Wednesday, 3 November 2021

سیرت النبیؐ اور اسوۂ رسولؐ کو اپنا کر ہی مسلمان دونوں جہاں میں کامیاب ہوسکتا ہے!



 سیرت النبیؐ اور اسوۂ رسولؐ کو اپنا کر ہی مسلمان دونوں جہاں میں کامیاب ہوسکتا ہے!

علماء کرام کے ولولہ انگیز خطابات مرکز تحفظ اسلام ہند کی دس روزہ عظیم الشان سیرت النبی ؐکانفرنس اختتام پذیر!


 بنگلور، 03؍ نومبر (پریس ریلیز): انسانوں کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کو بھیجتا رہا ہے۔ سب سے آخر میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو مبعوث فرمایا اور آپؐ کی زندگی کو دنیا والوں کے لیے نمونہ قرار دیا۔ قیامت تک پیش آنے والے تمام مسائل کا صحیح حل سیرت النبیؐ اور اسوۂ رسولؐ میں موجود ہے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ سنت رسولؐ اور حیاتِ پیغمبرؐ میں وہ نقوش ملیں گے، جن کو اختیار کرکے ایک انسان کامیاب اور قابلِ رشک زندگی گزار سکتا ہے۔ یہی وجہ ہیکہ نبی ﷺ کی سیرت مبارکہ انسانی شاہراہ حیات پر کامیابی وکامرانی کی شاہ کلید ہے۔ آپؐ کی سیرت طیبہ اپنی ظاہری باطنی وسعتوں اور گہرائیوں کے لحاظ سے کوئی شخصی سیرت نہیں بلکہ ایک عالمگیر اور بین الاقوامی سیرت ہے، جو کسی شخص واحد کا دستور زندگی نہیں بلکہ جہانوں کے لئے ایک مکمل دستور حیات ہے۔ محمد فرقان نے فرمایا کہ جوں جوں زمانہ ترقی کرتا چلا جائے گا اسی حد تک انسانی زندگی کی استواری اور ہمواری کے لئے اس سیرت کی ضرورت شدید سے شدید تر ہوتی چلی جائے گی۔ بالخصوص ہندوستان و عالمی حالات دن بہ دن ناگزیر ہوتے جارہے ہیں۔ان حالات کا مقابلہ بھی سیرت النبیؐ اور اسوۂ رسولؐ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اسی وجہ سے قرآنِ کریم نے تمام مسائل ومشکلات میں رسول اللہؐ کی مبارک اور بافیض زندگی کو ہی تمام مسلمانوں کے لیے بہتر اسوہ اور نمونہ قرار دیا ہے۔ لہٰذا اب ہماری کامیابی و کامرانی اور فلاح و نجات اس بات پر منحصر ہے کہ ہم آپؐ کی زندگی کو اپنائے۔ مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے فرمایا کہ سیرت النبیؐ کے اسی پیغام کو عام کرنے کیلئے مرکز تحفظ اسلام ہند نے ”عظیم الشان آن لائن دس روزہ سیرت النبیؐ کانفرنس“ کا انعقاد کیا۔ جس سے حضرت مولانا انیس احمد آزاد قاسمی صاحب بلگرامی نقشبندی (ناظم و شیخ الحدیث جامعہ عربیہ سید المدارس دہلی)، حضرت مفتی سید حذیفہ صاحب قاسمی (ناظم تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹرا)، حضرت مولانا سید احمد ومیض صاحب ندوی نقشبندی (استاذ حدیث دارالعلوم حیدرآباد)، حضرت مفتی محمد شفیق احمد صاحب قاسمی (رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند)، حضرت مولانا عبد العلیم صاحب فاروقی (سرپرست مرکز تحفظ اسلام ہند و رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند و ندوۃ العلماء لکھنؤ)، حضرت مولانا سید بلال حسنی صاحب ندوی (ناظر عام دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ)، حضرت مفتی محمد راشد صاحب گورکھپوری (صدر و استاذ شعبہ تحفظ ختم نبوت مظاہر العلوم سہارنپور)، حضرت مفتی افتخار احمد صاحب قاسمی (سرپرست مرکز تحفظ اسلام ہند و صدر جمعیۃ علماء کرناٹک)، حضرت مولانا محمد مقصود عمران صاحب رشادی (امام و خطیب جامع مسجد سٹی بنگلور) اور حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ صاحب رحمانی (سرپرست مرکز تحفظ اسلام ہند و سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) نے سیرت النبیؐ کے مختلف موضوعات پر بصیرت افروز خطاب فرمایا۔ یہ کانفرنس مرکز تحفظ اسلام ہند کے آفیشیل یوٹیوب چینل اور فیس بک پیج تحفظ اسلام میڈیا سروس پر براہ راست نشر کیا جارہا تھا، جسے سننے والوں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تمام اکابر علماء کرام نے فرمایا کہ مسلمان صحیح معنوں میں سیرت النبیؐ کی پیروی کریں کیونکہ نبی پاکؐ کی تعلیمات کی پیروی میں ہی ہماری کامیابی و کامرانی کا راز مضمر ہے۔ اور موجودہ حالات کا مقابلہ بھی سیرت النبیؐ اور اسوہ رسولؐ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ قابل ذکر ہیکہ اس کانفرنس کا آغاز 13؍ اکتوبر 2021ء کو مفسر قرآن حضرت مولانا انیس احمد آزاد قاسمی بلگرامی صاحب کے خطاب سے ہوا اور 22؍ اکتوبر 2021ء کو شیخ طریقت حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کے خطاب و دعا سے اختتام پذیر ہوا۔ جس میں خاص طور پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اعلیٰ قائد الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی صاحب رحمہ اللہ کیلئے دعائے مغفرت کی گئی۔اس موقع پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام اکابر علماء، سامعین کرام اور اراکین مرکز کا شکریہ ادا کیا۔

