Saturday, 2 December 2023

انبیاء بنی اسرائیل کا قبلہ بھی بیت اللہ ہے اور مسجد اقصیٰ کا حقدار مسلمان ہی ہے!

 انبیاء بنی اسرائیل کا قبلہ بھی بیت اللہ ہے اور مسجد اقصیٰ کا حقدار مسلمان ہی ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ سے مولانا ثمیر الدین قاسمی کا خطاب!


بنگلور، 28؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی نویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے ماہر فلکیات حضرت مولانا ثمیر الدین قاسمی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ فلسطین جو صدیوں سے ایک مقدس اور پاکیزہ سرزمین رہا ہے۔بے شمار انبیاء کا مسکن و مدفن ہے۔ خاص طور پر انبیاء بنی اسرائیل کا قیام مسجد اقصٰی کے ارد گرد رہا ہے، یہ جب بھی نماز پڑھنے مسجد اقصٰی تشریف لاتے تھے تو انکا رخ بیت اللہ کی طرف ہوتا تھا یعنی تمام انبیاء نبی اسرائیل کا قبلہ بھی بیت اللہ ہی رہا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تک مکہ مکرمہ میں قیام فرما رہے اس وقت نماز پڑھتے ہوئے آپؐ اس انداز میں کھڑے ہوتے کہ بیت اللہ اور بیت المقدس دونوں آپؐ کے سامنے ہوتے۔ مدینہ طیبہ آمد کے بعد رسول اکرم ؐ کو حکم الٰہی تھا کہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں۔ سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس ہی اہلِ اسلام کا قبلہ رہا، مگر رسول اکرم ؐ کی تمنا یہی تھی کہ کعبۃ اللہ کو ہی قبلہ بنایا جائے۔ رسول اکرم ؐاس سلسلے میں وحئ الٰہی کا انتظار فرما رہے تھے۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد آپؐ  کو بیت اللہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا۔ جبکہ یہود کا قبلہ بیت اللہ نہیں ہے وہ دیوار گریہ کو سب کچھ مانتے ہیں۔ لہٰذا انبیاء بنی اسرائیل کا قبلہ بھی بیت اللہ تھا اور مسلمانوں کا قبلہ بھی بیت اللہ ہے۔ اسے دوسرے الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہیکہ مسجد اقصیٰ کا قبلہ بھی بیت اللہ ہے۔ اس لحاظ سے اس پر مسلمانوں کا حق ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ جب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا تو حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ، جو یہود کے جلیل القدر عالم تھے، انکو یقین ہوگیا کہ یہ وہی نبی آخر الزمان ؐ ہیں جن کی بعثت کی پیشین گوئی صحائف قدیمہ میں درج ہیں، لہٰذا وہ دوسرے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؐ سے چند مسائل دریافت کیے جسکا آپؐ نے اطمینان بخش جواب دیا، جس کے بعد حضرت عبد اللہ بن سلامؓ نے ایمان قبول کرلیا۔ اسکے بعد رسول اللہؐ نے یہودیوں کو بلایا اور ان کو اسلام کی دعوت دی لیکن یہودیوں نے قبول نہیں کیا۔لہٰذا اب جس قوم نے اپنے بڑے علماء کی اور اپنی کتاب کی بات نہیں مانی وہ باطل پر قائم ہے اور مسلمان ہی حق پر ہیں۔اس لحاظ سے بھی بیت المقدس پر مسلمانوں کا حق ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ تیسری بات یہ ہیکہ جب سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس فتح کی ہے تب سے لیکر آج تک مسجد اقصیٰ میں اللہ کی عبادت، نمازوں کا اہتمام جو انبیاء بنی اسرائیل بھی کرتے تھے، آج وہ صرف مسلمان ہی کررہے ہیں، یہود و نصاریٰ اور عیسائی نہیں۔اس اعتبار سے بھی بیت المقدس پر جو حق ہے وہ مسلمانوں کا ہے کسی اور کا نہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ بیت المقدس کو مسلمانوں نے نمازوں اور عبادتوں سے آبا رکھا ہے، یہود اگر وہاں آئیں گے بھی تو اس طرح نماز نہیں پڑھیں گے جس طرح ان کے نبیوں نے پڑھی تھی، اور توحید پر جو عقیدہ انبیاء بنی اسرائیل کا تھا وہ آج کے یہودیوں کا نہیں ہے۔ یہ چوتھی دلیل ہیکہ اس اعتبار سے بھی بیت المقدس پر مسلمانوں کا حق ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ پانچوں بات یہ ہیکہ مسجد اقصیٰ کے نام کا اطلاق پورے حرم قدسی پر ہوتا تھا جس میں سب عمارتیں جن میں اہم ترین قبۃ الصخرہ ہے۔ اس کے نیچے ایک غار ہے، جو دور دور تک پھیلی ہوئی ہے، معراج کی رات حضورؐ بیت المقدس سے قبۃ الصخرہ تشریف لے گئے اور اس کی زیارت کروائی گئی۔ اس غار میں انبیاء بنی اسرائیل آکر عبادت کیا کرتے اور نماز پڑھا کرتے تھے، اس غار کو جب بھی کھولا جاتا ہے اور اس میں آج جب مسلمان جاتے ہیں تو وہ وہاں نماز پڑھتے ہیں، تو اس پانچویں دلیل کے اعتبار سے بھی مسجد اقصی کا حقدار مسلمان ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ یہود و نصاریٰ بھی حقدار بن سکتے تھے لیکن اگر وہ اس طرح عبادت کرتے جیسے ان کے انبیاء عبادت کرتے تھے، چونکہ وہ اس طرح نہیں کرتے اور خاتم الانبیاءﷺ پر ایمان نہیں رکھتے تو اس پر انکا کوئی حق نہیں ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اس وقت ارضِ فلسطین کے جو حالات ہیں اس سے پوری امت مسلمہ پریشان ہے، ہماری دعا ہیکہ بیت المقدس محفوظ رہے، بیت المقدس پر نماز ہوتی رہے اور بیت المقدس ہمیشہ مسلمانوں کے قبضے میں رہے اور جو اہل فلسطین و غزہ کی اللہ تعالیٰ مدد و نصرت فرمائے اور انہیں کامیابی سے ہمکنار فرمائے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا ثمیر الدین قاسمی صاحب مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔


