Friday, 17 November 2023

بیت المقدس تاریخ کے آئینے میں!

بیت المقدس تاریخ کے آئینے میں!

✍️ بندہ محمد فرقان عفی عنہ
(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)




گزشتہ کئی دہائیوں سے غزہ اور فلسطین میں جاری اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم کے پیش نظر حالیہ دنوں حماس کے 'طوفان الاقصیٰ' آپریشن کے بعد سے قبلۂ اول بیت المقدس اور فلسطین ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کی نظروں کے سامنے آگئے۔ بیت المقدس کی آزادی کے خواب سجائے ہوئے اہل فلسطین کی داستان تقریباً ایک صدی پر پھیلی ہوئی ہے۔ جس سے آج ہماری نئی نسل بالکل ناواقف ہے۔ اہل فلسطین کی کہانی روشنائی سے نہیں بلکہ انکے خون سے لکھی گئی ہے۔ فلسطین کے ہر چپہ چپہ پر قربانیوں کی ایسی لازوال داستانیں نقش ہیں جس سے وہاں کے باشندوں کی جرأت، ہمت، غیرت اور استقامت کا پتہ چلتا ہے۔ فلسطین کے معصوم بچے، مائیں، بہنیں، جوان اور بوڑھے سب ہی جس ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اس کے بارے میں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو بزبان حال یہی کہ سکتے ہیں:
تم شہرِ اماں کے رہنے والے! درد ہمارا کیا جانو!
ساحل کی ہوا تم موج صبا طوفان کا دھارا کیا جانو!

اس میں کوئی شک نہیں کہ فلسطینی مسلمان اب تقریباً ایک صدی سے تکلیف اور آزمائش کی چکی میں پس رہے ہیں اور یہ دنیا کی وہ واحد قوم ہے جو خود اپنے ہی علاقے اور اپنے وطن میں مہاجروں کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل اہل فلسطین کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ کسی بھی صورت اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ فلسطین کا غم امت مسلمہ کا مشترکہ غم ہے اور اہل فلسطین کا درد بھی سانجھا ہے۔ اور یہ بات روز و روشن کی طرح عیاں ہیکہ بیت المقدس کا مسئلہ فقط اہل فلسطین کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا مسئلہ ہے۔ لہٰذا ضرورت ہیکہ ہم اپنی نسلوں کو بیت المقدس اور فلسطین و غزہ کی مجاہدانہ تاریخ سے واقف کروائیں تاکہ ہماری نسلیں بیت المقدس کی حفاظت اور آزادی کیلئے ہمیشہ تیار رہیں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا:
اقصٰی کی زمین کو ہم سب مل کے چھڑائیں گے
تاریخ فلسطین ہم گھر گھر میں بتائیں گے

https://markaztahaffuzeislamhind.blogspot.com/2021/06/blog-post_11.html

قارئین! ”القدس“ فلسطین کا شہر اور دارالحکومت ہے۔ یہ یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں تینوں کے نزدیک مقدس ہے۔ یہاں مسلمانوں کا قبلہ اول مسجد اقصٰی اور گنبد الصخرہ واقع ہیں۔ مکہ مکرمہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریباً 1300 کلومیٹر ہے۔ شہر 31؍ درجے 45؍ دقیقے عرض بلد شمالی اور 35؍درجے 13؍ دقیقے طول بلد مشرقی پر واقع ہے۔ بیت اللحم اور الخلیل اس کے جنوب میں اور رام اللہ شمال میں واقع ہے۔ القدس کو یورپی زبانوں میں ”یروشلم“ کہتے ہیں۔ القدس پہاڑیوں پر آباد ہے اور انہی میں سے ایک پہاڑی کا نام ”کوہِ صیہون“ ہے جس پر ”مسجد اقصٰی“ اور ”گنبد الصخرہ“ واقع ہیں۔ مسجد اقصی کے اطراف 1600 میٹر لمبی پتھر کی دیوار ہے، اس کے اندر 09؍ دروازے ہیں، جو (1) باب رحمت (2) باب حطہ (3) باب فیصل (4) باب غواغہ (5) باب ناظر (6) باب حدید (7) باب قطانبین (8) باب سلسلہ (9) باب مغاربہ کے نام سے موسوم ہیں۔

مسجد اقصٰی کی بنیاد مکہ مکرمہ کی بنیاد ڈالنے کے چالیس سال بعد حضرت سیدنا آدم علیہ السلام یا ان کی اولاد میں سے کسی نے ڈالی۔ پھر اس کی تعمیر حضرت سیدنا سام بن نوح علیہ السلام نے کی۔ عرصۂ دراز کے بعد حضرت سیدنا داؤد علیہ السلام نے بیت المقدس کی بنیاد اس مقام پر رکھی جہاں حضرتِ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا خیمہ نصب کیا گیا تھا۔ اس عمارت کے پورا ہونے سے قبل حضرت سیدنا داؤد علیہ السلام کی وفات کا وقت آگیا تو آپ نے اپنے فرزند ارجمند حضرت سیدنا سلیمان علیہ السلام کو اس کی تکمیل کی وصیّت فرمائی۔ چنانچہ حضرت سیدنا سلیمان علیہ السلام نے جنّوں کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد اقصٰی کو تعمیر کیا۔

بیت المقدس مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے، ہجرت کے بعد 16؍ سے 17؍ ماہ تک نبی کریمﷺ بیت المقدس (مسجد اقصٰی) کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگیا۔ مسلمانوں کے نزدیک مسجد حرام اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام مسجد اقصٰی ہے۔ مقامی مسلمان اسے ”المسجد الاقصیٰ“ یا ”حرم قدسی شریف“ کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں پانچ ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے، جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ سفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور بیت المقدس میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔ قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ”پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں یقیناً اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے“ (سورہ الاسراء)۔ احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصٰی شامل ہیں۔ مسجد اقصٰی روئے زمین پر بنائی گئی دوسری مسجد ہے۔ جہاں ایک نماز کا ثواب ڈھائے سو اور بعض روایتوں کے مطابق 25؍ ہزار ملتا ہے۔