Monday, 1 November 2021

ہندوستان کے موجودہ حالات کا مقابلہ اسوۂ رسول اور سیرت النبیؐ کے ذریعے ہی ممکن ہے!

 


ہندوستان کے موجودہ حالات کا مقابلہ اسوۂ رسول اور سیرت النبیؐ کے ذریعے ہی ممکن ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے سیرت النبیؐ کانفرنس کی اختتامی نشست سے مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی کا ولولہ انگیز خطاب!


بنگلور، یکم نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن دس روزہ سیرت النبیؐ کانفرنس کی اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اس وقت ملک بڑے نازک دور سے گزر رہا ہے اور اس وقت مسلمان خود اپنے وطن میں مختلف قسم کے مصائب و مشکلات، آفات وبلیات اور ظلم وتشدد کا شکار ہیں۔ مخالفین نے ہر طرف سے گھیرا بندی کرلی ہے اور مسلمانوں کی جان ومال، عزت وآبرو، دین وایمان ہر چیز داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ بالخصوص مآب لنچنگ کا مسئلہ، لڑکیوں کے ارتداد کا مسئلہ اور مسلم پرسنل پر یلغار کا معاملہ مسلمانوں کیلئے باعث تشویش ہے۔ لیکن حالات کتنے ہی مخالف اور خوفناک ہوجائیں بحیثیت مسلمان ہمیں امید اور صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے، ہمارے حوصلے کمزور اور ہمتیں پست نہیں ہونی چاہئے۔کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام خطہ ہائے عالم اور تمام شعبہ ہائے زندگی کیلئے مکمل اسوہ ہیں آپؐ کی حیات طیبہ تاقیامت مسلمانوں کیلئے مشعل راہ ہے اور ہر جگہ ہر شعبہ میں آپؐ کا طریقہ واجب الاطاعت اور کامیابی کی ضمانت ہے۔ سب سے بڑی بات یہ کی آپؐ کی سنت، سیرت اور اسوہ اللہ کی رضا و خوشنودی کی شاہ کلید ہے اور مصائب وحوادث کیلئے نسخہ اکسیر ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ مشکل سے مشکل ترین حالات میں بھی ہمیشہ سیرت النبیؐ سے سبق حاصل کرنی چاہئے۔ انہوں نے فرمایا کہ سیرت النبیؐ کی روشنی میں مشکل حالات میں ایک مسلمان کو سب سے پہلی چیز صبر و استقامت کی راہ اختیار کرنی چاہئے کیونکہ صبر وہ استقامت حالات کا رخ موڑ دیتی ہے اور صبر کرنے والوں کو اللہ اپنی خوشنودی کی بشارت دیتا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ آج باطل طاقتوں کی جانب سے کوشش کی جارہی ہیکہ مسلمانوں کے دلوں سے ایمان کو نکال دیا جائے اور انہیں مرتد کردیا جائے، ایسے حالات میں ہم صبر و استقامت کے ساتھ ایمان کو اپنے سینے سے لگائے رکھیں اور دین پر خود بھی قائم رہیں اور دوسروں کو بھی قائم رکھیں۔ کیونکہ ایمان کی نعمت سب سے بڑی نعمت ہے اور اگر ہم اس پر قائم و دائم رہیں گے تو اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کے حقدار بنیں گے۔ مولانا رحمانی نے فرمایا کہ سیرت النبیؐ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہیکہ جب ہم مشکلات اور پریشانیوں میں مبتلا ہوں تو ہمیں ایسے اعمال کو انجام دینا چاہیے جس سے اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت ہمارے ساتھ شامل حال رہے۔ کیونکہ ایک مومن اچھے اعمل سے ہی اپنے اندر قوت اور اللہ کی مدد حاصل کرسکتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی مدد کا وعدہ بھی انہیں لوگوں سے ہے جو ایمان اور اچھے راستے پر چلتے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ سیرت النبیؐ ہمیں یہ بھی پیغام دیتی ہیکہ جب ظلم و ستم حد سے تجاوز کر جائے تو انسان اللہ کی طرف رجوع ہوکر مدد مانگے اور حالات کا صبر و استقامت کے ساتھ ساتھ عزم و حوصلہ اور ہمت و جرأت کے ساتھ مقابلہ کریں۔ کیونکہ حال سے عاجز ہو مستقبل کیلئے مایوس ہوجانا زندہ قوموں کی شان نہیں ہے۔زندہ قومیں مشکل سے مشکل حالات کا حکمت اور جرأت کے ساتھ مقابلے کرتی ہیں اور نئے عزم و حوصلہ کے ساتھ مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں ہندوستان کے موجودہ حالات کا مقابلہ اسوۂ رسول اور سیرت النبیؐ کے ذریعے کرنا چاہئے۔ اس موقع پر مولانا رحمانی نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ یہ دس روزہ سیرت النبیؐ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد یہ تھا کہ سیرت النبیؐ کا پیغام عام ہو اور مسلمانوں حضور اکرمؐ کی سیرت کے تمام پہلوؤں کو اپنی زندگی میں نافذ کرکے سنت و شریعت کا پابند بن جائے۔ قابل ذکر ہیکہ یہ دس روزہ عظیم الشان سیرت النبیؐ کانفرنس شیخ طریقت حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کے دعا سے اختتام پذیر ہوا۔ جس میں مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اعلیٰ قائد الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی صاحبؒ کیلئے خاص طور پر دعائے مغفرت کی گئی۔

Sunday, 31 October 2021

حضرت محمدﷺ خاتم النبیین اور رحمت اللعالمین ہیں، ختم نبوت کی حفاظت اورآپکی اطاعت ہماری ذمہ داری ہے!

 


حضرت محمدﷺ خاتم النبیین اور رحمت اللعالمین ہیں، ختم نبوت کی حفاظت اورآپکی اطاعت ہماری ذمہ داری ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے سیرت النبیؐ کانفرنس سے مفتی راشد گورکھپوری اور مولانا مقصود عمران رشادی کا خطاب!