#Press_Release #News #Alquds #Palestine #Gaza #Alqudsseries #MasjidAqsa #MasjidAlAqsa #BaitulMaqdis #AlqudsConference #MTIH #TIMS

اہل فلسطین کے ساتھ کھڑا ہونا مسلمانوں کی مذہبی ذمہ داری ہے اور حمیت ایمانی و غیرت اسلامی کا تقاضا ہے!

 اہل فلسطین کے ساتھ کھڑا ہونا مسلمانوں کی مذہبی ذمہ داری ہے اور حمیت ایمانی و غیرت اسلامی کا تقاضا ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ سے مولانا محمد شمشاد رحمانی  کا خطاب!

بنگلور، 28؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی بارہویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ حدیث اور بہار، اڑیشہ و جھارکھنڈ کے نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد صاحب رحمانی و قاسمی مدظلہ نے فرمایا کہ گزشتہ کئی دن سے فلسطین میں اسرائیلی جارحیت جاری ہے۔ اسرائیل کے میزائل حملوں اور بمباری سے تقریباً ہزاروں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور زخمیوں کی تعداد بھی ہزار میں ہے۔ شہید ہونے والوں میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اسرائیل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت معصوم بچوں اور خواتین کو نشانہ بنا رہا ہے۔ تاکہ فلسطینیوں کی نسل کشی کر سکے۔ رہائشی علاقوں، مساجد، تعلیم گاہوں، اسپتالوں غرض ہر جگہ بمباری کر رہا ہے۔ اسرائیل نے کئی دنوں سے غزہ کے لئے بجلی، پانی، ادویات اور اشیائے خور و نوش کی ترسیل روک رکھی ہے۔ فلسطین کے ان حالات کی وجہ سے ہر انصاف پسند، صاف دل اور زندہ ضمیر رکھنے والا شخص رنجیدہ ہے۔ ایک مومن تو اپنے دل میں درد، جگر میں سوز اور کلیجے میں جلن محسوس کرتا ہے، یہی وجہ ہیکہ اس وقت پوری امت مسلمہ بے چین ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ فلسطین کا مسئلہ درحقیقت قبلۂ اول مسجد اقصٰی سے جڑا ہوا ہے اور سرزمین فلسطین بہت بابرکت سرزمین ہے اور انبیاء کرام علیہم السلام کا مسکن و مدفن بھی ہے۔ مولانا نے فرمایا بعض لوگوں کو یہ شکایت ہیکہ فلسطینیوں کی جانب سے اس جنگ کی پہل ایک غلطی ہے جبکہ درحقیقت وہ لوگ حقیقت سے ناواقف ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ فلسطینیوں کی جانب سے یہ حملے اس غم و غصے کا اظہار ہے، جو اسرائیل کی ریاست کی جانب سے مظالم ڈھانے کی صورت میں فلسطینیوں میں موجود ہے۔ فلسطینیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے اسرائیلی مظالم کی وجہ سے یہ پہل ہوئی ہے۔ نیز اسرائیل مقبوضہ مسلسل نہتے اور مظلوم فلسطینی شہریوں پر ظلم و ستم اور قتل کررہا تھا۔ مولانا نے فرمایا کہ صہیونی انتہا پسند آئے روز مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کرتے ہیں جو کہ مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ فلسطینی عوام قبلۂ اول اور مسجد اقصیٰ کے محافظ ہیں اور یہ مزاحمت کا خوف ہے جو اسرائیل کو اس کے ہدف کی طرف بڑھنے سے روک رہا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے تعلقات نے بھی ایک وجہ ہیکہ فلسطینیوں کو مجبور کیا کہ مزاحمت کے نئے مرحلے کا آغاز کیا جائے اور مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھا جائے۔ مولانا نے فرمایا کہ ملک فلسطینیوں کا، زمین فلسطینیوں کی مگر عالمی طاقتوں کی مدد سے ناجائز قبضہ صہیونیوں کا اور جب اس قبضے کیخلاف اور جانوں کی حفاظت کیلئے آواز اٹھائی جائے تو عالمی برادری اسے مظلوم کے بجائے ظالم کہتی ہے، یہ اسلام مسلمان دشمنی کہ واضح دلیل ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اسرائیل مسلسل فلسطین میں ظلم و بربریت کا ننگا ناچ کررہا ہے مگر تمام نام نہاد انسانیت دوست ممالک،حقوق انسانی کی محافظ تنظیمیں، مظلوموں کے علم بردار اور خاص طور پر اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ لیکن اہلِ فلسطین یہود کے مظالم کا مقابلہ کرنے کے لیے مادی وسائل کی قلت کا شکار ہونے کے باوجود آج تک نبرد آزما ہیں، افسوس تو یہ ہیکہ مسلم حکمران بے شمار وسائل رکھنے کے باوجود بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ ایسے حالات میں جب فلسطینیوں کا کوئی ساتھ نہیں دے رہا لیکن اس کے باوجود اینے اندر ہمت، جرأت اور ایمان ایسا ہیکہ بے مثال قربانیوں کے باوجود اب تک میدان میں پا مردی سے ڈٹے ہوئے ہیں، وہ آج بھی پوری استقامت، عزم اور حوصلے کے ساتھ مغرب کی قائم کردہ ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کے خلاف پوری جرأت کے ساتھ کھڑے ہیں، نامساعد حالات کے باوجود ان لوگوں نے یہ ثابت کردیا ہیکہ ایمان والے شکست نہیں کھاتے۔ اللہ کی مدد و نصرت انکے ساتھ شامل ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ مسلمانوں کو مایوس ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے، ان شاء اللہ عنقریب وہ وقت آئے گا جب فلسطینیوں کو غاصب صہیونی حکومت پر فتح نصیب ہوگی، فلسطینی عوام سرخرو ہوں گے اور مسجد اقصٰی اور فلسطین مکمل مسلمانوں کے قبضے میں ہوگا۔ مولانا نے فرمایا کہ ہماری ذمہ داری ہیکہ ہم اہل فلسطین و غزہ کے ساتھ کھڑے رہیں، انکا جس طرح ہوسکے مدد و معاونت کریں، ان کیلئے دعاؤں کا اہتمام کریں، اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں۔ یہ نہ صرف ہمارا انسانی فریضہ ہے، بلکہ یہ ہماری دینی، اخلاقی اور شرعی ذمہ داری بھی ہے اور حمیت ایمانی اور غیرت اسلامی کا تقاضا بھی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ہمارا ملک ہندوستان ہمیشہ سے فلسطین اور وہاں کے اصل باشندوں کے ساتھ کھڑا ہے، لہٰذا حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک اور اسلاف کے سابقہ موقف پر ہی قائم رہیں اور مظلوم فلسطینیوں کا ساتھ دیں۔ قابل ذکر ہیکہ یہ عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی بارہویں نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز رکن شوریٰ مفتی سید حسن ذیشان قادری قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور رکن شوریٰ قاری محمد عمران کے نعتیہ کلام سے ہوا۔ جبکہ اسٹیج پر مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد نظام الدین مظاہری بطور خاص موجود تھے۔ اس موقع پر حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی و قاسمی صاحب مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے صدر اجلاس اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اور صدر اجلاس حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی و قاسمی صاحب مدظلہ کی دعا سے یہ عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی بارہویں نشست اختتام پذیر ہوئی۔