بیت المقدس انبیاء علیہم السلام کی سرزمین فلسطین میں واقع ہے، جب نبی کریمﷺ کی بعثت ہوئی تو اس وقت اس پر سلطنت روم کے عیسائیوں کا قبضہ تھا اور سلطنت روم اس وقت بہت طاقتور تھا۔ لیکن اسی وقت نبی کریمﷺ نے بیت المقدس کی آزادی کی خوشخبری سنائی اور اس کو قیامت کی نشانیوں میں سے قرار دیا۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت 16ھ مطابق سن 236ء میں بیت المقدس کو یہود و نصاری کے ہاتھوں سے آزاد کرایا تھا۔ اس دور میں بہت سے صحابہ نے تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کی خاطر بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔ سن 66ھ اور 86ھ کے درمیان خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور سن 86ھ اور 96ھ کے درمیان انکے صاحبزادے خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔

بیت المقدس کی یہ مقدس سرزمین تقریباً عباسی دور تک مسلمانوں کے ماتحت رہی پھر جیسے جیسے ان میں آپسی اختلاف و انتشار، خانہ جنگی، سیاسی فتنوں اور باطنی تحریکوں کی وجہ سے عباسی حکومت کمزور پڑنے لگی تو گھات میں بیٹھے ہوئے صلیبیوں کو موقع مل گیا۔ اور ادھر فاطمی حکومت نے بھی اپنی حکومت کی مضبوطی اور استحکام اور شام سے سلجوقیوں کے خاتمے کیلئے ان صلیبیوں سے مدد طلب کی اور انہیں کئی طرح کی سہولتیں فراہم کردیں اور بیت المقدس میں آنے جانے کی اجازت دے دی۔ بالآخر ان تمام باتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صلیبیوں نے بغاوت کردی اور اپنے فاطمی خلفاء کے ساتھ غداری اور دھوکہ کیا۔ اور القدس پر قبضہ کیلئے اپنی فوج کو تیار کرلیا اور پھر 70؍ ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید کرتے ہوئے بالآخر 492ھ مطابق سن 1099ء کو صلیبیوں نے بیت المقدس کو مسلمانوں سے چھین لیا۔ اور یروشلم پر اپنی مسیحی حکومت قائم کردی۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہوگیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔

پھر اسکے بعد سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے قبلۂ اول کی آزادی کے لئے تقریبا 16؍ جنگیں لڑیں۔ اور بالآخر 538ھ مطابق سن 1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے پیہم معرکہ آرائیوں کے بعد بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کروالیا۔ اور مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔ اس طرح 88؍ سال بعد بیت المقدس دوبارہ مسلمانوں کے بازیابی میں آگیا اور ارض مقدسہ سے عیسائی حکومت کا صفایہ ہوگیا۔ اس طرح ارض مقدسہ پر تقریباً 761؍ برس مسلسل مسلمانوں کی سلطنت رہی۔ پھر پہلی جنگ عظیم دسمبر 1917ء کے دوران میں انگریزوں نے بیت المقدس اور فلسطین پر قبضہ کرکے یہودیوں کو آباد ہونے کی عام اجازت دے دی۔ یہود و نصاریٰ کی سازش کے تحت نومبر 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دھاندلی سے کام لیتے ہوئے فلسطین عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کر دیا۔ یہاں تک کہ 14؍ مئی 1948ء میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی سازشوں سے ارض فلسطین کے خطہ میں صیہونی سلطنت قائم کی گئی اور جب 1948ء کو یہودیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا، تو پہلی عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیلی، فلسطین کے 78؍ فیصد رقبے پر قابض ہوگئے۔ تاہم مشرقی یروشلم (بیت المقدس) اور غرب اردن کے علاقے اردن کے قبضے میں آگئے۔ پھر تیسری عرب اسرائیل جنگ جون 1967ء میں اسرائیلیوں نے بقیہ فلسطین اور بیت المقدس پر بھی تسلط جما لیا۔ اور اس طرح سن 1967ء سے بیت المقدس پر یہودیوں نے قبضہ کرلیا اور اب پوری طرح انکے قبضہ میں ہے۔

اسلام اور ملت اسلامیہ کے خلاف یہودیوں کی دشمنی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے۔ یہودِ مدینہ نے عہد رسالت مآبؐ میں جو شورشیں اور سازشیں کیں ان سے تاریخ اسلام کا ہر طالب علم آگاہ ہے۔ گزشتہ چودہ صدیوں سے یہود نے مسلمانوں کیخلاف بالخصوص اور دیگر انسانیت کے خلاف بالعموم معادانہ رویہ اپنا رکھا ہے۔ بیسویں صدی کے حادثات وسانحات میں سب سے بڑا سانحہ مسئلہ فلسطین ہے۔ یہود ونصاریٰ نے یہ مسئلہ پیدا کرکے گویا اسلام کے دل میں خنجر گھونپ رکھا ہے۔ سن 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے بعد یورپ سے آئے ہوئے غاصب یہودیوں نے ہزاروں سال سے فلسطین میں آباد فلسطینیوں کو ان کی زمینوں اور جائدادوں سے بے دخل کرکے انہیں کمیپوں میں نہایت ابتر حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور کردیا ہے۔21؍ اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلۂ اول کو آگ لگادی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا جسے سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب کیا تھا۔ دراصل یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گراکر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا۔

گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصہ کے دوران اسرائیلی یہودیوں کی جارحانہ کاروائیوں اور جنگوں میں ہزاروں لاکھوں فلسطینی مسلمان شہید، زخمی یا بے گھر ہوچکے ہیں اور لاکھوں افراد مقبوضہ فلسطین کے اندر یا آس پاس کے ملکوں میں کیمپوں کے اندر قابلِ رحم حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں بلکہ غزہ تو مکمل ایک زندان بن چکی ہے۔ اسرائیل مسلسل فلسطین میں ظلم و بربریت کا ننگا ناچ کررہا ہے مگر تمام نام نہاد انسانیت دوست ممالک، حقوق انسانی کی محافظ تنظیمیں اور مظلوموں کے علم بردار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں بلکہ اقوام متحدہ اور اس کے کرتا دھرتا امریکہ اور یورپ کے ممالک یہودیوں کے سرپرست اور پشتیبان بنے ہوئے ہیں۔ افسوس کا مقام ہیکہ بعض نام نہاد مسلم ممالک اپنی ذاتی حقیر مفادات اور اپنی چند روزہ شان و شوکت اور عارضی کرسی کی بقا کی خاطر یا تو ان دشمنان اسلام کی حمایت کررہی ہے یا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر عالم اسلام اسرائیلی مظالم اور جارحیت کے خلاف متحد ہوکر مقاومت کی کوشش کرتا تو آج نوبت یہاں تک نہیں پہونچتی۔ مگر عالم اسلام کی بے حسی، استعماری طاقتوں کی تملق پرستی اور امت مسلمہ کے مشترکہ مفادات سے چشم پوشی کرتے ہوئے صہیونی سازشوں اور منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہونچانے میں ان کی معاونت نے قبلۂ اول، مفادات امت اور فلسطینی مظلوم عوام کے حقوق کو دشمن کے ہاتھوں نیلام کردیا۔ ’صدی معاہدہ‘ کی آمادگی اور اس کے نفاذ میں متعدد اسلامی ملکوں کی شمولیت اور کچھ عرصے قبل عالم عرب کی اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں توسیع نے یہ ثابت کردیا کہ عالم عرب ’القدس‘ کی بازیابی کے لیے سنجید ہ نہیں ہے۔ وہ دشمن کے عزائم کی کامیابی میں حصہ دار اور مسلمانوں کی لاشوں کے ڈھیر پر بیٹھ کر اپنے مفادات کے لیے سمجھوتہ کرنے والی قوم ہے۔ ورنہ اگر مسلمان ممالک متحد ہوکر القدس کی بازیابی کے لیے جدوجہد کریں تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ بیت المقدس صہیونی طاقتوں کے قبضے سے آزاد نہ ہو۔ فلسطینی مظلوموں کی زبانی حمایت اور درپردہ صہیونیت نوازی نے اسرائیل کو مکمل ریاست کا درجہ دیدیا۔ آج یمن، شام، عراق اور فلسطین کے ناگفتہ بہ حالات دشمن کی سازشوں اور منصوبہ بندیوں کا نتیجہ کم، عالم اسلام کی غلامی اور بے حسی کا نتیجہ زیادہ ہے۔ عرب قوم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بہت ہی غیرت مند قوم ہوتی ہے لیکن پے درپے جنگوں میں اسرائیل کے ہاتھوں شکست، امریکی غلامی اور عیاشی نے اسے بزدل قوم میں تبدیل کردیا ہے۔ اسی کا فائدہ اسرائیل اٹھا رہا ہے کہ وہ جب چاہتا ہے فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کردیتا ہے۔ اگر خطے کے ممالک فلسطین کی مدد و معاونت، فنڈ اور اسلحہ فراہم کرتے تو آج یہ حالت نہ ہوتی اور فلسطینی جانباز اپنے دم پر ہی اسرائیل کا ناطقہ بند کردیتے۔ عرب ممالک نے ہمیشہ ضابطوں کا حوالہ دے کر فلسطینی کی مدد سے گریز کیا جب کہ امریکہ اور مغربی ممالک نے تمام ضابطوں کی دھجیاں اڑاکر اسرائیل کو نہ صرف عرب ممالک سے بچایا ہے بلکہ اقوام متحدہ (امریکہ کا رکھیل) کو استعمال کرکے اسے تمام کارروائیوں سے محفوظ رکھا۔ لیکن سلام ہو ان نہتے فلسطینیوں پر کہ وہ بیت المقدس کے تقدس کیلئے اور اپنے حق کے خاطر مسلسل قربانیاں پیش کررہے ہیں لیکن اپنے موقف سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں، کیونکہ یہ مسئلہ فقط زمین کا نہیں اپنے ایمان کا مسئلہ ہے، حق و باطل کا معرکہ ہے۔ تاریخ شاہد ہیکہ اسلام کے ابتدائے آفرینش ہی سے حق اور باطل ہمیشہ برسر پیکار رہے ہیں۔ یہ دراصل نور و ظلمت اور ایمان و کفر کی قوتوں کے درمیان ایسا تصادم اور ٹکراؤ ہے جو ازل سے چلی آرہی ہے اور یہ واضح ہیکہ ابد تک کسی نہ کسی شکل میں اس جنگ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ لیکن ہر دو میں باطل پر حق غالب آیا ہے اور باطل کو ہمیشہ مٹنا ہی پڑا ہے۔ ظالم اگر وقتی یا ظاہری طور پر کامیاب بھی نظر آئے لیکن ہمیشہ مظلوم کی ہی حقیقی فتح اور کامیابی ہوئی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے مظلوم ہی کا نام ہمیشہ روشن کیا ہے۔ ہر دور میں حق اور باطل کی معرکہ آرائی ہوتی رہی ہے اور ہمیشہ جیت حق اور اہل حق کی ہی ہوئی ہے۔ تاریخ اسلامی میں ہزاروں واقعات درج ہیں جس سے صاف واضح ہوجاتا ہیکہ باطل مٹنے کیلئے اور حق غالب آنے کیلئے آیا ہے۔ اور ان شاء اللہ ثم ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب یہودیوں پر مسلمان غالب آئیں گے اور کفر کی تاریکی رات ختم ہوکر اسلام کی صبح روشن ہوگی۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا:
لاکھ جلے دشمن لیکن، مٹ جائے حق ناممکن
سارے عالم میں اک دن، پرچمِ حق لہرائے گا
باطل تو مٹ جائے گا، حق ہی غالب آئے گا