 بنگلور، 30؍ اکتوبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان دس روزہ آن لائن سیرت النبیؐ کانفرنس کی ساتویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ مظاہر العلوم سہارنپور کے شعبہ تحفظ ختم نبوت کے صدر و استاذ حضرت مولانا مفتی محمد راشد گورکھپوری صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی بھلائی، ہدایت و راہنمائی کیلئے وقتاً فوقتاً ایک لاکھ چوپوہزار کم و بیش انبیاء اور رسول دنیا میں مبعوث فرمائے اور یہ سلسلہ نبوت خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تشریف آوری پر ختم ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کو آپ ؐپر ختم کر دیا ہے۔ آپ ؐاللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، آپ کی نبوت کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ ہمیش کیلئے بند کر دیا گیا ہے، اب آپؐ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا۔ جو شخص آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہ سمجھے، وہ بلا شبہ کافر ہے اور جو شخص آپؐ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے، وہ بلا شبہ کافر ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ہر مسلمان پر آپؐ کے آخری نبی ہونے پر ایمان لانا ضروری ہے، جو بھی آپؐ کو آخری نبی نہیں مانتا یا اس میں ذرہ بھر بھی شک کرے گا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں آپؐ کو خاتم النبیین قرار دے کر واضح کر دیا ہے کہ حضور ؐ کی بعثت سے رسالت و نبوت کا دروازہ بند ہوچکا ہے، آپؐ قیامت تک کیلئے نبی ہیں۔ مولانا گورکھپوری نے فرمایا کہ آپؐ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد سے نہ آج تک کوئی نبی یا رسول آیا اور نہ آئے گا۔ آپؐ کے تشریف لے جانے کے بعد جو بھی دعویٰ کرے گا، وہ جھوٹا، فریبی، مکار اور دجال ہوگا۔ مولانا نے فرمایا کہ دور حاضر میں قادیانی اور شکیلی لوگوں کو دھوکہ دیکر انہیں مرتد کرتے ہیں۔ یہ بات ہم سب کو ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ قادیانیت اور شکیلیت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ ایمان کی تکمیل کے لیے جس طرح اللہ تعالیٰ کو معبود ماننے کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اُس کے علاوہ کسی کو حقیقی معبود نہ مانے، اسی طرح حضرت محمدؐ کو نبی و رسول ماننے کے ساتھ ساتھ یہ ماننا بھی ضروری ہے کہ آپؐ اللہ کے آخری رسول و نبی ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ آج ضرورت ہیکہ ہم لوگ عہد کریں کہ ہم کسی بھی قیمت پر عقیدہ ختم نبوت کے دفاع وتحفظ اور اس کی ترویج واشاعت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اس عقیدے کے خلاف کی جانے والی بڑی سے بڑی کوشش کو ناکام بنانے میں اپنا ایمانی کردار ادا کریں گے۔