#Press_Release #News #Alquds #Palestine #Gaza #Alqudsseries #MasjidAqsa #MasjidAlAqsa #BaitulMaqdis #AlqudsConference #MTIH #TIMS 


Wednesday, 29 November 2023

ارضِ فلسطین سے مسلمانوں کا اٹوٹ رشتہ و تعلق ہے!

 ارضِ فلسطین سے مسلمانوں کا اٹوٹ رشتہ و تعلق ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ سے مفتی محمد شفیق احمد قاسمی کا خطاب!




بنگلور، 24؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی گیارہویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ حضرت مولانا مفتی محمد شفیق احمد قاسمی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ ارضِ فلسطین سے مسلمانوں کا اٹوٹ رشتہ و تعلق ہے اور یہ تعلق ابتداء اسلام سے ہی قائم ہے جو کبھی اور کسی حال میں بھی ختم نہیں ہوگا۔ سرزمین بیت المقدس سے مسلمانوں کا رشتہ نہایت گہرا اور ایمان افروز تاریخ کے ساتھ وابستہ ہے۔ فلسطین کی مقدس سرزمین اہل ایمان کے لئے شروع سے عقیدتوں اور محبتوں کی مرکز رہی ہے، ہر دور میں مسلمانوں نے اسے اپنی جان سے زیادہ اہمیت دی اور اس کے تحفظ کے لئے اپنی زندگیوں کو نچھاور کیا کیوں کہ یہ انبیاء علیہم السلام کا مسکن و مدفن ہے، یہیں مسلمانوں کا قبلۂ اول ”مسجد اقصیٰ“ بھی واقع ہے، جس کی طرف رخ کرکے تقریباً سولہ سترہ مہینہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی۔ سفر معراج کے موقع پر امام الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مسجد میں تمام انبیاء کرام کی امامت فرمائی، یہیں سے معراج کے سفر کا آغاز ہوا، اسکے ارد گرد اللہ تعالیٰ نے برکتوں اوررحمتوں کو رکھا ہے، یہی قربِ قیامت خلافت اسلامیہ کا مرکز و محور ہوگی۔ مولانا نے فرمایا کہ بیت المقدس بہت محترم ومتبرک خطہ ہے، اور بابرکت مقام ہے، اس سرزمین کا ہر چپہ قابل احترام ہے، اسی سرزمین پر حشر برپا ہوگا، آخر زمانے میں حضرت مہدی اور حضرت عیسی علیہم السلام کا خاص تعلق رہے گا اور بھی بہت سارے فضائل وخصوصیات بیت المقدس اور سرزمین فلسطین کے ہیں۔ اتنا گہرا رشتہ مسلمانوں کا بیت المقدس سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔  مولانا نے فرمایا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ ناجائز طور پر قائم ہونے والی اسرائیلی حکومت اور اس کے حکمرانوں نے فلسطینیوں کے ساتھ جو سلوک کیا ہے وہ تاریخ کا ایک بدترین باب ہے، آج بھی فلسطینیوں کو خود ان کی ہی سرزمین میں قید وبند کرکے رکھ دیا ہے، معصوم بچوں، بے قصور جوانوں، مرد و خواتین یہاں تک کہ کمزور بوڑھوں کے ساتھ بھی اسرائیلی اپنے روز قیام سے ظلم ڈھاتے آرہے ہیں، ان کے گھروں کو اجاڑنا، ان کے شہروں کو برباد کرنا، ان کی عمارتوں کو ڈھانا،اور ہر طرف خاک وخون کا دل سوز منظر برپا کرنا اسرائیلیوں کا مشغلہ رہا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ یہ یہودی قوم کی فطرت ہے کیونکہ یہود جو ”مغضوب علیہم“ قوم ہے، پچھلے ستر سالوں سے اہلِ فلسطین پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہی ہے، یوں تو اس قوم کے ہاتھ انبیاء کرام علیہم السلام جیسی مقدس جماعت کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، اپنی ہی قوم کے علماء و صلحاء کا خون بہانا ان کا صدیوں سے آبائی پیشہ رہا ہے اور آج یہ فلسطین پر قابض ہوکر، وہاں صدیوں سے آباد مسلمانوں کا قتلِ عام کرکے انھیں نقل مکانی پر مجبور کررہے ہیں۔ یہودیوں کے مختلف جرائم قرآن کریم میں مذکور ہیں، جن میں ”قتلِ انبیاء“ کا تذکرہ بار بار دہرایا گیا ہے۔ انہی جرائم کی بنا پر یہ قوم ذلت و پستی کی پاتال میں اتاری گئی۔ مولانا نے فرمایا کہ جس قوم نے حضرات انبیاء علیہم السلام کو نہیں چھوڑا وہ کیسے ان کے ماننے والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرسکتی ہے؟  مولانا نے فرمایا کہ یہودیوں نے اسلام اور مسلمان دشمن مختلف النظریات و المذاہب قوموں اور افراد کے تعاون سے، اپنی طبعی چال بازی، مکاری، عیاری اور سازشوں کے ذریعے طرح فلسطین پر زبردستی قبضہ کیا اور ظلم و جبر و نا انصافی کے تاریخ عالم کے تمام ریکارڈوں کو توڑے، پہلے تو اپنی جگہ بنالی اور پھر سن 1948ء میں باقاعدہ اسرائیل کے نام سے اپنی غاصبانہ ریاست قائم کرلی اور بالآخر پورے فلسطین پر قبضہ کرنی شروع کردی اور اصل مکینوں یعنی فلسطینیوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کررہے ہیں۔ مولانا نے تاریخ فلسطین پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے دو ٹوک فرمایا کہ سرزمین فلسطین حضرت ابراہیم علیہ السلام کی میراث ہے، جس پر صرف اور صرف مسلمانوں کا حق ہے، جس میں کسی دوسرے مذہب کے پیروکاروں خاص کر یہودیوں کا کوئی حق نہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ اسرائیل کے غاصبانہ قیام سے لیکر آج تک فلسطینی اپنے حقوق کی لڑائی لڑ رہے ہیں، اس میں غلط ہی کیا ہے، ہر ایک کو اپنا ملک لینے اور اس پر ناجائز قبضے کو ہٹانے کا پورا حق ہے، یہی وہاں کی تنظیم حماس اور دوسری تنظیمیں کر رہی ہیں، آج فلسطین کو دہشت گرد کہنے والوں کی اکثریت اس حقیقت سے نا بلد ہے جو بیان کی گئی ہے، یا پھر وہ اسلام دشمنی میں اتنے آگے نکل چکے ہیں کہ ان مسلمانوں کا دفاعی حملہ انہیں دہشت گردی لگتا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اہل فلسطین اپنے ملک اور حرم قدسی مسجد اقصٰی کی حفاظت کی لڑائی لڑ رہ ہیں، جو اسکے فتح ہونے تک جاری رہے گی۔ انہوں نے فرمایا کہ اس جدوجہد میں پوری امت مسلمہ اہل فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے اور جو انکے خلاف کھڑے ہیں وہ اپنے ایمان کی فکر کریں۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ حضرت مولانا مفتی محمد شفیق احمد قاسمی صاحب دامت برکاتہم نے مرکز تحفظ اسلام مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔

#Press_Release #News #Alquds #Palestine #Gaza #Alqudsseries #MasjidAqsa #MasjidAlAqsa #BaitulMaqdis #AlqudsConference #MTIH #TIMS

مسئلہ فلسطین پوری امت کا مشترکہ مسئلہ ہے، مسلمان اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں!

 مسئلہ فلسطین پوری امت کا مشترکہ مسئلہ ہے، مسلمان اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ سے مولانا احمد ومیض ندوی کا خطاب!