قارئین کرام! ارض فلسطین یقیناً آج پھر کراہ رہا ہے۔ ہزاروں نہتے فلسطینی بیت المقدس کی حفاظت کیلئے تنے تنہا اسرائیلی دہشت گردی کا مقابلہ کررہے ہیں اور جام شہادت نوش فرما رہے ہیں۔ اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور دنیا خاموش ہے۔ صرف کچھ ممالک کے دبے سر میں مذمت کے چند الفاظ بہ مشکل نکل رہے ہیں۔ امریکہ تو کھلم کھلا اسرائیلی جارحیت کی حمایت کررہا ہے اور اسرائیلی وحشی پن کو حق دفاع قرار دے رہا ہے۔ اب تو پوری دنیا میں یہ بات عیاں ہے کہ دہشت گرد کون ہے؟ دہشت گردی یا بدی کا محور کون ہے؟ اسرائیلی حملے میں اب تک سیکڑوں فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں اور اسرائیل ہلاکت خیز حملے پے درپے کرتا جارہا ہے۔ حملے میں عام عمارتوں، میڈیا کے دفاتر، ہسپتالوں، اسکول کالجز اور دیگر بنیادی سہولتوں کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ شہداء کی تعداد ہزاروں سے تجاوز کر چکی ہے۔ لیکن یہ یہود اور اسکے حواریں یاد رکھیں کہ ”شام“ جو زمانہ قدیم میں لبنان، فلسطین، اردن اور شام کی سرزمین پر مشتمل تھا، جہاں آج یہ یہود قابض ہیں، احادیث کے مطابق قرب قیامت میں وہاں اسلام کا غلبہ ہوگا اور ایمان اور اہل ایمان فتنوں کے اس دور میں زیادہ تر شام کے علاقوں میں ہی ہونگے۔ فتنوں کے اس زمانے میں اہل اسلام کی مختلف علاقوں میں مختلف جماعتیں اور لشکر ہونگے اس دور میں آپؐ نے شام اور اہل شام کے لشکر کو اختیار کرنے کی ترغیب دلائی کیونکہ اس دور میں ان کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے لی ہوگی۔ یہ حضرت مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لشکر ہوگا۔ اور آخری وقت زمانہ قرب قیامت میں خلافت اسلامیہ کا مرکز ومحور ارض مقدسہ ہوگی۔ قیامت سے قبل مدینہ منورہ ویران ہوجائے گا اور بیت المقدس آباد ہوگا، تو یہ زمانہ بڑی لڑائیوں اور فتنوں کا ہوگا، اس کے بعد دجال کا خروج ہوگا۔ دجال شام اور عراق کے درمیان میں سے نکلے گا۔ دجال کا فتنہ اس امت کا بہت بڑا فتنہ ہے اس سے ہر نبی نے اپنی قوم کو ڈرایا۔ مگر دجال مکہ، مدینہ، بیت المقدس اور کوہ طور میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی ان ہی علاقوں دمشق کے  جامع مسجد کے مشرقی سفید مینار پر ہوگا۔ اور وہ دجال کو ”باب لد“ کے پاس قتل کریں گے۔ باب لد فلسطین کے علاقے میں بیت المقدس کے قریب ہے، جس پر اسرائیل غاصب نے قبضہ کر رکھا ہے۔ اور اسی طرح فتنہ یا جوج و ماجوج کی ہلاکت اور انتہاء بھی بیت المقدس کے قریب ”جبل الخمر“ کے پاس ہوگی۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہیکہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی کہ جب تک یہودیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا نہ دیا جائے، آج پوری دنیا سے یہودی اپنے مقتل ”اسرائیل“ میں جمع ہورہے ہیں، قیامت سے پہلے یہ وقت ضرور آئے گا کہ مسلمان یہودیوں کو چن چن کر قتل کریں گے اور ایک بار پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے قیامت کے قریب حضرت امام مہدی اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے ظہور کے بعد ایک مومن جماعت کے ہاتھوں بزور شمشیر مسلمانوں کا قبلۂ اول بیت المقدس فتح ہوگا۔ بیت المقدس اور فلسطین کے موجودہ حالات سے یہ بات واضح ہیکہ وہ وقت اب قریب ہے، لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قبلہ اول کی حفاظت اور آزادی کیلئے ہمہ وقت تیار رہیں اور اپنی نسلوں کو اسکی تاریخ سے واقف کرواتے ہوئے اسکی بازیابی کیلئے تیار کریں!
اٹھ باندھ کمر مرد مجاہد کا جگر لے
مومن ہے تو پھر مسجد اقصٰی کی خبر لے

فقط و السلام
بندہ محمد فرقان عفی عنہ*
(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

+91 8495087865
mdfurqan7865@gmail.com
_____________
*ابن مولانا محمد ریاض الدین مظاہری
بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند

#پیغام_فرقان
#PaighameFurqan #Article #Mazmoon #Alquds #Alqudsseries #MasjidAqsa #MasjidAlAqsa #BaitulMaqdis #Palestine #Gaza

Thursday, 16 November 2023

مسجد اقصیٰ سے ہمارا ایمانی تعلق ہے، اہل فلسطین کیلئے دعاؤں اور قنوت نازلہ کا اہتمام کریں!