  مرکز تحفظ اسلام ہند کے سیرت النبیؐ کانفرنس کی نویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامع مسجد سٹی بنگلور کے امام و خطیب حضرت مولانا محمد مقصود عمران رشادی صاحب نے فرمایا کہ رسول اللہؐ تمام دنیا کے انسانوں کے لیے مینارہ نور ہیں۔ کائنات میں بسنے والے ہر ہر فرد کی کامل رہبری کے لیے اللہ رب العزت کی طرف سے رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا۔ سب سے آخر میں بھیج کر قیامت تک کے لیے آنجناب کے سر پر تمام جہانوں کی سرداری ونبوت کا تاج رکھ کر اعلان کر دیا گیا کہ اے دنیا بھر میں بسنے والے انسانو! اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر اور پُرسکون بنانا چاہتے ہو تو تمہارے لیے رسول اللہؐ کی مبارک ہستی میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ ان سے رہنمائی حاصل کرو اور دنیا وآخرت کی ابدی خوشیوں اور نعمتوں کو اپنا مقدر بناو۔ گویا کہ اس اعلان میں دنیا میں بسنے والے ہر ہر انسان کو دعوت عام دی گئی ہے کہ جہاں ہو، جس شعبے میں ہو، جس قسم کی رہنمائی چاہتے ہو، جس وقت چاہتے ہو، تمہیں مایوسی نہ ہو گی، تمہیں تمہاری مطلوبہ چیز سے متعلق مکمل رہنمائی ملے گی۔ مولانا رشادی نے فرمایا کہ یہی وجہ ہیکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ؐکو کامل نمونہ اور اسوہ حسنہ قرار دیا ہے۔ آپؐ کی سیرت تمام انسانوں کی رہنمائی اور کامیابی کی ضمانت ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ نبی اکرمؐ جس وقت دنیا میں مبعوث ہوئے وہ دور انسانیت کی تباہی کا نہایت سنگین دور تھا۔ نبی اکرمؐ نے اپنی نرالی اور پیاری تعلیمات کے ذریعہ انسانوں کو تباہی کے دلدل سے نکالا اور قعر مذمت سے نکال اوج ثریا پر پہنچایا اور دنیا کے سامنے ایک ایسا پاکیزہ اور پیارا معاشرہ پیش فرمایا جس کی نظیر قیامت تک نہیں پیش کی جاسکتی۔ مولانا نے فرمایا کہ آج ہمارے لئے کامیابی کی کلید اور ہمارے سارے مسائل کا حل صرف اسوہ حسنہ کی پیروی ہی میں مضمر ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم اور ہمارا معاشرہ اصلاح پذیر ہو تو ہمارے لئے آنحضرتؐ کی تعلیمات پر عمل کرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں۔ کیونکہ آپؐ کی سیرت طیبہ حیات انسانی کے ہر گوشہ کا کامل احاطہ کرتی ہے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر دونوں اکابرین نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔

Friday, 29 October 2021

سیرت النبیؐ کی روشنی میں ہر دور میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے!



 سیرت النبیؐ کی روشنی میں ہر دور میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے! 

مرکز تحفظ اسلام ہند کے سیرت النبیؐ کانفرنس سے مفتی افتخار احمد قاسمی کا ولولہ انگیز خطاب!