بنگلور، 24؍ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی تیسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم حیدرآباد کے استاذ حدیث حضرت مولانا سید احمد ومیض ندوی نقشبندی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ اس وقت ارض مقدس پر ظلم و جبر کی آندھیاں چل رہی ہیں، فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیل جس قسم کی وحشیانہ بم باری کر رہا ہے، وہ تاریخ انسانی کی بد ترین جارحیت ہے۔اسرائیل کے تابڑ توڑ حملوں میں ہزاروں فلسطینی مسلمان جام شہادت نوش کر چکے ہیں، جس میں بچوں کی ایک بڑی تعداد ہے، اور دیگر لاکھوں فلسطینیوں کے بے گھر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ غزہ پٹی پر اس وقت ہر طرف معصوم، بے گناہ اور نہتے فلسطینیوں کا خون، جسموں کے ٹکڑے، تباہی و بربادی اور بارود کی بو ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ امریکی، برطانوی اور بعض دیگر مغربی ممالک کی حمایت اور پشت پناہی سے اسرائیل کھلے عام نہتے اور بے یار و مددگار فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ لیکن افسوس کہ اسلامی ممالک کہلائے جانے والے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ جبکہ امریکہ اور دیگر کئی مغربی ممالک قاتل اسرائیل کے سہولت کار ہیں۔ وہ نہ صرف اسرائیل کو تھپکی دے رہے ہیں بلکہ ہر قسم کی مدد بھی فراہم کر رہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ اس وقت دنیا کے بڑے امن پسند کہلائے جانے والے دہشت گرد اسرائیل کی حمایت میں متحد ہیں اور پوری دنیا بدامنی سے دو چار ہو رہی ہے، لیکن وہ یاد رکھیں کہ فلسطین کا مسئلہ حل کیے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ نیز فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضہ کے خاتمہ تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ مسئلہ فلسطین صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا مشترکہ کا مسئلہ ہے، اس لیے کہ اسرائیل بیت المقدس اور قبلہ اول پر قابض ہے، مسجد اقصی کو شہید کرکے اس کی جگہ ہیکالے سلیمانی کی تعمیر اسرائیل کا خواب ہے؛ بلکہ وہ دریائے نیل سے دریائے فرات تک گریٹر اسرائیل کا منصوبہ رکھتا ہے، ایسے میں اس مسئلہ کو صرف عربوں کا مسئلہ خیال کر کے دیگر مسلمانوں کا اس سے دامن جھاڑ لینا بہت بڑی نادانی ہوگی، نیز فلسطین صرف اپنی زمین کیلئے نہیں بلکہ مسجد اقصٰی کی حفاظت کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔ایسے حالات میں امت مسلمہ کی ذمہ داری ہیکہ وہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خاتمے کیلئے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ مولانا نے فرمایا کہ ہم ہندوستان میں رہ کر اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کے لیے دعاؤں کا اہتمام کر سکتے ہیں، قنوت نازلہ کا اہتمام کرسکتے ہیں۔مولانا نے فرمایا کہ ہم اپنے نوجوانوں اور نئی نسل کو مسئلہ فلسطین اور مسجد اقصی کے تعلق سے آگاہ کریں، نئی نسل مسجد اقصی اور مسئلہ فلسطین سے بالکل ناواقف ہے، اکثر مسلم نوجوانوں کو پتہ تک نہیں کہ مسجد اقصیٰ سے مسلمانوں کا کیا رشتہ ہے، اور قبلہ اول کی بازیابی مسلمانوں کا فریضہ ہے۔اسی کے ساتھ ہمیں برادران وطن اور عام لوگوں کو بھی مسئلہ فلسطین کے حقائق سے باخبر کرنا چاہیے۔ مولانا نے فرمایا کہ اسی کے ساتھ ہمیں دنیا بھر کے مسلمانوں کے پاس اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا ایک مؤثر ہتھیار اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ ہے، اگر ساری دنیا کے مسلمان اسرائیلی مصنوعات کا استعمال ترک کر دیں، تو اسرائیل زبردست معاشی بحران کا شکار ہو سکتا ہے، اور یہ اسرائیلی مصنوعات سے اعتراض کرنا اسرائیل کو فلسطین کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے لیے مجبور کرنے کا ایک مؤثر ہتھیار ہے، موجودہ دور میں مصنوعات کا بائیکاٹ نہایت موثر طریقہ کار ہے، جسے اپنا کر ہم دشمنان اسلام کو مجبور کر سکتے ہیں، لہٰذا ضرورت ہیکہ مسلمان اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ قابل ذکر ہیکہ یہ عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی تیسری نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز رکن شوریٰ مفتی سید حسن ذیشان قادری قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور رکن شوریٰ قاری محمد عمران کے نعتیہ کلام سے ہوا۔ اس موقع پر دارالعلوم حیدرآباد کے استاذ حدیث حضرت مولانا سید احمد ومیض صاحب ندوی نقشبندی مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے صدر اجلاس اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اور مفتی سید حسن ذیشان قادری و قاسمی کی دعا سے یہ عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی تیسری نشست اختتام پذیر ہوئی۔