 مسجد اقصیٰ سے ہمارا ایمانی تعلق ہے، اہل فلسطین کیلئے دعاؤں اور قنوت نازلہ کا اہتمام کریں!



مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ القد س کانفرنس“ سے مولانا محمد مقصود عمران رشادی کا خطاب!


بنگلور، 09؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے تحریک تحفظ القدس کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی آٹھویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامع مسجد سٹی بنگلور کے امام و خطیب حضرت مولانا ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ سرزمین قدس، قبلۂ اول کی بنا پر تمام امت مسلمہ کا مشترکہ اثاثہ ہے۔ یہاں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی کثرت بعثت کی بنا پر یہ ”سرزمین انبیاء“ بھی کہلاتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد ایک مدت تک بحکم الٰہی ”بیت المقدس“ کی جانب رخ کرکے نماز ادا کی ہے، اسی لیے یہ مسلمانوں کا قبلۂ اول کہلاتا ہے۔ معراج کی رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام کو نماز پڑھائی اور ”امام الانبیاء“ کے شرف سے مفتخر ہوئے اور پھر یہیں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ سفر معراج شروع ہوا، جس نے انسانیت کو سرعرش مہمان نوازی کا اعزاز عطا کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو مسجد حرام سے سیدھے آسمانوں کی طرف سفر ہو سکتا تھا، لیکن درمیان میں بیت المقدس کو لا کر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کے ذریعہ یہ عظیم پیغام دیا کہ اسلام میں بیت المقدس اور مسجد اقصی کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ بیت المقدس کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ یہ مسلمانوں کا قبلۂ اول رہا ہے۔ اس بنا پر امت محمدیہ کا سرزمین فلسطین، مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کے ساتھ ایک ایمانی رشتہ قائم ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ یہودی قوم پچھلے ستر سالوں سے اہل فلسطین پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہی ہے، یوں تو اس قوم کے ہاتھ انبیاء کرام علیہم السلام جیسی مقدس جماعت کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور آج یہ فلسطین پر قابض ہوکر، وہاں صدیوں سے آباد مسلمانوں کا قتل عام کرکے انھیں نقل مکانی پر مجبور کررہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ اہل فلسطین یہود کے مظالم کا مقابلہ کرنے کے لیے مادی وسائل کی قلت کا شکار ہونے کے باوجود آج تک نبرد آزما ہیں، لیکن مسلم حکمران جو طاقت، دولت اور بے شمار وسائل سے مالا مال اور لیس ہیں، وہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ تقریباً ایک مہینے سے غزہ کی پٹی پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، گھروں سے لیکر تعلیم گاہوں تک، مسجد سے ہسپتال تک سب کچھ تباہ و برباد کردیئے گئے، بچے، بوڑھے، جوان، مرد و عورت یکساں ان مظالم سے دوچار ہوئے، فلسطینی شہداء ہزاروں کی تعداد سے متجاوز ہوگئی، لیکن عالمی اسلامی تنظیموں خصوصاً مسلم حکمرانوں کی بے حسی و بے بسی تماشائے عالم بنی ہوئی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ فلسطین کے حالات کی وجہ سے ہر انصاف پسند،صاف دل اور زندہ ضمیر رکھنے والا شخص رنجیدہ ہے۔ غزہ کے لاکھوں بے قصور عوام پر قیامت ٹوٹ رہی ہے، ہر طرف انسانی نعشوں کا دل دہلانے والا منظر ہے، جس سے پوری دنیا بالخصوص پورا عالم اسلام بے چینی کا شکار ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ تاریخی حیثیت سے مسجد اقصیٰ ہی وہ ایک مسئلہ ہے جس سے ہمارے شرعی ثوابت، تاریخی حقوق اور ہمارے تہذیب و تمدن کے بڑے کارنامے متعلق ہیں، لہٰذا اسکی حفاظت پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور مسئلہ فلسطین پوری ملت اسلامیہ کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ہم قبلہ اوّل مسجد اقصیٰ کی حفاظت کرنے والے فلسطین و غزہ کے مظلوم مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انکی جرأت و عزیمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ مولانا رشادی نے فرمایا کہ اب مسلمانوں کی ذمہ داری ہیکہ وہ اہل فلسطین کی مدد کریں، ان کے حق میں دعائیں کریں، قنوت نازلہ کا اہتمام کریں، اپنی تقریر و تحریر میں ارضِ فلسطین کو موضوع سخن بنائیں اور اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں، یہ سب ہمارے دائرہ اختیار سے باہر نہیں ہے، اور باتوفیق مسلمان اپنی اپنی حیثیت کے مطابق ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش بھی کررہے ہیں اور کرنا بھی چاہیے۔ مولانا نے تمام انسانیت دوست ممالک، حقوق انسانی کی محافظ تنظیمیں خاص طور پر اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ فوری کارروائی کرتے ہوئے فلسطین میں امن کو قائم فرمائیں اور انکی مدد فرمائیں۔ مولانا نے ہندوستان کی حکومت، وزیر اعظم اور کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سے بھی درخواست کی کہ وہ عالمی سطح پر ملک کی جانب سے اپنے سابقہ موقف پر قائم رہتے ہوئے فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں، انکی مدد و معاونت کریں اور وہاں جنگ بندی کرنے اور امن کے قیام کی کوششوں کریں۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا محمد مقصود عمران رشادی صاحب مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔


#Press_Release #News #Alquds #Palestine #Gaza #Alqudsseries #MasjidAqsa #MasjidAlAqsa #BaitulMaqdis #AlqudsConference #MTIH #TIMS

مسجد اقصٰی کی حفاظت امت مسلمہ کی مشترکہ اور بنیادی ذمہ داری ہے!