 بنگلور، 29؍ اکتوبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن دس روزہ سیرت النبیؐ کانفرنس کی آٹھویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر حضرت مولانا مفتی افتخار احمد صاحب قاسمی مدظلہ (مہتمم جامعہ اسلامیہ تعلیم القرآن بنگلور) نے فرمایا کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تک جتنے بھی نبی یا رسول اس جہاں فانی میں مبعوث ہوئے ان سب کی بعثت کا بنیادی مقصد ایک اللہ کی عبادت کی دعوت تھی، انسانوں کو انسانوں کی عبادت اور غلامی سے نجات دلا کر اللہ وحدہ لا شریک کی وحدانیت اور کبریائی سے آشنا کرکے اُن کی جبینوں کو خالق و مالک حقیقی کے در پر جھکانا تھا۔اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے اس سنہری کڑی کو خاتم النبیین حضرت حضرت محمد رسول اللہﷺ پر ختم کیا،اور آپؐ کی بعثت کا مقصد بھی دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح دعوت توحید تھا۔ مولانا نے فرمایا کہ جب انسانیت پستی کی انتہا کو پہنچ چکی تھی، ہر طرف سماجی ومعاشرتی بدنظمی اور معاشی واقتصادی بے چینی تھی، اخلاقی گراوٹ روز افزوں تھی، مزید برآں بت پرستی عروج پر تھی، شدید ترین نفرتوں، انتقامی جذبات، انتہا پسندانہ خیالات، لاقانونیت، سودخوری، شراب نوشی، خدا فراموشی، عیش پرستی وعیاشی، مال وزر کی ہوس، سنگ دلی اور سفاکی وبے رحمی سے پورا عالم متاثر تھا، اور ہر طرف ظلم و ستم کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ ایسے دور جاہلیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو رحمت العالمین بنا کر مبعوث فرمایا۔ مولانا نے فرمایا کہ آپؐ نے قرآنی تعلیمات ونبوی ہدایات کے ذریعہ دنیا کو بدلا، عرب وعجم میں انقلاب برپا کیا، عدل وانصاف کو پروان چڑھایا، حقوق کی ادائیگی کے جذبوں کو ابھارا، احترام انسانیت کی تعلیم دی، قتل وغارت گری سے انسانوں کو روکا، عورتوں کو مقام ومرتبہ عطا کیا، غلاموں کو عزت سے نوازا، رب سے ٹوٹے ہوئے رشتوں کو جوڑا اور معاشرہ کو سدھار۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ نبی اکرمؐ نے یہ حیرت انگیز کارنامہ صرف 23؍ سالہ مختصر مدت میں انجام دیا۔ تئیس سالہ دور میں آپ ؐنے ساری انسانیت کی فلاح وصلاح اور کامیابی کا ایک ایسا نقشہ دنیا کے سامنے پیش کیا کہ اس کی روشنی میں ہر دور میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے اور اصلاح وتربیت کا کام انجام دیا جاسکتا ہے۔ یہی سیرت النبیؐ کا انقلابی پیغام ہے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ اللہ آپؐ ہمارے لئے کامل نمونہ ہیں لہٰذا ہماری کامیابی اور کامرانی آپ ؐکی سیرت طیبہ کو عملی طور پر اپنانے میں ہی ہے۔انہوں نے فرمایا کہ یقیناً ہر مسلمان آپؐ سے محبت کرتا ہے لیکن ہم آپ ؐکے لائے ہوئے دین اور آپؐ کی دی ہوئی تعلیمات کے مطابق ساری زندگی گزارنے کا فیصلہ کریں گے تو ہمارا دعویٰ محبت سچا ثابت ہوگا۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے اور دعاؤں سے نوازتے ہوئے فرمایا کہ مرکز تحفظ اسلام ہند ہر سلگتے مسائل کے پیش نظر امت کی رہبری و رہنمائی کیلئے مختلف پروگرامات منعقد کرتے رہتا ہے، جس سے معاشرے پر کافی اچھے نتائج پڑتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس ادارے کی خدمات کو شرف قبولیت بخشے اور اسکے کارکنان کو جزائے خیر عطاء فرمائے۔