#Press_Release #News #Alquds #Palestine #Gaza #Alqudsseries #MasjidAqsa #MasjidAlAqsa #BaitulMaqdis #AlqudsConference #MTIH #TIMS





Tuesday, 28 November 2023

اہلِ فلسطین کی جرأت کو سلام، عارضی جنگ بندی فلسطین کی فتح اور اسرائیل کی شکست ہے!

 اہلِ فلسطین کی جرأت کو سلام، عارضی جنگ بندی فلسطین کی فتح اور اسرائیل کی شکست ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ سے مفتی افتخار احمد قاسمی کا ولولہ انگیز خطاب!


بنگلور، 27؍ نومبر(پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کی تحریک تحفظ القدس کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی چھبیسویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر عالی قدر حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب مدظلہ نے فرمایا بیت المقدس مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے، یہ روئے زمین پر مسجد حرام خانۂ کعبہ کے بعد یہ دوسری قدیم ترین مسجد ہے، اس سرزمین پر بکثرت انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت مبارکہ ہوئی جس کی وجہ یہ خطہ انوار نبوت سے درخشاں رہا اور یہ پیغام توحید کی درخشانیاں سارے عالم کو روشن و منور کرگئیں، بیت المقدس سے مسلمانوں کا مذہبی اور جذباتی تعلق ہے، اس کی حفاظت مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ لہٰذا اسکی حفاظت کیلئے امت کو بیدار کرنا، اسکی اہمیت و فضیلت سے امت کو واقف کروانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ فلسطین کے مظلوم مسلمان گزشتہ ایک صدی سے اسرائیل کے جبر وتشدد کا شکار ہیں، ارضِ فلسطین پر اسرائیل کا تسلط غیر قانونی بھی ہے اور غیر اخلاقی بھی ہے۔ اسلام دشمن طاقتوں نے منصوبہ بند سازش سے فلسطین میں یہودیوں کو آباد کیا ہے۔ ارضو فلسطین پر ناجائز قبضہ کے ساتھ ہی غاصب یہودی فلسطینیوں کے قتل وخون سے اپنے ہاتھ رنگین کررہے ہیں، ان کے اسباب معیشت کو تباہ و برباد کرنا اور مسجد اقصیٰ کی تقدس کو پامال کرنا ان کا مشغلہ بن گیا ہے۔ فلسطین کے علاقوں پر مسلسل قبضہ جماتے ہوئے یہودیوں کو بسایا جارہا ہے، نہتے فلسطینی مظلوموں پر فضائی حملے اسرائیل کی جارحیت کا زندہ ثبوت ہیں۔ فلسطینی ظلم وجور کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو فلسطینیوں کے لئے بڑا صبرآزما ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اسرائیل مسلسل فلسطین میں ظلم و بربریت کا ننگا ناچ ناچ رہا ہے مگر تمام نام نہاد انسانیت دوست ممالک، حقوق انسانی کی محافظ تنظیمیں اور مظلوموں کے علم بردار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں بلکہ اقوام متحدہ اور اس کے کرتا دھرتا امریکہ اور یورپ کے ممالک یہودیوں کے سرپرست اور پشتیبان بنے ہوئے ہیں۔ افسوس کا مقام ہیکہ بعض نام نہاد مسلم ممالک اپنی ذاتی حقیر مفادات اور اپنی چند روزہ شان و شوکت اور عارضی کرسی کی بقا کی خاطر یا تو ان دشمنان اسلام کی حمایت کررہی ہے یا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اس کے باوجود فلسطینی مسلمانوں نے ہمت نہیں ہاری، مادی وسائل کی قلت اور تناہ ہونے کے باوجود وہ آج تک وہ نہتے دنیا کی طاقتور حکومت کہلائی جانی والی اسرائیل سے نبرد آزما ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ یہی وجہ ہیکہ گزشتہ ڈیڑھ مہینے سے اسرائیل کی دہشت گردی جاری تھی، لیکن اب اسرائیل عارضی جنگ بندی پر رضامند ہونے پر اس لئے مجبور ہوگیا کیونکہ وہ ان سے جیت نہیں رہا تھا، اس کے دل میں اللہ تعالیٰ نے ہارنے اور مرنے کا خوف پیدا کردیا ہے۔ یہ یقیناً اہل فلسطین کی ہمت و جرأت اور استقامت نیز اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان ہونے کا جذبۂ ایمانی اور پوری امت کے دعاؤں اور قنوت کا صدقہ ہیکہ آج اللہ تعالیٰ نے یہ عارضی جنگ بندی کے ذریعے اہل فلسطین کی فتح اور اسرائیل کی شکست کا منظر دیکھایا۔ مولانا نے فرمایا کہ ہر روز فلسطین پر کوئی نہ کوئی بمباری ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ہمارے بزرگ، مائیں، بیٹیاں اور نوجوان شہید ہوتے ہیں، مساجد شہید ہوتی ہیں لیکن ہمارے افسوس کہ اسلامی ممالک کے حاکم ٹس سے مس نہیں ہوتے، بیدار نہیں ہوتے۔ مولانا نے فرمایا کہ اہلِ فلسطین پوری امت مسلمہ کی جانب سے فرض کفایہ ادا کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں، ان شاء اللہ ثم ان شاء اللہ وہ سرخرو ہونگے اور فلسطین اور مسجد اقصیٰ آج نہیں تو کل آزاد ہوکر رہے گا۔ مولانا نے فرمایا ان شہداء کی قربانیوں اور فلسطین کے موجودہ حالات کو دیکھ کر مایوس ہونی کی قطعاً ضرورت نہیں کیونکہ مشکل حالات اور آزمائش زندہ قوموں پر ہی آتی ہیں۔ زندہ قومیں مشکل سے مشکل حالات کا حکمت اور جرأت کے ساتھ مقابلے کرتی ہیں اور نئے عزم و حوصلہ کے ساتھ مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرتی ہیں، جس پر اہلِ فلسطین اس عمل پیرا ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ آج اسرائیل کی درندگی، وحشیانہ فضائی حملوں، ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی بچوں کی شہادتوں اور غزہ کو ملبہ کے ڈھیر میں تبدیل کئے جانے کے باوجود فلسطینیوں کے صبر و شکر نے دنیا کو حیران کردیا ہے۔ دنیا یہ سوچنے پر مجبور ہیکہ آخر اس قدر تباہی و بربادی، اپنے عزیز و رشتہ داروں کی شہادت، پانی، بجلی، گھر اور خوراک سے محرومی کے باوجود مسجد اقصیٰ کی حفاظت کرتے ہوئے فلسطینی اپنے رب کا شکر ادا کررہے ہیں۔ صابر و شاکر بن کر ابھر رہے ہیں۔ ان کے لبوں پر اپنے رب سے کوئی شکایت نہیں۔ ان کے اس عزم و استقلال اور جذبۂ ایمانی میں کوئی کمی نہیں اور انکی کوئی مثال نہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ ایسے حالات میں ہماری ذمہ داری ہیکہ ہم ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اسرائیلی جارحیت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں، اہل فلسطین و غزہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں، انکی مدد و معاونت کریں، اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ مسجد اقصیٰ اور اہلِ فلسطین کی مجاہدانہ تاریخ سے امت مسلمہ کو واقف کروائیں تاکہ امت مسجد اقصیٰ کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت تیار رہیں۔ قابل ذکر ہیکہ یہ عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی چھبیسویں نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز رکن شوریٰ مفتی سید حسن ذیشان قادری قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور رکن شوریٰ قاری محمد عمران کے نعتیہ کلام سے ہوا۔ جبکہ اسٹیج پر مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بطور خاص موجود تھے۔ اس موقع پر حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا اور مرکز کے تحریک تحفظ القدس اور تحفظ القدس کانفرنس کو وقت کی اہم ترین ضرورت بتایا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے صدر اجلاس اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اور صدر اجلاس حضرت مولانا مفتی مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب مدظلہ کی دعا سے یہ عظیم الشان ”تحفظ القدس کانفرنس“ کی چھبیسویں نشست اختتام پذیر ہوئی۔



#Press_Release #News #Alquds #Palestine #Gaza #Alqudsseries #MasjidAqsa #MasjidAlAqsa #BaitulMaqdis #AlqudsConference #MTIH #TIMS