 مسجد اقصٰی کی حفاظت امت مسلمہ کی مشترکہ اور بنیادی ذمہ داری ہے! 

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ سے مولانا جعفر مسعود حسنی ندوی کا خطاب!




بنگلور، 13؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی دسویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ناظر عام حضرت مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی صاحب مدظلہ نے فرمایا اس وقت اہل فلسطین کے جو حالات ہے وہ بہت تشویشناک ہیں۔ فلسطین کے معصوم بچے، مائیں، بہنیں، جوان اور بوڑھے سب اسرائیلی دہشت گردی کے ظلم و ستم کا شکار ہیں لیکن افسوس کے نام نہاد انصاف پسند لوگ اور بعض مسلم ممالک خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہا اس سے آگے بڑھ کر دنیا کے بڑے بڑے ممالک اہل فلسطین کے غم و درد میں شامل ہونے کے بجائے اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں۔ لیکن عالم اسلام کی بے حسی افسوسناک ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ارضِ فلسطین جسے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا مسکن اور مدفن ہونے کا شرف حاصل ہے، جس کے ارد گرد برکت ہی برکت کا نزول ہے، جہاں سے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر معراج کا آغاز کیا، جس دھرتی پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیوں کی امامت کراکے امام الانبیاء کا لقب پایا، جہاں اسلام کی عظمت رفتہ اور جنت گم گشتہ کا نشان قبلۂ اول مسجد اقصٰی کی صورت میں موجود ہے، آج وہ خطہ ارضِ فلسطین اور مسجد اقصٰی صہیونی سازشوں کے نرغے میں گھیرا ہوا ہے۔ اور وہاں کے باشندے تنہ تنہا ان ظالم و جابر سے مقابلہ کررہے ہیں اور بیت المقدس کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ ارضِ فلسطین اور مسجد اقصٰی پوری ملت اسلامیہ کو پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ یہ دھرتی کب تک خون سے رنگین ہوتی رہے گی؟ کب تک فلسطینی نوجوان، بچے، مائیں اور خواتین شہید ہوتی رہیں گی؟ کب تک فلسطینیوں کے جنازے اٹھتے رہیں گے؟ فلسطینیوں کی آزادی کی صبح کب طلوع ہوگی؟ مولانا نے فرمایا کہ بیت المقدس کا مسئلہ فقط اہل فلسطین کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا مسئلہ ہے۔ لہٰذا ضرورت ہیکہ ہم اپنی نسلوں کو بیت المقدس اور فلسطین و غزہ کی مجاہدانہ تاریخ سے واقف کروائیں تاکہ ہماری نسلیں بیت المقدس کی حفاظت اور آزادی کیلئے ہمیشہ تیار رہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اور اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو تکلیف پورے بدن کو محسوس ہوتی ہے۔ لہٰذا ہماری ذمہ داری ہیکہ ایسے نازک حالات میں جب اہل فلسطین و غزہ بیت المقدس کی حفاظت کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم ان کیلئے دعا کریں، اور جس طرح سے ممکن ہو ان کیلئے مددگار ثابت ہوں، اس کیلئے انکے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں، اسرائیل جارحیت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں اور اقوام عالم کو اس پر عمل کرنے کی ترغیب بھی دیں۔ قابل ذکر ہیکہ یہ اس موقع پر دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ناظر عام حضرت مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی صاحب مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا انہیں کی دعا سے یہ عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی دسویں نشست اختتام پذیر ہوئی۔


#Press_Release #News #Alquds #Palestine #Gaza #Alqudsseries #MasjidAqsa #MasjidAlAqsa #BaitulMaqdis #AlqudsConference #MTIH #TIMS

Wednesday, 15 November 2023

مسجد اقصٰی اور مسئلہ فلسطین پر عالم اسلام کی بے حسی قابل افسوسناک ہے!

 مسجد اقصٰی اور مسئلہ فلسطین پر عالم اسلام کی بے حسی قابل افسوسناک ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ سے مولانا محمد عبد القوی کا خطاب!