Thursday, 28 October 2021

سیرت النبیؐ کو عملی طور پر اپنی زندگیوں میں رائج کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے!


 سیرت النبیؐ کو عملی طور پر اپنی زندگیوں میں رائج کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے! 

مرکز تحفظ اسلام ہند کے سیرت النبیؐ کانفرنس سے مفتی شفیق احمد قاسمی اور مولانا بلال حسنی ندوی کا خطاب!


 بنگلور، 28؍ اکتوبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن دس روزہ سیرت النبیؐ کانفرنس کی چوتھی نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ حضرت مولانا مفتی محمد شفیق احمد صاحب قاسمی مدظلہ نے فرمایا کہ تاریخ عالم پر نظر دوڑائیں تو ہمیں عظیم شخصیتوں کی ایک کہکشاں دکھائی دیتی ہے لیکن کوئی شخصیت بھی جملہ صفات و کمالات کی جامع اور ہر لحاظ سے کامل نظر نہیں آتی۔ انسانیت اپنے جملہ صفات و کمالات کی تکمیل کے لئے ایک ایسی جامع و کامل شخصیت کی محتاج رہی ہے جو انفرادی و اجتماعی لحاظ سے انسان کے ظاہر و باطن میں انقلاب برپا کرسکے اور زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی کرسکے۔ایسی ذات گرامی صرف اور صرف حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکت ہے۔ اسی لئے آپؐ کی ذات کو پروردگار عالم نے تمام انسانوں کے لئے نمونہ حیات قرار دیا۔ مولانا نے فرمایا کہ رحمت دوعالمؐ کی رسالت عالم گیر ہے، آپؐ پوری دُنیا کے لیے چراغِ راہ بن کر تشریف لائے تھے، آپؐ ایک ایسے نظام حیات کے داعی تھے جو ازل سے ابد تک انسانیت کیلئے رہنما و معلم ہے۔ آپؐ نے زندگی کے کسی بھی گوشہ کو تشنہ نہیں چھوڑا بلکہ کامل و مکمل طریقہ سے تمام شعبوں میں زبانی و عملی ہر طرح سے اور ہر سطح سے رہبری فرمائی۔ خواہ ان اُمور کا تعلق عبادت سے ہو یا معاملات سے یا معاشرت واخلاقیات سے، زندگی کا ہر مرحلہ اس آفتابِ نبوت کی پاکیزہ و مقدس روشنی سے منور اور روشن ہے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ آپ ؐ ہی کی سیرت و سنت کو سامنے رکھ کر دُنیا راہ یاب ہوسکتی ہے، ہر طرح کے مسائل کا حل آپؐ ہی کی اتباع میں مضمر ہے، جملہ خرافات و مصائب سے نجات کا نسخہ آپکی زندگی میں ہی مل سکتا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ نبی آخرا لزماں ؐ کی حیات طیبہ ہر ایک کے لیے ایسا روشن نمونہ ہے کہ جس پر چل کر اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل ہو سکتی اور انسان دونوں جہانوں کی کامیابیوں سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔ لہٰذا ضرورت ہیکہ ہم سیرت النبیؐ کو عملی طور پر اپنائیں۔


