ہی اس کا تعاقب شروع کردیا تھا جو ابتک جاری ہے اور ان شاء اللہ ہمیشہ جاری رہے گا، ان اکابرین نے اس فتنہ کے سدباب اور تدارک کے لیے تاریخ ساز خدمات انجام دئیے اور اس سلسلہ میں بالواسطہ وبلاواسطہ آگے آنے والوں کے لیے نمونہ عمل چھوڑا۔ مولانا نے فرمایا کہ بحیثیت مسلمان ہر ایک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہر طریقہ سے اس فتنہ کا تعاقب کرے، اور اس فتنہ کے تعاقب، سدباب اور سرکوبی کے لئے ہر ممکنہ کوشش کرے۔ کیونکہ قادیانی اپنے منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جھوٹی نبوت کی تشہیر پورے زوروں سے جاری ہے اور مسلمان کو مختلف ہتھکنڈوں سے قادیانی بنایا جارہا ہے اور دوسری طرف امت مسلمہ کی ایک بڑی تعداد قادیانیوں کی ناپاک سازشوں سے بالکل ناواقف ہے۔ ایسے حالات میں ضروری ہیکہ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کی حقیقت کو لوگوں کے سامنے لائیں۔


مفتی شفیق احمد قاسمی نے فتنۂ قادیانیت کی حقیقت کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مرزا کا نام غلام احمد والد کا نام غلام مرتضی، آبائی وطن قصبہ قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداس پور پنجاب ہے، اسکی پیدائش 1839ء یا 1840ء میں ہوئی۔ مولانا نے فرمایا کہ اگر مرزا قادیانی کے صرف حسب و نصب پر ہی روشنی ڈالی جائے تو اسکے جھوٹ کا پردہ فاش ہوجائے گا، کیونکہ وہ اپنی اصل ونسل کے بارے میں متضاد بیانات دیتا رہا اور کسی ایک نسل یا خاندان پر اکتفا نہیں کیا۔ مولانا نے مرزا قادیانی کی تحریروں کی روشنی میں ارشاد فرمایا کہ مرزا قادیانی اس حد تک تضاد بیانی کا شکار تھا کہ کبھی وہ اپنے آپکو مغلوں کی شاخ برلاس کہتا تھا، تو کبھی فارسی الأصل ہونے کا دعویٰ کرتا اور جب طبیعت اس پر بھی اکتفا نہیں کرتی تو بیک جنبشِ قلم خود کو اسرائیلی اور فاطمی بھی قرار دینے لگا، پھر کبھی چینی تو کبھی مہدی بننے کے چکر میں بنی فاطمہ ہونے کا دعویٰ کرتا، حد تو یہ ہیکہ اس نے ہندو، سکھ اور آریوں کا پاشاہ ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔


 مولانا قاسمی نے فرمایا کہ یہ بات مسلَّم ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے روحانی اور جسمانی قویٰ بالکل بے عیب اور عام لوگوں کے قویٰ سے مضبوط ممتاز اور برتر ہوتے ہیں ہاں انہیں بتقاضہ بشریت عارضی طور پر بعض بیماریاں مثلا ًبخار، سر درد وغیرہ لاحق ہوسکتیں ہیں لیکن ایسا نہ ہوگا کہ انبیاء کرام علیھم السلام ایسے موذی امراض میں مبتلا ہوں جو انہیں قبر تک پہنچا دیں اس کے برعکس مرزا قادیانی بیسیوں بیماریوں کا مجموعہ تھا اور ابتدائے عمر ہی سے مالیخولیا کا مریض تھا اور 1908ء میں ہیضہ میں مبتلا ہوکر نہایت عبرت ناک موت مرگیا۔ 


مولانا نے مرزا قادیانی کے دعوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ مرزا قادیانی نے 1880ء میں اپنے ملہم من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، 1881ء میں خود کو بیت اللہ قرار دیا، 1882ء میں مجدد ہونے کا، 1891 ء میں مسیح موعود ہونے کا، 1898ء میں مہدی ہونے کا 1899 ء میں ظلی بروزی نبی ہونے کا اور 1901ء میں باقاعدہ نبوت کا دعویٰ کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ تاریخ میں بہت سے جھوٹے مدعی نبوت گزرے ہیں لیکن ان میں سے بہت کم مدعی ایسے ہیں جن کے دعوؤں کی تعداد دو یا تین سے متجاور ہو ہاں البتہ مرزا قادیانی اس میدان میں بھی سب سے جدا ہے، مرزا قادیانی نے اس کثرت سے دعوے کیے ہیں کہ اُن کا شمار ایک عام آدمی کے لیے بالکل محال ہے اور پھر دعوے بھی اتنے مضحکہ خیز ثناقض اور متضاد ہیں کہ یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ مرزا قادیانی جاندار ہے یا بے جان، انسان ہے چھلاوہ، مرد ہے یا عورت، مسلمان ہے یا ہندو، مہدی ہے یا مسیح، ولی ہے یا نبی۔ اسکے دعوؤں کو سن کر ایک عام انسان بھی یہ فیصلہ کرسکتا ہیکہ یہ کتنا بڑا جھوٹا ہے۔ 