بنگلور، 08؍ نومبر(پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی پانچویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد کے رئیس شیخ طریقت حضرت مولانا محمد عبد القوی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ اس وقت اہل فلسطین و غزہ بڑی آزمائش کے دور سے گزر رہے ہیں۔وہاں کے حالات کو دیکھ کر اور سن کر دل دہک جاتا ہے، یہی وجہ ہے اس وقت پورا عالم اسلام بے چینی کا شکار ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ روئے زمین پر فلسطین میں رہنے والی عوام نے نہ جانے ظلم و ستم کی کتنی داستانیں رقم کی ہیں، ہر روز ان پر آتش و آہن کا نیا کھیل کھیلا جاتا ہے، معصوم بچوں، جوانوں، بوڑھوں اور خواتین پر زیادتی، قتل و غارت گری کا ہر حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔مولانا نے فرمایا کہ آج ایک بار پھر اہل فلسطین و غزہ پر اسرائیل ظلم و زیادتی، اندھا دھند فائرنگ، بمباری اور قتل عام کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ افسوس کہ تمام نام نہاد انسانیت دوست ممالک، حقوق انسانی کی محافظ تنظیمیں اور مظلوموں کے علم بردار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ جس میں بعض نام نہاد مسلم ممالک بھی شامل ہیں۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر مسلم ممالک اسرائیلی مظالم اور جارحیت کے خلاف متحد ہوکر آواز اٹھاتے اور کارروائی کرتے تو آج نوبت یہاں تک نہیں پہونچتی۔ مگر مسلم ممالک کی بے حسی، استعماری طاقتوں کی تملق پرستی اور امت مسلمہ کے مشترکہ مفادات سے چشم پوشی کرتے ہوئے صہیونی سازشوں اور منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہونچانے میں ان کی معاونت نے قبلۂ اول، مفادات امت اور فلسطینی مظلوم عوام کے حقوق کو دشمن کے ہاتھوں نیلام کردیا۔ مولانا نے فرمایا کہ آج فلسطین میں اسرائیل انسانیت کا قتل عام کررہا ہے، شہر تو شہر، اسپتالوں اور اسکولوں پر بھی اسرائیل بم گرا رہا ہے۔ان کا قصور صرف یہ ہے کہ انھیں اپنی ارضِ مقدس سے پیار ہے۔ بیت المقدس، مسجد اقصیٰ کیلئے وہ اپنی جانیں قربان کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ لیکن مسجد اقصٰی اور مسئلہ فلسطین پر عالم اسلام کی بے حسی قابل افسوسناک ہیں۔ بلکہ ایک طرف جہاں مسئلہ فلسطین و غزہ کو لیکر پورا عالم اسلام کرب واضطراب محسوس کررہا ہے، ایسے میں اسرائیل کا پنجہ مروڑنے کیلئے اپنی طاقت کے استعمال اور فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی اور اظہار ہمدردی کے بجائے دوسری طرف سعودی عرب کے ریاض میں رقص و موسیقی کی محفلیں سجائی جارہی ہیں، فحاشی و عریانیت کا ریکارڈ توڑا جارہا ہے جو قابل افسوس کے ساتھ ساتھ قابل مذمت بھی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ مسئلہ فلسطین پوری امت مسلمہ کا مشترکہ مسئلہ ہے اور مسجد اقصٰی مسلمانوں کا قبلہ اول ہے، جس کی حفاظت پوری امت کی ذمہ داری ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ پوری امت مسلمہ بالخصوص ہندوستانی مسلمانوں کی ذمہ داری ہیکہ وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں، اہل فلسطین و غزہ سے اظہار یکجہتی کریں، اسی کے ساتھ مولانا نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کے حق میں خوب دعاؤں کا اہتمام کریں اور قنوت نازلہ کا بھی اہتمام کریں۔ اللہ تعالیٰ اہل فلسطین و غزہ کی مدد و نصرت فرمائے اور بیت المقدس کی حفاظت فرمائے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا محمد عبد القوی صاحب مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔


#Press_Release #News #Alquds #Palestine #Gaza #Alqudsseries #MasjidAqsa #MasjidAlAqsa #BaitulMaqdis #AlqudsConference #MTIH #TIMS


Tuesday, 14 November 2023

سرزمین فلسطین حضرت ابراہیم ؑ کی میراث ہے، جس پر مسلمانوں کا حق ہے!

سرزمین فلسطین حضرت ابراہیم ؑ کی میراث ہے، جس پر مسلمانوں کا حق ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ سے مفتی محمد حذیفہ قاسمی کا خطاب!