 مرکز تحفظ اسلام ہند کے سیرت النبیؐ کانفرنس کی چھٹی نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ناظر عام حضرت مولانا سید بلال عبد الحئ حسنی ندوی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ آج سے چودہ سو سال قبل جب دنیا ایک ظلمت کدہ بنی ہوئی تھی، تہذیب و تمدن عنقاء تھا، پوری انسانیت ضلالت وگمراہی کی انتہا کو پہنچ چکی تھی، ہرطرف کفر وشرک کے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے، جہالت وبربریت کا دور دور تھا، چار سو قتل وغارت گری کی حکومت قائم تھی، ظلم وستم کا بازار گرم تھا، نہ کوئی یتیم کا پرسان حال تھا، نہ بیوہ کا یار و مددگار، غریبوں و لاچاروں کو زور و زبردستی کی چکی میں پیسا جاتا تھا، عورت کے وجود کو منحوس گردانا جاتا تھا، ظلم کی آخری انتہا یہ تھی کہ جزیرۃ العرب میں بچیاں زندہ درگور کر دی جاتی تھیں۔ ایسے زمانہ جاہلیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات کیلئے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو رحمت بنا کر بھیجا۔مولانا نے فرمایا کہ آپ ؐ کی تشریف آوری سے ظلمت کدہ عالم میں روشنی پھیلی، خزاں رخصت ہوگئی، بہار کی ہوائیں چلنے لگیں اور مختصر وقت میں وہ عظیم انقلاب برپا ہوا کس کی تاریخ مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔مولانا ندوی نے فرمایا کہ نبی ؐکی سیرت نہایت جامع اور کامل ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر اعتبار سے آپؐ کی زندگی کو انسانیت کے لیے نمونہ اور اسوہ بنایا ہے، زندگی کا کوئی پہلو اور شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں آ پکی تعلیمات نہ ہوں، ہر موقع اور مرحلہ کے لیے آپؐ نے انسانوں کو مستقل تعلیمات سے نوازا ہے۔ انسانیت کی کامیابی اور ابدی نجات آپ ؐکی سیرت پر عمل آوری ہی میں پوشیدہ ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ نبی کریمؐ نے جن تعلیمات کے ذریعہ دنیا میں انقلاب برپا کیا اور انسانوں کی کایا پلٹی وہ تعلیمات ہمارے لیے مسلسل پیغام دیتے ہیں کہ ہر دور اور ہر زمانے میں ہم انہی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ آج ضرورت ہیکہ ہم اپنے آپ کو سنت و شریعت کا پابند بنائیں اور اسی کے مطابق زندگی گزاریں اور سیرت النبی ؐکو عملی طور پر اپنی زندگیوں میں رائج کریں، یہی سیرت النبی ؐکا اصل پیغام ہے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر دنوں اکابرین نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