مولانا نے فرمایا کہ اس کے دعوؤں کی طرح اسکی ہر پیشنگوئیاں بھی جھوٹی ثابت ہوئیں۔ مولانا نے فرمایا کہ 1893ء میں عیسائی پادری عبداللہ آتھم سے مناظرہ میں شکست کھانے کے بعد مرزا قادیانی نے پیشنگوئی کی کہ 05؍ ستمبر 1894ء کو آتھم مر جائے گا لیکن دنیا گواہ ہے کہ وہ پادری اس دن کے بعد بھی عرصہ دراز تک صیح سلامت موجود رہا۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے خدا کے نام سے محمدی بیگم کے اپنے نکاح میں آنے کی پیشگوئی بار بار کی اور اس کے پورا نہ ہونے پر اپنی سزا خود تجویز کی، جبکہ محمدی بیگم کی شادی مرزا سلطان محمد سے ہوگئی، اس پر مرزا قادیانی نے سلطان محمد کے بارے میں بھی پیشگوئی کی کہ وہ ڈھائی سال کے اندر اندر مر جائے گا، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ مرزا قادیانی کی 1908ء میں موت آ گئی اور مرزا سلطان محمد زندہ رہا، مرزا سلطان محمد کے محمدی بیگم سے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں۔ جو مرزا قادیانی کے کذب کی چلتی پھتی تصویریں تھے۔ مرزا قادیانی اس کی موت کو تقدیر مبرم کہتا تھا مگر مرزا کی اپنی تقدیر بدل چکی تھی نہ محمدی بیگم مرزا کی زندگی میں بیوہ ہوئی اور نہ مرزا کے نکاح میں آئی۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ اسی طرح حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے بارے میں ایک تحریر میں اس نے پیشنگوئی کی کہ مجھے آپ مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں، لہٰذا اگر میں ایسا ہی ہوں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا اور اگر نہیں تو آپ طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریوں سے میری زندگی میں ہلاک ہونگے۔ مولانا نے فرمایا کہ تاریخ گواہ ہیکہ اس پیشگوئی کے تقریباً ایک سال بعد مرزا قادیانی کی موت نے ”آخری فیصلہ“ کر دیا کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں تھا کیونکہ اس کی موت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی زندگی میں بقول اس کے ”خدائی ہاتھوں کی سزا“ سے یعنی ہیضہ میں مبتلا ہوکر ہوئی۔ 


مولانا نے فرمایا کہ ویسے تو مرزا قادیانی نے بہت ساری پیشنگوئیاں کی تھی جن میں سے بطور نمونہ چند پیشگوئیاں آپ احباب کے سامنے پیش کی ہیں، جن کو سن کر ہر صاحب عقل انسان مرزا قادیانی کی حقیقت کو جان سکتا ہے۔ بالخصوص وہ لوگ جو مرزا قادیانی کو، مجدد، مہدی، مسیح اور نبی مانتے ہیں ان کے لیے یہ ایک کسوٹی کی حیثیت رکھتی ہیکہ وہ مرزا کے اقوال کو پڑھیں اور افعال کی طرف بھی دیکھیں کیا اتنا بڑا جھوٹا انسان جو شرابی بھی ہو او ر زنا بھی کرتا ہو۔ مجدد، مہدی، مسیح اور نبی بننا تو بہت دور کی بات ہے، کیا ایک اچھا انسان کہلوانے کے بھی قابل ہے؟ مولانا نے فرمایا کہ مرزائی مسلمانوں کے ذہنوں میں حضرت مہدی اور حضرت عیسٰی علیہ اسلام کے مسائل محض اس لیے ڈالتے ہیں کہ مسلمان عوام مرزا قادیانی کی اس قسم کی باتوں پر غور نہ کریں اور نہ ان کو زیر بحث لائیں اور مرزا قادیانی کے ان تھوک جھوٹوں پر پردہ پڑا رہے۔ جبکہ ایک سادہ لوح مسلمان کیلئے قادیانیت کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اس سے بہتر کوئی راہ نہیں کہ مرزا قایانی کی حالات زندگی اور اسکی پیشگوئیوں پر غور کریں۔ مولانا نے فرمایا کہ امت مسلمہ کے ہر ایک فرد کی ذمہ داری ہیکہ اس فتنۂ قادیانیت کی حقیقت کو لوگوں تک پہنچانے کی فکر کریں، اسکی حالات زندگی اور جھوٹی پیشنگوئیوں سے لوگوں کو واقف کروائیں، اس فتنہ کے تعاقب اور رد نیز ختم نبوت کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت تیار رہیں اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ جتنا ہوسکے کام کریں۔ قابل مبارکباد ہیں مرکز تحفظ اسلام ہند کے ذمہ داران نے انہوں نے ”پندرہ روزہ عظیم الشان تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ منعقد کرکے ان کاموں کا بیڑا اٹھایا ہے، اللہ تعالیٰ انکی کوششوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پردارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ حضرت مولانا مفتی محمد شفیق احمد قاسمی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔


#Press_Release #News #khatmenabuwat #ProphetMuhammad #FinalityOfProphethood #LastMessenger #MTIH #TIMS #Qadiyani

Wednesday, 23 November 2022

ختم نبوت اور حجیت حدیث آپس میں لازم و ملزوم ہیں، منکرین ختم نبوت اور منکرین حدیث کے فتنوں سے امت مسلمہ ہوشیار رہیں!“

 ”ختم نبوت اور حجیت حدیث آپس میں لازم و ملزوم ہیں، منکرین ختم نبوت اور منکرین حدیث کے فتنوں سے امت مسلمہ ہوشیار رہیں!“



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مولانا سید بلال حسنی ندوی کا خطاب!


بنگلور، 22؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی گیارہویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ناظر عام حضرت مولانا سید بلال حسنی ندوی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لئے ہر دور میں انبیائے کرام ؑ کو مبعوث فرمایا اور انہیں ایسی شریعت عطا کی جس پر عمل کرنے والا جنت کا مستحق سمجھا جاتا تھا۔ ان کے زمانے کے اعتبار سے وہ شریعت کامل اور نجات دہندہ تھی لیکن ان کی شریعتیں مخصوص زمان و مکان کے لئے تھیں۔ ایک امت کو جو نظام زندگی دیا جاتا وہ اس وقت تک قابل عمل ہوتا جب تک کہ دوسرے نبی نہ آجائیں۔ دوسرے نبی اور پیغمبر کے آنے کے بعد ماضی کے بہت سے احکام منسوخ ہوجاتے اور پھر نئی شریعت پر عمل کرنا واجب ہوتا۔ اسی طرح ان کی شریعت خاص قوم اور محدود خطے کے لئے ہوتی تھی۔ بسا اوقات مختلف علاقوں میں تبلیغ وہدایت کے لئے الگ الگ انبیاء بھیجے جاتے اور بیک وقت کئی نبی اس روئے زمین پر تشریف فرما ہوتے جو اپنی اپنی قوم کی رہنمائی و رہبری کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسٰی ؑ تک چلتا رہا لیکن جب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے تو آپ کو آخری نبی کی حیثیت سے مبعوث کیا گیا۔ آپ کی امت آخری امت اور آپ پر نازل کی جانے والی کتاب آخری کتاب قرار دی گئی، اسی طرح آپکی شریعت کو بھی آخری شریعت کی حیثیت سے پیش کیا گیا۔ اس کے بعد جس طرح اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا، اسی طرح سے اب قیامت تک کوئی نئی کتاب یا کوئی شریعت نہیں آئے گی بلکہ رہتی دنیا تک سارے اقوام کے لئے اسی قرآن و حدیث اور شریعت مطہرہ پر عمل کرنا لازم ہوگا، یہی راہ نجات اور اسی میں اللہ تعالیٰ کی رضا مضمر ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ دین ہر اعتبار سے کامل اور مکمل ہوچکا۔ ایک انسان کی ہدایت کے لئے جن احکام کی ضرورت تھی وہ دے دیئے گئے۔ دنیا خواہ کتنی ہی ترقی پذیر ہوجائے اورٹیکنالوجی جس بلندی پر بھی پہنچ جائے ہمیشہ کے لئے یہ شریعت آچکی۔ یہ آفاقی بھی ہے اور ابدی بھی۔ اب نہ تو اس کا کوئی حکم منسوخ ہوگا اور نہ اس کے رہتے ہوئے کسی دوسرے قانون کی ضرورت ہوگی۔ ہر طرح کی ترمیم و تنسیخ سے بالا تر اسلامی شریعت نازل کردی گئی جو اس امت کا اعزاز اور لائقِ فخر ہے۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ قرآن و حدیث شریعت اسلامی کی بنیاد اور اولین حجت ہے اور ان دونوں چیزوں کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ افسوس کہ جس طرح متعدد جھوٹے اور کذابوں نے ختم نبوت کا انکار کی اسی طرح متعدد کذابوں نے احادیث مبارکہ کا بھی انکار کیا۔ جبکہ حضور اکرمﷺ کی حدیث کو قرآن مجید کے بعد اسلامی قانون کا دوسرا اہم ترین ماخذ مانا جاتا ہے لیکن ہر دور میں اسے عناصر امت مسلمہ میں موجود رہے ہیں جنہوں نے نبی اکرمؐ کی حدیث کو ماننے کی بجائے اپنی عقل اور تاویلات سے احادیث رسول کا انکار کیا ہے اور کررہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ منکرین حدیث ظاہراً حدیث رسول کے منکر ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن مجید اور مذہب اسلام کے بھی مخالف ہی؛ کیوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر آج تک مذہب اسلام کا مدار دو ہی چیزیں رہی ہیں۔ ایک کتاب اللہ یعنی قرآن مجید اور دوسرا سنت رسول اللہ یعنی حدیث، خلفائے راشدین، صحابۂ کرام فقہائے عظام؛ بلکہ تمام عالم کے علماء حدیث رسول کو حجت مانتے آئے ہیں، مگر اس فرقے یعنی منکرین حدیث جو اپنے آپ کو اہل قرآن کہتے ہیں، انکا خیال اور عقیدہ یہ ہے کہ حدیث رسول حجت نہیں۔ در اصل اس فرقے کا مقصد صرف انکار حدیث تک محدود نہیں بلکہ یہ لوگ اسلام کے سارے نظام کو مخدوش کرکے ہر امر ونہی سے آزاد رہنا چاہتے ہیں، کیوں کہ قرآن مجید میں ہرچیز کا بیان اجمالاً ہے جس کی تشریح وتفصیل حدیث میں ہے، یہ فرقہ ان سب تفصیلات اور پورے نظام کو یکسر بدلنا چاہتا ہے، نیز قرآن کریم میں بھی من مانی تفسیر کرکے حقیقی مطالب اور مرادِ الٰہی کو ختم کردینا چاہتا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ختم نبوت اور حجیت حدیث آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ کیونکہ قرآن مجید کے بعد کوئی کتاب نہیں اس لیے وہ قیامت تک محفوظ ہے، اسی طرح حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں اس لیے آنحضرتؐ کے ارشادات بھی قیامت تک کے لیے محفوظ اور حجت ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اسلام کو اللہ کا آخری دین اور قیامت تک محفوظ رہنے کو ماننے کا نتیجہ یقینی، حتمی اور بدیہی طور پر یہ ہے کہ دین اسی شکل میں محفوظ رہ سکتا ہے جب قرآن بھی محفوظ ہو اور حدیث بھی محفوظ ہو۔ اگر حدیث محفوظ نہیں تو اللہ کا آخری دین محفوظ نہیں ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اللہ نے اپنا آخری دین اپنے آخری رسول حضرت محمدرسول اللہ ؐ کے ذریعہ انسانیت تک بھیجا، لہٰذا ان کے ارشادات یعنی حدیث نبویؐ پر ایمان اور ان پر عملدر آمد ہی ہمارے لیے نجات کا واحد راستہ ہے۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ مذہبی لحاظ سے سطحِ ارض پر اگرچہ بے شمار فتنے رونما ہو چکے ہیں، اب بھی موجود ہیں اور تا قیامت باقی رہیں گے لیکن فتنہ انکار ختم نبوت کے بعد فتنہ انکارِ حدیث اپنی نوعیت کا واحد فتنہ ہے۔ باقی فتنوں سے تو شجرِ اسلام کے برگ و بار کو ہی نقصان پہنچتا ہے لیکن اس فتنہ سے شجرِ اسلام کی جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں اور اسلام کا کوئی بدیہی سے بدیہی مسئلہ بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پر، قرآن مجید کے آخری کتاب ہونے پر، شریعت محمدیہؐ کا آخری شریعت ہونے پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح سے احادیث رسولؐ پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ کیونکہ قرآن کو ماننا اور احادیث کا انکار کرنا کفر ہے اور جو شخص حدیث کا منکر ہے وہ درحقیقت قرآن کا بھی منکر ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ایسے فتنوں سے امت مسلمہ کو باخبر کرنا اور اپنے دین و ایمان کی حفاظت کرنا وقت کا اہم تقاضہ ہے۔قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا سید بلال حسنی ندوی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں  سے نوازا۔



#Press_Release #News #khatmenabuwat #ProphetMuhammad #FinalityOfProphethood #LastMessenger #MTIH #TIMS