بنگلور، 13؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی تیسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء مہاراشٹرا کے ناظم تنظیم اور انجمن احیاء سنت مہاراشٹرا کے صدر حضرت مولانا مفتی سید محمد حذیفہ صاحب قاسمی مدظلہ نے فرمایا کہ سرزمین فلسطین وہ خطہ ہے جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے خاندان کا میراثی خطہ کہلاتا ہے۔ لیکن دنیا کی آنکھوں میں یہ دھول جھونکی جارہی ہیکہ اس خطہ پر یہودیوں کا حق ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان کے صحیح مصداق یہودی ہیں۔ لیکن حقیقت اسکے برعکس ہے، اور اسکے اصل حقدار مسلم عرب فلسطینی ہیں۔ مولانا نے اس پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق سے ہجرت کرکے فلسطین جارہے تھے اور درمیان میں آپ نے مصر میں پڑاؤ ڈالا۔ بادشاہ مصر ایک عیاش قسم کا انسان تھا، لیکن کچھ معجزات کو دیکھنے کے بعد بادشاہ نے اپنی بیٹی حضرت ہاجرہ علیہما السلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجیت میں دیتے ہوئے حضرت سارہ علیہما السلام کے حوالہ کردیا کہ ان کی خدمت گذار رہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اسکے بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش ہوئی اور ابھی وہ بچے ہی تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے ان کو ان کی والدہ حضرت ہاجرہ کو اس بنجر اور ویران علاقے میں چھوڑ آئے جو اب مکہ معظمہ کے نام سے مشہور ہے۔ ادھر چند سال بعد حضرت سارہ علیہما السلام حاملہ ہوئیں اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی فلسطین میں پیدائش ہوئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اگرچہ فلسطین میں مقیم تھے مگر برابر مکہ میں حضرت ہاجرہ و اسماعیل علیہا السلام کو دیکھنے آتے رہتے تھے- حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے ایک بیٹے اسحاق علیہ السلام کو بیت المقدس میں، جبکہ دوسرے بیٹے اسمعٰیل علیہ السلام کو مکہ میں آباد کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ اسی اثناء میں اللہ کے حکم پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ خانہ کعبہ اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ مسجد الاقصیٰ کی تعمیر فرمائی۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد قریش ہے جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان ہے اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں انکے بیٹے یعقوب علیہ السلام ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے تیرہ بیٹے تھے، جن میں سے ایک حضرت یوسف ؑعلیہ السلام تھے۔ یہ دنوں خاندان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ یہ جو یہودی قوم ہے جو انبیاء کی توہین سے لیکر انکے قتل کرنے تک کی مرتکب ہے، جب انہیں معلوم ہوا کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت بنی اسرائیل کے بجائے قریش میں ہوئی ہے، تو ان یہودیوں نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھی طرح طرح کی سازشیں کیں۔ اور افواہ پھیلائی کہ حضرت ہاجرہ علیہما السلام باشاہ کی بیٹی نہیں لونڈی تھی جبکہ یہ تاریخی حقائق کے برخلاف ہے، یہودیوں نے تورات کے دوسرے مضامین کی طرح اس میں بھی تحریف کی تاکہ بنی اسماعیل اہل قریش کو بنی اسرائیل سے کمتر دیکھا سکیں۔ مولانا نے فرمایا کہ حضرت یوسف علیہ السلام جو حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے اور اسحاق علیہ السلام کے پوتے اور حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے پڑپوتے تھے، فلسطین میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی جائے قیام حبرون کی وادی میں تھی، حضرت اسحاق اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مسکن بھی یہی تھا۔ مولانا نے حضرت یوسف علیہ السلام کے بچپن سے لیکر مصر کے بادشاہ بننے تک کی مکمل تاریخ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ چند سالوں بعد جب حضرت یوسف علیہ السلام مصر کے بادشاہ بنے تو انہوں نے اپنے والدین اور تمام بھائیوں کو مصر بلا لیا، جہاں وہ خوب بڑھے، پھلے اور پھولے اور اس طرح مصر میں ان کی آبادی تیزی سے پھیلتی رہی۔ یہ خاندان فلسطین سے منتقل ہوکر مصر میں آباد ہوا اور جب حضرت یوسف علیہ السلام کا انتقال ہوا تو انکی تدفین ارض فلسطین (کنعان) میں ہوئی۔ مولانا نے فرمایا کہ اس کے سینکڑوں سال بعد جب مصر پر فرعون کی حکومت قائم ہوئی اور اس نے بنو اسرائیل پر ظلم وستم کی انتہا کردی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے بنو اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف ہجرت کی۔ فرعون نے ان کا پیچھا کیا، لیکن بحر احمر میں ڈبو دیا گیا۔ فلسطین آکر بنو اسرائیل نے طرح طرح کی نافرمانیاں شروع کر دیں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں وادی تیہ میں 40 سال تک کے لیے بھٹکا دیا۔ اسی دوران سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا ہارون علیہ السلام نے عمالقہ جو اس وقت بیت المقدس پر قابض تھے سے جنگ کی اور بیت المقدس کے علاقے کو فتح کیا اور بالآخر کچھ سالوں بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصال ہوا۔ مولانا نے فرمایا کہ اس وقت بھی یہودی وہاں نہیں اور بعد میں بھی محض گنے چنے لوگوں کے علاوہ وہاں یہودی نہیں تھے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس کو جو فتح کیا ہے وہ عیسائیوں سے لیا ہے، پھر کچھ دنوں بعد عیسائیوں نے اس پر دوبارہ قبضہ کرلیا، پھر صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے اسکو فتح کرلیا، پھر خلافت عثمانیہ کے پاس رہا، اور جب خلافت عثمانیہ کو شکشت ہوئی تو وہ خطہ برطانیہ میں شامل ہوگیا اور اس وقت دنیا کے یہودیوں نے امریکہ اور برطانیہ کی سرپرستی میں وہاں بسیرا ڈالا کیونکہ ہٹلر نے انکی قوم کو تباہ و برباد کردیا تھا۔ اہل فلسطین نے انسانیت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی زمین انہیں دی اور اقوام متحدہ نے زبردستی انہیں ایک الگ خطہ مختص کردیا۔ اس کے بعد سے اس ظالم قوم نے اہل فلسطین جو وہاں کے اصل باشندے ہیں ان پر ظلم و ستم کا پہاڑ ڈھانا شروع کردیئے اور انکی زمین اور مقدس مقامات پر قبضہ کرنا شروع کردیا، جو اب تک جاری ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ یہودی شروع سے ہی نافرمان اور ظالم قوم ہے، جنہوں نے اپنے انبیاء کرام پر ہی جو ظلم و ستم ڈھائے ہیں وہ پوری دنیا کے سامنے واضح ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ یہ بات واضح ہوچکی ہیکہ ہیکہ فلسطین پر اصل حق عرب مسلمانوں فلسطینیوں کا ہے، کیونکہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی میراث ہے۔ اور یہودیوں کا اس پر کوئی حق نہیں۔ قابل ذکر ہیکہ یہ عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی تیسری نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ مفتی سید حسن ذیشان قادری و قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور رکن شوریٰ قاری محمد عمران کے نعتیہ کلام سے ہوا۔ جبکہ مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی، اراکین عمیر الدین، سید توصیف، وغیرہ خصوصی طور پر شریک تھے۔ اس موقع پر حضرت مولانا مفتی سید محمد حذیفہ صاحب قاسمی مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے صدر اجلاس اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اور صدر اجلاس حضرت مفتی محمد حذیفہ صاحب قاسمی مدظلہ کی دعا سے یہ عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی تیسری نشست اختتام پذیر ہوئی۔


#Press_Release #News #Alquds #Palestine #Gaza #Alqudsseries #MasjidAqsa #MasjidAlAqsa #BaitulMaqdis #AlqudsConference #MTIH #TIMS